Monday, 19 October 2015

اسلامی لشکر مکہ کی جانب


اسی صبح -منگل ۱۷/رمضان ۸ ھ کی صبح - رسول اللہﷺ مر الظہران سے مکہ روانہ ہوئے اور حضرت عباس کو حکم دیا کہ ابو سفیان کو وادی کی تنگنائے پر پہاڑکے ناکے کے پاس روک رکھیں تاکہ وہاں سے گزرنے والی الٰہی فوجوں کو ابو سفیان دیکھ سکے۔ حضرت عباس نے ایسا ہی کیا۔ ادھر قبائل اپنے اپنے پھریرے لیے گزر رہے تھے۔ جب وہاں سے کوئی قبیلہ گزرتا تو ابو سفیان پوچھتا کہ عباس ! یہ کون لوگ ہیں ؟ جواب میں حضرت عباس - بطورِ مثال- کہتے کہ بنو سلیم ہیں۔ تو ابوسفیان کہتا کہ مجھے سلیم سے کیا واسطہ ؟ پھر کوئی قبیلہ گزرتا تو ابو سفیان پوچھتا کہ اے عباس !یہ کون لوگ ہیں ؟ وہ کہتے: مُزَیْنَہ ہیں۔ ابو سفیان کہتا:، مجھے مزینہ سے کیا مطلب ؟ یہاں تک کہ سارے قبیلے ایک ایک کرکے گزر گئے۔ جب بھی کوئی قبیلہ گزرتا توابو سفیان حضرت عباس سے اس کی بابت ضرور دریافت کرتا اور جب وہ اسے بتاتے تو وہ کہتا کہ مجھے بنی فلاں سے کیا واسطہ ؟
یہاں تک کہ رسول اللہﷺ اپنے سبز دستے کے جلو میں تشریف لائے۔ آپ مہاجرین وانصار کے درمیان فروکش تھے۔ یہاں انسانوں کے بجائے صرف لوہے کی باڑھ دکھائی پڑرہی تھی۔ ابو سفیان نے کہا : سبحان اللہ ! اے عباس ! یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا : یہ انصار ومہاجرین کے جلو میں رسول اللہﷺ تشریف فرماہیں۔ ابو سفیان نے کہا : بھلا ان سے محاذآرائی کی طاقت کسے ہے ؟ اس کے بعد اس نے مزید کہا کہ ابو الفضل ! تمہارے بھتیجے کی بادشاہت تو واللہ بڑی زبردست ہوگئی۔ حضرت عباسؓ نے کہا : ابو سفیان ! یہ نبوت ہے۔ ابو سفیان نے کہا: ہاں ! اب تو یہی کہاجائے گا۔
اس موقع پر ایک واقعہ اور پیش آیا۔ انصار کا پھریرا حضرت سعد بن عبادہؓ کے پاس تھا۔ وہ ابو سفیان کے پاس سے گزرے تو بولے:
الیوم یوم الملحمۃ الیوم تستحل الحرمۃ
''آج خونریزی اور مار دھاڑ کادن ہے۔ آج حرمت حلال کرلی جائے گی۔''
آج اللہ نے قریش کی ذلت مقدر کردی ہے۔ اس کے بعد جب وہاں سے رسول اللہﷺ گزرے تو ابو سفیان نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! آپ نے وہ بات نہیں سنی جو سعد نے کہی ہے ؟ آپ نے فرمایا :سعد نے کیا کہا ہے ؟ ابو سفیان نے کہا: یہ اور یہ بات کہی ہے۔ یہ سن کر حضرت عثمان اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ہمیں خطرہ ہے کہ کہیں سعد قریش کے اندر مار دھاڑ نہ مچا دیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا : نہیں بلکہ آج کا دن وہ دن ہے جس میں کعبہ کی تعظیم کی جائے گی۔ آج کا دن وہ دن ہے جس میں اللہ قریش کو عزت بخشے گا۔ اس کے بعد آپ نے حضرت سعد کے پاس آدمی بھیج کر جھنڈا ان سے لے لیا اور ان کے صاحبزادے قیس کے حوالے کردیا۔ گویا جھنڈا حضرت سعد کے ہاتھ سے نہیں نکلا۔
مکمل تحریر >>

ابو سفیان دربارِ نبوت میں

مر الظہران میں پڑاؤ ڈالنے کے بعد حضرت عباسؓ رسول اللہﷺ کے سفید خچر پر سوار ہوکر نکلے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ کوئی لکڑہارا یا کوئی بھی آدمی مل جائے تو اس سے قریش کے پاس خبر بھیج دیں تاکہ وہ مکے میں رسول اللہﷺ کے داخل ہونے سے پہلے آپ کے پاس حاضر ہوکر امان طلب کرلیں۔
ادھر اللہ تعالیٰ نے قریش پر ساری خبروں کی رسائی روک دی تھی۔ اس لیے انہیں حالات کا کچھ علم نہ تھا، البتہ وہ خوف اور اندیشے سے دوچار تھے اور ابو سفیان باہر جاجاکر خبروں کا پتہ لگا تا رہتا تھا۔ چنانچہ اس وقت بھی وہ اور حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقاء خبروں کا پتہ لگانے کی غرض سے نکلے ہوئے تھے۔
حضرت عباسؓ کا بیان ہے کہ واللہ ! میں رسول اللہﷺ کے خچر پر سوار جارہا تھا کہ مجھے ابو سفیان اور بدیل بن ورقاء کی گفتگوسنائی پڑی۔ وہ باہم ردوقدح کررہے تھے۔ ابو سفیان کہہ رہا تھا کہ اللہ کی قسم ! میں نے آج رات جیسی آگ اور ایسا لشکر تو کبھی دیکھا ہی نہیں، اور جواب میں بدیل کہہ رہا تھا : یہ اللہ کی قسم! بنو خزاعہ ہیں۔ جنگ نے انہیں نوچ کر رکھ دیا ہے، اور اس پر ابو سفیان کہہ رہا تھا:خزاعہ اس سے کہیں کمتر اور ذلیل ہیں کہ یہ ان کی آگ اور ان کا لشکر ہو۔
حضر ت عباس کہتے ہیں کہ میں نے ا س کی آواز پہچان لی اور کہا : ابو حنظلہ ؟ اس نے بھی میری آواز پہچان لی اور بولا : ابو الفضل ؟ میں نے کہا : ہاں ، اس نے کہا : کیا بات ہے ؟ میرے ماں باپ تجھ پر قربان ، میں نے کہا: یہ رسول اللہﷺ ہیں لوگوں سمیت۔ ہائے قریش کی تباہی -- واللہ !
اس نے کہا : اب کیا حیلہ ہے ؟ میرے ماں باپ تم پر قربان۔ میں نے کہا: واللہ! اگر وہ تمہیں پاگئے تو تمہاری گردن ماردیں گے۔ لہٰذا اس خچر پر پیچھے بیٹھ جاؤ۔ میں تمہیں رسول اللہﷺ کے پاس لے چلتا ہوں ، اور تمہارے لیے امان طلب کیے دیتا ہوں۔ اس کے بعد ابو سفیان میرے پیچھے بیٹھ گیا اور اس کے دونوں ساتھی واپس چلے گئے۔
حضرت عباسؓ کہتے ہیں کہ میں ابو سفیان کو لے کر چلا۔ جب کسی الاؤ کے پاس سے گزرتا تو لوگ کہتے : کون ہے ؟ مگر جب دیکھتے کہ رسول اللہﷺ کا خچر ہے اور میں اس پر سوار ہوں تو کہتے کہ رسول اللہﷺ کے چچا ہیں اور آپ کے خچر پر ہیں۔ یہاں تک کہ عمر بن خطابؓ کے الاؤ کے پاس سے گزرا۔ انہوں نے کہا : کون ہے ؟ اور اٹھ کر میری طرف آئے۔ جب پیچھے ابو سفیان کو دیکھا تو کہنے لگے : ابو سفیان ؟ اللہ کا دشمن ؟ اللہ کی حمد ہے کہ اس نے بغیر عہدوپیمان کے تجھے (ہمارے ) قابو میں کردیا۔ اس کے بعد وہ نکل کر رسول اللہﷺ کی طرف دوڑے۔ اور میں نے بھی خچر کو ایڑ لگائی۔ میں آگے بڑھ گیا۔ اور خچر سے کود کر رسول اللہﷺ کے پاس جاگھسا۔ اتنے میں عمر بن خطاب بھی گھس آئے اور بولے کہ اے اللہ کے رسول ! یہ ابو سفیان ہے۔ مجھے اجازت دیجیے میں اس کی گردن ماردوں۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں نے اسے پناہ دے دی ہے۔ پھر میں نے رسول اللہﷺ کے پاس بیٹھ کر آپ کا سر پکڑ لیا۔ اور کہا : اللہ کی قسم آج رات میرے سوا کوئی اور آپ سے سرگوشی نہ کرے گا۔ جب ابو سفیان کے بارے میں حضرت عمرؓ نے بار بار کہا تو میں نے کہا : عمر ! ٹھہرجاؤ۔ اللہ کی قسم! اگر یہ بنی عدی بن کعب کا آدمی ہوتا تو تم ایسی بات نہ کہتے۔ عمرؓ نے کہا : عباس ! ٹھہر جاؤ۔ اللہ کی قسم! تمہارا اسلام لانا میرے نزدیک خطّاب کے اسلام لانے سے - اگر وہ اسلام لاتے - زیادہ پسندیدہ ہے اور اس کی وجہ میرے لیے صرف یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کے نزدیک تمہارا اسلام لانا خطاب کے اسلام لانے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا : عباس ! اسے (یعنی ابوسفیان کو ) اپنے ڈیرے میں لے جاؤ۔ صبح میرے پاس لے آنا۔ اس حکم کے مطابق میں اسے ڈیرے میں لے گیا اور صبح خدمتِ نبویﷺ میں حاضر کیا۔ آپﷺ نے انہیں دیکھ کر فرمایا ! ابو سفیان تجھ پر افسوس ہے کیا اب بھی سمجھ میں نہیں آیا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، عرض کیا میرے ماں باپ آپ ﷺپر قربان، آپﷺ کتنے حلیم اور کریم ہیں ، کوئی اور الہٰ ہوتا تو آج ہمارے کام نہ آتا ، یہ اقرار ابو سفیان کے لا اِلہٰ الا اللہ کی منزل پر فائز ہونے کی دلیل ہے، حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا تمہیں اب بھی یقین نہیں آیا کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، عرض کیا بے شک آپﷺ برد بار ‘ شریف النفس اور صلۂ رحمی کرنے والے ہیں ، رہ گئی نبوت تو ابھی اس میں ذرا تردد ہے، حضرت عباسؓ بولے ائے ابو سفیان کیا غضب کر رہے ہو ، اس سے پہلے کہ عمرؓ تیری گردن مارنے آئیں شہادت حق اور رسالت کی گواہی دے دے، یہ گھڑی سعادت کی تھی ؛چنانچہ ابو سفیان نے کلمۂ طیبہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیا ، اس وقت ان کا ایمان متزلزل تھا؛لیکن مورخین لکھتے ہیں کہ با لآخر وہ سچے مسلمان بن گئے ،
حضرت عباس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ابوسفیان اعزاز پسند ہے، لہٰذا اسے کوئی اعزاز دے دیجیے۔ آپ نے فرمایا : ٹھیک ہے۔ جو ابو سفیان کے گھر میں گھس جائے اسے امان ہے اور جو اپنا دروازہ اندر سے بند کرلے اسے امان ہے اور جو مسجد ِ حرام میں داخل ہوجائے اسے امان ہے۔
مکمل تحریر >>

اسلامی لشکر مکہ کی راہ میں


۱۰ رمضان المبارک ۸ ھ کو رسول اللہﷺ نے مدینہ چھوڑ کر مکے کا رخ کیا۔ آپ کے ساتھ دس ہزار صحابہ کرام تھے، مدینہ پر ابو رھم غفاریؓ کی تقرری ہوئی۔
جحفہ میں یااس سے کچھ اوپر آپ کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب ملے۔ وہ مسلمان ہوکر اپنے بال بچوں سمیت ہجرت کرتے ہوئے تشریف لارہے تھے۔ پھر اَبوَاء میں آپﷺ کے چچیرے بھائی ابو سفیان بن حارث اور پھوپھی زاد بھائی عبداللہ بن اُمیہ ملے۔ آپ نے ان دونوں کو دیکھ کر منہ پھیر لیا۔ کیونکہ یہ دونوں آپ کو سخت اذیت پہنچایا کرتے اور آپ کی ہجو کیا کرتے تھے۔ یہ صورت دیکھ کر حضرت ام سلمہ ؓ نے عرض کی کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ آپ کے چچیرے بھائی اور پھوپھی زاد بھائی ہی آپ کے یہاں سب سے بدبخت ہوں۔ ادھر حضرت علیؓ نے ابو سفیان بن حارث کو سکھا یا کہ تم رسول اللہﷺ کے سامنے جاؤ ، اور وہی کہو جو حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے ان سے کہا تھا کہ قَالُوا تَاللَّـهِ لَقَدْ آثَرَ‌كَ اللَّـهُ عَلَيْنَا وَإِن كُنَّا لَخَاطِئِينَ (۱۲:۹۱) ''اللہ کی قسم اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت بخشی اور یقینا ہم خطا کار تھے۔''کیونکہ آپﷺ یہ پسند نہیں کریں گے کہ کسی اور کا جواب آپ سے عمدہ رہا ہو۔ چنانچہ ابو سفیان نے یہی کیا اور جواب میں فور اً رسول اللہﷺ نے فر مایا: قَالَ لَا تَثْرِ‌يبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ‌ اللَّـهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْ‌حَمُ الرَّ‌احِمِينَ (۱۲:۹۲) ''آج تم پر کوئی سرزنش نہیں۔ اللہ تمہیں بخش دے اور وہ ارحم الراحمین ہے ۔''اس پر ابو سفیان نے آپ کو چند اشعار سنائے۔ جن میں سے بعض یہ تھے :
لـعـمرک إنـي حـین أحمل رأیۃ لـتـغـلب خیــل اللات خیل محمد
لکالمدلج الحیران أظلم لیلــہ فہـذا أوانـي حین أہـدی فأہتـــدی
ہدانی ہاد غیر نفسی ودلـــنی علی اللہ من طردتہ کل مطـــــــرد

''تیری عمر کی قسم ! جس وقت میں نے اس لیے جھنڈا اٹھایا تھا کہ لات کے شہسوار محمد کے شہسوار پر غالب آجائیں تو میری کیفیت رات کے اس مسافر کی سی تھی جو تیرہ وتار رات میںحیران وسرگردان ہو ، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ مجھے ہدایت دی جائے ، اور میں ہدایت پاؤں۔ مجھے میرے نفس کی بجائے ایک ہادی نے ہدایت دی اور اللہ کا راستہ اسی شخص نے بتایا جسے میں نے ہر موقع پر دھتکاردیا تھا۔ ''
یہ سن کر رسول اللہﷺ نے اس کے سینے پر ضرب لگائی اور فرمایا : تم نے مجھے ہر موقع پر دھتکارا تھا۔ بعد میں ابو سفیان کے اسلام میں بڑی خوبی آگئی۔ کہا جاتا ہے کہ جب سے انہوں نے اسلام قبول کیا حیاء کے سبب رسول اللہﷺ کی طرف سر اٹھا کر نہ دیکھا۔ رسول اللہﷺ بھی ان سے محبت کرتے تھے اور ان کے لیے جنت کی بشارت دیتے تھے۔ اور فرماتے تھے: مجھے توقع ہے کہ یہ حمزہ کا بدل ثابت ہوں گے جب ان کی وفات کا وقت آیا تو کہنے لگے : مجھ پر نہ رونا۔ کیونکہ اسلام لانے کے بعد میں نے کبھی کوئی گناہ کی بات نہیں کہی۔ زاد المعاد ۲/۱۶۲ ، ۱۶۳
رسول اللہﷺ نے اپنا سفر جاری رکھا۔ آپ اور صحابہ روزے سے تھے لیکن عسفان اور قُدَید کے درمیان کدید نامی چشمے پر پہنچ کر آپ نے روزہ توڑ دیا۔( صحیح بخاری ۲/۶۱۳)اور آپ کے ساتھ صحابہ کرام نے بھی روزہ توڑدیا۔ اس کے بعد پھر آپ نے سفر جاری رکھا یہاں تک کہ رات کے ابتدائی اوقات میں مرالظہران -وادی فاطمہ - پہنچ کر نزول فرمایا۔ وہاں آپ کے حکم سے لوگوں نے الگ الگ آگ جلائی۔ اس طرح دس ہزار (چولہوں میں) آگ جلائی گئی۔ رسول اللہﷺ نے حضرت عمر بن خطابؓ کو پہرے پر مقرر فرمایا۔
مکمل تحریر >>

غزوہ کی تیاری اور اخفاء کی کوشش


طبرانی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے عہد شکنی کی خبر آنے سے تین روز پہلے ہی حضرت عائشہ ؓ کو حکم دے دیا تھا کہ آپ کا سازوسامان تیار کر دیں لیکن کسی کو پتہ نہ چلے۔ اس کے بعد حضرت عائشہ ؓ کے پاس حضرت ابو بکرؓ تشریف لائے تو پوچھا : بیٹی ! یہ کیسی تیاری ہے ؟ انہوں نے کہا : واللہ! مجھے نہیں معلوم۔ حضرت ا بو بکرؓ نے کہا : یہ بنو اَصْفر یعنی رومیوں سے جنگ کا وقت نہیں۔ پھر رسول اللہﷺ کا ارادہ کدھر کا ہے ؟ حضرت عائشہؓ نے کہا : واللہ مجھے علم نہیں۔ تیسرے روز علی الصباح عمرو بن سالم خزاعی چالیس سواروں کو لے کر پہنچ گیا اور یا رب إني ناشد محمدا ... الخ والے اشعار کہے تو لوگوں کو معلوم ہوا کہ عہد شکنی کی گئی ہے۔ اس کے بعد بدیل آیا۔ پھر ابو سفیان آیا ، اور لوگوں کو حالات کا ٹھیک ٹھیک علم ہو گیا۔ اس کے بعد رسول اللہﷺ نے تیاری کا حکم دیتے ہوئے بتلایا کہ مکہ چلنا ہے اور ساتھ ہی یہ دعا فرمائی کہ اے اللہ ! جاسوسوں اور خبروں کو قریش تک پہنچنے سے روک اورپکڑ لے تاکہ ہم ان کے علاقے میں ان کے سر پر ایک دم جاپہنچیں۔
پھر کمال اخفاء اور رازداری کی غرض سے رسول اللہﷺ نے شروع ماہ رمضان ۸ ھ میں حضرت ابو قتادہ بن ربعی کی قیادت میں آٹھ آدمیوں کا ایک سریہ بطن اضم کی طرف روانہ فرمایا۔ یہ مقام ذی خشب اور ذی المروہ کے درمیان مدینہ سے ۳۶ عربی میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ مقصد یہ تھا کہ سمجھنے والا سمجھے کہ آپ اسی علاقے کا رخ کریں گے اور یہی خبریں اِدھر اُدھر پھیلیں۔ لیکن یہ سریہ جب اپنے مقررہ مقام پر پہنچ گیا تو اسے معلوم ہوا کہ رسول اللہﷺ مکہ کے لیے روانہ ہوچکے ہیں۔ چنانچہ یہ بھی آپ سے جاملا۔
یہی سریہ ہے جس کی ملاقات عامر بن اضبط سے ہوئی تو عامر نے اسلامی دستور کے مطابق سلام کیا۔ لیکن محلم بن جثامہ نے کسی سابقہ رنجش کے سبب اسے قتل کردیا اور اس کے اونٹ اور سامان پر قبضہ کرلیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَىٰ إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا ...الآیہ یعنی ''جوتم سے سلام کرے اسے یہ نہ کہو کہ تو مومن نہیں۔''اس کے بعد صحابہ کرام محلم کو رسول اللہﷺ کے پاس لے آئے کہ آپ اس کے لیے دعاء مغفرت کردیں۔ لیکن جب محلم آپ کے سامنے حاضر ہوا تو آپ نے تین بار فرمایا : اے اللہ ! محلم کو نہ بخش۔ اس کے بعدمحلم اپنے کپڑے کے دامن سے آنسو پونچھتا ہوااٹھا۔ ابن اسحاق کا بیان ہے کہ اس کی قوم کے لوگ کہتے ہیں کہ بعد میں اس کے لیے رسول اللہﷺ نے مغفرت کی دعا کردی تھی۔ دیکھئے : زاد المعاد ۲/۱۵۰ ، ابن ہشام ۲/۶۲۶،۶۲۷،۶۲۸۔
ادھر حاطب ابی بلتعہؓ نے قریش کو ایک رقعہ لکھ کر یہ اطلاع دے بھیجی کہ رسول اللہﷺ حملہ کرنے والے ہیں۔ انہوں نے یہ رقعہ ایک عورت کو دیا تھا۔ اور اسے قریش تک پہنچانے پر معاوضہ رکھا تھا۔ عورت سر کی چوٹی میں رقعہ چھپا کر روانہ ہوئی۔ لیکن رسول اللہﷺ کو آسمان سے حاطب کی اس حرکت کی خبر دے دی گئی۔ چنانچہ آپ نے حضرت علی، حضرت مقداد ، حضرت زبیر اور حضرت ابو مرثد غنوی کو یہ کہہ کر بھیجا کہ جاؤ روضۂ خاخ پہنچو۔ وہاں ایک ہودج نشین عورت ملے گی۔ جس کے پاس قریش کے نام ایک رقعہ ہوگا۔ یہ حضرات گھوڑوں پر سوار تیزی سے روانہ ہوئے۔ وہاں پہنچے تو عورت موجود تھی۔ اس سے کہا کہ وہ نیچے اُترے اور پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کوئی خط ہے ؟ اس نے کہا: میرے پاس کوئی خط نہیں۔ انہوں نے اس کے کجاوے کی تلاشی لی لیکن کچھ نہ ملا۔ اس پر حضرت علیؓ نے اس سے کہا : میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ نہ رسول اللہﷺ نے جھوٹ کہا ہے نہ ہم جھوٹ کہہ رہے ہیں۔ تم یاتو خط نکالو ، یا ہم تمہیں ننگا کردیں گے۔ جب اس نے یہ پختگی دیکھی تو بولی : اچھا منہ پھیرو۔ انہوں نے منہ پھیر ا تو اس نے چوٹی کھول کر خط نکالا اور ان کے حوالے کردیا۔ یہ لوگ خط لے کر رسول اللہﷺ کے پاس پہنچے۔ دیکھا تو اس میں تحریر تھا : (حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے قریش کی جانب ) پھر قریش کو رسول اللہﷺ کی روانگی کی خبر دی تھی۔ رسول اللہﷺ نے حضرت حاطب کو بلا کر پوچھا کہ حاطب ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : اے محمدﷺ ! میرے خلاف جلدی نہ فرمائیں۔ اللہ کی قسم ! اللہ اور اس کے رسول پر میرا ایمان ہے۔ میں نہ تو مرتد ہوا ہوں اور نہ مجھ میں تبدیلی آئی ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ میں خود قریش کا آدمی نہیں۔ البتہ ان میں چپکا ہوا تھا اور میرے اہل وعیال اور بال بچے وہیں ہیں۔ لیکن قریش سے میری کوئی قرابت نہیں کہ وہ میرے بال بچوں کی حفاظت کریں۔ اس کے بر خلاف دوسرے لوگ جو آپ کے ساتھ ہیں وہاں ان کے قرابت دار ہیں جو ان کی حفاظت کریں گے۔ اس لیے جب مجھے یہ چیز حاصل نہ تھی تو میں نے چاہا کہ ان پر ایک احسان کردوں جس کے عوض وہ میرے قرابت داروں کی حفاظت کریں۔ اس پر حضرت عمر بن خطابؓ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے چھوڑیے میں اس کی گردن ماردوں۔ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیانت کی ہے اور یہ منافق ہوگیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا : دیکھو! یہ جنگِ بدر میں حاضر ہوچکا ہے۔ اور عمر ! تمہیں کیا پتہ ؟ ہوسکتا ہے اللہ نے اہلِ بدر پر نمودار ہوکر کہا ہو تم لوگ جو چاہو کرو ، میں نے تمہیں بخش دیا۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں اور انہوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔( صحیح بخاری ۱/۴۲۲ ، ۲/۶۱۲ ، حضرت زبیر اور حضرت ابو مرثد کے ناموں کا اضافہ صحیح بخاری کی بعض دوسری روایات میں ہے۔)
مکمل تحریر >>

