Saturday, 18 June 2016

بیعت حضرت علی کرم اللہ وجہہ


بیعت کے بعد ابوبکرؓ کھڑے ہوئے اورخطبہ دیا جو خلافت کا پہلا خطبہ تھا۔کچھ اصحاب بیعت سے انکار کرتے رہے لیکن آہستہ آہستہ یکے بعد دیگرے سب نے بیعت کر لی۔ سوائے حضرت علیؓ کے جنہیں اس مسئلے میں مشاورت میں شریک نا کیے جانے کی وجہ سے شکوہ تھا ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت علیؓ نے چالیس روز بعد بیعت کی تھی۔
اس واقعہ کو بھی سبائی راویوں نے متنازع بنانے کے لیے بیسوں روایات گھڑیں جو انہی کی پسند کا اختلاف دکھاتی ہیں اور اسکو ایک خاندانی جھگڑے کامسئلہ بناتے ہوئے انہوں نے اصحاب رسول ﷺ پر نفاق اور اہل بیت سے بغض کی تہمتیں لگائیں، ان روایات کی سندوں میں وہی نامی گرامی راوی بھی موجود ہیں جن کی جنگ صفین کے متعلق متنازعہ روایتوں پر ہم پہلے تحقیق پیش کرچکے ہیں، سند کے لحاظ سے وہ روایات کمزور ہیں ہی انکا متن بھی اصحاب رسول اور اہل بیت کی شان/ عادات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ان کے برعکس بعض ایسی روایتیں موجود ہیں جن میں اس امر سے صراحتاً انکار کیا گیا ہے کہ بنو ہاشم اور بعض مہاجرین بیعت سے علیحدہ رہے۔ ان روایتوں سے پتا چلتا ہے کہ سقیفہ کی خاص بیعت کے بعد عام بیعت کا وقت آیا تو مہاجرین اور انصار بالاجتماع آپ کی بیعت میں شریک تھے۔ چنانچہ طبری میں مذکورہے کہ کسی شخص نے سعید بن زید سے پوچھا:’’کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے وقت مدینہ میں موجود نہ تھے:
انہوں نے جواب دیا:ہاں۔اس شخص نے پوچھا :حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کب کی گئی؟انہوں نے جواب دیا:اسی روز جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی۔ صحابہ کو یہ بات سخت ناپسند تھی کہ وہ ایک بھی روز بغیر خلیفہ کے زندگی گزاریں‘‘۔اس پر اس شخص نے پوچھا:’’کیا کسی شخص نے حضرت ابوبکرؓ کی مخالفت بھی کی ہے؟انہوں نے جواب دیا:’’نہیں سوائے مرتدین کے یا ان لوگوں کے جو حالت ارتداد کے قریب پہنچ چکے ہیں‘‘۔پوچھا گیا۔’’کیا مہاجرین میں سے بھی کسی نے بیعت کرنے سے انکار کیا ؟‘‘جواب دیا:نہیں مہاجرین نے تو اس بات کا انتظار بھی نہ کیا کہ کوئی شخص انہیں آ کر بیعت کے لیے بلائے بلکہ انہوں نے خود ہی آ کر ابوبکرؓ کی بیعت کر لی‘‘۔

بیعت علی کے متعلق درمیانی رائے
بعض روایات میں حضرت علیؓ کی بیعت کے بارے میں درمیانی رائے اختیار کی گئی ہے۔ ان روایات کا ملخص یہ ہے کہ بیعت کے بعد حضرت ابوبکرؓ منبرپرجلوہ افروز ہوئے۔ آ پ نے حاضرین پر نظر دوڑائی تو زبیر کو نہ پایا۔ آپ نے انہیں بلا بھیجا او رکہا:’’اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے برادر عم زاد اورحواری کیا آپ مسلمانوں کی لاٹھی کو توڑنا چاہتے ہیں۔ (کیا بیعت نہ کر کے مسلمانوں کی قوت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں)‘‘
انہوں نے کہا:’’یا خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے سرزنش نہ کیجیے میں بیعت کرتا ہوں‘‘۔چنانچہ انہوں نے کھڑے ہوکربیعت کر لی۔ اس کے بعد حضرت ابوبکرؓ نے پھر ایک نظر دوڑائی تو معلوم ہوا کہ حضرت علیؓ بھی موجود نہں۔ آپ نے انہیں بھی بلایا اور کہا:’’اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے برادر عم زاد اور آ کے محبوب داماد کیا آپ مسلمانوں کی لاٹھی کو توڑناچاہتے ہیں؟انہوں نے بھی جواب دیا:یا خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آپ کی بیعت کرتاہوں۔‘‘اور یہ کہہ کر بیعت کر لی۔

بعض محققین کا خیال ہے کہ بیعت نہ کرنے کے متعلق روایات عباسی عہد میں بعض مخصوص سیاسی اغراض کی خاطر وضع کی گئیں۔ وہ کہتے ہیں کہ شیعہ حضرات حضرت علیؓ کی بیعت نہ کرنے کے ثبوت میں ایک واقعہ پیش کرتے ہیں۔ اس واقعے کے درست ہونے میں توکوئی شک نہیں لیکن اس کا بیعت کرنے یا نہ کرنے سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ واقعہ یہ ہے کہ ابوبکرؓ کی بیعت کے بعد حضرت فاطمہؓ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت عباسؓ عم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس آئے اور آپ کی اس میراث کا مطالبہ کیا ج ارض فدک اور خیبر کی جائیدادوں میں آپ کے حصے پر مشتمل تھی۔ ابوبکرؓ نے فرمایا:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے کہ:نحن معاشر الانبیاء لانورث ماترکنا صدقۃ
ہم انبیاء کا گروہ ہیں ۔ ہم کوئی میراث نہیں چھوڑتے اپنے پیچھے جو کچھ ہم چھوڑیں گے وہ صدقہ ہو گا۔ اس جائیداد کی آمدنی سے جس کا تم نے ذکر کیا ہے آپ کے اہل و عیال کا گزارہ چلتا تھا اس لیے میں بھی اسے وہیں خرچ کروں گا جہاں آپ خرچ کرتے تھے‘‘۔
اس پر حضرت فاطمہؓ ناراض ہو گئیں اور آخری وقت تک انہوںنے حضرت ابوبکرؓ سے کلا م نہ کیا ۔ میراث کے مطالبے پر حضرت فاطمہؓ کا حضرت ابوبکرؓ سے ناراض ہو جانا سمجھ میں نہیں آتا۔ جب ابوبکرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث سے آگاہ کر دیاتھاا تو ان کے لیے دو ہی راستے تھے ۔ یا تو یہ کہوہ اس حدیث کی صحت سے انکار کر دیتیں یا آپ کے ارشاد پر سرتسلیم خم کر دیتیں۔ کسی روایت میں یہ مذکور نہیں ہے کہ انہوں نے ابوبکر ؓ کی بیان کردہ حدیث کی صحت سے انکار کیا ہو۔ جب یہ بات نہیں تو فاطمہؓ جیسی پرہیز گار خاتون کس طرح آپ کے ارشاد سے منہ موڑ کر محض زمین کے چند قطعات کے لیے ابوبکرؓ سے ناراض ہو سکتی تھیں؟
یہ ہے وہ اصل روایت جس میں ابوبکرؓ سے حضرت فاطمہؓ کی ناراضی اور حضرت علیؓ کی ناراضی اور ان سے بول چال ترک کر دینے کا بیان ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ ٹکڑا بھی ملا دیا جاتا ہے کہ حضرت علیؓ نے حضرت فاطمہؓ کی وفات تک حضرت ابوبکرؓ کی بیعت نہ کی۔ وفات کے بعد ابوبکرؓ تعزیت کے لیے حضرت علیؓ کے پاس گئے اور علی ؓ ابوبکرؓ کو آتے دیکھ کر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے:’’اب ہمیں آپ کی بیعت کرنے میں کوئی روک نہیں لیکن ہمارے خیال میں خلافت ہمارا ہی حق ہے آپ نے اس پر قابض ہو کر ہمارا حق چھیناا ہے اور اس طرح ہم پر ظلم کیا ہے۔ ‘‘حضرت ابوبکرؓ نے اس کے جواب میں کہا:’’اس مال و جائیداد کے سلسلے میں جو میرے اور تمہارے درمیان وجہ نزاع بنی رہی میں نے جو کارروائی کی وہ محض تمہاری بھلائی کے لیے تھی‘‘۔
مذکورہ محققین یہ کہتے ہی کہ روایت کا آخری حصہ درایۃً ناقابل قبول ہے۔ حضرت فاطمہؓ اور حضرت عباسؓ حضرت ابوبکرؓ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میراث کا مطالبہ اسی وقت کر سکتے تھے جب کہ مسلمان بالاتفاق بیعت کر کے حضرت ابوبکرؓ کو اپنا خلیفہ منتخب کر لیتے ۔ خلافت سے پہلے اس قسم کا مطالطہ کرنے کے کوئی معنی نہ تھے۔ اگر حضرت علی ؓ اور بنو ہاشم نے ان سے بیعت ہی نہ کی تھی اور انہیں خلیفہ تسلیم ہی نہ کیا تھا تو ان سے میراث کا مطالبہ کرنا بے معنی تھا۔
یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں کا یہ دعوی ٰ ہے کہ حضرت علیؓ نے بلا توقف حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کر لی تھی اور ان میں سے اکثرکا خیال ہے کہ ان کی بیعت نہ کرنے کے متعلق جو روایات عباسیوں کے عہد میں بعض مخصوص سیاسی اغراض کے پیش نظر گھڑی گئیں ۔ کچھ محققین کہتے ہیں کہ یہ روایات عباسیوں سے بھی پہلے حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کی جنگوں کے دوران میں بنی ہاشم اور بنی امیہ کی چشمک کے باعث وضع کی گیں۔عراق اور فارس کی فتح کے بعد وہاں ایرانی النسل لوگوں کا ایک ایسا گروہ پیدا ہو گیا تھا جس ے اپنے فائدے کی خاطر اس قسم کی روایات وضع کرنی شروع کیں۔ سلطنت اسلامیہ پر امویوں کے قبضے کی وجہ سے یہ لوگ کھلم کھلاا ان روایات کی تشہیر تو نہ کر سکتے تھے لیکن خفیہ طور پر ان کی اشاعت وسیع پیمانے پر کرتے تھے۔ اور ااس انتظار میں تھے کہ کب موقع ملے اور وہ کھلم کھلا اپنے عقائد کا اظہار کر سکیں ۔ ابو مسلم خراسانی کے خروج نے یہ ان کی دیرینہ تمنا پوری کر دی ۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا اور جس طرح ان روایات کا سہارا لے کر بنو عباس نے سلطنت حاصل کی وہ تاریخ کا ایک خونین باب ہے۔
مکمل تحریر >>

