Thursday, 19 May 2016

غزواتِ نبوی اور اسیرانِ جنگ


تاریخ کے اوراق اس امر کا بین ثبوت ہیں کہ اسلام سے قبل قیدیوں کے ساتھ سلوک کی صورت حال یہ تھی کہ
قیدیوں کو کسی اندھے کنویں میں ڈال کے کنویں کے منہ پر سِل پتھر کی لا کر ڈال دیتے تھے
الطاف حسین حالی نے اشعار میں منظر کشی کی کہ
پہلے دست و بازو توڑ دیتے تھے
زمیں میں گاڑ کر پھر ان پہ کُتے چھوڑ دیتے تھے
کبھی زندوں کے تن سے بوٹیاں نچوائی جاتی تھیں
سلاخیں گرم کر کے جس پر برسائی جاتی تھیں
کبھی پٹوایا جاتا تھا انہیں پُرخار کوڑوں سے
کبھی رُندوایا جاتا تھا اونٹوں اور گھوڑوں سے
انتقام کا جذبہ یوں دلوں میں ٹھاٹھیں مارتا تھا کہ زندہ تو زندہ مردوں کے بھی ہاتھ، پاؤں، ناک، کان وغیرہ کاٹ لیے جاتے۔ مقتول کا کلیجہ نکال کر چبانا کوئی مشکل بات نہ تھی۔
رسولِ عربی ﷺ نے جنگ کی حقیقت میں جو انقلابِ عظیم برپا کیا اس میں سب سے نمایاں کارنامہ جنگ کے مقصد کو متعین کرنا اور اسے محض خون آشامی و غارت گری کے دائرے سے نکال کر ایک اعلیٰ اخلاقی اور مدنی نصب العین کی سطح تک لانا ہے۔ آپ ﷺ سے قبل جنگ کسی نیک مقصد کے لئے نہیں لڑی جاتی تھی۔ عرب میں جنگ کے لئے جو الفاظ، محاورے، ترکیبیں اور استعارے استعمال ہوتے تھے وہ سب کے سب صرف ایک وحشیانہ جنگ کا تصور پیش کرتے تھے۔ لیکن اسلام نے تمام رائج الوقت الفاظ و اصطلاحات کو موقوف کر کے ''جھاد فی سبیل اللّٰہ'' کی اصطلاح وضع کی۔ یہ جنگ تو وہ جنگ ہے جو اللہ کے احکام کے اندر رہ کر خالص اللہ کے لئے لڑی گئی ہو۔

غزوات نبوی کی تو ایک طویل فہرست ہے لیکن جنگی قیدیوں کے حوالہ سے یہاں صرف دو غزوے ہی کا تذکرہ کیا جائے گا جو اس سلسلے میں خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ غزوئہ بدر اور فتح مکہ۔ اس لیے کہ یہ قیدی ہی نہیں بلکہ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے حضور اور اُن کے ساتھیوں کو پل بناکر تیرہ چودہ سال کی طویل مدت تک ظلم و تعدی کے تمام سرحدوں کو پاکر کرکے وطن سے بے وطن کردیا، جب یہ پردیسی اجنبی شہر میں اطمینان کی سانس لینے لگے تو اس کو بھی قریش قوم ہضم نہ کرسکی اور مدینہ پر بھی کاٹ کھانے کے لیے مارکھانے کے لیے چڑھ آئی لیکن رب برحق نے انھیں اوندھے منہ گراکر انتہائی شرمناک شکست سے دوچار کیااور سترقیدہوکر مسلمانوں کے ہاتھ آئے۔
غزوہٴ بدر! لیکن قربان جائیے اس محسنِ انسانیت پر جس نے ان کی دوہری دشمنی کے باوجود ان کے ساتھ اچھے سلوک کی تلقین کرکے اپنے مختلف ساتھیوں میں تقسیم کردیا، تاریخ شاہد ہے کہ نبی کے ان دیوانوں نے مہمانوں کی طرح ان قیدیوں کی دیکھ بھال کی، خود کھجور پر اکتفا کرکے انھیں روٹی کھلائی، ایک قیدی ”ابوعزیز“ کا بیان طبری نقل کرتے ہیں، میں جن انصاریوں کے پاس قید تھا جب وہ لوگ صبح و شام میرے سامنے کھانا لاتے تو روٹی میرے سامنے رکھ دیتے، خود کھجوریں اٹھالیتے مجھ کو شرم آتی اور میں روٹی ان کے ہاتھ میں دے دیتا لیکن وہ ہاتھ بھی نہ لگاتے اور مجھ کو واپس کردیتے۔
ایک قیدی سہیل بن عمرو نہایت فصیح و بلیغ شخص تھا حضور کے خلاف ہمہ وقت زہر افشانی کرتا رہتا، حضرت عمرنے ان کے دانت اکھڑوادینے کا مشورہ دیا حضور نے سختی سے منع فرمایا، ان قیدیوں کے گندے کپڑوں کے بدلنے کا حکم دیا۔ جب ان اسیروں کے متعلق مشورہ ہوا تو حضرت عمر نے تمام کو تہہ تیغ اور عبداللہ بن رواحہ نے نذرآتش کردینے کا مشورہ دیا اور حضرت صدیق نے فدیہ لے کر رہا کردینے کی رائے دی، محسنِ انسانیت نے آخری مشورہ پر فیصلہ فرمایا لیکن رحم وکرم کی بارش یہیں ختم نہیں ہوجاتی بلکہ اس سراپا رحمت نے فدیہ میں بھی ان قیدیوں کی حیثیتوں کا مکمل لحاظ رکھا، چنانچہ جو صاحب ثروت تھے ان کا فدیہ مال طے ہوا، جو صاحب علم وفن تھے ان کی رہائی کا معاوضہ لکھانے پڑھانے کا کام سپرد ہوا اور جو اس قابل بھی نہ تھے اور بالکل تہی دست تھے ان کو عفو و درگزر کا تحفہ دے کر ویسے ہی رہا کردیا۔
فتح مکہ: فتح مکہ انسانی اقدار کی حقیقی تاریخ کو ظاہر کرتا ہے، یہ دن تو انتقام کی پیاس بجھانے کا دن تھا، لیکن اس معلم کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جانشینوں کی ایسی تربیت کی تھی کہ انھوں نے نقشہ عالم پر آپ کی رحمت عالم ہونے کا ایسا اثر چھوڑا کہ چشم فلک نے دیکھ لیا کہ انسانیت کے سب سے بڑے محسن کے ایوان حق و انصاف میں انتقام پر انسانیت کا غلبہ ہے۔
جبکہ اس موقع پر اس عظیم فاتح کے ساتھ عظیم لشکر ہے، اسلحے ہیں، مکمل طاقت ہے اور اتنا ہی نہیں بلکہ اس کے سامنے ماضی کے دلخراش واقعات بھی ہیں، ’شعب ابی طالب“ کی تین سالہ قید وبند، آہ و بکا، بھوک و پیاس، اضطراب و بے چینی اور بے پناہ مصائب و آلام کی درد انگیز روداد بھی، تپتی ہوئی چٹانیں، شعلے اگلتے سنگریزے، کھجور کے کھردرے تنے، تانت کی رسیاں، راہ کے کانٹے، کوڑے کرکٹ، اونٹ کی اوجھ، گلے کے پھندے، چٹائیوں کے رول اور دھوئیں سب کے سب آج ایذارسانوں کے خلاف انتقام کے شرارے کو ہوا دے رہے تھے۔ انتقام انتقام!! کی صدائے باز گشت سے پوری فضا گونج رہی تھی، گردوپیش بھی اپنے زبان حال سے ہم نوائی کررہے تھے دشمنوں کو ہست سے نیست کرنے کا اس سے شاندار و خوشگوار کون سا موقع ہوسکتا تھا کہ دشمنوں کو خود اپنی تباہی کا یقین ہوگیا تھا اُس کے باوجود محسنِ انسانیت اور مُردوں کے مسیح صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہوکر بقائے انسانی کے اجزائے ترکیبی (امن ومساوات اور آزادی) کا اس طرح اعلان کرتے ہیں کہ انسانو! مکہ ہمیشہ سے دارالامان ہے کسی باخدا انسان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ آج کے بعد اس سرزمین میں خون بہائے اور اُس کی سرسبزی و شادابی کو نقصان پہنچائے آج جاہلیت کے خاندانی اور نسلی غرور کا خاتمہ کردیاگیا ہے تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اورآدم مٹی سے پیدا ہوئے ہیں۔ جاؤ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوجاؤ اب تم سب کے سب آزاد ہو!!!
غزوات نبوی اور موجودہ جنگی صورتِ حال: دورِ حاضر کے تناظر میں غزوئہ نبوی اور غیرفطری جنگ کا تجزیہ کریں ۔ اسلامی جنگوں کے اخلاقی دنیا پر کیا اثرات پڑے، اُس کے برخلاف دوسری جنگوں میں انسانی دنیا کی اخلاقی، مادی اور جانی اقدار میں کتنا بڑا بھونچال آیا۔
مثال کے طور پر پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں انسانیت سوزی کی دل دوز تاریخ اور ۱۱/ستمبر ۲۰۰۱/ کے بعد افغانستان اور عراق میں انسانی قدروں کی زبردست پامالی اور اُن کی کھوپڑیوں سے تیسری جنگ عظیم کے اُٹھتے شعلے۔
درحقیقت یہ جنگ نہیں بلکہ ظلم وعدوان اور انسانیت سوزی کی آخری شکل ہے، جس کی مختصر روداد یہ ہے کہ دونوں عظیم جنگوں میں ایک محتاط اندازے کے مطابق چارکروڑ انسانی جانیں تلف ہوئیں، اسلام کے خلاف دہشت گردی کے عنوان سے امن و مساوات اور انسانی قدروں کی دھجیاں اڑانے والوں نے افغانستان کے لاکھوں بے گناہ بچوں بوڑھوں اور عورتوں کو بم و بارود کے نذر کردیا اور ایک خوشگوار اور امن وامان کا گہوارہ ملک کو راکھ کی ڈھیر میں تبدیل کردیا، اُس کے بعد بھی جب پیاس نہ بجھی تو انسان نما بھیڑیوں کی للچاتی نگاہیں عراق کی طرف اُٹھیں اور وہاں کے تقریباً ۷/لاکھ بے قصور انسانوں کے خون سے اپنی پیاس بجھائی۔
ان درندوں نے ”ابوغریب“ جیل میں انسانی قدروں کا جس طرح مذاق اُڑایا اور اُڑا رہے ہیں کہ اُسے حیوانیت، سفاکیت اور شیطنت کے علاوہ کیا کہا جاسکتا ہے؟ ان کے سیاہ کرتوت کی تعبیر کے لیے لغات کے ذخائر میں کوئی لفظ بھی نہیں۔ ان نفس پرستوں نے عین تہوار کے دن ایک ملک کے صدر کو اُسی کی زمین پر اذیت ناک موت کا ایسا تحفہ دیاکہ انسانی اقدار کے چیتھڑے اُڑگئے، ہوس کی پجاری قوم نے ایک شخص، ایک ملک یا ایک مذہب پر تیشہ زنی نہیں کی بلکہ پوری اخلاقی دُنیا پر بزدلانہ حملہ کیا۔ اُس کے برعکس غزواتِ نبوی کا بھی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ ایک فطری جنگ ہے اور اُس کے اندر ظلم وزیادتی سے پاک غیرجانبدارانہ حصول اور عدل و مساوات کی جو سچی تصویریں ملتی ہیں جن سے نہ صرف یہ کہ گذشتہ قوم کی جنگی بے راہ روی ختم ہوئی بلکہ انسانی قدروں کو ایک نئی روح اور دائمی زندگی مل گئی۔
چناں چہ ایک تحقیق کے مطابق عہدِ نبوی کے تمام غزوات میں کل ۶۵۶۴ قیدی اور ۷۵۹ لوگ مقتول ہوئے اور مسلمانوں میں ۲۵۹ لوگ شہید اور ایک بزرگ قید ہوئے اور تاریخ گواہ ہے کہ دشمنوں کے ان قیدیوں میں سے ۶۳۴۸ قیدیوں کو اس نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوئہ حنین کے بعد بغیر کسی شرط کے رہا کردیا، صرف ایک شخص قصاصاً قتل ہوا پھر ۲۱۵ قیدیوں میں ۷۰ کو بدر میں فدیہ لے کر رہا کردیاگیا اُس کے بعد جبالِ تنعیم پر مسلمانوں پر حملہ کرتے ہوئے ۸۰ لوگ قید ہوئے اُن کو بھی اسی طرح رہائی ملی۔
واقعات وقرائن اور آپ کی ذات سے یقین ہے کہ بقیہ قیدی بھی رہا اور آزاد ہوگئے ہوں گے۔ کیا اُس وقت کے کسی قوم کے جنگی اُصولوں میں قیدیوں کی سزا کا غلامی اور قتل کے سوا کوئی تیسرا رُخ تھا؟ جہاں تک غلام اور لونڈی بنانے کی بات ہے تو اُس کے رموزو اسرار کو بھی اچھی طرح سمجھنا چاہئے کہ پہلے قیدیوں کے تبادلہ کا کوئی تصور نہ تھا اس لیے اضطراراً اسلام نے غلامی کا حکم نہیں بلکہ اُس کی اجازت دی اوراسلام میں چونکہ عورتوں سے قتال جائز نہیں اور جنگوں میں بسا اوقات مرد سب کے سب مقتول ہوجاتے تھے اور اُن کی عورتیں بے سہارا اور بے یارومددگار ہوجاتی تھیں اس لئے اُن کے حق میں اس سے زیادہ مناسب کوئی طریقہ نہ تھا کہ امیراُن عورتوں کو لشکر کے ذمہ لگادے جو اُن کی کفالت کرسکے۔
اگر اسلام کا یہی نظریہ ہوتا تو پھر جگہ جگہ غلام لونڈی کی آزادی و رہائی پر بے شمار فضائل کی خوشخبری اور اجرعظیم کا وعدہ نہ کیا جاتا اورنہ ہی اُن سے حسن سلوک کی تاکید اور غلطیوں کے نظر انداز کا حکم دیا جاتا لیکن اسلام نے مختلف حربوں سے ان کی آزادی کا سامان مہیا کیا اور معاشرہ میں اُن کو ایک مقام عطا کیا۔ یہ وہ اسباب و عوامل ہیں جن سے پوری طرح یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ تعلیم نبوی نے غلامی کا تصور نہیں بلکہ درحقیقت اُس کو ختم کیا لیکن یکبارگی نہیں بلکہ اپنے مزاج کے مطابق بتدریج یہ کام کیا۔ ایسے اشخاص کی ایک طویل فہرست ہے جو آزاد ہوکر بعد میں بڑے بڑے مناصب پر فائز ہوئے اور ایک دُنیا اُن سے سیراب ہوئی۔
اس قدر ٹھوس اور مکمل قوتِ نافذہ رکھنے والا اس دنیا کا کوئی قانون ہوسکتا ہے؟ اسلام کے علاوہ دوسرے ایوانوں میں عمل و مساوات اور انسانی اقدار کے اُوجھل نقوش ملتے بھی ہیں تو وہ حیاتِ محمدی ہی سے مستعار لئے گئے ہیں لیکن عملی میدان میں پھر بھی وہ اپاہج ہی ہیں اور اُن کے تنفیذی قوت کی سوئی صفر پر ․․․․ سیرت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ وہ روشن حقائق ہیں جو متعصب قوم اور امن و مساوات کے نام پر سفاکیت کے علمبرداروں کو دعوت فکر دیتے ہیں۔
مکمل تحریر >>

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدانِ جنگ میں


عہد نبوی سے قبل فطرت کے خلاف ہونے والی جنگوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ عرب کی غیرمتمدن قوم کی جنگ، روم و ایران کی متمدن قوموں کی جنگ۔

غیرمتمدن قوم کا طرز جنگ:
اس قوم کے نزدیک انسانی جان کی کوئی قدر و اہمیت نہ تھی، اور جنگ ان کا قومی پیشہ بن گیا تھا، ادنیٰ ادنیٰ بات پر شمشیریں بے نیام ہوجاتیں ، ایک پشت سے دوسری پشت کی طرف یہ جنگیں منتقل ہوتی رہتی تھیں، انتقامی جذبہ کی تسکین اور حرص وہوس کی تکمیل کے لیے تمام غیر انسانی سلوک روا رکھے جاتے بدعہدی، لاشوں کی بے حرمتی، ناک کان کاٹ کر اس کا ہار پہننا، دشمنوں کی کھوپڑیوں میں شراب پینے کی نذر ماننا، ان کو نذر آتش کردینا، قیدیوں کے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک کرنا اور قتل کرادینا بلکہ انسانیت کے تمام حدود کو پار کرکے سنگدلی و درندگی کے اس چوراہے پر پہنچ گئے تھے کہ انسانی کلیجے چباڈالتے تھے اوراس سب پر طرہ یہ کہ اس کو فخر وشجاعت کا ذریعہ سمجھتے۔ اس طرح کی خونی داستان سے دور جاہلیت کی پوری شاعری بھری پڑی ہے جو اہل عرب کے نزدیک تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔

متمدن قوم کا نظریہٴ جنگ:
اس طرح کی صورت حال تو عرب جیسے اجڈ اور ان پڑھ قوم کی تھی لیکن جو قوم مہذب ومتمدن کہلاتی تھی اس کا جنگی رویہ بھی ان سے کچھ زیادہ مختلف نہ تھا، ان کے شب و روز بھی ظلم و بربریت کی خونی داستان سے رنگین تھے، جنگ کے حوالہ سے کوئی اصول وقانون نہ تھا، زمین کے جس حصہ پر وہ چڑھ آئے وہاں قیامت صغریٰ برپا کردیتے، ان کے سپہ سالار کی حیثیت حضرت اسرافیل کی سی ہوتی اور اس کا حکم ”صور“ ہوتا جنگ کا بگل بجتے ہی یکساں طور پر بوڑھوں، بچوں ، عورتوں، بیماروں، معذوروں، راہب و گوشہ نشینوں کو، فصلوں، باغات اور آبادیوں کو تہس نہس اور تہہ وبالا کردیا جاتا۔ ان کے اندر مذہبی عناد بھی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا، متبرک مقامات کی بے حرمتی بھی جنگ کا ایک حصہ تھا، عیسائی، یہودی اور مجوسی میں سے جب بھی کوئی ایک دوسرے پر غالب آتا تو اس کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکتا، ہزاروں لاکھوں جانیں ضائع ہوجاتیں، سفراء کوبھی نہیں بخشا جاتا، بدعہدی بھی ایک عام چیز تھی؛ بلکہ نوشیرواں بادشاہ جس کی عدالت مشہور تھی اس کا دامن بھی انسانی خون سے رنگین ہوئے بغیر نہ رہا۔ چنانچہ ۶۴۰/ میں اس نے شام کے دارالحکومت پر قبضہ کیا تو شہریوں کے قتل عام اور عمارتوں کے مسمار کرنے کا حکم دیا اور پوری آبادی کو قید کرکے خاکستر کردیا۔
اس مہذب قوم کے وحشیانہ کھیل اور خون تفریح کا سامان جنگی قیدی ہوا کرتے تھے، پہلے تو ان قیدیوں کو زنجیروں میں جکڑدیتے پھر اذیت ناک سلوک کرکے موت کے گھاٹ اتاردیا جاتا۔یہی وجہ ہے کہ ۶۱۱/ میں جب ہرقل کی بیوی کے جنازے میں جاتے ہوئے ایک لونڈی نے زمین پر تھوک دیا تو اسے اس ناقابل معافی گستاخی میں اپنی جان دے کر اس کی قیمت چکانی پڑی، اسی طرح جب قیصر روم شکست کھاکر ایران کا قیدی بنا تو اس کی پوری زندگی غلامی میں گزری اور مرنے کے بعد اس کی کھال کھینچواکر بھس بھروادیاگیا۔ (اخلاق رسول۲/۸۲)۔
اور لطیفہ کی بات تو یہ ہے کہ یہ سارا ڈرامہ کسی اہم مقصد کے تحت اسٹیج نہیں دیا جاتا بلکہ صرف شہرت و ناموری کے حصول اور شاہانہ ہیبت و جلال کے اظہار کے لیے ہوتا تھا۔