تجدیدِ صلح حدیبیہ کے لئے ابو سفیان مدینہ میں

قریش اور ان کے حلیفوں نے جو کچھ کیا تھا وہ کھلی ہوئی بدعہدی اور صریح پیمان شکنی تھی۔ جس کی کوئی وجہ جواز نہ تھی، اسی لیے خودقریش کو بھی اپنی بدعہدی کا بہت جلداحساس ہوگیا اور انہو ں نے اس کے انجام کی سنگینی کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک مجلس مشاورت منعقد کی۔ جس میں طے کیا کہ وہ اپنے سپہ سالار ابو سفیان کو اپنا نمائندہ بناکر تجدیدِ صلح کے لیے مدینہ روانہ کریں۔
ادھر رسول اللہﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بتایا کہ قریش اپنی اس عہد شکنی کے بعد اب کیا کرنے والے ہیں۔ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ ''گویا میں ابو سفیان کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ عہد کو پھر سے پختہ کرنے اور مدتِ صلح کو بڑھانے کے لیے آگیا ہے ''
ادھر ابو سفیان طے شدہ قرارداد کے مطابق روانہ ہوکر عُسفان پہنچا تو بُدَیل بن ورقاء سے ملاقات ہوئی۔ بُدیل مدینہ سے واپس آرہا تھا۔ ابو سفیان سمجھ گیا کہ یہ نبیﷺ کے پاس سے ہوکر آرہا ہے۔ پوچھا : بُدیل ! کہا ں سے آرہے ہو ؟ بُدیل نے کہا : میں خزاعہ کے ہمراہ اس ساحل اور وادی میں گیا ہوا تھا۔ پوچھا : کیا تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں گئے تھے ؟بُدیل نے کہا : نہیں۔
مگر جب بدیل مکہ کی جانب روانہ ہوگیا تو ابو سفیان نے کہا : اگر وہ مدینہ گیا تھا تو وہاں (اپنے اونٹ کو ) گٹھلی کا چارہ کھلایا ہوگا۔ اس لیے ابو سفیان اس جگہ گیا جہاں بُدیل نے اپنے اونٹ بٹھایا تھا اور اس کی مینگنی لے کر توڑی تو اس میں کھجور کی گٹھلی نظر آئی۔ ابو سفیان نے کہا : میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ بُدیل ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تھا۔
بہرحال ابو سفیان مدینہ پہنچا اور اپنی صاحبزادی ام المومنین حضرت ام حبیبہ ؓ کے گھرگیا۔ جب رسول اللہﷺ کے بستر پر بیٹھنا چاہا تو انہوں نے بستر لپیٹ دیا۔ ابو سفیان نے کہا : بیٹی ! کیا تم نے اس بستر کو میرے لائق نہیں سمجھا یا مجھے اس بستر کے لائق نہیں سمجھا ؟ انہوں نے کہا : یہ رسول اللہﷺ کا بستر ہے اور آپ ناپاک مشرک آدمی ہیں۔ ابو سفیان کہنے لگا : اللہ کی قسم ! میرے بعد تمہیں شر پہنچ گیا ہے۔
پھر ابو سفیان وہاں سے نکل کر رسول اللہﷺ کے پاس گیا اور آپ سے گفتگو کی۔ آپ نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔ اس کے بعد ابو بکرؓ کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ وہ رسول اللہﷺ سے گفتگو کریں۔ انہوں نے کہا : میں ایسا نہیں کرسکتا۔ اس کے بعد وہ عمر بن خطابؓ کے پاس گیا اور ان سے بات کی۔ انہوں نے کہا : بھلا میں تم لوگوں کے لیے رسول اللہﷺ سے سفارش کروں گا۔ اللہ کی قسم! اگر مجھے لکڑی کے ٹکڑے کے سوا کچھ دستیاب نہ ہوتو میں اسی کے ذریعے تم لوگوں سے جہاد کروں گا۔ اس کے بعد وہ حضرت علی بن ابی طالبؓ کے پاس پہنچا۔ وہاں حضرت فاطمہ ؓ بھی تھیں۔ اور حضرت حسنؓ بھی تھے، جو ابھی چھوٹے سے بچے تھے اور سامنے پھدک پھدک کر چل رہے تھے۔ ابوسفیان نے کہا : اے علی ! میرے ساتھ تمہارا سب سے گہرانسبی تعلق ہے۔ میں ایک ضرورت سے آیا ہوں۔ ایسا نہ ہوکہ جس طرح میں نامراد آیا اسی طرح نامراد واپس جاؤں۔ تم میرے لیے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کردو۔ حضرت علیؓ نے کہا : ابو سفیان ! تجھ پر افسوس ، رسول اللہﷺ نے ایک بات کا عزم کرلیا ہے۔ ہم اس بارے میں آپ سے کوئی بات نہیں کرسکتے۔ اس کے بعد وہ حضرت فاطمہؓ کی طرف متوجہ ہوا ، اور بولا: کیا آپ ایسا کرسکتی ہیں کہ اپنے اس بیٹے کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کے درمیان پناہ دینے کا اعلان کرکے ہمیشہ کے لیے عرب کا سردار ہوجائے ؟ حضرت فاطمہ ؓ نے کہا : واللہ ! میرا یہ بیٹا ا س درجہ کو نہیں پہنچاہے کہ لوگوں کے درمیان پناہ دینے کا اعلان کرسکے۔ اور رسول اللہﷺ کے ہوتے ہوئے کوئی پناہ دے بھی نہیں سکتا۔
ان کوششوں اور ناکامیوں کے بعد ابو سفیان کی آنکھوں کے سامنے دنیا تاریک ہوگئی۔ اس نے حضرت علی بن ابی طالبؓ سے سخت گھبراہٹ ، کش مکش اور مایوسی وناامیدی کی حالت میں کہا کہ ابو الحسن ! میں دیکھتا ہوں کہ معاملات سنگین ہوگئے ہیں ، لہٰذامجھے کوئی راستہ بتاؤ ، حضرت علیؓ نے کہا : اللہ کی قسم ! میں تمہارے لیے کوئی کار آمد چیز نہیں جانتا۔ البتہ تم بنوکنانہ کے سردار ہو ، لہٰذا کھڑے ہوکر لوگوں کے درمیان امان کا اعلان کردو۔ اس کے بعد اپنی سرزمین میں واپس چلے جاؤ۔ ابو سفیان نے کہا : کیا تمہارا خیال ہے کہ یہ میرے لیے کچھ کار آمد ہوگا۔ حضرت علیؓ نے کہا : نہیں اللہ کی قسم! میں اسے کار آمد تو نہیں سمجھتا ، لیکن اس کے علاوہ کوئی صورت بھی سمجھ میں نہیں آتی۔ اس کے بعد ابو سفیان نے مسجد میں کھڑے ہوکر اعلان کیا کہ لوگو! میں لوگوں کے درمیان امان کا اعلان کررہا ہوں، پھراپنے اونٹ پر سوار ہو کر مکہ چلا گیا۔
قریش کے پاس پہنچاتو وہ پوچھنے لگے پیچھے کا کیا حال ہے ؟ ابو سفیان نے کہا: میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا۔ بات کی تو واللہ! انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر ابو قحافہ کے بیٹے کے پاس گیا تواس کے اندر کوئی بھلائی نہیں پائی۔ اس کے بعد عمر بن خطابؓ کے پاس گیا تو اسے سب سے کٹر دشمن پایا۔ پھر علیؓ کے پاس گیا تو اسے سب سے نرم پایا۔ اس نے مجھے ایک رائے دی اور میں نے اس پر عمل بھی کیا۔ لیکن پتہ نہیں وہ کارآمد بھی ہے یا نہیں ؟ لوگوں نے پوچھا : وہ کیا رائے تھی؟ ابو سفیان نے کہا: وہ رائے یہ تھی کہ میں لوگوں کے درمیان امان کا اعلان کردوں۔ اور میں نے ایسا ہی کیا۔
قریش نے کہا : تو کیا محمد نے اسے نافذ قرار دیا۔ ابو سفیان نے کہا : نہیں۔ لوگوں نے کہا : تیری تباہی ہو۔ اس شخص (علی) نے تیرے ساتھ محض کھلواڑ کیا۔ ابو سفیان نے کہا : اللہ کی قسم! اس کے علاوہ کوئی صورت نہ بن سکی۔
مکمل تحریر >>

غزوہ فتح مکہ - اسباب


غزوہ ٔ فتح مکہ- سبب
امام ابن ِ قیم لکھتے ہیں کہ یہ وہ فتح اعظم ہے جس کے ذریعہ اللہ نے اپنے دین کو ، اپنے رسول کو ، اپنے لشکر کو اور اپنے امانت دار گروہ کو عزت بخشی اور اپنے شہر کو اور اپنے گھر کو ، دنیا والوں کے لیے ذریعۂ ہدایت بنایا ہے۔ کفار ومشرکین کے ہاتھوں سے چھٹکارا دلایا۔ اس فتح سے آسمان والوں میں خوشی کی لہردوڑ گئی، اس کی عزت کی طنابیں جوزاء کے شانوں پر تن گئیں۔ اور اس کی وجہ سے لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوئے اور روئے زمین کا چہرہ روشنی اور چمک دمک سے جگمگا اٹھا۔( زاد المعاد ۲/۱۶۰)
صلح حدیبیہ کے ذکر میں ہم یہ بات بتاچکے ہیں کہ اس معاہدے کی ایک دفعہ یہ تھی کہ جوکوئی محمدﷺ کے عہدوپیمان میں داخل ہونا چاہے داخل ہوسکتا ہے اور جو کوئی قریش کے عہدوپیمان میں داخل ہونا چاہے داخل ہوسکتا ہے اور جو قبیلہ جس فریق کے ساتھ شامل ہوگا اس فریق کا ایک حصہ سمجھاجائے گا۔ لہٰذا ایسا کوئی قبیلہ اگر کسی حملے یا زیادتی کا شکار ہوگا تو یہ خود ااس فریق پر حملہ اور زیادتی تصور کی جائے گی۔
اس دفعہ کے تحت بنو خُزاعہ رسول اللہﷺ کے عہد وپیما ن میں داخل ہوگئے اور بنو بکر قریش کے عہد وپیمان میں۔ اس طرح دونوں قبیلے ایک دوسرے سے مامون اور بے خطر ہوگئے۔ لیکن چونکہ ان دونوں قبیلوں میں دورِ جاہلیت سے عداوت اور کشاکش چلی آرہی تھی ، اس لیے جب اسلام کی آمد آمد ہوئی ، اور صلح حدیبیہ ہوگئی ، اور دونوں فریق ایک دوسرے سے مطمئن ہوگئے تو بنو بکر نے اس موقع کو غنیمت سمجھ کر چاہا کہ بنو خزاعہ سے پرانا بدلہ چکا لیں۔ چنانچہ نوفل بن معاویہ دیلی نے بنو بکر کی ایک جماعت ساتھ لے کر شعبان ۸ ھ میں بنو خزاعہ پر رات کی تاریکی میں حملہ کردیا۔ اس وقت بنو خزاعہ وتیر نامی ایک چشمے پر خیمہ زن تھے۔ ان کے متعدد افراد مارے گئے۔ کچھ جھڑپ اور لڑائی بھی ہوئی۔ ادھر قریش نے اس حملے میں ہتھیاروں سے بنو بکر کی مدد کی۔ بلکہ ان کے کچھ آدمی بھی رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر لڑائی میں شریک ہوئے۔ بہرحال حملہ آوروں نے بنوخزاعہ کو کھدیڑ کر حرم تک پہنچادیا۔ حرم پہنچ کر بنو بکر نے کہا : اے نوفل ، اب تو ہم حرم میں داخل ہوگئے۔ تمہارا الٰہ ! ... تمہارا الٰہ ! ... اس کے جواب میں نوفل نے ایک بڑی بات کہی ، بولا: بنو بکر !آج کوئی الٰہ نہیں۔ اپنا بدلہ چکا لو۔ میری عمر کی قسم ! تم لوگ حرم میں چوری کرتے ہو تو کیا حرم میں اپنا بدلہ نہیں لے سکتے۔
ادھر بنو خزاعہ نے مکہ پہنچ کر بُدَیْل بن وَرْقَاء خُزاعی اور اپنے ایک آزاد کردہ غلام رافع کے گھروں میں پناہ لی اور عَمرو بن سالم خزاعی نے وہاں سے نکل کر فوراً مدینہ کا رُخ کیا اور رسول اللہﷺ کی خدمت میں پہنچ کر سامنے کھڑا ہوگیا۔ اس وقت آپ مسجد نبوی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان تشریف فرماتھے۔ عمرو بن سالم نے کہا :
یـارب إنـي نـاشـد محمـــدا حلفـنا وحلف أبـیـہ ألا تـلـدا
قـد کـنـتم ولــداً وکنا والــدا ثمۃ أسـلمنــا ولـم ننزع یـــدا
فـانصر ہداک اللہ نـصـراً أیدا وادع عبــاد اللہ یأتوا مــــددا
فـیـہم رسول اللہ قد تجــردا أبیض مثل البدر یسمو صعـدا
إن سیـم خـسـفا وجہہ تربـدا في فیلـق کالبحر یجری مزبدا
إن قریشاً أخلفـوک الموعــدا ونقضــوا میثـاقک المؤکـــدا
وجعلوا لی فـی کـداء رصـدا وزعـموا أن لست أدعوا أحدا
وہــــــم أذل وأقـل عـــددا ہــم بیتونــا بالوتیر ہجـــدا
وقـتـلـونـــا رکعــــاً وسجـــــــدا

''اے پروردگار ! میں محمدﷺ سے ان کے عہد اور ان کے والد کے قدیم عہد(اشارہ اس عہد کی طرف ہے جو بنو خزاعہ اور بنو ہاشم کے درمیان عبدالمطلب کے زمانے سے چلا آرہا تھا۔ اس کا ذکر ابتدا کتاب میں کیا جاچکا ہے ۔)کی دہائی دے رہا ہوں۔ آپ لوگ اولاد تھے اورہم جننے والے۔( اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ عبد مناف کی ماں، یعنی قصی کی بیوی حبی بنو خزاعہ سے تھیں۔ اس لیے پورا خاندانِ نبوت بنو خزاعہ کی اولاد ٹھہرا)پھر ہم نے تابعداری اختیار کی اور کبھی دست کش نہ ہوئے۔ اللہ آپ کو ہدایت دے۔ آپ پُر زور مدد کیجیے اور اللہ کے بندوں کو پکاریے ، وہ مدد کو آئیں گے۔ جن میں اللہ کے رسول ہوں گے ہتھیار پوش ، اور چڑھے ہوئے چودھویں کے چاند کی طرح گورے اور خوبصورت۔ اگر ان پر ظلم اور ان کی توہین کی جائے تو چہرہ تمتما اٹھتا ہے۔ آپ ایک ایسے لشکر ِ جرار کے اندر تشریف لائیں گے جو جھاگ بھرے سمندر کی طرح تلاطم خیز ہوگا۔ یقینا قریش نے آپ کے عہد کی خلاف ورزی کی ہے اور آپ کا پُختہ پیمان توڑدیا ہے۔ انہوں نے میرے لیے کداء میں گھات لگائی اور یہ سمجھا کہ میں کسی کو (مدد کے لیے ) نہ پکاروں گا۔ حالانکہ وہ بڑے ذلیل اور تعداد میں قلیل ہیں۔ انہوں نے وتیر پر رات میں حملہ کیا اور ہمیں رکوع وسجود کی حالت میں قتل کیا۔''(یعنی ہم مسلمان تھے اور ہمیں قتل کیا گیا۔ ) ''
رسول اللہﷺ نے فرمایا : اے عَمرو بن سالم ! تیری مدد کی گئی۔ اس کے بعد آسمان میں بادل کا ایک ٹکڑا دکھائی پڑا۔ آپ نے فرمایا: یہ بادل بنو کعب کی مدد کی بشارت سے دمک رہا ہے۔
اس کے بعد بُدَیْل بن ورقاء خُزاعی کی سرکردگی میں بنو خزاعہ کی ایک جماعت مدینہ آئی اور رسول اللہﷺ کو بتلایا کہ کون سے لوگ مارے گئے اور کس طرح قریش نے بنو بکر کی پشتیبانی کی۔ اس کے بعد یہ لوگ مکہ واپس چلے گئے۔
مکمل تحریر >>

سرایہ ذات السلاسل


جب رسول اللہﷺ کو معرکہ ٔ موتہ کے سلسلے میں مشارف شام کے اندر رہنے والے عرب قبائل کے موقف کا علم ہوا کہ وہ مسلمانوں سے لڑنے کے لیے رومیوں کے جھنڈے تلے جمع ہوگئے تھے تو آپﷺ نے ایک ایسی حکمتِ بالغہ کی ضرورت محسوس کی جس کے ذریعے ایک طرف تو ان عرب قبائل اور رومیوں کے درمیان تفرقہ پڑجائے۔ اور دوسری طرف خود مسلمانوں سے ان کی دوستی ہوجائے تاکہ اس علاقے میں دوبارہ آپﷺ کے خلاف اتنی بڑی جمعیت فراہم نہ ہوسکے۔
اس مقصد کے لیے آپﷺ نے حضرت عمرو بن عاصؓ کو منتخب فرمایا کیونکہ ان کی دادی قبیلہ بلی سے تعلق رکھتی تھیں۔ چنانچہ آپﷺ نے جنگ موتہ کے بعد ہی، یعنی جمادی الآخر ہ ۸ھ میں ان کی تالیف ِ قلب کے لیے حضرت عمرو بن عاصؓ کو ان کی جانب روانہ فرمایا۔ کہا جاتا ہے کہ جاسوسوں نے یہ اطلاع بھی دی تھی کہ بنو قضاعہ نے اطرافِ مدینہ پر ہلہ ّ بولنے کے ارادہ سے ایک نفری فراہم کررکھی ہے، لہٰذا آپﷺ نے حضرت عمرو بن عاصؓ کو ان کی جانب روانہ کیا۔ ممکن ہے دونوں سبب اکٹھا ہوگئے ہوں۔
بہرحال رسول اللہﷺ نے حضرت عمرو بن عاصؓ کے لیے سفید جھنڈا باندھا۔ اور اس کے ساتھ کا لی جھنڈیاں بھی دیں۔ اور ان کی کمان میں بڑے بڑے مہاجرین وانصار کی تین سو نفری دے کر - انہیں - رخصت فرمایا۔ ان کے ساتھ تیس گھوڑے بھی تھے۔ آپﷺ نے حکم دیا کہ بلی اور عذرہ اور بلقین کے جن لوگوں کے پاس سے گذریں ان سے مدد کے خواہاں ہوں۔ وہ رات کو سفر کرتے اور دن کو چھپے رہتے تھے۔ جب دشمن کے قریب پہنچے تو معلوم ہوا کہ ان کی جمعیت بہت بڑی ہے۔ اس لیے حضرت عَمرو نے حضرت رافع بن مکیث جہنی کو کمک طلب کرنے کے لیے رسول اللہﷺ کی خدمت میں بھیج دیا۔ رسول اللہﷺ نے حضرت ابوعبیدہ بن جراح کو عَلَم دے کر ان کی سرکردگی میں دوسو فوجیوں کی کمک روانہ فرمائی۔ جس میں رؤساء مہاجرین - مثلا: ابو بکر وعمر - اور سردارانِ انصار بھی تھے۔ ابو عبیدہ کو حکم دیا گیا تھا کہ عمرو بن عاص سے جاملیں ، اور دونوں مل کر کام کریں، اختلاف نہ کریں۔ وہاں پہنچ کر حضرت ابو عبیدہؓ نے امامت کرنی چاہی۔ لیکن حضرت عمر و نے کہا: آپ میرے پاس کمک کے طور پر آئے ہیں۔ امیر میں ہوں۔ ابو عبیدہ نے ان کی بات مان لی اور نماز حضرت عمرو ہی پڑھاتے رہے۔
کمک آجانے کے بعد یہ فوج مزید آگے بڑھ کرقضاعہ کے علاقہ میں داخل ہوئی اور اس علاقہ کو روندتی ہوئی اس کے دور درازحدود تک جا پہنچی۔ اخیر میں ایک لشکر سے مڈبھیڑ ہوئی، لیکن جب مسلمانوں نے اس پر حملہ کیا تو وہ ادھر اُدھر بھاگ کر بکھر گیا۔اس کے بعد عوف بن مالک اشجعیؓ کو ایلچی بنا کر رسول اللہﷺ کی خدمت میں بھیجا گیا۔ انہوں نے مسلمانوں کی بہ سلامت واپسی کی اطلاع دی اور غزوے کی تفصیل سنائی۔
ذات السلاسل (پہلی سین کو پیش اور زبر دونوں پڑھنا درست ہے ) یہ وادیٔ القریٰ سے آگے ایک خطہ ٔ زمین کا نام ہے۔ یہاں سے مدینہ کا فاصلہ دس دن ہے۔ ابن ِ اسحاق کا بیان ہے کہ مسلمان قبیلہ ٔ جذام کی سر زمین میں واقع سلاسل نامی ایک چشمے پر اترے تھے۔ اسی لیے اس مہم کا نام ذات السلاسل پڑ گیا۔( ابن ہشام ۲/۶۲۳تا ۶۲۶ ، زاد المعاد ۲/۱۵۷)

