Sunday, 1 February 2015

مکہ میں کافروں کی ایضا رسانی میں شدت


جب مشرکین اپنی چال میں کامیاب نہ ہوسکے، اور مہاجرینِ حبشہ کو واپس لانے کی کوشش میں منہ کی کھانی پڑی تو آپے سے باہر ہوگئے اور لگتا تھا کہ غیظ وغضب سے پھٹ پڑیں گے ، چنانچہ ان کی درندگی اور بڑھ گئی۔ ان کا دست جور رسول اللہﷺ تک بڑھ آیا اور ان کی نقل وحرکت سے یہ محسوس ہونے لگا کہ وہ آپﷺ کا خاتمہ کیا چاہتے ہیں ، تاکہ ان کے خیال میں جس فتنے نے ان کی خوابگاہوں کو خار زار بنارکھا ہے اسے بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکیں۔
جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تو اب مکہ میں جو مسلمان بچے کھچے رہ گئے تھے وہ بہت ہی تھوڑے تھے اور پھر صاحب شرف وعزت بھی تھے۔ یا کسی بڑے شخص کی پناہ میں تھے۔ اس کے ساتھ ہی وہ اپنے اسلام کو چھپائے ہوئے بھی تھے اور حتی الامکان سرکشوں اور ظالموں کی نگاہوں سے دور رہتے تھے۔ مگر اس احتیاط اور بچاؤ کے باوجود بھی وہ ظلم وجور اور ایذاء رسانی سے مکمل طور پر محفوظ نہ رہ سکے۔
جہاں تک رسول اللہﷺ کا تعلق ہے تو آپ ظالموں کی نگاہوں کے سامنے نماز پڑھتے اور اللہ کی عبادت کرتے تھے اور خفیہ اور کھلم کھلا دونوں طرح اللہ کے دین کی دعوت دیتے تھے۔ اس سے آپ کو نہ کوئی روکنے والی چیز روک سکتی تھی اور نہ موڑنے والی چیز موڑ سکتی تھی۔ کیونکہ یہ اللہ کی رسالت کی تبلیغ کا ایک حصہ تھا اور اس پر آپ اس وقت سے کار بند تھےجب سے اللہ کا یہ حکم نازل ہوا تھا : یعنی آپ کو جو حکم دیا جاتا ہے اسے ببانگ دہل بیان کیجیے اور مشرکین سے منہ پھیر ے رکھئے۔
چنانچہ اس صورتِ حال کی بناء پر مشرکین کے لیے ممکن تھا کہ آپ سے جب چاہیں چھیڑ چھاڑ کر بیٹھیں۔ بظاہر کوئی چیز نہ تھی جوا ن کے ، اور ان کے عزائم کے درمیان روک بن سکتی تھی۔ اگر کچھ تھا تو وہ نبیﷺ کا اپنا ذاتی شکوہ ووقار تھا۔ ابو طالب کا ذمہ واحترام تھا۔ یا اس بات کا اندیشہ تھا کہ اگر انہوں نے کوئی غلط حرکت کی تو انجام اچھا نہ ہوگا اور سارے بنوہاشم ان کے خلاف ڈٹ جائیں گے۔
مگر ان کے دلوں میں ان ساری باتوں کا مطلوبہ اثر بر قرار نہ رہ گیا تھا اور جب سے انہیں یہ محسوس ہو چلا تھا کہ آپﷺ کی دعوت کے سامنے ان کی دینی چودھراہٹ اور بت پرستانہ نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا چاہتا ہے۔ تب سے انہوں نے آپ کے ساتھ اوچھی حرکتیں کرنی شروع کردی تھیں۔ جو واقعات کتب حدیث وسیرت میں مروی ہیں اور قرائن شہادت دیتے ہیں کہ وہ اسی دور میں پیش آئے ، ایک یہ ہے کہ :
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے ابن اسحاق نے ان کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ ایک بار مشرکین حَطِیْم میں جمع تھے، میں بھی موجود تھا۔ مشرکین نے رسول اللہﷺ کا ذکر چھیڑا اور کہنے لگے : اس شخص کے معاملے میں ہم نے جیسا صبر کیا ہے اس کی مثال نہیں۔ درحقیقت ہم نے اس کے معاملے میں بہت ہی بڑی بات پر صبر کیا ہے۔ یہ گفتگو چل ہی رہی تھی کہ رسول اللہﷺ نمودار ہوگئے۔ آپ نے تشریف لا کر پہلے حجر اسود کو چوما۔ پھر طواف کرتے ہوئے مشرکین کے پاس سے گزرے۔ انہوں نے کچھ کہہ کر طعنہ زنی کی۔ جس کا اثر میں نے آپ کے چہرے پر دیکھا۔ اس کے بعد دوبارہ آپ کا گزر ہوا تو مشرکین نے پھر اسی طرح لعن طعن کی۔ میں نے اس کا بھی اثر آپ کے چہرے پر دیکھا اس کے بعد آپ سہ بارہ گزرے تو مشرکین نے پھر آپ پر لعن طعن کی۔ اب کی بار آپ ٹھہر گئے اور فرمایا :
قریش کے لوگو! سن رہے ہو ؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں تمہارے پاس ذبح لے کر آیا ہوں۔
آپ کے اس ارشاد نے لوگوں کو پکڑ لیا۔ (ان پر سکتہ طاری ہوا کہ ) گویا ہر آدمی کے سر پر چڑیا ہے۔ یہاں تک کہ جو آپ پر سب سے زیادہ سخت تھا وہ بھی بہتر سے بہتر لفظ جو پاسکتا تھا اس کے ذریعے آپ سے طلب گارِ رحمت ہونے لگا۔ کہتا کہ ! ابوالقاسم ! واپس چلے جایئے۔ اللہ کی قسم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی نادان نہ تھے۔
دوسرے دن قریش پھر اسی طرح جمع ہوکر آپ کا ذکر کر رہے تھے کہ آپ نمودار ہوئے۔ دیکھتے ہی سب (یکجان ہوکر ) ایک آدمی کی طرح آپ پر پل پڑے اور آپ کو گھیر لیا، پھر میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے گلے کے پاس سے آپ کی چادر پکڑ لی۔ (اور بل دینے لگا) ابوبکر ؓ آپ کے بچاؤ میں لگ گئے۔ وہ روتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے:
تم لوگ ایک آدمی کو اس لیے قتل کر رہے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے ؟ اس کے بعد وہ لوگ آپ کو چھوڑ کر پلٹ گئے ...عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ یہ سب سے سخت ترین ایذا رسانی تھی جو میں نے قریش کو کبھی کرتے ہوئے دیکھی۔( ابن ہشام ۱/۲۸۹، ۲۹۰) (صحیح بخاری باب ذکر مالقی النبی ﷺ من المشرکین بمکۃ ۱/۵۴۴)
حضرت اسماء ؓ کی روایت میں مزید تفصیل ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ کے پاس یہ چیخ پہنچی کہ اپنے ساتھی کو بچاؤ۔ وہ جھٹ ہمارے پاس سے نکلے، ان کے سر پر چار چوٹیاں تھیں۔ وہ یہ کہتے ہوئے گئے کہ
تم لوگ ایک آدمی کو محض اس لیے قتل کررہے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے ؟ مشرکین نبیﷺ کو چھوڑ کر ابوبکر ؓ پر پل پڑے۔ وہ واپس آئے تو حالت یہ تھی کہ ہم ان کی چوٹیوں کا جو بال بھی چھوتے تھے ، وہ ہماری (چٹکی ) کے ساتھ چلا آتا تھا۔ (مختصر السیرۃ شیخ عبد اللہ ص ۱۱۳)

