Sunday, 24 May 2015

سریہ زید بن حارثہ


جنگ احد سے پہلے یہ مسلمانوں کی یہ آخری اور کامیاب ترین مہم تھی جو جمادی الآخر ۳ ھ میں پیش آئی۔
واقعے کی تفصیل یہ ہے کہ قریش جنگ بدر کے بعد قلق واضطراب میں مبتلا تو تھے ہی مگر جب گرمی کا موسم آگیا اور ملک شام کے تجارتی سفر کا وقت آن پہنچا توانہیں ایک اور فکر دامن گیر ہوئی۔ اس کی وضاحت اس سے ہوتی ہے کہ صفوان بن امیہ نے ...جسے قریش کی طرف سے اس سال ملکِ شام جانے والے تجارتی قافلے کا میرکارواں منتخب کیاگیا تھا ...قریش سے کہا : ''محمد اور اس کے ساتھیوں نے ہماری تجارتی شاہراہ ہمارے لیے پُر صعوبت بنادی ہے ، سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم اس کے ساتھیوں سے کیسے نمٹیں۔ وہ ساحل چھوڑ کر ہٹتے ہی نہیں اور باشندگانِ ساحل نے ان سے مصالحت کرلی ہے۔ عام لوگ بھی انہیں کے ساتھ ہوگئے ہیں۔ اب سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم کون سا راستہ اختیار کریں ؟ اگر ہم گھروں ہی میں بیٹھ رہیں تو اپنا اصل مال بھی کھا جائیں گے اور کچھ باقی نہ بچے گا ، کیونکہ مکے میں ہماری زندگی کا دار ومدار اس پر ہے کہ گرمی میں شام اور جاڑے میں حبشہ سے تجارت کریں۔''
صفوان کے اس سوال کے بعد اس موضوع پر غور وخوض شروع ہوگیا۔ آخر اسود بن عبد المطلب نے صفوان سے کہا:''تم ساحل کا راستہ چھوڑ کر عراق کے راستے سفر کرو۔'' واضح رہے کہ یہ راستہ بہت لمبا ہے۔ نجد سے ہوکر شام جاتا ہے اور مدینہ کے مشرق میں خاصے فاصلے سے گزرتا ہے۔ قریش اس راستے سے بالکل نا واقف تھے اس لیے اسود بن عبد المطلب نے صفوان کو مشورہ دیا کہ وہ فرات بن حیان کو...جو قبیلہ بکر بن وائل سے تعلق رکھتا تھا ... راستہ بتانے کے لیے راہنما رکھ لے۔ وہ اس سفر میں اس کی رہنمائی کردے گا۔
اس انتظام کے بعد قریش کا کارواں صفوان بن امیہ کی قیادت میں نئے راستے سے روانہ ہوا، مگر اس کارواں اور اس کے سفر کے پورے منصوبے کی خبر مدینہ پہنچ گئی۔ ہوا یہ کہ سلیطؓ بن نعمان جو مسلمان ہوچکے تھے نعیم بن مسعود کے ساتھ جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے ، بادہ نوشی کی ایک مجلس میں جمع ہوئے ...یہ شراب کی حرمت سے پہلے کا واقعہ ہے ...جب نعیم پر نشے کا غلبہ ہوا تو انہوں نے قافلے اوراس کے سفر کے پورے منصوبے کی تفصیل بیان کرڈالی۔ سلیطؓ پوری برق رفتاری کے ساتھ خدمتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور ساری تفصیل کہہ سنائی۔
رسول اللہﷺ نے فوراً حملہ کی تیاری کی اور سو سواروں کا ایک رسالہ حضرت زید بن حارثہ کلبیؓ کی کمان میں دے کر روانہ کیا۔ حضرت زیدؓ نے نہایت تیزی سے راستہ طے کیا اور ابھی قریش کا قافلہ بالکل بے خبر ی کے عالم میں قردہ نامی ایک چشمہ پر پڑاؤ ڈالنے کے لیے اُتررہا تھا کہ اسے جالیا اور اچانک یلغار کرکے پورے قافلے پر قبضہ کرلیا۔ صفوان بن امیہ اور دیگر محافظین ِ کا رواں کو بھاگنے کے سوا کوئی چارۂ کار نظر نہ آیا۔
مسلمانوں نے قافلے کے راہنما فرات بن حیان کو اور کہا جاتا ہے کہ مزید دوآدمیوں کو گرفتار کرلیا۔ظروف اور چاندی کی بہت بڑی مقدار ، جو قافلے کے پاس تھی ، اور جس کا اندازہ ایک لاکھ درہم تھا، بطور غنیمت ہاتھ آئی رسول اللہﷺ نے خُمس نکال کر مالِ غنیمت رسالے کے افراد پر تقسیم کردیا اور فرات بن حیان نے نبیﷺ کے دست ِ مبارک پر اسلام قبول کر لیا۔( ابن ہشام ۲/۵۰ ، ۵۱۔ رحمۃ للعالمین ۲/۲۱۹)
بدر کے بعد قریش کے لیے یہ سب سے الم انگیز واقعہ تھا جس سے ان کے قلق واضطراب اور غم والم میں مزید اضافہ ہوگیا۔ اب ان کے سامنے دوہی راستے تھے یاتو اپنا کبر وغرور چھوڑ کر مسلمانوں سے صلح کرلیں یا بھر پور جنگ کر کے اپنی عزت ِ رفتہ اور مجدِ گزشتہ کو واپس لائیں اور مسلمانوں کی قوت کو اس طرح توڑ دیں کہ وہ دوبارہ سر نہ اٹھا سکیں۔ قریش مکہ نے اسی دوسرے راستے کا انتخاب کیا ، چنانچہ اس واقعہ کے بعد قریش کا جو شِ انتقام کچھ اور بڑھ گیا اور اس نے مسلمانوں سے ٹکر لینے اور ان کے دیار میں گھس کر ان پر حملہ کرنے کے لیے بھر پور تیاری شروع کردی۔ اس طرح پچھلے واقعات کے علاوہ یہ واقعہ بھی معرکۂ احد کا خاص عامل ہے۔

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