مکمل تحریر >>

Sunday, 18 October 2015

خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت اور فتح


انتہائی شجاعت وبسالت اور زبردست جاں بازی وجاں سپاری کے باوجود یہ بات انتہائی تعجب انگیز تھی کہ مسلمانوں کا یہ چھوٹا سا لشکر رُومیوں کے اس لشکر ِ جرار کی طوفانی لہروں کے سامنے ڈٹا رہ جائے۔ لہٰذا اس نازک مرحلے میں حضرت خالد بن ولیدؓ نے مسلمانوں کو اس گرداب سے نکالنے کے لیے جس میں وہ خود کود پڑے تھے ، اپنی مہارت اور کمال ہنرمندی کا مظاہرہ کیا۔
تمام روایات پر نظر ڈالنے سے صورت حال یہ معلوم ہوتی ہے کہ جنگ کے پہلے روز حضرت خالد بن ولیددن بھر رومیوں کے مد مقابل ڈٹے رہے۔ لیکن وہ ایک ایسی جنگی چال کی ضرورت محسوس کررہے تھے جس کے ذریعہ رومیوں کو مرعوب کر کے اتنی کامیابی کے ساتھ مسلمانوں کو پیچھے ہٹالیں کہ رومیوں کو تعاقب کی ہمت نہ ہو۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر مسلمان بھاگ کھڑے ہوئے اور رومیوں نے تعاقب شروع کردیا ، تو مسلمانوں کو ان کے پنجے سے بچانا سخت مشکل ہوگا۔
چنانچہ جب دوسرے دن صبح ہوئی تو انہوں نے لشکر کی ہیئت اور وضع تبدیل کردی اور اس کی ایک نئی ترتیب قائم کی۔ مقدمہ (اگلی لائن ) کو ساقہ (پچھلی لائن )اور ساقہ کو مقدمہ کی جگہ رکھ دیا۔ اور میمنہ کو مَیْسَرَہ اور میسرہ کو میمنہ سے بدل دیا۔ یہ کیفیت دیکھ کر دشمن چونک گیا اور کہنے لگا کہ انہیں کمک پہنچ گئی ہے۔ غرض رومی ابتداہی میں مرعوب ہوگئے۔ ادھر جب دونوں لشکرکا آمنا سامنا ہوا اور کچھ دیر تک جھڑپ ہوچکی تو حضرت خالد بن ولید نے اپنے لشکر کا نظام محفوظ رکھتے ہوئے مسلمانوں کوتھوڑا تھوڑا پیچھے ہٹانا شروع کیا لیکن رومیوں نے اس خوف سے ان کا پیچھا نہ کیا کہ مسلمان دھوکا دے رہے ہیں اور کوئی چال چل کر انہیں صحراکی پہنائیوں میں پھینک دینا چاہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دشمن اپنے علاقہ میں واپس چلاگیا اور مسلمانوں کے تعاقب کی بات نہ سوچی۔ ادھر مسلمان کامیابی اورسلامتی کے ساتھ پیچھے ہٹے اور بھر مدینہ واپس آگئے۔ فتح الباری ۷/۵۱۳ ، ۵۱۴ ، زاد المعاد ۲/۱۵۶ ، معرکے کی تفصیل سابقہ مآخذ سمیت ان دونوں مآخذ سے لی گئی ہے۔
اس جنگ میں بارہ مسلمان شہید ہوئے۔ رومیوں کے مقتولین کی تعداد کا علم نہ ہوسکا۔ البتہ جنگ کی تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بڑی تعداد میں مارے گئے۔ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جب تنہا حضرت خالد کے ہاتھ میں نو تلوار یں ٹوٹ گئیں تو مقتولین اور زخمیوں کی تعداد کتنی رہی ہوگی۔
موتہ کے معرکے کا اثر :
اس معرکے کی سختیاں جس انتقام کے لیے جھیلی گئی تھیں ، مسلمان اگرچہ وہ انتقام نہ لے سکے ، لیکن اس معرکے نے مسلمانوں کی ساکھ اور شہرت میں بڑا اضافہ کیا۔ اس کی وجہ سے سارے عرب انگشت بدنداں رہ گئے۔ کیونکہ رومی اس وقت روئے زمین پر سب سے بڑی قوت تھے۔ عرب سمجھتے تھے کہ ان سے ٹکرانا خودکشی کے مترادف ہے۔ اس لیے تین ہزار کی ذرا سی نفری کا دولاکھ کے بھاری بھرکم لشکر سے ٹکرا کر کوئی قابل ذکر نقصان اٹھائے بغیر واپس آجانا عجوبۂ روزگار سے کم نہ تھا۔ اور اس سے یہ حقیقت بڑی پختگی کے ساتھ ثابت ہوتی تھی کہ عرب اب تک جس قسم کے لوگوں سے واقف اور آشنا تھے ، مسلمان ان سے الگ تھلگ ایک دوسری ہی طرز کے لوگ ہیں۔ وہ اللہ کی طرف سے مویّد ومنصور ہیں اور ان کے راہنما واقعتااللہ کے رسول ہیں۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ وہ ضدی قبائل جو مسلمانوں سے مسلسل برسرِپیکار رہتے تھے ، اس معرکے کے بعد اسلام کی طرف مائل ہوگئے۔ چنانچہ بنو سلیم ، اشجع ، غطفان ، ذیبان اور فزارہ وغیرہ قبائل نے اسلام قبول کرلیا۔
یہی معرکہ ہے جس سے رومیوں کے ساتھ خونریز ٹکر شروع ہوئی ،جو آگے چل کر رومی ممالک کی فتوحات اور دُور دراز علاقوں پر مسلمانوں کے اقتدار کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔
مکمل تحریر >>

جنگ کا آغاز اور سپہ سالاروں کی یکے بعد دیگرے شہادت


اس کے بعد مُوْتَہ ہی میں فریقین کے درمیان ٹکراؤ ہوا اور نہایت تلخ لڑائی شروع ہوگئی۔ تین ہزار کی نفری دولاکھ ٹڈی دل کے طوفانی حملوں کامقابلہ کررہی تھی۔ عجیب وغریب معرکہ تھا ، دنیا پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی لیکن جب ایمان کی بادِبہاری چلتی ہے تو اسی طرح کے عجائبات ظہور میں آتے ہیں۔
سب سے پہلے رسول اللہﷺ کے چہیتے حضرت زید بن حارثہؓ نے علَم لیا اور ایسی بے جگری سے لڑے کہ اسلامی شہبازوں کے علاوہ کہیں اور اس کی نظیر نہیں ملتی۔ وہ لڑتے رہے ، لڑتے رہے یہاں تک کہ دشمن کے نیزوں میں گتھ گئے اور خلعتِ شہادت سے مشرف ہوکر زمین پر آرہے۔
اس کے بعد حضرت جعفرؓ کی باری تھی۔ انہوں نے لپک جھنڈا اٹھایا اور بے نظیر جنگ شروع کردی۔ جب لڑائی کی شدت شباب کو پہنچی تو اپنے سُرخ وسیا ہ گھوڑے کی پشت سے کود پڑے۔ کوچیں کاٹ دیں اور وار پر وار کرتے اور روکتے رہے۔ یہاں تک ضرب سے داہنا ہاتھ کٹ گیا۔ اس کے بعد انہوں نے جھنڈا بائیں ہاتھ میں لے لیا اور اسے مسلسل بلند رکھا یہاں تک کہ بایاں ہاتھ بھی کاٹ دیا گیا۔ پھر دونوں باقی ماندہ بازوؤں سے جھنڈا آغوش میں لے لیا اور اس وقت تک بلند رکھا جب تک کہ خلعتِ شہادت سے سرفراز نہ ہوگئے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک رومی نے ان کو ایسی تلوار ماری کہ ان کے دوٹکڑے ہوگئے۔ اللہ نے انہیں ان کے دونوں بازوؤں کے عوض جنت میں دوبازو عطا کیے جن کے ذریعہ وہ جہاں چاہتے ہیں اڑتے ہیں۔ اسی لیے ان کا لقب جعفر طَیَّار اور جعفر ذُوالجَنَاحین پڑ گیا۔ (طَیّار معنی اڑنے والا اور ذُو الجناحین معنی دوبازوؤں والا)
امام بخاری رحمہ اللہ نے نافع کے واسطے سے ابن عمرؓ کا یہ بیان روایت کیا ہے کہ میں نے جنگ موتہ کے روز حضرت جعفر کے پاس جبکہ وہ شہید ہوچکے تھے، کھڑے ہو کر ان کے جسم پر نیزے اور تلوار کے پچاس زخم شمار کیے۔ ان میں سے کوئی بھی زخم پیچھے نہیں لگاتھا۔
ایک دوسری روایت میں ابن عمرؓ کا یہ بیان اس طرح مروی ہے کہ میں بھی اس غزوے میں مسلمانوں کے ساتھ تھا۔ ہم نے جعفر بن ابی طالب کو تلاش کیا تو انہیں مقتولین میں پایا اور ان کے جسم میں نیزے اور تیر کے نوے سے زیادہ زخم پائے۔ (صحیح بخاری ، باب غزوۃ موتہ من ارض الشام ۲/۶۱۱)نافع سے عمرہی کی روایت میں اتنا اور اضافہ ہے کہ ہم نے یہ سب زخم ان کے جسم کے اگلے حصے میں پائے۔ فتح الباری ۷/۵۱۲ بظاہر دونوں حدیث میں تعداد کا اختلاف ہے۔ تطبیق یہ دی گئی ہے کہ تیروں کے زخم شامل کرکے تعداد بڑھ جاتی ہے۔
اس طرح کی شجاعت وبسالت سے بھر پور جنگ کے بعدجب حضرت جعفرؓ بھی شہید کردیے گئے تو اب حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ نے پرچم اٹھایا اور اپنے گھوڑے پر سوار آگے بڑھے اور اپنے آپ کو مقابلہ کے لیے آمادہ کرنے لگے۔ لیکن انہیں کسی قدر ہچکچاہٹ ہوئی، حتیٰ کہ تھوڑا سا گریز بھی کیا، لیکن اس کے بعد کہنے لگے :
أقسمت یــا نفــس لتنزلنــہ کارہــــــۃ أو لتطـاوعـنـــہ
إن أجلب الناس وشدوا الرنہ ما لی أراک تکـرہین الجنـــۃ
''اے نفس! قسم ہے کہ تو ضرور مدّ ِ مقابل اُتر ، خواہ ناگواری کے ساتھ خواہ خوشی خوشی، اگر لوگوں نے جنگ برپا کررکھی ہے اور نیزے تان رکھے ہیں تو میں تجھے کیوں جنت سے گریزاں دیکھ رہا ہوں۔''
اس کے بعد وہ مدمقابل میں اترے۔ اتنے میں ان کا چچیرا بھائی ایک گوشت لگی ہو ئی ہڈی لے آیا اور بولا: اس کے ذریعہ اپنی پیٹھ مضبوط کر لو۔ کیونکہ ان دنوں تمہیں سخت حالات سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ انہوں نے ہڈی لے کر ایک بار نوچی پھر پھینک کر تلوار تھام لی۔ اور آگے بڑھ کر لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔
جھنڈا ، اللہ کی تلوار وں میں سے ایک تلوار کے ہاتھ میں :
اس موقع پر قبیلہ بنو عجلان کے ثابت بن ارقم نامی ایک صحابی نے لپک کر جھنڈا اٹھا لیا اور فرمایا : مسلمانو ! اپنے کسی آدمی کو سپہ سالار بنا لو ، صحابہ نے کہا : آپ ہی یہ کام انجام دیں۔ انہوں نے کہا:میں یہ کام نہیـں کرسکوں گا۔ اس کے بعد صحابہ نے حضرت خالد بن ولید کو منتخب کیا اور انہوں نے جھنڈا لیتے ہی نہایت پرزور جنگ کی۔ چنانچہ صحیح بخاری میں خود حضرت خالد بن ولیدؓ سے مروی ہے کہ جنگ موتہ کے روز میرے ہاتھ میں نو تلواریں ٹوٹ گئیں۔ پھر میرے ہاتھ میں صرف ایک یمنی بانا (چھوٹی سی تلوار) باقی بچا۔ اور ایک دوسری روایت میں ان کا بیان اس طرح مروی ہی کہ میرے ہاتھ میں جنگ موتہ کے روز نو تلواریں ٹوٹ گئیں اورایک یمنی بانا میرے ہاتھ میں چپک کررہ گیا۔
ادھر رسول اللہﷺ نے جنگ مُوتہ ہی کے روز جبکہ ابھی میدان جنگ سے کسی قسم کی اطلاع نہیں آئی تھی وحی کی بناء پر فرمایا کہ جھنڈا زید نے لیا ، اور وہ شہید کردیے گئے۔ پھر جعفر نے لیا ، وہ بھی شہید کردیے گئے، پھر ابن ِ رواحہ نے لیا، اور وہ بھی شہید کردیے گئے - اس دوران آپ کی آنکھیں اشکبار تھیں -یہاں تک کہ جھنڈا اللہ کی ایک تلوار نے لیا۔ (اور ایسی جنگ لڑی کہ ) اللہ نے ان پر فتح عطاکی۔۔( صحیح بخاری ، باب غزوۂ موتہ من ارض الشام ۲/۶۱۱)
مکمل تحریر >>

اسلامی لشکر کی پیش رفت


اسلامی لشکر شمال کی طرف بڑھتا ہوا معان پہنچا۔ یہ مقام شمالی حجاز سے متصل شامی (اردنی) علاقے میں واقع ہے۔ یہاں لشکر نے پڑاؤ ڈالا۔ اور یہیں جاسوسوں نے اطلاع پہنچائی کہ ہرقل قیصر ِ روم بلقاء کے علاقے میں مآب کے مقام پر ایک لاکھ رومیوں کا لشکر لے کر خیمہ زن ہے اور اس کے جھنڈے تلے لخم وجذام ، بلقین وبہرااور بلی (قبائلِ عرب ) کے مزیدایک لاکھ افراد بھی جمع ہوگئے ہیں۔
مسلمانوں کے حساب میں سرے سے یہ بات تھی ہی نہیں کہ انہیں کسی ایسے لشکر جرار سے سابقہ پیش آئے گا جس سے وہ اس دور دراز سر زمین میں ایک دم اچانک دوچار ہوگئے تھے۔ اب ان کے سامنے سوال یہ تھا کہ آیا تین ہزار کا ذراسا لشکر دولاکھ کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر سے ٹکراجائے یا کیا کرے ؟
مسلمان حیران تھے اور اسی حیرانی میں معان کے اندر دوراتیں غور اور مشورہ کرتے ہوئے گزاردیں۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ ہم رسول اللہﷺ کولکھ کر دشمن کی تعداد کی اطلاع دیں۔ اس کے بعد یا تو آپ کی طرف سے مزید کمک ملے گی، یا اور کوئی حکم ملے گا اور اس کی تعمیل کی جائے گی۔
لیکن حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ نے اس رائے کی مخالفت کی اور یہ کہہ کر لوگوں کو گرمادیا کہ لوگو! اللہ کی قسم! جس چیز سے آپ کترارہے ہیں یہ وہی تو شہادت ہے جس کی طلب میں آپ نکلے ہیں۔ یاد رہے دشمن سے ہماری لڑائی تعداد ، قوت اور کثرت کے بل پر نہیں ہے بلکہ ہم محض اس دین کے بل پر لڑتے ہیں جس سے اللہ نے ہمیں مشرف کیا ہے۔ اس لیے چلیے آگے بڑھئے ! ہمیں دوبھلائیوں میں سے ایک بھلائی حاصل ہوکر رہے گی۔ یا تو ہم غالب آئیں گے یا شہادت سے سرفراز ہوں گے۔ بالآخر حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ کی پیش کی ہوئی بات طے پاگئی۔
غرض اسلامی لشکر نے معان میں دوراتیں گزارنے کے بعد دشمن کی جانب پیش قدمی کی ، اور بلقاء کی ایک بستی میں جس کا نام ''مَشَارِف'' تھا۔ ہرقل کی فوجوں سے اس کا سامنا ہوا۔ اس کے بعد دشمن مزید قریب آگیا اور مسلمان''موتہ'' کی جانب سمٹ کر خیمہ زن ہو گئے۔ پھر لشکر کی جنگی ترتیب قائم کی گئی۔ مَیْمَنہ پر قطبہ بن قتادہ عذری مقرر کیے گئے اور مَیْسَرہ پر عبادہ بن مالک انصاریؓ ۔
مکمل تحریر >>

معرکہِ موتہ


موتہ (میم کو پیش اور واو ساکن ) اردن میں بَلْقَاء کے قریب ایک آبادی کانام ہے جہاں سے بیت المقدس دو مرحلے پر واقع ہے۔ زیر بحث معرکہ یہیں پیش آیا تھا۔
یہ سب سے بڑا خونریز معرکہ تھا جو مسلمانوں کو رسول اللہﷺ کی حیات مبارکہ میں پیش آیا اور یہی معرکہ عیسائی ممالک کی فتوحات کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ اس کا زمانہ ٔ وقوع جمادی الاولیٰ ۸ھ مطابق اگست یا ستمبر ۶۲۹ ء ہے۔
معرکہ کا سبب:
اس معرکے کا سبب یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے حارث بن عُمیر اَزْدِیؓ کو اپنا خط دے کر حاکم بُصریٰ کے پاس روانہ کیا تو انہیں قیصر روم کے گورنر شرحبیل بن عمرو غسانی نے جو بلقاء پر مامور تھا گرفتار کرلیا اور مضبوطی کے ساتھ باندھ کر ان کی گردن ماردی۔
یاد رہے کہ سفیروں اور قاصدوں کا قتل نہایت بدترین جرم تھا جو اعلانِ جنگ کے برابر بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے جب رسول اللہﷺ کو اس واقعے کی اطلاع دی گئی تو آپﷺ پر یہ بات سخت گراں گذری اور آپﷺ نے اس علاقہ پر فوج کشی کے لیے تین ہزار کا لشکر تیار کیا۔( زاد المعاد ۲/۱۵۵، فتح الباری ۷/۵۱۱)اور یہ سب سے بڑا اسلامی لشکر تھا جو اس سے پہلے جنگ احزاب کے علاوہ کسی اور جنگ میں فراہم نہ ہوسکا تھا۔

رسول اللہﷺ نے اس لشکر کا سپہ سالار حضرت زید بن حارثہؓ کو مقرر کیا۔ اور فرمایا کہ اگر زید قتل کردیے جائیں تو جعفر ، اور جعفر قتل کردیے جائیں تو عبد اللہ بن رواحہ سپہ لار ہوں گے۔( صحیح بخاری باب غزوۂ موتہ من ارض الشام ۲/۶۱۱) آپﷺ نے لشکر کے لیے سفید پرچم باندھا اور اسے حضرت زید بن حارثہؓ کے حوالے کیا۔ لشکر کو آپﷺ نے یہ وصیت بھی فرمائی کہ جس مقام پر حضرت حارث بن عمیرؓ قتل کیے گئے تھے وہاں پہنچ کر اس مقام کے باشندوں کو اسلام کی دعوت دیں۔ اگر وہ اسلام قبول کرلیں تو بہتر ، ورنہ اللہ سے مدد مانگیں ، اور لڑائی کریں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے نام سے ، اللہ کی راہ میں ، اللہ کے ساتھ کفر کرنے والوں سے غزوہ کرو۔ اور دیکھو بد عہدی نہ کرنا ، خیانت نہ کرنا، کسی بچے اور عورت اور فنا کے قریب بڈھے کو اور گرجے میں رہنے والے تارک الدنیا کو قتل نہ کرنا۔ کھجور اور کوئی درخت نہ کاٹنا اور کسی عمارت کو منہدم نہ کرنا۔ مختصر السیرۃ للشیخ عبد اللہ ص ۳۲۷یہ حدیث واقعہ کے بغیر صحیح مسلم ، سنن ابی داؤد ، ترمذی ، ابن ماجہ وغیرہ میں مختلف الفاظ سے مروی ہے۔

