Friday, 20 March 2015

حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا قبولِ اسلام


حضرت اسعد ؓ نے حضرت مُصعب ؓ سے پہلے ہی سے کہہ دیا تھا کہ تمہارے پاس ایک ایسا سردار آرہا ہے، جس کے پیچھے اس کی پوری قوم ہے۔ اگر اس نے تمہاری بات مان لی توپھر ان میں سے کوئی بھی نہ پچھڑے گا۔
حضرت مصعب ؓ نے حضرت سعد بن معاذ سے کہا : کیوں نہ آپ تشریف رکھیں اور سنیں۔ اگر کوئی بات پسند آگئی تو قبول کرلیں اور اگر پسند نہ آئی تو ہم آپ کی ناپسندیدہ بات کو آپ سے دور ہی رکھیں گے۔ حضرت سعد نے کہا : انصاف کی بات کہتے ہو ، اس کے بعد اپنا نیزہ گاڑ کر بیٹھ گئے۔ حضرت مصعب ؓ نے ان پر اسلام پیش کیا اور قرآن کی تلاوت کی۔ ان کا بیان ہے کہ ہمیں حضرت سعد کے بولنے سے پہلے ہی ان کے چہرے کی چمک دمک سے ان کے اسلام کا پتہ لگ گیا۔ اس کے بعد انہوں نے زبان کھولی اور فرمایا : تم لوگ اسلام لاتے ہو تو کیا کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا :آپ غسل کرلیں، پھر حق کی شہادت دیں ، پھر دورکعت نماز پڑھیں۔ حضرت سعدؓ نے ایسا ہی کیا۔
اس کے بعد اپنا نیزہ اٹھا یا اور اپنی قوم کی محفل میں تشریف لائے۔ لو گوں نے دیکھتے ہی کہا : ہم واللہ! کہہ رہے ہیں کہ حضرت سعدؓ جو چہرہ لے کر گئے تھے اس کے بجائے دوسراہی چہرہ لے کر پلٹے ہیں۔ پھر جب حضرت سعدؓ اہل مجلس کے پاس آکر رکے تو بولے: اے بنی عبد الاشہل ! تم لو گ اپنے اندر میرا معاملہ کیسا جانتے ہو ؟ انہوں نے کہا : آپ ہمارے سردار ہیں۔ سب سے اچھی سوجھ بوجھ کے مالک ہیں اور ہمارے سب سے بابرکت پاسبان ہیں۔ انہوں نے کہا : اچھا تو سنو ! اب تمہارے مردوں اور عورتوں سے میری بات چیت حرام ہے جب تک کہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان نہ لاؤ۔ ان کی اس بات کا یہ اثر ہواکہ شام ہوتے ہوتے اس قبیلے کا کوئی بھی مرد اور کوئی بھی عورت ایسی نہ بچی جو مسلمان نہ ہوگئی ہو۔ صرف ایک آدمی جس کا نا م اُصیرم تھا اس کا اسلام جنگِ احد تک موخر ہوا۔ پھر احد کے دن اس نے اسلام قبول کیا اور جنگ میں لڑتا ہو ا کام آگیا۔ اس نے ابھی اللہ کے لیے ایک سجدہ بھی نہ کیا تھا۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ اس نے تھوڑا عمل کیا اور زیادہ اجر پایا۔
حضرت مصعب ؓ ، حضرت اسعد ؓ بن زرارہ ہی کے گھر مقیم رہ کر اسلام کی تبلیغ کرتے رہے۔ یہاں تک کہ انصار کا کوئی گھر باقی نہ بچا جس میں چند مرد اور عورت مسلمان نہ ہوچکی ہوں۔ صرف بنی امیہ بن زید اور خطمہ اور وائل کے مکانات باقی رہ گئے تھے۔ مشہور شاعر ابو قیس بن اسلت انہیں کا آدمی تھا اور یہ لوگ اسی کی بات مانتے تھے۔ اس شاعر نے انہیں جنگ خندق ( ۵ ہجری ) تک اسلام سے روکے رکھا۔ بہرحال اگلے موسمِ حج، یعنی تیرہویں سال نبوت کا موسمِ حج آنے سے پہلے حضرت مصعب بن عمیرؓ کامیابی کی بشارتیں لے کر رسول اللہﷺ کی خدمت میں مکہ تشریف لائے اور آپﷺ کو قبائل یثرب کے حالات ، ان کی جنگی اور دفاعی صلاحیتوں ، اور خیر کی لیاقتوں کی تفصیلات سنائیں۔ (ابن ہشام ۱/۴۳۵-۵۳۸ ، ۲/۹۰، زادالمعاد ۲/۵۱)
مکمل تحریر >>