مکمل تحریر >>

Sunday, 25 January 2015

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ظلم وستم کا سلسلہ جاری


ابو لہب اس کے باوجود کہ رسول اللہﷺ کا چچا اور پڑوسی تھا'یہ ساری حرکتیں کررہا تھا ۔ اس کا گھر آپ کے گھر سے متصل تھا۔ اسی طرح آپ کے دوسرے پڑوسی بھی آپ کو گھر کے اندر ستاتے تھے۔
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ جوگروہ گھر کے اندر رسول اللہﷺ کو اذیت دیا کر تا تھا وہ یہ تھا۔ ابو لہب ، حَکم بن ابی العاص بن امیہ ، عقبہ بن ابی مُعیط ، عَدِی بن حمراء ثقفی ، ابن الاصداء ہذلی۔ یہ سب کے سب آپﷺ کے پڑوسی تھے اور ان میں سے حکم بن ابی العاص (یہ اموی خلیفہ مروان بن الحکم کے باپ ہیں) کے علاوہ کوئی بھی مسلمان نہ ہوا۔ 
ان کے ستانے کا طریقہ یہ تھا کہ جب آپﷺ نماز پڑھتے تو کوئی شخص بکری کی بچہ دانی اس طرح ٹکا کر پھینکتا کہ وہ ٹھیک آپﷺ کے اوپر گرتی۔ چولھے پر ہانڈی چڑھائی جاتی تو بچہ دانی اس طرح پھینکتے کہ سیدھے ہانڈی میں جا گرتی۔ آپﷺ نے مجبور ہوکر ایک گھروندا بنا لیا تاکہ نماز پڑھتے ہوئے ان سے بچ سکیں۔
بہر حال جب آپﷺ پر یہ گندگی پھینکی جاتی تو آپﷺ اسے لکڑی پر لے کر نکلتے اور دروازے پر کھڑے ہو کر فرماتے :
اے بنی عبد مناف ! یہ کیسی ہمسائیگی ہے ؟ پھر اسے راستے میں سائیڈ پر ڈال دیتے۔ 