سقیفہ بنی سعدہ


موجودہ زمانے میں اسلوب بیان کے بعض پہلوئوں کو ماہرین سیاست نو ایجاد سمجھتے ہیں۔ منجملہ دیگر اسالیب بیان کے ایک اسلوب یہ بھی ہے کہ مد مقابل سے اس طرح گفتگو کی جائے کہ اس کے جذبات کو ٹھیس بھی نہ لگے اوراسے قائل بھی کر لیا جائے۔ یہ طرز بالکل نو ایجاد سمجھا جاتاہے لیکن ابوبکرؓ نے انصار سے جس طرز پر بات کی او ر جس خوش اسلوبی سے معاملے کو سلجھایا آج کل کے ماہرین سیاست کو اس کی ہوا تک نہیں لگی۔
جب یہ تینوں مہاجرین اطمینان سے بیٹھ گئے تو انصار کی پریشانی کچھ کم ہوئی اور انہوں نے مہر سکوت توڑ کر اسی قسم کی باتیں شروع کیں کہ خلافت صرف ان کا حق ہے اور یہ حق انہیں کو ملنا چاہیے۔
حضرت عمرؓ کہتے ہیں میں نے بعض باتیں سوچ رکھی تھیں جنہیں اس مجلس میں بیان کرنے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن جب میں تقریر کرنے کے لیے کھڑا ہوا تو ابوبکرؓ نے کہا :
’’ذرا ٹھہرو مجھے بات کر لینے دو۔ اس کے بعد تم بھی اپنی باتیں بیان کر دینا‘‘۔
اصل میں ابوبکرؓکو ڈر تھا کہ کہیں عمرؓ تیزی میں نہ آ جائیں کیونکہ یہ موقع تیزی اور سختی کا نہ تھا بلکہ ہنرمی اور بردباری برتنے کا تھا۔ عمرؓ اور ابوبکرؓ کی بزرگی اورا ن کی سبقت فی الاسلام کا لحاظ کرتے ہوئے بیٹھ گئے اور ابوبکرؓ تقریرکرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے حمد و ثنا کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آ پ کے لائے ہوئے پیغام کا ذکر کیا پھر فرمایا:
’’…عربوں کے لیے اپنے آبائو اجداد کا دین ترک کردینا نہایت شاق تھااور وہ ایسا کرنے کے لیے بالکل آمادہ نہ تھے اس وقت اللہ نے آپ کی قوم میں مہاجرین اولین کو آپ کی تصدیق کرنے آپ پر ایمان لانے آپ کی دلجوئی کرنے اوراپنی قوم کے مظالم کو صبر سے برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ ہر شخص ان کامخالف تھا ان پر ظلم و ستم توڑے جا رہے تھے۔ انہیں بدترین ایذائیں دی جاتی تھیں لیکن وہ قلت تعداد اور کثرت اعداء کے باوجو د مطلق خوفزدہ نہ ہوئے وہ اس سرزمین میں اولین اشخاص ہیں جنہیں اللہ او ر اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے اور اس طرح اللہ کے حقیقی بندے بننے کی توفیق ملی۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محب اور رشتہ دار ہیں اس لیے خلافت کے وہی مستحق ہیں ۔
اورتم اے گروہ انصار! وہ لوگ ہو جن کی فضیلت دینی اور اسلا م میں سبقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ نے تمہیں اپنے دین کا اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کامددگار بنایا ہے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت تمہاری طرف کی اور آپ کی اکثر ازواج اور بیشتر صحابہ تمہیں میں سے تھے۔ مہاجرین اولین کے بعد تمہارا ہی رتبہ ہے۔ اس لیے ہم امیر ہوں گے اور تم وزیر۔ نہ تمہارے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ کیا جائے گا اور نہ تمہیں شریک کیے بغیر کوئی کام انجام دیا جائے گا‘‘۔
ابوبکرؓکے دلائل پر روشنی میں تمام لوگوں کو مطمئن ہو جانا چاہیے تھا کیونکہ ان کی تمام باتیں مبنی برحق تھیں اور قرین انصاف تھیں لیکن بعض لوگوں نے مہاجرین کی امارت سرے سے ناپسند تھی ان کے دلائل سے کوئی اثر قبول نہ کیا کیونکہ ا ن لوگوں کو خدشہ تھا کہ مہاجرین ان کا حق غصب کر لیں گے اور سلطنت پر قابض ہوکر من مانی کارروائیاں کریں گے چنانچہ ان میںسے ایک شخص کھڑا ہو کر کہنے لگا:
’’ہم اللہ کے انصار اور اسلام کا لشکر ہیں اورتم اے مہاجرین ! ہم سے قلیل التعداد ہو لیکن اب تم ہمارا حق غصب کرنا اور ہمیں سلطنت سے محروم کرنا چاہتے ہو ایسا کبھی نہیں ہو سکے گا‘‘۔
یہ سن کر بھی ابوبکر ؓ کے ماتھے پر بل نہ پڑے۔ اور وہ بدستور اپنے دھیمے پن سے مجمع کو خطاب کرتے رہے۔ انہوںنے فرمایا:
’’ اے لوگو! ہم مہاجرین اولین اشخاص ہیں جو اسلام لائے۔ حسب و نسب اور عز و شرف کے لحاظ سے بھی ہم تمام عربوں سے بڑھ چڑھ کر ہیں ۔ ان تمام باتوں کے علاوہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریبی رشتہ دار ہونے کا فخر بھی حاصل ہے۔ ہم تم سے پہلے ایمان لائے اور قرآن میں ہمارا ذکر تمہارے ذکر سے مقدم ہے۔ اللہ فرماتا ہے :
والسابقون الاولون من المہاجرین والانصار والذین اتبعوھم باحسان
ہم مہاجرین ہیں اور تم انصار۔ تم دین میں ہمارے بھائی غنیمت میں ہمارے شریک اوردشمنوں کے مقابلے میں ہمارے مدد گار ہو۔ باقی تم نے اپنی فضیلت کا جوذکر کیا ہے اس سے ہمیں انکارنہیں۔ تم واقعی اس کے اہل ہو اور روئے زمین پر سب سے زیادہ تعریف کے مستحق ۔ لیکن عرب اس بات کو کبھی نہ ما نیں گے کہ سلطنت قریش کے سوا کسی اور قبیلے کے ہاتھ میں رہے۔ اس لیے امارت تم ہمارے سپردکر دو اور وزارت خود سنبھال لو‘‘۔
لیکن پھر بھی مخالفت برقرار رہی تو حضرت عمرؓ کھڑے ہوئے۔ وہ ا س سے پہلے حضرت ابوبکرؓ کے منع کرنے سے مجبوراً خاموش ہو رہے تھے لیکن ان سے ضبط نہیں ہو سکا اور انہوں نے کہا:
’’ایک میان میں دو تلواریں جمع نہیں ہو سکتیں۔ اللہ کی قسم! عرب تمہیں امیر بنانے پر ہرگز رضامند نہیں ہوں گے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم میں سے نہ تھے۔ ہاں اگر امارت ان لوگوں کے ہاتھ میں آئے جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مبعوث ہوئے تھے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ اگر عربوں کے کسی طبقے نے ہماری امارت اور خلافت سے انکار کیا تو اس کے خلاف ہمارے ہاتھ میں دلائل ظاہرہ اور براہین قاطعہ ہوں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانشینی اور امارت کے بارے میں کون شخص ہم سے جھگڑا کر سکتا ہے جب ہم آپ کے جاں نثار اور اہل عشیرہ ہیں۔ اس معاملے میں ہم سے جھگڑا کرنے والا وہی ہو سکتا ہے جو باطل کا پیروکار گناہوں سے آلودہ ہلاکت کے گڑھے میں گرنے کے لیے تیار ہو‘‘۔
اس وقت ابوعبیدہ بن جراحؓ جواب تک خاموش بیٹھے فریقین کی باتیں سن رہے تھے اس معاملے میں دخل دیے بغیر نہ رہ سکے۔ وہ اٹھے اور اہ مدینہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
’’اے انصار! تم ہی تھے جنہوں نے ا س دین کی نصرت اور حمایت کے لیے سب سے پہلے اپنے آپ کو پیش کیا تھا اوراب تمہیں سب سے پہے اس کی تباہی کے درپے ہو رہے ہو‘‘۔
ابوعبیدہؓ کے اس فقرے کا قبیلہ خزرج کے ایک سردار بشیر بن سعد ابو النعمان بن بشیر پر بے حد اثر ہوا۔ وہ کھڑے ہوئے اور تقریر کی:
’’اللہ کی قسم! اگر ہمیں مشرکین سے جہاد اور دین میں سبقت اختیار کرنے کے معاملے میں مہاجرین پر فضیلت حاصل ہے لیکن ہم نے یہ سب کچھ محض اپنے رب کی رضا اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت اور اپنے نفس کی اصلاح کے لیے کیا تھا اس لیے ہمیں زیبا نہیں کہ ہم ان باتوں کی وجہ سے فخر و مباہات کا اظہار کریں اور اپنی دینی خدمت کے بدلے دنیا کا مال و منال طلب کریں۔ اللہ ہی ہمیں اس کی جزا دے گا اور اس کی جزا ہمارے لیے کافی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قریش میں سے تھے اور آپ کی قوم ہی اس کی سب سے زیادہ حق دار ہے۔ اللہ نہ کرے کہ ہم اس بارے میں ان سے جھگڑا کریں۔ اس لیے اے انصار! تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور مہاجرین کی مخالفت نہ کرو اور ان سے مت جھگڑو‘‘۔
بشیر بن سعد کی یہ باتیں سن کر ابوبکرؓنے انصار کی طرف نظر دوڑائی تاکہ یہ دیکھیں کہ انہوں نے کہاں تک ان کااثر قبول کیا ہے۔ انہوںنے دیکھا کہ اول آپس میں آہستہ آہستہ کچھ کہہ رہے ہیں۔ ادھر بنی خزرج کے چہروں سے بھی مترشح ہوتا تھا کہ ان کے دلوں پر بشیر کی باتوں کا بہت اثر ہوا ہے۔
یہ دیکھ کر ابوبکرؓ کو یقین ہو گیا کہ معاملہ سدھر گیا ہے اور یہی لمحات فیصلہ کن ہیں‘ انہیں ضائع نہ کرنا چاہے وہ حضر ت عمرؓ اور حضرت ابوعبیدہؓ کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے ان میں سے ایک کا ہاتھ پکڑ کرکھڑے ہوگئے اور فرمایا۔
’’یہ عمرؓ اور ابوعبیدہؓ بیٹھے ہیں ان میں سے جس کی بیعت چاہو کر لو‘‘۔
اس وقت شور و شغب بہت بڑھ گیا حضرت عمرؓ کی دینی فضیلت سے کسی شخص کا انکار نہ تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معتمد علیہ اور ام المومنینؓ حضرت حفصہؓ کے واالد تھے۔ لیکن ان کی سختی اور تیز مزاجی سے ہر کوئی ڈرتا تھا۔ اسی لیے ہر شخص ان کی بیعت سے پس و پیش کر رہا تھا۔ جہاں تک ابوعبیدہؓ کا تعلق تھا ان میں عمرؓ کی سی سختی نہ تھی لیکن انہیں دینی لحاظ سے حضرت عمرؓ کا سامقام و مرتبہ حاصل نہ تھا۔
اگر چندے اور یہی حالت رہتی تو اختلاف انتہائی شدت اختیار کر لیتا لیکن حضرت عمرؓ نے اسے بڑھنے نہ دیا اور بلند آوا ز سے کہا:
’’ابوبکرؓ اپنا ہاتھ بڑھائیے‘‘۔
حضرت ابوبکرؓ نے ہاتھ آگے بڑھایا اور حضرت عمرؓ نے فوراً آپ کی بیعت کر لی اور کہا:
’’ابوبکر! کیا آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم نہ دیا تھا کہ آپ مسلمانوں کو نماز پڑھائیں اس لیے آپ ہی خلیفہ اللہ ہیں۔ ہم آپ کی بیعت اس لیے کرتے ہیں کہ آپ ہم سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محبوب تھے‘‘۔
حضرت ابوعبیدہؓ بھی یہ کہتے ہوئے آپ کی بیعت کر لی:
’’آپ مہاجرین میں سب سے برتر ہیں۔ آپ غار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھی تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غیر حاضری میں آپ ہی نماز پڑھایا کرتے تھے اس لیے آپ سے زیادہ کون شخص اس بات کا مستحق ہو سکتاہے کہ اسے خلافت کی ہام ذمہ داریاں سپرد کی جائیں‘‘۔
حضرت عمرؓ اور حضرت ابوعبیدہؓ نے بیعت کر لینے کے بعد بشیر بن سعد بھی جلدی سے آگے بڑھے اور بیعت کر لی۔اس کے بعد اوس نے آپ کی بیعت کر لی۔ ادھر خزرج اپنے سردار بشیر بن سعد کی باتوں سے مطمئن ہو چکے تھے وہ بھی آگے بڑھ کر بیعت کرنے لگے۔
سقیفہ کی بیعت میں حضرت علیؓ بن ابی طالب اور بعض کبار صحابہؓ شریک نہ ہوسکے کیونکہ انہیں واقعہ سقیفہ کی خبر نہ تھی ا س لیے وہ بھی اس بیعت میں شریک نہ تھے۔ بیعت سقیفہ کے متعلق ایک روایت میں حضرت عمرؓ کی جانب قول منسوب ہےکہ یہ بیعت بغیر کسی ارادے سے محض اتفاقاً ہو گئی ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سقیفہ بنو ساعدہ میں جو کچھ ہوا اس نے اسلام کو ایک ایسے ہولنا ک فتنے سے بچا لیا جس کا انجام اللہ جانے کیا الم ناک صورت اختیار کرتا۔اور اسکے بعد وہ تسلی سے حضور ﷺ کی تجہیز و تکفین میں مصروف ہوگئے۔
اس دن کے بعد پھر کبھی انصار کی طرف سے خلافت کی خواہش نہیں کی گئی۔ حضرت ابوبکرؓ کے بعد حضرت عمرؓ کی بیعت ہوئی۔ ان کی وفات کے بعد تخت خلافت پر حضرت عثمانؓ اور متمکن ہوئے لیکن انصار نے خلافت کا دعویٰ نہ کیا۔ حضرت علیؓ کے عہد میں آپ کے اور حضرت معاویہؓ کے درمیان اختلاف برپا ہوا۔ جس نے بڑھتے بڑھتے جنگ کی صورت اختیار کر لی ۔ اس اختلاف کے موقع پر بھی انصار کی طرف سے خلافت کے حصول کی کوئی کوشش نہ کی گئی حالانکہ اگر وہ اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتے تو بخوبی اٹھا سکتے تھے۔ لیکن وہ ابوبکرؓ کے اس قول پر صدق دل سے ایمان لا چکے تھے کہ:
’’عرب سوا قریش کے کسی اور کی خلافت پر راضی نہ ہوں گے‘‘۔
بعد میں ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حسب ذیل وصیت کے مطابق مہاجرین کے زیر سایہ اطمینان کی زندگی بسر کرتے رہے۔
سقیفہ بنی ساعدہ میں بیعت ختم ہونے پر مسلمان مسجد نبوی میں واپس آ گئے۔ اس وقت شام ہو چکی تھی ۔ اگلے روز حضرت ابوبکرؓ مسجد میں تشریف لائے اور منبر پربیٹھ گئے ۔چنانچہ اس کے بعد عام بیعت ہوئی جب سقیفہ بنی ساعدہ کی بیعت میں صرف خاص خاص لوگ شریک تھے۔
مکمل تحریر >>

مسئلہ خلافت


حضرت عمرؓ اور وہ لوگ جو مسجد میں ان کے گرد جمع تھے ۔ انتہائی رنج و الم کے باعث سوچ بھی نہ سکتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد مسلمانوں کی شیرازہ بندی کا کیا انتظام ہونا چاہیے لیکن جن لوگوں کو آپ کی وفات کا یقین ہو گیاتھا ان کی نظر سب سے پہلے اسی مسئلے پرپڑی ارو حزن والم انہیں اہم معاملے پر غور کرنے سے روک نہ سکا۔
ہجرت کے بعد مدینہ کا سارا انتظام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں تھا۔ آپؐ کی حکومت صرف مدینہ تک ہی محدود نہ رہی بلکہ آہستہ آہستہ سار ے عرب پر محیط ہو گئی۔ عرب کے تقریباً تمام باشندے مسلمان ہو گئے اورجو لوگ مسلمان نہ ہوئے انہوں نے جزیہ دینا قبول کر لیا۔ اب مسلمانوں کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ اس سلطنت کا انتظام کون سنبھالے گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانشینی کا فخر کسے نصیب ہو گاا؟

انصار کا خیا ل تھا کہ انہوں نے مہاجرین کو پناہ دی اور آڑے وقت میں جب ان کی اپنی قوم نے انہیں نکال دیاتھا تو ان کی مدد کی۔ اس لیے خلافت کے حق دار وہ ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں بھی انصار کے بعض لوگوں کی زبانو ں سے اس قسم کے فقرات نکل گئے تھے کہ جن سے معلوم ہوتا اہے کہ وہ اپنے آپ کو مہاجرین پر فائق سمجھتے تھے۔ فتح مکہ کے بعد جب حنین اورطائف کے معرکے پیش آئے اور کثیر مال غنیمت ہاتھ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ کے ان لوگوں کی تالیف قلوب کے لیے جو نئے نئے اسلام لائے تھے اور ان جنگوں میں شریک ہوئے تھے مال غنیمت انہیں میں تقسیم کر دیا۔ یہ دیکھ کر انصار کے بعض لوگوں نے اعتراض کیا اور کہا کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور مال مکہ والے لے گئے ہیں۔ جب رسول اللہ کو یہ اطلاع ملی تو آپؐ نے خزرج کے سردار سعد بن عبادہ کو حکم دیا کہ وہ تمام انصار کو جمع کریں جب تمام لوگ جمع ہو گئے تو آپؐ نے فرمایا:
’’اے انصار! تم لوگوں کی طرف سے مجھے ایک بات پہنچی ہے جس سے معلو ہوتاہے کہ غنیمت کی تقسیم کے سلسلے میں تم لوگوں کو شکایت ہے لیکن اس بات سے قطع نظر مجھے اس کا جواب دو کہ یا یہ واقعہ نہیں کہ تم گمراہ تھے میرے ذریعے سے اللہ نے تمہیں ہدایت دی۔ تم غریب تھے میرے ذریعے سے اللہ نے تمہیں امیر بنایا۔ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے میرے ذریعے سے تمہارے درمیان الفت اور محبت پیدا کی۔
انصار نے یہ سن کر شرمندگی سے سر جھکا لیا اور کہا:
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے شک اور اس کے رسولؐ نے ہم پر بڑے بڑے احسانات کیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا:
اے انصار ! تم جواب کیوںنہیں دیتے؟
لیکن وہ اسی طرح سر جھکائے بیٹحے رہے اور اس کے سو ا کچھ نہ کہا:
’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم آپ کو کیا جواب دیں؟ یقینا اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہم پر بڑے بڑے احسانات ہیں‘‘۔
اس پر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف سے جواب دیا:
’’اللہ کی قسم! اگر تم چاہتے تو کہہ سکتے تھے کہ تمہارا کہنا بالکل سچ ہوتا کہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ ؐ کی قوم نے آپؐ کی تکذیب کی آپ ہمارے پاس آئے ہم نے آپ کی تصدیق کی اورآپؐ پر ایمان لائے ۔ آپؐ کی قوم نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا تھا ہم نے آپؐ کی مدد کی۔ آپؐ کو مکہ سے نکال دیا گیا تھا۔ ہم نے آپ ؐ کو پناہ دی۔ آپؐ غریبی اور تنگ دستی کی حالت میں ہمارے پاس آئے ہم نے آپؐ کی ضرورت کا سارا سامان مہیا کیا ۔ آپؐ دل شکستہ تھے ہم نے آپؐ کی دل جوئی کی‘‘۔
یہ الفاظ ادا کرتے وقت آپؐ پر ایک خاص قسم کی کیفیت اور تاثر طاری تھا۔ آپؐ نے فرمایا:
’’دنیا کی چند حقیر چیزوں کی خاطر تم نے یہ بات کہی ہے میں نے وہ مال قریش کو محض تالیف قلوب کے لیے دیا تھا تاکہ وہ اسلام پر پختہ ہو جائیں۔ تم پہلے ہی سے اسلا م پر پختہ ہو۔ تمہیں تالیف قلوب کے لیے دینے کی ضرورت نہیں۔ اے انصار! کیا تم اس پر راضی نہیں کہ دوسرے لوگ اونٹ اور بکریاں لے کر جائیں اورتم اپنے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے جائو۔ مجھے اس ذات کی قسم ہے کہ جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے کہ ہجرت نہ ہوتی تو میں انصا ر کاایک فرد ہوتا۔ اگر لوگ ایک راستے پر چلیں اورانصار دوسرے راستے پر تو کیا میں انصار کے راستے پر چلوں گا۔ اے اللہ انصار پر رحم فرما انصار کے بیٹوں پر رحم فرما انصار کے بیٹوں کی اولاد پر رحم فرما‘‘۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی ان پر درد باتوں نے انصارپربے حد اثر کیا۔ وہ اتناروئے کہ ان کی داڑھیاں آنسوئوں سے تر ہو گئیں اورسب سے یک زبان ہو کر کہا:
’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تقسیم اور بخشش پر دل و جان سے راضی ہیں‘‘۔
ان امور کی موجودگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خبر وفات سنتے ہی انصار کے دل میں یہ خیال پیداہونا قدرتی امر تھا کہ آیا مدینہ کا انتظام اور امور سلطنت کی دیکھ بھال ان مہاجرین کے ہاتھ میں رہے گی اورجو مکہ سے بہ حالت تباہ مدینہ پہنچے اہل مدینہ نے انہیں پناہ دی اور انہیں عزت و قوت بخشی پایہ کام اہل مدینہ کے سپرد کیا جائے گا جن کے متعلق خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما چکے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکذیب کی جار ہی تھی آپ ان کے پاس آئے تو انہوں نے آپ کی تصدیق کی۔ آپ کو آپ کی قوم نے چھوڑ دیا تھا انہوں نے آپ کی مدد کی آپ ؐ کو مکہ سے نکال دیا گیا تھا انہوں نے آپ کو پناہ دی ۔ آپ دل شکستہ تھے انہوں نے آپ کی دل جوئی کی۔
اسی مسئلے کو طے کرنے کے لیے بعض انصار سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے اور اپنے ایک سردار سعد بن عبادہ کو جو اس وقت بیمار تھے ا ن کے گھر سے وہاں لے آئے اور بحث شروع کی۔
جب انصار سقیفہ بنی ساعدہ میں خلافت کے متعلق مشغول بحث تھے تو حضرت عمر ؓ بن دوسرے بڑے بڑے صحابہؓ مسجد نبوی میں ہی تھے۔ حضرت ابوبکرؓ و حضرت علیؓ اور دوسرے اہل بیعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تجہییز و تکفین کے انتظامات میں مصروف تھے۔ ان کے ہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ انصار پہلے ہی اس معاملے پر بحث و تمحیص میں مشغو ل ہیں اور اپنے میں سے کسی شخص کو امیر بنانا چاہتے ہیں۔ جب حضرت عمر کو سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار کے اجتماع کی خبر ملی۔ اس پر حضرت عمرؓ نے حضرت ابوبکرؓ کو جو اس وقت حضرت عائشہؓ کے حجرے میں تھے کہلا بھیجا کہ ذرا باہر تشریف لائیے ابوبکرؓنے جواباً کہا میں مشغول ہوں اس وقت باہر نہیں آ سکتا‘‘۔
حضرت عمرؓنے دوبارہ پیغام بھیجا کہ فوری طورپر ایک ایسا واقعہ پیش آ گیا ہے جس میں آپ کی موجودگی بہت ضروری ہے۔اس پر ابوبکر ؓ باہر تشریف لائے اورعمرؓ سے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تجہیز و تکفین سے زیادہ اس وقت اورکون سا کام ضروری ہے۔ جس کے لیے تم نے مجھے بلایاہے؟عمرؓ نے کہا ’’ انصار سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہیں اور ارادہ کر رہے ہیں کہ سعد بن عبادہ کو خلیفہ بنا دیں؟ ان میں سے ایک شخص نے کہا ہے کہ ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک امیر قریش میں سے‘‘۔یہ سن کر ابوبکرؓ فوراً عمرؓ کے ساتھ سقیفہ کی جانب چل پڑے۔ ابوعبیدہ بن جراحؓ بھی ساتھ تھے۔
چنانچہ یہ تینوں حضرات سقیفہ میں پہنچے انصار کی گفتگو اور بحث ابھی جاری تھی۔ انہوں نے نہ تو سعد کی بیعت کی تھی اور نہ کسی متفقہ فیصلے پر پہنچے تھے۔
انصار نے جب ان تینوں کو دیکھا تو بہت پریشان ہوئے اور بالکل خاموش ہو گئے۔
واقعہ یہ ہے کہ اسلام کی ابتدائی زندگی میں اس اجتماع کو زبردست اہمیت حاصل تھی۔ اگر اس موقع پر ابوبکر ؓ اپنی اصابت رائے قوت ارادی اور ذہانت و فرزاندگی کو کام میں نہ لاتے تو خود اسلام کے مرکز میں وہ فتنہ پھیل جاتا جو بعد میں عرب کے دوسرے شہروں میں بھی پھیلا اور اس عالم میں پھیلتا کہ اسلام کے بانی کی نعش ابھی گھر ہی میں پڑی ہوتی۔
ذرا غور کیجیے کہ اگرانصار سعد بن عبادہ کی باتوں میں آکر اصرار کرتے کہ خلافت ان کا حق ہے اور انہیں کو ملنا چاہیے اور دوسری طرف قریش اپنے سوا کسی کو خلافت پر راضی نہ ہوتے تو ا س فتنے کا انجام کیا ہوتا؟ خصوصاً اس حالت میں کہ اسامہ کا لشکر ہتھیاروں سے یس دشمن سے جنگ کرنے کے لیے کوچ کرنے پر بالکل تیار تھا۔ کیا اس صورت میں وہی ہتھیار ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہوتے؟
اگر سقیفہ جانے والے مہاجرن ابوبکرؓ عمرؓ اور ابوعبیدہؓ کے سوا دوسرے لوگ ہوتے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مشیر کار ہونے کا شرف حاصل ہوتا اورنہ امین الامت ہونے کا اعزاز تو انصا ر و مہاجرین کے درمیان اختلاف کی خلیج بے حد وسیع ہوجاتی اور اس کا ہولناک انجام ہوتا اس کا اندازہ بھی آج کا مورخ نہیں کر سکتا۔
واقعات کا صحیح اندازہ کرنے والوں سے یہ بات مخفی نہیں کہ اس اہم اجتماع کو اسلام کی تاریخ میں اتنی اہمیت حاصل ہے کہ جتنی بیعت عقبۃ الکبریٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجرت مدینہ کو۔ یہ بات بھی ان سے پوشیدہ نہیں کہ ابوبکرؓ نے اس موقع پر جو کارنامہ انجام دیا اس نے صریحاً ثابت کر دیا کہ وہ دینی لحاظ سے نہایت بلند مرتبہ رکھتے ہیں اور اسکے علاوہ بحر سیاست کے شناورانتہائی دور رس اور نتاائج و عواقب پر گہری نظر رکھنے واے بھی تھے اور ہرمعاملے میں ان کی تمام تر کوششیں یہہ ہوتی تھیں کہ اس سے بہترنتائج برآمد ہوں اورہر ایسی بات سے پہلو تہی کی جائے کہ جس سے شرو فساد پھوٹنے کاامکان ہو۔
مکمل تحریر >>