مکمل تحریر >>

عمرہَ قضاء


امام حاکم کہتے ہیں : یہ خبرتواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ جب ذی قعدہ کا چاند ہو گیا تو نبیﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ اپنے عمرہ کی قضاء کے طور پرعمرہ کریں اور کوئی بھی آدمی جو حدیبیہ میں حاضرتھا پیچھے نہ ہے۔ چنانچہ (اس مدت میں ) جو لوگ شہید ہوچکے تھے انہیں چھوڑ کربقیہ سب ہی لوگ روانہ ہوئے۔ اور اہلِ حدیبیہ کے علاوہ کچھ اور لوگ بھی عمرہ کرنے کے لیے ہمراہ نکلے۔ اس طرح تعدا ددوہزار ہوگئی، عورتیں اور بچے ان کے علاوہ تھے۔( فتح الباری ۷/۷۰۰)
رسول اللہﷺ نے اس موقع پر ابو رھم غفاریؓ کو مدینہ میں اپنا جانشین مقرر کیا۔ ساٹھ اونٹ ساتھ لیے اور ناجیہ بن جندب اسلمی کو ان کی دیکھ بھال کاکام سونپا۔ ذو الحلیفہ سے عمرہ کا احرام باندھا۔ اور لبیک کی صدا لگائی۔ آپ کے ساتھ مسلمانوں نے بھی لبیک پکارا۔ اور قریش کی جانب سے بدعہدی کے اندیشے کے سبب ہتھیار اور جنگجو افراد کے ساتھ مستعد ہوکر نکلے۔ جب وادی یَا جِجْ پہنچے تو سارے ہتھیار، یعنی ڈھال ، سپر ، نیزے سب رکھ دیے اور ان کی حفاظت کے لیے اوس بن خولی انصاریؓ کی ماتحتی میں دوسو آدمی وہیں چھوڑ دیے اور سوار کا ہتھیار اور میان میں رکھی ہوئی تلواریں لے کر مکہ میں داخل ہوئے۔( ایضا مع زاد المعاد ۲/۱۵۱)
رسول اللہﷺ مکہ میں داخلے کے وقت اپنی قصواء نامی اونٹنی پر سوار تھے۔ مسلمانوں نے تلواریں حمائل کررکھی تھیں اور رسول اللہﷺ کو گھیرے میں لیے ہوئے لبیک پکار رہے تھے۔
مشرکین مسلمانوں کا تماشہ دیکھنے کے لیے (گھروں سے ) نکل کر کعبہ کے شمال میں واقع جبل قعیقعان پر (جابیٹھے تھے ) انہوں نے آپس میں باتیں کرتے ہوئے کہا کہ تمہارے پاس ایک ایسی جماعت آرہی ہے جسے یثرب کے بخار نے توڑ ڈالا ہے۔ اس لیے نبیﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ وہ پہلے تین چکردوڑ کر لگائیں۔ البتہ رکن یمانی اورحجرِ اسود کے درمیان صرف چلتے ہوئے گزریں۔ کُل (ساتوں ) چکر دوڑ کر لگانے کا حکم محض اس لیے نہیں دیا کہ رحمت وشفقت مقصود تھی۔ اس حکم کا منشاء یہ تھا کہ مشرکین آپ کی قوت کا مشاہدہ کرلیں۔( صحیح بخاری ۱/۲۱۸ ، ۲/۶۱۰ ، ۶۱۱ ، صحیح مسلم ۱/۴۱۲) اس کے علاوہ آپ نے صحابہ کرام کو اضطباع کا بھی حکم دیا۔ اضطباع کا مطلب یہ ہے کہ دایاں کندھا کھلارکھیں (اور چادر دا ہنی بغل کے نیچے سے گزارکر آگے پیچھے دونوں جانب سے ) اس کا دوسراکنارہ بائیں کندھے پر ڈال لیں۔
رسول اللہﷺ مکے میں اس پہاڑ ی گھاٹی کے راستے سے داخل ہوئے جو حجون پر نکلتی ہے۔ مشرکین نے آپﷺ کو دیکھنے کے لیے لائن لگا رکھی تھی - آپﷺ مسلسل لبیک کہہ رہے تھے ،یہاں تک کہ (حرم پہنچ کر ) اپنی چھڑی سے حجر اسود کو چھویا، پھر طواف کیا۔ مسلمانوں نے بھی طواف کیا۔ اس وقت حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ تلوار حمائل کیے رسول اللہﷺ کے آگے آگے چل رہے تھے اور رجز کے یہ اشعار پڑھ رہے تھے :
خـلوا بنی الکفار عن سبـیلـہ خلـوا فکل الخیر فی رسولہ
قد أنزل الرحمـن فـي تـنزیلـہ فی صحف تتلی علی رسولہ
یـا رب إنـي مـؤمــن بـقیـلـہ إني رأیت الحـق فی قبولـــہ
بــان خیـر القتـل فی سبیلــہ الیوم نضـربکــم علی تنزیلہ
ضرباً یزیـل الہـام عن مقیلـہ ویذہــل الخلیـل عن خلیلہ
''کفّار کے پوتو! ان کا راستہ چھوڑ دو۔ راستہ چھوڑ دو کہ ساری بھلائی اس کے پیغمبر ہی میں ہے۔ رحمان نے اپنی تنزیل میں اتارا ہے۔ یعنی ایسے صحیفوں میں جن کی تلاوت اس کے پیغمبر پر کی جاتی ہے۔ اے پروردگار ! میں ان کی باتوں پر ایمان رکھتا ہوں۔ اور اسے قبول کرنے ہی کو حق جانتا ہوں کہ بہترین قتل وہ ہے جو اللہ کی راہ میں ہو۔ آج ہم اس کی تنزیل کے مطابق تمہیں ایسی مارمار یں گے کہ کھوپڑی اپنی جگہ سے جھٹک جائے گی ، اور دوست کو دوست سے بے خبر کردے گی۔''(روایات کے اندر ان اشعار اور ان کی ترتیب میں بڑا اضطراب ہے۔ ہم نے متفرق اشعار کو یکجا کردیا ہے۔)
حضرت انسؓ کی روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ اس پر حضرت عمر بن خطابؓ نے کہا : اے ابن رواحہ ! تم رسول اللہﷺ کے سامنے اور اللہ کے حرم میں شعر کہہ رہے ہو ؟ نبیﷺ نے فرمایا : اے عمر ! انہیں رہنے دو۔ کیونکہ یہ ان کے اندرتیر کی مار سے بھی زیادہ تیز ہے۔( جامع ترمذی ، ابواب الاستیذان والادب ، باب ماجاء فی انشاد الشعر ۲/۱۰۷)
رسول اللہﷺ اور مسلمانوں نے تین چکر دوڑ کر لگائے۔ مشرکین نے دیکھا تو کہنے لگے : یہ لوگ جن کے متعلق ہم سمجھ رہے تھے کہ بخار نے انہیں توڑ دیا ہے یہ تو ایسے اور ایسے لوگوں سے بھی زیادہ طاقتور ہیں۔( صحیح مسلم ۱/۴۱۲)
طواف سے فارغ ہوکر آپﷺ نے صَفا ومَرَوہ کی سعی کی۔ اس وقت آ پﷺ کی ہدی یعنی قربانی کے جانور مَرَوہ کے پاس کھڑے تھے۔ آپﷺ نے سعی سے فارغ ہوکرفرمایا : یہ قربان گاہ ہے اور مکے کی ساری گلیاں قربان گاہ ہیں۔ اس کے بعد مَرَوہ ہی کے پاس جانوروں کو قربان کردیا، پھر وہیں سر منڈایا۔ مسلمانوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ اس کے بعد کچھ لوگوں کو یَا جِجْ بھیج دیا گیا کہ وہ ہتھیاروں کی حفاظت کریں اور جولوگ حفاظت پر مامور تھے وہ آکر اپنا عمرہ ادا کرلیں۔
رسول اللہﷺ نے مکہ میں تین روز قیام فرمایا تھا۔ چوتھے دن صبح ہوئی تو مشرکین نے حضرت علیؓ کے پاس آکر کہا ،: اپنے صاحب سے کہو کہ ہمارے یہاں سے روانہ ہوجائیں۔ کیونکہ مدت گزرچکی ہے۔ اس کے بعد رسول اللہﷺ مکہ سے نکل آئے اور مقام سرف میں اتر کر قیام فرمایا۔
اس عمرہ کا نام عمرہ ٔ قضاء یا تو اس لیے پڑا کہ یہ عمرہ ٔ حدیبیہ کی قضا کے طور پر تھا یا اس لیے کہ یہ حدیبیہ میں طے کردہ صلح کے مطابق کیا گیا تھا۔ (اوراس طرح مصالحت کو عربی میں قضا اورمقاضاۃ کہتے ہیں ) اس دوسری وجہ کومحققین نے راجح قراردیا ہے۔ نیز اس عمرہ کو چار نام سے یاد کیا جاتا ہے ! عمرہ ٔ قضا، عمرۂ قضیہ ، عمرۂ قصاص اور عمرۂ صلح۔( زاد المعاد ۲/۱۷۲ ، فتح الباری ۷/۵۰۰)
مکمل تحریر >>

چند اہم سرایا


غزوۂ ذات الرقاع سے واپس آکر رسول اللہﷺ نے شوال ۷ ھ تک مدینہ میں قیام فرمایا اور اس دوران متعدد سرایا روانہ کیے۔ چند کی تفصیل یہ ہے :
سریۂ قدید : (صفر یا ربیع الاول ۷ ھ )
یہ سریہ غالب بن عبد اللہ لیثی کی کمان میں قدید کی جانب قبیلہ بنی ملوح کی تادیب کے لیے روانہ کیا گیا۔ وجہ یہ تھی کہ بنوملوح نے بِشر بن سُوید کے رفقاء کو قتل کردیا تھا اور اسی کے انتقام کے لیے اس سریہ کی روانگی عمل میں آئی تھی۔ اس سریہ نے رات میں چھاپہ ماکر بہت سے افراد کو قتل کردیا اور ڈھورڈنگر ہانک لائے۔ پیچھے سے دشمن نے ایک بڑے لشکر کے ساتھ تعاقب کیا لیکن جب مسلمانوں کے قریب پہنچے تو بارش ہونے لگی۔ اور ایک زبردست سیلاب آگیا جو فریقین کے درمیان حائل ہوگیا۔ اس طرح مسلمانوں نے بقیہ راستہ بھی سلامتی کے ساتھ طے کر لیا۔
سریہ میفعہ: (رمضان ۷ھ )
یہ سریہ حضرت غالب بن عبد اللہ لیثی کی قیادت میں بنو عوال اور بنو عبد بن ثعلبہ کی تادیب کے لیے اورکہا جاتاہے کہ قبیلہ ٔ جہینہ کی شاخ حرقات کی تادیب کے لیے روانہ کیا گیا۔ مسلمانوں کی تعداد ایک سو تیس تھی۔ انہوں نے دشمن پر یکجائی حملہ کیا اور جس نے بھی سر اٹھایا اسے قتل کردیا۔ پھر چوپائے اور بھیڑ بکریاں ہانک لائے۔ اسی سریہ میں حضرت اُسامہ بن زیدؓ نے نہیک بن مرداس کو لاالٰہ الا اللہ کہنے کے باوجود قتل کردیاتھا اور اس پر نبیﷺ نے بطور عتاب فرمایا تھا کہ تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ معلوم کرلیا کہ وہ سچاتھا یاجھوٹا؟
سریہ خیبر : (شوال ۷ ھ )
یہ سریہ تیس سواروں پر مشتمل تھا۔ اور حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ کی قیادت میں بھیجا گیا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ اسیر یا بشیر بن زَرام بنو غطفان کو مسلمانوں پر چڑھائی کرنے کے لیے جمع کررہا تھا۔ مسلمانوں نے اسیر کو یہ امید دلاکر کہ رسول اللہﷺ اسے خیبر کا گورنربنادیں گے ، اس کے تیس رفقاء سمیت اپنے ساتھ چلنے پر آمادہ کرلیا، لیکن قرقرہ نیار پہنچ کر فریقین میں بدگمانی پیدا ہوگئی جس کے نتیجے میں اسیر اور اس کے تیس ساتھیوں کو جان سے ہاتھ دھونے پڑے۔
سریہ یمن وجبار: (شوال ۷ھ )
جبار کی جیم کو زبر۔ یہ بنو غطفان ، اور کہا جاتا ہے کہ بنو فزارہ اور بنو عذرہ کے علاقہ کا نام ہے۔ یہاں حضرت بشیر بن کعب انصاریؓ کو تین سو مسلمانوں کی معیت میں روانہ کیا گیا۔ مقصود ایک بڑی جمعیت کو پراگندہ کرنا تھاجو مدینہ پر حملہ آور ہونے کے لیے جمع ہورہی تھی۔ مسلمان راتوں رات سفر کرتے اور دن میں چھپے رہتے تھے۔ جب دشمن کو حضرت بشیر کی آمد کی خبر ہوئی تو وہ بھاگ کھڑا ہوا۔ حضرت بشیر نے بہت سے جانوروں پر قبضہ کیا۔ دوآدمی بھی قید کیے اور جب ان دونوں کو لے کر خدمتِ نبویﷺ میں مدینہ پہنچے تو دونوں نے اسلام قبول کرلیا۔
سریہ غابہ:
اسے امام ابن قیم نے عمرہ ٔ قضاء سے قبل ۷ھ کے سرایا میں شمار کیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ قبیلہ جشم بن معاویہ کا ایک شخص بہت سے لوگوں کوساتھ لے کر غابہ آیا۔ وہ چاہتا تھا کہ بنوقیس کو مسلمانوں سے لڑنے کے لیے جمع کرے۔ نبیﷺ نے حضرت ابو حَدْرَد کو صرف دوآدمیوں کے ہمراہ روانہ فرمایا کہ اس کی خبر اور اس کا پتہ لے کر آئیں۔ وہ سورج ڈوبنے کے وقت ان لوگوں کے پاس پہنچے۔ ابو حدرد ایک جانب چھپ گئے۔ اور ان کے دونوں ساتھی دوسری جانب چھپ گئے۔ ان لوگوں کے چرواہے نے دیر کردی۔ یہاں تک کہ شام کی سیاہی جاتی رہی۔ چنانچہ ان کا رئیس تنہا اٹھا۔ جب ابوحدرد کے پاس سے گزرا تو انہیں تیر مارا ، جو دل پر جاکر بیٹھ گیا۔ اور وہ کچھ بولے بغیر جاگرا ابو حدرد نے سر کاٹا۔ اور تکبیر کہتے ہوئے لشکر کی جانب دوڑ لگائی۔ ان کے دونوں ساتھیوں نے بھی تکبیر کہتے ہوئے دوڑ لگائی۔ دشمن بھاگ کھڑا ہوا۔ اور یہ تینوںحضرات بہت سے اونٹ اور بکریاں ہانک لائے۔ ان سرایا کی تفصیلات رحمۃ للعالمین ۲/۲۲۹، ۲۳۰، ۲۳۱ ، زاد المعاد ۲/۱۴۸، ۱۴۹، ۱۵۰ ، تلقیح الفہوم مع حواشی ص ۳۱ اور مختصر السیرہ للشیخ عبداللہ نجدی ص ۳۲۲، ۳۲۳ ، ۳۲۴ میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔

مکمل تحریر >>

غزوہ ذات الرقاع


جب رسول اللہﷺ احزاب کے تین بازوؤں میں سے دو مضبوط بازوؤں کو توڑ کر فارغ ہو گئے تو تیسرے بازو کی طرف توجہ کا بھر پور موقع مل گیا۔ تیسرا بازو وہ بَدُّو تھے جو نجد کے صحرا میں خیمہ زن تھے اور رہ رہ کر لوٹ مار کی کارروائیاں کرتے رہتے تھے۔
چو نکہ یہ بدُّو کسی آبادی یا شہر کے باشندے نہ تھے اوران کا قیام مکانات اور قلعوں کے اندر نہ تھا، اس لیے اہل مکہ اور باشندگان ِ خیبر کی بہ نسبت ان پر پوری طرح قابو پالینا اور ان کے شروفساد کی آگ مکمل طور پر بجھادینا سخت دشوار تھا۔ لہٰذا ان کے حق میں صرف خوف زدہ کرنے والی تادیبی کارروائیاں ہی مفید ہوسکتی تھیں۔
چنانچہ ان بدوؤں پر رعب ودبدبہ قائم کرنے کی غرض سے - اور بقول دیگر مدینہ کے اطراف میں چھاپہ مارنے کے ارادے سے جمع ہونے والے بدوؤں کو پراگندہ کرنے کی غرض سے - نبیﷺ نے ایک تادیبی حملہ فرمایا جو غزوہ ذات الرقاع کے نام سے معروف ہے۔
عام اہل مغازی نے اس غزوہ کا تذکرہ ۴ھ میں کیا ہے۔ لیکن امام بخاری نے اس کا زمانہ ٔ وقوع ۷ ھ بتایا ہے اور چونکہ اس غزوے میں حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما نے شرکت کی تھی ، لہٰذا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ غزوہ ، غزوہ ٔ خیبر کے بعد پیش آیا تھا۔ (مہینہ غالباً ربیع الاول کا تھا۔ ) کیونکہ حضرت ابو ہریرہؓ اس وقت مدینہ پہنچ کر حلقہ بگوش اسلا م ہوئے تھے جب رسول اللہﷺ خیبر کے لیے مدینہ سے جاچکے تھے۔ پھر حضرت ابو ہریرہؓ مسلمان ہوکر سیدھے خدمت نبویﷺ میں خیبر پہنچے اور جب پہنچے تو خیبر فتح ہوچکا تھا۔ اسی طرح حضرت ابو موسیٰ اشعری حبش سے اس وقت خدمت ِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں پہنچے تھے جب خیبر فتح ہوچکا تھا۔ لہٰذا غزوہ ذات الرقاع میں ان دونوں صحابہ کی شرکت اس بات کی دلیل ہے کہ یہ غزوۂ خیبر کے بعد ہی کسی وقت پیش آیا تھا۔
اہلِ سِیر نے اس غزوے کے متعلق جو کچھ ذکر کیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ نبیﷺ نے قبیلہ اَنمار یا بنو غطفان کی دوشاخوں بنی ثعلبہ اور بنی محارب کے اجتماع کی خبر سن کر مدینہ کا انتظام حضرت ابوذر یا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما کے حوالے کیا اور جھٹ چار سو یا سات سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معیت میں بلادِ نجد کا رخ کیا۔ پھر مدینہ سے دودن کے فاصلے پر مقام نخل پہنچ کر بنو غطفان کی ایک جمعیت سے سامنا ہوا لیکن جنگ نہیں ہوئی۔ البتہ آپﷺ نے اس موقع پر صلوٰۃ ِ خوف (حالتِ جنگ والی نماز) پڑھائی۔ بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ نماز کی اقامت کہی گئی۔ اور آپﷺ نے ایک گروہ کو دو رکعت نماز پڑھائی۔ پھر وہ پیچھے چلی گئی۔ اور آپﷺ نے دوسرے گروہ کو دورکعت نماز پڑھائی۔ یوں رسول اللہﷺ کی چار رکعتیں ہوئیں۔ اور قوم کی دورکعتیں۔ (صحیح بخاری ۱/۴۰۷ ، ۴۰۸ ، ۲/۵۹۳)
صحیح بخاری میں حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے مروی ہے کہ ہم لوگ رسول اللہﷺ کے ہمراہ نکلے۔ ہم چھ آدمی تھے اور ایک ہی اونٹ تھا جس پر باری باری سوار ہوتے تھے۔ اس سے ہمارے قدم چھلنی ہوگئے۔ میرے بھی دونوں پاؤںزخمی ہوگئے اورناخن جھڑ گیا۔ چنانچہ ہم لوگ اپنے پاؤں پر چیتھڑے لپیٹے رہتے تھے۔ اسی لیے اس کا نام ذات الرقاع (چیتھڑوں والا ) پڑ گیا۔ کیونکہ ہم نے اس غزوے میں اپنے پاؤں پر چیتھڑے اور پٹیاں باندھ اور لپیٹ رکھی تھیں۔( صحیح بخاری : باب غزوۃ ذات الرقاع ۲/۵۹۲ صحیح مسلم : باب غزوۃ ذات الرقاع ۲/۱۱۸)
اور صحیح بخاری ہی میں حضرت جابرؓ سے یہ روایت ہے کہ ہم لوگ ذات الرقاع میں نبیﷺ کے ہمراہ تھے۔ (دستور یہ تھا کہ ) جب ہم کسی سایہ دار درخت پر پہنچتے تو اسے نبیﷺ کے لیے چھوڑ دیتے تھے۔ (ایک بار) نبیﷺ نے پڑاؤ ڈالا اور لوگ درخت کا سایہ حاصل کرنے کے لیے اِدھر اُدھر کانٹے دار درختوں کے درمیان بکھر گئے۔ رسول اللہﷺ بھی ایک درخت کے نیچے اُترے اور اسی درخت سے تلوار لٹکا کر (سوگئے )۔ حضر ت جابر فرماتے ہیں کہ ہمیں بس ایک نیند آئی تھی کہ اتنے میں ایک مشرک نے آکر رسول اللہﷺ کی تلوار سونت لی اور بولا : تم مجھ سے ڈرتے ہو؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا : تب تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ نے فرمایا : اللہ!
ابو عوانہ کی روایت میں اتنی تفصیل اور ہے کہ (جب آپﷺ نے اس کے سوال کے جوا ب میں اللہ کہا تو ) تلوار اس کے ہاتھ سے گر پڑی۔ پھر وہ تلوار رسول اللہﷺ نے اٹھا لی اور فرمایا: اب تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟ اس نے کہا : آپ اچھے پکڑنے والے ہویئے۔ (یعنی احسان کیجیے ) آپﷺ نے فرمایا : تم شہادت دیتے ہوکہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ اس نے کہا : میں آپﷺ سے عہد کرتا ہوں کہ آپﷺ سے لڑائی نہیں کروں گا اور نہ آپﷺ سے لڑائی کرنے والوں کا ساتھ دوںگا۔ حضرت جابر کا بیان ہے کہ اس کے بعد آپﷺ نے اس کی راہ چھوڑ دی اور اس نے اپنی قوم میں جاکر کہا :میں تمہارے یہاں سب سے اچھے انسان کے پاس سے آرہا ہوں۔( مختصر السیرۃ شیخ عبداللہ نجدی ص ۲۶۴، نیز دیکھئے: فتح الباری ۷/۴۱۶)
اس غزوے کے مباحث کی تفصیلات کے لیے دیکھئے: ابن ہشام ۲/۲۰۳ تا ۲۰۹ ، زاد المعاد ۲/۱۱۰ ، ۱۱۱، ۱۱۲، فتح الباری ۷/۴۱۷ تا ۴۲۸)
سنگ دل اعراب کو مرعوب اور خوفزدہ کرنے میں اس غزوے کا بڑا اثر رہا۔ ہم اس غزوے کے بعد پیش آنے والے سرایاکی تفصیلات پر نظر ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ غطفان کے ان قبائل نے اس غزوے کے بعد سر اٹھانے کی جرأت نہ کی بلکہ ڈھیلے پڑتے پڑتے سپر انداز ہوگئے اور بالآخر اسلام قبول کرلیا، حتیٰ کہ ان اعراب کے کئی قبائل ہم کو فتح مکہ اور غزوۂ حنین میں مسلمانوں کے ساتھ نظر آتے ہیں اور انہیں غزوہ ٔ حنین کے مالِ غنیمت سے حصہ دیا جاتا ہے۔ پھر فتح مکہ سے واپسی کے بعد ان کے پاس صدقات وصول کرنے کے لیے اسلامی حکومت کے عمال بھیجے جاتے ہیں اور وہ باقاعدہ اپنے صدقات ادا کرتے ہیں۔ غرض اس حکمت عملی سے وہ تینوں بازوٹوٹ گئے جو جنگ ِ خندق میں مدینہ پر حملہ آور ہوئے تھے۔ اور اس کی وجہ سے پورے علاقے میں امن وسلامتی کا دور دورہ ہوگیا۔ اس کے بعد بعض قبائل نے بعض علاقوں میں جو شور وغوغا کیا اس پر مسلمانوں نے بڑی آسانی سے قابو پالیا۔ بلکہ اسی غزوے کے بعد بڑے بڑے شہروں اور ممالک کی فتوحات کا راستہ ہموار ہونا شروع ہوا، کیونکہ اس غزوے کے بعد اندرون ملک حالات پوری طرح اسلام اور مسلمانوں کے لیے سازگار ہوچکے تھے۔

