Saturday, 18 June 2016

جنگَ بدر میں


ہجرت کے کچھ عرصے کے بعد بدر کا معرکہ پیش آتاہے۔ قریش مکہ اورمسلمان اپنی اپنی صفیں مرتب کرکے ایک دوسرے کے بالمقابل میدان جنگ میں کھڑے ہیں۔ مسلمانوں نے حضرت سعد بن معاذؓ کے مشورے سے قریب کی ایک پہاڑی پرایک شامیانہ لگا دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ اس شامیانے میں تشریف رکھیں اور اگر مسلمانوں کی حالت دگرگوں دیکھیں تو اونٹنی پر سوار ہو کر مدینہ تشریف لے جائیں۔ ابوبکر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے جب جنگ شروع ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دشمن کی کثرت اورمسلمانوں کی کمی دیکھی تو آ پ نے قبلہ رو ہو کر اپنے آپ کو خدا کے حضور گرا دیا اور اس سے اس کے وعدوں کی یاد دلا دلا کر مسلمانوں کے لیے فتح و نصرت کی دعائیں مانگنی شروع کیں۔ آپ فرمارہے تھے:
اللھم ھذہ قریش قداتت بخیلائھا تحاول ان تکذب رسولک اللھم فنصرک الذی وعدتنی اللھم ان تھک ھذہ العصابۃ الیوم لا تعبدا
(اے اللہ!یہ قریش اپنے عظیم الشان لشکر کے ہمراہ تیرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے آئے ہیں اے اللہ اپنے اس وعدے کو پورا فرما جو تو نے مسلمانوں کی فتح کے متعلق کیا ہے۔ اے اللہ! اگر آج یہ چھوٹی سی جماعت ہلاک ہو گئی تو آئندہ تیرا کوئی نام لیوا باقی نہ رہے گا)۔
آپ اس قدر زاری اور اتنی بے چینی اور گھبراہٹ کی حالت میں اپنے رب کو پکار رہے تھے اورہاتھ دعا کے لیے پھیلا رہے تھے کہ بار بار آپ کی چادر زمین پر گر جاتی تھی۔ بالآخر آپ پر غنودگی کی حالت طاری ہوئی اور اللہ کی طرف سے ایک بار پھر بڑے زور سے مسلمانوں کی فتح و نصرت کی خوشخبری دی گئی۔ آپ مطمئن ہو کر شامیانے کے باہر تشریف لائے اور بلند آواز سے مسلمانوںکو کفار پر حملہ کرنے کے لیے ارشاد فرمایا۔ آپ فرما رہے تھے کہ مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے کہ آج کے روز ہر شخص کفار سے لڑے گا اور اس حالت میں شہید کیا جائے گاکہ اس کے پیش نظر صر ف اللہ کی رضا اور اس ے دین کی مدد کاجذبہ ہو گا اور اس نے میدان جنگ میں کفار کو پیٹھ نہ دکھائی ہوگی اللہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا‘‘۔
گو پہلے ہی سے اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح کی خوشخبری دے دی تھی لیکن اس کے باوجود آپ برابر گڑگڑا کر اللہ سے دعائیں مانگتے رہے جب تک کہ ایک بار پھر اللہ کی طرف سے واشگاف الفاظ میں مسلمانوں کی فتح و نصرت کا وعدہ نہ دے دیا گیا اور آپ کو دلی اطمینان نصیب نہ ہو گیا۔
واقعی ایک پیغمبر کی شان یہی ہوتی ہے۔ آپ جاتے تھے کہ اللہ کے وعدے سچے ہیں اور وہ ضرور مسلمانوں کو فتح عطا فرمائے گا۔ لیکن ساتھ ہی آپ کو یہ علم بھی تھا کہ اللہ غنی عن العالمین ہے ممکن ہے کہ مسلمانوں سے دوران جنگ میں کوئی ایسی کوتاہی سرزد ہوجائے جس کے باعث فتح و نصرت کا وعدہ دور جا پڑے اور مسلمان اولین مرحلے میں اپنا مقصود حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔
اس پورے عرصے میں ابوبکرؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ رہے اور انہیں یقین تھا کہ اللہ ضرور مسلمانوں کی مدد کرے گا اور انہیں فتح سے ہمکنار کر دے گا۔ اسی لیے وہ حیرت و استعجاب سے آپ کی مناجات سن رہے تھے۔ آپ انتہائی عاجزی کے ساتھ اللہ سے دعا کر رہے تھے اور اسے اس کا وعدہ یاد دلا رہے تھے آ پ کی چادر بار بار زمین پر گر جاتی تھی اور اسے ابوبکرؓ اٹھا کر آپ کے کندھوں پر ڈال دیتے اورکہتے تھے:
’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ گھبرائیں نہیں۔ اللہ نے آپ کو فتح و نصرت کا وعد ہ دیا ہے اور وہ اپنا وعدہ ضرور پورافرمائے گا‘‘۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ اپنے عقیدے میں اس قدر راسخ ہوتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہی کرتے جو ان عقائد میں اختلاف رکھتے ہوں۔ ایسے لوگ کہتے ہیں کہ حقیقی ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ مخالفین سے تعصب تندی اور سختی کا برتائو کیا جائے لیکن ابوبکرؓ کامل الایمان ہونے کے باوجود نہایت نرم دل انسان تھے۔ سب و شتم تندی اور سختی سے وہ کوسوں دور تھے۔ قابو پانے کے بعد مخالف کو معاف کر دینا اور فتح یاب ہونے کے بعد دشمن پر احسان کرنا ان کا شیوہ تھا۔ اس طرح ان میں حق و صداقت کی محبت اوررحم و کرم کا جذبہ بہ یک وقت پایاجاتا تھا۔ حق کے راستے میں وہ ہر چیز حتیٰ کہ اپنی جانوں کو بھی ہیچ سمجھتے تھے او ر اعلاء کلمۃ الحق کی خاطر ہر قسم کی قربانی کرنے کو بخوشی تیار ہو جاتے تھے ۔ لیکن جب حق غالب آ جاتا تو دشمن سے سختی کابرتائو کرتے اور اس سے مظالم کی جواب دہی کرنے کے بجائے ان میں رحم و کرم کا جذبہ ابھر آتا تھا۔
مسلمانوں کو جب جنگ بدر میں فتح نصیب ہوئی اور وہ قریش کے ستر قیدی ہمراہ ے کر مدینہ واپس آ گئے۔ یہ قیدی وہی تھے جنہوں نے مکہ میں تیرہ برس تک مسلمانوں پر سخت مظالم ڈھائے تھے اور ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا تھا۔ انہیں دکھائی دے رہا تھا کہ ان مظالم کا بدلہ چکانے کا وقت آ پہنچا ہے اوراب مسلمان ان پر جس قدربھی سختی کریں کم ہے۔
جب حضور ﷺ نے قیدیوں کے متعلق مشورہ کیا تو حضرت عمرؓ کی یہ رائے تھی کہ ان سب قیدیوں کو قتل کر دیا جائے لیکن حضرت ابوبکرؓ نے اصرار کر کے اپنی بات منوا ہی لی اور تمام قیدی زر فدیہ اور پڑھائی لکھائی کے عوض رہا کر دیے گئے۔
ابوبکرؓ کایہ فعل ان کی پاکیزگی قلب اور حد درجہ نرم دلی پر دلالت کرتاہے۔ شاید یہ وجہ بھی ہو کہ انہوں نے دور بین نظر سے اس امر کامشاہدہ کر لیا تھا کہ مشرکین مکہ بالآخر رحم کے مظاہروں سے ہی مغلوب ہوں گے۔ جب وہ دیکھیں گے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر قسم کی طاقت و قوت رکھتے ہوئے بھی ان سے مرو ت و احسان کا سلوک کیا ہے تو وہ آپ سے آپ اسلام کی آغوش میں آ گریں گے۔ انہیں اچھی طرح علم تھا کہ ظاہری قوت کے ذریعے مخالف پر جسمانی لحاظ سے تو قابو پایا جا سکتاہے لیکن اس کے دل کو مطیع نہیں کیا جا سکتا مخالف کے دل پر اسی وقت فتح حاصل کی جا سکتی ہے کہ جب طاقت کے ذریعے سے نہیں بلکہ پیار و محبت کے ذریعےسے اسے اپنی طرف مائل کیا جائے۔
غزوہ بدر جس طرح مسلمانوں کے لیے ایک نئے دور کا آغاز تھا اسی طرح ابوبکرؓ کی کتاب زندگی کا ایک نیا ورق تھا۔ اس جنگ کے بعدمسلمانوں نے ایک نئے نہج سے اپنی سیاست کو مرتب کرنا شروع کیا۔ بدر کی فتح سے مسلمان کو بڑی سیاسی اہمیت حاصل ہو گئی تھی۔ اوران کے مخالفین کے دلوں میں ان کی جانب سے حسد اور غصے کی آگ بھڑک اٹھی تھی۔ اس فتح نے جہاں یہود کو چوکنا کر دیا تھا اور انہوں نے سمجھ لیا تھا کہ اب مسلمان ان کے دست نگر بن کر نہیں رہ سکتے وہاں مدینے کے اردگرد بسنے والے قبائل کو بھی یہ فکر پیدا ہو گیا تھا کہ مبادا مسلمانوں کا رخ ان کی طرف پھر جائے۔ چنانچہ یہود اور مدینہ کے نواحی قبائل نے مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیاں شروع کر دیں۔