وفات صلی اللہ علیہ وسلم پر مسلمانوں کی سراسیمگی


۱۲ ربیع الاول ۱۱ھ مطابق ۳ جون ۶۳۲ء کو اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جوار رحمت میں بلا لیا۔ اس دن صبح کے وقت آپ ؐ نے مرض میں کچھ افاقہ محسوس کیا جس پر آپ ؐ حضرت عائشہ ؓ کے حجرے سے نکل کر مسجد میں تشریف لائے اور لوگوں سے کچھ باتیں کیں اسامہ بن زید امیر لشکر کی کامیابی کی دعا اور انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے لشکر کے ہمراہ مملکت روم کی جانب روانہ ہو جائیں۔ اس کے بعد آپ ؐ واپس حجرے میں تشریف لے آئے۔ کچھ ہی دیر بعدجب لوگوں کو اچانک معلو م ہوا کہ ا ن کا محبوب آقا ان سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گیا ہے تو ان کی حالت مارے غم کے دیوانوں کی سی ہو گئی۔ حضرت عمرؓ تلوار لے کر مسجد میں کھڑے ہو گئے اور کہنا شروع کیا:
’’جو شخص کہے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہو گئے ہیں میں اس تلوار سے اس کی گردن اڑا دوں گا۔ آپؐ ہرگز فوت نہیں ہوئے بلکہ اپنے رب کے حضور تشریف لے گئے ہیں۔ اسی طرح جیسے موسیٰؑ تشریف لے گئے تھے اور چالیس رات غیر حاضر رہنے کے بعد واپس اپنی قوم میں آ گئے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی یقینا واپس آئیں گے اور منافقین کے ہاتھ پائوں کاٹیں گے‘‘۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت عائشہؓ کے حجرے میں واپس پہنچانے کے بعد ابوبکرؓ آپؐ کی صحت کے بارے میں مطمئن ہو کر مدینہ کے نواح میں اپنے گھر تشریف لے گئے تھے جو مقام سخ میں تھا۔ جب آپؐ کی وفات کی خبر پھیلی تو اایک شخص نے ابوبکرؓ سے جا کر خبر کی۔ وہ فوراً مدینہ آئے۔ مسجد نبوی میں حضرت عمرؓ تلوار ہاتھ میں لیے لوگوں کو دھمکا رہے تھے مگر انہوں نے اس طرف التفات نہ فرمایا بلکہ سیدھے حضرت عائشہؓ کے حجرے میں چلے گئے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جسد اطہر رکھا ہوا تھا۔ ابوبکرؓ نے رخ مبارک سے کپڑا ہٹایا اوررخسار کوبوسہ دے کر فرمایا کیا ہی بابرکت تھی آپؐ کی زندگی اور کیا ہی پاکیزہ ہے آپ کی موت اس کے بعد حجرے سے باہر نکلے اور منبر پر چڑھ کر فرمایا:
ایھا الناس من کان یعبد حمد آفان محمد اقدامات ومن کان یعبد اللہ فان اللہ حی لا یموت
(اے لوگو! جو شخص محمدؐ کو پوجتا تھا اسے معلوم ہونا چاہیے کہ محمدؐ فوت ہو گئے ہیں لیکن جو شخص اللہ کی عبادت کرتا ہے تو اللہ یقینا زندہ ہے اور اس پر کبھی موت وارد نہ ہو گی)۔
اس کے بعد یہ آیت پڑھی:
وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل افان مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم ومن ینقلب علی عقبیہ فلن یضر اللہ شیئا و سیجزی اللہ الشاکرین
’’(محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔ ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں۔ اگر محمد ؐ وفا ت پا جائیں یا شہید کر دیے جائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں کے بل (کفر کی جانب) پھر جائو گے؟ او ر جو شخص اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائے وہ اللہ کو ذرا سا بھی ضرر نہیں پہنچا سکتا اور عنقریب اللہ شکر گزار بندوں کو نیک بدلہ دے گا)‘‘۔
جب حضرت عمرؓ کے کانوں میں یہ آواز پڑی تو انہیں یقین ہو گیا کہ واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہو چکے ہیں۔ اس یقین کاان پر اتنا شدید اثر ہوا کہ ان کی ٹانگیں ان کا بوجھ نہ سہار سکیں اور وہ بے سدھ ہو کر زمین پر گر پڑے۔
آئیے ذرا غور کریں اور اپنے نفوس میں اس واقعے کا بنظر غائر جائزہ لیں کہ جس سے ابوبکرؓ کی شخصیت کا ایک اور عظیم الشان پہلو واضح ہوتا ہے۔ مسلمانوں میں سے اگر کوئی شخص ایسا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے صدمے کے اثر سے اس حد تک پہنچ سکتا تھا جس حد تک حضرت عمرؓ پہنہچے تو وہ صرف ابوبکرؓ ہو سکتے تھے کیونکہ وہ آپ کے صفی اور ہم نشین تھے۔ انہوں نے اپنی ساری عمر آپ ؐ کی خدمت میں اور آپ ؐ کے لائے ہوئے دین کی تبلیغ و اشاعت کے لیے وقت کر دی تھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے اپنے ایک بندے کو حق دیا ہے کہ خواہ وہ دنیا کی زندگی اختیار کر لے یا آخرت کی زندگی اور اس نے آخرت کی زندگی اختیار کر لیل تو ابوبکرؓ کے روتے روتے ہچکی بندھ گئی اور آپؐ نے کہا تھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ پر ہماری جانیں اور ہماری اولاد قربان ہو کیا ہم آپ کے بعد زندہ رہ سکیں گے؟ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کاسخت صدمہ آپ کو حضرت عمرؓ کی طرح بے ہوش نہ کر سکا اورجب انہیں یقین ہو گیا کہ آپؐ ملا ء اعلیٰ کو تشریف لے گئے ہیں تو انہوں نے فوراً مجمع عام میں آ کر اس کا اعلان کا دیا۔
جو تقریر انہوں نے اس وقت کی اور جو آیت اس موقع پر پڑھی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انہیں اپنے نفس پر کتنا قابو حاصل تھا۔ اور ان میں مصائب کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کی کتنی زبردست قوت موجو د تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات جیسے عظیم الشان صدمے کی بھی خبر سن کر انہوں نے ہوش وحواس بجا رکھے اور ان پر کسی قسم کی سراسیمگی طاری نہ ہوئی۔ ہماری حیرت و تعجب کی انتہا نہیں رہتی جب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ اوصاف ایک دوسرے شخص سے ظاہر ہوئے جو انتہائی رقیق القلب تھا اور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتاتھا۔
یہ گھڑی مسلمانو ں کے لیے قیامت سے کم نہ تھی۔ ابوبکرؓ نے نہ صرف ایسے سخت وقت میں اپنے اوسان بجا رکھے بلکہ بعد میں بھی جب کبھی مسلمانوں پرکوئی برا وقت پڑا تو اسی قوت ارادی اوراولوالعزمی سے کام لے کر تمام خطرات کو دور کر دیا۔ یہی قوت ارادی تھی کہ جسے بروئے کار لا کر ابوبکرؓ نے مسلمانوں اور اسلام کو ایک ایسے فتنے سے بچا لیا جو اگر خدانخواستہ شدت اختیار کرلیتا تو نہ معلوم اسلام کا کیا حشر ہوتا۔
مکمل تحریر >>

امیر الحج و امامت


امیر الحج
فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سے تمام رکاوٹیں دور ہو چکی تھیں۔ اور آپ اسلام کے تمام فرائض و واجبات نہایت آسانی سے بجا لا سکتے تھے۔ حج بھی ایک دینی فریضہ ہے لیکن وفو د کے جوق درجوق مدینہ آنے کی وجہ سے آپ کو مکہ جانے اور بیت اللہ کا حج کرنے کی فرصت نہ مل سکی۔ اس لیے فتح مکہ کے اگلے سال آپ نے اپنی جگہ ابوبکرؓ کو امیر الحج مقرر فرما کر روانہ کیا۔ وہ تین سو مسلمانوں کو لے کر مکہ پہنچے اور واہں حج کے فرائض انجام دیے۔ اسی حج کے موقع پر علی ؓ بن ابی طالب نے اور بعض روایات کے مطابق خود ابوبکرؓ نے اعلان کیا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کر سکے گا۔انہوں نے مشرکین کے لیے چار مہینے کی مہلت کا اعلان کیا کہ اس عرصے میں وہ مکہ چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں چل جائیں ۔ اس وقت سے آج تک کوئی مشرک بیت اللہ کا حج نہیں کر سکا اورنہ آئندہ کر سکے گا۔

نماز پڑھانے کا حکم
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی علالت نے شدت اختیار کر لی تو آپ نے حکم دیا کہ ابوبکرؓ لوگوں کونماز پڑھائیں۔
اس ذیل میں حضرت عائشہ ؓ کی ایک روایت قابل اندراج ہے کہ آپ فرماتی ہیں:
’’ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیارہ بیمار ہوئے تو بلال نماز کے لیے عرض کرنے آئے۔ آپ نے فرمایا ابوبکرؓ سے کہہ دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ میں نے کہا ابوبکرؓ بہت رقیق القلب انسان ہیں۔ جب وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو ضبط نہ کر سکیں گے اور اس طرح لوگوں کی نماز میں خلل پڑے گا ۔ اگر آپ عمرؓ کو نماز پڑھانے کا حکم دیں تو بہتر ہو۔ آپ نے یہ سن کر پھر فرمایا کہ ابوبکرؓ سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔ اس پر میں نے حفصہ سے کہا کہ ابوبکرؓ رقیق القلب ہیں وہ نما ز میں رونا شروع کر دیں گے اور لوگوں کی نماز میں خلل پڑے گا ۔ تم رسول اللہ سے کہو کہ وہ ابوبکرؓ کی جگہ عمر ؓ کو نماز پڑھانے کا حکم دیں۔ چنانچہ حفصہؓ نے جا کر یہی بات آپ سے کہہ دی۔ اس پر آپؐ نے فرمایا یقینا تم وہی عورتیں ہو جنہوں نے یوسفؑ کو بہلانے پھسلانے کی کوشش کی تھی۔ ابوبکر ؓ سے کہو کہ وہ لوگوں کونماز پڑھائیں اس پر حفصہؓ نے مجھ سے کہا تم نے مجھے ناحق شرمندہ کرایا‘‘۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسب ارشاد ابوبکرؓ نے نماز پڑھائی۔ ایک دن ابوبکرؓ مدینہ سے باہر تشریف لے گئے تھے کہ نماز کا وقت ہو گیا۔ حضرت بلالؓ نے حضرت ابوبکر ؓ کو نہ پا کر حضرت عمرؓ سے نما ز پڑھانے کو کہا۔ حضرت عمرؓ بلند آواز تھے ۔ جب آپ نے تکبیر کہی تو اس کی آواز حضرت عائشہؓ کے حجرے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کانوں تک پہنچی۔ آپ ؐ نے فرمایا کہ ابوبکرؓ کہاں ہیں؟ اللہ اور مسلمان یہ بات پسند کرتے ہیں کہ ابوبکرؓ نماز پڑھائیں۔
بعض لوگ اس واقعے سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ اس طرح آپؐ نے اپنے بعد خلافت کا فیصلہ فرما کر ابوبکرؓ کو اپنا خلیفہ نامزد کر دیا تھا کیونکہ لوگوں کو نماز پڑھانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانشینی کا پہلا مظہر ہے۔

بیماری کے دوران میں ہی ایک روز رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اور ارشاد فرمایا:
’’اللہ نے اپنے بندے کو یہ حق دیا ہے کہ خواہ وہ دنیا کو اختیار کرے خواہ آخرت کو لیکن اس نے آخرت میں اللہ کے قرب کو اختیار کیا‘‘۔
ابوبکرؓ سمجھ گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود اپنا ذکر فرما رہے ہیں۔ وہ زار و قطار رونے لگے یہاں تک کہ ہچکی بندھ گئی اور انہوں نے کہا:
’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ ؐ پر ہماری جانیں قربان اورہماری اولاد قربان ہو کیا ہم آپ کے بعد زندہ رہ سکیں گے‘‘؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا مسجد میں لوگوں کے گھروں کے جس قدر دروازے ہیں وہ بند کر دیے جائیں سو اابوبکرؓ کے دروازے کے۔ پھر ابوبکر ؓ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا:
’’میں نے اپنے صحابہؓ میں سے ابوبکرؓ سے افضل کسی کو نہیں پایا اوراگر میں بندوں۱؎ میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو وہ ابوبکرؓ کو بناتا لیکن ابوبکرؓ سے میرا تعلق ہم نشینی‘ بھائی چارے اور ایمان کا ہے یہاں تک کہ اللہ ہمیں اپنے پاس اکٹھا کرے‘‘۔یہ روایت ابن ہشام کی ہے یہی حدیث صحاح میں مختلف الفاظ میں آئی ہے۔
وفات کے دن صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت علیؓ اور فضل بن عباس کا سہارا لیے ہوئے مسجد میں تشریف لائے۔ ا س وقت ابوبکرؓ نماز پڑھا رہے تھے۔ جب لوگوں نے آپؐ کو دیکھا تو ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ اور وہ نماز ہی میں رستہ بنانے کے لیے ادھر ادھر سمٹنے لگے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارے سے انہیں اپنی جگہ رہنے کا حکم دیا۔ جب ابوبکرؓ نے آہٹ سنی تو سمجھ گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور اس پر وہ اپنی جگہ سے پیچھے ہٹنے لگے تاکہ آ پ کے لیے جگہ خالی کر دیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اشارے سے اپنی جگہ ہی کھڑا رہنے کے لیے ارشاد فرمایا۔ پھر آپ ابوبکرؓ کی بائیں جانب بیٹھ گئے اور بیٹھے بیٹھے نماز پڑھی۔
نماز کے بعد آپ ؐ حضرت عائشہؓ کے حجرے میں تشریف لے گئے اور کچھ دیر کے بعد آپ کو دوبارہ بخار آ گیا۔ آپؐ نے ایک برتن میں ٹھنڈا پانی منگوایا اور اسے اپنے چہرے پر ملنے لگے۔ اس سے تھوڑی دیر بعد آپ کی مقدس روح ملاء اعلیٰ کی طرف پرواز کر گئی ۔
مکمل تحریر >>