عُقبہ بن ابی مُعیط اپنی بدبختی اور خباثت میں اور بڑھا ہو ا تھا۔ چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ نبیﷺ بیت اللہ کے پاس نماز پڑ ھ رہے تھے اور ابو جہل اور اس کے کچھ رفقاء بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں بعض نے بعض سے کہا : کون ہے جو بنی فلاں کے اونٹ کی اوجھڑی لائے اور جب محمد سجدہ کریں تو ان کی پیٹھ پر ڈال دے ؟ اس پر قوم کا بد بخت ترین آدمی...عقبہ بن ابی معیط(ابن ہشام ۱/۴۱۶)...اٹھا اور اوجھ لاکر انتظار کرنے لگا۔ جب نبیﷺ سجدے میں تشریف لے گئے تو اسے آپ کی پیٹھ پر دونوں کندھوں کے درمیان ڈال دیا۔ میں سارا ماجرا دیکھ رہا تھا ، مگر کچھ نہیں کرسکتا تھا۔ کاش! میرے اندر بچانے کی طاقت ہوتی۔
حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعدوہ ہنسی کے مارے ایک دوسرے پر گرنے لگے اور رسول اللہﷺ سجدے میں ہی پڑے رہے، سَر نہ اٹھایا۔ یہاں تک کہ فاطمہؓ آئیں اور آپ کی پیٹھ سے اوجھ ہٹا کر پھینکی، تب آپ نے سَر اٹھایا۔ پھر تین بار فرمایا : ((اللّٰھم علیک بقریش۔)) '' اے اللہ تو قریش کو پکڑ لے۔'' جب آپ نے بد عا کی تو ان پر بہت گراں گزری۔ کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ اس شہر میں دعائیں قبول کی جاتی ہیں۔ اس کے بعد آپ نے نام لے لے کر بددعا کی : اے اللہ ! ابوجہل کو پکڑ لے اور عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ ، ولید بن عتبہ ، امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط کو پکڑ لے ...انہوں نے ساتویں کا بھی نام گنایا لیکن راوی کو یاد نہ رہا...( خود صحیح بخاری ہی کی ایک دوسری روایت میں اس کی صراحت آگئی۔ دیکھئے ۱/۵۴۳۔)
ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے دیکھا کہ جن لوگوں کے نام رسول اللہﷺ نے گن گن کر لیے تھے۔ سب کے سب بدر کے کنویں میں مقتول پڑے ہوئے تھے۔ (صحیح البخاری کتاب الوضوء باب اذا ألقی علی المصلی قذر أو جیفۃ ۱/۳۷)