یثرب کی چھ سعادت مند روحیں


گیارہویں سن نبوت کے موسم حج (جولائی ۶۲۰ء ) میں اسلامی دعوت کو چند کارآمد بیج دستیاب ہوئے۔ جو دیکھتے دیکھتے سروقامت درختوں میں تبدیل ہوگئے اور ان کی لطیف اور گھنی چھاؤں میں بیٹھ کر مسلمانوں نے برسوں ظلم وستم کی تپش سے راحت ونجات پائی۔ یہاں تک کہ واقعات کا رخ بد ل گیا اور خط تاریخ مڑ گیا۔
اہل مکہ نے رسول اللہﷺ کو جھٹلانے اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکنے کا جو بیڑا اٹھا رکھا تھا اس کے تئیں نبیﷺ کی حکمت عملی یہ تھی کہ آپ رات کی تاریکی میں قبائل کے پاس تشریف لے جاتے۔ تاکہ مکے کا کوئی مشرک رکاوٹ نہ ڈال سکے۔
اسی حکمت عملی کے مطابق ایک رات آپﷺ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت علیؓ کو ہمراہ لے کر باہر نکلے۔ بنو ذُہل اور بنو شیبان بن ثعلبہ کے ڈیروں سے گزرے تو ان سے اسلام کے بارے میں بات چیت کی۔ انہوں نے جواب تو بڑا امید افزا دیا ، لیکن اسلام قبول کرنے کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہ کیا۔ اس موقع پر حضرت ابوبکرؓ اور بنو ذُہل کے ایک آدمی کے درمیان سلسلہ نسب کے متعلق بڑا دلچسپ سوال وجواب بھی ہوا۔ دونوں ہی ماہر انساب تھے۔ (مختصرالسیرہ للشیخ عبد اللہ ص ۱۵۰تا ۱۵۲)
اس کے بعد رسول اللہﷺ منیٰ کی گھاٹی سے گزرے تو کچھ لوگوں کو باہم گفتگو کرتے سنا۔ آپﷺ نے سیدھے ان کا رخ کیا اور ان کے پاس جاپہنچے، یہ یثرب کے چھ جوان تھے اور سب کے سب قبیلۂ خزرج سے تعلق رکھتے تھے۔ نام یہ ہیں :
اسعد بن زُرَارَہ (قبیلۂ بنی النَّجار )
عوف بن حارث بن رفاعہ (ابن عَفْراء )
رافع بن مالک بن عجلان (قبیلۂ بنی زُریق )
قطبہ بن عامر بن حدیدہ (قبیلۂ بنی سلمہ )
عقبہ بن عامر نابی (قبیلہ بنی حرام بن کعب )
حارث بن عبد اللہ بن رِئاب (قبیلۂ بنی عبید بن غنم )
یہ اہل یثرب کی خوش قسمتی تھی کہ وہ اپنے حلیف یہود مدینہ سے سنا کرتے تھے کہ اس زمانے میں ایک نبی بھیجا جانے والا ہے اور اب جلد ہی وہ نمودار ہوگا۔ ہم اس کی پیروی کرکے اس کی معیت میں تمہیں عادِ ارَم کی طرح قتل کر ڈالیں گے۔ (زاد المعاد ۲/۵۰ ،ابن ہشام ۱/۴۲۹ ، ۵۴۱)
رسول اللہﷺ نے ان کے پاس پہنچ کر دریافت کیا کہ آپ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا :ہم قبیلۂ خزرج سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا : یعنی یہود کے حلیف ؟ بولے: ہاں۔ فرمایا : پھر کیوں نہ آپ حضرات بیٹھیں،کچھ بات چیت کی جائے، وہ لوگ بیٹھ گئے۔ آپﷺ نے ان کے سامنے اسلا م کی حقیقت بیان فرمائی۔ انہیں اللہ عزوجل کی طرف دعوت دی اور قرآن کی تلاوت فرمائی۔ انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا : بھئی دیکھو ! یہ تو وہی نبی معلوم ہوتے ہیں جن کا حوالہ دے کر یہود تمہیں دھمکیاں دیا کرتے ہیں۔ لہٰذا یہود تم پر سبقت نہ کرنے پائیں، اس کے بعد انہوں نے فوراًآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول کرلی اور مسلمان ہوگئے۔
یہ یثرب کے عقلاء الرجال تھے۔ حال ہی میں جنگ گزرچکی تھی ، اور جس کے دھویں اب تک فضا کو تاریک کیے ہوئے تھے ، اس جنگ نے انہیں چور چور کردیا تھا۔ اس لیے انہوں نے بجا طور پر یہ توقع قائم کی کہ آپﷺ کی دعوت ، جنگ کے خاتمے کا ذریعہ ثابت ہوگی۔ چنانچہ انہوں نے کہا : ہم اپنی قوم کو اس حالت میں چھوڑ کر آئے ہیں کہ کسی اور قوم میں ان کے جیسی عداوت ودشمنی نہیں پائی جاتی۔ امید ہے کہ اللہ آپﷺ کے ذریعے انہیں یکجا کردے گا۔ ہم وہاں جاکر لوگوں کو آپﷺ کے مقصد کی طرف بلائیں گے اور یہ دین جو ہم نے خود قبول کر لیا ہے ان پر بھی پیش کریں گے۔ اگر اللہ نے آپﷺ پر ان کو یکجا کردیا تو پھر آپ سے بڑھ کر کوئی اور معزز نہ ہوگا۔
اس کے بعد جب یہ لوگ مدینہ واپس ہوئے تو اپنے ساتھ اسلام کا پیغام بھی لے گئے، چنانچہ وہاں گھر گھر رسول اللہﷺ کا چرچا پھیل گیا۔
( ابن ہشام ۱/۴۲۸ ، ۴۳۰)
مکمل تحریر >>