اسلامی جنگ کے اصول وضوابط:
جنگ کے سلسلے میں حضور نے اولاً گذشتہ جنگی طریقوں کی اصلاح کی، اس کے بعد اس کے لیے ایسے پاکیزہ اصول طے کیے کہ یہی جنگ جس کا نام سنتے ہی روح کانپ اٹھتی تھی اور مفتوح قوم کھلی آنکھوں موت کا مشاہدہ کرنے لگتی تھی، انسانیت کی بے راہ روی اور اخلاقی، جانی اور مادی تحفظ کا ذریعہ بن گئی، اولاً صلح وامن سے کام لینے کی تاکید کی گئی اور انتہائی ناگفتہ بہ حالات میں سخت شرائط کے ساتھ تلوار اٹھانے کی اجازت دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ اور آپ کے ساتھی مسلسل تیرہ سال ظلم و ستم کی چکی میں پستے رہے اور بغیر کسی جرم وخطا کے ان کو ان کے گھروں سے نکال کر جلاوطن کردیاگیا، لیکن جلاوطنی کے بعد بھی تعاقب جاری رہا تو انھیں جنگ کی اجازت دی گئی، لیکن اجازت اس طرح کہ امیر جیش کے حکم کے بغیر صف سے نکلنا بھی گوارہ نہ تھا، ناحق خون بہانے کی قطعاً اجازت نہیں دی گئی؛ بلکہ جو بالمقابل ہے اسی سے لڑو، لاشوں کو مثلہ نہ کرو، شب خون نہ مارو، اذیت دے کر قتل نہ کرو، راہبوں، گوشہ نشینوں، معذوروں، عورتوں، بچوں بوڑھوں کو نہ چھیڑو، عمارت نہ ڈھاؤ، پھلدار درخت نہ کاٹو، جو لوگ تمہارے قیدی بن جائیں ان سے حسن سلوک کا معاملہ کرو، ان کو کھانا کھلاؤ اور لباس کا خیال رکھو۔ قرآن نے قیدیوں کے کھانا کھلانے کو بہترین عمل قرار دیا ہے۔ پھر ارشاد ہوا آبادی کو نہ اجاڑو یہاں تک کہ فخر و غرور سے پُرنعرے بازی سے بھی حضور نے منع فرمایا۔
ان اصول اور طریقہ کار کو آپ اور آپ کے جاں نثار ساتھیوں نے عملی جامہ پہناکر غیرمسلم قوم کے ظالمانہ جنگی طریقوں کی تمام راہیں مسدود کردیں، ان اصول و ضوابط سے انسانی جان کی غیرمعمولی قدر واہمیت اور اس کے احترام کا پتہ چلتا ہے۔
مکمل تحریر >>

مدینہ کی شہری ریاست

موجودہ دو رمیں شہری حکومت کے مقاصد کچھ اس طرح ہوتے ہیں :

۱- شہر کی گلیوں اور شاہ راہوں کابندوبست ، مارکیٹوں کی تعمیر ، رہائشی انتظامات ۔
۲- پینے کے پانی کی فراہمی اور تقسیم ۔
۳- گندے پانی کی نکاسی ، کوڑے کرکٹ کے پھینکوانے کا بندوبست ۔
۴- تعلیم ، علاج ، دیگر فلاحی ادارں ، کھیل کے میدانوں کا قیام ۔
۵- چمن بندی اور شہر کی خوبصورتی اور تفریح گاہوں کا انتظام ۔
۶- ان کاموں کے لیے مالی وسائل اور کاموں کا احتساب ۔

حضور پاک صلى الله عليه وسلم کی احادیث سے ہمیں بلدیاتی نظام کے بہت سے اصول ملتے ہیں ،جہاں تک محکمہٴ احتساب کا تعلق ہے ، فارابی ، ماوردی اور اور طوسی اسی کی موافقت میں ہیں ؛ماوردی نے محکمہ ٴ احتساب کی خصوصیات کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ محکمہٴ انصاف او رمحکمہٴ پولیس کے درمیان ایک محکمہ ہے ، محتسب کا فریضہ یہ ہے کہ اچھے کام جاری کرے اور برے کاموں کو روکے ۔
بلدیاتی نظام میں سب سے اہم سڑکوں ، پلوں کی تعمیراور دیکھ بھال کے علاوہ نئی شاہ راہوں کی تعمیر اور آئندہ کے لیے ان کی منصوبہ بندی کا کام ہوتاہے ۔بعض لوگ ذاتی اغراض کے لیے سڑکوں کو گھیر لیتے ہیں ، بعض مستقل طورپر دیواریں کھڑ ی کر لیتے ہیں ، فقہِ اسلامی میں اس کے بارے میں واضح احکام ملتے ہیں؛ صحیح مسلم کی ایک روایت ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضى الله عنه کہتے ہیں کہ ”اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: جب تم راستے میں اختلاف کرو تو اس کی چوڑائی سات ہاتھ ہوگی ، اس سے کم گلی بھی نہیں ہوسکتی ۔ “(صحیح مسلم)
حضور اکرم صلى الله عليه وسلم نے سڑکوں پر گندگی ڈالنے سے روکا ہے ، آپ صلى الله عليه وسلم نے سڑکوں پر سے رکاوٹ کی چھوٹی موٹی چیز کو ہٹا دینے کو صدقہ قرار دیا ہے ، سڑکوں پر سایہ دا ر درخت لگانے کا حکم ہے ۔ ابوللیث سمر قندی رحمة الله عليه اپنے ایک فتویٰ میں لکھتے ہیں کہ ”کسی سمجھ دار آدمی کے لیے یہ بات زیبا نہیں کہ وہ راستہ پر تھوکے یاناک صاف کرے ،یاکوئی ایساکام کرے، جس سے سڑک پر پیدل چلنے والے کے پا وٴں خراب ہوجائیں ، اسلام کا قانون حق آسائش اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ سڑک پر کوئی عمارت بنائی جائے “
سڑکوں پر بیٹھ کر باتیں کرنے اور راستہ میں رکاوٹ کھڑی کرنے سے آپ صلى الله عليه وسلم نے منع کیا ہے ، آپ صلى الله عليه وسلم نے جانوروں تک کے لیے راستہ کی آزادی برقرار رکھی ہے ،
قبل از اسلام مدینہ کی گلیوں میں گندے پانی کی نکاسی کا انتظام نہ تھا ، بیت الخلاء کااس زمانہ میں رواج نہ تھا؛ لیکن مسلمانوں کی آمد کی وجہ سے جب شہروں کی آبادی بڑھنے لگی تو پھر ان مسائل کا حل تلاش کیا گیا ۔شہر میں پینے کے پانی کی بہم رسائی کا سرکاری طورپر انتظام کیاگیا، مدینہ میں پینے کے لیے میٹھے پانی کے کنوئیں اورچشمے بمشکل دستیاب ہوئے ۔ حضرت عثمان رضى الله عنه نے جوخود بھی مدینہ کی نوآبادی میں رہتے تھے ،آن حضور صلى الله عليه وسلم کے حکم کے مطابق اہلِ مدینہ کے لیے یہودیوں سے میٹھے پانی کا کنواں بئرروماں خرید کر وقف کردیا ۔ (صحیح بخاری باب فضائل )
اسلام جسم و جان کی پاکیزگی او رظاہر و باطن کی صفائی پر بہت زیادہ زور دیتاہے ، وضو ، طہارت ، غسل کے احکامات اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں ۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے مسجدیں بناکر وہاں طہارت خانہ تعمیر کر نے کی ہدایت جاری کی ، اسلام کے عمومی مزاج اور آپ صلى الله عليه وسلم کے اس فرمان کے بعد گھر گھر غسل خانے بن گئے ۔ ہرمسجد کے ساتھ طہارت خانہ تعمیر کیے گئے ۔(ابن ماجہ)
ہجرت سے قبل مدینہ میں ناجائز تصرفات عام تھے ، رسول اکرم صلى الله عليه وسلم نے اسے سختی سے منع فرمادیا ، گلی یا کوچہ کی کم سے کم چوڑائی جھگڑا ہوجانے کی صورت میں سات ہاتھ ”ذراع“ مقرر کی گئی۔ (صحیح مسلم ) جوفِ مدینہ کی آبادیوں میں گلیاں عام طور پر تنگ ہوتی تھیں ، اس لیے مدینہ میں بھی کوچہ تنگ، مگر سیدھے تھے ، باوجود یہ کہ آپ صلى الله عليه وسلم کا اور دیگر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مکانات مختصر تھے، مگرعام طورپر آپ صلى الله عليه وسلم نے کشادہ مکانات کوپسند کیا اور فرمایا ”خوش بخت ہے وہ شخص جس کی جائے رہائش وسیع اور پڑوسی نیک ہوں“(امام بخاری ۔ باب ادب المفرد)

حفظانِ صحت کا خیال رکھنا اسلامی زندگی کا بنیادی نظریہ ہے ، صفائی اورپاکیزگی کو اسلام نے نصف ایمان کا درجہ دیاہے ، گھر، گھر کے باہرکا ہر مقام، اپنے جسم ، اپنے کپڑوں کی پاکی کاحکم بار بار آیا ہے، مسجدوں کو پاکیزگی کے نمونے کے طورپر پیش کیا گیا ہے، سرکاری عمارتوں کو پاک صاف رکھنے کا حکم دیا گیا ہے ، احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ بعض بدوی مسجدبنوی کی دیواروں پر تھوک دیتے تواللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم اپنے ہاتھوں سے اس جگہ کوصاف کرتے تھے، وضو اور غسل کا نظام ، غلاظت سے صفائی کے احکام ، چوپال ، کھلیانوں کی جگہ ، دریاؤں کے کنارے اور تفریح کے مقامات کو پاک صاف رکھنا حفظانِ صحت کے اصول کے مطابق بھی ہے اور اس میں شائستگی کا اظہار بھی ہے۔

حفظانِ صحت ہی کے اصول کے تحت بلدیاتی نظام میں کھانے پینے کی چیزوں کے خالص بونے پر زور دیاگیا ہے ، ملاوٹ کر نے والوں کے لیے سخت سزائیں اور عذاب کی وعید ہے ، پینے کے پانی کوصاف رکھنے اور گندے پانی کی نکاسی کے احکام بھی اسی عنوان کے تحت آتے ہیں ، اسی عنوان سے متعلق بیماریوں کے علاج کی سہولتیں بھی ہیں، ان میں وباوٴں کے خلاف حفاظتی تدابیر اور ہر وقت ان کے انسداد کی ذمہ داری شہری حکومت پر ہے ۔

سایہ ، چمن بندی ، عوامی تفریح گاہوں کا انتظام بھی عین اسلامی تعلیم کے مطابق ہے ، مثلاً سورئہ عبس میں ارشاد ربانی ہے کہ” ہم نے زمین سے اناج اگایا اور انگور اور ترکاری اور زیتون اور کھجوریں اور گھنے گھنے باغ اور میوے اور چارا ،یہ سب کچھ تمہاے اور تمہارے چوپایوں کے لیے بنایا ہے “(سور ئہ عبس آیت : ۳۲۔۲۷)

ہجرت کے وقت مدینہ باغوں کی سرزمین کہلاتا تھا ، اور یہاں کے لوگ باغات کے بہت شوقین تھے، رسول صلى الله عليه وسلم نے شہر اورمسجد کی تعمیر کے وقت یہ کوشش کی کہ وہاں موجود کھجور کے درختوں کو کم سے کم نقصان پہنچے، مسجد النبی صلى الله عليه وسلمکے دروازہ کے قریب کھجور کے درختوں کا ذکر کتب احادیث میں ملتا ہے ، جہاں غسل خانہ اور طہارت خانہ بھی تھا اور کنواں بھی اسی جگہ تھا ، مسجد النبی صلى الله عليه وسلم کے بڑے دروازہ کے بالمقابل حضر ت ابو طلحہ انصاری رضى الله عنه کا وسیع و شاداب باغ بیر حاء تھا ، جہاں حضورپاک صلى الله عليه وسلم اکثر تشریف لے جاتے ۔( صحیح بخاری ، نسائی ، ابن ماجہ )

مدینہ میں نکاسیِ آب کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں آیا؛ کیوں کہ شہر اونچی ڈھلوانی جگہ پر تھا ، اکثر کہیں سے کوئی پہاڑ ی ندی ، نالہ گذر تا تھا تو وہاں باندھ کے ذریعہ عمارات اور تعمیرات کو محفوظ بنادیاگیا تھا ۔

ہجرت کے بعد مدینہ میں خرید و فروخت کی سہولت کے لیے علاحدہ منڈی یابازار بنادیا گیا، خیال یہ ہے کہ یہ منڈی بنو قینقاع کے اخراج (۳ھء)کے بعد قائم ہوئی ہوگی؛ کیونکہ اس سے پیشتر عبد الرحمن بن عوف رضى الله عنه اوردوسرے تجارت پیشہ مسلمان اپنا کاروبار قینقاع کے بازار میں کرتے تھے ۔ (صحیح مسلم )

مدینے کا بازار مسجد النبی صلى الله عليه وسلم سے کچھ زیادہ فاصلہ پر نہ تھا ، بازار خاصہ وسیع و عریض تھا اور آخر عہد بنوی میں نہایت بارونق اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا تھا ، تجارت کے فروغ کے لیے جناب رسالت مآب صلى الله عليه وسلم نے زبردست کوششیں کی،جن میں سب سے اہم آپ صلى الله عليه وسلم کا یہ فرمان تھا۔ ”مدینہ کی منڈی میں کوئی خراج نہیں ہے “(فتوح البلدان، بلاذری )

زمانہٴ جاہلیت میں خفارہ کا نظام اور قدم قدم پر محصول چنگی کی وجہ سے تجات میں بڑ ی رکاوٹیں تھیں ، آپ صلى الله عليه وسلم نے مختلف سیاسی اور عسکری مصالح کے پیش نظر یہ حکم صادر فرمایا جو دور رس نتائج کاسبب تھا ، اور دراصل اس طرح آپ صلى الله عليه وسلم نے چنگی کی لعنت ہی ختم نہ کی؛ بلکہ جزیرة العرب کی تسخیر کے بعد تمام ملک میں ، مدینہ کی طرح آزادانہ درآمدات او ر برآمدات کی اجازت دے کر بین الاقوامی آزاد تجارت کی داغ بیل ڈالی اور جدید تحقیقات نے اس بات کا نا قابل تردید ثبوت فراہم کردیا ہے کہ آزاد بین الاقوامی تجارت نہ صر ف اقوام و ملل کے لیے، بلکہ پوری نو عِ بشر کی مادی ترقی کے لیے ضروری ہے ، جس کے ذریعہ بین الاقوامی طورپر اشیاء کی قیمتیں متوازن رکھ کر عوام کوفائدہ پہنچایاجاسکتاہے اس طرح اقوام خوشحال بن سکتی ہیں ۔

مدینة النبی صلى الله عليه وسلم میں یہ کام اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم خود انجام دیتے تھے ۔ حضور سرورِ کائنات صلى الله عليه وسلم مدینہ کے بازاروں میں نکلتے تو جگہ جگہ رک کر ، ناپ تول کر ، پیمانہ دیکھتے ، چیزوں میں ملاوٹ کا پتہ لگاتے ، عیب دار مال کی چھان بین کرتے ، گراں فروشی سے روکتے ، استعمال کی چیزوں کی مصنوعی قلت کا انسداد کرتے ؛ اس ضمن میں سید نا حضرت عمر رضى الله عنه ، حضر ت عبیدہ بن رفاعہ رضى الله عنه ، حضرت ابو سعید خدری رضى الله عنه ، حضرت عبداللہ بن عباس رضى الله عنه ، حضرت ابوہریر ہ رضى الله عنه ،حضرت انس رضى الله عنه، حضرت ابو امامہ رضى الله عنه ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضى الله عنه، حضرت عائشہ صدیقہ رضى الله عنها ، حضرت علی رضى الله عنه اوردیگر صحابہ کرام رضى الله عنه کی بیان کردہ حدیثیں اصولوں کی تعین کرتی ہیں ۔
تحریر : اسد اللہ خاں شہیدی ،شعبہٴ دینیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
مکمل تحریر >>

حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور شہری منصونہ بندی

ہجرت کے حکم کے بعد مدینہ میں مہاجرین کاسیلاب امڈ پڑاتھا اور آخرکار مدینہ میں مقامی باشندوں کے مقابلہ میں مہاجرین کی تعداد کئی گنابڑھ گئی ۔ (صحیح بخاری ) ان نوواردوں کی آباد کاری کے متعلق حضور پاک صلى الله عليه وسلم نے شروع دن ہی سے ایک جامع منصوبہ تیار کرلیاتھا ، اس منصوبہ کی جزئیات کا گہرائی سے مطالعہ کرنے کے بعد اندازہ ہوتاہے کہ آج سے چودہ سو سال پہلے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے نوآبادی (کالونائزیشن )اور شہری منصوبہ بندی (ٹاوٴن پلاننگ ) میں عظیم انقلاب برپا کردیاتھا ، نئے بسنے والوں کی اتنی بڑی تعداد کواتنے محدود وسائل میں رہائش اور کا م کی فراہمی کوئی آسان معاملہ نہ تھا، پھر مختلف نسلوں ، طبقوں ، علاقوں اور مختلف معاشرتی و تمدنی پس منظر رکھنے والے لوگ مدینہ میں آآکر جمع ہورہے تھے ، ان سب کو سماجی لحاظ سے اس طرح جذب کرلینا کہ نہ ان میں غریب الدیاری اور بیگانگی کا احساس ابھرے ، نہ مدینہ کے ماحول میں کوئی خرابی پیداہو اور نہ قانون شکنی اور اخلاقی بے راہ روی کے رجحانات جنم لیں ... جیساکہ عام طور پرایسے حالات میں ہوتاہے ...... رسول کریم صلى الله عليه وسلم کاایسا زندہ جاوید کارنامہ ہے، جو ماہرینِ عمرانیات کے لیے خاص توجہ اور مطالعہ کامستحق ہے ، جدید شہروں میں آبادی کے دباوٴ سے پیدا ہونے والے پیچیدہ تمدنی ، سیاسی اور اخلاقی مسائل سے نمٹنے کے لیے سیرت النبی صلى الله عليه وسلم سے، ماہرین آج بھی بلاشبہ بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں ۔
دنیا کو سب سے پہلے رسالت مآب صلى الله عليه وسلم نے اس راز سے آگاہ کیاکہ محض سنگ و خِشت کی عمارات کے درمیان میں کوچہ و بازار بنا دینے کانام شہری منصوبہ نہیں؛ بلکہ ایساہم آہنگ اورصحت مند تمدنی ماحول فراہم کرنا بھی ناگزیر ہے جو جسمانی آسودگی ، روحانی بالیدگی ، دینی اطمینان اور قلبی سکون عطا کرکے اعلی انسانی اقدار کو جنم دے اور تہذیبِ انسانی کے نشو ونما کاسبب بنے۔
مدینہ کی اسلامی ریاست کے قیام کے بعد دار الخلافہ کی تعمیر کے لیے موزوں جگہ کا انتخاب اور اس غرض کے لیے وسیع قطعہ اراضی پہلے ہی حاصل کرلیا گیاتھا ، مسجد اور ازواجِ مطہرات کے لیے مکانات بن جانے کے ساتھ دار الخلافہ کی تعمیر کاپہلا مرحلہ تکمیل کوپہنچا ، دوسرے مرحلہ کا آغاز نووارد مہاجرین کی اقامت اور سکونت کے مختصر مکانات (کوارٹرز) کی تعمیر سے کیاگیا ؛ یہی وجہ تھی کہ تعمیرات کے اس دو مرحلے ومنصوبے پر ایک سال یااس سے کچھ زیادہ عرصہ لگ گیا ۔
مدینة الرسول ،ایک لحاظ سے ”مہاجربستی “ تھی ، گوسارے مہاجروہاں اقامت نہ رکھتے تھے۔ (طبقات ابن سعد ) ہوسکتا ہے جب مدینہ کی آبادی بڑھی ہوتو مکانات اور تعمیرات کاسلسلہ پھیل کر عہدِ رسالت مآب صلى الله عليه وسلم ہی میں قریب کی آبادیوں بنی ساعدہ ، بنی النجار وغیرہ سے مل گیاہو، ورنہ ریاست کی پالیسی یہ تھی کہ مدینہ کی کالونی میں صرف مہاجرین کو بسایاجائے ، عوالی میں رہنے والے بنوسلمہ نے جب مدینہ آکر آباد ہونے کی درخواست کی تو آپ نے اسے نامنظور کردیا اور انھیں اپنے قریہ ہی میں رہنے کی ہدایت کی ،ریاست کی نوآبادی اسکیم کایہ بھی ایک اہم حصہ تھا کہ اللہ کی راہ میں وطن چھوڑ کر مدینہ آنے والے لٹے پٹے ، بے سروسامان اور بے یارو مدد گار مہاجروں کے قافلوں کو جائے رہائش سرکاری طور پر فراہم کی جائے ؛ بلکہ ان نوواردوں کو سرکاری مہمان خانہ میں ٹھہرایاجاتا اور ان کے کھانے اور دیگر ضروریات کا انتظا م بھی سرکار ی طور پر کیاجا تا، بعد میں ان لوگوں کو مستقل رہائش کے لیے جگہ یامکان مہیاکرنا بھی حکومت کا فرض تھا گویا مہاجرین کے لیے روٹی ، کپڑا اور مکان کی فراہمی اسلامی حکومت کی ذمہ داری تھی ۔
مہاجرین کی عارضی رہائش کاانتظام مسجد کے اندر کیمپ لگاکریا صفہ میں کیاجاتا، اگر مہاجرین کی تعداد زیادہ ہوتی یا قافلہ پورے قبیلہ پرمشتمل ہوتا تو انھیں عموماً شہر کے باہر خیموں میں ٹھہرایاجاتا؛ تاآں کہ مستقل رہائش کا معقول انتظام نہ ہوجاتا ، آباد کاری کے دو طریقے اختیار کیے گئے اولا ًیا تو کسی ذی ثروت انصاری مسلمان کو کہہ دیاجاتا کہ وہ ایک مہاجر کی رہائش کا اپنے ہاں انتظام کرلیں؛ مگرخیال رہے کہ صرف شروع کے ایام میں ایساکیاگیاجبکہ اسلامی ریاست صحیح طرح صورت پذیر نہیں ہوئی تھی او رنہ ہی منظم تھی ۔
مہاجروں کو ٹھہرانے کے لیے عموما ًبڑے بڑے مکانات تعمیر کیے گئے تھے ۔ یہ مکانات کئی کمروں پر مشتمل تھے ، ایک کمرہ ایک خاندان کو دیاجاتا؛ البتہ ایسے مکانات میں باورچی خانہ وغیرہ مشترکہ ہوتا، اندازہ ہوتاہے کہ حضور صلى الله عليه وسلم نے مدینہ کی کالونی میں سرکاری طور پر علٰحدہ رہائش کے لیے جومکانات بنوائے وہ تین کمروں کے تھے ، (ماخوذ از ادب المفرد :امام بخاری )
عہد نبوی صلى الله عليه وسلم کے اواخر میں مدینہ کاشہر مغرب میں بطحا تک ، مشرق میں بقیع الغرقد تک ، اور شمال مشرق میں بنی ساعدہ کے مکانا ت تک پھیل چکا تھا ، رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اب وہاں مزید مکانات تعمیر کرنے سے روک دیا، شہری منصوبہ بندی کے ضمن میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اقدام زبر دست اہمیت کا حامل ہے ، اس کی اہمیت کا اندازہ وہی کرسکتے ہیں، جنھیں جدید صنعتی شہروں کے اخلاق باختہ اور انتشار انگیز معاشرہ کا قریبی مطالعہ کرنے کا موقع ملاہو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہرِ نو (مدینہ) کو ایک خاص حد سے متجاوز نہ ہونے دیا ، اور اس شہر کی زیادہ سے زیادہ حد (۵۰۰)پانچ سو ہاتھ مقرر کی ، اور فرمایا کہ شہر کی آبادی اس حد سے بڑ ھ جائے تو نیا شہر بسائیں اور آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنی زندگی میں بھی اس اصول پرعمل کرتے ہوئے دو اقدام کیے ، ایک یہ کہ اضافی آبادی کو یاتو اور زمینوں میں منتقل کرنے کا حکم جاری کیا، تاکہ اس طرح ایک طر ف زرعی انقلاب برپا کیا جاسکے اور دوسری طرف نئے لوگوں کی رہائش کے لیے گنجائش نکالی جاسکے ،دوسری طر ف یہ کہ قریظہ اور نضیر کی مفتوحہ بستیوں یاجوف مدینہ کے دیگر قریوں میں پھیلا دیا؛ تاکہ ایک جانب معاشرتی ناہمواریاں پیدا ہونے کے امکانات ختم ہوجائیں اور دوسری طرف صحت مند اور تعصبات سے پاک معاشرہ تخلیق کیا جاسکے ، اس میں مبالغہ نہیں ہے کہ رسالت مآب صلى الله عليه وسلم نے اپنے مقاصد میں حیرت انگیز کامیابی حاصل کی (نسائی ، کتاب الصلاة )
آج کل کچھ مغربی ممالک میں ٹاؤن پلاننگ کے انھیں ذریں اصولوں پر جنھیں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے چودہ سو سال پہلے آزمایاتھا، عمل کرکے معاشرتی ہیجان اور تہذیبی انتشار کی شدت کو کم کرنے میں، ایک حد تک کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں ۔
تحریر : اسد اللہ خاں شہیدی ،شعبہٴ دینیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
مکمل تحریر >>