مکمل تحریر >>

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ظلم و ستم


ابو جہل نے پہلے دن جب نبیﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو اسی دن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز سے روکتا رہا۔ ایک بار نبیﷺ مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھ رہے تھے کہ اس کا گزر ہوا۔ دیکھتے ہی بولا : 
محمد ! کیا میں نے تجھے اس سے منع نہیں کیا تھا؟ ساتھ ہی دھمکی بھی دی۔ رسول اللہﷺ نے بھی ڈانٹ کر سختی سے جواب دیا۔ اس پر وہ کہنے لگا : اے محمد ! کاہے کی دھمکی دے رہے ہو ، دیکھو، اللہ کی قسم ! اس وادی (مکہ ) میں میری محفل سب سے بڑی ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ (۹۶: ۱۷)اچھا! تو بلائے اپنی محفل کو( ہم بھی سزا کے فرشتوں کو بلائے دیتے ہیں)
اس ڈانٹ کے باوجود ابوجہل اپنی حماقت سے باز آنے والا نہ تھا۔ بلکہ اس کی بدبختی میں کچھ اور اضافہ ہی ہوگیا۔
چنانچہ صحیح مسلم میں ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ (ایک بارسردارانِ قریش سے) ابوجہل نے کہا کہ محمد آپ حضرات کے رُو برو اپنا چہرہ خاک آلود کرتا ہے ؟ جواب دیا گیا: ہاں۔ اس نے کہا: لات وعزیٰ کی قسم ! اگر میں نے (اس حالت میں) اسے دیکھ لیا تو اس کی گردن روند دوں گا اور اس کا چہرہ مٹی پر رگڑ دوں گا۔ اس کے بعد اس نے رسول اللہﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا اور اس زعم میں چلا کہ آپ کی گردن روند دے گا لیکن لوگوں نے اچانک کیا دیکھا کہ وہ ایڑی کے بل پلٹ رہاہے ، اور دونوں ہاتھ سے بچائو کررہاہے۔ لوگوں نے کہا : ابوالحکم ! تمہیں کیا ہوا؟ اس نے کہا : میرے اور اس کے درمیان آگ کی ایک خندق ہے۔ ہولناکیاں ہیں اور پَر ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اگر وہ میرے قریب آتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو اچک لیتے۔ (تفسیر ابن کثیر ۴/۴۷۷ ، الدر المنثور ۶/۴۷۸ وغیرہ)
اُمَیہ بن خلف کا وطیرہ تھا کہ وہ جب رسول اللہﷺ کو دیکھتا تولعن طعن کرتا۔ اسی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔ وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ (۱۰۴: ۱) ''ہر لعن طعن اور برائیاں کرنے والے کے لیے تباہی ہے۔'' ابن ہشام کہتے ہیں ہُمَزَہ وہ شخص ہے جو علانیہ گالی بکے اور آنکھیں ٹیڑھی کر کے اشارے کرے اور لُمَزَہ وہ شخص جو پیٹھ پیچھے لوگوں کی برائیاں کرے اور انہیں اذیت دے۔ (ابن ہشام ۱/۳۵۶، ۳۵۷)
اُمیہ کا بھائی اُبی بن خلف ، عُقبہ بن ابی معیط کا گہرا دوست تھا۔ ایک بار عقبہ نے نبیﷺ کے پاس بیٹھ کر کچھ سنا۔ اُبی کو معلوم ہوا تو اس نے سخت سست کہا ، عتاب کیا اور اس سے مطالبہ کیا کہ وہ جا کر رسول اللہﷺ کے منہ پر تھوک آئے۔
آخر عُقبہ نے ایسا ہی کیا ،خود اُبی بن خَلف نے ایک مرتبہ ایک بوسیدہ ہڈی لا کر توڑی اور ہوا میں پھینک کر رسول اللہﷺ کی طرف اڑادی۔ (ابن ہشام ۱/۳۶۱ ، ۳۶۲)

مکمل تحریر >>

اسلام قبول کرنے والوں پر ظلم و ستم


۴ نبوت میں اسلامی دعوت کے منظر عام پر آنے کے بعد مشرکین نے اس کے خاتمے کے لیے سابقہ کارروائیاں رفتہ رفتہ انجام دیں۔ مہینوں اس سے آگے قدم نہیں بڑھا یا اور ظلم وزیادتی شروع نہیں کی لیکن جب دیکھا کہ یہ تدبیریں اسلامی دعوت کو ناکام بنانے میں مؤثر نہیں ہورہی ہیں تو باہمی مشورے سے طے کیا کہ مسلمانوں کو سزائیں دے دے کر ان کو ان کے دین سے باز رکھا جائے۔ اس کے بعد سردار نے اپنے قبیلے کے ماتحت لوگوں کو جو مسلمان ہوگئے تھے۔ سزائیں دینی شروع کیں اور ہر مالک اپنے ایمان لانے والے غلاموں پر ٹوٹ پڑا اور یہ بات تو بالکل فطری تھی کہ دم چھلے اور اوباش اپنے سرداروں کے پیچھے دوڑیں اور ان کی مرضی اور خواہش کے مطابق حرکت کریں ، چنانچہ مسلمانوں اور بالخصوص کمزوروں پر ایسے ایسے مصائب توڑے گئے اور انہیں ایسی ایسی سزائیں دی گئیں جنہیں سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور دل پھٹ جاتا ہے۔ ذیل میں محض ایک جھلک دی جارہی ہے۔

ابو جہل جب کسی معزز اور طاقتور آدمی کے مسلمان ہونے کی خبر سنتا تو اسے برا بھلا کہتا۔ ذلیل ورسوا کرتا اور مال کو سخت خسارے سے دوچار کرنے کی دھمکیاں دیتا اور اگر کوئی کمزور آدمی مسلمان ہوتا تو اسے خود بھی مارتا اور دوسروں کو بھی بر انگیختہ کرتا۔ (ابن ہشام ۱/۳۲۰ 2 رحمۃ للعالمین ۱/۵۷)