اولین مسلمانوں کے حق پر جمے رہنے کے اسباب و عوامل - قرآن کا نزول


انہی پر خطر مشکل ترین اور تیرہ وتار حالات میں ایسی سورتیں اور آیتیں بھی نازل ہورہی تھیں جن میں بڑے ٹھوس اور پر کشش انداز سے اسلام کے بنیادی اصولوں پر دلائل وبراہین قائم کیے گئے تھے اور اس وقت اسلام کی دعوت انہی اصولوں کے گردش کر رہی تھی۔ ان آیتوں میں اہل اسلام کو ایسے بنیادی امور بتلائے جارہے تھے ، جن پر اللہ تعالیٰ نے عالم انسانیت کے سب سے باعظمت اور پر رونق معاشرے، یعنی اسلامی معاشرے کی تعمیر وتشکیل مقدر کر رکھی تھی۔ نیز ان آیات میں مسلمانوں کے جذبات واحساسات کو پامردی وثبات قدمی پر ابھارا جارہا تھا۔ اس کے لیے مثالیں دی جارہی تھیں اور اس کی حکمتیں بیان کی جاتی تھیں :
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلِكُم ۖ مَّسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّ‌اءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّىٰ يَقُولَ الرَّ‌سُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَىٰ نَصْرُ‌ اللَّـهِ ۗ أَلَا إِنَّ نَصْرَ‌ اللَّـهِ قَرِ‌يبٌ ﴿٢١٤﴾ (۲:۲۱۴)
''تم سمجھتے ہوکہ جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ ابھی تم پر ان لوگوں جیسی حالت نہیں آئی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ وہ سختیوں اور بد حالیوں سے دوچار ہوئے اور انہیں جھنجوڑ دیا گیا۔ یہاں تک کہ رسول اور جولوگ ان پر ایمان لائے تھے بول اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سنو ! اللہ کی مدد قریب ہی ہے۔''
اور انہی کے پہلو بہ پہلو ایسی آیات کا نزول بھی ہورہا تھا جن میں کفار ومعاندین کے اعتراضات کے دندان شکن جواب دیئے گئے تھے، ان کے لیے کوئی حیلہ باقی نہیں چھوڑا تھا اور انہیں بڑے واضح اور دوٹوک الفاظ میں بتلادیا گیا تھا کہ اگر وہ اپنی گمراہی اورعناد پر مصررہے توا س کے نتائج کس قدر سنگین ہوں گے۔ اس کی دلیل میں گزشتہ قوموں کے ایسے واقعات اور تاریخی شواہد پیش کیے گئے تھے جن سے واضح ہوتا تھا کہ اللہ کی سنت اپنے اولیاء اور اعداء کے بارے میں کیا ہے۔ پھر اس ڈراوے کے پہلو بہ پہلو لطف وکرم کی باتیں بھی کہی جارہی تھیں اور افہام وتفہیم اور ارشاد ورہنمائی کا حق بھی ادا کیا جارہا تھا تاکہ باز آنے والے اپنی کھلی گمراہی سے باز آسکیں۔
درحقیقت قرآن مسلمانوں کو ایک دوسری ہی دنیا کی سیر کراتا تھا اور انہیں کائنات کے مشاہد ، ربوبیت کے جمال ، الوہیت کے کمال ، رحمت ورافت کے آثار اور لطف ورضا کے ایسے ایسے جلوے دکھاتا تھا کہ ان کے جذب وکشش کے آگے کوئی رکاوٹ برقرار ہی نہ رہ سکتی تھی۔
پھر انہیں آیات کی تہہ میں مسلمانوں سے ایسے ایسے خطاب بھی ہوتے تھے جن میں پروردگار کی طرف سے رحمت ورضوان اور دائمی نعمتوں سے بھری ہوئی جنت کی بشارت ہوتی تھی اور ظالم وسرکش دشمنوں اور کافروں کے ان حالات کی تصویر کشی ہوتی تھی ۔