جنگَ بدر میں


ہجرت کے کچھ عرصے کے بعد بدر کا معرکہ پیش آتاہے۔ قریش مکہ اورمسلمان اپنی اپنی صفیں مرتب کرکے ایک دوسرے کے بالمقابل میدان جنگ میں کھڑے ہیں۔ مسلمانوں نے حضرت سعد بن معاذؓ کے مشورے سے قریب کی ایک پہاڑی پرایک شامیانہ لگا دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ اس شامیانے میں تشریف رکھیں اور اگر مسلمانوں کی حالت دگرگوں دیکھیں تو اونٹنی پر سوار ہو کر مدینہ تشریف لے جائیں۔ ابوبکر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے جب جنگ شروع ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دشمن کی کثرت اورمسلمانوں کی کمی دیکھی تو آ پ نے قبلہ رو ہو کر اپنے آپ کو خدا کے حضور گرا دیا اور اس سے اس کے وعدوں کی یاد دلا دلا کر مسلمانوں کے لیے فتح و نصرت کی دعائیں مانگنی شروع کیں۔ آپ فرمارہے تھے:
اللھم ھذہ قریش قداتت بخیلائھا تحاول ان تکذب رسولک اللھم فنصرک الذی وعدتنی اللھم ان تھک ھذہ العصابۃ الیوم لا تعبدا
(اے اللہ!یہ قریش اپنے عظیم الشان لشکر کے ہمراہ تیرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے آئے ہیں اے اللہ اپنے اس وعدے کو پورا فرما جو تو نے مسلمانوں کی فتح کے متعلق کیا ہے۔ اے اللہ! اگر آج یہ چھوٹی سی جماعت ہلاک ہو گئی تو آئندہ تیرا کوئی نام لیوا باقی نہ رہے گا)۔
آپ اس قدر زاری اور اتنی بے چینی اور گھبراہٹ کی حالت میں اپنے رب کو پکار رہے تھے اورہاتھ دعا کے لیے پھیلا رہے تھے کہ بار بار آپ کی چادر زمین پر گر جاتی تھی۔ بالآخر آپ پر غنودگی کی حالت طاری ہوئی اور اللہ کی طرف سے ایک بار پھر بڑے زور سے مسلمانوں کی فتح و نصرت کی خوشخبری دی گئی۔ آپ مطمئن ہو کر شامیانے کے باہر تشریف لائے اور بلند آواز سے مسلمانوںکو کفار پر حملہ کرنے کے لیے ارشاد فرمایا۔ آپ فرما رہے تھے کہ مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے کہ آج کے روز ہر شخص کفار سے لڑے گا اور اس حالت میں شہید کیا جائے گاکہ اس کے پیش نظر صر ف اللہ کی رضا اور اس ے دین کی مدد کاجذبہ ہو گا اور اس نے میدان جنگ میں کفار کو پیٹھ نہ دکھائی ہوگی اللہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا‘‘۔
گو پہلے ہی سے اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح کی خوشخبری دے دی تھی لیکن اس کے باوجود آپ برابر گڑگڑا کر اللہ سے دعائیں مانگتے رہے جب تک کہ ایک بار پھر اللہ کی طرف سے واشگاف الفاظ میں مسلمانوں کی فتح و نصرت کا وعدہ نہ دے دیا گیا اور آپ کو دلی اطمینان نصیب نہ ہو گیا۔
واقعی ایک پیغمبر کی شان یہی ہوتی ہے۔ آپ جاتے تھے کہ اللہ کے وعدے سچے ہیں اور وہ ضرور مسلمانوں کو فتح عطا فرمائے گا۔ لیکن ساتھ ہی آپ کو یہ علم بھی تھا کہ اللہ غنی عن العالمین ہے ممکن ہے کہ مسلمانوں سے دوران جنگ میں کوئی ایسی کوتاہی سرزد ہوجائے جس کے باعث فتح و نصرت کا وعدہ دور جا پڑے اور مسلمان اولین مرحلے میں اپنا مقصود حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔
اس پورے عرصے میں ابوبکرؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ رہے اور انہیں یقین تھا کہ اللہ ضرور مسلمانوں کی مدد کرے گا اور انہیں فتح سے ہمکنار کر دے گا۔ اسی لیے وہ حیرت و استعجاب سے آپ کی مناجات سن رہے تھے۔ آپ انتہائی عاجزی کے ساتھ اللہ سے دعا کر رہے تھے اور اسے اس کا وعدہ یاد دلا رہے تھے آ پ کی چادر بار بار زمین پر گر جاتی تھی اور اسے ابوبکرؓ اٹھا کر آپ کے کندھوں پر ڈال دیتے اورکہتے تھے:
’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ گھبرائیں نہیں۔ اللہ نے آپ کو فتح و نصرت کا وعد ہ دیا ہے اور وہ اپنا وعدہ ضرور پورافرمائے گا‘‘۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ اپنے عقیدے میں اس قدر راسخ ہوتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہی کرتے جو ان عقائد میں اختلاف رکھتے ہوں۔ ایسے لوگ کہتے ہیں کہ حقیقی ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ مخالفین سے تعصب تندی اور سختی کا برتائو کیا جائے لیکن ابوبکرؓ کامل الایمان ہونے کے باوجود نہایت نرم دل انسان تھے۔ سب و شتم تندی اور سختی سے وہ کوسوں دور تھے۔ قابو پانے کے بعد مخالف کو معاف کر دینا اور فتح یاب ہونے کے بعد دشمن پر احسان کرنا ان کا شیوہ تھا۔ اس طرح ان میں حق و صداقت کی محبت اوررحم و کرم کا جذبہ بہ یک وقت پایاجاتا تھا۔ حق کے راستے میں وہ ہر چیز حتیٰ کہ اپنی جانوں کو بھی ہیچ سمجھتے تھے او ر اعلاء کلمۃ الحق کی خاطر ہر قسم کی قربانی کرنے کو بخوشی تیار ہو جاتے تھے ۔ لیکن جب حق غالب آ جاتا تو دشمن سے سختی کابرتائو کرتے اور اس سے مظالم کی جواب دہی کرنے کے بجائے ان میں رحم و کرم کا جذبہ ابھر آتا تھا۔
مسلمانوں کو جب جنگ بدر میں فتح نصیب ہوئی اور وہ قریش کے ستر قیدی ہمراہ ے کر مدینہ واپس آ گئے۔ یہ قیدی وہی تھے جنہوں نے مکہ میں تیرہ برس تک مسلمانوں پر سخت مظالم ڈھائے تھے اور ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا تھا۔ انہیں دکھائی دے رہا تھا کہ ان مظالم کا بدلہ چکانے کا وقت آ پہنچا ہے اوراب مسلمان ان پر جس قدربھی سختی کریں کم ہے۔
جب حضور ﷺ نے قیدیوں کے متعلق مشورہ کیا تو حضرت عمرؓ کی یہ رائے تھی کہ ان سب قیدیوں کو قتل کر دیا جائے لیکن حضرت ابوبکرؓ نے اصرار کر کے اپنی بات منوا ہی لی اور تمام قیدی زر فدیہ اور پڑھائی لکھائی کے عوض رہا کر دیے گئے۔
ابوبکرؓ کایہ فعل ان کی پاکیزگی قلب اور حد درجہ نرم دلی پر دلالت کرتاہے۔ شاید یہ وجہ بھی ہو کہ انہوں نے دور بین نظر سے اس امر کامشاہدہ کر لیا تھا کہ مشرکین مکہ بالآخر رحم کے مظاہروں سے ہی مغلوب ہوں گے۔ جب وہ دیکھیں گے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر قسم کی طاقت و قوت رکھتے ہوئے بھی ان سے مرو ت و احسان کا سلوک کیا ہے تو وہ آپ سے آپ اسلام کی آغوش میں آ گریں گے۔ انہیں اچھی طرح علم تھا کہ ظاہری قوت کے ذریعے مخالف پر جسمانی لحاظ سے تو قابو پایا جا سکتاہے لیکن اس کے دل کو مطیع نہیں کیا جا سکتا مخالف کے دل پر اسی وقت فتح حاصل کی جا سکتی ہے کہ جب طاقت کے ذریعے سے نہیں بلکہ پیار و محبت کے ذریعےسے اسے اپنی طرف مائل کیا جائے۔
غزوہ بدر جس طرح مسلمانوں کے لیے ایک نئے دور کا آغاز تھا اسی طرح ابوبکرؓ کی کتاب زندگی کا ایک نیا ورق تھا۔ اس جنگ کے بعدمسلمانوں نے ایک نئے نہج سے اپنی سیاست کو مرتب کرنا شروع کیا۔ بدر کی فتح سے مسلمان کو بڑی سیاسی اہمیت حاصل ہو گئی تھی۔ اوران کے مخالفین کے دلوں میں ان کی جانب سے حسد اور غصے کی آگ بھڑک اٹھی تھی۔ اس فتح نے جہاں یہود کو چوکنا کر دیا تھا اور انہوں نے سمجھ لیا تھا کہ اب مسلمان ان کے دست نگر بن کر نہیں رہ سکتے وہاں مدینے کے اردگرد بسنے والے قبائل کو بھی یہ فکر پیدا ہو گیا تھا کہ مبادا مسلمانوں کا رخ ان کی طرف پھر جائے۔ چنانچہ یہود اور مدینہ کے نواحی قبائل نے مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیاں شروع کر دیں۔
ان امور کی موجودگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے یہ ضروری ہو گیا تھا کہ آپ ہر آن اور ہر لمحہ سختی سے صورتحال کاجائزہ لیتے رہیں اور صحابہ ؓسے مشورہ لینے کے بعد ان حالات کے مطابق اپنی پالیسی کا جائزہ لیں۔ ابوبکرؓ اور عمرؓ آپ کے خاص الخاص مشیر تھے۔ ان دونوں کی طبیعتوں میں بے حد فر ق تھا لیکن بہ ایں ہمہ دونوں نہایت مخلص اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جاں نثار تھے اور ہر مشورہ انتہائی غور و فکر سے دیتے تھے۔ ان مشوروں کی روشنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے راہ عمل معین کرنے میں بہت آسانی رہتی تھی۔ ان دونوں کے علاوہ آپ دوسرے مسلمانوں کو بھی اپنے مشوروں میں برابر شریک کرتے تھے۔ جس کااثر لوگوں پر بہت اچھا پڑتاتھا اور ہر شخص خیال کرتا تھا کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اعتماد حاصل ہے اور آپ اسے بھی مشوروں میں شریک کر کے خدمت کا موقع عنایت فرماتے ہیں۔
فتح مکہ تک کا پورا عرصہ مسلمانوں کو کفار سے جنگ یا اس کی تیاریاں کرتے گزارنا پڑا۔ ایک طرف یہود حیی بن احطب کے زیر سرکردگی مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنے کے منصوبے سوچ رہے تھے دوسری طرف قریش مکہ اپنی پوری طاقت سے مسلمانوں کوزیر کرنے اور ان پر غالب آنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ چھوٹی چھوٹی جھڑپوں وار لڑائیوں کے علاوہ بنو نضیر خندق احزاب اور بنو قریظہ کے غزوات یہود کی فتنہ انگیز سیاست اور قریش کے غیض و غضب کے نمایاں عناصر ہیں۔ ان تمام لڑائیوں اورغزوات میں ابوبکرؓ نے ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوش بہ دوش حصہ لیا اوردوسرے تمام مسلمانوں سے زیادہ بہادری صدق و ثبات اور ایمان کا ثبوت دیا۔
مکمل تحریر >>

مدینہ میں قیام


مدینہ میں ان کا قیام شہر کے نواح میں مقام سخ پر خارجہ بن زید کے ہاں تھا اور جو قبیلہ خزرج کی شاخ بنو حارث سے تعلق رکھتے تھے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخات کا سلسلہ قائم کر دیا تو ابوبکرؓ اور خارجہ کو بھائی بھائی بنایا۔ جب ابوبکرؓ کے اہل و عیال مکہ سے مدینہ پہنچ گئے تو انہوںنے ان سے مل کر روزی کے وسائل تلاش کرنے شروع کر دیے ۔ حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ کے رشتہ داروں کی طرح ان کے رشتہ دار بھی انصار کی زمینوں پر ان کے مالکوں سے مل کرکام کرنے لگے جن میں خارجہ بن زید بھی شامل تھے ۔ خارجہ کے ساتھ ان کے تعلقات اس حد تک بڑھ گئے کہ انہوںںے اپنی بیٹی حبیبہ کو ان کے عقد میں دے دیا۔ حبیبہ کے بطن سے ام کلثوم پیدا ہوئیں۔ ابوبکرؓ کی وفات کے وقت حبیبہ حالت حمل میں تھیں۔
ابوبکرؓ ان کے اہل و عیال اور ان کے ساتھ مقام سخ میں خارجہ بن زید کے ہاں نہ ٹھہرے بلکہ ام رومان ان کی بیٹی عائشہ اور ابوبکرؓ کے تمام لڑکے مدینہ میں حضرت ابوایوب انصاری کے مکان کے قریب مقیم تھے۔ ابوبکرؓ سخ سے روازانہ واہاں آیا کرتے تھے البتہ ان کا مستقل قیام اپنی نئی بیوی کے ساتھ سخ ہی میں تھا۔
ہجرت کے چند رو ز بعد وہ بخار میں مبتلا ہو گئے صرف وہی نہیں بلکہ آب و ہوا کی ناموافقت کے باعث اکثر مہاجرین بخار سے بیمار ہو گئے تھے مکہ کی آب و ہوا صحرا میں واقع ہونے کے باعث خشک تھی۔ اس کے مقابلے میں مدینہ کی آب و ہوا مرطوب تھی۔ کیونکہ وہ بارانی علاقہ تھا اور وہاں کھیتی باڑی ہوتی تھی۔
ابوبکرؓ نہایت نرم مزاج انسان تھے لیکن جب وہ یہود اور منافقین کی زبانوں سے دین خدا کے متعلق تمسخر آمیز باتیں سنتے تھے تو ان کے غصے کی انتہا نہ رہتی تھی۔ مدینہ تشریف لانے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور یہود کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت یہود اور مسلمانوں دونوں کو اپنے اپنے دین کی تبلیغ و اشاعت اور اپنے اپنے رسوم و رواج پر عمل کرنے کی آزادی حاصل تھی۔ یہود کا شروع میں یہ خیال تھا کہ وہ مہاجرین کو اپنے ڈھب پر لائیں کر انہیں مدینہ کے قبیلوں اوس اور خزرج کے خلاف استعمال کریں گے ۔ لیکن چند ہی روز میں انہیں یہ پتا چل گیا کہ ایسا ہونا ناممکن ہے اور مہاجرین اور انصار مدینہ میں ایسا تعلق قائم ہو چکا ہے کہ جو کسی صورت میں ٹوٹ نہی سکتا۔ اس وقت انہوں نے اپنی پہل روش بد ل کر مسلمانوں کی مخالفت میں کمر باندھی اوراسلام کے متعلق تمسخر اور استہزاء کی باتیں کرنی شروع کیں۔ ایک دن کاواقعہ ہے کہ چند یہودی اپنے ایک عالم فخاص کے گھر جمع ہوئے اتفاق سے اسی وقت حضرت ابوبکرؓ بھی اسی طرف آ نکلے۔ انہوں نے یہودیوں کے اجتماع کو غنیمت جانتے ہوئے انہیں اسلام کی تبلیغ کرنی چاہی اورفخا ص سے کہنے لگے:
’’اے فخاص! اللہ سے ڈرو اور اسلام لے آئو۔ اللہ کی قسم! تم جانتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور اسی کی جانب تمہارے پاس وہ حق لے کر آئے ہیں جسے تم توریت میں لکھا ہوا پاتے ہو۔‘‘
یہ سن کر فخاص کے لبوں پر تمسخڑ آمیز مسکراہٹ نمودار ہوئی ار وہ کہنے لگا:
’’خدا کی قسم اے ابوبکرؓ ہمیں خدا سے کسی چیز کی حاجت نہیں خود اسے ہماری حاجت ہے۔ ہم اس کی طرف نہیں جھکے بلکہ وہ ہماری طرف جھکنے پر مجبور ہے۔ ہم اس کی مدد سے بے پروا ہیں لیکن وہ ہماری امداد سے مستغنی نہیں۔ اگر وہ ہماری امداد سے مستغنی ہوتاتو کبھی ہمارے مال ہم سے بطور قرض نہ مانگتا جس طرح تمہارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خیال ہے۔ اللہ تمہیں سود لینے سے منع کرتاہے لیکن خود ہمیں سود دیتاہے اگر وہ ہم سے مستغنی ہوتا تو ہمیں کیوں سود دیتا؟‘‘
اس ناپاک گفتگو سے فخاص کامقصد دراصل اس آیت پر چوٹ کرنا تھا کہ جس میں اللہ فرماتا ہے کہ
من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا فیضا عفہ لہ اضعافا کثیرۃ
’’(کون ہے جو اللہ کو قرض دے‘ اس کے بدلے میں اللہ اس کے مال کوکئی گنا بڑھا کر واپس کرے گا)‘‘۔
ابوبکرؓ نے فخاص کو اللہ کے اس قول اوراس کی وحی کا مذاق اڑاتے دیکھا تو وہ اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سے اور فخاص کے اتنے زور سے تھپڑ مارا کہ اس کے حواس بجا نہ رہے اس کے بعد فرمایا:
’’اے اللہ کے دشمن ! اگر مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان معاہدہ نہ ہوتا تو اللہ کی قسم! میں تیری گردن اڑا دیتا‘‘۔
کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ ابوبکرؓ نہایت رقیق القلب اوربردبار ہونے کے باوجود اس موقع پر جوش میں آ گئے اور حالانکہ آپ کی عمر بھی پچاس سے متجاوز کرچکی تھی اور اس مرحلے پر بالعموم انسان میں جوش و خروش باقی نہیں رہتا۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ غیر ت ایمانی کا مظاہرہ تھا اور اس بات کا ثبوت کہ آپ اللہ کی آیات اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر استہزاء کرنے کو کسی صورت میں برداشت نہیں کر سکتے تھے۔
اسی قسم کی ایک اور مثال ہمیں ابوبکرؓ کی زندگی میں نظر آتی ہے۔ یہ واقعہ ہجرت سے دس سال قبل رونما ہوا تھا جب ایرانیوں اور رومیوں کی جنگ کے دوران میں ایرانی رومیوں پر غالب آ گئے تھے۔ چونکہ ایرانی مجوسی تھے اور رومی اہل کتاب اس لیے مسلمانوں کو اہل کتاب کے مقابلے میں مشرکوں کے غالب آ جانے سے فطرتاً رنج پہنچا تھا۔ ان کی عین خواہش تھی کہ رومی فتح یاب ہوں کیونکہ وہ ان کی طرح اہل کتاب تھے۔ ایک مشرک نے ابوبکرؓ سے اس کا اظہار کیا اوراپنے ہم مذہب وگوں کے فتحیاب ہونے پر خوشی اور مسرت کا اظہار کیا۔ یہ سن کر ابوبکرؓ کو سخت طیش آیا۔ اسی زمانے میں یہ آیات نازل ہوئیں۔
الم غلبت الروم فی ادنی الارض وھم من بعد غلبھم سیغلبون فی بضع سنین
(اگرچہ رومی ایرانیوں کے ہاتھو مغلوب ہوگئے ہیں لیکن چند ہی سال میں وہ پھر غالب آجائیں گے)
ابوبکرؓ نے اس پیشنگوئی کی بنا پر ا س مشرک سے شرط لگائی کہ ایک سال کے اندر اندر رومی ایرانیوں پر غالب آ جائیں گے ۔ (بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادپرانہوں نے یہ مدت نو سال متعین کر دی) اور اگر ایسا نہ ہوا تو وہ ااسے دس اونٹ دیں گے۔
ان واقعات سے ظاہر ہوتاہے کہ ابوبکرؓ جیسے حلیم الطبع اورنرم مزاج انسان کا غصہ صرف اس وقت بھڑکتا تھا جب کہ عقیدے اور ایمان کا سوال درپیش ہوتا تھا۔
جب سے ابوبکرؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کرکے آپ کے دین میں داخل ہوئے اسی وقت سے ان کی رگ رگ میں ایمان صادق رچ گیاتھا۔ ان کے تما م اعمال و افعال میں اسی ایمان صادق کارنگ نمایاں تھا۔ خا ندان خواہشات غرض دنیا کی کوئی بھی چیز جو لوگوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتی تھی ان کی نظر میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابلے میں بالکل ہیچ تھی۔ ان کاجس دل و دماغ اوران کی روح خالص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے تھی۔ یہی جذبہ ایمانی تھا جس نے انہیں روحانیت کے اعلیٰ ترین مقام تک پہنچا کر صدیقین کے زمر ے میں شامل کر دیا تھا۔
مکمل تحریر >>