عہدِ نبوی کا شہری نظام

مدینہ منور کی شہری ریاست دس برس کے قلیل عرصہ میں ارتقاء کی مختلف منزلیں طے کر کے ایک عظیم اسلامی ریاست بن گئی ، جس کے حدودِ حکمرانی شمال میں عراق وشام کی سر حدوں سے لے کر جنوب میں یمن وحضر موت تک ، اور مغرب میں بحرِ قلزم سے لے کر مشرق میں خلیج فارس و سلطنتِ ایران تک وسیع ہوگئیں اور علمی طور سے پورے جزیزہ نمائے عرب پراسلام کی حکمرانی قائم ہوگئی ۔

اگر چہ شروع میں اسلامی ریاست کانظم ونسق عرب قبائلی روایات پر قائم واستوار تھا تا ہم جلد ہی وہ ایک ملک گیر ریاست اور مرکزی حکومت میں تبدیل ہوگئی ، یہ عربوں کے لیے ایک بالکل نیاسیاسی تجربہ تھا؛کیونکہ قبائلی روایات اور بدوی فطرت کے مطابق وہ مختلف قبائلی ، سیاسی اکائیوں میں منقسم رہنے کے عادی تھے ، یہ سیاسی اکائیاں آزاد وخود مختار ہوتی تھیں، جوایک طرف قبائلی آزادی کے تصور کی علمبرداری تھیں تو دوسری طرف سیاسی افراتفری اور اس کے نتیجہ میں تسلسل سیاسی چپقلش ، فوجی تصادم اور علاقائی منافرت کی بھی ذمہ دار تھیں ، عربوں میں ناصرف مرکزیت کافقدان تھا؛ بلکہ وہ مرکزی اور قومی حکومت کے تصور سے بھی عاری تھے کہ یہ نظریات ان کی من مانی قبائلی آزادی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے تھے ، وہ کسی ”غیر“کی حکمرانی تسلیم ہی نہیں کرسکتے تھے ، یہ رسول اکرم صلى الله عليه وسلم کاسیاسی معجزہ ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے دشمن قبائل عرب کو ایک سیسہ پلائی ہوئی قوم میں تبدیل کردیا اور ان کی ان گنت سیاسی اکائیوں کی جگہ ایک مرکزی حکومت قائم فرمادی، جس کی اطاعت بدوی اورشہری تمام عرب باشندے کرتے تھے ، اس کا سب سے بڑا؛ بلکہ واحد سبب یہ تھا کہ اب ”قبیلہ یاخون “ کے بجائے ”اسلام یادین “معاشرہ وحکومت کی اساس تھا، اسلامی حکومت کی سیاسی آئیڈیالوجی اب اسلام اور صرف اسلام تھا، جن کو اس سیاسی نصب العین سے مکمل اتفاق نہیں تھا ان کے لیے بھی بعض اسباب سے اس ریاست کی سیاسی بالادستی تسلیم کرنی ضروری تھی ۔
ڈاکٹر حمید اللہ نے اسے پہلا تحریری دستور قرار یاہے ،وہ لکھتے ہیں :
”مدینہ میں ابھی نِراج کی کیفیت تھی اور قبائلی دور دورہ تھا ، عرب اوس اور خزرج کے بارہ قبائل میں بٹے ہوئے تھے اور یہود بنوالنضیر و بنوقریظہ وغیرہ کے دس قبائل میں تھے ، ان میں باہم کئی کئی نسلوں سے لڑائی جھگڑے چلے آرہے تھے ، اور کچھ عرب کچھ یہودیوں کے ساتھ حلیف ہوکر باقی عربوں اور ان کے حلیف یہودیوں کے حریف بنے ہوئے تھے ۔ ان میں مسلسل جنگوں سے اب دونوں تنگ آچکے تھے اور وہاں کے کچھ لوگ غیر قبائل خاص کر قریش کی جنگی امداد کی تلاش میں تھے ؛ لیکن شہر میں امن پسند طبقات کوغلبہ ہورہاتھا اور ایک بڑی جماعت اس بات کی تیاری کررہی تھی کہ عبد اللہ بن ابی بن سلول کوبادشاہ بنادیں ؛ حتی کہ بخاری اورابن ہشام وغیرہ کے مطابق اس کے تاج شہر یاری کی تیاری بھی کا ریگروں کے سپر د ہوچکی تھی ، بلاشبہ حضور صلى الله عليه وسلم نے بیعة عقبہ میں بارہ قبائل میں بارہ مسلمانوں کو اپنی طرف سے نقیب مقرر کرکے مرکزیت پیدا کرنے کی کوشش فرمائی تھی ، مگر اس سے قطع نظر وہاں کے ہر قبیلے کاالگ راج تھا ، اور وہ اپنے اپنے سائبان میں اپنے معاملات طے کیا کرتاتھا ، کوئی مرکزی شہری نظام نہ تھا ، تربیت یافتہ مبلغوں کی کوششوں سے تین سال کے اندر شہر میں کچھ لوگ مسلمان ہوچکے تھے ؛ مگر مذہب ابھی تک خانگی ادارہ تھا ، اس کی سیاسی حیثیت وہاں کچھ نہ تھی ، اور ایک ہی گھر میں مختلف مذاہب کے لوگ رہتے تھے ، ان حالات میں حضور صلى الله عليه وسلم مدینہ آتے ہیں، جہاں اس وقت اور متعدد فور ی ضرور تیں تھیں :

۱- اپنے اور مقامی باشندوں کے حقوق و فرائض کاتعین ۔
۲- مہاجرینِ مکہ کے قیام اور گزربسر کاانتظام ۔
۳- شہرکے غیر مسلم عربوں او رخاص کریہودیوں سے سمجھوتہ ۔
۴ - شہر کی سیاسی تنظیم اور فوجی مدافعت کااہتمام ۔
۵- قریشِ مکہ سے مہاجرین کوپہنچے ہوئے جانی و مالی نقصانات کابدلہ ۔

ان ہی اغراض کے مدنظر حضور صلى الله عليه وسلم نے ہجرت کرکے مدینہ آنے کے چند مہینہ بعد ہی ایک دستاویز مرتب فرمائی ،جسے اسی دستاویز میں کتاب و صحیفہ کے نام سے یاد کیا گیاہے ، جس کے معنی دستور العمل اور فرائض نامہ کے ہیں ، اصل میں یہ شہر مدینہ کو پہلی دفعہ شہری ملکیت قرار دینااور اس کے انتظام کا دستور مرتب کرنا تھا “(ڈاکٹر حمید اللہ کی بہترین تحریریں :مرتب قاسم محمود،ص :۲۵۳)

اس میثاق کے بنیادی نکات یہ تھے :

۱- آبادیوں میں امن و امامن قائم رہے گا ؛تاکہ سکون سے نئی نسل کی تربیت کی جاسکے۔
۲- مذہب اور معاش کی آزادی ہوگی ۔
۳- فتنہ وفساد کوقوت سے ختم کیاجائے گا ۔
۴- بیرو نی حملوں کا مل کر مقابلہ کیاجائے گا ۔
۵- حضورِ اکرم صلى الله عليه وسلم کی اجازت کے بغیر کوئی جنگ کے لیے نہیں نکلے گا ۔
۶- میثاق کے احکام کے بارے میں اختلاف پیدا ہو تو اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم سے رجوع کیاجائے گا۔

اس معاہدے میں مسلمانوں ، یہودیوں اور مختلف قبیلوں کے لیے ،الگ الگ دفعات مرقوم ہیں، یہ اصل میں مدینہ کی شہری مملکت کے نظم و نسق کا ابتدائی ڈھانچہ تھا، یہاں واضح طور پر یہ بات ذہن میں رہے کہ حضور اکرم صلى الله عليه وسلم یونان کی شہری ریاستوں کی طرح کوئی محدود ریاست قائم کرنا نہیں چاہتے تھے؛ بلکہ آپ صلى الله عليه وسلم نے ایک عالمگیر مملکت کی بنیاد ڈالی تھی، جو مدینہ کی چند گلیوں سے شروع ہوئی اور روزآنہ ۹۰۰ کلومیٹر کی رفتار سے پھیلتی رہی ، اس وقت دس لاکھ مربع میل کی مملکت تھی جب اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے دنیا سے پردہ فرمایا (محمد رسول اللہ صلى الله عليه وسلم : ڈاکٹر حمید اللہ )

اس عالمگیر مملکت کے تصور کو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھایا اور سو برس کے اندر اندر یہ تین براعظموں میں پھیل گئی ۔
اس میثاق یعنی صحیفہ میں بلدیاتی نظام کے تعلق سے حسب ذیل امور سامنے آتے ہیں :
۱- امن و امان کاقیام ۔
۲- تعلیم و تربیت کی سہولتیں ۔
۳- روزگار ، سکونت اور ضروریات زندگی کی فراہمی ۔

تحریر : اسد اللہ خاں شہیدی ،شعبہٴ دینیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
مکمل تحریر >>

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سماجی زندگی

حیات طیبہ کی جمال وجلال آفریں روشنی اور ضیاء بار کرنیں انسانی زندگی کے ہر شعبہ پر یکساں پڑتی ہے۔ سیاسی زندگی ہو یا معاشی زندگی، انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی زندگی، سماجی زندگی ہو یا زندگی کا کوئی اورایسا پہلو، اور پھر زندگی کے کسی بھی شعبہ کا کوئی بھی مرحلہ درپیش ہو، سیرت طیبہ کے بحر بیکراں میں اس کی ہدایت و رہنمائی کی درنایاب موجود ملتے ہیں،اس لیے کہنے والے نے درست کہا ہے: انسانی زندگی اپنے حقیقی روپ میں سماج کے اندر ہی جلوہ فگن ہوتی ہے۔ رسول کریم صلى الله عليه وسلم کی پاکیزہ زندگی انسانی سماج کے لیے بیش بہا متاع گراں مایہ ہے، بہتر انسانی سماج کی تشکیل اور ہر فرد سماج کی فلاح و بہبود حیات طیبہ کی وہ عطر بیزی ہے جس کی خوشگوار بھینی بھینی خوشبوؤں سے انسانی چمن بارہا معطر ہوتا رہتا ہے۔
سماج افراد سے وجود میں آتا ہے اور افراد کی جان عزت اور مال و آبرو کا تحفظ اس کے وجود و بقاء کے لیے لازم ہوتا ہے، رسول کریم صلى الله عليه وسلم کی حیات طیبہ نے انسانی جان کو اتنا محترم اور قیمتی بنایا کہ ناحق کسی انسان کی جان لینے کو نہ صرف بہت بڑا گناہ بتایا، بلکہ ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے برابر قرار دیا، اوراس دروازے کو سختی سے بند کرنے کا مضبوط نظام قائم فرمایا۔ عزت و آبرو اور دوسرے کے مال پر کسی قسم کی دست درازی کو سخت تعزیری جرم قرار دے کر ہر فرد کی عزت اور مال کے تحفظ کی ضمانت فراہم فرمائی۔
رسول کریم صلى الله عليه وسلم کی سماجی زندگی ایک بہترین اور مکمل انسان کی زندگی ہے، جس کے اخلاق فاضلہ کی روشنی سے ہر دور کے انسانی سماج کو منور کیا جاسکتاہے، رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں میں کامل ایمان اس کاہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔“ آپ صلى الله عليه وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ ”انسان حسن اخلاق سے وہ درجہ پاسکتا ہے جو دن بھر روزہ رکھنے اور رات بھر نماز پڑھنے سے ملتا ہے“ اخلاق کو اتنی اہمیت اس لیے دی گئی کہ انسانی سماج کی بہتر تشکیل اخلاقی خوبیوں کی بنیاد پر ہی ہوتی ہے، خود آپ صلى الله عليه وسلم کی حیات طیبہ اخلاق کے بلند مقام پر تھی، قرآن نے کہا: ”اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ“ بے شک آپ اخلاق کے بڑے درجے پر ہیں۔
مساوات و برابری اور عدل وانصاف بہتر انسانی سماج کی تشکیل کیلئے ضروری ہیں۔رسول صلى الله عليه وسلم کی حیات طیبہ میں مساوات اور انصاف کی روشن مثالیں ملتی ہیں۔ ایک مرتبہ قریش کی ایک خاتون چوری کے جرم میں پکڑی گئی، بعض عزیز ترین صحابہ نے اس کی سفارش کرنا چاہی تو آپ صلى الله عليه وسلم نے ان کی نہ سنی، اور فرمایا: ”تم سے پہلے کی قومیں اس لیے تباہ ہوئیں کہ جب ان میں معمولی لوگ گناہ کرتے تھے تو ان کو سزا دی جاتی تھی اور جب بڑے لوگ کرتے تو ان کا جرم نظر انداز کردیاجاتا تھا۔“
مظلوموں کو مدد اور محتاجوں کی اعانت آپ صلى الله عليه وسلم کا شیوہ رہا ہے، مکہ مکرمہ کی زندگی میں جب ایک مظلوم نے مدد کے لیے خانہٴ کعبہ کے پاس فریاد کی تواس کی مدد کے لیے چند دیگر افراد کے ساتھ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم بھی کھڑے ہوئے، عبداللہ بن جدعان کے گھر میں انھوں نے باہم مشورہ کرکے ایک جماعت بنائی اور یہ عہد کیا کہ مکہ میں جس شخص پر بھی ظلم کیا جائے گا ہم سب اس مظلوم کی مدد کریں گے۔ یہ معاہدہ تاریخ میں ”حَلَفُ الْفُضُول“ کے نام سے سنہرے حروف میں لکھا گیا ہے۔ ظلم کے خلاف متحد ہوکر آواز بلند کرنا اورمظلوم کو اس کاحق دلانا رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو اس قدر محبوب تھا کہ مدنی زندگی میں بھی ایک بار آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: کہ اگر مجھے آج بھی خلف الفضول میں بلایا جائے تو میں اسے قبول کروں گا۔
سماج کے کمزور افراد کی خبرگیری اور مدد آپ صلى الله عليه وسلم کی حیات طیبہ کی روشن مثالیں ہیں۔ ایک صحابی حضرت خباب رضي الله تعالى عنه کسی لشکر میں گئے ہوئے تھے، ان کے گھر میں کوئی دوسرا مرد نہ تھا، اور عورتوں کو دودھ دوہنا نہیں آتا تھا، آپ صلى الله عليه وسلم روزانہ ان کے گھر جاکر دودھ دوہ آتے تھے، دوسروں کے کام کردینا آپ صلى الله عليه وسلم کو اس قدر محبوب تھا کہ ایک دفعہ نماز کے لیے جماعت کھڑی ہوچکی تھی، اسی دوران ایک بدو نے آپ صلى الله عليه وسلم کا دامن پکڑ کر کہا میرا تھوڑا ساکام رہ گیا ہے، آپ پہلے اسے کردیجئے۔ آپ صلى الله عليه وسلم چپ چاپ اس کے ساتھ ہولیے، اوراس کا کام پورا کرنے کے بعد نماز کے لیے تشریف لائے۔
مکہ میں ایک بار قحط پڑگیا۔ اہل مکہ جو مسلمانان مدینہ کے جانی دشمن بنے ہوئے تھے، رسول کریم صلى الله عليه وسلم نے ان کے ساتھ انسانی حسن سلوک کا اعلیٰ نمونہ قائم کرتے ہوئے مسلمانوں کی غربت وتنگدستی کے عالم میں بھی پانچ سو دینار جمع کرکے سرداران مکہ کو بھیجے کہ وہ قحط کے شکار لوگوں کی مدد کرسکیں۔
رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی زندگی پرنظر ڈالی جائے تو وہ ایک عام انسان کی طرح روزمرہ کے کاموں اورہر دکھ درد میں شریک نظر آتے ہیں، کوئی دعوت دیتا تو فوراً قبول کرلیتے تھے۔ سماجی تعاون اور خوشی و غمی میں شرکت کے لیے کوئی مذہبی رکاوٹ آپ کی راہ میں حائل نہیں تھی۔ ایک یہودی خاتون کی دعوت آپ نے قبول فرمائی، اوراس کا کھانا کھایا، اسی طرح ایک یہودی لڑکا بیمارہواتو آپ صلى الله عليه وسلم اس کی مزاج پرسی کے لیے تشریف لے گئے، ایک بار نجران کے عیسائیوں کا وفد مدینہ آیا، تو آپ صلى الله عليه وسلم نے خود مہمانداری کی، اور وفد کے اراکین کو مسجد نبوی میں ٹھہرایا۔ حق و انصاف کے معاملہ میں بلا تفریق مذہب ہر انسان آپ کی نظر میں برابر تھا۔ اگرکبھی اختلاف ہوتاتو ناحق کسی مسلمان کا ساتھ نہیں دیتے تھے۔
آج جب کہ دنیا ایک عالمی گاؤں بن گئی ہے اوراس گاؤں میں مختلف مذاہب کے ماننے والے پڑوسی کی طرح رہنے لگے ہیں، سماجی زندگی کو خوشگوار بنانے کے لیے پڑوسیوں کے حقوق اور ان کے ساتھ زندگی گذارنے کے آداب انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ایک سماج کے لوگوں کے درمیان پُرامن بقائے باہم اور خوشگوار زندگی کا سب سے بہتر نمونہ اور اصول ”میثاق مدینہ“ کے نام سے ہمارے سامنے موجود ہے، رسول کریم صلى الله عليه وسلم جب مدینہ آئے تو وہاں کے مختلف قبائل اور اہل مذاہب کے ساتھ آپ صلى الله عليه وسلم نے معاہدہ فرمایا، یہی معاہدہ میثاق مدینہ ہے، اس کی دفعات کتنی مدبرانہ اور معقول ہیں، اس کا اندازہ ان کے الفاظ سے کیاجاسکتاہے۔
۱- سب لوگ ایک ہی قوم کے فرد سمجھے جائیں گے، یہودی مسلمانوں کے ساتھ ایک قوم ہے اور دونوں کو اپنے اپنے مذہب پر عمل کی آزادی ہوگی۔
۲- اگرمعاہدہ کرنے والے کسی قبیلہ پر کوئی دشمن حملہ آوار ہوگا تو تمام قبیلے ملک کر اس کا مقابلہ کریں گے۔
۳- شریک معاہدہ قبیلوں کے تعلقات خیرخواہی، نفع رسانی اور نیک اطواری پر مبنی ہوں گے، تاکہ جبر پر، اور خلاف اخلاق امور میں کوئی اعانت نہیں کی جائے گی۔
۴- یہودیوں اور مسلمانوں کو برابر حقوق حاصل ہوں گے۔
۵- مظلوم کی ہر حال میں مدد کی جائے گی۔ وغیرہ
میثاق مدینہ کی ان دفعات نے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان ایک مشترک سماج کی تشکیل کا اصول فراہم کیا ہے، اور ان خطوط پر آج کے کثیر مذہبی، کثیر تہذیبی اور کثیرلسانی سماج کی تشکیل کی جاسکتی ہے۔
مسجد نبوی میں ایک جانب ایک بدوی نے آکر پیشاب کردیا، تو آپ صلى الله عليه وسلم نے ایک بالٹی پانی منگواکراس کو صاف کردیا، دیوار پرکسی نے تھوک دیا تو اسے کھرچ کر اس کی جگہ خوشبولگادی، غذائی سامانوں میں جن چیزوں کو کھانے سے منع کیاگیا اس کی بنیاد اسی بات پر تو رکھی گئی ہے کہ وہ خبیث و گندگی ہیں، اور انسانی جسم و صحت کے لیے مضر ہیں۔ قرآن میں ہے: ”ویحل لہم الطیبات ویحرم علیہم الخبائث“ یعنی لوگوں کے لیے اچھی وطیب چیزوں کو حلال اور گندی اور خراب چیزوں کو حرام قرار دیا۔ شہری زندگی کے نوع بہ نوع سماجی مسائل اور ماحولیات سے متعلق سوالات کا بہترین حل اورجواب ہمیں کہیں مثالوں کی صورت میں اور کبھی اصولوں کی شکل میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی حیات طیبہ میں جگہ جگہ نظر آتاہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان تو وہ ہے جس کے ہاتھ اور جس کی زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔
اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے اپنے رب کے سامنے جواب دہی کے احساس کومحرک بنایاگیا ہے۔ ارشاد ہوا کہ تم میں ہر شخص ذمہ دار ہے، اور ہر شخص سے اسکی مفوضہ ذمہ داریوں اوراس کے ماتحتوں کے بارے میں دریافت کیا جائے گا۔ احساس ذمہ داری اور احساس جوابدہی کا یہ تصور رشوت کے دروازے کو بند کردیتاہے، سماجی زندگی میں آج کچھ سماجی لعنتیں گھس گئی ہیں، جس میں خواندگی زندگی سے تعلق رکھنے والے مسائل میں طلاق کی بڑھتی شرح اور جہیز و تلک کی مانگ سرفہرست ہیں۔
سماج میں باہمی اعتماد، تعاون اور باہمی محبت کا فروغ سماج کی بنیادوں کو مضبوط کرتاہے۔ ایسی مضبوطی کے لیے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے خاصا اہتمام فرمایا ہے، بڑی تفصیل کے ساتھ ہدایت دی گئی ہے کہ کسی کے پیٹھ پیچھے اس کی برائی نہ کی جائے، کسی کی ٹوہ اور تجسس میں نہ پڑا جائے، کسی کو مدد کے موقع پر بے یارومددگار نہ چھوڑا جائے، کسی کو برے نام اور برے لقب سے نہ پکارا جائے، کسی کے بارے میں بدگمانی نہ رکھی جائے، ہر انسان سے محبت کی جائے، اس کے تئیں حسن ظن رکھاجائے، باہمی محبت کو بڑھاوا دینے کا بہترین نسخہ ہے آپ صلى الله عليه وسلم نے یہ بتایا کہ ایک دوسرے کو تحفے تحائف دئیے جائیں، سلام کو رواج دیا جائے، اس سے محبت بڑھتی ہے۔ باہمی مدد اور تعاون کا درجہ اتنا اونچا کیاگیا کہ فرمایاگیا جب تک انسان اپنے کسی بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس انسان کی مدد کرتا رہتا ہے
تحریر :محمد عمر گوتم، ڈائریکٹر مرکز المعارف، جامعہ نگر نئی دہلی
مکمل تحریر >>