حضرت عثمان بن عفانؓ کا چچا انہیں کھجور کی چٹائی میں لپیٹ کر دھواں دیتا۔ (اسد الغابہ ۴/۴۰۶، تلقیح الفہوم ص۶۰)

حضرت مصعب بن عمیرؓ کی ماں کو ان کے اسلام لانے کا علم ہوا تو ان کا دانہ پانی بند کر دیا اور گھر سے نکال دیا، یہ بڑے ناز ونعمت میںپلے تھے۔ شدت سے دوچار ہو ئے تو کھال اس طرح ادھڑ گئی جیسے سانپ کچلی چھوڑتا ہے۔ (الاصابہ ۳،۴/۲۵۵، ابن سعد ۳/۲۴۸)

حضرت بلالؓ امیہ بن خلف جحمی کے غلام تھے۔ امیہ ان کی گردن میں رسی ڈال کر لڑکوں کے حوالے کردیتا اور وہ انہیں مکہ کے پہاڑوں میں گھماتے اور کھینچتے پھرتے۔ یہاں تک کہ گردن پر رسی کا نشان پڑ جاتا۔ پھر بھی أحد أحدکہتے رہتے۔ خود بھی انہیں باندھ کر ڈنڈے مارتا ، اور چلچلاتی دھوپ میں جبراً بٹھائے رکھتا۔ کھانا پانی بھی نہ دیتا،بلکہ بھوکا پیاسا رکھتا اور ان سب سے بڑھ کر یہ ظلم کرتا کہ جب دوپہر کی گرمی شباب پر ہوتی تو مکہ کے پتھریلے کنکروں پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھوا دیتا۔ پھر کہتا : واللہ! تو اسی طرح پڑارہے گا یہا ں تک کہ مر جائے یا محمد کے ساتھ کفر کرے اور لات وعزیٰ کی پوجا کرے۔ حضرت بلالؓ اس حالت میں بھی کہتے : أحد ،أحد اور فرماتے : اگر مجھے کوئی ایسا کلمہ معلوم ہوتا جو تمہیں اس سے بھی زیادہ ناگوار ہوتا تو میں اسے کہتا۔ ایک روز یہی کاروائی جاری تھی کہ حضرت ابوبکرؓ کا گزر ہوا۔ انہوں نے حضرت بلالؓ کو ایک کالے غلام کے بدلے اور کہا جاتا ہے کہ دوسو درہم (۷۳۵ گرام چاندی) یا دوسو اسی درہم (ایک کلو سے زائد چاندی ) کے بدلے خرید کر آزاد کر دیا۔ (ابن ہشام ۱/۳۱۷، ۳۱۸ ، تلقیح الفہوم ص۶ تفسیر ابن کثیر سورۂ النحل ۳/۶۴۸)

حضرت عمار بن یاسرؓ بنو مخزوم کے غلام تھے۔ انہوں نے اور ان کے والدین نے اسلام قبول کیا تو ان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ مشرکین ، جن میں ابوجہل پیش پیش تھا۔ سخت دھوپ کے وقت پتھریلی زمین پرلے جاکر اس کی تپش سے سزا دیتے۔ ایک بار انہیں اسی طرح سزادی جارہی تھی کہ نبیﷺ کا گزر ہوا۔ آپ نے فرمایا : آل یاسر ! صبر کرنا۔ تمہارا ٹھکانہ جنت ہے۔ آخر کار یاسر ظلم کی تاب نہ لاکر وفات پاگئے اور حضرت سمیہؓ ، جو حضرت عمارؓ کی والدہ تھیں۔ ابوجہل نے ان کی شرمگاہ میں نیزہ مارا اور وہ دم توڑ گئیں۔ یہ اسلام میں پہلی شہیدہ ہیں۔ ان کے والد کا نام خیاط تھا اور یہ ابوحذیفہ بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم کی لونڈی تھیں۔ بہت بوڑھی اور ضعیف تھیں۔
حضرت عمار پر سختی کا سلسلہ جاری رہا۔ انہیں کبھی دھوپ میں تپایا جاتا تو کبھی ان کے سینے پر سرخ پتھر رکھ دیا جاتا اور کبھی پانی میں ڈبویا جاتا یہاں تک کہ وہ ہوش حواس کھو بیٹھتے۔ ان سے مشرکین کہتے تھے کہ جب تک تم محمد کو گالی نہ دو گے ، یا لات وعزیٰ کے بارے میں کلمۂ خیر نہ کہو گے ہم تمہیں نہیں چھوڑیں گے۔ مجبوراً انہوں نے مشرکین کی بات مان لی۔ پھر نبیﷺ کے پاس روتے اور معذرت کرتے ہوئے تشریف لائے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی:
(۱۶ : ۱۰۶ ) ''جس نے اللہ پر ایمان لانے کے بعد کفر کیا (اس پر اللہ کا غضب اور عذاب عظیم ہے ) لیکن جسے مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو '' (اس پر کوئی گرفت نہیں )
(ابن ہشام ۱/۳۱۹ ، ۳۲۰ ، طبقات ابن سعد ۳/۲۴۸، ۲۴۹، آخری ٹکڑا طوفی نے ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے۔ ابن کثیر اورالدرالمنثور تفسیر سورۂ نحل آیت ۲۰۶۔)