ہجرتِ مدینہ


اسلام کے اولین دور میں مسلمانوں کی مدد کرنے ور ہمہ تن اسلام کی تبلیغ کرنے میں مشغول رہنے کے باعث ان کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان ایسا تعلق قائم ہو گیا تھا جسک نظیر ملنی ناممکن ہے۔ بیعت عقبہ کے بعد یثرب میں اسلام پھیل گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مبتین کو اجازت دے دی کہ یثرب ہجرت کر جائیں۔ قریش قطعاً لا عم تھے کہ آیا اس مرتبہ بھی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہجرت کر جایں گے یا ہجرت حبشہ کی طرح مسلمانوں کو یثرب بھیج کر خود مکہ ہی میں مقیم رہیں گے۔ اس موقع پر ابوبکرؓ نے بھی ہجرت کرنے کی اجازت مانگی لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرما کہ انہیں یثرب جانے سے روک دیا
’’ابھی ایسا نہ کرو‘ شاید اللہ تمہارا کوئی ساتھی پیدا کر دے جو ہجرت کے موقع پر تمہارے ہمراہ ہو‘‘۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہمرکابی کا شرف حاصل کرنا وہ نعمت تھی کہ دنیا کی ساری نعمتیں مل کربھی ان کا مقابلہ نہ کر سکتی تھی َ چنانچہ وہ آپ کے حسب ارشاد ٹھہر گئے اور سمجھ لیا کہ اس موقع پر شہادت بھی نصیب ہو گئی تویہ ایسی شہادت ہو گی کہ جو اپنی جلو میں جنت اور اس کی تمام نعمتوں کو لیے ہو گی اور جس پر ہزاروں برس کی زندگی بہ خوشی قربان کی جا سکتی ہے۔
اسی روز ابوبکرؓ نے دو اونٹنیوں کا انتظام کیااورانتظار کرنے لگے کہ کب ہجرت کا حکم نازل ہوکر انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہمرکابی ک شرف حاصل ہوتاہے۔ ایک روز حسب معمول شام کے وقت آپ ا ن کے گھر تشریف لائے اور فرمایا کہ اللہ نے انہیں یثرب کی جانب ہجرت کی اجازت دے دی ہے۔
اسی دن قریش کے نوجوانوں نے آپ کے مکان کا محاصرہ کر لیا اور انتظار کرنے لگے کہ کب آپ باہر نکلتے ہیں اورانہیں کب آپ کو قتل کرنے کے لیے اپنی تلواروں کے جوہر دکھانے کا موقع ملتا ہے۔ آپؐ نے حضرت علیؓ بن ابی طالب کو حکم دیا کہ وہ آپ کی سبز حضرمی چادر اوڑھ لیں اور بے خوف و خطر آپ کے بستر پرسو جائیں۔ انہوں نے ایساہی کیا۔ جب رات کا تہائی حصہ گزر گیا تو آپؐ اپنے گھر سے نکلے اورابوبکرؓ کے پاس پہنچے۔ وہ جاگ رے تھے فوراً دونوگھر کی پشت کی ایک کھڑکی سے باہر نکلے اور جانب جنوب تین چار میل کی مسافت طے کرکے غار ثور جاپہنچے۔
صبح ہونے پر جب قریش کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مکہ سے نکل جانے کا پتا چلا تو انہوں نے چاروں طرف سے آپ کی تلاش میں آدمی دوڑائے۔ مکہ کے قریب کوئی وادی کوئی میدان ورکوئی پہاڑ نہ تھا جو انہوں نے نہ چھان مارا ہو۔ وہ لوگ آپ کو تلاش کرتے کرتے غار ثور تک بھی پہنچ گئے اورایک آدی نے غار میں اترنے کا ارادہ بھی کیا۔ جب ابوبکرؓ نے ان لوگوں کی آوازیں سنیں تو ان کی پیشانی سے پسینہ چھوٹ نکلا اور انہوں نے اپنا سانس تک روک لیا کہ مبادا کسی قسم کی آواز نکل کر دشمنوں کو ان کے یہاں ہونے کا احساس دلا دے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بڑے اطمینان سے اللہ کے ذکر اور دعائوں میں مشغول رہے۔ جب آپ نے ابوبکرؓ کی گھبراہت دیکھی تو جھک کر ان کے کان میں کہا
لا تحزن ان اللہ معنا(ڈرو مت اللہ ہمارے ساتھ ہے)
ادھر قریشی نوجوان نے اپنی نظر غارکے اردگرد دوڑائی تو دیکھا کہ غار کے منہ پر ایک مکڑی نے جالا تن دیا ہے۔ یہ دیکھ کر وہ واپس ہو گیا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غار میں جاتے تو یقینا جالا ٹوٹ جاتا اس لیے میں واپس آ گیا یہ سن کر وہ لوگ حالت مایوسی میں وہاں سے چلے گئے۔ جب وہ دور نکل گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پکار کرفرمایا اللہ اکبر اللہ اکبر ابوبکرؓ نے بھی قدرت کا یہ عجیب تماشا دیکھ کر وجد میں آ گئے۔
غار ثور میں گھبراہٹ کی وجہ
اس موقع پر سوال پید ہوتا ہے کہ ابوبکرؓ کی گھبراہٹ… جس کے باعث ان کی پیشانی سے پسینے چھوٹنے لگے تھے اور ان کا سانس بھی رک گیا تھا… اپنی جان بچانے کے خوف سے تھی یا اس وجہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کابال بیکا نہ ہو جائے؟ آیا کہ اس وقت انہیں اپنی جان کا خیال تھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان کا؟ اس کا تسلی بخش جواب ہمیں مندرجہ ذیل روایات میں ملتاہے۔
ابن ہشام حسن بن ابوالحسن بصری سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکرؓ آدھی رات کو غار میں پہنچے تو آپؐ سے پہلے ابوبکرؓ غار میں داخل ہوئے۔ اور اسے اچھی طرح دیکھا بھالا مباداکہ اس میں کوئی سانپ یا بچھو یا درندہ چھپا بیٹھاہوا ور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خدانخواستہ کو ئی ضرر پہنچ جائے۔ بالکل یہی جذبہ ان کا ان نازک لمحات میں تھا۔ جب انہوں نے غار کے سرے پر قریش کے نوجوانوں کو دیکھااس وقت انہوں نے جھک کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کان میں کہ ا کہ اگر ان میں سے کوئی اپنے قدموں کے نیچے نظر کر لے تو یقینا ہمیں دیکھ لے گا۔ اس وقت ابوبکرؓ اپنی جان کی مطلق پروا نہ تھی اگر خیال تھا تو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اور اس دین کا جس کی خاطر انہوں نے اپنی جان کی کوئی حقیقت نہ سمجھی تھی۔ انہیں نظر آ رہا تھا کہ اگر اس وقت خدانخواستہ کفار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قابو پا لیا تو دین اسلام کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اپنی ذات کا خیال انہیں آ ہی کس طرح سکتاتھا جب انہوں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اور دین اسلام کے عشق میں بالکل جذب کر لیا تھا۔
وہ تو اپنے نفس کو پہلے ہی عشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں فنا کر چکے تھے۔ اس لیے اللہ کے رستے میں دوبارہ فنا ہونے سے انہیں کیا ڈر ہو سکتا تھا؟
تاریخ کے مطالعے سے متعدد ایسے اشخاص کے حالات معلوم ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی جانیں اپنے سرداروں اور بادشاہوں پر قربان کر دیں۔ آج کل بھی ایسے اکثر زعماء ہیں جنہیں ان کے معتقدین انتہائی تقدیس کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور انہیں اپنی جانوں سے زیادہ عزیز سمجھتے ہیں۔ لیکن ابوبکرؓ نے غار میں جو نمونہ دکھایا وہ ان سب سے الگ اور بالا حیثیت رکھتا ہے۔ کیا بادشاہوں اور لیڈروں کی تاریخوں میں ایسی کوئی مثال پائی جاتی ہے کہ ان کی رعایا معتقدین میں سے کسی فرد نے ان کے لیے ایسی قربانیاں پیش کی ہوں؟ ایثار و قربانی میں اس کی مثال کی نظیر پش کرنے سے تاریخ عاجز ہے۔
جب کفار کا جوش و خروش کچھ ٹھنڈا پڑا اور انہیں ان دونوں کے ملنے سے مایوسی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم او ر ابوبکرؓ غار سے نکلے اوریثرب کا رخ کیا۔ راستے میں بھی بعض ایسے واقعات پیش آئے جو خطرے کے لحاظ سے واقعے سے کم نہ تھے جو غار میں پیش آ چکا تھا۔ ابوبکرؓ نے مدینہ سے نکلتے ہوئے پانچ ہزار درہم بھی ساتھ لے لیے تھے جو تجارت کے منافع میں سے ان ے پاس باقی بچ گئے تھے۔
مکمل تحریر >>

اسرا اور معراج کے موقع پر


اسراء کے موقع پر ابوبکرؓ نے جس قوت ایمانی کا ثبوت دیا وہ نہ صر ف حیر ت انگیز ہے بلکہ اس نے بہت سے مسلمانوں کو ٹھوکر کھانے سے بچا لیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مکہ سے بیان فرمایا کہ رات کو آپ خانہ کعبہ سے بیت المقدس لے جایا گیا اور وہاں آپؐ نے مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھی تو مشرکین نے آپ کا مذاق اڑانا شروع کیا اور کہنے لگے کہ مکہ سے شام تک کا فاصلہ ایک مہینے کا ہے یہ کس طرح ممکن ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت المقدس جائیں اورایک ہی رات میں دو مہینوں کی مسافت طے کر کے واپس آ جائیں۔ بعض مسلمانوں کے دلوں میں بھی تردد پیدا ہو گیا کہ انہوں نے جا کر ابوبکرؓ سے سارا واقعہ بیان کیا۔ یہ سن کر کہ ابوبکرؓ پر دہشت سی طاری ہو گئی ہے ور وہ کہنے لگے کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بہتان باندھتے ہو لوگوں نے کہا’‘ہم جھوت نہیں کہہ رہے آپ نے ابھی مسجد میں یہ بات بیان فرمای ہے‘‘یہ سن کر ابوبکرؓ نے کہا ’’اگر آپ نے واقعی یہ کہا ہے تو بالکل سچ کہا ہے جب اللہ آسمان سے چند لمحوں میں وحی نازل فرما دیتاہے تو اس کے لیے رات بھر میں مکہ سے بیت المقدس لے جانا اور واپس لے آنا کیا مشکل ہے‘‘۔ یہ کہہ کر وہ مسجد میں آئے۔ جب آپ مسجد اقصیٰ کا حال بیان کر کے فارغ ہوئے توا بوبکرؓ نے کہا ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ بالکل سچ فرماتے ہیں‘‘۔
اس وقت آپ ؐ نے ابوبکرؓ کو صدیق کا لقب عطا فرمایا۔
اگر ابوبکرؓبھی اسراء کے واقعے میں شک کا اظہار کرتے تو یقینا بہت سے مسلمان مرتد ہوجاتے اور جو لوگ اسلام پر قائم بھی رہتے ان کے دلوں میں بہرحال شکوک و شہبات گھر کر جائ۔ لیکن ابوبکرؓ کی قوت ایمانی نے نہ صرف لوگوں کو مرتد ہونے سے بچایا بلکہ ان کے دلوں کو بھی شکوک و شبہاب سے پاک کر دیا۔ یہ واقعات دیکھ کر بہر صور ت ماننا پڑے گا کہ ابوبکرؓ کے زریعے دین اسلام کو جو تقویت پہنچی وہ حضڑت حمزہؓ اور حضرت عمرؓ کے ذریعے سے بھی حاصل نہ ہو سکی۔ او ر یہی وجہ تھی کہ ان کی خدمت کا اعتراف کرتے ہوئے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ
لوکنت متخذا من العبداد خلیلا لا تخذت ابابکر خلیلا
’’یعنی اگر میں بندوںمیں سے کسی کو گہرا اور دلی دوست بناتا تو یقینا ابوبکرؓکو بناتا(گہرااوردلی دوست سوا خدا کے اور کوئی نہیں ہو سکتا)۔

اسراء کے بعد
اسراء کے واقعے کے بعد ابوبکرؓ ساراو قت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کمزور اور مظلوم مسلمانوں کی اعانت اور اسلام کی تبلیغ میں گزارنے لگے۔ تجارت صرف اسی حد تک کرتے جس سے اپنا اوراپنے اہل و اعیال کا گزارہ چلا سکیں۔ اس دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوبکرؓ اور دوسرے مسلمانوں پر قریش کے مظالم میں زیادتی ہی ہوتی چلی گئی …قریش نے ایذا رسانی میں کوئی دقیقہ نہ چھوڑا۔ یہ حالت دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو اجازت دے دی کہ اگر وہ چاہیں تو حبشہ کی طرف ہجرت کر جائیں ۔ چنانچہ متعدد مسلمان ان مظالم سے تنگ آ کر مکہ سے حبشہ کی طر ہجرت کر گئے لیکن ابوبکرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ چھوڑنا گوارانہ کیا۱؎۔ اور بدستور مکہ میں رہ کر تبلیغ کرنے مظلوموں کی مدد کرنے اورانہیں بے دینوں سے چھڑانے کے کام میں سرگرمی سے مصروف رہے اور مکہ میں اسلام پھیلانے کا فرض پوری خوبی اورتن دہی سے انجام دیتے رہے ۔
ایک روایت یہ ہے کہ ابوبکر ؓ بھی حبشہ کی جانب ہجرت کر نے کے ارادے سے روانہ ہوئے تھے۔ راستے میں مکہ کا ایک سردار ابن دعنہ انہیں ملا۔ جب اسے ان کے ارادے کا علم ہوا تو بولا آپ ہجرت نہ کریں آپ صلہ رحمی کرتے ہیں نہایت صادق القول ہیں محتاجوں کی مدد کرتے ہیں اوربیکسوں اور مظلوموں کا دکھ دورکرتے ہیںَ ۔ میں آپ کو پناہ دینا چاہتاہوں آپ واپس مکہ چلیے۔ چنانچہ وہ مکہ آ گئے۔ ابن دعنہ نے اپنے وعدے کے مطابق کعبہ میں اعلان کر دیا کہ میں نے ابوبکرؓکو پناہ دے دی ہے۔ قریش نے بھی اس پناہ کو قبو ل کر لیا۔ ابوبکرؓ نے اپنے گھر کے صحن میں ایک مسجد بنا رکھی تھی جہاں وہ نماز پڑھتے اور پر سوز لہجے میں قرآن مجید کی تلاوت کرتے تھے مشرکین کی عورتیں اور بچے تلاوت کی آواز سن کر ان کے گرد جمع ہو جاتے اوربڑے انہماک سے قرآن مجید سنتے رہتے تھے جب قریش نے یہ دیکھا توانہیں خدشہ پیدا ہو گیا کہ کہیں ان کی عورتیں اور بچے ابوبکرؓ کی تلاوت سن کر اسلام کااثر قبول نہ کر لیں ۔ انہوںنے ابن دعنہ سے شکایت کی جس پر اس نے اپنی پناہ واپس لے لی او ر ابوبکرؓ پھر کفار کے مظالم کا نشانہ بن گئے۔
ابوبکرؓ نے حسب معمول حضرت حمزہؓ حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ جیسے سربرآوردہ مسلمانوںسے مل کر کمزور مسلمانوں کو قریش کے مظالم سے محفوظ رکھا۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے اپنے وسیع اثر و رسوخ کے ذریعے سے کفار میں ایسے اشخاص سے بھی تعلق قائم کیا جو بتوں کو پوجنے اوراسلام کی مخالفت کرنے کے باوجو د قریش کی ان ایذ ا رسانیوں کو جو وہ غریب و بے کس مسلمانوں پر روا رکھتے تھے نفرت کی نگاہوں سے دیکھتے تھے۔ انہوں نے انہیں اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ اپنے بھائی بندوں کی ان انسانیت سوز حرکات پر برملا نفرت کا اظہار کریں گے اور انہیں ایسا کرنے سے روکیں۔
مکمل تحریر >>