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی آئلی زندگی

کسی بھی انسان کے اخلاق کی سب سے بڑی آزمائش کی جگہ خود اس کا گھر ہے گھر کے لوگوں سے صبح و شام اور شب و روز کا سابقہ پڑتا ہے گھر کے ماحول میں انسان اپنا ”حقیقی مزاج“ چھپا نہیں سکتا، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سب سے بہتر اخلاق اس کے ہیں جو اپنے اہل و عیال کے ساتھ بہتر اخلاق رکھتا ہو۔“
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی خارجی زندگی کی ذمہ داریاں اتنی متنوع اور وسیع تر تھیں کہ ان کے ساتھ اپنے اہل خانہ اور افراد خاندان کے لیے وقت نکالنا اور ان کے حقوق کی رعایت کرنا، آج کے زمانہ کو دیکھتے ہوئے۔ ایک مشکل ترین بات تھی لیکن حیات مبارکہ کے مطالعہ سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ازواج مطہرات ہوں یا اولاد، خدام ہوں یا اقربا متعلقین ہوں یا احباب، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ایک کے حقوق کی رعایت فرماتے اور زندگی کے کسی بھی موڑ پر آپ اس سے غافل نظر نہیں آتے۔ ہر آن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حقوق کی فکر دامن گیر رہتی، ایسا بھی نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ماتحت افراد کے لیے تندخو اور سخت گیر سرپرست کی حیثیت رکھتے ہوں بلکہ بیویوں کے حق میں ایک محبت کرنے والے شوہر، اولاد کے حق میں ایک شفیق ومہربان باپ اور خدام کے حق میں ایک فراخ چشم اور حلیم و بردبار آقا کی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر ابھرتی ہے.
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جملہ گیارہ شادیاں کیں اور بیک وقت نوبیویاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب مدینہ میں ہوتے تو عصر کی نماز کے بعد تمام ازواج کے پاس جاتے اور ہر ایک کی ضرورت معلوم کرتے اوراس کی تکمیل فرماتے، ازواج کے مابین شب باشی کی باری متعین ہوتی، گو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کی پابندی شرعاً لازم نہیں تھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہ طور خود پوری سختی کے ساتھ اس کا اہتمام کرتے۔ ایک مرتبہ حضرت حفصہ نے اپنی باری کا دن حضرت عائشہ کو ہبہ کردیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم معمول اور باری کے مطابق حضرت حفصہ کے گھر تشریف لے گئے تو دیکھا کہ حضرت عائشہ موجود ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہاں؟ یہ حفصہ کی باری ہے۔ حضرت عائشہ نے کہا: یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔ ازواج کے مابین انصاف کا خیال اور اس سلسلہ میں عند اللہ جواب دہی کا احساس اتنا شدید تھا کہ اللہ رب العزت سے دعا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب سفر پر روانہ ہوتے تو ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کرتے جس کا نام قرعہ میں نکل آتا ان کو ساتھ لے جاتے۔
آپ کی عائلی زندگی بھی اسلام کے اس مزاج و مذاق کی آئینہ دار ہے ایک مرتبہ مسجد نبوی میں عیدالفطر کے موقع سے چند حبشی نوجوان نیزوں سے کھیل رہے تھے،حضرت عائشہ کہتی ہیں میں نے دیکھنے کی خواہش کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے کھڑے ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مونڈھے اور گردن کے درمیان سے میں کھیل دیکھتی رہی۔
حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ہم دونوں ایک ہی برتن سے غسل کرتے اور پانی لینے میں چھینا جھپٹی بھی ہوتی، کبھی دوڑ کا مقابلہ بھی ہوتا۔ ایک مرتبہ دوڑ کا مقابلہ ہوا، حضرت عائشہ دبلی پتلی تھیں، آگے بڑھ گئیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے رہ گئے۔ پھر کچھ زمانے کے بعد یہی مقابلہ ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سبقت حاصل کی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اس کا بدلہ ہوگیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک تھا کہ گھر میں داخل ہوتے تو آپ پہلے سلام کرتے اور ایسا انداز ہوتا کہ سونے والے بیدار نہ ہوں اور جو بیدار ہوں سلام کی آواز سن لیں اگر گھر میں کوئی چھوٹا موٹا کام ہوتا تو خود انجام دے لیتے۔ حضرت اسود سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ سے پوچھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں آکر کیا کرتے تھے؟ انھوں نے فرمایا: اپنے گھر والوں کی خدمت یعنی گھریلو زندگی میں حصہ لیتے تھے اور گھر کا کام بھی کرتے تھے مثلاً بکری کا دودھ دوھ لینا، اپنے نعلین مبارک سی لینا۔ (زاد المعاد)
گھر میں جو کھانا تیار ہوتا حاضر کردیا جاتا آپ کی مرغوب اور پسندیدہ شئی ہوتی تو تناول فرماتے ورنہ خاموشی اختیار کرتے، لیکن کھانے میں کوئی عیب نہیں لگاتے، دن کے کھانے کے بعد تھوڑی دیر قیلولہ کرتے، رات میں عشاء کی نماز کے بعد غیرضروری جاگنے کو بالکل ناپسند کرتے، آپ کا بستر بالکل معمولی ہوتا بسا اوقات چمڑے کا بستر ہوتا اور اس میں کھجور کی چھال بھری ہوتی اور کبھی چمڑا ہوتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی پر آرام فرماتے۔
آپ کو بچوں سے بہت محبت تھی، راستہ میں بچے کھیلتے ہوئے مل جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو سلام کرتے۔ گھر میں بچوں کے ساتھ خوش مزاجی سے پیش آتے، ان کو کاندھے پر بٹھاتے، گود میں لیتے، پیار کرتے، چومتے۔ معلوم ہوا کہ مزاج میں اتنی سختی نہ ہونی چاہیے کہ بچے دیکھتے ہی سہم جائیں اور چھپنے لگیں۔ حضرت اسامہ بن زید کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ کسی ضرورت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی۔ میں نے محسوس کیا آپ کچھ اٹھائے ہوئے ہیں میں نے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھیلی کھولی، اس میں حضرت حسن اور حسین تھے آپ نے فرمایا یہ دونوں میرے بیٹے ہیں اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں اے اللہ ! ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت فرما اوراس شخص سے بھی جو ان دونوں سے محبت رکھے۔
خادموں کے ساتھ شب و روز اور ہروقت کا ساتھ ہوتا ہے کوتاہی، لغزش، بھول چوک انسانی فطرت ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص حضرت انس بن مالک کا بیان ہے کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال خدمت کی، لیکن کبھی اُف تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں کہا۔ اور نہ کبھی یہ کہا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا اور جس کام کو میں نہیں کرتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ نہیں فرماتے کہ تونے یہ کام کیوں نہیں کیا۔ دس سال کی رفاقت کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ”اف“ تک نہیں کہا، یہ تحمل و بردباری اور شفقت کی ایک مثال ہے۔

ایک کامل اور مکمل انسانی زندگی کی بنیادی شناخت یہ ہے کہ دنیا میں چھوٹے بڑے، حاکم و محکوم، دوست و دشمن، اپنے اور پرائے، امیر وغریب، ہرسطح اور ہرطبقہ کے لوگوں سے جہاں اس کے تعلقات روشنی میں ہوں اور لوگوں کے لیے مشعل راہ کا درجہ رکھتے ہوں، وہیں اپنی ازواج، خدام، اولاد، متعلقین اور اقرباء و رشتہ داروں میں بھی وہ محبوب و مقبول ہوں اور ان کے ساتھ تعلق و سلوک کے باب میں بھی اس کی زندگی اسوہ اور مثال ہو۔ اس طور پر دیکھا جائے تو پیغمبر اسلام کی زندگی اپنی مثال آپ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائلی زندگی کا جو نقشہ بنایا اور خود اس پر عمل کرکے دکھایا، حقیقت یہ ہے کہ وہ عائلی اور ازدواجی زندگی کے لیے بہترین نمونہ اور ہرطرح کی بے سکونی کا علاج اور اکسیر ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے آئینہ میں ہم اپنی گھریلو زندگی کی صحیح صورت گری کرسکتے ہیں۔
تحریر: شیر محمد امینی، مدرسہ اُبی بن کعب گھاسیڑہ، میوات
مکمل تحریر >>

غیروں کے ساتھ رسولِ اکرم ک سلوک

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سارے مسلمانوں کیلئے تونمونہٴ عمل ہے ہی، پر غیروں کیلئے بھی اس میں کچھ کم درس نہیں. چند نمونے پیش ہیں۔

زخم کھاکے بھی جس نے دعاء دی!
اُحد کا میدان ہے، لات ومنات کے پجاریوں سے جنگ ہورہی ہے، دشمنانِ خدا زمین پر اکڑ رہے ہیں، ”اللہ واحد“ کہنے والوں کا صفایا کرنے کیلئے اکٹھا ہوگئے ہیں، رسول رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے خون کے پیاسے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجودِ مسعود ان کیلئے سب سے بڑی نفرت کی چیز ہے، ایمان و کفر کی فیصلہ کن جنگ ہورہی ہے، اتنے میں ایک شقی نے سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کردیا، چہرئہ انور زخمی ہوگیا، خود کے دو حلقے رخسارِ مبارک میں گھس گئے، اور اتنے اندر اترگئے کہ حضرت ابوعبیدہ بن الجراح نے بمشکل انھیں دانتوں سے نکالا، اسی میں ان کے دانت بھی کام آگئے، چہرئہ انور سے مسلسل خون جاری تھا، درد و کرب سے بے چین تھے، اسی اثنا میں صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ سے عرض کیا: ”یارسول اللہ! کاش آپ ان بدبختوں کیلئے بددعاء فرمادیتے، تاکہ یہ اپنے کیفرِ کردار تک پہنچ جاتے“ لیکن قربان جائیے اس ذات پر کہ جس نے سب کے جواب میں ارشاد فرمایا: ”میں لعنت و بددعاء کرنے کیلئے نہیں آیاہوں؛ بلکہ راہِ راست پر بلانے کیلئے آیا ہوں اور خدا نے مجھے سراپا رحمت بناکر بھیجا ہے۔“ اس کے بعد آپ نے دعاء فرمائی: ”بارِ الٰہا! میری قوم کو بخش دے، اور ان کو راہِ راست کی ہدایت فرما؛ کیونکہ یہ مجھے جانتی نہیں۔“ (شفا،ص:۴۷) بحوالہ نقوش رسول نمبر۴/۱۷۹)

سفر میں بدسلوکی کرنے والے اعرابی کے ساتھ آپ کا سلوک
خادم دربارِ نبوت حضرت انس بن مالک کہتے ہیں کہ: میں ایک سفر میں رسول اللہ کے ہم رکاب تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر زیب تن فرمائی تھی، جس کی کورموٹی تھی، ایک اعرابی آدھمکا، اور چادر کا کنارہ پکڑکر اس زور سے جھٹکا دیا کہ چادر کی کور سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن اور شانوں پر نشان پڑگئے، آپ اس کی طرف متوجہ ہوئے تواس نے بدویانہ لہجے میں کہا: ”خدا کا دیا ہوا مال جو تیرے پاس ہے، اس میں سے میرے دونوں اونٹوں پر لاددے، اور یہ بھی سن لے! کہ جو کچھ تومجھے دے گا وہ تیرا یا تیرے باپ کا مال نہیں“
اس بدوی کی تلخ نوائی کو بھی آپ نے دامن عفو میں جگہ دی، اور خاموش رہے، اسے صرف اتنا کہا کہ: بے شک مال تو اللہ کا ہے، اور میں اس کا بندہ ہوں؛ مگر اے اعرابی! تو بتا کیا تیرے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے، جو تونے میرے ساتھ کیا ہے؟ اس نے کہا: ”نہیں“، آپ نے پوچھا: کیوں نہیں؟ اس نے بے باک ہوکر کہا: ”اس لیے کہ تو برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتا“، یہ سنتے ہی رسول اللہ کو ہنسی آگئی، اور آپ نے حکم دیا کہ : اس کے ایک اونٹ پر جو اور ایک پر کھجوریں لاد کر دیدی جائیں۔

ایک بدکلام یہودی کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سلوک
زید بن سعنہ یہودی سے کسی موقع سے آپ نے قرض لیا تھا، اور واپسی کی ایک تاریخ متعین تھی، لیکن وہ مقررہ تاریخ سے تین دن پہلے ہی قرض کا تقاضا کرنے آگیا، اور گستاخانہ انداز میں شانہٴ مبارک سے چادر کھینچتے ہوئے بدزبانی شروع کردی، کہنے لگا کہ: ”تم بنی عبدالمطلب بڑے نادہندہ اور وعدہ خلاف ہو“، اس کی بدکلامی پر برابر رسالت مآب مسکرارہے تھے، حضرت عمر وہیں موجود تھے، ان کو برداشت نہ ہوا، انھوں نے جھڑک کر اسے بے ہودہ گوئی سے روکنا چاہا، لیکن رسول اللہ نے روکا اور فرمایا: ”اے عمر! تم نے ہم دونوں سے وہ طرزِ عمل اختیار نہیں کیا جو ہونا چاہیے تھا، اور جس کی ہم کو ضرورت تھی، یعنی مناسب یہ تھا کہ تم اسے جھڑکنے کے بجائے مجھے ادائے قرض اور وعدہ وفائی کی تلقین کرتے،اور اُسے حسن طلب اور نرمی سے تقاضا کرنے کی ہدایت کرتے، یہ کہہ کر آپ نے حضرت عمر فاروق کو ارشاد فرمایا کہ: اس کا قرض ادا کردیں اوراس کو جھڑکنے کے معاوضہ میں مزید بیس صاع (ساٹھ کلو سے زائد) جَو دے دیں“!
اس طرزِ عمل، خوش خلقی، اور حسن ادا سے یہودی بہت متاثر ہوا، بالآخر وہ مسلمان ہوگیا، روایتوں میں آتا ہے کہ: وہ کہا کرتا تھا کہ نبی آخر الزماں میں مجھے ساری نشانیاں معلوم تھیں، البتہ دوباتوں کو میں نے آزمایا نہیں تھا: ایک یہ کہ آپ کاحلم آپ کے غصہ سے زیادہ ہے، دوسرے یہ کہ: ان پر جتنی سختی کی جائے اتنی ہی نرمی و مہربانی بڑھتی چلی جاتی ہے، ان دو علامتوں کو بھی میں نے بڑی وضاحت سے دیکھ لیا، اب آپ کی رسالت پر مجھے کوئی شبہ نہیں۔

زہر دینے والی عورت کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سلوک
زینب بنت حارث نامی خیبر کی ایک خاتون نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھنی ہوئی بکری پیش کی، جس میں اس نے زہر ملادیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام کھانے لگے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو ہاتھ روکنے کے لیے ارشاد فرمایا اور کہا کہ: گوشت میں زہر ملا ہوا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم زینب بنت حارث کو بلاکر پوچھا تو اس نے یہ عذر پیش کیا کہ میں نے آپ کے دعویٴ نبوت کی تصدیق کے لیے ایسا کیا ہے، اس کا غلط خیال تھا کہ پیغمبر کو زہر اثر نہیں کرتا۔
قربان جائیے آپ کی ذات والا صفات پر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جان لیوا تدبیر کرنے والی عورت کو بھی معاف کردیا، حالانکہ اسی زہر کی وجہ سے بعض صحابہ کرام وفات پاگئے، اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی زہرکا اثر ہوگیاتھا،اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے کوئی باز پرس نہ کی۔ (بخاری شریف:۱/۴۴۹)

فتح مکہ کے موقع پر دشمنوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سلوک

جب مکہ فتح ہوا تو حرم کے صحن میں قریش کے تمام سردار مفتوحانہ انداز میں کھڑے تھے۔ ان میں وہ بھی تھے جو اسلام کے مٹانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگاچکے تھے، وہ بھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایاکرتے تھے، وہ بھی تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برائی کیا کرتے تھے، وہ بھی تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتے تھے، وہ بھی تھے جو خود اس پیکر قدسی کے ساتھ گستاخیوں کا حوصلہ رکھتے تھے۔ وہ بھی تھے جنھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر پھینکے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں کانٹے بچھائے تھے وہ بھی تھے جنھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تلواریں چلائی تھیں، وہ بھی تھے جو غریب اور بے کس مسلمانوں کو ستاتے تھے ان کو جلتی ریتوں پر لٹاتے تھے۔ دہکتے شعلوں سے ان کے جسم کو داغتے تھے۔ آج یہ سب مجرم سرنگوں سامنے تھے پیچھے دس ہزار خون آشام تلواریں محمد رسول اللہ کے ایک اشارے کی منتظر تھیں، مگر قربان جائیے محمد عربی پر کہ اس نے ان تمام جرائم سے قطع نظر، جانی دشمنوں پر ہر طرح سے غلبہ کے باوجود ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا اور اپنی بلند اخلاق کا کیسا دائمی اور عالمگیری نمونہ دنیا والوں کے لئے قائم کردیا؟ اس سلسلے میں مفکر اسلام مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمة الله عليه لکھتے ہیں کہ:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے قریشیو! تمہیں کیا توقع ہے کہ اس وقت میں تمہارے ساتھ کیا کروں گا؟ انھوں نے جواب دیا ہم اچھی ہی امید رکھتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کریم النفس اور شریف بھائی ہیں اور کریم و شریف بھائی کے بیٹے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تم سے وہی کہتا ہوں جو حضرت یوسف عليه السلام نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا ”لا تثریب علیکم الیوم اذہبوا فانتم الطلقاء“ آج تم پر کوئی الزام نہیں جاؤ تم سب آزاد ہو (نبی رحمت:۴۵۷)
ابوسفیان جو عزوئہ بدر، غزوئہ احد، غزوئہ خندق وغیرہ میں لڑائیوں کا سرغنہ تھا۔ جس نے نہ جانے کتنے مسلمانوں کو تہہ تیغ کرایا، کتنی دفعہ خود حضور صلى الله عليه وسلم کے قتل کا فیصلہ کیا، جو ہر ہر قدم پر اسلام کا سخت ترین دشمن ثابت ہوا، لیکن فتح مکہ کے موقع پر جب حضرت عباسرضى الله تعالى عنه کے ساتھ آپ صلى الله عليه وسلم کے سامنے آتاتھا تو اس کا ہرجرم اس کے قتل کا مشورہ دیتا ہے۔ مگر رحمت عالم صلى الله عليه وسلم کے اخلاق کریمانہ اور عفو عام ابوسفیان سے کہتے ہیں کہ ڈر کا مقام نہیں محمد رسول اللہ صلى الله عليه وسلم انتقام کے جذبہ سے بالاتر ہیں پھر حضور صلى الله عليه وسلم نے نہ صرف اس کو معاف فرمادیا بلکہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ”من دخل دار أبی سفیان کان آمناً“ جو ابوسفیان کے گھر میں پناہ لے گا اس کو بھی امن ہے۔
بلند اخلاق کی ایسی جیتی جاگتی، دائمی اور عالم گیر مثال کیا کوئی پیش کرسکتا ہے یا دنیا نے اپنے معرض وجود کے دن سے اب تک ایسی نظیر دیکھی ہے؟ ہرگز نہیں! یہ فضل خاص ہے جو اللہ رب العزت نے آپ صلى الله عليه وسلم کو عطا کیاتھا.