حضرت ابو فکیہہ جن کا نام افلح تھا۔ جو اصلاً قبیلہ ازد سے تھے اور بنو عبد الدار کے غلام تھے ، ان کے دونوں پاؤں میں لوہے کی بیڑیاں ڈال کر دوپہر کی سخت گرمی میں باہر نکالتے اور جسم سے کپڑے اتار کر تپتی ہوئی زمین پر پیٹ کے بل لٹادیتے اور پیٹھ پر بھاری پتھر رکھ دیتے کہ حرکت نہ کرسکیں۔ وہ اسی طرح پڑے پڑ ے ہوش حواس کھو بیٹھتے۔ انہیں اسی طرح کی سزائیں دی جاتی رہیں ، یہاں تک کہ دوسری ہجرتِ حبشہ میں وہ بھی ہجرت کر گئے۔ ایک بار مشرکین نے ان کا پاؤں رسی میں باندھ ، اور گھسیٹ کر تپتی ہوئی زمین پر ڈال دیا، پھر اس طرح گلا دبا یا کہ سمجھے یہ مر گئے ہیں۔ اسی دوران وہاں حضرت ابوبکر کا گزر ہوا۔ انہوں نے خرید کر اللہ کے لیے آزاد کر دیا۔ (اسد الغابہ ۵/۲۴۸، الاصابہ ۷،۸/۱۵۲وغیرہ۔)

خباب بن ارت قبیلہ خزاعہ کی ایک عورت ام انمار کے غلام تھے اور لوہاری کا کام کرتے تھے۔ مسلمان ہوئے تو ان کی مالکہ انھیں آگ سے جلانے کی سزا دیتی۔ وہ لوہے کا گرم ٹکڑا لاتی اور ان کی پیٹھ یا سر پر رکھ دیتی۔ تاکہ وہ محمدﷺ کے ساتھ کفر کریں۔ مگر اس سے ان کے ایمان اور تسلیم ورضا میں اور اضافہ ہوتا۔ انھیں مشرکین بھی طرح طرح کی سزائیں دیتے۔ کبھی سختی سے گردن مروڑتے تو کبھی سر کے بال نوچتے۔ ایک بار تو انھیں دہکتے ہوئے انگاروں پر ڈال دیا۔ اسی پر گھسیٹا اور دبائے رکھا، یہاں تک کہ ان کی پیٹھ کی چربی پگھلنے سے آگ بچھی۔ (اسد الغابہ ۱/۵۹۱ ، ۵۹۳ ، تلقیح الفہوم ص ۶ وغیرہ۔)

حضرت زنیرہ رومی لونڈی تھیں۔ وہ مسلمان ہوئیں تو انھیں اللہ کی راہ میں سزائیں دی گئیں۔ اتفاق سے ان کی آنکھ جاتی رہی۔ مشرکین نے کہا :دیکھو ! تم پر لات وعزیٰ کی مار پڑگئی ہے۔ انہوں نے کہا: نہیں ، واللہ ! یہ لات وعزیٰ کی مار نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر وہ چاہے تو دوبارہ بحال کرسکتا ہے۔ پھر اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ دوسرے دن نگاہ پلٹ آئی ، مشرکین کہنے لگے :یہ محمد کا جادو ہے۔ (طبقات ابن سعد ۸/۲۵۶ ، ابن ہشام ۱/۱۳۸)

غلاموں میں عامر بن فہیرہ بھی تھے، اسلام لانے پر انھیں بھی اس قدر سزائیں دی جاتیں کہ وہ اپنے ہوش وحواس کھو بیٹھتے اور انھیں پتہ نہ چلتا کہ کیا بول رہے ہیں۔( طبقات ابن سعد ۳/۲۴۸)