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید و حمایت


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مرتبہ قریش میں بہت بلند تھا۔ آپ کا شمار قبیلے کے معز ز ترین افراد میں ہوتاتھا۔ علاوہ ازیں بنو ہاشم بھی آپ کی حمایت پر تھے لیکن ان باتوں کے باوجود آپ قریش کی ایذ ا رسانیوں سے بچ نہ سکے۔ یہی حال ابوبکرؓ کا بھی تھا۔ انہیں بھی شہر کا سربرآوردہ فرد ہونے کے باوجوود محض اسلام لانے کے جرم میں قریش کے مظالم کانشانہ بننا پڑتاتھا۔ لیکن اساس پر جب کبھی آپ نے دیکھا کہ قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تکلیفیں پہنچا رہے ہیں تو انہوں نے جان تک کی پرواہ نہ کرتی ہوئے اپنے آپ کو حضورؐ کے بچانے کے لیے پیش کر دیا۔
ابن ہشام اپنی سیرت میں لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قریش کے ہاتھوں سب سے زیادہ ترکلیف ا س وقت پہنچی جب بت پرستی کی مذمت میں آیات نازل ہوئیں۔ وہ لوگ خانہ کعبہ میں اکٹھے ہوئے اور ایک شخص دوسرے سے کہنے لگا کہ تم نے سن لیا محمد ہمارے بتوں کے متعلق کیا الفاظ کہتا ہے۔ یہ محض تمہاری کمزوری کی وجہ سے ہوا ہے۔ وہ تمہارے دین اور تمہارے بتوں کے متعلق جس قسم کے الفاظ چاہتا ہے کہتا ہے لیکن تم خاموش رہتے ہو۔ ابھی وہ یہ باتیں کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ادھرسے گزرے۔ جب انہوں نے آپ کو دیکھاتو ایک دم آپ پر چھپٹ پڑے اور کہنے لگے’’ تم ہمارے بتوں کے متعلق یہ الفاظ استعمال کرتے ہو ؟ ‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’بے شک میں نے یہی الفاظ کہے ہیں‘‘َ اس پر ایک آدمی نے آپ کی چادر چھین لی اور اسی سے آپ کا گلا گھونٹنے لگا ۔ اتنے میں ابوبکرؓ بھی ادھر سے گزرے انہو ں نے یہ دیکھ کر کفار کے نرغے سے آپؐ کو چھڑایا اور ان سے کہا’’کیا تم ایک شخص کو محض اس لیے قتل کر ڈالنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا ر ب اللہ ہے؟‘‘ راوی ذکر کرتاہے کہ یہ وہ دن تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کفارکے ہاتھوں سے سخت ترین تکلیف پہنچی۔
صرف اسی موقع پر نہیں بلکہ بعد میں بھی اکثر مواقع پر ابوبکرؓ نے خدا کی وحدانیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت پر ایمان کامل کا ثبوت دیا۔ ان کے اسی جذبہ ایمان کو دیکھ کر بعض مستشرقین کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت کا اعتراف کرنا پڑتاہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ابوبکرؓ کو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی قسم کے دنیاوی فائدے کی توقع نہ تھی۔ اس کے برعکس وہ شب و روز یہ دیکھتے تھے کہ مکہ والے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوہر قسم کی تکلیفیں دیتے آپ کا مذاق اڑاتے اور آپ کے ماننے والوں کو تنگ کرتے ہیں۔ اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دعوے میں جھوٹے ہوتے تو ابوبکرؓ جیسے عقل مند اور مدبر شخص کو آپ ؐ پر ایمان لانے آپؐ کے دعوے کی تصدیق کرنے آپؐ کی ہر طرح کی مد د کرنے اور قریش میں خود اپنی پوزیشن خراب کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ وہ محض اپنی عقل و فراست کے بل بوتے پر اپنے اندر وہ ایمان پیدا نہ کر سکتے تھے کہ جو انسان کوتمام خطرات سے بے پروا کر کے اس میں شدید تڑپ اور دھن پیدا کرتا ہے جس ایمان کا مظاہرہ ابوبکرؓ نے کیا اور جس طرح انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہر قول و فعل کی تصدیق کی وہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ اسلام یقینا خدا ک یطرف سے ہے کیونکہ ایک باطل مذہب اور ایک جھوٹا شخص کبھی اپنے ماننے والوں کے دلو ں میں ایسا ایمان پیدا نہیں کر سکتا۔

خادم اولین
بے شک حضرت حمزہ بن عبدالمطلبؓ اور حضرت عمر بن خطابؓ نے بھی اسلام کی سربلندی اور اس کی اشاعت کے لیے زبردست کوشش کی اوران کے ذریعے سے دین کو بے حد تقویت پہنچی۔ لیکن اس کے باوجود ہمیں یہ کہنے میں ذرا تامل نہیں کہ ابوبکرؓہی وہ شخص تھے جنہیں اللہ نے سب سے پہلے اپنے دین کی خدمت کے لیے چنا۔ دین اسلام اور اللہ کے رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس نیک نفس اور انتہائی رقیق القلب شخص کے دل میں وہ قوت ایمانی پید اکر دی تھی کہ جس کا پید اکرنا دنیا میں کسی بھی طاقت کے بس میں نہ تھا۔ اور ایک ابوبکرؓ کی مثال سے معلوم ہو جاتا ہے کہ قوت ایمانی اپنے اندر کتنا زبردست اثر رکھتی ہے۔

غربا ء اور مساکین اور مظلوموں کی امداد
ابوبکرؓ نے اپنے دوستوں اور ملنے جلنے والوں کو تبلیغ کرنے اور ان بیکس و مظلوم مسلمانوں سے ہمدردی کرنے پر ہی اکتفانہ کیا جو قریش مکہ کے ہاتھوں محض اسلام لانے کی وجہ سے سخت مظالم برداشت کر رہے تھے بلکہ انہوں نے اپنا مال بھی ان غریب لوگوں پر دل کھول کر خرچ کیا جنہیں اللہ نے اسلام کی جانب رہنمائی کی تھی اور دشمنان حق نے انہیں تکالیف پہنچانے اور ان پر نت نئے مظالم توڑنے میں کوی کسر اٹھا نہ رکی تھی۔ جس روز وہ اسلام لائے ا ن کے پاس چالیس ہزار درہم موجود تھے۔ تجارت کاسلسلہ انہوں نے اسلام لانے کے بعد بھی جاری رکھا اور اس سے وافر نفع حاصل کیا لیکن اس کے باوجود جب دس سال بعد ہجرت کا وقع پیش ایا تو ان کے پاس صرف پانچ ہزار درہم باقی تھے۔ اس دوران میں انہوں نے جو کچھ کمایا اور جو کچھ پہیل پس انداز کر رکھا تھا وہ سب کا سب اللہ کی راہ میں اسلام کی تبلیغ اور ان کے غلاموں کو آزاد کرانے میں خرچ کر دیا جو محض اسلام لانے کے جرم میں اپنے بے دین آقائوں کے ہاتھوں ہولناک سختیاں برداشت کر رہے تھے۔
ایک روز انہوں نے بلال کو دیکھاکہ ان کے آقا نے انہیں دوپہر کے وقت شدید دھوپ میں تپتی ریت پر لٹا یا اورا ن کے سینے پر پتھر رھ کر کہا کہ اسلام چھوڑ دینے کا اعلان کرو ورنہ اسی طرح مار ڈالوں گا۔ یہ دردناک منظردیکھ کر ابوبکرؓ نے انہیں ان کے آقا سے خرید کر آزاد کر دیا۔ا ااسی طرح ایک اور غلام عامر بن فہیرہ کو مسلمان ہونے کی وجہ سے سخت تکلیفیں پہنچائی گئیں۔ ابوبکرؓنے انہیں بھی خریدکر اپنی بکریوں کی نگہداشت اور چرانے کا کام سپر د کر دیا اسی طرح انہوں نے اور بھی بیسیوں غلام خرید کر انہیں اللہ کی راہ میں آزاد کیا۔
مکمل تحریر >>

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق اور قبولِ اسلام


ابوبکر ؓ کاقیام مکہ کے اس محلے میں تھا جہاں حضرت خدیجہؓ بنت خویلد اور دوسرے بڑے بڑے تاجر سکونت پذیر تھے۔ اور جن کی تجارت یمن و شام تک پھیلی ہوئی تھی۔ اسی محؒے میں رہنے کے باعث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کا رابطہ پیدا ہو گیا اوردونوں ایک دوسرے کے گہرے دوست بن گئے۔ یہ اس زمانے کی با ہے کہ جب آپ حضرت خدیجہؓ سے شادی کرنے کے بعد انہیں کے گھر منتقل ہو گئے تھے۔
ابوبکرؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دو سال چند ماہ چھوٹے تھے۔ گمان غالب ہے کہ یہ ہم عمری میں پیشے میں اشتراک‘ طبیعتوں میں یک جہتی قریش کے عقائد فاسدہ سے نفرت اور بری عادتوں سے اجتناب ان تمام باتوں نے دونوں کی دوستی کو پروان چڑھانے میں بہت مدد دی۔ مورخین اور راویوں میں دونوں کی دوستی کے متعلق بھی اختلاف ہے۔ بعض تو یہ لکھتے ہیں کہ بعثت سے پہلے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ابوبکرؓ کی گہری دوستی ہو چکی تھی اور یہی دوستی یک جہتی ان کے سب سے پہلے اسلا م لانے کا محرک ہوئی۔ لیکن بعض مورخین کا خیال یہ کہ دونوں کے تعلقات میں استواری اسلام کے بعد ہوئی‘ اسلام سے پہلے دونوں کے تعلقات صرف ہمسائیگی اور ذہنی میلانات و رجحانات میں یکسانی تک محدود تھے۔ اس کی دلیل وہ یہ دیتے ہیں کہ بعثت سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عزلت اور گوشہ نشینی پسند کرتے تھے اور انہوں نے کئی سال سے لوگوں سے ملنا جلنا ترک کر رکھا تھا۔
جب اللہ نے آپ کو رسالت کے شرف سے مشرف کیا تو خیال آیا کہ ابوبکرؓ کو اللہ نے عقل و خرد سے حصہ وافر دے رکھا ہے اس لیے سب سے پہلے انہیں اسلام کی تبلیغ کرنی چاہیے۔ چنانچہ آپ ان کے پاس گئے اور انہیں اللہ کی طرف بلایا جس پر ابوبکرؓ نے کسی تردد کا اظہار نہ کیا اور ایک لمحے کے توقف کے بغیر ایمان لے آئے۔ اس وقت سے دونوں کے درمیان تعلقات کا آغاز ہوا اور ان تعلقات میں روز بروز استواری پیدا ہو تی چلی گئی۔ ابوبکرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و الفت میں اپنے آپ کو سرتاپا غرق کردیا اورایمان کا وہ نمونہ پیش کیاجس کی نظیر رہتی دنیا تک نہ پیش کی جا سکے گی۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ جب میں نے ہوش سنبھالا تو اپنے والدین کودین اسلام کی محبت میں ترقی کرتے ہوئے دیکھا۔ کوئی دن ایسا نہ تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے گھر صبح و شام تشریف نہ لاتے ہوں۔
آغاز اسلام سے ہی ابوبکرؓ اپنے اندردین حق کی اشاعت و ترویج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امداد و اعانت کا غیر معمولی جذبہ رکھتے تھے۔ اور ہر وقت نہایت اخلاص سے اس میں مشغول رہتے تھے۔ چونکہ ابوبکرؓ عوام و خواص میںبہت ہر دل عزیز تھے اور لوگوں کے دلوں میں ان کی بے حد عزت و عقیدت تھی اس لیے بہت جلد متعدد اشخاص ان کی تبلیغ سے اسلام لے آئے۔ عثمان بن عفانؓ‘ عبدالرحمن بن عوفؓ‘ طلحہؓ بن عبیداللہ‘ سعیدؓ بن ابی وقاص اور زبیرؓ بن عوام جواولین صحابہؓ میں سے ہیں ابوبکرؓ ہی کی کوششوںسے اسلام لائے تھے۔ بعد میں بھی ابوعبیدہ بن جراحؓ ۱؎ اور اکثر دوسرے لوگ ان کی تبلیغ کے نتیجے میں مسلمان ہوئے۔

بلا تردد قبول اسلام کا سبب
ابوبکرؓ کے اسلام لانے کا واقعہ پڑھتے ہی طبعاً دل میں خیال آتاہے کہ یہ بڑی ہی حیرت انگیز بات ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کرتے وقت کسی ہچکچاہٹ اور تردد کا اظہار نہ کیا اورجونہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ا ن کے سامنے اسلام پیش کیا تو انہوں نے فوراً بے پش و پیش اسے قبول کر لیا اور چنانچہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
’’میں نے جس کسی کو اسلام کی طرف بلایا اس نے کچھ نہ کچھ تردد اور ہچکچاہٹ کا اظہار کیا سوا ابوبکرؓبن ابی قحافہ کے۔ جب میں نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے بغیر کسی تامل کے فوراً میری آواز پر لبیک کہا‘‘۔
صرف یہی امر تعجب انگیز نہیں کہ ابوبکرؓ نے توحید کی دعوت سنتے ہی اس امر پر لبیک کہا بلکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غار حرا میں فرشتے کے نزول اوروحی اترنے کا واقعہ انہیں سنایا تو بھی انہوںنے خفیف ترین شک کا بھی اظہار نہ کیا اوربے پس و پیش آپ کی تمام باتوں کا یقین کر لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ابوبکرؓ مکہ کے ان عقل مند انسانوں میں سے تھے جو ایک طرف بتوں کی عبادت کو حماقت سے تعبیر کرتے تھے ۔ اور دوسری طرف دل و جان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت‘ امانت ‘ نیکی اور پاک بازی کے قائل تھے۔ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتیں سنیں تو کوئی شک دل میں لائے بغیر وہ فوراً آپ پر ایمان لے آئے کیونکہ انہیں نہ صرف آپ کی صداقت پر کامل یقین تھا بلکہ آپ کی پیش کردہ تمام باتیں بھی سراسر حکمت پر مبنی نظر آتی تھیں اور وہ انہیںعقل و فکر کے تقاضوں پر پورا اترتے دیکھتے تھے۔
یہ سب کے سب بلند پایہ صحابیؓ اور عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ ابوبکرؓ نے جن لوگوں کو مسلمان کیا وہ تمام اپنے ایمان و اخلاص میں بے نظیر ثابت ہوئے ۔

جرات ایمانی
ہمارے نزدک ان کے بلا توقف اور بلا تردد اسلام قبول کرنے سے بھی زیادہ تعجب انگیز امر ان کی وہ بے نظیر جرات ہے جو اسلام قبو ل کرتے ہی انہوں نے اس کی اشاعت کے سلسلے میںدکھائی۔ وہ نہ صرف دل و جان سے توحید و رسالت پر ایمان لائے بلکہ علانیہ ان باتوں کی تبلیغ بھی شرو ع کر دی۔ اور اس بات کا مطلق خیال نہ رہا کہ ا س طرح آئندہ چل کر ان کے لیے کتنے خطرات پیدا ہوں گے۔ ان کا شمار مکہ کے معززتاجروں میں ہوتاتھا اورایک تاجر کے لیے ضروری ہے کہ وہ لوگوں سے گہرے دوستانہ و روادارانہ تعلقات رکھے اور ان باتوں کے اظہار سے احتراز کرے کہ جو عوا م کے مروجہ عقائد واعمال کے خلاف ہوں مبادا ا س کی تجارت پر برااثر پڑے ۔ دنیامیں اس قسم کے مظاہر عام طورپر نظر آتے ہیں کہ اکثر لوگ عامتہ الناس کے عقائد و خیالات پر اعتقاد نہ رکھنے کے باوجود نہ صرف اپنے فائدے‘ مصلحت یا عافیت کی خاطر منہ میں گھگیاں ڈانے خامو ش بیٹھے رہتے ہیں بلکہ بسا اوقات اپنے ذاتی خیالات کے برعکس عوام کی انہی باتوں کی تائید کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جنہیں وہ اپنے دل میں غلط فضول اور لا یعنی سمجھے ہیں۔
عام لوگوں ہی کا یہ حال نہیں بلکہ وہ لوگ بھی جنہیں قوم کی قیادت کا دعویٰ ہوتاہے۔ اور جو اس کے لیے راہ عمل متعین کرنے کے مدعی ہوتے ہیں بالعموم رائے عامہ کی کھل کھلا مخالفت کرنے کی جرات نہیں کر سکتے۔ لیکن ابوبکرؓ نے اسلام قبول کرنے کے بعد پہلے ہ دن سے جو عظیم الشان نمونہ دکھایا ہے وہ نظیر نہیں رکھتا اگر وہ خفیہ طورپرصرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق پر اکتفا کرتے تو اورتجارت میں نقصان کے ڈ رسے اسلام کو مخفی رکھتے تو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شاید کوئی اعتراض نہ ہوتا۔ اورآپ ان کی طرف سے محض اسلام کے اظہار ہی کو کافی سمجھتے لیکن ابوبکر ؓ نے ایسا نہ کیا۔ وہ علانیہ اسلام لائے اور معاً بعد اپنی ساری زندگی اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر دی ۔ انہوں نے نہ اپنی تجارت کا خیال کیا اورنہ کفار مکہ کی مخالفت او ایذا رسانی کا بلکہ بڑے انہماک سے تبلیغ دین میں مشغول ہو گئے۔ ایسا جرات مندانہ اقدام صرف وہی شخص کرسکتا ہے کہ جسے دین کے راستے میںنہ جان کی پروا ہو نہ مال کی اور جو مال و منال اور دنیوی وجاہت و عزت کو دین کی خدمت میں اس کی تبلیغ و اشاعت کے مقابلے میں بالکل ہیچ سمجھتا ہو۔
مکمل تحریر >>

حضرت ابو بکر صدیق - ابتدائی حالات


حضرت ابوبکرؓ قبیلہ تیم بن مرہ بن کعب سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا نسب آٹھویں پشت پرمرہ پر جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مل جاتاہے تفصیل یہ ہے:
کلاب…قصعی…عبدمناف…ہاشم…عبدالمطلب…عبداللہ…محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
مرہ
تیم…سعد…کعب…عمرو…عامر…عثمان ابوقافہ…ابوبکرصدیقؓ
مکہ میں بسنے والے تمام قبائل کو کعبہ کے مناصب میں سے کوئی نہ کوئی منصب ضرور سپرد ہوتاتھا۔ بنو عبد مناف کے سپر حاجیوں کے لیے پانی بہم رسای اورانہیں آسائش پہنچانے کے انتظامات موجودتھے۔ بنع عبدالدار کے ذمے جنگ کے وقت علم برداری کعبہ کی دربانی اور دارالندوہ کا انتظام تھا۔ لشکروں کی سپہ سالاری خالد بن ولید کیاجداد بنو مخزوم کے حصے میں آء تھی۔ خوں بہا اور دیتیں اکٹھا کرنا بنو تیم بن مرہ کا کام تھا جب ابوبکرؓجوان ہوئے تو یہ خدمت ان کے سپرد کی گئی۔ خوں بہا اور دیتوں کے تمام مقدمات ان کے سامنے پیش ہوتے تھے اورجو فیصلہ وہ کرتے تھے اسے قریش کو منظور کرنا ہوتا تھا۔ خون بہا کے متعلق تمام اموال بھی ان کے پاس جع ہوتے تھے۔ اگر ان کے سوا کسی اور شخص کے پاس جمع ہوتے تھے تو قریش اسے تسلیم نہ کر تے تھے۔
بنو تیم کے جو اوصاف کتابوں میں بیان ہوئے ہیں وہ دوسرے قبائل سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ ان میں کوئی ایسا وصف مخصوص نہ پایاجاتا تھا جو انہیں ان کے ہم عصر دوسرے قبائل سے متاز کر سکے ۔ شجاعت سخاوت مروت‘ بہادری اورہمسایوں کی حمایت و حفاظت کی جو صفات دوسرے قبائل عرب میں موجود تھیں وہی بنوتیم میں بھی موجود تھیں۔