مکمل تحریر >>

اولین مسلمانوں کے حق پر جمے رہنے کے اسباب و عوامل


ابتدائی مسلمانوں کے صبر و ثبات کو دیکھ کر گہری سوجھ بوجھ اور مضبوط دل ودماغ کا آدمی بھی حیرت زدہ رہ جاتا ہے اور بڑے بڑے عقلاء دم بخود ہوکر پوچھتے ہیں کہ آخر وہ کیا اسباب وعوامل تھے جنہوں نے مسلمانوں کو اس قدر انتہائی اور معجزانہ حد تک ثابت قدم رکھا؟
آخر مسلمانوں نے کس طرح ان بے پایاں مظالم پر صبر کیا جنہیں سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور دل لرز اٹھتا ہے۔ باربار کھٹکنے اور دل کی تہوں سے ابھرنے والے اس سوال کے پیش نظر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان اسباب وعوامل کی طرف ایک سرسری اشارہ کردیا جائے۔
اللہ پر کامل ایمان اور معرفت:
ان میں سب سے پہلا اور اہم سبب اللہ کی ذاتِ واحد پر ایمان اور اس کی ٹھیک ٹھیک معرفت ہے۔ کیونکہ جب ایمان کی بشاشت دلوں میں جانشیں ہوجاتی ہے تو وہ پہاڑوں سے ٹکرا جاتا ہے اور اسی کا پلہ بھاری رہتا ہے اور جو شخص ایسے ایمانِ محکم اور یقین کامل سے بہرہ ور ہو وہ دنیا کی مشکلات کو ...خواہ وہ جتنی بھی زیادہ ہوں اور جیسی بھی بھاری بھرکم ، خطرناک اور سخت ہوں...اپنے ایمان کے بالمقابل اس کا ئی سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا جو کسی بند توڑ اور قلعہ شکن سیلاب کی بالائی سطح پر جم جاتی ہے۔ اس لیے مومن اپنے ایمان کی حلاوت ، یقین کی تازگی اور اعتقاد کی بشاشت کے سامنے ان مشکلات کی کوئی پروا ہ نہیں کرتا ۔۔پھر اسی ایک سبب سے ایسے اسباب وجود میں آتے ہیں جو اس صبر وثبات قدمی کو قوت بخشتے ہیں۔
حضور ﷺﷺ کی پر کشش قیادت:
نبیﷺ جو امت ِ اسلامیہ بلکہ ساری انسانیت کے سب سے بلند پایہ قائد ورہنماتھے۔ ایسے جسمانی جمال ، نفسانی کمال ، کریمانہ اخلاق ، باعظمت کردار اور شریفانہ عادات واطوار سے بہرہ ور تھے کہ دل خود بخود آپﷺ کی جانب کھنچے جاتے تھے اور طبیعتیں خودبخود آپﷺ پر نچھاور ہوتی تھیں کیونکہ جن کمالات پر لوگ جان چھڑکتے ہیں ان سے آپﷺ کو اتنا بھر پور حصہ ملا تھا کہ اتنا کسی اور انسان کو دیا ہی نہیں گیا۔
آپﷺ شرف دعظمت اور فضل وکمال کی سب سے بلند چوٹی پر جلوہ فگن تھے۔ عفت وامانت ، صدق وصفا اور جملہ امورِ خیر میں آپﷺ کا وہ امتیاز ی مقام تھا کہ رفقاء تو رفقاء آپﷺ کے دشمنوں کو بھی آپﷺ کی یکتائی وانفرادیت پر کبھی شک نہ گزرا۔ آپﷺ کی زبان سے جو بات نکل گئی ، دشمنوں کو بھی یقین ہوگیا کہ وہ سچی ہے اور ہوکر رہے گی۔ واقعات اس کی شہادت دیتے ہیں۔ ایک بار قریش کے ایسے تین آدمی اکٹھے ہوئے جن میں سے ہر ایک نے اپنے بقیہ دوساتھیوں سے چھپ چھپا کر تن تنہا قرآن مجید سنا تھا لیکن بعد میں ہر ایک کا راز دوسرے پر فاش ہوگیا تھا۔ انہی تینوں میں سے ایک ابو جہل بھی تھا۔ تینوں اکٹھے ہوئے تو ایک نے ابوجہل سے دریافت کیا کہ بتاؤ تم نے جو کچھ محمد (ﷺ ) سے سنا ہے اس کے بارے میں تمہاری رائے کیا ہے ؟ ابوجہل نے کہا : میں نے کیا سنا ہے ؟ بات دراصل یہ ہے کہ ہم نے اور بنو عبد مناف نے شرف وعظمت میں ایک دوسرے کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے (غرباء ومساکین کو ) کھلا یا تو ہم نے بھی کھلایا۔ انہوں نے داد ودہش میں سواریاں عطاکیں تو ہم نے بھی عطا کیں۔ انہوں نے لوگوں کو عطیات سے نوازا تو ہم نے بھی ایسا کیا یہاں تک کہ جب ہم اور وہ گھنٹوں گھنٹوں ایک دوسرے کے ہم پلہ ہوگئے اور ہماری اور ان کی حیثیت ریس کے دومقابل گھوڑوں کی ہوگئی تو اب بنوعبد مناف کہتے ہیں کہ ہمارے اندر ایک نبی (ﷺ ) ہے جس کے پاس آسمان سے وحی آتی ہے۔ بھلا بتایئے ہم اسے کب پاسکتے ہیں ؟ اللہ کی قسم ! ہم اس شخص پر کبھی ایمان نہ لائیں گے ، اور اس کی ہرگز تصدیق نہ کریں گے۔ (ابن ہشام ۱/۳۱۶)
چنانچہ ابوجہل کہا کرتا تھا : اے محمد (ﷺ ) ہم تمہیں جھوٹا نہیں کہتے لیکن تم جو کچھ لے کر آئے ہو اس کی تکذیب کرتے ہیں اور اسی بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :
فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَـٰكِنَّ الظَّالِمِينَ بِآيَاتِ اللَّـهِ يَجْحَدُونَ ﴿٣٣﴾ (۶: ۳۳)
''یہ لوگ آپ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں۔'' (ترمذی : تفسیر سورۃ الانعام ۲/۱۳۲)
اس واقعے کی تفصیل گزر چکی ہے کہ ایک روز کفار نے نبیﷺ کو تین بار لعن طعن کی اور تیسری دفعہ میں آپﷺ نے فرمایا کہ اے قریش کی جماعت !میں تمہارے پاس ذبح لے کر آیا ہوں تو یہ بات ان پر اس طرح اثر کرگئی کہ جو شخص عداوت میں سب سے بڑھ کر تھا۔ وہ بھی بہتر سے بہتر جو جملہ پاسکتا تھا اس کے ذریعہ آپﷺ کو راضی کرنے کی کوشش میں لگ گیا، اسی طرح آپﷺ کی ابو لہب کے بیٹے عتیبہ کے لیے بددعا، ابی بن خلف اور امیہ بن خلف کو چیلنج جیسے کئی واقعات کا ذکر ہوچکا ۔
یہ تو آپﷺ کے دشمنوں کا حال تھا۔ باقی رہے آپﷺ کے صحابہ ؓ اور رفقاء تو آپﷺ تو ان کے لیے دیدہ ودل اور جان وروح کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کے دل کی گہرائیوں سے آپﷺ کے لیے حبِّ صادق کے جذبات اس طرح ابلتے تھے جیسے نشیب کی طرف پانی بہتا ہے اور جان ودل اس طرح آپﷺ کی طرف کھنچتے تھے جیسے لو ہا مقناطیس کی طرف کھنچتا ہے :
اس محبت وفداکاری اور جاں نثاری وجاںسپاری کا نتیجہ یہ تھا کہ صحابہ کرامؓ کو یہ گوارانہ تھا کہ آپﷺ کے ناخن میں خراش آجائے یا آپﷺ کے پاؤں میں کانٹا چبھ جائے خواہ اس کے لیے ان کی گردنیں ہی کیوں نہ کوٹ دی جائیں۔محبت و جاں سپاری کے کچھ اور بھی نادر واقعات ہم اپنی اس کتاب میں موقع بہ موقع نقل کریں گے۔ خصوصاً جنگ احد کے واقعات اور حضرت خبیب ؓ کے حالات کے ضمن میں۔