حضرت ابوبکرؓ نے ان سارے غلاموں اورلونڈیوں کو خرید کو آزاد کردیا۔ اس پر ان کے والد ابو قحافہ نے ان کو عتاب کیا۔ کہنے لگے : (بیٹا ) میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ کمزور گرد نیں آزاد کر رہے ہو۔ توانا لوگوں کو آزاد کرتے تو وہ تمہارا بچاؤ بھی کرتے۔ انہوں نے کہا : میں اللہ کی رضا چاہتا ہوں اس پر اللہ نے قرآن اتارا۔ حضرت ابوبکرؓ کی مدح کی اور ان کے دشمنوں کی مذمت کی۔ فرمایا
وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى ﴿١٧﴾ الَّذِي يُؤْتِي مَالَهُ يَتَزَكَّىٰ ﴿١٨﴾ وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُ مِن نِّعْمَةٍ تُجْزَىٰ ﴿١٩﴾ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَ‌بِّهِ الْأَعْلَىٰ ﴿٢٠﴾ وَلَسَوْفَ يَرْ‌ضَىٰ ﴿٢١﴾ (۹۲: ۱۷ تا ۲۱)
اور اس آگ سے وہ پرہیزگار آدمی دور رکھا جائے گا جو اپنا مال پاکی حاصل کرنے کے لیے خرچ کررہا ہے۔ اس پر کسی کا احسان نہیں ہے جس کا بدلہ دیا جارہا ہو۔ بلکہ محض اپنے رب اعلیٰ کی مرضی کی طلب ہے۔ اس سے مقصود حضرت ابوبکر صدیقؓ ہیں۔ (ابن ہشام ۱/۱۳۸ ، ۳۱۹ ، طبقات ابن سعد ۸/۲۵۶ کتب تفسیر آیت مذکورہ۔)

یہ اس ظلم وجور کا ایک نہایت مختصر خاکہ ہے جو اہل اللہ اور سکان حرم ہونے کا دعویٰ رکھنے والے سرکش مشرکین کے ہاتھوں رسول اللہﷺ اور مسلمانوں کو سہنا پڑ رہے تھے۔
اس سنگین صورت حال کا تقاضا یہ تھا کہ رسول اللہﷺ ایسا محتاط اور حزم وتدبیر پر مبنی موقف اختیار کریں کہ مسلمانوں پر جو آفت ٹوٹ پڑی تھی اس سے بچانے کی کوئی صورت نکل آئے اور ممکن حد تک اس کی سختی کم کی جاسکے۔ اس مقصد کے لیے رسول اللہﷺ نے دو حکیمانہ قدم اٹھائے۔ جو دعوت کا کام آگے بڑھانے میں بھی مؤثر ثابت ہوئے:
ارقم بن ابی الارقم مخزومی کے مکان کو دعوت وتربیت کے مرکز کے طور پر اختیار فرمایا۔
" مسلمانوں کو ہجرت حبشہ کا حکم فرمایا۔