یہودیوں کے ساتھ حسن سلوک:
یہودیوں کے مختلف قبائل مدینہ میں آباد تھے، نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کے مدینہ ہجرت فرماجانے کے بعد، ابتداءً یہود غیر جانب داراور خاموش رہے لیکن اس کے بعد وہ اسلام اور نبی رحمت صلى الله عليه وسلم اور مسلمانوں کے تئیں اپنی عداوت اور معاندانہ رویہ زیادہ دنوں تک نہ چھپا سکے۔ انہوں نے سرکارِ دوعالم صلى الله عليه وسلم اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی خفیہ سازشیں کیں، بغاوت کے منصوبے بنائے، آپ صلى الله عليه وسلم کے کھانے میں زہر ملایا آپ صلى الله عليه وسلم کو شہید کرنے کی تدبیریں سوچیں، اسلام اور مسلمانوں کو زَک پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا، اس کی ایک وجہ یہودیوں میں حسد، تنگ دلی، اورجمود وتعصب کا پایاجانا تھا۔ دوسرے ان کے عقائد باطلہ، اخلاق رذیلہ اور گندی سرشت تھی۔ لیکن قربان جائیے رحمت ِ عالم صلى الله عليه وسلم پر کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے ان کے ساتھ نہایت اعلیٰ اخلاق کامظاہرہ کیا۔
مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد سرکارِدوعالم صلى الله عليه وسلم نے یہودیوں کے ساتھ ایک اہم معاہدہ کیا تاکہ مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان خوش گوار تعلقات قائم ہوں، اور دونوں ایک دوسرے کے ساتھ رواداری کا برتاؤ کریں اور مشکلات میں ایک دوسرے کی مدد کریں، معاہدہ کی چند دفعات یہ تھیں۔
۱- تمام یہودیوں کو شہریت کے وہی حقوق حاصل ہوں گے جو اسلام سے پہلے انھیں حاصل تھے۔
۲- مسلمان تمام لوگوں سے دوستانہ برتاؤ رکھیں گے۔
۳- اگر کوئی مسلمان کسی یثرب والے کے ہاتھ مارا جائے تو بہ شرط منظوری ورثاء قاتل سے خوں بہا لیا جائے گا۔
۴- باشندگان مدینہ میں سے جو شخص کسی سنگین جرم کا مرتکب ہو اس کے اہل وعیال سے اس کی سزا کا کوئی تعلق نہ ہوگا۔
۵- موقع پیش آنے پر یہودی مسلمانوں کی مدد کریں گے، اور مسلمان یہودیوں کی ۔
۶- حلیفوں میں سے کوئی فریق اپنے حلیف کے ساتھ دروغ گوئی نہیں کرے گا۔
۷- مظلوموں اور ستم رسیدہ شخص کی خواہ کسی قوم سے ہو مدد کی جائے گی۔
۸- یہود پر جو بیرونی دشمن حملہ آور ہوگا تو مسلمانوں پر ان کی امداد لازمی ہوگی۔
۹- یہود کو مذہبی آزادی حاصل ہوگی۔
۱۰- مسلمانوں میں سے جو شخص ظلم یا زیادتی کرے گا تو مسلمان اسے سزادیں گے۔
۱۱- بنی عوف کے یہود ی مسلمانوں میں ہی شمار ہوں گے۔
۱۲- یہودیوں اور مسلمانوں میں جس وقت کوئی قضیہ پیش آئیگا تو اس کا فیصلہ رسول الله کریں گے۔
۱۳- یہ عہد نامہ کبھی کسی ظالم یاخاطی کی جانب داری نہیں کریگا۔ (سیرة ابن ہشام: ص:۵۰۱- تا- ۵۰۴)
آپ نے ملاحظہ فرمایا اس معاہدے میں کس فیاضی اور انصاف کے ساتھ یہودیوں کو مساویانہ حقوق دیے گئے ہیں۔
سرکاردوعالم صلى الله عليه وسلم اس معاہدے کے مطابق یہودیوں کے ساتھ برتاؤ کرتے رہے لیکن یہودیوں نے اس معاہدے کی پاس داری نہیں کی، مسلمانوں کے خلاف مشرکین مکہ کی مدد کی اور اسلام اور مسلمانوں کے ہمیشہ درپے آزار رہے۔

عیسائیوں کے ساتھ حسن سلوک:
عیسائیوں کے ساتھ بھی سرورعالم صلى الله عليه وسلم نے مثالی رواداری برتی۔ مکہ مکرمہ اور یمن کے درمیان واقع ”نجران“ کا ایک موقر وفد آپ صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلى الله عليه وسلم نے ان کو مسجد میں ٹھہرایا انھوں نے سرکاردوعالم صلى الله عليه وسلم کے ساتھ مذہبی معاملات میں گفتگو کی عیسائیوں کے ساتھ اس موقع پر ایک تاریخی معاہدہ ہوا، جس میں عیسائیوں کو مختلف حقوق دینے پر اتفاق کیاگیا ہے۔معاہدہ کی دفعات درج ذیل ہیں:
(۱) ان کی جان محفوظ رہے گی۔
( ۲) ا ن کی زمین جائداد اور مال وغیرہ ان کے قبضے میں رہے گا۔
(۳) ان کے کسی مذہبی نظام میں تبدیلی نہ کی جائے گی۔ مذہبی عہدے دار اپنے اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔
(۴) صلیبیوں اور عورتوں کو نقصان نہ پہنچایا جائے گا۔
(۵) ان کی کسی چیز پر قبضہ نہ کیاجائے گا۔
(۶) ان سے فوجی خدمت نہ لی جائے گی۔
(۷) اور نہ پیداوار کا عشر لیا جائے گا۔
(۸) ان کے ملک میں فوج نہ بھیجی جائے گی۔
(۹) ان کے معاملات اور مقدمات میں پوراانصاف کیا جائے گا۔
(۱۰) ان پر کسی قسم کا ظلم نہ ہونے پائے گا۔
(۱۱) سود خواری کی اجازت نہ ہوگی۔
(۱۲) کوئی ناکردہ گناہ کسی مجرم کے بدلے میں نہ پکڑا جائے گا۔
(۱۳) اور نہ کوئی ظالمانہ زحمت دی جائے گی۔ (دین رحمت:۲۳۹، بحوالہ: فتوح البلدان بلاذری)
مذکورہ بالا جو حقوق اسلام نے دیگر اقوام اور رعایا کو عطا کیے ہیں ان سے زیادہ حقوق تو کوئی اپنی حکومت بھی نہیں دے سکتی۔
جو غیر مسلم اسلامی حکومت میں رہتے ہیں اس کے متعلق اسلامی نقطہ ٴ نظر یہ ہے کہ وہ اللہ ورسول کی پناہ میں ہیں اسی لیے ان کو ذمی کہا جاتاہے اسلامی قانون یہ ہے کہ جو غیر مسلم (ذمی) مسلمانوں کی ذمہ داری میں ہیں ان پر کوئی ظلم ہو تو اس کی مدافعت مسلمانوں پر ایسی ہی لازم ہے جیسی خود مسلمانوں پر ظلم ہوتواس کا دفع کرنا ضروری ہے۔ (المبسوط للسرخسی:۱/۸۵)

منافقین کے ساتھ حسن سلوک:
مدینہ منورہ میں ایک طبقہ ان مفاد پرستوں کا بھی پیدا ہوگیا تھا جو زبان سے ایمان لے آیا تھا مگر دل ایمان ویقین سے یکسر خالی تھے، یہ لوگ اسلام کے بڑھتے ہوئے اثر کو دیکھ کر بظاہر مسلمانوں کے ساتھ ہوگئے تھے، مسلمانوں کے تئیں سخت کینہ، بغض اور حسد رکھتے تھے، ان کا سربراہ عبداللہ بن ابی ابن سلول تھا، یہ مدینہ کا بااثر آدمی تھا اور سرکاردوعالم صلى الله عليه وسلم کے مدینہ تشریف لانے سے پہلے مدینہ کے لوگ اس کو حکمراں بنانے کی تیاری کررہے تھے۔ حضور اکرم صلى الله عليه وسلم کی ہجرت کے بعد اس کی آرزو خاک میں مل گئی۔ اپنے کو مسلمان ظاہر کرنے کے باوجود دل سے کافر ہی رہا، منافقین نے مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کی تمام ترکوششیں کیں، نبی رحمت صلى الله عليه وسلم کی شان میں گستاخیاں کیں، کافروں اور یہودیوں سے مل کر اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے منصوبے تیار کیے،ان سب شرارتوں اور عداوتوں کے باوجود سرکاردوعالم صلى الله عليه وسلم اور مسلمانوں نے ان کے ساتھ بھی حسن اخلاق اور رواداری ہی کا معاملہ فرمایا عبداللہ بن ابی کی نماز جنازہ بھی سرکار دوعالم صلى الله عليه وسلم نے پڑھائی۔ ان کے لڑکے کی درخواست پر اپنا جبہ مبارکہ اس کے کفن کے لیے مرحمت فرمایا۔

تحریر : اشتیاق احمد قاسمی، استاذ دارالعلوم حیدرآباد
مکمل تحریر >>

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم اخلاق و کردار

عام طور پر دنیا کے دوسرے معلّمین اخلاق کے ساتھ یہ المیہ رہا ہے کہ وہ جن اخلاقی اصولوں کی تبلیغ کرتے ہیں اور جن ملکوتی صفات کو جذب کرنے پر زور دیتے ہیں خود ان کی اپنی زندگی میں ان تعلیمات کا اثر بہت کم ہوتا ہے، مگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں آپ کو کہیں بھی یہ نقص نظر نہیں آئے گا جو شخص سیرت و کردار پاک کی جتنی زیادہ گہرائی میں جائے گا وہ اسی قدر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بلند اخلاق اور پاکیزہ کردار کا مدح سرا نظر آئے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا سب سے بڑا اصول یہ تھا کہ نیکی کا کوئی کام اور ثواب کا کوئی عمل ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے اس پر عمل کرتے تھے۔ آپ جب کسی بات کا حکم دیتے تو پہلے آپ اس کو کرنے والے ہوتے۔
حضرت انس بن مالک رضي الله تعالى عنه رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی صحابی اور وفادار خادم تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو انھوں نے بہت قریب سے دیکھا تھا اور آپ کی سیرتِ مبارکہ کا بڑی گہرائی سے مشاہدہ کیا تھا۔ ان کا بیان ہے کہ میں نے پورے دس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھے اُف تک نہیں کہا اور میرے کسی کام پر یہ نہیں فرمایا کہ تم نے یہ کیوں کیا اور نہ کبھی یہ فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں نہیں کیا۔ بلاشبہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ محاسن اخلاق کے حامل تھے۔
حضرت انس رضي الله تعالى عنه سے زیادہ قریب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و کردار اور اخلاق واعمال کے مشاہدے کا موقع ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضي الله تعالى عنها کو میسر آیا تھا کیوں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفیقہٴ حیات تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر ظاہری اور خانگی معمولات و عادات سے واقف تھیں۔ ایک مرتبہ چند صحابی رضي الله تعالى عنه حضرت عائشہ صدیقہ رضي الله تعالى عنها کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے امّ المومنین ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اور معمولات بیان فرمائیے۔ تو عائشہ صدیقہ نے جواب دیا کہ کیا تم لوگوں نے قرآن نہیں پڑھا؟ کان خلق رسول القرآن ”رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن تھا“ (ابوداؤد شریف) یعنی قرآنی تعلیمات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و کردار میں رچی اور بسی ہوئی تھی۔ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ذرا بھی منحرف نہ تھے۔ خود قرآن کریم میں آپ کے بلند اخلاق و کردار کی شہادت دی گئی ہے کہ ”بیشک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق کے اعلیٰ پیمانہ پر ہیں“ (سورہ القلم آیت:۴)
رشتہ داروں میں حضرت علی رضي الله تعالى عنه جو بچپن سے جوانی تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہے تھے، وہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم طبیعت کے نرم اور اخلاق کے نیک تھے، طبیعت میں مہربانی تھی سخت مزاج نہ تھے۔ کسی کی دل شکنی نہ کرتے تھے، بلکہ دلوں پر مرہم رکھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رؤف و رحیم تھے۔ (شمائل ترمذی)

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی دنیائے بشریت کے لئے اسوئہ حسنہ اور الٰہی فیوض و ہدایات و احکام کا ایسا مفید وگہرا چشمہ ہے جو کبھی خشک ہونے والا نہیں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی نورخداوندی کا ایسا مرکز ہے جہاں تاریکی کا گذر نہیں ۔۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں پاکیزہ زندگی کے تمام پہلوؤں کی مثالیں اور نمونے موجود ہیں امن وآشتی کی جھلکیاں ہوں تو صلح ومصالحت کی بھی، دفاعی حکمت عملی کی بھی اور معتدل حالات میں پرسکون کیفیات کی بھی، اپنوں کے واسطہ کی بھی اور بے گانوں سے تعلقات کی بھی معاشرت و معاملات کی بھی اور ریاضت و عبادات کی بھی۔ عفوو کرم کی بھی اور جودوسخا کی بھی تبلیغ و تقریر کی بھی اور زجر و تحدید کی بھی ان جھلکیوں میں جاں نثاروں کے حلقے بھی ہیں اور سازشوں کے نرغے بھی ، امیدیں بھی ہیں اور اندیشے بھی گویا انسانی زندگی کے گوشوں پر محیط ایک ایسی کامل اور جامع حیات طیبہ ہے جو رہتی دنیا تک پوری انسانیت کے لئے رہبر و رہنما ہے۔

تحریر : مولانا شیر محمد امینی
مکمل تحریر >>

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکارمِ اخلاق - حدیثِ قدسی

حضرت عطاء ؓ سے ایک ایسی حدیث مروی ہے جس میں آپﷺ کے تقریباً تمام اخلاق کریمہ کو بیان کیا گیا ہے ، اور اس میں آپﷺ کے کچھ ایسے اعلیٰ اخلاق کا ذکر ہے جو قرآن کریم میں بھی مذکور ہیں چنانچہ حدیث قدسی میں ہے :
۱: یاأیّھا النبیّ اِنّا أرسلنٰک شاھداً و مبشرا ً وّنذیراً وّحرز اً اللأمّییّن :
ترجمہ: اے نبی (ﷺ) بے شک ہم نے آپ کو گواہ بنا کر بھیجا ہے ماننے والوں کو بشارت دینے والا اورنہ ماننے کو عذاب سے ڈرانے والا اور امّیوں کے پناہ دینے والا بنا کر بھیجا ہے۔
۲: انت عبدی ورسولی : آپ میرے خاص بندے اور رسول ہیں
۳: سمّیتک المتوکّل : میں نے آ پ کا نام متوکل رکھ دیا کیونکہ آپ مجھ پر توکل کرتے ہیں
۴: لیس بفظ وّ لا غلیظ: نہ آپ درشت خو ہیں اور نہ سخت دل ہیں
۵: ولا سخّاب فی الأسواق : نہ بازاروں میں شوروشغب کرنے والے ہیں
۶: ولایدفع السیّئۃ با لسیّئۃ برائی کا بدلہ کبھی برائی سے نہیں دیتے
۷: ولٰکن یّعفو ویغفر بلکہ معاف فرماتے اور درگذر کرتے ہیں
گویا آپ ﷺقرآنی حکم (اِدفع بالّتی ھی أحسن )کہ برائی کا بدلہ اچھائی کے ساتھ دیا کرو کا عملی نمونہ ہیں
۸: ولا یقبضہ اللہ حتّی ٰ یقیم بہ الملّۃ العوجاء
اللہ آپ کو اس وقت تک موت نہیں دے گا جبتک گمراہ قوم کو آپکے ذریعے سیدھے راستے پرنہ لے آئے ،یعنی جب تک یہ لو گ کلمہ لا اِلہ اِلاّ اللہ محمد رسول اللہ پڑھ کر سیدھے مسلمان نہ ہو جائیں ۔
۹: ویفتح بہ أعیناً عمیا ً: آ پ کو اس وقت تک وفا ت نہیں دے گا جب تک کافروں کی اندھی آنکھوں کو بینا نہ کر دے
۱۰: واٰذاناً صماً وقلوبا ً غُلفاً : اور بہرے کان اور پردے پڑے ہوئے دلو ں کو کھول نہ دے
اور بعض روایات میں مزید درج ذیل صفات بیان ہوئی ہیں :
۱۱: اُسدِّدُہ بکل ّ جمیل: ہر اچھی خصلت سے آپ کی درستی کرتا رہوں گا
۱۲:واَھب ُ لہ کلَّ خلق کریم: ہر اچھی خصلت آپ کو عطا کرتا رہوں گا۔
۱۳:واَجعل ُ السّکینۃ َ لباسہ وشعارہ : میں اطمینان کو آپ کا لباس اور شعار ( بدن پر جیسے کپڑے چمٹے ہوتے ہیں ) بنا دوں گا ۔
۱۴:والتقویٰ ضمیرہ: پرہیز گاری کو آپ کا ضمیر یعنی دل بنا دوں گا ۔
۱۵: والحکمۃ معقولہ: حکمت کو آ پ کی سوچی سمجھی بات بنا دوں گا۔
۱۶: والصدق والوفاء َطبیعتہ: سچائی اور وفاداری کو آپ کی طبیعت بنا دوں گا ۔
۱۷: والعفوَ والمعروف َ خُلقہ: معافی اور نیکی کو آپ کی عادت بنا دوں گا ۔
۱۸: والعدلَ سیرتہ والحق َ شریعتہ والھدیٰ اِمامہ والاِسلام ملّتہ : انصاف کو آپ کی سیرت حق کو آپ کی شریعت ہدایت کو آپ کا امام اور دین اسلام کو آپ کی ملّت کا درجہ دوں گا :
۱۹: اَحمد اِ سمہ : آپ کا نام نامی (لقب ) احمد ہے ۔
۲۰: اُھدی بہ بعد الضلالۃ: آپ ہی کے ذریعے میں لوگوں کو گمراہی کے بعد سیدھا راستہ دکھاؤں گا ۔
۲۱: واُعلم ُ بہ بعد الجھالۃ : جہالت کے بعد آپ ہی کےذریعے میں لوگوں کو علم وعرفان عطا کروں گا ۔
۲۲: واَرفعُ بہ الخُمالۃ َ : آپ ہی کے ذریعے میں مخلوق کو پستی سے نکال کر بام عروج تک پہنچاؤں گا ۔
۲۳ :واُسمیٰ بہ بعد النّکرۃ : آپ کی بدولت اپنی مخلوق کو حق سے جاہل ہونے کے بعد بلندی عطا کروں گا ۔
۲۴:واُکثرُ بہ بعد القلّۃ: آپ کی ہدایت کی بدولت آپ کے متبعین کی کم تعداد کو بڑھا دوں گا
۲۵:واُغنیَ بہ بعد العیلۃ: لوگوں کو فقر وفاقہ میں مبتلا ہونے کے بعد آپ کے ذریعے ان کی حالت کو غنا میں تبدیل کر دوں گا۔
۲۶:واُلّف بہ بین قلوب مختلفۃ وّاَھواء مشتّتۃ واُمم متفرقۃ : اختلاف رکھنے والے دلوں ۔، پراگندہ خواہشات اور متفرق قوموں میں ، میں آپ ہی کے ذریعے الفت پیدا کروں گا ۔
۲۷: واَجعلُ اُمّتہ خیراً اُمۃ ّ اُخرجت للنّاس : میں آپ کی امت کو بہترین امت قرار دوں گا جو انسانوں کی ہدایت کے لیئے پیدا کی گئی ہے ۔
وصلّی اللہ علیہ وسلم وعلیٰ اٰلہ وصحبہ اَ جمعین ۔
( مدارج النبوہ بحوالہ أسوہ رسول اکرم ، ڈاکٹر عبد الحییّ عارفی ، ص ۴۹ تا ۵۱)
مکمل تحریر >>