نام ‘ لقب اور کنیت
حضر ت صدیقؓ کا نام عبداللہ تھا اور کنیت ابوبکرؓ والد کی کنیت ابوقحافہ تھی اورنام عثمان بن عامر۔ والدہ کی کنیت ام الخیر تھی اور نام سلمیٰ بنت صخر بن عامر۔ بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ اسلام لانے سے قبل ابوبکرؓ کا نام عبدالکعبہ تھا لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ مشر کانہ نام تبدیل کر کے عبداللہ رکھ دیا۔ بعض روایات کے مطابق انہیں عتیق بھی کہتے تھے وجہ یہ تھی کہ آپ کے والدہ کے لڑکے زندہ نہ رہتے تھے۔ انہوںنے نذر مانی کہ اگر ان کے لڑکا پیدا ہوا اور زندہ رہا تو وہ اس کا نام عبدالکعبہ رکھیں گی اوراسے کعبہ کی خدمت کے لیے وقف کر دیں گی۔ چنانچہ جب ابوبکرؓ پیدا ہوئے تو انہوںنے نذر کے مطابق ان کا نام عبدالکعبہ رکھا۔ جوان ہونے پروہ عتیق(آزاد کردہ غلام) کے نام سے موسوم کیے جانے لگے کیونکہ انہوںںے موت سے رہائی پائی تھی۔ بعض راویوں کا کہنا ہے کہ عتیق کے لقب انہیں نہایت سرخ و سفید ہونے کے باعث دیا گیا۔ اوررویات میںآتا ہے کہ ان کی بیٹی حضرت عائشہ صدیقہؓ سے بعض لوگوں نے پوچھا کہ ان کے والد کو عتیق کیوں کہا جاتا ہے تو انہوںنے فرمایا:
’’ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا ھذا عتیق اللہ من النار (اللہ کا یہ بندہ آگ سے آزادہ شدہ ہے)۔‘‘
یہ روایت بھی اس طرح بھی آئی ہے کہ ایک مرتبہ ابوبکرؓ چند لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہیں دیھک کر آپ نے فرمایا:
’’جو چاہتا ہو کہ آگ سے آزاد شدہ بندہ دیکھے وہ ابوبکر کو دیکھ لے۔ ابوبکرؓ ان کی کنیت تھی اور عمر بھر اپنی کنیت ہی سے موسوم کیے جاتے رہے۔ لیکن اس کنیت کا حقیقی سبب معلوم نہ ہو سکا۔ بعد میں آنے واے مورخین کہتے ہیں یہ کنیت اس لیے پڑی کہ آپ سب سے پہلے اسلام لائے
انہ بکر الی الاسلام قبل غیرہ

بچپن او ر جوانی
بچپن کا زمانہ انہوںنے ااپنے دوسرے ہم سن بچوں کے ساتھ مکہ کی گلیوں میں کھیلتے گزارا۔ جو ان ہونے پر ان کی شادی قتیلہ بنت عبدالعزیٰ سے ہوئی۔ ان سے عبداللہ اور اسماء پیدا ہوئے۔ اسماء کا لقب بعد میں ذات النطاقین قرار پایا۔ قتیلہ کے بعد انہوںنے ام رومان بنت عامر بن عویمر سے شادی ی ان سے عبدالرحمن اور عائشہؓ پیدا ہوئے۔ اس کے بعد مدینہ آ کر پہلے انہوںنے حبیبہ بنت خارجہ سیشادی کی پھر اسماء بنت عمیس سے اسماء کے بطن سے محمد پیدا ہوئے۔
مورخین نے اس کنیت سے مشہور ہونے کی ایک اور وجہ بھی لکھی ہے کہ عربی میں بکر جوان اونت کو کہتے ہیں ۔ چونکہ انہیں اونٹوں کی غور و پرداخت سے بہت دلچسپی تھی اوران کے علاج و معالجے میں بہت واقفیت رھتے تھے اس لیے لوگوں نے انہیں ابوبکرؓ کہنا شروع کر دیا جس کے معنی ہیں اونٹوں کا باپ .

پیشہ ‘ حلیہ اور اخلاق و عادات
قریش کی ساری قوم تجارت پیشہ تھی او راس کا ہر فرد اسی شغل میں مشغول تھا چنانچہ ابوبکرؓ بھی بڑے ہو کر کپڑے کی تجارت شروع کر دی جس میں انہیں غیر معمولی فروغ حاصل ہوا اور آپ کا شمار بہت جلد ملکے کے نہایت کامیاب تاجروں میں ہونے لگا۔ تجارت کی کامیابی میں ان کی جاذب نظر شخصیت اور بے نظیر اخلاق کو بھی بڑا خاصا دخل تھا۔
ان کارنگ سفید بدن دبلا داڑھی خشخاشی‘ چہرہ شگفتہ‘ آنکھیں روشن اور پیشانی فراخ تھی وہ بہترین اخلاق کے مالک‘ رحم دل اور نرم خو تھے ہوش و خرد عاقبت اندیشی اور بلندی فکر و نظر کے لحاظ سے مکہ کے بہت کم لوگ ان کے ہم پلہ تھے۔ عقل و خرد جہاں انسان کے قلب و نظر کو جلا بخشتی ہے وہاں بسا اوقات بے راہ روی کا موجب بھی ہو جاتی ہے۔ لیکن اللہ کی طرف سے ابوبکرؓ کو قلب سلیم ودیعت ہوا تھا۔ اسی لیے وہ اپنی قوم کے اکثر گمراہ کن اعتقادات اور اسلام دونو ں زمانوں میں شراب کا قطرہ تک نہ چکھا اور حالانکہ اہل مکہ راب کے عادی ہیں نہیں بلکہ عاشق تھے۔ ابن ہشام اپنی سیرت میں ان کے اخلاق کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ابوبکر! اپنی قوم میں بہت ہر دل عزیز تھے علم الانساب کے بہت بڑے ماہر تھے۔ قریش مکہ کے تمام خاندان کے نسب انہیں ازبر یاد تھے اورہر قبیلے کے عیوب ونقائص اور محامد و فضائل سے بخوبی واقف تھے۔ اس وصف میں قریش کا کوئی فرد ان کا مقابلہ نہ کر سکتاتھا۔ وہ خلیق‘ ایمان دار اور ملنسار تاجر تھے۔ قوم کے تمام لوگ ان کے اعلیٰ اخلاق اور عمدہ برتائو کے معترف تھے اور انہیں فضائل کے باعث ان سے بے حد محبت کرتے تھے‘‘۔
مکمل تحریر >>

سلسلہ تاریخِ اسلام - مصادر و ماخذ


تاریخ اسلام درحقیقت ایک مستقل علم یا فن ہے جو اپنے پہلو میں ہزار ہا ضخیم کتابیں بالغ نظر اور عالی مقام مصنفین کی لکھی ہوئی رکھتا ہے،عام طور پر مسلمان مؤرخین نے اپنے ہم عہد سلاطین یا کسی ایک ملک یا کسی ایک قوم یا کسی ایک سلطنت یا کسی ایک سلطان یا کسی ایک عظیم الشان واقعہ کی تاریخیں جُدا جُدا لکھی ہیں، بعض مؤرخین نے صرف علمائے اسلام،بعض نے صرف حکمائے اسلام بعض نے صرف فقرائے اسلام کی سوانح عمریاں ترتیب دی ہیں، غرض اس قسم کی مستند تاریخی کتابیں ہزارہا سے کم ہر گز نہیں ہیں، اس عظیم الشان ذخیرہ اور مجموعہ کا نام تاریخ اسلام یا فن تاریخ اسلام قرار دیا جاسکتا ہے اور جوں جوں زمانہ گذرتا جاتا ہے اس ذخیرہ کتب میں اضافہ ہوتا جاتا ہے،اسلامی سلطنتوں اوراسلامی ملکوں کی تعداد بھی اس قدر زیادہ ہے کہ اگر ایک ایک اسلامی ملک اورایک ایک اسلامی سلطنت کی ایک ہی ایک تاریخ انتخاب کی جائے تو یہ منتخب مجموعہ بھی دوچار الماریوں میں نہیں ؛بلکہ کتب خانہ کے کئی کمروں میں سما سکتا ہے ،اُردو زبان میں ایک متوسط درجہ کی تاریخ مرتب کرنا درحقیقت تاریخ اسلام کی کتابوں کا عطر نکالنا اورخلاصہ درخلاصہ کرنا ہے،کسی بہت بڑے منظر کا فوٹو ایک کار ڈ پر لے لینا یا کسی عظیم الشان عمارت کی عکسی تصویر کو دانۂ تسبیح کے سوراخ میں رکھ دینا بہت ہی آسان کام ہے لیکن تاریخ اسلام کو کسی ایک کتاب میں جس کی ضخامت صرف دو ہزار صفحات کے قریب ہو مختصر کردینا بے حد دشوار ارنہایت مشکل کام ہے.
سوشل میڈیا کی دنیا انتہائی فاسٹ دنیا ہے، عام سائٹس یوذر کی طرح یہاں لمبی تحاریر سے پڑھنے کا رجحان نہیں ہے ، یوذر کسی بھی پوسٹ کو ذیادہ سے ذیادہ پندرہ بیس سیکنڈ دیتے ہیں ، تحریر بہت اچھی ہو تو ایک دو منٹ دے دیتے ہیں، اسی ٹرینڈ کو دیکھتے ہوئے ہماری شروع سے روٹین یہی رہی کہ بلاوجہ کی تفصیلات سے بچا جائے اور اتنی بات کی جائے جس سے موضوع تشنہ نا رہے، ہمارے اس تاریخی سلسلہ کا بنیادی ماخذ اسی ترتیب کے مطابق تاریخ اسلام از مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی ہے، یہ اردو زبان میں تاریخ اسلام پر مستند و مشہور اور جامع ترین کتاب ہے، مصنف نے یہ کتاب کس طرح ترتیب دی کتاب سے اقتباس پیش ہیں ۔ لکھتے ہیں :
"جہاں تک واقعات کا تعلق ہے میں نے اس واقعہ اوراس زمانہ کی مستند سے مستند تاریخ کو تلاش کیا اور کئی کئی مؤرخین کی تاریخوں کو لے کر اُن کو پڑھ کر خود اُس واقعہ کی نسبت ایک صحیح اورپختہ رائے قائم کی اُس کے بعد پھر اپنے الفاظ میں اُس کو حتی الامکان مختصر طور پر لکھا ،جہاں کہیں مؤرخین کے اختلاف نے ایسی صورت اختیار کی کہ فیصلہ کرنا اورکسی ایک نتیجہ کو مرحج قراردینا دُشوار معلوم ہوا وہاں ہر مؤرخ کے الفاظ کو بجنسہ معہ حوالہ ترجمہ کردیا ہے ،جہاں کہیں استخراج نتائج اوراظہار رائے کی ضرورت محسوس ہوئی وہاں بلا تکلف میں نے اپنی رائے کا اظہار اوراہم نتائج کی طرف بھی اشارہ کردیا ہے۔۔صحابہ کرامؓ اور مابعد زمانہ کے اسی قسم کے مشاہیر کی نسبت جن کو کسی نہ کسی اسلامی فرقہ یا گرو سے کوئی خصوصی تعلق ہے حالات لکھنے میں میں نے کوشش کی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ایسی تفصیلات سے پرہیز کروں جو مسلمانوں کے اندر نا اتفاقی پیدا کرنے یا جمعیتِ اسلامی کو نقصان پہنچانے کا موجب ہوسکیں، لیکن اس احتیاط کو میں نے اس قدر زیادہ اہمیت ہر گز نہیں دی ہے کہ میری کتاب کی تاریخی حیثیت اورمیری مؤرخانہ شان کو کوئی صدمہ پہنچ سکے ۔"
آنحضرت صلی اللہ علیہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حالات میں میں نے سب سے زیادہ صحاح ستہ سے فائدہ اُٹھانا ضروری سمجھا ہے اور حدیث کی کتابوں کو تاریخ کی کتابوں پر ترجیح دی ہے ،تاریخ کی کتابوں میں تاریخ طبری، تاریخ الکامل ابن اثیر، تاریخ مسعودی،تاریخ ابو الضا،تاریخ ابن خلدون، تاریخ الخلفا سیوطی وغیرہ کا مابہ الاشتراک نکال کر درج کردیا ہے اوراسی ترکیب سے تاریخ کا بہترین خلاصہ درج کیا ہے،خلافت عباسیہ کے ضعف وانحطاط کا زمانہ شروع ہونے پر جس جس ملک میں اسلامی سلطنتیں قائم ہوئیں اُن سب کے حالات عموماً جُدا جُدا اورہم عہد مورخین کی کتابوں سے لئے ہیں، کہیں کہیں میں نے عیسائی مورخین کے حوالے بھی دئے ہیں اوران کی عبارتیں بھی نقل کردی ہیں لیکن وہ محض اثبات مدعا اور گواہ کے طور پر، عام طور پر میرا عقیدہ یہ ہے کہ عیسائیوں کی لکھی ہوئی تاریخیں مسلمان مورخین کی تاریخوں کے مقابل میں بہت ہی ادنیٰ درجہ کی ہیں اورہم کو اپنی تسکین قلب اور تحقیقِ حقیقت کے لئے اُن کی طرف ہرگز متوجہ نہیں ہونا چاہیے۔"(تاریخ اسلام)
اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ کسی واقعے ،شخصیت کے ہر پہلو کی تفصیل کے لیے اک کتاب یا رائٹر کافی نہیں ہوتا، پھر موضوع چونکہ تاریخ ہے اس لیے ایک رائٹر کے لیے تمام روایات کولکھنا، درج کرنا ممکن بھی نہیں ہوتا ، بعض اوقات ایک ہی واقعہ کے متعلق ذیادہ مضبوط روایات موجود ہوتی ہیں اور اس واقعہ کی تحقیق دوسرے مصنفین نے ذیادہ اچھی پیش کی ہوتی ہے' ہم اس کتاب کے ساتھ ساتھ مختلف واقعات کی صحیح تشریح تفصیل کے لیے مخصوص شخصیات کی سیرت کے حوالے سے لکھی گئی مشہور و مستند کتابوں سے بھی استفادہ کریں گے۔ خلفائے راشدین کے سلسلے میں ہمارے پیش نظر خلفائے راشدین از مولانا ادریس کاندھلوی، حیات ابوبکر از محمد حسین ہیکل، فاروق اعظم از مولانا شبلی نعمانی ، سیرت علی از مولانا ابوالحسن علی ندوی و مولانا نافع وغیرہ ہیں، ان کتابوں کے علاوہ بھی متنازعہ واقعات کے بیان میں ہماری کوشش یہ ہوگی کہ ہر اچھی تحقیق سے استفادہ کیا جائے۔

تاریخ اسلام سے آگاہی کے اس سلسلے میں اپنے دوست احباب کو بھی شامل کیجیے اور اس تحریر کو اپنے سوشل میڈیا حلقے میں شئیر کیجیے اور پیج کو بھی اپنی وال سے متعارف کروائیے۔
page : https://www.facebook.com/IslamicHistory2
مکمل تحریر >>

تاریخِ اسلام کا اجمالی خاکہ




خلافتِ راشدہ(ربیع الاول ۱۱ھ تا ربیع الاول ۴۱ ھ۳۰ سال):
دورِ صدیقی(ربیع الاول ۱۱ ھ تا ۲۲ جمادی الثانیہ ۱۳ھ)
دورِ فاروقی(۲۳ جمادی الثانیہ ۱۳ ھ تا یکم محرم ۲۴ ھ)
دورِ عثمانی(۲ محرم ۲۴ ھ تا ۱۸ ذی الحجہ ۳۵ ھ)
دورِ علوی(۱۹ ذو الحجہ ۳۵ ھ تا ۲۰ رمضان ۴۰ ھ)
دورِ حسن(رمضان ۴۰ھ تا ربیع الاول ۴۱ ھ)

دورِ صدیقی (ربیع الاول ۱۱ ھ تا ۲۲ جمادی الثانیہ ۱۳ھ):
خلافتِ - تعریف و تفصیل
اہم کارنامے:
لشکرِ اسامہ کی روانگی
ارتداد کی جنگیں
مانعین زکوۃ سے جہاد
جھوٹے مدعیان نبوت سے جنگیں
روم اور فارس سے معرکوں کا آغاز:
۱)جنگ ذات السلاسل
۲)فتح حیرہ
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا سفر شام
جنگ اجنادین
وفاتِ ابوبکر (۲۲ جمادی الثانیہ ۱۳ ھ)
شخصیت وکرداروفضائل
علمی کارنامے:
جمع قرآن

دورِ فاروقی(۲۳ جمادی الثانیہ ۱۳ ھ تا یکم محرم ۲۴ ھ)
اہم کارنامے:
جہادِشام:
جنگ یرموک
فتح دمشق (محرم۱۴ھ)
فتح القدس (رجب ۱۶ھ)
جہادِفارس:
جنگِ جسر(شعبان ۱۳ھ)
جنگ بویب (رمضان
جنگ قادسیہ (۱۴ھ)
فتح مدائن:
جنگ جلولاء( ۱۶ھ)
جنگ نہاونداورایران پرعام حملہ( ۲۱ھ)
فتح مصر:
قحط اورطاعون کاسامنا:
فتوحاتِ فاروقی پرعام نظر
اوّلیاتِ فاروقی
اصلاحات فاروقی
قاتلانہ حملہ۲۷ذوالحجہ ۲۳ھ
شخصیت وکردار

:دورِ عثمانی(۴محرم ۲۴ ھ تا ۱۸ ذی الحجہ ۳۵ ھ)
فتوحات دورعثمانی:
1۔آرمینیا
2۔ایشیائے کوچک
3۔ جنگ طرابلس اورقتل جریر ۲۷ھ
4۔پہلاغزوۂ اندلس ۲۷ھ
5۔ فتح قبرص
6۔ ایران ،فارس طبرستان اورخراسان
7۔ جنوبی افغانستان وبلوچستان(سیستان)
آغازِ فتن:
یہودکی سازش اورمنافقین کاکردار
عبداللہ بن ابی سے عبداللہ بن سباتک
اکابرصحابہ کرام کی کردارکشی کی مہم
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پرجھوٹے الزامات اوران کےجوابات
مدینہ منورہ پربلوائیوں کاقبضہ ۳۵ھ
شہادت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۱۸ذو الحجہ ۳۵ھ
شخصیت وکردار
کارنامے