مکمل تحریر >>

Sunday, 25 January 2015

اسلام قبول کرنے والوں پر ظلم و ستم


۴ نبوت میں اسلامی دعوت کے منظر عام پر آنے کے بعد مشرکین نے اس کے خاتمے کے لیے سابقہ کارروائیاں رفتہ رفتہ انجام دیں۔ مہینوں اس سے آگے قدم نہیں بڑھا یا اور ظلم وزیادتی شروع نہیں کی لیکن جب دیکھا کہ یہ تدبیریں اسلامی دعوت کو ناکام بنانے میں مؤثر نہیں ہورہی ہیں تو باہمی مشورے سے طے کیا کہ مسلمانوں کو سزائیں دے دے کر ان کو ان کے دین سے باز رکھا جائے۔ اس کے بعد سردار نے اپنے قبیلے کے ماتحت لوگوں کو جو مسلمان ہوگئے تھے۔ سزائیں دینی شروع کیں اور ہر مالک اپنے ایمان لانے والے غلاموں پر ٹوٹ پڑا اور یہ بات تو بالکل فطری تھی کہ دم چھلے اور اوباش اپنے سرداروں کے پیچھے دوڑیں اور ان کی مرضی اور خواہش کے مطابق حرکت کریں ، چنانچہ مسلمانوں اور بالخصوص کمزوروں پر ایسے ایسے مصائب توڑے گئے اور انہیں ایسی ایسی سزائیں دی گئیں جنہیں سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور دل پھٹ جاتا ہے۔ ذیل میں محض ایک جھلک دی جارہی ہے۔

ابو جہل جب کسی معزز اور طاقتور آدمی کے مسلمان ہونے کی خبر سنتا تو اسے برا بھلا کہتا۔ ذلیل ورسوا کرتا اور مال کو سخت خسارے سے دوچار کرنے کی دھمکیاں دیتا اور اگر کوئی کمزور آدمی مسلمان ہوتا تو اسے خود بھی مارتا اور دوسروں کو بھی بر انگیختہ کرتا۔ (ابن ہشام ۱/۳۲۰ 2 رحمۃ للعالمین ۱/۵۷)

حضرت عثمان بن عفانؓ کا چچا انہیں کھجور کی چٹائی میں لپیٹ کر دھواں دیتا۔ (اسد الغابہ ۴/۴۰۶، تلقیح الفہوم ص۶۰)

حضرت مصعب بن عمیرؓ کی ماں کو ان کے اسلام لانے کا علم ہوا تو ان کا دانہ پانی بند کر دیا اور گھر سے نکال دیا، یہ بڑے ناز ونعمت میںپلے تھے۔ شدت سے دوچار ہو ئے تو کھال اس طرح ادھڑ گئی جیسے سانپ کچلی چھوڑتا ہے۔ (الاصابہ ۳،۴/۲۵۵، ابن سعد ۳/۲۴۸)

حضرت بلالؓ امیہ بن خلف جحمی کے غلام تھے۔ امیہ ان کی گردن میں رسی ڈال کر لڑکوں کے حوالے کردیتا اور وہ انہیں مکہ کے پہاڑوں میں گھماتے اور کھینچتے پھرتے۔ یہاں تک کہ گردن پر رسی کا نشان پڑ جاتا۔ پھر بھی أحد أحدکہتے رہتے۔ خود بھی انہیں باندھ کر ڈنڈے مارتا ، اور چلچلاتی دھوپ میں جبراً بٹھائے رکھتا۔ کھانا پانی بھی نہ دیتا،بلکہ بھوکا پیاسا رکھتا اور ان سب سے بڑھ کر یہ ظلم کرتا کہ جب دوپہر کی گرمی شباب پر ہوتی تو مکہ کے پتھریلے کنکروں پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھوا دیتا۔ پھر کہتا : واللہ! تو اسی طرح پڑارہے گا یہا ں تک کہ مر جائے یا محمد کے ساتھ کفر کرے اور لات وعزیٰ کی پوجا کرے۔ حضرت بلالؓ اس حالت میں بھی کہتے : أحد ،أحد اور فرماتے : اگر مجھے کوئی ایسا کلمہ معلوم ہوتا جو تمہیں اس سے بھی زیادہ ناگوار ہوتا تو میں اسے کہتا۔ ایک روز یہی کاروائی جاری تھی کہ حضرت ابوبکرؓ کا گزر ہوا۔ انہوں نے حضرت بلالؓ کو ایک کالے غلام کے بدلے اور کہا جاتا ہے کہ دوسو درہم (۷۳۵ گرام چاندی) یا دوسو اسی درہم (ایک کلو سے زائد چاندی ) کے بدلے خرید کر آزاد کر دیا۔ (ابن ہشام ۱/۳۱۷، ۳۱۸ ، تلقیح الفہوم ص۶ تفسیر ابن کثیر سورۂ النحل ۳/۶۴۸)