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقامِ عبدیت

حضرت فضل ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے دیکھا کہ حضور ﷺ کو بخار چڑھ رہا ہے ، اور سر مبارک پر پٹی باندھ رکھی ہے ،حضور ﷺ نے مجھ سے فرمایا میرا ہاتھ پکڑ لو ، میں نے ہاتھ پکڑا ، حضورﷺ مسجد تشریف لے گئے ،اور منبر پر بیٹھ کر ارشاد فرمایا کہ لوگوں کو آواز دے دو اور سب کو جمع کرو میں نے لوگوں کو جمع کیا ، حضور ﷺ نے اللہ تعالٰ کی حمد وثنا کی اور اس کے بعد یہ مضمون ارشاد فرمایا ، " میرا تم لوگوں کے پاس سے چلے جانے کا وقت قریب آ گیا ہے ،اس لئے جس کی کمر پہ میں نے مارا ہو میری کمر حاضر ہے وہ اپنا بدلہ لے سکتا ہے ، اور جس کی آبرو پر میں نے حملہ کیا ہو وہ بھی اپنا بدلہ لے سکتا ہے ، جس کا کوئی مالی مطالبہ مجھ پر ہے تو وہ بھی اپنا مطالبہ سامنے لائے کوئی شخص یہ شک نہ کرے کہ اس کے بدلہ لینے سے میرے دل میں بغض پیدا ہو گا کیونکہ بغض رکھنا نہ میری طبیعت میں ہے اور نہ ہی میرے لئے موزوں ہے ، خوب سمجھ لو مجھے وہ شخص بہت زیادہ محبوب ہے جو اپنا حق مجھ سے وصول کرے یا معاف کر دے ، کہ میں بشاشت قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے جاؤں اور میں اس اعلان کو ایک دفعہ کہہ دینے پر اکتفا ء نہیں کرتا دوبارہ بھی اعلان کروں گا ، چنانچہ آپﷺ منبر سے نیچے تشریف لائے اور ظہر کی نماز ادا فرمائی ، پھر منبر پر تشریف لے گئے اور وہی اعلان دوبارہ کیا ، او ر بغض سے متعلق مضمون دوبارہ ارشاد فرمایا ، اور یہ فرمایا کہ جس کے ذمے کوئی حق ہےتو وہ بھی ادا کرے اور دنیا کی رسوائی کا خیا ل نہ کرے کیونکہ دینا کی رسوائی آخرت کی رسوائی سے بہت کم ہے ،
ایک صاحب کھڑے ہو ئے اور عرض کیا کہ میرے تین درہم آپ کے ذمے ہیں ، حضور ﷺ نے فرمایا میں نہ کسی مطالبہ کرنے والے کی تکذیب کرتا ہوں اور نہ اس کو قسم دیتا ہوں لیکن پوچھنا چاہتا ہو ں یہ تین درہم کیسے ہیں ؟ انہوں نے عرض کیا ایک مرتبہ آپ کے پا س ایک سائل آیا تھا تو آ پ نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اس کو تین درہم دے دو ، حضور ﷺ نے حضرت فضل ؓ سے فرمایا اس کو تین درہم دے دو ، اس کے بعد ایک اور شخص کھڑا ہو ا اس نے کہا میرے ذمے بیت المال کے تین درہم ہیں میں نے خیا نت سے لے لئے تھے ، حضورﷺ نے اس سےپوچھا خیانت کیوں کی تھی ، عرض کیا میں اس وقت بہت محتاج تھا حضورﷺ نے حضرت فضل سے فرمایا اس سے لے لو ، اس کے بعد حضورﷺ نے اعلان فرمایا جس کسی کو اپنی کسی حالت کا اندیشہ ہو وہ بھی دعا کرا لے ، ایک صاحب اٹھے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں جھوٹا ہوں منافق ہوں اور بہت سونے کا مریض ہوں ، حضور ﷺ نے دعا فرمائی ، یا اللہ اس کو سچائی عطا فرما ،ایمان کامل عطا فرما ، اور نیند کی زیادتی کے مرض سے اس کو چھٹکارا عطا فرما ، اس کے بعد ایک اور شخص کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں جھوٹا ہوں منافق ہوں کوئی گناہ ایسانہیں جو میں نے نہ کیا ہو ،حضرت عمر ؓ نےاس کو تنبیہ فرمائی کہ اپنے گنا ہوں کو پھیلاتے ہو ، حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا عمر ! چپ رہو دنیا کی رسوائی آخرت کی رسوائی سے کم ہے ، اس کے بعد حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ، یا اللہ اس کو سچائی اور کامل ایمان نصیب فرما اورا س کے احوال کو بہتر فرما۔ایک اور صاحب کھڑے ہوئے اور کیا یا رسول اللہ میں بہت بزدل ہوں اور سونے کا مریض ہوں ، حضور ﷺ نے اس کے لئے بھی دعا فرمائی ، حضرت فضل کا بیان ہے کہ اس کے بعد ہم دیکھتے تھے اس شخص سے زیادہ بہادر کوئی نہیں تھا ،
پھر حضور ﷺ حضرت عائشہ ؓ کے مکان پر تشریف لائے اور اسی طرح عورتوں کے مجمع میں بھی اعلان فرمایا ،اور جو جو ارشادات مردوں کے مجمع میں فرمائے تھے یہاں بھی اسی طرح ان کا اعادہ فرمایا ، ایک صحابیہ نے عرض کیا یا رسول اللہ میں اپنی زبان سے عاجز ہوں ،حضور ﷺ نے ان کے لئے دعا فرمائی ،
پھر حضور ﷺ نے اعلان فرمایاجس کسی کو اپنی کسی حالت کا اندیشہ ہو وہ بھی دعاکرا لے ، چنانچہ لوگوں نے اپنے متعلق مختلف دعائیں کرائیں ،( خصائل نبوی ، بحوالہ أسوۂ ر سول أکرم: ص۷۷)

مکمل تحریر >>

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رحم و ترحم رقتِ قلبی

ضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کی ایک نواسی قریب الوفات تھیں حضور ﷺ نے اس کو گود میں اٹھا لیا اور اپنے سامنے رکھ لیا اور اسی حالت میں اس کی روح پرواز کر گئی ام ایمن (جو حضور ﷺ کی ایک کنیز تھی )چلاّ کر رونے لگی ، حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے نبی کے سامنے بھی رونے شروع کر دیا ؟ ( چونکہ آپ کے آنسو بھی ٹپک رہے تھے ) انہوں نے عرض کیا حضور بھی تو رو رہے ہیں حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ رونا ممنوع نہیں ہے یہ اللہ کی رحمت ہے ، پھر فرمایا کہ مؤمن ہر حال میں خیر ہی میں رہتا ہے حتٰی کہ خود اس کی روح نکا ل لی جاتی ہے اور وہ اللہ تعالٰی کی حمد کرتا ہے ۔ (شمائل ترمذی : بحوالہ اسوہ ٔ رسول اکرم: ص: ۷۳)
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ نے عثمان بن مظعون ؓ کی پیشانی کو ان کی وفات کے بعد بوسہ دیا اس وقت آپ ﷺ کے آنسو ٹپک رہے تھے ۔(شمائل ترمذی : بحوالہ اسوہ ٔ رسول اکرم: ص: ۷۳)
حضرت عبد اللہ بن شخیر ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضو ر ﷺ نماز پڑھ رہے تھے ، اور رونے کی وجہ سے آپ کے سینے سے ایسی آواز نکل رہی تھی جیسی ہنڈیا کی آواز ہوتی ہے ،(شمائل ترمذی : بحوالہ اسوہ ٔ رسول اکرم: ص:۷۴)
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ مجھ سے ایک مرتبہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : کہ قرآن مجید کی تلاوت سناؤ میں نے عرض کیا کہ حضور(ﷺ) قرآن آپ پر ہی نازل ہوا ہے اور آپ ہی کو سناؤ ں، حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ، میرا دل چاہتا ہے کہ کسی دوسرے سے سنوں ، میں نے امتثال امر میں پڑھنا شروع کیا اور جب سورہ نساء کی اس آیت پر پہنچا ،
فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا ((سورۃ النساء41 : رکوع : ۶ پارہ : ۵))
ترجمہ: سو اس وقت کیا حال ہو گا جبکہ ہر ہر امت میں سے ایک ایک گواہ کو حاضر کریں گے اور آپ کو ان لوگوں پر ( جو آپ سے سابق ہیں ) گواہی دینے کے لئے حاضر کیا جائے گا ۔
عبد اللہ ؓ فرماتے ہیں میں نے حضور ﷺ کے پرنور چہرہ مبارک کی طرف دیکھا تو آپ ﷺ کی دونوں آنکھیں بہہ رہی تھی ۔ (شمائل ترمذی : بحوالہ اسوہ ٔ رسول اکرم: ص ۷۴)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ اپنی صاحبزادی ( ام کلثوم ) کی قبر پہ تشریف فرما تھے اور آپﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ،(شمائل ترمذی : بحوالہ اسوہ ٔ رسول اکرم: ص ۷۴)
آپﷺ کا رحم وترحّم
ایک دفعہ ایک صحابی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ان کے ہاتھ میں کسی پرندے کے بچے تھے اور وہ آوازیں نکال رہے تھے ، حضورﷺ نے پوچھا یہ بچے کیسے ہیں ، صحابی عرض کیا یا رسول اللہ! میں ایک جھاڑی کے پاس سے گزرا تو ان کی آوازیں آ رہی تھیں ، میں نے ان کو نکال لیا ان کی ماں نے دیکھا تو بے تاب ہو کر میرے سرپہ چکر کاٹنے لگی حضور ﷺ نے فرمایا : فوراً جاؤ اور ان بچوں کو وہیں رکھ آؤ جہا ں سے اٹھا ے تھے ۔( مشکوۃ : بحوالہ أبو داؤد باب الرحمۃ والشفقہ علی الخلق : )
ایک دفعہ حضور ﷺ ایک انصاری کے باغ میں تشریف لے گئے وہا ں ایک اونٹ بھوک سے بلبلا رہا تھا ، آپﷺ نے شفقت سے اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور اس کے مالک کو بلا کر فرمایا : اس جانور کے بارے میں تم خدا سے نہیں ڈرتے ؟(أبو داؤد باب الرحمۃ والشفقہ علی الخلق)
ایک دفعہ حضرت أبو مسعود انصاری ؓ اپنے غلام کو پیٹ رہے تھے اتفاق سے رسول اکرم ﷺ اس موقع پر تشریف لائے آپ ﷺ نے رنجیدہ ہو کر فرمایا ؛ " أبو مسعود اس غلام پر تمہیں جس قدر اختیار ہے اللہ تعالیٰ کو تم پراس سے زیادہ اختیا ر ہے۔ "۔حضرت أبو مسعود ؓ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک سن کر تھرّا اٹھے اور عرض کیا " یا رسول اللہ میں اس غلا م کو اللہ کی راہ میں آزاد کرتا ہوں " حضور ﷺ نے فرمایا : اگر تم ایسا نہ کرتے تو دوزخ کی آگ تمہیں چھو لیتی ۔ ( أبو داؤد :۴/۵۰۴ ،کتا ب الأدب ، باب حق المملوک،ح:۵۱۶۱ )

مکمل تحریر >>

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا زہد و تقوی


حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اللہ تعالٰی سے دعا کرتے تھے کہ اے اللہ مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ اور مسکینی کی حالت میں دنیا سے اٹھا اور مسکینوں کے گروہ میں میرا حشر فرمایا ۔( جامع الترمذی)
ایک صحابی سے روایت ہے کہ حضور ﷺ کے اہل مجلس ایک مرتبہ دولت مندی اور دنیاوی خوش حالی کا کچھ تذکرہ کرنے لگے ( یہ چیز اچھی ہے یا بری اور دین اور آخرت کے لئے مضر ہے یا مفید ) تو آپﷺ نے اس سلسلہ میں ارشاد فرمایا : کہ جو شخص للہ سے ڈرے (اور اس کے حکام کی پابندی کرے )تو اس کے لئے مالداری میں کوئی مضائقہ نہیں اور کوئی حرج نہیں اور صحت مندی صاحب تقوی کے لئے دولت مندی سے بھی بہتر ہے اور خوش دلی بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ہے ( جس پر شکر واجب ہے )۔ (معارف الحدیث)
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عروہؓ سے فرمایا ،میرے بھانجے ہم ( اہل بیت اس طرح گذارا کرتے تھے ) کہ کبھی کبھی لگاتار تین تین چاند دیکھ لیتے تھے ( یعنی کامل دو مہینے گذر جاتے تھے )اور حضورﷺ کے گھروں میں چولہا نہ جلتا تھا (عروہؓ کہتے ہیں ) میں نے عرض کیا پھر آپ کو کونسی چیز زندہ رکھتی تھی ؟ حضرت عائشہ ؓ نے جواب دیا بس کھجور کے دانے اور پانی ، البتہ حضورﷺ کے بعض انصاری پڑوسی تھے ان کے ہاں دودھ دینے والے جانور تھے وہ آپ ﷺ کے لئے دودھ بطور ہدیہ بھیج دیا کرتے تھے اس میں سے آپﷺ ہمیں بھی دیتے تھے ۔ (متفق علیہ: بخاری )
عبد اللہ بن شخیر سے روایت ہے کہ آپﷺ برابر مغموم رہتے تھے ، کسی وقت آپ کو چین نہیں آتا تھا ( یہ کیفیت فکر آخرت کی وجہ سے تھی ) اور دن میں ستّر یا سوبار استغفار فرماتے تھے ، ۔ یہ یا تو امت کی تعلیم کے لئے تھا یا خود امت کے لئے مغفرت طلب کرنا مقصود تھا ، یا پھر اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ ﷺ دریائے قرب وعرفان میں مستغرق رہتے تھے اور آناً فاناً اس میں ترقی ہوتی رہتی تھی ۔ (نشر الطیب؛ اشرف علی تھانوی ص ۶۷ : مکتبہ لدھیانوی )
آپ نے زہد و قناعت کی تعلیم دی تو پہلے خود اس پر عمل کرکے دکھایا۔ فتوحات کی وجہ سے جزیہ، زکوٰۃ، عشر او رصدقات کے خزانے لدے چلے آتے تھے مگر آپ کے گھر میں وہی فقر و فاقہ تھا۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: رسول اللہ 1رحلت فرماگئے مگرآپ کو دو وقت بھی سیر ہو کرکھانا نصیب نہ ہوا۔ آپ کی رہائش ایک کمرہ تھی جس کی دیوار کچی اور چھت کھجور کے پتوں اور اونٹ کے بالوں سے بنی تھی۔ آپ کا کپڑا کبھی تہہ کرکے نہیں رکھا جاتا تھا، یعنی جو بدنِ مبار ک پر کپڑا ہوتا تھا، اس کے سوا کوئی اور کپڑا ہی نہیں تھا جو تہہ کیا جاتا۔

مکمل تحریر >>

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نرمی و شفقت، ایثار و تحمل

آپ ﷺ کی نرمی وشفقت
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بڑے خوش اخلاق تھے ، ایک روز مجھے کسی ضرورت کے لئے بھیجا ، میں نےکہا خدا کی قسم نہیں جاؤں گا اور میرے دل میں تھا کہ جو حکم رسول اللہ ﷺ نے دیا ہے اس کے لئے ضرور جاؤں گا ( حضرت انس ؓ اس وقت بچے تھے اور حضور ﷺ کی خدمت میں ہی رہا کرتے تھے ،)پھر میں نکلا اور میرا گذر کچھ بچوں پر ہوا جو بازار میں کھیل رہے تھے ، ( میں وہاں رکا ہوا تھا ) اتنے میں رسول اللہ ﷺ نے اچانک میرے سر کے بال پیچھے سے پکڑے ، جب میں نے پیچھے مڑ کے دیکھا تو حضورﷺ کو ہنستا ہوا پایا ۔ حضورﷺ نے فرمایا انس تم وہاں گئے تھے جہاں میں نے تم کو بھیجا تھا ، میں نےکہا جاؤں گا یا رسول اللہ ،( مشکوۃ : بحوالہ أسوہ رسول اکرم : ص:۶۸)
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ میں نے حضور ﷺ کی خدمت اس وقت سے کی ہے جب میں آٹھ برس کا تھا ، میں نے آپ ﷺ کی خدمت دس برس تک کی آپ نے کبھی بھی مجھے کسی بات پر ملامت نہیں کیا ، اگر اہل بیت میں سے کسی نے ملامت کیا بھی تو آپ ﷺنے فرمایا اس کو چھوڑ دو اگر تقدیر میں کوئی بات ہوتی ہے توو ہ ہو کر رہتی ہے ۔( مشکوۃ: بحوالہ أسوۂ رسول اکرم : ص: ۶۸)

آپ ﷺ کا ایثار و تحمل
ایک روایت میں ہے کہ زید بن شعنہ پہلے یہودی تھے ، ایک مرتبہ کہنے لگے کہ نبوت کی نشانیو ں میں سے کوئی ایسی نہیں رہی جس کو میں نے حضور ﷺ میں نہ دیکھ لیا ہو ، سوائے دو علامات کے جس کے تجربے کی ابھی تک نوبت نہیں آئی تھی ، ایک یہ کہ آپ ﷺ کا حلم آپ ﷺ کے غصے پر غا لب ہو گا ، دوسرا یہ کہ آپﷺ کے ساتھ کوئی جتنا بھی جہالت کا برتاؤ کرے گا آپﷺ کا تحمل اسی قدر زیادہ ہو گا ، میں ان دونوں کے امتحان کا موقع تلاش کرتا رہا ، اور آمد ورفت بڑھاتا رہا ، ایک دن آپﷺ حجرے سے باہر تشریش لائے حضرت علی ؓ آپ کے ساتھ تھے ایک بدوی شخص آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ میری قوم مسلمان ہو چکی ہے اور میں نے ان سے مسلمان ہو جانے کے بعد رزق کی فراوانی کا وعدہ کیا تھا ، جبکہ ابھی قحط کی حا لت ہے ، مجھے ڈر ہے کہیں وہ اسلام سے نہ پھر جائیں اگر ان کی کچھ اعانت کر دی جائے ؟ حضور ﷺ نے غالباً حضرت علی ؓ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا انہوں نے عرض کیا حضور ( ﷺ) اس وقت تو کچھ موجود نہیں ، زید (جو اس وقت تک یہودی تھے اس منظر کو دیکھ رہے تھے ) کہنے لگے محمد(ﷺ) اگر آپ فلاں شخص کے باغ کی اتنی کھجوریں وقت معّین پر مجھے دے دیں تو میں پیشگی قیمت ادا کر دیتا ہوں اور وقت ّ معیّن پر کھجور لے لوں گا حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ تو نہیں ہو سکتا البتہ اگر باغ کی تعیین نہ کرو تو میں معاملہ کر سکتا ہوں ، میں نے اس قبو ل کر لیا اور اس کے بدلے کھجوروں کی قیمت اسّی مثقال سونا دے دیا ، آپ ﷺ نے وہ سونا اس بدوی کے حوالے کر دیا اور اس سے کہا کہ انصاف کی رعایت رکھنا اور اس سے ان کی ضرورت پوری کرنا ۔ زید کہتے ہیں جب کھجوروں کی ادائیگی میں دو تین دن باقی رہ گئے تھے ، حضور ﷺ صحابہ کرام ؓ کی جماعت کے ساتھ جن میں حضرت ابو بکرؓ ، عمر ؓ، عثمانؓ بھی تھے ، کسی جنازے کی نماز سے فارغ ہو کر ایک دیوار کے قریب تشریف فرما تھے ، میں آیا اور آپ کے کرتے اور پلّو کو پکڑ کر نہایت ترش روئی سے کہا اے محمد!آپ میرا قرض ادا نہیں کرتے ، خدا کی قسم میں تم سب اولاد عبد المطلب کو اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ بڑے نادہندہ ہو ۔ حضرت عمر ؓ نے غصہ سے مجھے گھُورا اور کہا اے خدا کے دشمن یہ کیا بک رہا ہے ؟ خدا کی قسم اگر مجھے حضورﷺ کا ڈر نہ ہوتا تو میں تیری گردن اڑا دیتا ،لیکن حضور ﷺ نہایت سکون سے مجھے دیکھ رہے تھے اور تبسّم کے لہجے میں حضرت عمر ؓ سے فرمایا کہ عمر میں اور یہ ایک اور چیز کے زیادہ محتاج تھے ، وہ یہ کہ مجھے حق ادا کرنے میں خوبی برتنے کو کہتے اور اس کو مطالبہ کرنے میں بہتر طریقے کی نصیحت کرتے ،جاؤ اس کو لے جاؤ اور اس کا حق ادا کر دو اور جو تم نے اسے ڈانٹا ہے اس کے بدلے میں اس کو بیس صاع ( تقریباًٍ دو من کھجوریں ) زیادہ دینا ، حضرت عمر مجھے لے گئے اور پورا مطالبہ اور بیس صاع کھجوریں زیادہ دیں ۔میں نے پوچھا کہ یہ بیس صاع کیسے ،حضرت عمر ؓ نے کہا حضور ﷺ کا یہی حکم ہے ، زید نے کہا عمر تم مجھے پہچانتے ہو ،؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں ۔ میں نے کہا کہ میں زید بن شعنہ ہوں ، انہوں نے کہا جو یہود کا بڑا علامہ ہے؟ میں نے کہا ہاں وہی ہوں انہوں نے کہا اتنا بڑا آدمی ہو کر حضور ﷺ سے تم نے یہ کیسا سلوک کیا ؟ میں نے کہا علامات نبوت میں سے دو علامتیں ایسی رہ گئی تھیں جن کے تجربے کا مجھے موقع نہیں ملا تھا ، ایک یہ کہ آپ ﷺ کا حلم آپ کے غصے پر غالب ہو گا اور دوسری یہ کہ ان کے ساتھ جہالت کا برتاؤ ان کے حلم کو بڑھائے گا ، اب ان دونوں کا بھی امتحان کر لیا اور اب میں آپ کو اپنے اسلام کا گواہ بنا تا ہوں ،اور میرا آدھا مال امت محمدیہ پر صدقہ ہے ، اس کے بعد حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام لے آئے ، اس کے بعد بہت سے غزاوات میں شریک ہوئے اور غزوۂ تبوک میں شہید ہوئے ۔( جمیع الفوائد ، خصائل نبوی :بحوالہ أسوۂ رسول اکرم : ص: ۷۰)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں حضور ﷺ کے ساتھ جا رہا تھا اور حضور ﷺ کی گردن مبارک میں سخت کناروں والی نجرانی چادر تھی ، ایک اعرابی آیا اور اس چادر کو پکڑ کر حضور ﷺ کو کھینچنے لگا اور چادر کو سختی سے لپیٹنے لگا ، حضرت انس ؓ فرماتے ہیں میں نے حضور ﷺ کی گردن مبارک کی طرف دیکھا تو آپﷺ کی گردن اس سخت چادر کی وجہ سے چھیل گئی تھی ، اس کے بعد اس اعرابی نے کہا ، اے محمد !( ﷺ) اللہ کے اس مال میں سے جو آپ کے پاس ہے اس میں سے مجھے دیجئے ، حضور ﷺ نے اس کی طرف دیکھ تبسّم فرمایا اور مجھے اس کو دینے کا حکم دیا ۔(مدارج النبوۃ : بحوالہ اسوۂ رسول اکرم : ص:۷۱)
ایک دفعہ مکہ میں قحط پڑا لوگ ہڈیاں اور مردار کھانے پر مجبور ہوئے ابو سفیان جو ان دنوں حضور ﷺ کے سخت ترین دشمن تھے ، آپ ﷺ کی خدمت میں آئے اور کہا" محمد(ﷺ) تم لوگوں کو صلہ رحمی کی تعلیم دیتے ہو تمہاری قوم ہلاک ہو رہی ہے اپنے خدا سے دعا کیوں نہیں کرتے ، "
اگرچہ قریش کی ایذارسانیا ں اور شرارتیں حد سے تجاوز کر چکی تھیں لیکن ابو سفیان کی بات سن کر حضورﷺ نے فوراً دعا کے لئے دست مبارک اٹھا ئے ،اللہ تعالٰی نے اس قدر بارش نازل فرمائی کہ جل تھل ہو گیا ، اور قحط دور ہو گیا ۔ ( صحیح بخاری :تفسیر سور ہ ٔ دخان : بحوالہ أسوہ رسول اکرم :ص:۷۱)