۴)دورِ علوی (۱۹ذو الحجہ ۳۵تا۲۰رمضان ۴۰ھ):
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا اورامیرمعاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کامطالبہ
غلط فہمیاں کیسے پھیلیں؟
ام المومنین رضی اللہ عنہا کی بصرہ روانگی( صفر ۳۶ھ)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کوفہ روانگی(ربیع الاول ۳۶ھ)
جنگِ جمل اورعبداللہ بن سباکی سازش:
جنگ صفین ( ۳۷ھ):
جنگ کے محرکات واسباب
تحکیم کامسئلہ دومۃ الجندل
خارجیوں کاظہور
جنگ نہروان کوفہ بصرہ کے قریب
سبائیوں اورخارجیوں کی خفیہ مشاورت
اکابر(امیر معاویہ، عمرو بن العاص اور حضرت علی )پرقاتلانہ حملے:
شہادت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۲۰رمضان ۴۰ھ
خلافت علوی پرتبصرہ :
شخصیت وکردار :
مقام صحابہ:
صحابہ کرام کے مشاجرات کے بارے میں صحیح طرزفکر


ٔموی دور کی ابتداء:
۱)دور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ(ربیع الاول ۴۱ ھ تا رجب ۶۰ ھ)
خصائل وفضائل حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ
صحابہ کرام میں طویل ترین حکمرانی اور سیاسی تدبر کی انتہا:
فتوحات:
بغاوت کابل کا استیصال ۴۳ ھ
ھلمند، قندھار
سندھ، بلوچستان، قلات، مکران
درۂ خیبر سے پہلا حملہ: (۴۴ ھ مہلب بن ابی صفرہ کی قیادت میں)
فتح ترکستان ۵۴ ھ ,بخارا،سمرقند،ترمذ
شمالی افریقہ میں عقبہ بن نافع کی فتوحات ۴۲اور۴۶ھ
قسطنطینیہ پرحملہ ۴۹ھ
وفاتِ امیرمعاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ :
یزیدکی ولی عہدی اوراس میں حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاموقف
دورِمعاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پرایک نظر:

۲)یزیدبن معاویہ(رجب ۶۰ھ تاربیع الاول ۶۴ھ):
خلافتِ یزیدسے بعض صحابہ کرام کااختلاف اوراس کی بنیاد
کیاحضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ باغی تھے؟
تحقیق خلافت کی صورتیں اوراس وقت کی صورتحا ل
اہل کوفہ کے خطوط اورحضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کوفہ روانگی ذوالحجہ ۶۰ھ
سانحہ کربلامحرم سنہ ۶۱ھ
واقعہ حرہ ۶۳ھ
فتوحات یزید:
افریقہ
ترکستان

یزیدکاانتقال ۶۴ ھ اورمعاویہ بن یزیدکی دست برداری ۶۴ھ
۳)حضرت عبداللہ بن زبیر(۶۴ھ تا۷۳ھ)
فضائل حضرت عبداللہ بن زبیررضی اللہ تعالی عنہ
حرم میں محاصرہ محرم ۶۴ھ
خلافت کاآغاز۶۴ھ
مروان بن حکم
مروان کی جلاوطنی اوراس کانقصان۔
مروان کی دمشق میں متوازی حکومت

۴)عبدالملک بن مروان (رمضان ۶۵ھ تا۸۶ھ):
o عبدالملک کی خصوصیات:
o توابین کاظہور
o فتنوں کانیاسلسلہ :
o مختارثقفی کی جماعت۶۶ھ
o مصعب بن زبیرکے ہاتھوں مختارکاخاتمہ
o خوارج کی شورش:
o عبدالملک کی رومیوں سے صلح ۷۰ھ اورابن زبیرسے معرکوں کاآغاز
o حجاج بن یوسف
o شہادت ابن زبیرر ضی اللہ عنہ جمادی الاخری ۷۳ھ

:بنو امیہ کا دور عروج:
o عبدالملک بن مروان(۷۲ ھ تا ۸۶ھ)
o حجاج بن یوسف (بنی امیہ کا سب سے کڑا تیر)
o حسان بن نعمان(فاتح شمالی افریقہ)
o عبد الرحمن ابن اشعث فاتح افغانستان
o ابن اشعث کی بغاوت اور قتل۸۵ھ

ولید بن عبدالملک (۸۶ھ تا۹۶ ھ):
o فتوحات کا سیلاب
o قتیبہ بن مسلم اور ترکستانی معرکے
o محمد بن قاسم سندھ کے محاذ پر
o موسی بن نصیر اور طارق بن زیاد اندلس کے فاتح
o مسجد نبوی کی شاندار تعمیر

سلیمان بن عبدالملک(۹۶ھ تا ۹۹ھ)
o سابقہ عمال کی معزولی اور احتساب
o فاتحین اسلام کی داروگیر اور انکا دردناک انجام
o خوش خوراکی اور عیش وتنعم کے ساتھ خشیت خداوندی
o خلافت کے لیے حضرت عمر بن عبدالعزیزکی نامزدگی صفر ۹۹ ھ
o عمر بن عبدالعزیز(صفر ۹۹ تا رجب ۱۰۱)
o یزید بن عبدالملک (۱۰۱ تا ۱۰۵)

o ہشام بن عبدالملک (۱۰۵ تا ۱۲۵)
o فتوحات کا نیا دور
o فرانس پر حملے
o طورس کا معرکہ
o عبدالرحمن الغافقی کی شہادت
o زوال کا آغاز:
o ولید ثانی (۱۲۵ تا ۱۲۶ھ)

o یزید ثالث ۱۲۶
o ابراہیم ۱۲۶ھ
o مروان الحمار (ثانی ۱۲۷ تا ذی الحجہ ۱۳۲ھ)
o واقعہ زاب (جمادی الثانی ۱۳۲ھ)
o مروان کا قتل اور بنو امیہ کا خاتمہ(ذوالحجہ ۱۳۲ھ)

بنو امیہ کے زوال کے اسباب:
خوارج کافتنہ:
سانحہ کربلا:
شیعان علی کی سرگرمیاں
بنو عباس کی دعوت
سلطنت کی غیر معمولی وسعت
قابل افراد سے ناروا سلوک
نچلی سطح پر حکام کے مظالم
عرب قبائل کی باہمی خانہ جنگی
خلافت کا مدار اہلیت کی بجائے وراثت پر

تاریخ اندلس:
فتح اندلس (۹۲ھ،۹۳ھ)
امیران اندلس:
عبدالعزیز بن موسی
حرب بن عبدالرحمن
سمح بن مالک
عبدالرحمن الغافقی
ثعلبہ بن سلامہ
یوسف بن عبدالرحمن

عبدالرحمن بن معاویہ اول (صقر قریش) ۱۳۹ ھ تا ۱۷۲ھ ۳۳ سال
جنگ قرمونہ ۱۴۶ھ
ہشام بن عبدالرحمن ۱۷۲ تا ۱۸۰ھ
حکم بن ہشام
محمد بن عبدالرحمن
عبدالرحمن ثالث ۳۰۰ ھ تا ۳۵۰ھ
محمد بن عامر منصور ۳۶۶ھ تا ۳۹۴ھ
آخری اموی حکمران مستعین کا قتل اور خاتمہ امویانِ اندلس ۴۲۸

بنو حمود ۴۰۷ھ تا ۴۵۰ھ
اندلس میں طوائف الملوکی کا پہلا دور:
بنو عباد، بنو ہود، بنو ذو النون
یوسف بن تاشفین اور الفانسو چہارم معرکہ زلاقہ ۴۸۰ھ
مرابطین ۴۸۳ھ تا ۵۴۲ھ
مؤحدین ۵۴۲ھ تا ۶۲۵ھ
طوائف الملوکی کا دوسرا دور:
فرڈی ننڈ اور ملکہ ازابیلا
سلطان ابو الحسن ۸۷۰ھ
خانہ جنگی ۔۔۔۔۔۔۔الزغل اور ابو عبداللہ
سقوط غرناطہ ۱۲ ربیع الاول ۸۹۷ھ


خلافت عباسیہ:
بنو امیہ کے خلاف مختلف تحریکیں اور تحریک بنو عباس کی کامیابی
o ابومسلم خراسانی
بانی خلافت عباسیہ (ابوالعباس سفاح ۱۳۲ ھ تا ۱۳۶ھ بمطابق ۷۵۰ تا ۷۵۵ء)
o ابو جعفرالمنصور(۱۳۶ھ تا ۱۵۸ھ)
o ابومسلم خراسانی( قتل ۱۳۷ھ)
o مہدی(۱۵۸ھ تا ۱۶۹ھ)
o موسی الھادی(۱۶۹ھ تا۱۷۰ھ)

o ھارون الرشید(۱۷۰ ھ تا ۱۹۳ھ)
o امین( ۱۹۲ تا ۱۹۸ ھ)
o مامون الرشید(۱۹۸ھ تا ۲۱۸ھ)
o معتصم باللہ( ۲۱۸ تا ۲۲۷ھ)
o واثق باللہ(۲۲۷ ھ ۲۳۲ھ)
o متوکل علی اللہ(۲۳۲ھ تا ۲۴۷ھ)

بنو عباس کا انحطاط اور اسکے اسباب:
o علوی اور عباسی کشمکش
o عجم نوازی(ترک نوازی)
o شخصی حکومت
o یکے بعد دیگرےولی عہدوں کی نامزدگی
o خودمختار ریاستیں
o عقائد پر ضرب لگانے والے فتنوں کی فراوانی
o باطنیہ اور قرامطہ(278ھ) کی ریشہ دوانیاں
o فاطمی خلافت

بنو عباس کا انحطاط اور اسکے اسباب:
o خلفاء کی نااہلی اور کمزوری
o عیش وتنعم میں انہماک
o فریضہ جہاد سے غفلت
o دعوت دین کی سرگرمیوں میں غیر معمولی کمی

سلاجقہ:
الپ ارسلان(۴۵۵ھ تا ۴۶۵ھ)
ملک شاہ (۴۶۵ھ تا ۴۸۵ھ) 
سنجر سلجوق
غوری:
شھاب الدین غوری(۵۸۰تا ۶۰۲ھ)

ملک شاہ کی وفات اور القدس پر صلیبی قبضہ رجب ۴۹۲ ھ
اتابک : (القدس کی بازیابی کی کوششیں)
عمادالدین زنگی(۵۲۱ ھ تا ۵۴۱ھ)
نور الدین زنگی(۵۴۱ھ تا ۵۶۹ھ)

ایوبی:
صلاح الدین ایوبی(۵۶۷ تا ۵۸۹ھ) :
• نجم الدین ایوب بن شاذی
• شیر کوہ بن شاذی
• یوسف صلاح الدین ایوبی
• مصر کی مہم
• فاطمی خلافت کا خاتمہ محرم ۵۶۷ھ
• شام پر قبضہ ۵۷۸ھ
معرکہ حطین ۵۸۳ھ
فتح القدس رجب ۵۸۳ھ
صلیبی جنگیں ۵۸۴ ھ تا ۵۸۹ھ

غوری:
• شھاب الدین غوری(۵۸۰تا ۶۰۲ھ) 
خوارزم شاھی: ۴۹۱ ھ تا ۶۲۸ھ
• سلطان علاؤ الدین تکش ۵۶۶ھ تا ۵۸۹ھ
• علاء الدین محمد( ۵۹۸ھ تا ۶۱۷ھ)

فتنہ تاتار: (ساتویں صدی ہجری)
چنگیز خان
تاتاری یا مغل؟
چنگیز خان کا علاؤ الدین سے معاہدہ
جنگ کی وجوہ
سقوط سمرقند وبخارا

سلطان جلال الدین (۶۱۸ تا ۶۲۸ھ)
افغانستان کی جنگیں۶۱۸ھ
معرکہ سندھ شوال ۶۱۸ ھ 
سلطان جلال الدین ہندوستان میں ۶۱۸ھ تا ۶۲۲ھ
ایران کی جنگیں ۶۲۴ھ تا ۶۲۶ھ
ایوبی اور سلجوقی حکمرانوں سے معرکے رمضان ۶۲۷
روپوشی یا شہادت شوال ۶۲۸ھ

خلافت بنو عباس کا اختتامی دور: 
ناصر لدین اللہ ۵۷۵ھ تا ۶۲۲ھ
ظاہر باللہ ۶۲۲ھ تا ۶۲۳ھ
مستنصر باللہ ۶۲۳ھ تا ۶۴۰ھ
مستعصم باللہ۶۴۰ھ تا ۶۵۶ھ
ہلاکو خان( ۶۰۲ ھ تا ۶۲۴ھ)

سقوط بغداد ۶۵۶ھ


عثمانی سلطنت:
عثمان خان ۶۸۷ھ
عثمان خان کی بروصہ میں وفات ۷۲۷ھ
ارخان :
ارخان کا بڑا بھائی علاؤ الدین وزیر اعظم
ینگ چری فوج کا بانی علاؤالدین
مراد اول ۷۶۱ھ تا ۷۹۲ھ
مراد خان کی وفات ۲۷ اگست ۸۰۶ھ

بایزید یلدرم ۷۹۲ھ
معرکہ انگورہ ۸۰۴ ھ
بایزید کی گرفتاری اور ناروا سلوک
۸۱۶ ھ تک بیٹوں کی باہمی خانہ جنگی
سلطان محمد اول ۸۱۶ھ تا ۸۲۵ھ
مراد ثانی ۸۲۵ھ تا ۸۵۵ھ
محمد ثانی فاتح:
فتح قسطنطنیہ ۲۰ جمادی الاول ۸۵۷ھ ۲۹ مئ ۱۴۵۳ء

سلیم اول ۱۵۱۲ء خلافت کا اعلان
۱۵۲۰ ء شاہ اسماعیل صفوی سے معرکے
سلیمان اعظم قانونی ۱۵۲۰ ء تا ۱۵۶۶ء
جنگ عظیم اول ۱۹۱۶ء
سلطنت کا خاتمہ: یکم نومبر ۱۹۲۲ء

خلافت کا خاتمہ : ۳ مارچ ۱۹۲۶ء
مکمل تحریر >>

اس دل کو کس سے راہ ہے؟


دِل کو دِل سے راہ ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺاس بات کو یوں بیان کرتے ہیں:الاَرواح جنود مجندۃ (صحیح مسلم: 4773)
یہ بات بہت اُمید افزا ہے تو بے انتہا خوفناک بھی۔ اس دل کو کس سے راہ ہے؟ یہ قریب قریب اس بات کا جواب ہوگا کہ آخرت میں آدمی کا ٹھکانہ کہاں ہونے والا ہے۔ اس دل کے کیا کہنے جسے رسول اللہ ﷺکے ساتھ میلان ہو اور اس میں آپ کیلئے محبت موجزن ہو۔
محبت کی پچاس تفسیریں آپ کرنے کو کر سکتے ہیں مگر محبت ایک طبعی چیز ہے اور بیان میں اس کا آنا بے انتہا مشکل۔ کسی کو خدا سے اور اس کے نبیوں سے اور جنتی روحوں سے محبت ہوتی ہے تو کسی کو بدکاروں اور بدبختوں سے۔ یہ قسمت قسمت کی بات ہے اور جیسا کہ ہم نے کہا یہ بڑی حد تک اس بات کا جواب ہے کہ آخرت میں ایک آدمی کہاں پایا جانے والا ہے۔ اسیلئے آپ فرماتے ہیں: المرء مع من اَحب ”آدمی اُسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے“۔
رسول اللہ ﷺسے محبت ہونا انسان کے نیک بخت ہونے کی دلیل ہے۔ آپ کی جانب میلان کے حوالے سے ہر نفس اپنے ظرف اور اپنی حیثیت کا تعین کر سکتا ہے۔ رسول اللہ ﷺسے محبت کا دور محض صحابہ کا زمانہ نہ تھا۔ یہ خیر قیامت تک کیلئے باقی ہے:
ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”میری اُمت میں سے میرے ساتھ سب سے بڑھ کرمحبت کرنے والوں میں وہ لوگ بھی ہیں جو میرے بعد آئیں گے۔ ان میں کا ایک ایک شخص یہ تمنا کرے گا کہ وہ اپنی سب دولت ہاتھ سے دے کر اور اپنا گھر بار لٹا کر مجھے ایک نظر دیکھ سکے تو دیکھ لے“
(صحیح مسلم 5060)
حسن بصریؒ جب بھی مسجد نبوی کے اس چوبی ستون کا واقعہ بیان کرتے جس کو چھوڑ کر رسول اللہ ﷺنے منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ دینا شروع کیا تو اس ستون سے اس اونٹنی کے سے انداز میں بلبلانے کی آواز سنی گئی جس سے اس کا بچہ دور کردیا گیا ہو، یہاں تک کہ آپ نے جا کر اس پر اپنا دست مبارک دھرا تو اس سے وہ آواز آنا رکی ۔۔ حسن بصری جب بھی یہ واقعہ بیان کرتے تو آواز بھرا جاتی اور کہتے: خدا کے بندو یہ لکڑی کا ایک بے جان ستودہ ہے جو رسول اللہ ﷺکیلئے بے قرار ہوتا ہے۔ تم پر تو آپ کا حق اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔
اس دُنیا میں ہر قوم ہی اپنے بڑوں کیلئے جوش میں آتی ہے۔ ہر اُمت کیلئے کچھ چیزیں سمجھوتے سے ماورا ہوتی ہیں۔ بلاشبہ ہمارے لئے اللہ اور اس کا رسول اور اس کی کتاب اور اُس کا دِین وہ مقام رکھتے ہیں کہ اِن کی تعظیم کے معاملے میں ہم ہر حد تک جا سکتے ہیں اور بلاشبہ یہ اعزاز آج اِس بھری دُنیا میں ایک ہمیں کو حاصل ہے۔ مگر یہ ایک منفرد اعزاز ہے۔ اس کی انفرادیت ہم سے روپوش ہو جائے تو یہ اعزاز اپنی تمام تر عظمت کے باوجود ہمارے ہاتھ سے بڑی حد تک چلا جاتا ہے۔
مکمل تحریر >>