مکمل تحریر >>

غزوہ وادی القری


رسول اللہﷺ خیبر سے فارغ ہوئے تو وادی القریٰ تشریف لے گئے۔ وہاں بھی یہود کی ایک جماعت تھی۔ اور ان کے ساتھ عرب کی ایک جماعت بھی شامل ہوگئی تھی۔جب مسلمان وہاں اترے تو یہود نے تیروں سے استقبال کیا۔ وہ پہلے سے صف بندی کیے ہوئے تھے۔ رسول اللہﷺ کا ایک غلام مارا گیا۔ لوگوں نے کہا: اس کے لیے جنت مبارک ہو۔ نبیﷺ نے فرمایا : ہرگز نہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس نے جنگ خیبر میں مالِ غنیمت کی تقسیم سے پہلے اس میں سے جو چادر چرائی تھی وہ آگ بن کر اس پر بھڑک رہی ہے۔ لوگوں نے نبیﷺ کا یہ ارشاد سنا تو ایک آدمی ایک تسمہ یا دو تسمہ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبیﷺ نے فرمایا : یہ ایک تسمہ یادوتسمہ آگ کا ہے۔( صحیح بخاری ۲/۶۰۸)
اس کے بعد نبیﷺ نے جنگ کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ترتیب اور صف بندی کی۔ پورے لشکر کا عَلَم حضرت سعد بن عُبادہؓ کے حوالے کیا۔ ایک پرچم حُبابؓ بن مُنذر کو دیا اور تیسرا پر چم عُبادہ بن بشر کو دیا اس کے بعد آپﷺ نے یہود کو اسلام کی دعوت دی۔ انہوں نے قبول نہ کیا۔ اور ان کا ایک آدمی میدانِ جنگ میں اترا۔ ادھر سے حضرت زبیر بن عوامؓ نمودار ہوئے۔ اور اس کاکام تمام کردیا۔ پھر دوسرا آدمی نکلا۔ حضرت زبیرؓ نے اسے بھی قتل کردیا۔ اس کے بعد ایک اور آدمی میدان میں آیا۔ اس کے مقابلے کے لیے حضرت علی ؓ نکلے اور اسے قتل کردیا۔ اس طرح رفتہ رفتہ ان کے گیارہ آدمی مارے گئے، جب ایک آدمی مارا جاتا تو نبیﷺ باقی یہودیو ں کو اسلام کی دعوت دیتے۔
اس دن جب نماز کا وقت ہوتا تو آپﷺ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نمازپڑھاتے اور پھر پلٹ کر یہود کے بالمقابل چلے جاتے اور انہیں اسلام ، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت دیتے۔ اس طرح لڑتے لڑتے شام ہوگئی۔ دوسرے دن صبح آپﷺ پھر تشریف لے گئے۔ لیکن ابھی سورج نیزہ برابر بھی بلند نہ ہوا ہوگا کہ ان کے ہاتھ میں جو کچھ تھا اسے آپﷺ کے حوالے کردیا۔ یعنی آپ نے بزورِ قوت فتح حاصل کی اور اللہ نے ان کے اموال آپﷺ کو غنیمت میں دیے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بہت سارا سازوسامان ہاتھ آیا۔
رسول اللہﷺ نے وادیٔ القریٰ میں چار روز قیام فرمایا۔ اور جو مال ِ غنیمت ہاتھ آیا اسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تقسیم فرما دیا۔ البتہ زمین اور کھجور کے باغات کو یہود کے ہاتھ میں رہنے دیا۔ اوراس کے متعلق ان سے بھی (اہل ِ خیبر جیسا) معاملہ طے کر لیا۔( زاد المعاد ۲/۱۴۶ ، ۱۴۷)
تَیْمَاء:
تیماء کے یہودیوں کو جب خیبر ، فدک اور وادی القری کے باشندوں کے سپر انداز ہونے کی اطلاع ملی تو انہوں نے مسلمانوں کے خلاف کسی قسم کی محاذ آرائی کا مظاہر کرنے کے بجائے از خود آدمی بھیج کر صلح کی پیش کش کی۔ رسول اللہﷺ نے ان کی پیشکش قبول فرمالی۔ اور یہ یہود اپنے اموال کے اندر مقیم رہے۔اس کے متعلق آپ نے ایک نوشتہ بھی تحریر فرمادیا جو یہ تھا :
''یہ تحریر ہے محمد رسول اللہ کی طرف سے بنو عادیا کے لیے۔ ان کے لیے ذمہ ہے۔ اور ان پر جزیہ ہے ان پر نہ زیادتی ہوگی نہ انہیں جلاوطن کیاجائے گا۔ رات معاون ہوگی اور دن پختگی بخش ( یعنی یہ معاہدہ دائمی ہوگا ) اور یہ تحریر خالد بن سعید نے لکھی۔''(زاد المعاد ۲/۱۴۷، ابن سعد ۲/۲۷۹ )

اس کے بعد رسول اللہﷺ نے مدینہ واپسی کی راہ لی۔ خیبر کے معرکوں کی تفصیلات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نبیﷺ کی واپسی یا تو ( ۷ھ کے ) صفر کے اخیر میں ہوئی تھی یا پھر ربیع الاول کے مہینے میں۔

مکمل تحریر >>

متفرق واقعات


اسی غزوے میں حضرت جعفر بن ابی طالبؓ خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے ان کے ساتھ اشعری مسلمان یعنی حضرت ابو موسیٰ اور ان کے رفقاء بھی تھے۔ رضی اللہ عنہم ۔
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کا بیان ہے کہ یمن میں ہمیں رسول اللہﷺ کے ظہور کا علم ہوا تو ہم لوگ یعنی میں اور میرے دوبھائی اپنی قوم کے پچاس آدمیوں سمیت اپنے وطن سے ہجرت کر نے کے لیے ایک کشتی پر سوار آپﷺ کی خدمت میں روانہ ہوئے۔ لیکن ہماری کشتی نے ہمیں نجاشی کے ملک حبشہ میں پھینک دیا۔ وہاں حضرت جعفر اور ان کے رفقاء سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں بھیجا ہے۔ اور یہیں ٹھہر ے رہنے کا حکم دیا ہے اور آپ لوگ بھی ہمارے ساتھ ٹھہر جایئے۔ چنانچہ ہم لوگ بھی ان کے ساتھ ٹھہر گئے۔ اور خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس وقت پہنچ سکے جب آپﷺ خیبر فتح کرچکے تھے۔ آپﷺ نے ہمارا بھی حصہ لگایا لیکن ہمارے علاوہ کسی بھی شخص کا جو فتح خیبر میں موجود نہ تھا ،کوئی حصہ نہیں لگایا۔ صرف شرکاء ِ جنگ ہی کا حصہ لگایا۔ البتہ حضرت جعفرؓ اور ان کے رفقاء کے ساتھ ہماری کشتی والوں کا بھی حصہ لگایا۔ اور ان کے لیے بھی مال غنیمت تقسیم کیا۔( صحیح بخاری ۱/۴۴۳ دیکھئے فتح الباری ۷/۴۸۴ تا ۴۸۷)
اور جب حضرت جعفرؓ نبیﷺ کی خدمت میں پہنچے تو آپﷺ نے ان کا استقبال کیا۔ اور انھیں چوم کر فرمایا: واللہ! میں نہیں جانتا کہ مجھے کس بات کی خوشی زیادہ ہے۔ خیبر کے فتح کی یاجعفر کی آمد کی۔( زاد المعاد ۲/۱۳۹ ، المعجم الصغیر للطبرانی ۱/۱۹)
یاد رہے کہ ان لوگوں کو بلانے کے لیے رسول اللہﷺ نے حضرت عَمرو بن اُمیہ ضمری کو نجاشی کے پاس بھیجا تھا اور اس سے کہلوایا تھا کہ وہ ان لوگوں کو آپ کے پا س روانہ کرے۔ چنانچہ نجاشی نے دوکشتیوں پر سوار کرکے انہیں روانہ کردیا۔ یہ کل سولہ آدمی تھے اور ان کے ساتھ ان کے باقی ماندہ بچے اور عورتیں بھی تھیں۔ بقیہ لوگ اس سے پہلے مدینہ آچکے تھے۔( تاریخ خضری ۱/۱۲۸)

فدک:
رسول اللہﷺ نے خیبرپہنچ کر مُحیّصَہ بن مسعودؓ کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے فدک کے یہود کے پاس بھیج دیا تھا۔ لیکن اہل ِ فدک نے اسلام قبول کرنے میں دیر کی۔ مگر جب اللہ نے خیبر فتح فرمادیاتو ان کے دلوں میں رعب پڑگیا۔ اور انہوں نے رسول اللہﷺ کے پاس آدمی بھیج کر اہل ِ خیبر کے معاملہ کے مطابق فدک کی نصف پیداواردینے کے شرائط پر مصالحت کی پیشکش کی۔ آپ نے پیشکش قبول کرلی اور متفقہ طور پر فدک کی سرزمین خالص رسول اللہﷺ کے لیے ہوئی کیونکہ مسلمانوں نے اس پر گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے تھے۔ (ابن ہشام ۲/۳۳۷ ، ۳۵۳)(یعنی اسے بزور شمشیر فتح نہیں کیا تھا) فد ک کا موجودہ نام حائط ہے جو حائل کے منطقہ میں واقع ہے۔ اور مدینہ سے کم وبیش ،ڈھائی سو کلو میٹر دور ہے۔
جنگ ِ خیبر میں فریقین کے مقتولین
خیبر کے مختلف معرکوں میں کل مسلمان جو شہید ہوئے ان کی تعداد سولہ ہے۔ چار قریش سے ، ایک قبیلہ اشجع سے ، ایک قبیلہ اسلم سے، ایک اہل خیبر سے ، اور بقیہ انصار سے۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ ان معرکوں میں کل ۱۸ مسلمان شہید ہوئے۔ علامہ منصور پوری نے ۱۹ لکھا ہے۔ پھر وہ کہتے ہیں: ''اہل سیر نے شہدائے خیبر کی تعداد پندرہ لکھی ہے۔ مجھے تلاش کرتے ہوئے ۲۳ نام ملے ... زنیف بن وائلہ کا نام صرف واقدی نے اور زنیف بن حبیب کا نام صرف طبری نے لیا ہے۔ بشر بن براء بن معرور کا انتقال خاتمہ جنگ کے بعد زہر آلود گوشت کھانے سے ہوا جو نبیﷺ کے لیے زینب یہودیہ نے بھیجا تھا۔ بشر بن عبد المنذر کے بارے میں دو روایا ت ہیں۔ [۱] بدر میں شہید ہوئے۔ [۲] جنگ خیبر میں شہید ہوئے۔ میرے نزدیک روایتِ اوّل قوی ہے۔( رحمۃ للعالمین ۲/۲۶۸، ۲۶۹ ، ۲۷۰)
دوسرے فریق، یعنی یہود کے مقتولین کی تعداد ۹۳ ہے۔
مکمل تحریر >>

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دینے کی کوشش


خیبر کی فتح کے بعد جب رسول اللہﷺ مطمئن اور یکسوہوچکے تو سلام بن مشکم کی بیوی زینب بنت حارث نے آپ کے پاس بھُنی ہوئی بکری کا ہدیہ بھیجا۔ اس نے پوچھ رکھا تھا کہ رسول اللہﷺ کو ن ساعضو زیادہ پسند کرتے ہیں ؟ اور اسے بتایا گیا تھا کہ دستہ ، اس لیے اس نے دستے میں خوب زہر ملادیا تھا۔ اور اس کے بعد بقیہ حصہ بھی زہر آلود کردیا تھا۔ پھر اسے لے کروہ رسول اللہﷺ ؑ کے پاس آئی۔ اور آپﷺ کے سامنے رکھا تو آپ نے دستہ اُٹھاکر اس کاایک ٹکڑا چبایا۔ لیکن نگلنے کے بجائے تھوک دیا۔ پھر فرمایا کہ یہ ہڈی مجھے بتلارہی ہے کہ اس میں زہر ملایا گیا ہے۔ اس کے بعد آپﷺ نے زینب کو بلایا تو اس نے اقرار کرلیا۔ آپﷺ نے پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا ؟ اس نے کہا : میں نے سوچا کہ اگر یہ بادشاہ ہے تو ہمیں اس سے راحت مل جائے گی۔ اور اگر نبی ہے تو اسے خبر دے دی جائے گی۔ اس پر آپﷺ نے اسے معاف کردیا۔
اس موقع پر آپﷺ کے ساتھ حضرت بشر بن براء بن معرورؓ بھی تھے، انہوں نے ایک لقمہ نگل لیا تھا۔ جس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوگئی۔
روایات میں اختلاف ہے کہ آپ نے اس عورت کو معاف کردیا تھایاقتل کردیا تھا۔ تطبیق اس طرح دی گئی ہے کہ پہلے تو آپ نے معاف کردیا لیکن جب حضرت بشرؓ کی موت واقع ہوگئی تو پھر قصاص کے طور پر قتل کردیا۔( زاد المعاد ۲/۱۳۹، ۱۴۰ فتح الباری ۷/۴۹۷ اصل واقعہ صحیح البخاری میں مطولاً اور مختصراً دونوں طرح مروی ہے۔ دیکھئے: ۱/۴۴۹ ، ۲/۶۱۰، ۸۶۰نیز ابن ہشام ۲/۳۳۷،۳۳۸)

مکمل تحریر >>

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح اور ملحدین کا اعتراز


اعتراض : ایک خاتون جس كے باپ، بھائی اور شوہر كوجنگ میں محمد [صلی اللہ علیہ وسلم] كے لشكر كے ہاتھوں قتل كردیا گیا ہو، اسی دن كے آخری حصے میں وہ اپنے آپ كو ان سب كے قاتل كے ساتھ پائے تو اس كے دل پر كیا گزرتی ہوگی؟ اس سے میرا اشارہ صفیہ بنت حیی [رضی اللہ عنہا] كی طرف ہے! كوئی ہستی جو ربوبیت كی مالك ہو، كبھی اس كا حكم نہیں دے سكتی، میرا تو یہی خیال ہے كہ یہ قصہ پوری طرح من گھڑت ہے، میری طرح آپ بھی كچھ غور كریں!

جواب:

تمام تعریف اللہ كے لئے ہے۔
چند حقائق جو ام المومنین صفیہ رضی اللہ عنہا كے قصے سے متعلق ہیں، پیش خدمت ہیں:

صفیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے قید کیے جانے سے بے انتہا فائدہ حاصل کیا، یہی کیا کم ہے کہ آپ دولت ایمان سے بہریاب ہوئیں اور اس غلامی کے ذریعے اللہ نے آپ کو کفر سے نجات عطا فرمائی.
اسلام کے بعد آپ کے شرف وفضیلت کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہوگی کہ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زوجیت سے مشرف ہوکر پوری امت مسلمہ کی ماں قرار پائیں.
مزید برآں اللہ نے آپ کے حق میں ایسے فضائل جمع فرما دئیے جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی دیگر ازواج مطہرات کو بھی حاصل نہیں تھے! اور وہ یہ کہ آپ ایک نبی کی نسل سے تھیں، ایک نبی آپ کے چچا لگتے تھے، اور ایک نبی آپ کے شوہر!

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صفیہ رضی اللہ عنہا تک یہ بات پہنچی کہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپ کے بارے ‘یہودی کی بیٹی’ کی بھپتی کسی!! اس پر آپ رو پڑیں، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور انہیں روتے ہوئے پایا تو استفسار فرمایا کہ کیوں رو رہی ہو؟ تو عرض گزار ہوئیں کہ حفصہ[رضی اللہ عنہا] نے مجھے یہودی کی بیٹی کہا.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمانے لگے کہ تم تو ایک نبی کی بیٹی ہو [یعنی نبی کی نسل سے ہو]، ایک نبی تمہارے چچا لگتے ہیں، اور ایک نبی کی زوجیت میں ہو؛ تو وہ کس بات پر تم پر فخر جتاتی ہے؟

پھر فرمایا : حفصہ! اللہ سے ڈرو!

{ ترمذی ( 3894) نے اسے روایت کیا ہے اور اس کو صحیح قرار دیا ہے. }

لہذا صفیہ رضی اللہ عنہا ہارون بن عمران علیہ السلام کی نسل سے تھیں، اس لحاظ سے موسی بن عمران علیہ السلام آپ کے چچا ہوئے، اور آپ ایسے نبی کی زوجیت میں آئیں جو سب سے افضل انسان ہیں، محمد بن عبداللہ علیہ الصلاة والسلام.

[ یہ کہنا کہ جس دن صفیہ رضی اللہ عنہا کے باپ وغیرہ کو قتل کیا گیا اسی رات کو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آپ كے بستر پر تھیں سراسر بہتان ہے] نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا سے اس وقت تک ہمبستری نہیں کی جب تک ان کی عدت پوری نہیں ہوگئی.
انس ابن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر تشریف لائے. پھر جب اللہ نے آپ کو قلعے پر فتح عطا فرمائی تو آپ کے سامنے صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہا کی خوبصورتی کا ذکر کیا گیا، جن کا شوہر قتل کر دیا گیا تھا جبکہ وہ ابھی نئی نئی دلہن تھیں. چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے لئے منتخب فرما لیا. پھر آپ انہیں لے کر روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب آپ سد الروحاء کے مقام پر پہنچے تو صفیہ حلال ہوگئیں لہذا تب آپ نے ان كے ساتھ خلوت اختیار فرمائی ….

{ بخاری نے اسے روایت کیا ہے (2120)}

ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں: “حلال ہوئیں” یعنی حیض سے پاک ہوئیں.

{ “فتح الباری” ( 7 / 480 ) }

[واضح رہے کہ عدت کی تحدید شریعت نے حیض کے ذریعے کی ہے]

مسلم( 1365 ) کے یہاں انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (جس میں ہے کہ) پھر آپ نے انہیں (یعنی صفیہ رضی اللہ عنہا کو) ام سلیم کے حوالے کردیا تاکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے انہیں تیار کریں، ان کا بناؤ سنگھار کریں اور اس لیے کہ وہ(صفیہ) ان(ام سُلَیم) کے گھر اپنی عدت گزاریں.

نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں : جہاں تک بات ہے عدت گزارنے کی تو اس سے مراد استبراء رحم ہے [یعنی ایک حیض آنے تک انتظار کر کے اس بات کا تحقیق کرنا کہ حاملہ تو نہیں] اس لئے کہ وہ جنگ میں قید کی گئی تھیں جن کا استبراء واجب تھا، اس استبراء کی مدت میں آپ نے ان کو ام سلیم کے گھر رکھا. پھر جب استبراء مکمل ہوگیا تو ام سلیم نے انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا یعنی بناؤ سنگھار کر کے انہیں دلہن بنایا، گودنے اور نقلی بال جوڑنے جیسے جو ممنوع امور کے علاوہ جو زینت کے جائز طریقے ہیں ان سے.