مکمل تحریر >>

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت، دیانت اور تواضع


آپ ﷺ کی دیانت وامانت
حضور ﷺ نے دعوت حق کا آغاز فرمایا تو ساری قوم آپ ﷺ کی دشمن بن گئی اور آپ ﷺ کو ستانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی لیکن اس حالت میں بھی کوئی مشرک ایسا نہ تھا جو آپ ﷺ کی امانت ودیانت پر شک کرتا ہو بلکہ یہ لوگ اپنا روپیہ پیسہ آپ ﷺ کے پاس ہی امانت رکھتے تھے اور مکہ میں کسی دوسرے کو آپ ﷺ سے بٖڑھ کر امین نہیں سمجھتے تھے ، ہجرت کے موقع پر حضرت علیؓ کو پیچھے چھوڑ نے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ وہ لوگوں کی امانتیں واپس کر کے مدینہ آئیں ( شمائل ترمذی :بحوالہ أسوہ رسول أکرم : ص ۶۵)

۔
آپﷺ کی تواضع
حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا :
مسلمانو!میری حد سے زیادہ تعریف نہ کرو جس طرح عیسائیوں نے ابن مریم کی تعریف کی ہے ، کیونکہ میں خدا کا بندہ ہوں ، بس تم میری نسبت اتنا ہی کہہ سکتے ہو کہ محمد ( ﷺ) اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔(مدارج النبوۃ : بحوالہ أسوہ رسول أکرم : ص:۶۵)
حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ عصا پر ٹیک لگا ئے ہوئے ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم آپ ﷺ کے لئے کھڑے ہو گئے ، آپﷺ نے فرمایا ! جس طرح عجمی لوگ ایک دوسرے کی تعظیم کے لئے کھڑے ہوتے ہیں اس طرح تم کھڑے نہ ہوا کرو اور فرمایا میں خدا کا بندہ ہوں اسی طرح کھا تا ہوں جس طرح بندے کھاتے ہیں اور اسی طرح بیٹھتا ہوں جس طرح بندے بیٹھتے ہیں۔ آپ ﷺ کا یہ فرمانا آپ ﷺکی برد باری اور متواضعانہ عادت کریمہ کی وجہ سے تھا ۔ ( مدارج النبوۃ : بحوالہ أسوہ رسول أکرم : ص۶۶)

ایک حدیث میں ہے کہ ایک سفر میں چند صحابہ ؓ نے ایک بکری ذبح کرنے کا ارادہ کیا اور اس کا کام آپس میں تقسیم کر لیا کسی نے بکری ذبح کرنا اپنے ذمہ لیا اور کسی نے کھال نکالنا ، حضورﷺ نے فرمایا کہ پکانے کے لیے لکڑی اکٹھی کرنا میرے ذمے ہے ، صحابہ ؓ نے عرض کیا حضور( ﷺ) یہ کام بھی ہم خود کریں گے ، آپ ﷺ نے فرمایا !یہ تو میں بھی سمجھتا ہوں کہ تم لوگ یہ کام بخوشی کر لو گے لیکن مجھے یہ پسند نہیں کہ میں مجمع میں ممتاز نظر آؤں اور اللہ تعالیٰ بھی اس کو ناپسند فرماتے ہیں ۔ ( خصائل نبوی : بحوالہ أسوۂ رسول أکرم :ص: ۶۶)
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں حضورﷺ کے ساتھ بازار گیا اور حضور(ﷺ) نے ایک سرابیل (پاجامہ ) چار درہم میں خریدا اور وزن کرنے والے سے آپ نےفرمایا قیمت میں مال خوب خوب کھینچ کر تو لو ( یعنی وزن میں کم یا برابر نہ لو بلکہ زیادہ لو ) وہ شخص حیرت سے بو لا میں نے کبھی بھی کسی کو قیمت کی ادائیگی میں ایسا کہتے ہوئے نہیں سنا ، اس حضرت أبو ہریرہ ؓ نے کہا افسوس ہے تجھ پر کہ تو نے اپنے نبی کو نہیں پہچانا ،پھر وہ شخص ترازو چھوڑ کر کھڑا ہو گیا اور حضور اکرم ﷺ کے دست مبارک کو بوسہ دینے لگا ، آپ ﷺ نے اپنا دست مبارک کھینچ لیا اور فرمایا کہ یہ عجمیوں کا دستور وطریقہ ہے کہ وہ بادشاہوں اور سربراہوں کے ساتھ ایسا کرتے ہیں ، میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں ،میں تو تم ہی میں سے ایک شخص ہوں ، ( یہ آپ ﷺ نے از راہ تواضع فرمایا جیسا کہ آپ کی عادت کریمہ تھی ) اس کے بعد آپ نے سرابیل کو خود اٹھا یا ، حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے ارادہ کیا کہ آگے بڑھ کر سرابیل آپﷺ کے ہاتھ سے لے لوں مگر آپ ﷺ نے فرمایا کہ سامان کے مالک ہی کا حق ہےکہ وہ اپنا سامان خود اٹھائے سوائے اس شخص کے جو کمزور ہو اور خود نہ اٹھا سکے تو اپنے بھائی کی مدد کرنی چاہیے ۔(مدارج النبوۃ : بحوالہ أسوہ رسول اکرم : ص ۶۷ )
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضوراقدس ﷺ نے ایک پرانے پالان پر حج کیا اور اس پر ایک کپڑا پڑا ہو ا تھا جو چار درہم کا بھی نہ ہو گا ، اور حضور ﷺ یہ دعا مانگ رہے تھے یا اللہ اس حج کو ایسا حج فرما جس میں ریا اور شہرت نہ ہو،(شمائل ترمذی :بحوالہ اسوہ رسول اکرم : ص۶۷)
جب مکہ فتح ہوا اور آپ ﷺ مسلمانوں کے لشکر کے ساتھ اس میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ نے اللہ کے حضور میں عاجزی اور تواضع سے سر کو اس قدر جھکا دیا قریب تھا کہ آپ کا سر مبارک اس لکڑی کے اگلے حصہ کو لگ جائے ۔ (کتا ب الشفاء : قاضی عیاض : بحوالہ اسوہ رسول اکرم: ۶۷)

حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ صحابہؓ کے نزدیک حضور ﷺ سے زیا دہ اس دنیا میں کوئی شخص محبوب نہیں تھا اس کے باوجود پھر بھی صحابہ کرام ؓ حضور ﷺ کو دیکھ کر اس لئے کھڑے نہیں ہو تے تھے کیونکہ حضور ﷺ کو یہ بات پسند نہ تھی ۔( شمائل ترمذی : بحوالہ اسوہ رسول اکرم : ص ۶۷)
ایک مرتبہ نجاشی بادشاہ ِ حبشہ کے کچھ ایلچی آئے ، تو حضور ﷺ ان کی خاطر مدارات کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تو صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ !ان کی خدمت کا ہمیں موقع دیجئے ،آپ ﷺ نے فرمایا انہوں نے ہمارے صحابہ کی بڑی خدمت وتکریم کی ہے میں پسند کرتا ہوں کہ ان کا بدلہ ادا کروں ۔( مدارج النبوۃُ: بحوالہ أسوۂ رسول اکرم : ص : ۶۷)

مکمل تحریر >>

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قناعت، توکل اور انکسار طبعی

حضرت انس ؓسے روایت ہے کہ حضوراقدس ﷺ دوسرے دن کے لئے کسی چیز کا ذخیرہ کر کے نہیں رکھتے تھے ( شمائل ترمذی)۔
یعنی جو چیز ہوتی کھلا پلا کر ختم فر ما دیتے ،اس خیال سے کہ کل پھر ضرورت ہو گی اس کو محفوظ کر کے نہیں رکھتے تھے ، یہ آپﷺ کا انتہائی درجہ کا توکل تھا کہ جس مالک نے آج دیا ہے وہ کل بھی عطا کرے گا آپﷺ کا یہ عمل اپنی ذات کے لئے تھا ورنہ ازواج مطہرات کو ان کا نفقہ دے دیا جاتا تھا وہ جس طرح چاہیں تصرف میں لا سکتی تھیں مگر وہ بھی تو حضور ﷺ کی ازواج تھی کہاں جمع کر کے رکھ سکتی تھیں ایک حضرت عائشہ ؓ کے پاس دو گونین درہموں کی نذرانہ کے طور پر پیش کی گئی جن میں ایک لاکھ درہم سے زیادہ تھے تو حضرت عائشہؓ نے ایک طباق منگوایا اور بھر بھر کر تقسیم فرمادیا اور خود روزہ سے تھیں افطار ی زیتون کے تیل اور ایک روٹی سے کی ، باندی نے عرض کیا ایک درہم کا آج اگر گوشت منگا لیتیں تو ہم بھی اس سے افطار کر لیتے ،ارشاد فرمایا کہ ابھی طعن کرنے سے کیا فائدہ اس وقت یا د دلا دیتی تو میں منگوا لیتی ۔(خصائل نبوی :بحوالہ اسوہ رسول اکرم : ۶۴)
حضور ﷺ نے فرمایا : مجھے یہ با ت پسند نہیں کہ میرے لئے اُحد پہاڑ سونا بن جائے اور پھر رات کو اس میں سے ایک دینا ربھی میرے پاس رہے ، سوائے اس دینار کے جس کو کسی مطالبہ ( قرض) کے لئے پاس رکھ لوں ۔چنانچہ آپﷺ اسی کمال سخاوت کی وجہ سے مقروض رہتے تھے یہا ں تک کہ جب آپ ﷺ کا وصال ہوا تو آپ کی زرہ اہل وعیال کے اخراجات کے عوض رہن رکھی ہوئی تھی ( نشر الطیب: اشرف علی تھانوی ص: ۱۳۷)

آپ ﷺ کی انکسار طبعی
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ عادت کے اعتبار سے سخت گو نہ تھے اور نہ ہی بتکلف سخت گو بنتے تھے ، اور نہ بازاروں میں خلاف وقار باتیں کرنے والے تھے ، اور برائی کا بدلہ برائی سےنہیں دیتے تھے، اور غایت حیا کی وجہ سے آپﷺ کی نگاہ کسی کے چہرے پر نہیں ٹھہرتی تھی ،اور اگر کسی نامناسب بات کا ذکر کرنا ہی پڑتا تھا تو کنایہ میں وہ بات فرماتے ۔
اور حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ سب سے بڑھ کر کشادہ دل تھے ، بات کے سچے تھے ، طبیعت کے نرم تھے ، معاشرت میں نہایت کریم تھے ، اور جو شخص آپ کی دعوت کرتا آپﷺ اس کی دعوت قبول فرما لیتے اور ہدیہ بھی قبول فرما لیتے اگرچہ (وہ ہدیہ یا دعوت)گائے یا بکری کا پایہ ہی ہوتا ، اور ہدیہ کا بدلہ بھی دیتے تھے اور دعوت غلام کرے یا آزاد ، لونڈی کرے یا کوئی غریب آدمی سب کی قبول فرماتے تھے ، اور مدینہ کی آبادی کے کونے پر بھی اگر کوئی مریض ہوتا تو اس کی بھی عیادت فرماتے ، معذرت کرنے والے کا عذر قبول فرماتے ، اپنے اصحاب سے مصافحہ کی ابتداء فرماتے اور کبھی اپنے اصحاب میں پاؤں پھیلائے ہوے نہیں دیکھے گئے جس کی وجہ سے اوروں کے لئے جگہ تنگ ہو جائے اور جو آپ کے پاس آتا اس کی خاطر تواضع کرتے ، اور بعض اوقات اپنا کپڑا اس کے بیٹھنے کے لئے بچھا دیتے ،اور گدہ تکیہ خود چھوڑ کر اس کو دے دیتے ، اور کسی شخص کی بات درمیان میں نہ کاٹتے اور تبسم فرمانے میں اور خوش مزاجی میں سب سے بڑھ کر تھے ، ہاں اگر نزول وحی یا وعظ و خطبہ کی حالت ہوتی تو اس وقت آپﷺ کا تبسم اور خوش مزاجی ظاہر نہ ہوتی تھی کیونکہ ان حالتوں میں آپ ﷺ کو ایک جوش ہوتا تھا ( نشر الطیب : اشرف علی تھانوی " ص: ۱۴۷ ،مکتبہ لدھیانوی)۔
مکمل تحریر >>

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت

حضرت ابن عبّاس ؓ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ اول تو تمام لو گوں سے زیادہ سخی تھے ( کوئی بھی آپﷺ کی سخاوت کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا ، کہ خود فقیرانہ زندگی بسر کرتے تھے اور عطا کرنے میں بادشاہوں سے بھی زیادہ عطا کرنے والےتھے ایک دفعہ نہایت سخت احتیاج کی حالت میں ایک عورت نے چادر پیش کی اور آپ ﷺ نے اسے پہن لیا اسی وقت ایک شخص نے مانگ لی ، آپ ﷺ نے اسی وقت مرحمت فرما دی
آپﷺ قرض لے کر ضرورت مندوں کی ضرورت کو پورا فرماتےاور قرض خوا ہ کے انتہائی تقاضے کے وقت کہیں سے اگر کچھ آ گیا اور قرض ادا کرنے کے بعد کچھ بچ گیا تو جب تک وہ تقسیم نہ فرما لیتے گھر تشریف نہ لے جاتے تھے )اور با الخصوص رمضان میں آپ ﷺ کی سخاوت بہت بڑھ جاتی تھی ( یعنی گیارہ مہینوں میں جتنی سخاوت فرماتے اس سے کہیں زیاد ہ رمضا ن المبارک میں فرماتے تھے ) اور اس مہینہ میں جب بھی حضرت جبریل ؑ تشریف لاتےاور آپﷺ کو کلام اللہ سناتے اس وقت آپ ﷺ بھلائی اور نفع رسانی میں تیز بارش لانے والی ہوا سے بھی زیادہ سخاوت فرماتے ۔( خصائل نبوی بحوالہ اسوہ رسول اکرم: ص:۶۲)
ترمذی کی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ حضورﷺ کے پاس کہیں سے نوے ہزار درہم آئے ( جس کے تقریباً بیس ہزار روپے بنتے ہیں) آپﷺ نے ایک چادر پر ڈلوا دیئے اور وہیں بیٹھے بیٹھے تقسیم فرمائے ختم ہونے کے بعد ایک سائل آیا تو حضور ﷺ نے اس کو فرمایا آپ کسی سے میرے نام کا قرض لے لو جب میرے پاس ہو گا تو واپس کردوں گا ۔
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ آپﷺ سے کچھ مانگا گیا ہو اور آپ ﷺ نے فرمایا ہو کہ میں نہیں دیتا ، حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کل کے لئے کوئی چیز سنبھال کر نہیں رکھتے تھے ،حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم سب سے زیادہ سخی تھے خاص کر رمضان میں تو بہت ہی سخی ہو جاتے تھے ۔ ( صحیح بخاری باب بد ء الوحی) :
ایک دفعہ حضور اکرم ﷺ نے حضرت ابو ذر غفاری ؓ سے فرمایا : " اے أبو ذر مجھے یہ پسند نہیں کہ میرے پاس اُحد جتنا سونا ہو اور تیسرے دن تک اس میں سے ایک اشرفی بھی باقی رہے سوائے اس کے جو ادائے قرض کے لئے ہو تو اےأبوذر میں دونوں ہاتھوں سے اس مال کو اللہ کی مخلوق میں تقسیم کر کے اٹھوں گا "۔ ( صحیح بخاری کتا ب الاستقراض : ص ۳۲۱ )

ایک دن رسول خدا ﷺ کے پاس چار اشرفیا ں تھی دو تو آپ نےخرچ کر دیں اور دو بچ گئی ان کی وجہ سےپوری رات آپﷺ کو نیند نہیں آئی ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ نے عرض کیا معمولی بات ہے صبح خرچ کر دیجئے گا ، حضورﷺ نے فرمایا " اے حمیرا کیا معلوم کہ میں صبح تک زندہ رہوں یا نہیں " (مشکوۃ بحوالہ اسوہ رسول اکرم : ص: ۶۳ )
مکمل تحریر >>

متفرق

عہد نبوی کی مساجد و مکاتب

آنحضرتﷺ نے مساجد کی تعمیر پر بھی زور دیا تھا اور اس امر کی تاکید فرمائی تھی کہ جو معلم ہو وہ اپنے مقام پر عبادت کے لئے ایک مسجد فوراً تیار کرے، آپ ﷺ کے عہد مبارک میں بڑی بڑی آبادیوں میں کئی مساجد تھیں، صرف مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے علاوہ ،(۹)مساجد تیار ہوچکی تھیں جن میں پانچ وقت نماز ہوتی تھی،مکہ سے مدینہ ہجرت کرکے آتے وقت قباء کے مقام پر آپ ﷺ نے ایک مسجد کا سنگ بنیاد رکھا تھا جو مسجد قباء کے نام سے مشہور ہے۔
مسجد بنو عمرو،مسجد بنو ساعدہ، مسجد بنو عبید، مسجد بنوزریق،مسجد بنو سلمہ،مسجد بنو غفار،مسجد بنو اسلم، مسجد بنو جہینہ، مسجد بنو بیاضہ۔
(نقوش لاہور،رسول نمبر)
حج وعمرے
آنحضرتﷺ حج فرض ہونے سے قبل دوبار حج فرماچکے تھے اور حج فرض ہونے کے بعد ایک مرتبہ حج ادا فرمایا،آپﷺ نے چار عمرے ادا فرمائے جو ذیقعدہ کے مہینہ میں ادا ہوئے۔
(سیرت الرسول از شاہ ولی اللہ)