مکمل تحریر >>

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ظلم و جور


قریش نے بالآخر وہ حدیں توڑ دیں جنہیں ظہور دعوت سے اب تک عظیم سمجھتے اور جن کا احترام کرتے آرہے تھے۔ درحقیقت قریش کی اکڑ اور کبریائی پر یہ بات بڑی گراں گزر رہی تھی کہ وہ لمبے عرصے تک صبر کریں۔ چنانچہ وہ اب تک ہنسی اور ٹھٹھے۔ تحقیر اور استہزاء۔ تلبیس اور تشویش اور حقائق کو مسخ کرنے کا جو کام کرتے آرہے تھے اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر رسول اللہﷺ کی طرف ظلم وتعدی کا ہاتھ بھی بڑھادیا اور یہ بالکل فطری بات تھی کہ اس کام میں بھی آپ کا چچا ابولہب سر فہرست ہو۔ کیونکہ وہ بنو ہاشم کا ایک سردار تھا ، اسے وہ خطرہ نہ تھا جو اوروں کو تھا اور وہ اسلام اور اہل اسلام کا کٹر دشمن تھا۔ نبیﷺ کے متعلق اس کا موقف روز اول ہی سے ، جبکہ قریش نے اس طرح کی بات ابھی سوچی بھی نہ تھی ، یہی تھا ْ۔ اس نے بنو ہاشم کی مجلس میں جو کچھ کیا ، پھر کوہ صفا پر جو حرکت کی اس کا ذکر پچھلے صفحات میں آچکا ہے۔
بعثت کے پہلے ابو لہب نے اپنے دو بیٹوں عُتْبہ اور عُتَیْبہ کی شادی نبیﷺ کی دو صاحبزادیوں رقیّہ اور ام کلثوم سے کی تھی لیکن بعثت کے بعد اس نے نہایت سختی اور درشتی سے ان دونوں کو طلاق دلوادی۔ (ابن ہشام ۱/۶۵۲)
اسی طرح جب نبیﷺ کے دوسرے صاحبزادے عبد اللہ کا انتقال ہو اتو ابولہب کو اس قدر خوشی ہوئی کہ وہ دوڑتا ہوااپنے رفقاء کے پاس پہنچا اور انہیں یہ ''خوشخبری'' سنائی کہ محمدﷺ ابتر (نسل بریدہ ) ہوگئے ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر ، سورۃ الکوثر ۴/۵۹۵)
ہم ذکر کرچکے ہیں کہ ایام حج میں ابولہب نبیﷺ کی تکذیب کے لیے بازاروں ،اجتماعات میں آپ کے پیچھے پیچھے لگا رہتا تھا۔ طارق بن عبد اللہ مُحَاربی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص صرف تکذیب ہی پر بس نہیں کرتا تھا، بلکہ پتھر بھی مارتارہتا تھا جس سے آپ کی ایڑیاں خون آلود ہوجاتی تھیں۔ (کنز العمال ۱۲/۴۴۹)
ابو لہب کی بیوی اُم ِ جمیل ، جس کا نام اَرْویٰ تھا ، اور جو حَرب بن اُمیہ کی بیٹی اور ابو سفیان کی بہن تھی ، وہ نبیﷺ کی عداوت میں اپنے شوہرسے پیچھے نہ تھی۔چنانچہ وہ نبیﷺ کے راستے میں اور دروازے پر رات کو کانٹے ڈال دیا کرتی تھی۔ خاصی بدزبان اور مفسدہ پرداز بھی تھی۔چنانچہ نبیﷺ کے خلاف بدزبانی کرنا ، لمبی چوڑی دَسِیسَہ کاری وافتراء پردازی سے کام لینا، فتنے کی آگ بھڑکانا ، اور خوفناک جنگ بپا رکھنا اس کا شیوہ تھا۔ اسی لیے قرآن میں اس کو وَامْرَ‌أَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ (۱۱۱: ۴) (لکڑی ڈھونے والی ) کا لقب عطا کیا۔
جب اسے معلوم ہوا کہ اس کی اور اس کے شوہر کی مَذَمت میں قرآن نازل ہوا ہے تو وہ رسول اللہﷺ کو تلاش کرتی ہوئی آئی۔ آپ خانہ کعبہ کے پاس مسجد حرام میں تشریف فرما تھے۔ ابو بکر صدیقؓ بھی ہمراہ تھے۔ یہ مُٹھی بھر پتھر لیے ہوئے تھی۔ سامنے کھڑی ہوئی تو اللہ نے اس کی نگاہ پکڑ لی اور وہ رسول اللہﷺ کو نہ دیکھ سکی۔ صرف ابو بکرؓ کو دیکھ رہی تھی۔ اس نے سامنے پہنچتے ہی سوال کیا : ابوبکر تمہارا ساتھی کہاں ہے ؟ مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ میری ہجو کرتا ہے۔ واللہ! اگر میں اسے پاگئی تو اس کے منہ پر یہ پتھر دے ماروں گی۔ دیکھو! اللہ کی قسم! میں بھی شاعرہ ہوں، پھر اس نے یہ شعر سنایا: 
مذمماً عصینا وأمرہ أبینا ودینہ قلینا
''ہم نے مذمم کی نافرمانی کی۔ اس کے امر کو تسلیم نہ کیا اور اس کے دین کو نفرت وحقارت سے چھوڑدیا۔''
مشرکین جل کر نبیﷺ کومحمد کے بجائے مُذمم کہتے تھے جس کا معنی محمد کے معنی کے بالکل عکس ہے محمد : وہ شخص ہے جس کی تعریف کی جائے۔ مذمم : وہ شخص ہے جس کی مذمت اور برائی کی جائے۔ وہ چونکہ مذمم کی برائی کرتے تھے اس لیے ان کی برائی نبیﷺ پر لاگونہ ہوتی۔ تاریخ بخاری ۱/۱۱، صحیح بخاری مع الفتح ۷/۱۶۲، مسند احمد ۲/۲۴۴ ، ۳۴۰ ، ۳۶۹۔
اس کے بعد واپس چلی گئی۔ ابو بکرؓ نے کہا: یا رسول اللہ! کیا اس نے آپ کو دیکھا نہیں تھا ؟ آپ نے فرمایا: نہیں ؟ اس نے مجھے نہیں دیکھا۔ اللہ نے اس کی نگاہ پکڑ لی تھی۔ (ابن ہشام ۱/۳۳۵، ۳۳۶)

مکمل تحریر >>