{ “شرح مسلم” ( 9 / 222 ).}

اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک صفیہ رضی اللہ عنہا سے صحبت نہیں کی جب تک کہ انہوں نے اپنے اسلام کا اعلان نہیں کردیا، اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کرنے كے بعد [ان سے نکاح كیا، تب جاكر] ہی ان کے ساتھ شب باشی فرمائی. [اور یہ اسلام اور یہ نكاح سب ظاہر ہے كہ شریعت كے عین مطابق یعنی برضا ورغبت ہوا]۔
لہذا جس وقت آپ نے ان سے جماع كیا اس وقت وہ نہ تو یہودی تھیں نہ ہی کوئی باندی! بلكہ وہ آپ كی بیوی تھیں، جنہیں آپ نے مہر دیا تھا، اور ان كی آزادی ہی ان كا مہر تھی [كیونكہ آزادی مال كے عوض ہوتی ہے، لہذا یہ ایك باقاعدہ مالی انتفاع ہے۔] اور یہی نہیں بلكہ ان كی شادی كے ولیمے کا بھی اہتمام کیا تھا۔۔۔

ابراهيم بن جعفر اپنے والد سے روایت كرتے ہیں، وہ كہتے ہیں: جب صفیہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آئیں تو آپ نے ان سے كہا: “تمہارے والد برابر میرے سخت ترین یہودی دشمنوں میں سے رہے، یہاں تك كہ اللہ نے انہیں ہلاک كردیا۔”

عرض گزار ہوئیں كہ اے اللہ كے رسول! اللہ اپنی كتاب میں فرماتا ہے ( ولا تزر وازرة وزر أخرى ) [الأنعام/ 164] “كوئی بوجھ اٹھانے والا كسی دوسرے كا بوجھ نہیں اٹھائے گا”۔ [یعنی جس نے کیا ہے وہی بھرے گا بھی، نہ کہ کوئی اور]پھر اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا: ” فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے، اگر تم اسلام قبول كرلو تو میں تمہیں اپنے پاس ہی روک لوں گا، اور اگر تم یہودیت پر برقرار رہنا چاہو، تو ایسا ہے كہ میں تمہیں آزاد كیے دیتا ہوں، تم اپنی قوم كے پاس چلی جاؤ۔”عرض كی کہ اے اللہ کے رسول! میں تو آپ کے دعوت دینے کے پہلے ہی سے اسلام کی مشتاق تھی اور دل سے آپ کی تصدیق کرچکی تھی. جب میں آپ کے گھر آئی ہوں تب بھی مجھے یہودیت میں کوئی رغبت نہیں تھی. اور اب تو نہ ان میں کوئی میرا باپ ہے نہ بھائی. آپ نے مجھے کفر واسلام کے درمیان اختیار دیا ہے تو (میرا فیصلہ یہ ہے کہ ) اللہ اور اس کے رسول مجھے آزادی اور اپنی قوم میں لوٹنے سے زیادہ عزیز ہیں! راوی کہتے ہیں : چنانچہ اللہ کے رسول نے انہیں اپنے لئے ہی روک لیا.

(” الطبقات الكبرى ” ( 8 / 123 ) )

[یہ روایت اور اس میں مذكور یہ فراخ دلانہ پیشكش اور صفیہ رضی اللہ عنہا كا جواب مخالفین كے اعتراضات كے محل كو زمیں بوس كردینے كے لئے كافی ہے، اس سے صاف ظاہر ہے كہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے اپنی خوشی سے اسلام قبول كیا تھا اور برضا ورغبت آپ كے پاس رہنے كے لئے آمادگی ظاہر كی تھی، حالانكہ اس وقت تك آپ نے ان پر یہ ظاہر نہیں فرمایا تھا كہ آپ انہیں آزاد فرماكر باقاعدہ ام المؤمنین بنا دیں گے۔ پھر بھی صفیہ رضی اللہ عنہا نے آزادی اور اپنی قوم پر رسول اللہ كی غلامی كو ترجیح دی!]

اسی طرح انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر تشریف لائے….[درمیان كا حصہ اوپر مذكور ہے]… پھر آپ انہیں رخصت کرا کر لائے اور ان کے ساتھ شب زفاف منائی . اس کے بعد آپ نے ایک چھوٹے ‘نطع’ [دسترخوان] میں ‘حیس’ تیار کیا پھر فرمایا کہ اپنے آس پاس والوں کو اطلاع دے دو. تو یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا. پھر ہم اس کے بعد مدینہ کے لیے روانہ ہوئے. انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صفیہ رضی اللہ عنہا کے لیے اپنے آگے ایک عبا کو اونٹ کے کوہان کے گرد لپیٹ کر نشست گاہ بنا رہے ہیں. پھر (كیا دیكھتا ہوں كہ) آپ اونٹ كے پاس بیٹھ رہے ہیں، اور اپنا گھٹنا پیش كردیتے ہیں، اور صفیہ رضی اللہ عنہا زانوئے مبارك پر پیر ركھ كر سوار ہوجاتی ہیں!!!

{ بخاری نے اسے روایت کیا ہے (2120)}

“فبنی بھا” [يہ الفاظ اصل حدیث میں آئے ہیں]: یعنی ان كے پاس گئے، ‘بناء’ كا مطلب بیوی كے ساتھ خلوت میں ہونا، یا بیوی سے پہلی ملاقات کرنا ہوتا ہے [اسی كا ترجمہ شب زفاف منانے یا خلوت میں ہونے سے كیا گیا ہے]، “حیس”: كھجور، پنیر اور گھی کا مركب ہوتا ہے، یا یہ بھی كہا گیا ہے كہ كھجور اور ستو، یا كھجور اور گھی ملا كر بنتا ہے!

“نطع”: دباغت دی گئی کھالوں کو ایک ساتھ جوڑ کر بچھا دیا جاتا ہے اسے نطع کہتے ہیں. “اپنے آس پاس والوں کو اطلاع دے دو”: یعنی انہیں بتادو کہ وہ شادی کے ولیمے میں آجائیں. “یحوی”: [يہ لفظ اصل حدیث میں آیا ہے ] اونٹ کے کوہان کے گرد کپڑا لپیٹتے ہیں پھر اس پر سوار ہوتے ہیں.

نبی صلی اللہ علیہ وسلم كو اور اسلام كو صفیہ رضی اللہ عنہا كے باپ كی جانب سے جو كچھ (تكلیف یا نقصان) پہنچا تھا، آپ نے صفیہ رضی اللہ عنہا كو اس سے باخبر كردیا تھا، پھر آپ لگاتار انہیں اس كی خبر دیتے رہے، اور معذرت بھی كرتے رہے، یہاں تك كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے خلاف جو كچھ (غم وغصہ) ان كے دل میں تھا وه جاتا رہا۔۔۔ لہذا ایسا ہرگز نہیں تھا جیسا كہ كچھ بد طینت اور مفاد پرست جھوٹے لوگ اس واقعے كو بنا كر پیش كرتے ہیں كہ آپ نے ان كے ساتھ اس حال میں زندگی گزاری كہ وہ آپ سے ناراض تھیں، یا بغض ركھتی تھیں!! بلكہ ان كے اسلام لانے، ان سے شادی كرنے اور جو (غم وغصہ) ان كے دل میں تھا اس كے زائل ہونے كے بعد ہی آپ نے ان كو رفیقۂ حیات بنایا، حتی كہ آپ مسلمانوں کی ماں كے درجے اور مقام كی مستحق ہوئیں!!
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ … صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے نزدیک مبغوض ترین انسانوں میں سے تھے، اس لیے کہ انہوں نے میرے شوہر، باپ اور بھائی کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا. لیکن آپ لگاتار مجھ سے اس سلسلے میں معذرت کرتے رہے اور کہتے رہے : “تمہارا باپ عربوں کو میرے خلاف ورغلا کر مجھ پر چڑھا لایا [اشارہ ہے غزوہ احزاب کی طرف]، اور یہ کیا اور یہ کیا” یہاں تک کہ وہ (بغض) میرے دل سے دور ہو گیا.

{ اس کو ابن حبان نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے . (11/607) اور البانی نے اس کو حسن قرار دیا ہے . }

صفیہ (رضی اللہ عنہا ) نے پہلے سے ہی ایک خواب بھی دیکھ رکھا تھا، جس کی تعبیر ان کے یہودی شوہر نے یہ بیان کی تھی ان کی شادی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونے والی ہے .
چنانچہ عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: ……. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ کی آنکهوں پر ایک ہرا [چوٹ كا] نشان دیکھا . آپ نے ان سے پوچھا : صفیہ ! یہ ہرا نیل کیسا ہے ؟

انہوں نے کہا : میں ابن ابی حقیق کی گود میں سر رکھ کر سو رہی تھی . اسی دوران میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے ایک چاند میری گود میں آ کر گر گیا ہے . جب یہ خواب میں نے اس کو بتایا تو اس نے مجھے تهپڑ مار دیا اور بولا : تو یثرب (مدینے) کے بادشاہ کے خواب دیکھ رہی ہے! !!

{ اس کو ابن حبان نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے . (11/607) اور البانی نے اس کو حسن قرار دیا ہے . }

یہ ہے صفیہ رضی اللہ عنہا کے واقعے کی توضیح اور تفصیل! اللہ کرے کہ یہ موافقین کے لیے نفع بخش اور مخالفین کے لیے باعث ہدایت ہو!
واللہ اعلم.
اصل مضمون کا لنک:
http://islamqa.info/ar/165777

ترجمانی:مرزا احمد وسيم بیگ
عطاء الرحمن سنابلی
بشکریہ www.ilhaad.com

مکمل تحریر >>

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے شادی


ہم بتاچکے ہیں کہ جب حضرت صفیہؓ کا شوہر کنانہ بن ابی الحقیق اپنی بد عہدی کے سبب قتل کردیا گیا تو حضرت صفیہؓ قیدی عورتوں میں شامل کرلی گئیں.جب خیبر کے تمام قیدی جمع کیے گئےتودحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک لونڈی کی درخواست کی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انتخاب کرنے کی اجازت دے دی؛ انھوں نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کومنتخب کیا؛ لیکن ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں آکرعرض کی کہ آپ نے رئیسۂ بنونضیر وقریظہ کودحیہ کودے دیا، وہ توصرف آپ کے لیے سزاوار ہے، مقصود یہ تھا کہ رئیسۂ عرب کے ساتھ عام عورتوں کا سابرتاؤ ٹھیک نہیں؛ چنانچہ حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کوآپ نے دوسری لونڈی عنایت فرمائی اور صفیہ رضی اللہ عنہاکوآزاد کرکے خود نکاح کرلیا۔

(بخاری، كِتَاب الصَّلَاةِ،بَاب مَايُذْكَرُ فِي الْفَخِذِ۔ صحیح مسلم:۱/۵۴۶)
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کوباپ اور ماں دونوں کی جانب سے سیادت حاصل تھی، باپ کا نام حیی بن اخطب تھا، جوقبیلۂ بنونضیر کا سردار تھا اور ہارون علیہ السلام کی نسل میں شمار ہوتا تھا، ماں جس کا نام ضرد تھا، سموال رئیس قریظہ کی بیٹی تھی اور یہ دونوں خاندان (قریظہ اور نضیر) بنواسرائیل کے اُن تمام قبائل سے ممتاز سمجھے جاتے تھے؛ جنھوں نے زمانۂ دراز سے عرب کے شمالی حصوں میں سکونت اختیار کرلی تھی۔اس لیے حضور ﷺ نے انہیں اعزاز دیا ۔آپﷺ نے پہلے حضرت صفیہ پر اسلام پیش کیا۔ انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔ اس کے بعد آپﷺ نے انھیں آزاد کر کے ان سے شادی کرلی۔ اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دیا۔ مدینہ واپسی میں سدّ ِ صہباء پہنچ کر وہ(حیض سے پاک) حلال ہوگئیں۔ اس کے بعد ام سُلیم ؓ نے انھیں آپﷺ کے لیے آراستہ کیا۔ اور رات میں آپﷺ کے پاس رخصت کردیا۔ آپ نے دولہے کی حیثیت سے ان کے ہمراہ صبح کی۔ اور کھجور ، گھی اور ستو سان کر ولیمہ کھلایا۔ اور راستہ میں تین روز شبہائے عروسی کے طور پر ان کے پاس قیام فرمایا۔( صحیح بخاری ۱/۵۴، ۲/۶۰۴ ، ۶۰۶ زادا لمعاد ۲/۱۳۷)
اس موقع پر آپﷺ نے ان کے چہرے پر ہرا نشان دیکھا۔ دریافت فرمایا: یہ کیا ہے ؟ کہنے لگیں : یا رسول اللہ ! آپﷺ کے خیبر آنے سے پہلے میں نے خواب دیکھا تھا کہ چاند اپنی جگہ سے ٹوٹ کر میری آغوش میں آگرا ہے۔ واللہ ! مجھے آپﷺ کے معاملے کا کوئی تصور بھی نہ تھا لیکن میں نے یہ خواب اپنے شوہر سے بیان کیا تو اس نے میرے چہرے پر تھپڑ رسید کرتے ہوئے کہا : یہ بادشاہ جو مدینہ میں ہے تم اس کی آرزو کررہی ہو۔( ایضاً زاد المعاد ۲/۱۳۷۔ ابن ہشام ۲/۳۳۶)
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے مشہور واقعات میں حج کا سفر ہے، جوانھوں نے سنہ ۱۰ھ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ایامِ محاصرہ میں جوسنہ۳۵ھ میں ہوا تھا، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے اُن کی بے حدمدد کی تھی، جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ پرضروریاتِ زندگی مسدود کردی گئیں اور اُن کے مکان پرپہرہ بٹھادیا گیا تووہ خود خچر پرسوار ہوکر ان کے مکان کی طرف چلیں، غلام ساتھ تھا، اشترکی نظر پڑی توانھوں نے آکرخچر کومارنا شروع کیا، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہانے کہا: مجھ کوذلیل ہونے کی ضرورت نہیں، میں واپس جاتی ہوں، تم خچر کوچھوڑدو، گھرواپس آئیں توحضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کواس خدمت پرمامور کیا کہ وہ اُن کے مکان سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس کھانا اور پانی لے جاتے تھے۔
(اصابہ:۱/۱۲۷، بحوالہ ابن سعد)

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے چند حدیثیں مروی ہیں، جن کوامام زین العابدین رضی اللہ عنہ، اسحاق بن عبداللہ بن حارث، مسلم بن صفوان، کنانہ اور یزید بن معتب، صہیرہ بنت جیفر وغیرہ نے روایت کیا ہے۔
دیگر ازواج کی طرح حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بھی اپنے زمانہ میں علم کا مرکز تھیں؛ چنانچہ جب صہیر بنت جیفر حج کرکے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس مدینہ آئیں توکوفہ کی بہت سی عورتیں مسائل دریافت کرنے کی غرض سے بیٹھی ہوئی تھیں، صہیرہ کا بھی یہی مقصد تھا، اس لیے انھوں نے کوفہ کی عورتوں سے سوال کرائے، ایک فتویٰ نیند کے متعلق تھا، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے سنا توبولیں اہلِ عراق اِس مسئلہ کو اکثرپوچھتے ہیں۔
(مسند:۳/۳۳۷)
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک کنیز تھی، جوحضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جاکر ان کی شکایت کیا کرتی تھی؛ چنانچہ ایک دن کہا کہ ان میں یہودیت کا اثر آج تک باقی ہے، وہ یوم السبت کواچھا سمجھتی ہیں اور یہودیوں کے ساتھ صلہ رحمی کرتی ہیں، حضرت عمررضی اللہ عنہ نے تصدیق کے لیے ایک شخص کوبھیجا، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ یوم السبت کواچھا سمجھنے کی کوئی ضرورت نہیں، اس کے بدلے میں خدا نے ہم کوجمعہ کا دن عنایت فرمایا ہے؛ البتہ میں یہود کے ساتھ صلہ رحمی کرتی ہوں، وہ میرے خویش اور اقارب ہیں، اس کے بعد لونڈی کوبلاکر پوچھا کہ تونے میری شکایت کی تھی؟ بولی، ہاں! مجھ کوشیطان نے بہکادیا تھا، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا خاموش ہوگئیں اور اس کوآزاد کردیا۔
(اصابہ:۸/۱۲۷۔ زرقانی:۳/۲۹۶، بحوالہ ابن سعد)
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کوآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نہایت محبت تھی؛ چنانچہ جب آپ علیل ہوئے تونہایت حسرت سے بولیں: کاش! آپ کی بیماری مجھ کوہوجاتی، ازواج نے ان کی طرف دیکھنا شروع کیا توآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سچ کہہ رہی ہیں، یعنی اس میں تصنع کا شائبہ نہیں ہے۔
(زرقانی:۱۳/۲۹۶)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ کسی بات پرکبیدہ خاطر ہوگئے، یہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور اُن سے کہا کہ میں آپ کوآج کی اپنی باری، جومیرے نزدیک سب سے محبوب چیز ہے، دیتی ہوں، آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوراضی کردیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہاری باری کا دن نہیں ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے، اس کے بعد واقعہ بیان کیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کرحضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے راضی ہوگئے۔
(مسند:۶/۱۴۵)
ایک بار آپ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے، دیکھا کہ رورہی ہیں، آپ نے رونے کا سبب پوچھا؛ انھوں نے کہا کہ عائشہ اور زینب کہتی ہیں کہ ہم تمام ازواج میں افضل ہیں، ہم آپ کی زوجہ ہونے کے ساتھ آپ کی چچازاد بہن بھی ہیں، آپ نے فرمایا تم نے یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ ہارون میرے باپ، موسیٰ میرے چچا اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) میریے شوہر ہیں، اس لیے تم لوگ کیونکر مجھ سے افضل ہوسکتی ہو۔
(صحیح ترمذی:۶۳۹)
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سیرچشم اور فیاض واقع ہوئی تھیں؛ چنانچہ جب وہ اُم المؤمنین بن کرمدینہ میں آئیں توحضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ازواجِ مطہرات کواپنی سونے کی بجلیاں تقسیم کیں۔
(زرقانی:۳/۲۹۶)
کھانا نہایت عمدہ پکاتی تھیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تحفہ بھیجا کرتی تھیں، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انھوں نے پیالہ میں جوکھانا بھیجا تھا اس کا ذکربخاری اور نسائی وغیرہ میں آیا ہے۔
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے رمضان سنہ۵۰ھ میں وفات پائی اور جنۃ البقیع میں دفن ہوئیں اس وقت ان کی عمر۶۷/ سال کی تھی،
(زرقانی:۳/۲۹۶)

مکمل تحریر >>

اموالِ غنیمت کی تقسیم


رسول اللہﷺ نے یہود کو خیبر سے جلاوطن کرنے کا ارادہ فرمایا تھا اور معاہدہ میں یہی طے بھی ہوا تھا۔ مگر یہود نے کہا : اے محمد ! ہمیں اسی سرزمین میں رہنے دیجیے۔ ہم اس کی دیکھ ریکھ کریں گے۔ کیونکہ ہمیں آپ لوگوں سے زیادہ اس کی معلومات ہیں۔ ادھر رسول اللہﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس اتنے غلام نہ تھے جو اس زمین کی دیکھ ریکھ اور جوتنے بونے کاکام کرسکتے اور نہ خود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اتنی فرصت تھی کہ یہ کام سر انجام دے سکتے۔ اس لیے آپ نے خیبر کی زمین اس شرط پر یہود کے حوالے کردی کہ ساری کھیتی اور تمام پھلوں کی پیداوار کا آدھا یہود کو دیا جائے گا۔ اور جب تک رسول اللہﷺ کی مرضی ہوگی اس پر برقرار رکھیں گے (اور جب چاہیں گے جلاوطن کردیں گے ) اس کے بعد حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ خیبر کی پیداوار کا تخمینہ لگایا کرتے تھے۔
خیبر کی تقسیم اس طرح کی گئی کہ اسے ۳۶ حصوں میں بانٹ دیا گیا۔ ہر حصہ ایک سو حصوں کا جامع تھا۔ اس طرح کل تین ہزار چھ سو (۳۶۰۰ ) حصے ہوئے۔ اس میں سے نصف، یعنی اٹھارہ سو حصے رسول اللہﷺ اور مسلمانوں کے تھے۔ عام مسلمانوں کی طرح رسول اللہﷺ کا بھی صرف ایک ہی حصہ تھا۔ باقی یعنی اٹھارہ سو حصوں پر مشتمل دوسرا نصف، رسول اللہﷺ نے مسلمانوں کی اجتماعی ضروریات و حوادث کے لیے الگ کر لیا تھا۔ اٹھارہ سو حصوں پر خیبر کی تقسیم اس لیے کی گئی کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل حدیبیہ کے لیے ایک عطیہ تھا۔ جو موجود تھے ان کے لیے بھی اور جو موجود نہ تھے ان کے لیے بھی۔ اور اہل حدیبیہ کی تعداد چودہ سو تھی۔ جو خیبر آتے ہوئے اپنے ساتھ دو سو گھوڑے لائے تھے۔ چونکہ سوار کے علاوہ خود گھوڑے کو بھی حصہ ملتا ہے۔ اور گھوڑے کا حصہ ڈبل، یعنی دو فوجیوں کے برابر ہوتا ہے۔ اس لیے خیبر کو اٹھارہ سو حصوں پر تقسیم کیا گیا تو دوسو شہ سواروں کو تین تین حصے کے حساب سے چھ سو ملے تھے۔ اور بارہ سو پیدل فوج کو ایک ایک حصے کے حساب سے بارہ سو حصے ملے۔( زاد المعاد ۲/۱۳۷، ۱۳۸ ، مع توضیح)
خیبر کے اموال غنیمت کی کثرت کا اندازہ صحیح بخاری میں مروی ابن عمرؓ کی اس روایت سے ہوتا ہے کہ انہوں نے فرمایا'' ہم لوگ آسودہ نہ ہوئے یہاں تک کہ ہم نے خیبر فتح کیا۔ ''نیز جب رسول اللہﷺ مدینہ واپس تشریف لائے تو مہاجرین نے انصار کو کھجوروں کے وہ درخت واپس کردیے جو انصار نے امداد کے طور پر انہیں دے رکھے تھے۔ کیونکہ اب ان کے لیے خیبر میں مال اور کھجور کے درخت ہوچکے تھے۔( زاد المعاد ۲/۱۴۸ صحیح مسلم ۲/۹۶)