ان امور کی موجودگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے یہ ضروری ہو گیا تھا کہ آپ ہر آن اور ہر لمحہ سختی سے صورتحال کاجائزہ لیتے رہیں اور صحابہ ؓسے مشورہ لینے کے بعد ان حالات کے مطابق اپنی پالیسی کا جائزہ لیں۔ ابوبکرؓ اور عمرؓ آپ کے خاص الخاص مشیر تھے۔ ان دونوں کی طبیعتوں میں بے حد فر ق تھا لیکن بہ ایں ہمہ دونوں نہایت مخلص اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جاں نثار تھے اور ہر مشورہ انتہائی غور و فکر سے دیتے تھے۔ ان مشوروں کی روشنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے راہ عمل معین کرنے میں بہت آسانی رہتی تھی۔ ان دونوں کے علاوہ آپ دوسرے مسلمانوں کو بھی اپنے مشوروں میں برابر شریک کرتے تھے۔ جس کااثر لوگوں پر بہت اچھا پڑتاتھا اور ہر شخص خیال کرتا تھا کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اعتماد حاصل ہے اور آپ اسے بھی مشوروں میں شریک کر کے خدمت کا موقع عنایت فرماتے ہیں۔
فتح مکہ تک کا پورا عرصہ مسلمانوں کو کفار سے جنگ یا اس کی تیاریاں کرتے گزارنا پڑا۔ ایک طرف یہود حیی بن احطب کے زیر سرکردگی مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنے کے منصوبے سوچ رہے تھے دوسری طرف قریش مکہ اپنی پوری طاقت سے مسلمانوں کوزیر کرنے اور ان پر غالب آنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ چھوٹی چھوٹی جھڑپوں وار لڑائیوں کے علاوہ بنو نضیر خندق احزاب اور بنو قریظہ کے غزوات یہود کی فتنہ انگیز سیاست اور قریش کے غیض و غضب کے نمایاں عناصر ہیں۔ ان تمام لڑائیوں اورغزوات میں ابوبکرؓ نے ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوش بہ دوش حصہ لیا اوردوسرے تمام مسلمانوں سے زیادہ بہادری صدق و ثبات اور ایمان کا ثبوت دیا۔
مکمل تحریر >>

مدینہ میں قیام


مدینہ میں ان کا قیام شہر کے نواح میں مقام سخ پر خارجہ بن زید کے ہاں تھا اور جو قبیلہ خزرج کی شاخ بنو حارث سے تعلق رکھتے تھے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخات کا سلسلہ قائم کر دیا تو ابوبکرؓ اور خارجہ کو بھائی بھائی بنایا۔ جب ابوبکرؓ کے اہل و عیال مکہ سے مدینہ پہنچ گئے تو انہوںنے ان سے مل کر روزی کے وسائل تلاش کرنے شروع کر دیے ۔ حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ کے رشتہ داروں کی طرح ان کے رشتہ دار بھی انصار کی زمینوں پر ان کے مالکوں سے مل کرکام کرنے لگے جن میں خارجہ بن زید بھی شامل تھے ۔ خارجہ کے ساتھ ان کے تعلقات اس حد تک بڑھ گئے کہ انہوںںے اپنی بیٹی حبیبہ کو ان کے عقد میں دے دیا۔ حبیبہ کے بطن سے ام کلثوم پیدا ہوئیں۔ ابوبکرؓ کی وفات کے وقت حبیبہ حالت حمل میں تھیں۔
ابوبکرؓ ان کے اہل و عیال اور ان کے ساتھ مقام سخ میں خارجہ بن زید کے ہاں نہ ٹھہرے بلکہ ام رومان ان کی بیٹی عائشہ اور ابوبکرؓ کے تمام لڑکے مدینہ میں حضرت ابوایوب انصاری کے مکان کے قریب مقیم تھے۔ ابوبکرؓ سخ سے روازانہ واہاں آیا کرتے تھے البتہ ان کا مستقل قیام اپنی نئی بیوی کے ساتھ سخ ہی میں تھا۔
ہجرت کے چند رو ز بعد وہ بخار میں مبتلا ہو گئے صرف وہی نہیں بلکہ آب و ہوا کی ناموافقت کے باعث اکثر مہاجرین بخار سے بیمار ہو گئے تھے مکہ کی آب و ہوا صحرا میں واقع ہونے کے باعث خشک تھی۔ اس کے مقابلے میں مدینہ کی آب و ہوا مرطوب تھی۔ کیونکہ وہ بارانی علاقہ تھا اور وہاں کھیتی باڑی ہوتی تھی۔