آنحضرتﷺکے بال
براء بن عازب سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ایسے بال تھے جو شانوں سے لگتے تھے۔
(ابن سعد)
رسول اللہﷺ کا بڑھاپا
حمید الطویل سے مروی ہے کہ حضرت انسؓ بن مالک سے دریافت کیا گیا کہ کیا رسول اللہﷺ نے خضاب لگایا،انہوں نے کہا کہ اللہ نے آپ ﷺ کو بڑھاپے کی بدرزیبی نہیں دی آپ میں بڑھاپے کا کوئی حصہ نہ تھا جس کو خضاب لگایا جاتا، داڑھی کے اگلے حصہ میں صرف چند بال(سفید) تھے اورآپ ﷺ کا بڑھاپا بیس بالوں تک بھی نہیں پہنچا تھا۔
(ابن سعد)
مہر نبوت
حضرت جابرؓ بن سمیرہ سے مروی ہے کہ آنحضرتﷺ کی مہر نبوت دونوں شانوں کے درمیان تھی جو جسم اورشکل میں کبوتر کے انڈے کے مشابہ تھی۔
(ابن سعد)
ذاتی امور کے منتظم
حضرت بلالؓ کو اخراجات خانہ کا انتظام سپرد تھا،معیقیبؓ کے پاس مہر ہوتی تھی۔مسواک اورنعلین مبارک حضرت ابن مسعودؓ کے پاس رہتی تھی،نیز رباح اسودؓ،آپ کی لونڈی انیسہ،حضرت انسؓ بن مالک اورحضرت ابو موسیٰؓ اشعری کے ذمہ بھی کچھ انتظامات تھے۔
(زادالمعاد)
قبول ھدیہ ورد صدقہ
اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہدیہ قبول فرمالیا کرتے تھے اورصدقہ قبول نہیں فرماتے تھے،آپ ﷺ نے فرمایا:اللہ نے مجھے پر اورمیرے اہل بیت پر صدقہ حرام فرمایا۔
(ابن سعد)
بشری حاجات
ضرورت کے لئے چونکہ اس دور میں گھروں میں بیت الخلاء نہ تھے اس لئے حضورﷺ جنگل جاتے،عموماً اتنی دور تک جاتے (دو،دومیل تک)کہ نظروں سے اوجھل ہوجاتے،ایسی نرم زمین تلاش کرتے کہ چھینٹے نہ اڑیں،غسل کے لئے پردہ ضروری قراردیا تھا گھر میں نہاتے تو کپڑے کا پردہ تانا جاتا، کبھی بارش میں نہاتے تو تہہ بند باندھ لیتے،چھینک پست آواز سے لیتے اور ہاتھ یا کپڑا منہ پر رکھ لیتے۔
سفر
سفر کیلئے جمعرات کو روانگی زیادہ پسند تھی،سواری کو تیز چلاتے،پڑاؤسے صبح کے وقت کوچ کرنا معمول رہا،سفر (Camp life) میں جو اجتماعی کام درپیش ہوتے ان میں ضرور حصہ لیتے؛چنانچہ ایک بار کھانا تیار کرنے کی مہم تھی،سارے ساتھیوں نے کام تقسیم کئے،آپ ﷺ نے بھی لکڑیاں چننا اپنے ذمہ لیا،کہا گیا کہ آپ ﷺ تکلیف نہ کریں،ہم سب اس کے لئے کافی ہیں، فرمایا: کہ مجھے امتیاز پسند نہیں،سفر میں اپنی سواری پر باری باری کسی نہ کسی پیادہ ساتھ کو شریک کرتے،سفر سے رات میں واپس آنا پسند نہ تھا، آتے تو سیدھے گھر جانے کے بجائے مسجد میں جاکر نفل ادا کرتے،گھر میں اطلاع ہوجانے کے بعد اطمینان سے جاتے۔
ترکہ
دوعدد حیرہ(یمنی چادر)تہبند یمنی ،دوکپڑے صحاری،ایک کرتہ صحاری، ایک کرتہ کولی،ایک جبہ یمنی ،چادر منقش ،تین چار کوفیہ یعنی چھوٹی پست ٹوپیاں،ایک لحاف ،ایک چمڑے کی تھیلی تھی جس میں آئینہ ،ہاتھی دانت کا کنگھا،سرمہ دانی ،قینچی اورمسواک رکھا کرتے تھے، آنحضرتﷺ کا بچھونا چمڑے کا تھا جس میں کھجور کے درخت کا گودا بھرا ہوا تھا ایک پیالہ تھا جس میں تین پتر چاندی کے لگے ہوئے تھے،ایک پیالہ پتھر کا تھا اورایک برتن کانسہ کا ایک کانچ کا پیالہ تھا اوربرتن (بالٹی برابر)کانسی کا غسل کے لئے تھا، ایک بادیہ تھا ایک پیمانہ تھا اورایک برتن چوتھائی صاع کا جس سے صدقہ فطر ناپ کردیا کرتے تھے،انگوٹھی چاندی کی جس کا نگینہ بھی چاندی ہی تھا اورجس پر محمد ﷺ کندہ تھا،موجود تھی اورایک روایت ہے کہ انگوٹھی لوہے کی تھی اورنگینہ چاندی سے جوڑا گیا تھا،نجاشی نے آنحضرتﷺ کے لئے دو موزے سادہ پیش کئے تھے، حضورﷺ ان کو استعمال فرماتے تھے،آنحضرتﷺ کے پاس سیاہ کمل تھا اورایک عمامہ یعنی دوپٹہ تھا جس کا نام سحاب لیا جاتا تھا، آنحضرتﷺ کے پاس علاوہ استعمالی کپڑوں کے دو اورکپڑے بھی تھے جو نماز میں استعمال فرماتے تھے اور ایک رومال تھا جس سے بعد وضو روئے انور پونچھ تے تھے، جب آنحضرتﷺ نے وفات پائی مذکورہ بالا اشیاء ترکہ میں موجود تھیں۔
(سیرۃ الرسول از شاہ ولی اللہؒ)
مکمل تحریر >>

غزوات و سرایہ

غزوۂ جمع غزوات ،اس کےمعنی جہاد کے ہیں اوریہ وہ باضابطہ قتال یا جنگیں ہیں جن میں رسول اللہ ﷺ بہ نفس نفیس خود شریک ہوئے ،انہیں مغاذی بھی کہاجاتا ہے۔
سریہ کے لغوی معنی قصد اوراسیر کے ہیں،اصطلاحی معنی میں وہ مہم جس میں رسول اکرم ﷺ نے بذات خود شرکت نہیں فرمائی بلکہ اپنے صحابہ میں سے کسی کو امیر لشکر مقرر فرمایا۔
غزوات کی تعداد(۲۷) اورسرایا کی تعداد(۴۷)۔
نوٹ:حضورﷺ کی تمام مہمات کی تعداد کیا تھی؟ اس میں سیرت نگاروں کا اختلاف ہے مثلا:
۱۔البلازری (فتوح البلدان)کے مطابق ۱۶ ہے۔
۲۔قاضی سلیمان منصورپوری (رحمۃ للعالمین)کے مطابق ۲۰ ہے۔
۳۔شبلی نعمانی (سیرۃ النبی) کے مطابق ۳۵ ہے۔
۴۔ابن خلدون (تاریخ) کے مطابق ۳۶ ہے۔
۵۔طبری (تاریخ) کے مطابق ۳۹ ہے۔
۶۔ابن سعد (طبقات) کے مطابق ۸۸ ہے۔
۷۔ابن الجوزی (تلقیح) کے مطابق ۸۸ ہے۔
۸۔واٹ (محمد ایٹ مدینہ) کے مطابق ۸۸ ہے۔
حضورﷺ نے مدینہ کی دس سالہ زندگی میں کم وبیش (۸۸)مہمات بھیجی تھیں، ان میں غزوات کی تعداد(۲۷)ہے،غزوات (۹)ایسے ہیں جن میں حضورﷺ نے دشمنوں سے جنگ کی تھی یعنی بدر، اُحد،مریسیع،خندق،قریظہ،خیبر،فتح مکہ، حنین اورطائف اور باقی (۱۸)میں شمشیر کا استعمال نہیں ہوا تھا، سرایا کی تعداد ساٹھ سے کچھ اوپر تھی۔
غزوات
۱۔غزوۂ ودان یا ابواء(صفر۲ھ)
۲۔غزوۂ بواط (ربیع الاول ۲ھ)
۳۔غزوۂ سفوان(جمادی الاول ۲ھ)
۴۔غزوۂ ذوالعشیرہ(جمادی الآخر۲ھ)
۵۔غزوہ بدرالکبریٰ (رمضان ۲ھ)
۶۔غزوہ بنو قینقاع (شوال ۲ھ)
۷۔غزوہ سویق(ذی الحجہ۲ھ)
۸۔غزوہ قرقرۃ الکدر(محرم ۳ھ)
۹۔غزوہ غطغان (ربیع الاول ۳ھ)
۱۰۔غزوۂ نجران یا بنوسلیم(جمادی الاول ۳ھ)
۱۱۔غزوہ احد (شوال ۳ھ)
۱۲۔غزہ حمراء الاسد (شوال ۳ھ)
۱۳۔غزوہ بنو نضیر(ربیع الاول ۴ھ)
۱۴۔غزوہ بدر الموئد (ذیقعدہ ۴ھ)
۱۵۔غزوہ ذات الرقاع (محرم ۵ھ)
۱۶۔غزوہ دومۃ الجندل(ربیع الاول ۵ھ)
۱۷۔غزوہ مریسیع یا بنی مصطلق(شعبان ۵ھ)
۱۸۔غزوہ خندق(احزاب)(ذیقعدہ ۵ھ)
۱۹۔غزوہ بنو قریظہ(ذی الحجہ ۵ھ)
۲۰۔غزوہ بنو لحیان(ربیع الاول ۶ھ)
۲۱۔غزوۂ ذی قردیاغابہ(ربیع الاول ۶ھ)
۲۲۔غزوہ(صلح)حدیبیہ(ذیقعدہ ۶ھ)
۲۳۔غزوہ خیبر (محرم ۷ھ)
۲۴۔غزوہ(فتح) مکہ(رمضان ۸ھ)
۲۵۔غزہ حنین( شوال ۸ھ)
۲۶۔غزوہ طائف(شوال ۸ھ)
۲۷۔غزوہ تبوک (رجب ۹ھ)
غزوات وسرایا میں شہید اور قتل ہونے والوں کی کل تعداد (۱۰۱۸)۔
مکمل تحریر >>

سواریاں اور مویشی

سواریاں اور مویشی
آنحضرتﷺ کی جناب میں دس گھوڑے تھے، اس عدد میں اختلاف بھی ہے۔
۱۔سکب: جس پر غزوۂ اُحد میں سوار تھے، اس کا رنگ کمیت تھا لیکن پیشانی اورتین پاؤں سفید تھے اورایک داہنا پاؤں ہمرنگ جسم کا تھا، اس کی فربہی مناسب جسم کی تھی، آنحضرتﷺ نے اس پر گھوڑ دوڑ فرمائی اوربازی لے گئے اورمسرور ہوئے۔
۲۔مربجز:یہ وہی گھوڑا ہے کہ خزیمہ بن ثابت نے جس کے لئے گواہی دی تھی۔
۳۔لزازیہ:مقوقس کے ہدایا میں سے تھا۔
۴۔لحیف:یہ ربیعہ نے ہدیہ پیش کیا تھا۔
۵۔طرب:فردہ جذامی نے پیش کیا تھا۔
۶۔ورد: تمیم داریؓ نے پیش فرمایا تھا۔
۷۔ضرلیس:
۸۔ملاوح
۹۔سجہ: جو یمن کے تاجروں سے خریدا تھا اور تین مرتبہ اس پر دوڑ فرمائی اور دست اقدس اس کے چہرہ پر پھیرا اورماانت الا بحر ارشادفرمایا اوربحر قد،مباز تیز رو گھوڑے کو کہتے ہیں اور دُلدُ ل نامی خچر جو مقوقس کے ہدایا میں سے تھا اوریہ پہلا خچر ہے کہ اسلام میں اس پر سواری ہوئی۔
فضہ جو حضرت ابوبکرؓ صدیق نے پیش فرمایا تھا۔
ایلیہ،شاہ ایلہ نے پیش فرمایاتھا۔
سرورکائنات ﷺکی دربار میں ایک دراز گوش بھی تھا جس کا نام یعفو رتھا اورگائے بھینس کا سرکاروالا میں ہونا ثابت نہیں ہے اور بیس اونٹنیاں شیر دار موضع غابہ میں جو مدینہ سے قریب ہے آنحضرتﷺ کی ملکیت تھیں اورایک شیر دار اونٹنی حضرت سعد بن عبادہ نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کی تھی جو بنی عقیل کے مواشی میں سے تھے۔
آنحضرتﷺ کے پاس قصویٰ نامی اونٹنی بھی تھی اوراسی پر ہجرت فرمائی تھی،جس وقت وحی نازل ہوتی تھی سوائے قصویٰ کے کوئی چیز اس کا وزن برداشت نہیں کرسکتی تھی اورقصویٰ کو عضا اورجدعاء کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔
آنحضرتﷺ کی سرکار میں سو(۱۰۰)بکرے بکریاں تھیں۔
دودھ والی اونٹنیاں
معاویہ بن عبداللہ بن عبید اللہ بن ابی رافع سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دودھ والی اونٹنیاں بیس(۲۰)تھیں، انہی سے رسول اللہ ﷺ کے اہل بیت زندگی بسر کرتے تھے۔ہر شب کو آپ کی خدمت میں دو بڑی مشکوں میں دودھ لایا جاتا تھا،ان میں وہ دودھ والی اونٹنیاں بھی تھیں جن کا دودھ بہت کثرت سے تھا، ان کے نام:حناء،سمراء،عریس ،سعدیہ،لقوم یسیرہ اوردبار تھے.
(ابن سعد)
دودھ دینے والی بکریاں
ابراہیم بن عبداللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دودھ دینے والی بکریاں سات تھیں :
۱۔عجوہ
۲۔زمزم
۳۔سُقیا
۴۔برکہ
۵۔دَرسہ
۶۔اِطلال اور اطراف ان کو اُم ایمن چراتی تھیں
(ابن سعد)
مکمل تحریر >>

موذنین اور پرانے متعلقین

نبوت سے پہلے قریب سے جاننے والے
۱۔حضرت خدیجہؓ جو پندرہ سال سے آپ ﷺ کی زوجہ محترمہ تھیں۔
۲۔حضرت علیؓ جنہوں نے بچپن سے آپ ﷺ کے گھر میں پرورش پائی تھی۔
۳۔حضرت زیدؓ بن حارثہ جنہوں نے ماں باپ کو چھوڑ کر آپ ﷺ کے ساتھ رہنا قبول کیا تھا۔
۴۔حضرت اُم ایمنؓ جنہوں نے بچپن سے آپ ﷺ کو پالا تھا،ان کے علاوہ ۔
(۱)حضرت ابوبکرؓ صدیق جو اٹھارہ سال کی عمر سے حضور کی صحبت میں بیٹھتے تھے جبکہ حضورﷺ کی عمر بیس سال تھی۔
(۲)حضرت صہیبؓ بن سنان رومی:عبداللہ بن جدعان نے بہ حیثیت غلام آپ کو خریدلیا جو حضرت ابوبکرؓ کا قریبی رشتہ دار تھا، اس لئے یہ رسول اللہ ﷺ سے متعارف ہوئے اورآپ ﷺ سے مانوس ہوکر آپ ﷺ کی صحبت میں بیٹھنے لگے۔
(۳)حضرت عمارؓ بن یاسر،حضورﷺ کے ہم نشین ،دوست اورآپ ﷺ سے بہت مالوف تھے۔
(۴)حضرت حکیمؓ بن حزام،حضرت خدیجہؓ کے بھتیجے تھے،ان کی عمرحضورﷺ سے پانچ سال زیادہ تھی،جاہلیت کے زمانہ میں حضورﷺ سے ان کو سب سے زیادہ محبت تھی،فتح مکہ کے بعد ایمان لائے۔
(سیرت سرور عالم)

مکمل تحریر >>

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے محافظ و قاصد

آنحضرتﷺ کے محافظ و قاصد
۱۔غزوہ بدر میں:
حضرت سعدؓ بن معاذ
۲۔غزوہ اُحد میں :
۱۔ذکوانؓ بن عبد قیس۔ ۲۔محمدؓ بن مسلمہ انصاری
۳۔غزوہ خندق:
حضرت زبیرؓ
۴۔غزوہ وادی القریٰ میں:
عبادؓ بن بشیر ۲۔حضرت سعدؓ بن ابی وقاص ۳۔حضرت ابوایوبؓ۔ ۴۔حضرت بلالؓ
جب آیت واللہ بعصمک من الناس نازل ہوئی تو آنحضرتﷺ سے نگہبانی اٹھادی گئی۔
(سیرہ الرسول ازشاہ ولی اللہؒ)
آنحضرتﷺ کے قاصد
۱۔عمر بن امیہ کو نجاشی کے پاس
۲۔دحیہ کلبی کوشاہ روم کے پاس
۳۔عبداللہ بن حذافہ کو کسریٰ شاہ فارس کے پاس
۴۔حاطب بن ابی بلتعہ کو مقوقس شاہ مصر کے پاس
۵۔عمروابن العاص کو جیفر اورعبداللہ پسران جلندی عمان کے بادشاہوں کے پاس
۶۔سلیط بن عمر کوہودہ بن علی حاکم یمامہ کے پاس
۷۔شجاع بن وہب کوشاہ یلقاء حارث غسانی کے پاس
(یلقا شام میں ایک شہر کا نام ہے)
۸۔مہاجرین امیہ کو یمن میں حارث حمیری کے پاس
۹۔علاءابن الحضرمی کو بحرین کے بادشاہ منذر بن ساویٰ کے پاس
۱۰۔ابو موسیٰؓ اشعری اورمعاذؓ بن جبل کو یمن کی طرف۔
(سیرہ الرسول از شاہ ولی اللہؒ)
مکمل تحریر >>

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خدام و غلام

آنحضرت ﷺکے غلام
۱۔حضرت زیدؓ بن ثابت۔
۲۔حضرت اُسامہ بن زید۔
۳۔ثوبانؓ۔
۴۔ابوکبشہ،یہ سب جنگ بدر میں موجود تھے۔
۵۔انیس۔
۶۔شقران،ایک روایت کے مطابق شقران کو اپنے والد سے وراثت میں پایا تھا اورایک روایت کے مطابق شقران کو عبدالرحمن ؓ بن عوف سے خریدا تھا۔
۷۔رباح۔
۸۔یسار۔
۹۔ابورافع۔ان کو حضرت عباسؓ نے حضورﷺ کی خدمت میں پیش فرمایا۔ ۱۰۔ابو مویہیہ
۱۱۔فضالہ
۱۲۔رافع
۱۳۔مدعم
۱۴۔کرکرہ
۱۵۔زیدجدہلال بن لیار۔
۱۶۔عبیدہ
۱۷۔طہمان
۱۸۔بالورقبطی جن کو شاہ مقوقیس ہدیتادیا تھا۔
۱۹۔واقدیا ابوواقد ۔
۲۰۔ہشام۔
۲۱۔ابوضمیر جو مال فئے سے تھے،غزوہ حنین میں ان کو آزاد کردیا۔ ۲۲۔ابو عیب احمر۔
۲۳۔ابوعبید
۲۴۔سفینہ،یہ پہلے اُم سلمہ کے غلام تھے۔
۲۵۔ہند۔
۲۶۔انجشہ،جواونٹوں پر حدی کہتے تھے۔
۲۷۔ابو امامہ۔
(سیرۃ الرسول ازشاہ ولی اللہؒ)
آنحضرت ﷺکے خدام
۱۔انسؓ بن مالک۔
۲۔ہنداور
۳۔اسماء(حارثہ کی لڑکیاں)
۴۔ربیعہ بن کعب اسلمی۔
۵۔عبداللہؓ بن مسعود۔
۶۔عتبہ بن عامر
۷۔بلالؓ
۸۔سعدؓ
۹۔ذومخمریاذومخبرجو کہ نجاشی کے بھانجے یا بھتیجے تھے
۱۰۔بکیر بن شداخ لیثی۔
۱۱۔ابوذر غفاریؓ
(سیرۃ الرسول ازشاہ ولی اللہؒ)
مکمل تحریر >>

چند متفرق ذوقیات


کسی سے چیز لیتے تو سیدھے ہاتھ سے لیتے اور کوئی چیز دیتے تو سیدھے ہاتھ سے دیتے۔
خطوط لکھواتے تو سب سے پہلے بسم اللہ لکھواتے،پھر مرسل کا نام اوراس کے پیچھے مرسل الیہ کا نام ہوتا، اس کے بعد اصل مضمون لکھواتے،خاتمہ پر مہر لگواتے۔
حضورﷺ اوہام پرستی سے پاک تھے اورشگون نہ لیتے تھے البتہ اشخاص اورمقامات کے اچھے نام پسند آتے ،برے نام پسند نہ کرتے، سفر میں اقامت کے لئے ایسا ہی مقام انتخاب کرتے جس کے نام میں خوشی یا برکت یا کامیابی کا مفہوم ہوتا، اسی طرح جس شخص کے نام میں لڑائی جھگڑے یا نقصان کے معنی شامل ہوتے اسے کام نہ سونپتے ،ایسے آدمیوں کونا مزد کرتے جن کے ناموں میں خوشی یا کامیابی کا مفہوم پایا جائے،بہت سے ناموں کو تبدیل بھی فرمایا۔
سواریوں میں گھوڑا بہت پسند تھا، فرماتے:گھوڑے کے ایال میں قیامت تک کے لئے خیروبرکت ہے،گھوڑے کی آنکھ،منہ ،ناک کو اہتمام سے اپنے ہاتھوں سے صاف کرتے۔
شور، ہنگامہ اورہڑبونگ اچھی نہ لگتی،ہرکام میں سکون ووقار اورنظم وترتیب چاہتے ،نماز تک کے بارے میں کہا کہ بھاگم بھاگ نہ آؤ" علیک بالسکینتہ" (تمہارے لئے سکون ووقار لازم ہے)یوم عرفہ کو ہجوم تھا،بڑا شوروہنگامہ تھا،لوگوں کو اپنے تازیانہ سے اشارہ کرتے ہوئے نظم وسکون کا حکم دیا اورفرمایا:
" فان البر لیس بالایضاع" (جلدی مچانے کا نام نیکی نہیں)
(نقوش لاہور،رسول نمبر)
مکمل تحریر >>