مکمل تحریر >>

خیبر کے نصف ثانی کی فتح


نطاۃ اور شق کا علاقہ فتح ہوچکا تو رسول اللہﷺ نے کتیبہ ،و طیح اور سلالم کے علاقے کا رُخ کیا۔ سلالم بنو نضیر کے ایک مشہور یہودی ابو الحقیق کا قلعہ تھا۔ ادھر نطاۃ اور شق کے علاقے سے شکست کھا کر بھاگنے والے سارے یہودی بھی یہیں پہنچے تھے۔ اور نہایت ٹھوس قلعہ بندی کرلی تھی۔
اہل مغازی کے درمیان اختلاف ہے کہ یہاں کے تینوں قلعوں میں سے کسی قلعے پر جنگ ہوئی یا نہیں ؟ ابن اسحاق کے بیان میں یہ صراحت ہے کہ قلعہ قموص کو فتح کرنے کے لیے جنگ لڑی گئی۔ بلکہ اس کے سیاق سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ قلعہ محض جنگ کے ذریعے فتح کیاگیا اور یہودیوں کی طرف سے خودسپردگی کے لیے یہاں کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔( ابن ہشام ۲/۳۳۱، ۳۳۶ ،۳۳۷)
لیکن واقدی نے دوٹوک لفظوں میں صراحت کی ہے کہ اس علاقے کے تینوں قلعے بات چیت کے ذریعے مسلمانوں کے حوالے کیے گئے۔ ممکن ہے قلعہ قموص کی حوالگی کے لیے کسی قدر جنگ کے بعد گفت وشنید ہوئی ہو۔ البتہ باقی دونوں قلعے کسی جنگ کے بغیر مسلمانوں کے حوالے کیے گئے۔
جب رسول اللہﷺ اس علاقے - کتیبہ - میں تشریف لائے تو وہاں کے باشندوں کا سختی سے محاصرہ کیا۔ یہ محاصرہ چودہ روز جاری رہا۔ یہود اپنے قلعوں سے نکل ہی نہیں رہے تھے۔ یہاں تک کہ رسول اللہﷺ نے قصد فرمایا کہ منجنیق نصب فرمائیں۔ جب یہود کو تباہی کا یقین ہوگیا تو انہوں نے رسول اللہﷺ سے صلح کے لیے سلسلہ ٔ جنبانی کی۔
صلح کی بات چیت :
پہلے ابن ابی الحقیق نے رسول اللہﷺ کے پاس پیغام بھیجا کہ کیا میں آپﷺ کے پاس آکر بات چیت کرسکتا ہوں ؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں ! اور جب یہ جواب ملا تو اس نے آپﷺ کے پاس حاضر ہوکر اس شرط پر صلح کرلی کہ قلعے میں جو فوج ہے اس کی جان بخشی کردی جائے گی۔ اور ان کے بال بچے انہیں کے پاس رہیں گے۔ (یعنی انہیں لونڈی اور غلام نہیں بنایا جائے گا ) بلکہ وہ اپنے بال بچوں کو لے کر خیبر کی سر زمین سے نکل جائیں گے۔ اور اپنے اموال ، باغات ، زمینیں ، سونے ، چاندی، گھوڑے ، زرہیں ، رسول اللہﷺ کے حوالے کردیں گے۔ صرف وہ کپڑا لے جائیں گے جو انسان کی پشت پر ہوگا۔ (لیکن سنن ابو داؤد میں یہ صراحت ہے کہ آپ نے اس شرط پر معاہدہ کیا تھا کہ مسلمانوں کی طرف سے یہود کو اجازت ہوگی کہ خیبر سے جلاوطن ہوتے ہوئے اپنی سواریوں پر جتنا مال لادسکیں لے جائیں۔ (دیکھئے : ابو داؤد باب ما جاء فی حکم ارض خیبر ۲/۷۶)
رسول اللہﷺ نے فرمایاکہ اوراگر تم لوگوں نے مجھ سے کچھ چھپایا تو پھر اللہ اور اس کے رسول برئ الذمہ ہوں گے۔ یہود نے یہ شرط منظور کرلی اور مصالحت ہوگئی۔( زاد المعاد ۲/۱۳۶) اس مصالحت کے بعد تینوں قلعے مسلمانوں کے حوالے کردیے گئے۔ اور اس طرح خیبر کی فتح مکمل ہوگئی۔
کنانہ بن ابی الحقیق کو محمد بن مسلمہؓ کے حوالے کیا گیا اور انہوں نے محمود بن مسلمہ کے بدلے اس کی گردن ماردی (محمود سایہ حاصل کر نے کے لیے قلعہ ناعم کی دیوار کے نیچے بیٹھے تھے کہ اس شخص نے ان پر چکی کا پاٹ گراکر انہیں قتل کردیا تھا ).حیی بن اخطب کی صاحبزادی صفیہ یہاں کے قیدیوں میں شامل تھیں۔

مکمل تحریر >>

چار اہم قلعے فتح


قلعہ صعب بن معاذ کی فتح :
قلعہ ناعم کے بعد ، قلعہ صعب قوت وحفاظت کے لحاظ سے دوسرا سب سے بڑااور مضبوط قلعہ تھا۔ مسلمانوں نے حضرت حُباب بن منذر انصاریؓ کی کمان میں اس قلعہ پر حملہ کیا اور تین روز تک اسے گھیرے میں لیے رکھا۔ تیسرے دن رسول اللہﷺ نے اس قلعہ کی فتح کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ اسلم کی شاخ بنوسہم کے لوگ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ہم لوگ چور ہوچکے ہیں ... اور ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا : یا اللہ ! تجھے ان کا حال معلوم ہے، تو جانتا ہے کہ ان کے اندر قوت نہیں اور میرے پاس بھی کچھ نہیں کہ میں انہیں دوں۔ لہٰذا انہیں یہود کے ایسے قلعے کی فتح سے سرفروز فرماجو سب سے زیادہ کار آمد ہو۔ اور جہاں سب سے زیادہ خوراک اور چربی دستیاب ہو۔ اس کے بعد لوگوں نے حملہ کیا۔ اور اللہ عزوجل نے قلعہ صعب بن معاذ کی فتح عطافرمائی۔ خیبر میں کوئی ایسا قلعہ نہ تھا جہاںاس قلعے سے زیادہ خوراک اور چربی رہی ہو۔( ابن ہشام ۲/۳۳۲)
اور جب دعا فرمانے کے بعد نبیﷺ نے مسلمانوں کو اس قلعے پر حملے کی دعوت دی تو حملہ کرنے میں بنواسلم ہی پیش پیش تھے۔ یہاں بھی قلعے کے سامنے مبارزت اور مار کاٹ ہوئی۔ پھر اسی روز سورج ڈوبنے سے پہلے پہلے قلعہ فتح ہوگیا۔ اور مسلمانوں نے اس میں بعض منجنیق اور دبابے(لکڑی کا ایک محفوظ اور بند گاڑی نما ڈبہ بنایا جاتا تھا جس میں نیچے سے کئی آدمی گھس کر قلعے کی فصیل کو جاپہنچتے تھے اور دشمن کی زد سے محفوظ رہتے ہوئے فصیل میں شگاف کرتے تھے۔ یہی دبابہ کہلاتا تھا۔ اب ٹینک کو دبابہ کہا جاتا ہے۔)بھی پائے۔
ابن اسحاق کی اس روایت میں جس شدید بھوک کا تذکرہ کیا گیا ہے اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ لوگوں نے (فتح حاصل ہوتے ہی) گدھے ذبح کردیے۔ اور چولہوں پر ہنڈیاں چڑھادیں لیکن جب رسول اللہﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے گھریلو گدھے کے گوشت سے منع فرمادیا۔
قلعہ زبیر کی فتح :
قلعہ ناعم اور قلعہ صعب کی فتح کے بعد یہود ، نطاۃ کے سارے قلعوں سے نکل کر قلعہ زبیر میں جمع ہوگئے۔ یہ ایک محفوظ قلعہ تھا، اور پہاڑ کی چوٹی پر واقع تھا۔ راستہ اتنا پر پیچ اور مشکل تھا کہ یہاں نہ سواروں کی رسائی ہوسکتی تھی نہ پیادوں کی۔ اس لیے رسول اللہﷺ نے اس کے گرد محاصرہ قائم کیا۔ اور تین روز تک محاصرہ کیے پڑے رہے۔ اس کے بعد ایک یہودی نے آکر کہا : اے ابو القاسم ! اگر آپﷺ ایک مہینہ تک محاصرہ جاری رکھیں تو بھی انہیں کوئی پروا نہ ہوگی۔ البتہ ان کے پینے کاپانی اور چشمے زمین کے نیچے ہیں۔ یہ رات میں نکلتے ہیں پانی پی لیتے ہیں اور لے لیتے ہیں۔ پھر قلعہ میں واپس چلے جاتے ہیں۔ اور آپﷺ سے محفوظ رہتے ہیں۔ اگر آپ ان کا پانی بند کردیں تو یہ گھٹنے ٹیک دیں گے۔ اس اطلاع پر آپ نے ان کا پانی بند کردیا۔ اس کے بعد یہود نے باہر آکر زبردست جنگ کی جس میں کئی مسلمان مارے گئے اور تقریباً دس یہودی بھی کام آئے لیکن قلعہ فتح ہوگیا۔
قلعہ ابی کی فتح:
قلعہ زبیر سے شکست کھانے کے بعد یہود ، حصنِ ابی میں قلعہ بند ہوگئے۔ مسلمانوں نے اس کا بھی محاصرہ کرلیا۔ اب کی بار دوشہ زور اور جانباز یہودی یکے بعد دیگرے دعوت ِ مبارزت دیتے ہوئے میدان میں اترے۔ اور دونوں ہی مسلمان جانبازوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ دوسرے یہودی کے قاتل سُر خ پٹی والے مشہور جانفروش حضرت ابو دجانہ سماک بن خرشہ انصاریؓ تھے۔ وہ دوسرے یہودی کو قتل کرکے نہایت تیزی سے قلعے میں جاگھسے۔ اور ان کے ساتھ ہی اسلامی لشکر بھی قلعے میں جاگھسا۔ قلعے کے اندر کچھ دیر تک تو زوردار جنگ ہوئی لیکن اس کے بعد یہودیوں نے قلعے سے کھسکنا شروع کردیا۔ اور بالآخر سب کے سب بھاگ کر قلعہ نزار میں پہنچ گئے ، جو خیبر کے نصف اوّل (یعنی پہلے منطقے ) کا آخری قلعہ تھا۔
قلعہ نزار کی فتح :
یہ قلعہ علاقے کا سب سے مضبوط قلعہ تھا اور یہود کو تقریباً یقین تھا کہ مسلمان اپنی انتہائی کوشش صرف کردینے کے باوجود اس قلعہ میں داخل نہیں ہوسکتے۔ اس لیے اس قلعے میں انہوں نے عورتوں اور بچوں سمیت قیام کیا جبکہ سابقہ چار قلعوں میں عورتوں اور بچوں کو نہیں رکھا گیا تھا۔
مسلمانوں نے اس قلعے کا سختی سے محاصرہ کیا۔ اور یہود پر سخت دباؤ ڈالا لیکن قلعہ چونکہ ایک بلند اور محفوظ پہاڑی پر واقع تھا اس لیے اس میں داخل ہونے کی کوئی صورت بن نہیں پڑرہی تھی۔ ادھر یہود قلعے سے باہر نکل کر مسلمانوں سے ٹکرانے کی جرأت نہیںکر رہے تھے۔ البتہ تیر برسابرسا کر اور پتھر پھینک پھینک کر سخت مقابلہ کررہے تھے۔
جب اس قلعہ (نزار) کی فتح مسلمانوں کے لیے زیادہ دشوار محسوس ہونے لگی تو رسول اللہﷺ نے منجنیق کے آلات نصب کرنے کا حکم فرمایا۔ اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے چند گولے پھینکے بھی جس سے قلعہ کی دیواروں میں شگاف پڑگیا۔ اور مسلمان اندر گھس گئے۔ اس کے بعد قلعے کے اندر سخت جنگ ہوئی۔ اور یہود نے فاش اور بدترین شکست کھائی۔ کیونکہ وہ بقیہ قلعوں کی طرح اس قلعے سے چپکے چپکے کھسک کر نہ نکل سکے بلکہ اس طرح بے محابا بھاگے کہ اپنی عورتوں اور بچوں کو بھی ساتھ نہ لے جاسکے اور انہیں مسلمانوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا۔
اس مضبوط قلعے کی فتح کے بعد خیبر کا نصف اول یعنی نطاۃ اور شق کا علاقہ فتح ہوگیا۔ اس علاقے میں چھوٹے چھوٹے کچھ مزید قلعے بھی تھے۔ لیکن اس قلعے کے فتح ہوتے ہی یہودیوں نے ان باقی ماندہ قلعوں کو بھی خالی کردیا۔ اور شہر خیبر کے دوسرے منطقے یعنی کتیبہ کی طرف بھاگ گئے۔

مکمل تحریر >>

معرکے کا آغاز اور قلعہ ناعم کی فتح


بہرحال یہود نے جب لشکر دیکھا تو سیدھے شہر میں بھاگے اور اپنے قلعوں میں قلعہ بند ہوگئے۔ اور یہ بالکل فطری بات تھی کہ جنگ گے لیے تیارہوجائیں مسلمانوں نے سب سے پہلے قلعہ ناعم پر حملہ کیا۔ کیونکہ یہ قلعہ اپنے محلِ وقوع کی نزاکت اور اسٹراٹیجی کے لحاظ سے یہود کی پہلی دفاعی لائن کی حیثیت رکھتا تھا۔ اور یہی قلعہ مَرْحب نامی اس شہ زور اور جانبازیہودی کا قلعہ تھا جسے ایک ہزار مردوں کے برابرمانا جاتا تھا۔
حضرت علی بن ابی طالبؓ مسلمانوں کی فوج لے کر اس قلعے کے سامنے پہنچے اور یہود کو اسلام کی دعوت دی۔ تو انہوں نے یہ دعوت مسترد کردی اور اپنے بادشاہ مرحب کی کمان میں مسلمانوں کے مد مقابل آکھڑے ہوئے۔ میدان جنگ میں اتر کر پہلے مرحب نے دعوتِ مبارزت دی جس کی کیفیت سلمہ بن اکوعؓ نے یوں بیان کی ہے کہ جب ہم لوگ خیبر پہنچے تو ان کا بادشاہ مرحب اپنی تلوار لے کر نازوتکبر کے ساتھ اَٹْھلاتا اور یہ کہتا ہو نمودار ہوا :
قد علمت خیبر أنی مرحب
شاکی السلاح بطل مجرب
إذا الحروب أقبلت تلہب
خیبر کو معلوم ہے کہ میں مرحب ہوں۔ ہتھیار پوش ، بہادر اور تجربہ کار ! جب جنگ وپیکار شعلہ زن ہو۔
اس کے مقابل میرے چچا عامر نمودار ہوئے اور فرمایا:
قد علمت خیبر أنی عامر
شاکی السلاح بطل مغامر
''خیبر جانتا ہے کہ میں عامر ہو ں۔ ہتھیار پوش ، شہ زور اور جنگجو۔ ''
پھر دونوں نے ایک دوسرے پر وار کیا۔ مرحب کی تلوار میرے چچا عامر کے ڈھال میں جاچبھی۔ اور عامر نے اسے نیچے سے مارنا چاہا۔ لیکن ان کی تلوار چھوٹی تھی۔ انہوں نے اس کی پنڈلی پر وار کیا تو تلوار کا سرا پلٹ کر ان کے گھٹنے پر آلگا۔ اور بالآخر اسی زخم سے ان کی موت واقع ہوگئی۔ نبیﷺ نے اپنی دو انگلیاں اکٹھا کرکے ان کے بارے میں فرمایا کہ ان کے لیے دوہرا اجر ہے۔ وہ بڑے جانباز مجاہد تھے۔ کم ہی ان جیسا کوئی عرب رُوئے زمین پر چلا ہوگا۔( صحیح مسلم ، باب غزوۂ خیبر ۲/۱۲۲ باب غزوہ ذی قرد وغیرہا ۲/۱۱۵ صحیح بخاری باب غزوۂ خیبر ۲/۶۰۳)
بہرحال حضرت عامر کے زخمی ہوجانے کے بعد مرحب کے مقابلے کے لیے حضرت علیؓ تشریف لے گئے۔ حضرت سلمہ بن اکوع کا بیان ہے کہ اس وقت حضرت علیؓ نے یہ اشعار کہے:
أنا الذي سمتني أمي حیدرہ کلیث غابات کریہ المنظرہ
أوفیہم بالصاع کیل السندرہ
''میں وہ شخص ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر ( شیر) رکھا ہے۔ جنگل کے شیر کی طرح خوفناک، میں انہیں صاع کے بدلے نیزے کی ناپ پوری کروں گا۔''
اس کے بعد مرحب کے سر پر ایسی تلوار ماری کہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔ پھر حضرت علیؓ ہی کے ہاتھوں فتح حاصل ہوئی۔ مرحب کے قاتل کے بارے میں مآخذ کے اندر بڑا اختلاف ہے۔ اور اس میں بھی سخت اختلاف ہے کس دن وہ مارا گیا اور کس دن یہ قلعہ فتح ہوا۔ صحیحین کی روایت کے سیاق میں بھی کسی قدر اس اختلاف کی علامت موجود ہے۔ ہم نے اوپر جو ترتیب ذکر کی ہے وہ صحیح بخاری کی روایت کے سیاق کو ترجیح دیتے ہوئے قائم کی گئی ہے۔
جنگ کے دوران حضرت علیؓ یہود کے قلعہ کے قریب پہنچے تو ایک یہودی نے قلعہ کی چوٹی سے جھانک کرکہا : تم کون ہو ؟ حضرت علیؓ نے کہا : میں علی بن ابی طالب ہوں۔ یہودی نے کہا: اس کتاب کی قسم جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل کی گئی ! تم لوگ بلند ہو ئے۔ اس کے بعد مرحب کا بھائی یاسر یہ کہتے ہوئے نکلا کہ کون ہے جو میرا مقابلہ کرے گا۔ اس کے اس چیلنج پر حضرت زبیرؓ میدان اترے۔ اس پر ان کی ماں حضرت صفیہ ؓ نے کہا : یارسول اللہ ! کیا میرا بیٹا قتل کیا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا:نہیں ! بلکہ تمہارا بیٹا اسے قتل کرے گا۔ چنانچہ حضرت زبیرؓ نے یاسر کو قتل کردیا۔
اس کے بعد حصن ناعم کے پاس زور دار جنگ ہوئی، جس میں کئی سربرآوردہ یہودی مارے گئے۔ اور بقیہ یہود میں تابِ مقاومت نہ رہی۔ چنانچہ وہ مسلمانوں کا حملہ نہ روک سکے۔ بعض مآخذ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جنگ کئی دن جاری رہی اور اس میں مسلمانوں کو شدید مقاومت کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم یہود، مسلمانوں کو زیر کرنے سے مایوس ہوچکے تھے۔ اس لیے چپکے چپکے اس قلعے سے منتقل ہوکر قلعہ صعب میں چلے گئے اور مسلمانو ں نے قلعہ ناعم پر قبضہ کرلیا۔

مکمل تحریر >>

اسلامی لشکر خیبر کے دامن میں


مسلمانوں نے آخری رات جس کی صبح جنگ شروع ہوئی خیبر کے قریب گذاری لیکن یہودیو ں کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ نبیﷺ کا دستور تھا کہ جب رات کے وقت کسی قوم کے پاس پہنچتے تو صبح ہوئے بغیر ان کے قریب نہ جاتے۔ چنانچہ اس رات جب صبح ہوئی تو آپﷺ نے غلس (اندھیرے ) میں فجر کی نماز ادا فرمائی۔ اس کے بعد مسلمان سوار ہوکر خیبر کی طرف بڑھے۔ ادھر اہل خیبر بے خبری میں اپنے پھاوڑے اور کھانچی وغیرہ لے کر اپنی کھیتی باڑی کے لیے نکلے تو اچانک لشکر دیکھ کر چیختے ہوئے شہر کی طرف بھاگے کہ اللہ کی قسم! محمد لشکر سمیت آگئے ہیں۔
نبیﷺ نے (یہ منظر دیکھ کر ) فرمایا:اللہ اکبر ! خیبر تباہ ہوا۔ اللہ اکبر ! خیبر تباہ ہوا۔ جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترپڑتے ہیں تو ان ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بُری ہوجاتی ہے۔ـ(صحیح بخاری : باب غزوہ خیبر ۲/۶۰۳ ، ۶۰۴)