حضرت عمار بن یاسرؓ بنو مخزوم کے غلام تھے۔ انہوں نے اور ان کے والدین نے اسلام قبول کیا تو ان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ مشرکین ، جن میں ابوجہل پیش پیش تھا۔ سخت دھوپ کے وقت پتھریلی زمین پرلے جاکر اس کی تپش سے سزا دیتے۔ ایک بار انہیں اسی طرح سزادی جارہی تھی کہ نبیﷺ کا گزر ہوا۔ آپ نے فرمایا : آل یاسر ! صبر کرنا۔ تمہارا ٹھکانہ جنت ہے۔ آخر کار یاسر ظلم کی تاب نہ لاکر وفات پاگئے اور حضرت سمیہؓ ، جو حضرت عمارؓ کی والدہ تھیں۔ ابوجہل نے ان کی شرمگاہ میں نیزہ مارا اور وہ دم توڑ گئیں۔ یہ اسلام میں پہلی شہیدہ ہیں۔ ان کے والد کا نام خیاط تھا اور یہ ابوحذیفہ بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم کی لونڈی تھیں۔ بہت بوڑھی اور ضعیف تھیں۔
حضرت عمار پر سختی کا سلسلہ جاری رہا۔ انہیں کبھی دھوپ میں تپایا جاتا تو کبھی ان کے سینے پر سرخ پتھر رکھ دیا جاتا اور کبھی پانی میں ڈبویا جاتا یہاں تک کہ وہ ہوش حواس کھو بیٹھتے۔ ان سے مشرکین کہتے تھے کہ جب تک تم محمد کو گالی نہ دو گے ، یا لات وعزیٰ کے بارے میں کلمۂ خیر نہ کہو گے ہم تمہیں نہیں چھوڑیں گے۔ مجبوراً انہوں نے مشرکین کی بات مان لی۔ پھر نبیﷺ کے پاس روتے اور معذرت کرتے ہوئے تشریف لائے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی:
(۱۶ : ۱۰۶ ) ''جس نے اللہ پر ایمان لانے کے بعد کفر کیا (اس پر اللہ کا غضب اور عذاب عظیم ہے ) لیکن جسے مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو '' (اس پر کوئی گرفت نہیں )
(ابن ہشام ۱/۳۱۹ ، ۳۲۰ ، طبقات ابن سعد ۳/۲۴۸، ۲۴۹، آخری ٹکڑا طوفی نے ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے۔ ابن کثیر اورالدرالمنثور تفسیر سورۂ نحل آیت ۲۰۶۔)



حضرت ابو فکیہہ جن کا نام افلح تھا۔ جو اصلاً قبیلہ ازد سے تھے اور بنو عبد الدار کے غلام تھے ، ان کے دونوں پاؤں میں لوہے کی بیڑیاں ڈال کر دوپہر کی سخت گرمی میں باہر نکالتے اور جسم سے کپڑے اتار کر تپتی ہوئی زمین پر پیٹ کے بل لٹادیتے اور پیٹھ پر بھاری پتھر رکھ دیتے کہ حرکت نہ کرسکیں۔ وہ اسی طرح پڑے پڑ ے ہوش حواس کھو بیٹھتے۔ انہیں اسی طرح کی سزائیں دی جاتی رہیں ، یہاں تک کہ دوسری ہجرتِ حبشہ میں وہ بھی ہجرت کر گئے۔ ایک بار مشرکین نے ان کا پاؤں رسی میں باندھ ، اور گھسیٹ کر تپتی ہوئی زمین پر ڈال دیا، پھر اس طرح گلا دبا یا کہ سمجھے یہ مر گئے ہیں۔ اسی دوران وہاں حضرت ابوبکر کا گزر ہوا۔ انہوں نے خرید کر اللہ کے لیے آزاد کر دیا۔ (اسد الغابہ ۵/۲۴۸، الاصابہ ۷،۸/۱۵۲وغیرہ۔)

خباب بن ارت قبیلہ خزاعہ کی ایک عورت ام انمار کے غلام تھے اور لوہاری کا کام کرتے تھے۔ مسلمان ہوئے تو ان کی مالکہ انھیں آگ سے جلانے کی سزا دیتی۔ وہ لوہے کا گرم ٹکڑا لاتی اور ان کی پیٹھ یا سر پر رکھ دیتی۔ تاکہ وہ محمدﷺ کے ساتھ کفر کریں۔ مگر اس سے ان کے ایمان اور تسلیم ورضا میں اور اضافہ ہوتا۔ انھیں مشرکین بھی طرح طرح کی سزائیں دیتے۔ کبھی سختی سے گردن مروڑتے تو کبھی سر کے بال نوچتے۔ ایک بار تو انھیں دہکتے ہوئے انگاروں پر ڈال دیا۔ اسی پر گھسیٹا اور دبائے رکھا، یہاں تک کہ ان کی پیٹھ کی چربی پگھلنے سے آگ بچھی۔ (اسد الغابہ ۱/۵۹۱ ، ۵۹۳ ، تلقیح الفہوم ص ۶ وغیرہ۔)

حضرت زنیرہ رومی لونڈی تھیں۔ وہ مسلمان ہوئیں تو انھیں اللہ کی راہ میں سزائیں دی گئیں۔ اتفاق سے ان کی آنکھ جاتی رہی۔ مشرکین نے کہا :دیکھو ! تم پر لات وعزیٰ کی مار پڑگئی ہے۔ انہوں نے کہا: نہیں ، واللہ ! یہ لات وعزیٰ کی مار نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر وہ چاہے تو دوبارہ بحال کرسکتا ہے۔ پھر اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ دوسرے دن نگاہ پلٹ آئی ، مشرکین کہنے لگے :یہ محمد کا جادو ہے۔ (طبقات ابن سعد ۸/۲۵۶ ، ابن ہشام ۱/۱۳۸)

غلاموں میں عامر بن فہیرہ بھی تھے، اسلام لانے پر انھیں بھی اس قدر سزائیں دی جاتیں کہ وہ اپنے ہوش وحواس کھو بیٹھتے اور انھیں پتہ نہ چلتا کہ کیا بول رہے ہیں۔( طبقات ابن سعد ۳/۲۴۸)

حضرت ابوبکرؓ نے ان سارے غلاموں اورلونڈیوں کو خرید کو آزاد کردیا۔ اس پر ان کے والد ابو قحافہ نے ان کو عتاب کیا۔ کہنے لگے : (بیٹا ) میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ کمزور گرد نیں آزاد کر رہے ہو۔ توانا لوگوں کو آزاد کرتے تو وہ تمہارا بچاؤ بھی کرتے۔ انہوں نے کہا : میں اللہ کی رضا چاہتا ہوں اس پر اللہ نے قرآن اتارا۔ حضرت ابوبکرؓ کی مدح کی اور ان کے دشمنوں کی مذمت کی۔ فرمایا
وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى ﴿١٧﴾ الَّذِي يُؤْتِي مَالَهُ يَتَزَكَّىٰ ﴿١٨﴾ وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُ مِن نِّعْمَةٍ تُجْزَىٰ ﴿١٩﴾ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَ‌بِّهِ الْأَعْلَىٰ ﴿٢٠﴾ وَلَسَوْفَ يَرْ‌ضَىٰ ﴿٢١﴾ (۹۲: ۱۷ تا ۲۱)
اور اس آگ سے وہ پرہیزگار آدمی دور رکھا جائے گا جو اپنا مال پاکی حاصل کرنے کے لیے خرچ کررہا ہے۔ اس پر کسی کا احسان نہیں ہے جس کا بدلہ دیا جارہا ہو۔ بلکہ محض اپنے رب اعلیٰ کی مرضی کی طلب ہے۔ اس سے مقصود حضرت ابوبکر صدیقؓ ہیں۔ (ابن ہشام ۱/۱۳۸ ، ۳۱۹ ، طبقات ابن سعد ۸/۲۵۶ کتب تفسیر آیت مذکورہ۔)

یہ اس ظلم وجور کا ایک نہایت مختصر خاکہ ہے جو اہل اللہ اور سکان حرم ہونے کا دعویٰ رکھنے والے سرکش مشرکین کے ہاتھوں رسول اللہﷺ اور مسلمانوں کو سہنا پڑ رہے تھے۔
اس سنگین صورت حال کا تقاضا یہ تھا کہ رسول اللہﷺ ایسا محتاط اور حزم وتدبیر پر مبنی موقف اختیار کریں کہ مسلمانوں پر جو آفت ٹوٹ پڑی تھی اس سے بچانے کی کوئی صورت نکل آئے اور ممکن حد تک اس کی سختی کم کی جاسکے۔ اس مقصد کے لیے رسول اللہﷺ نے دو حکیمانہ قدم اٹھائے۔ جو دعوت کا کام آگے بڑھانے میں بھی مؤثر ثابت ہوئے:
ارقم بن ابی الارقم مخزومی کے مکان کو دعوت وتربیت کے مرکز کے طور پر اختیار فرمایا۔
" مسلمانوں کو ہجرت حبشہ کا حکم فرمایا۔

مکمل تحریر >>