خیبر کی آبادی دو منطقوں میں بٹی ہوئی تھی۔ ایک منطقے میں حسب ذیل پانچ قلعے تھے:
حصن ناعم
حصن صعب بن معاذ
حصن قلعہ زبیر
حصن ابی
حصن نزار
ان میں سے مشہور تین قلعوں پر مشتمل علاقہ نطاۃ کہلاتا تھا۔ اور بقیہ دوقلعوں پر مشتمل علاقہ شق کے نام سے مشہور تھا۔ خیبر کی آبادی کا دوسرا منطقہ کَتیبَہ کہلاتا تھا۔ اس میں صرف تین قلعے تھے :
حصن قموص (یہ قبیلہ بنو نضیر کے خاندان ابو الحقیق کا قلعہ تھا۔ )
حصن وطیح
حصن سلالم
ان آٹھ قلعوں کے علاوہ خیبر میں مزید قلعے اور گڑھیاں بھی تھیں، مگر وہ چھوٹی تھیں اور قوت وحفاظت میں ان قلعوں کے ہم پلہ نہ تھیں۔
جہاں تک جنگ کا تعلق ہے تو وہ صرف پہلے منطقے میں ہوئی۔ دوسرے منطقے کے تینوں قلعے لڑنیوالوں کی کثرت کے باوجود جنگ کے بغیر ہی مسلمانوں کے حوالے کردیے گئے۔
نبیﷺ نے لشکر کے پڑاؤ کے لیے ایک جگہ کا انتخاب فرمایا۔ اس پر حباب بن منذرؓ نے آکر عرض کیا یارسول اللہ ! یہ بتلایئے کہ اس مقام پر اللہ نے آپ کو پڑاؤ ڈالنے کا حکم دیا ہے یایہ محض آپ کی جنگی تدبیر اور رائے ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں یہ محض ایک رائے اور تدبیر ہے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! یہ مقام قلعہ ٔنطاۃ سے بہت ہی قریب ہے اور خیبر کے سارے جنگ جو افراد اسی قلعے میں ہیں۔ انہیں ہمارے حالات کا پورا پورا علم رہے گا اور ہمیں ان کے حالات کی خبر نہ ہوگی۔ ان کے تیر ہم تک پہنچ جائیں گے۔ اور ہمارے تیر ان تک نہ پہنچ سکیں گے۔ ہم ان کے شبخون سے بھی محفوظ نہ رہیں گے۔ پھر یہ مقام کھجوروں کے درمیا ن ہے۔ پستی میں واقع ہے۔ اور یہاں کی زمین بھی وبائی ہے۔ اس لیے مناسب ہوگا کہ آپ کسی ایسی جگہ پڑاؤ ڈالنے کا حکم فرمائیں جو ان مفاسد سے خالی ہو۔ اور ہم اسی جگہ منتقل ہوکر پڑاؤ ڈالیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا : تم نے جورائے دی بالکل درست ہے۔ اس کے بعد آپ دوسری جگہ منتقل ہوگئے۔
جس رات خیبر کی حدود میں رسول اللہﷺ داخل ہوئے فرمایا : میں کل جھنڈا ایک ایسے آدمی کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔ اور جس سے اللہ اور اس کے رسول محبت کرتے ہیں۔ صبح ہوئی تو صحابہ کرام نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہر ایک یہی آرزو باندھے اور آس لگائے تھا کہ جھنڈا اسے مل جائے گا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا : علی بن ابی طالب کہاں ہیں ؟ صحابہ نے کہا: یارسول اللہ ! ان کی تو آنکھ آئی ہوئی ہے۔( اسی بیماری کی وجہ سے پہلے پہل آپ پیچھے رہ گئے تھے، پھر لشکر سے جاملے) فرمایا : انہیں بلالاؤ۔ وہ لائے گئے۔ رسول اللہﷺ نے ان کی آنکھوں میں لعاب ِ دہن لگایا اور دعا فرمائی۔ وہ شفایاب ہوگئے، گویا انہیں کوئی تکلیف تھی ہی نہیں۔ پھر انہیں جھنڈا عطافرمایا۔
انہوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میں ان سے اس وقت تک لڑوں کہ وہ ہمارے جیسے ہوجائیں۔ آپ نے فرمایا : اطمینان سے جاؤ یہاں تک کہ ان کے میدان میں اترو۔ پھر انہیں اسلام کی دعوت دو۔ اور اسلام میں اللہ کے جو حقوق ان پر واجب ہوتے ہیں ان سے آگاہ کرو۔ واللہ تمہارے ذریعہ اللہ تعالیٰ ایک آدمی کوبھی ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ صحیح بخاری باب غزوۂ خیبر ۲/۶۰۵ ، ۶۰۶ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ خیبر کے ایک قلعے کی فتح میں متعدد کوششوں کی ناکامی کے بعد حضرت علی کو جھنڈا دیا گیا تھا لیکن محققین کے نزدیک راجح وہی ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔

مکمل تحریر >>

راستے کے بعض واقعات


حضرت سلمہ بن اکوعؓ کا بیان ہے کہ ہم لوگ نبیﷺ کے ہمراہ خیبر روانہ ہوئے۔ رات میں سفر طے ہورہا تھا۔ ایک آدمی نے عامر سے کہا : اے عامر ! کیوں نہ ہمیں اپنے کچھ نوادرات سناؤ -عامر شاعر تھے - سواری سے اترے اور قوم کی حدی خوانی کرنے لگے۔ اشعار یہ تھے:
اللہم لولا أنت ما اہتدینا ولا تصدقنا ولا صلینـا
فـاغفر فداء لک ما اتقینا وثبت الأقدام إن لاقینا
وألقیــن سکینــۃ علینــا إنــا إذا صیح بنـا أبینـا
وبالصیـاح عولـوا علینـــا
''اے اللہ ! اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے۔ نہ صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے۔ ہم تجھ پر قربان ! تو ہمیں بخش دے۔ جب تک ہم تقویٰ اختیار کریں۔ اور اگر ہم ٹکرائیں تو ہمیں ثابت قدم رکھ۔ اور ہم پر سکینت نازل فرما۔ جب ہمیں للکارا جاتا ہے تو ہم اکڑجاتے ہیں، اور للکار میں ہم پر لوگوں نے اعتماد کیا ہے۔''
رسول اللہﷺ نے فرمایا: یہ کون حدی خوان ہے ؟ لوگوں نے کہا: عامر بن اکوع۔ آپﷺ نے فرمایا : اللہ اس پر رحم کرے۔ قوم کے ایک آدمی نے کہا : اب تو (ان کی شہادت ) واجب ہوگئی۔ آپ نے ان کے وجود سے ہمیں بہرہ ورکیوں نہ فرمایا۔( صحیح بخاری باب غزوۂ خیبر ۲/۶۰۳ صحیح مسلم باب غزوۃ ذی قرد وغیرہا ۲/۱۱۵)
صحابہ کرام کو معلوم تھا کہ( جنگ کے موقع پر )رسول اللہﷺ کسی انسان کے لیے خصوصیت سے دعائے مغفرت کریں تو وہ شہید ہوجاتا ہے۔( صحیح مسلم ۲/۱۱۵)اور یہی واقعہ جنگِ خیبر میں (حضرت عامر کے ساتھ ) پیش آیا۔ (اسی لیےانہوں نے یہ عرض کی تھی کہ کیوں نہ ان کے لیے درازیٔ عمر کی دعا کی گئی کہ ان کے وجود سے ہم مزید بہرہ ور ہوتے)
خیبر کے بالکل قریب وادی ٔ صہباء میں آپﷺ نے عصر کی نماز پڑھی۔ پھر توشے منگوائے تو صرف ستو لایا گیا۔ آپﷺ کے حکم سے سانا گیا۔ پھر آپﷺ نے کھایا اور صحابہ نے بھی کھایا۔ اس کے بعد آپﷺ مغرب کے لیے اُٹھے تو صرف کلی کی۔ صحابہ نے بھی کلی کی۔ پھر آپﷺ نے نماز پڑھی اوروضو نہیں فرمایا۔ (پچھلے ہی وضو پر اکتفا کیا۔ )پھر آپﷺ نے عشاء کی نماز ادا فرمائی۔( مغازی الواقدی (غزوہ خیبر ص ۱۱۲)
نیز جب آپﷺ خیبر کے اتنے قریب پہنچ گئے کہ شہر دکھائی پڑنے لگا تو آپﷺ نے فرمایا: ٹھہر جاؤ۔ لشکر ٹھہر گیا۔ اور آپﷺ نے یہ دعا فرمائی :
(( اللہم رب السماوات السبع وما أظللن، ورب الأرضین السبع وما أقللن، ورب الشیاطین وما أضللن فإنا نسألک خیر ہذہ القریۃ وخیر أہلہا وخیر ما فیہا، ونعوذ بک من شر ہذہ القریۃ وشر أہلہا وشر ما فیہا ۔))
''اے اللہ ! ساتوں آسما ن ، اور جن پروہ سایہ فگن ہیں ، ان کے پروردگار ! اور ساتوں زمین ، اور جن کو وہ اٹھائے ہوئے ہیں ، ان کے پروردگار ! اور شیاطین ، اور جن کو انہوں نے گمراہ کیا ، ان کے پروردگار! ہم تجھ سے اس بستی کی بھلائی ، اس کے باشندوں کی بھلائی اور اس میں جو کچھ ہے اس کی بھلائی کا سوال کرتے ہیں۔ اور اس بستی کے شر سے ، اس کے باشندوں کے شر سے ، اور اس میں جو کچھ ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔'' (ابن ہشام ۲/۳۲۹)
مکمل تحریر >>

یہود کیلئے منافقین کی سرگرمیاں


اس موقع پر یہود کی حمایت میں منافقین نے بھی خاصی تگ ودو کی۔ چنانچہ راس المنافقین عبد اللہ بن ابی نے یہود ِ خیبر کو یہ پیغام بھیجا کہ اب محمدﷺ نے تمہار ا رُخ کیا ہے۔ لہٰذا چوکنا ہو جاؤ ،تیاری کرلو۔ اوردیکھو !ڈرنا نہیں۔ کیونکہ تمہاری تعداد اور تمہارا سازوسامان زیادہ ہے۔ اور محمدﷺ کے رفقاء بہت تھوڑے اور تہی دست ہیں۔ اور ان کے پاس ہتھیار بھی بس تھوڑے ہی سے ہیں۔
جب اہل خیبر کو اس کا علم ہو ا تو انہوں نے کنانہ بن ابی الحقیق اور ہوذہ بن قیس کو حصولِ مدد کے لیے بنو غطفان کے پاس روانہ کیا۔ کیونکہ وہ خیبر کے یہودیوں کے حلیف اور مسلمانوں کے خلاف ان کے مدد گار تھے۔ یہود نے یہ پیشکش بھی کی کہ اگر انہیں مسلمانوں پر غلبہ حاصل ہوگیا تو خیبر کی نصف پیداوار انہیں دی جائے گی۔
رسول اللہﷺ نے خیبر جاتے ہوئے۔ جبل عِصْر کو عبور کیا - عِصْر کے عین کو زیر ہے اور ص ساکن ہے۔ اور کہا جاتاہے کہ دونو ں پر زبر ہے - پھر وادیٔ صہباء سے گذرے۔ اس کے بعد ایک اور وادی میں پہنچے جس کا نام رجیع ہے۔ (مگر یہ وہ رجیع نہیں جہاں عضل وقارہ کی غداری سے بنو لحیان کے ہاتھو ں آٹھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شہادت اور حضرت زید وخبیب رضی اللہ عنہما کی گرفتاری اور پھر مکہ میں شہادت کا واقعہ پیش آیا تھا )
رجیع سے بنو غطفان کی آبادی صرف ایک دن اور ایک رات کی دوری پر واقع تھی اور بنو غطفان نے تیار ہوکر یہود کی اِمداد کے لیے خیبر کی راہ لے لی تھی۔ لیکن اثنائِ راہ میں انھیں اپنے پیچھے کچھ شور وشغب سنائی پڑا تو انہوں نے سمجھا کہ مسلمانوں نے ان کے بال بچوں اور مویشیوں پر حملہ کردیا ہے اس لیے وہ واپس پلٹ کر آگئے اور خیبر کو مسلمانوں کے لیے آزاد چھوڑ دیا۔
اس کے بعدرسول اللہﷺ نے ان دونوںماہرین ِ راہ کو بلایا جو لشکر کو راستہ بتانے پر مامور تھے ان میں سے ایک کا نام حسیل تھا - ان دونو ں سے آپ نے ایسا مناسب ترین راستہ معلوم کرنا چاہا جسے اختیار کر کے خیبر میں شمال کی جانب سے یعنی مدینہ کے بجائے شام کی جانب سے داخل ہوسکیں۔ تاکہ اس حکمت ِ عملی کے ذریعے ایک طرف تو یہود کے شام بھاگنے کا راستہ بند کردیں۔ اور دوسری طرف بنو غطفان اور یہود کے درمیان حائل ہوکر ان کی طرف سے کسی مدد کی رسائی کے امکانات ختم کردیں۔
ایک راہنمانے کہا: اے اللہ کے رسول ! میں آپ کو ایسے راستے سے لے چلوں گا۔ چنانچہ وہ آگے آگے چلا۔ ایک مقام پر پہنچ کر جہاں متعدد راستے پھوٹتے تھے عرض کیا: یا رسول اللہ ! ان سب راستوں سے آپ منزل مقصود تک پہنچ سکتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ وہ ہرایک کا نام بتائے۔ اس نے بتایا کہ ایک کام حَزن (سخت اور کھردرا) ہے۔ آپﷺ نے اس پر چلنا منظور نہ کیا۔ اس نے بتایا : دوسرے کانام شاش (تفرق واضطراب والا) ہے۔ آپ نے اسے بھی منظور نہ کیا۔ اس نے بتایا: تیسرے کانام حاطب (لکڑہارا ) ہے آپ نے اس پر بھی چلنے سے انکار کردیا۔ حُسَیْل نے کہا : اب ایک ہی راستہ باقی رہ گیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا : اس کا نام کیا ہے ؟ حُسیل نے کہا: مرحب۔ نبیﷺ نے اسی پر چلنا پسند فرمایا۔

مکمل تحریر >>

خیبر کو روانگی

خیبر کو روانگی
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ نے حدیبیہ سے واپس آکر ذی الحجہ کا پورا مہینہ اور محرم کے چند دن مدینے میں قیام فرمایا۔ پھر محرم کے باقی ماندہ ایام میں خیبر کے لیے روانہ ہوگئے۔مفسرین کا بیان ہے کہ خیبر اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا جوا س نے اپنے ارشاد کے ذریعہ فرمایا تھا :
وَعَدَكُمُ اللَّـهُ مَغَانِمَ كَثِيرَ‌ةً تَأْخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هَـٰذِهِ (۴۸: ۲۰)
''اللہ نے تم سے بہت سے اموال ِ غنیمت کا وعدہ کیا ہے جسے تم حاصل کرو گے تو اس کو تمہارے لیے فوری طور پر عطاکردیا۔''
''جس کو فوری طور پر ادا کردیا ''اس سے مراد صلح حدیبیہ ہے اور ''بہت سے اموال ِ غنیمت '' سے مراد خیبر ہے۔
چونکہ منافقین اور کمزور ایمان کے لوگ سفر حدیبیہ میں رسول اللہﷺ کی رفاقت اختیار کرنے کے بجائے اپنے گھروںمیں بیٹھ رہے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کو ان کے بارے میں حکم دیتے ہوئے فرمایا :
سَيَقُولُ الْمُخَلَّفُونَ إِذَا انطَلَقْتُمْ إِلَىٰ مَغَانِمَ لِتَأْخُذُوهَا ذَرُ‌ونَا نَتَّبِعْكُمْ ۖ يُرِ‌يدُونَ أَن يُبَدِّلُوا كَلَامَ اللَّـهِ ۚ قُل لَّن تَتَّبِعُونَا كَذَٰلِكُمْ قَالَ اللَّـهُ مِن قَبْلُ ۖ فَسَيَقُولُونَ بَلْ تَحْسُدُونَنَا ۚ بَلْ كَانُوا لَا يَفْقَهُونَ إِلَّا قَلِيلًا (۴۸: ۱۵)
''جب تم اموال غنیمت حاصل کرنے کے لیے جانے لگو گے تو یہ پیچھے چھوڑ ے گئے لوگ کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو۔ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کی بات بدل دیں۔ ان سے کہہ دینا کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے۔ اللہ نے پہلے ہی سے یہ بات کہہ دی ہے (اس پر) یہ لوگ کہیں گے کہ (نہیں) بلکہ تم لوگ ہم سے حسد کرتے ہو۔ (حالانکہ حقیقت یہ ہے ) کہ یہ لوگ کم ہی سمجھتے ہیں۔''
چنانچہ جب رسول اللہﷺ نے خیبر کی روانگی کا ارادہ فرمایا تو اعلان فرمادیا کہ آپ کے ساتھ صرف وہی آدمی روانہ ہوسکتا ہے جسے واقعۃ ً جہاد کی رغبت اور خواہش ہے۔ اس اعلان کے نتیجہ میں آپ کے ساتھ صرف وہی لوگ جاسکے جنہوں نے حدیبیہ میں درخت کے نیچے بیعت ِ رضوان کی تھی۔ اور ان کی تعداد صرف چودہ سو تھی۔
اس غزوے کے دوران مدینہ کا انتظام حضرت سباع بن عرفطہ غفاری کو ــ--- اور ابن اسحاق کے بقول --- نمیلہ بن عبداللہ لیثی کو سونپا گیا تھا۔ محققین کے نزدیک پہلی بات زیادہ صحیح ہے۔( دیکھئے: فتح الباری ۷/۴۶۵ ، زاد المعاد ۲/۱۳۳)
اسی موقع پر حضرت ابوہریرہؓ بھی مسلمان ہوکر مدینہ تشریف لائے تھے۔ اس وقت حضرت سباع بن عرفطہ فجر کی نماز پڑھا رہے تھے۔ نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت ابو ہریرہؓ ان کی خدمت میں پہنچے۔ انہوں نے توشہ فراہم کردیا۔ اور حضرت ابو ہریرہؓ خدمت نبویﷺ میں حاضری کے لیے خیبر کی جانب چل پڑے۔ جب خدمت نبوی میں پہنچے تو (خیبر فتح ہوچکاتھا ) رسول اللہﷺ نے مسلمانوں سے گفتگو کر کے حضرت ابو ہریرہ اور ان کے رفقاء کو بھی مال غنیمت میں شریک کر لیا۔

مکمل تحریر >>

Sunday, 30 August 2015

غزوہِ خیبر - محرم ٧ ہجری


غزوہ ٔ خیبر (محرم ۷ھ )
خیبر ، مدینہ کے شمال میں ایک سو ستر کلو میٹر کے فاصلے پر ایک بڑا شہر تھا۔ یہاں قلعے بھی تھے اور کھیتیاں بھی۔ اب یہ ایک بستی رہ گئی ہے۔ اس کی آب وہوا قدرے غیر صحت مند ہے۔
غزوے کا سبب:
جب رسول اللہﷺ صلح حدیبیہ کے نتیجہ میں جنگِ احزاب کے تین بازوؤں میں سب سے مضبوط بازو (قریش ) کی طرف سے پوری طرح مطمئن اور مامون ہوگئے تو آپ نے چاہا کہ بقیہ دوبازوؤں -یہود اور قبائل نجد-سے بھی حساب کتاب چکا لیں۔ تاکہ ہرجانب سے مکمل امن وسلامتی حاصل ہوجائے۔ اور پورے علاقے میں سکون کا دور دورہ ہو۔ اور مسلمان ایک پیہم خون ریز کشمکش سے نجات پاکر اللہ کی پیغام رسانی اور اس کی دعوت کے لیے فارغ ہوجائیں۔
چونکہ خیبر سازشوں اور دسیسہ کاریوں کا گڑھ ، فوجی انگیخت کا مرکز اور لڑانے بھڑانے اور جنگ کی آگ بھڑکانے کی کان تھا۔ اس لیے سب سے پہلے یہی مقام مسلمانوں کی نگہِ التفات کا مستحق تھا۔
رہا یہ سوال کہ خیبر واقعتاً ایسا تھا یا نہیں تواس سلسلے میں ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ اہل ِ خیبر ہی تھے جو جنگ ِ خندق میں مشرکین کے تمام گروہوں کو مسلمانوں پر چڑھالائے تھے۔
پھر یہی تھے جنہوں نے بنو قریظہ کو غدر وخیانت پر آمادہ کیا تھا۔ نیز یہی تھے جنہوں نے اسلامی معاشرے کے پانچویں کالم منافقین سے اور جنگِ احزاب کے تیسرے بازو - بنو غطفان اور بدوؤں - سے رابطہ پیہم کر رکھا تھا اور خود بھی جنگ کی تیاریاں کررہے تھے۔ اور اپنی ا ن کارروائیوں کے ذریعے مسلمانوں کو آزمائشوں میں ڈال رکھا تھا۔ یہاں تک کہ نبیﷺ کو بھی شہید کرنے کا پروگرام بنالیا تھا۔ اور ان حالات سے مجبور ہوکر مسلمانوں کو بار بارفوجی مہمیں بھیجنی پڑی تھیں۔ اور ان دسیسہ کاروں اور سازشیوں کے سربراہوں مثلاً:''سلام بن ابی الحقیق اور اسیر بن زارم ''کا صفایا کرنا پڑا تھا۔ لیکن ان یہود کے تئیں مسلمانوں کا فرض درحقیقت اس سے بھی کہیں بڑاتھا۔ البتہ مسلمانوں نے اس فرض کی ادائیگی میں قدرے تاخیر سے کام لیا تھا کہ ابھی ایک قوت - یعنی قریش- جو ان یہود سے زیادہ بڑی ،طاقتور،جنگجو اورسرکش تھی۔ مسلمانوں کے مد مقابل تھی۔ اس لیے مسلمان اسے نظر انداز کر کے یہود کا رُخ نہیں کرسکتے تھے۔ لیکن جو نہی قریش کے ساتھ اس محاذآرائی کا خاتمہ ہوا ان مجرم یہودیوں کے محاسبہ کے لیے فضا صاف ہوگئی اور ان کا یوم الحساب قریب آگیا۔

مکمل تحریر >>