ابوبکرؓ نہایت نرم مزاج انسان تھے لیکن جب وہ یہود اور منافقین کی زبانوں سے دین خدا کے متعلق تمسخر آمیز باتیں سنتے تھے تو ان کے غصے کی انتہا نہ رہتی تھی۔ مدینہ تشریف لانے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور یہود کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت یہود اور مسلمانوں دونوں کو اپنے اپنے دین کی تبلیغ و اشاعت اور اپنے اپنے رسوم و رواج پر عمل کرنے کی آزادی حاصل تھی۔ یہود کا شروع میں یہ خیال تھا کہ وہ مہاجرین کو اپنے ڈھب پر لائیں کر انہیں مدینہ کے قبیلوں اوس اور خزرج کے خلاف استعمال کریں گے ۔ لیکن چند ہی روز میں انہیں یہ پتا چل گیا کہ ایسا ہونا ناممکن ہے اور مہاجرین اور انصار مدینہ میں ایسا تعلق قائم ہو چکا ہے کہ جو کسی صورت میں ٹوٹ نہی سکتا۔ اس وقت انہوں نے اپنی پہل روش بد ل کر مسلمانوں کی مخالفت میں کمر باندھی اوراسلام کے متعلق تمسخر اور استہزاء کی باتیں کرنی شروع کیں۔ ایک دن کاواقعہ ہے کہ چند یہودی اپنے ایک عالم فخاص کے گھر جمع ہوئے اتفاق سے اسی وقت حضرت ابوبکرؓ بھی اسی طرف آ نکلے۔ انہوں نے یہودیوں کے اجتماع کو غنیمت جانتے ہوئے انہیں اسلام کی تبلیغ کرنی چاہی اورفخا ص سے کہنے لگے:
’’اے فخاص! اللہ سے ڈرو اور اسلام لے آئو۔ اللہ کی قسم! تم جانتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور اسی کی جانب تمہارے پاس وہ حق لے کر آئے ہیں جسے تم توریت میں لکھا ہوا پاتے ہو۔‘‘
یہ سن کر فخاص کے لبوں پر تمسخڑ آمیز مسکراہٹ نمودار ہوئی ار وہ کہنے لگا:
’’خدا کی قسم اے ابوبکرؓ ہمیں خدا سے کسی چیز کی حاجت نہیں خود اسے ہماری حاجت ہے۔ ہم اس کی طرف نہیں جھکے بلکہ وہ ہماری طرف جھکنے پر مجبور ہے۔ ہم اس کی مدد سے بے پروا ہیں لیکن وہ ہماری امداد سے مستغنی نہیں۔ اگر وہ ہماری امداد سے مستغنی ہوتاتو کبھی ہمارے مال ہم سے بطور قرض نہ مانگتا جس طرح تمہارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خیال ہے۔ اللہ تمہیں سود لینے سے منع کرتاہے لیکن خود ہمیں سود دیتاہے اگر وہ ہم سے مستغنی ہوتا تو ہمیں کیوں سود دیتا؟‘‘
اس ناپاک گفتگو سے فخاص کامقصد دراصل اس آیت پر چوٹ کرنا تھا کہ جس میں اللہ فرماتا ہے کہ
من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا فیضا عفہ لہ اضعافا کثیرۃ
’’(کون ہے جو اللہ کو قرض دے‘ اس کے بدلے میں اللہ اس کے مال کوکئی گنا بڑھا کر واپس کرے گا)‘‘۔
ابوبکرؓ نے فخاص کو اللہ کے اس قول اوراس کی وحی کا مذاق اڑاتے دیکھا تو وہ اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سے اور فخاص کے اتنے زور سے تھپڑ مارا کہ اس کے حواس بجا نہ رہے اس کے بعد فرمایا:
’’اے اللہ کے دشمن ! اگر مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان معاہدہ نہ ہوتا تو اللہ کی قسم! میں تیری گردن اڑا دیتا‘‘۔
کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ ابوبکرؓ نہایت رقیق القلب اوربردبار ہونے کے باوجود اس موقع پر جوش میں آ گئے اور حالانکہ آپ کی عمر بھی پچاس سے متجاوز کرچکی تھی اور اس مرحلے پر بالعموم انسان میں جوش و خروش باقی نہیں رہتا۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ غیر ت ایمانی کا مظاہرہ تھا اور اس بات کا ثبوت کہ آپ اللہ کی آیات اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر استہزاء کرنے کو کسی صورت میں برداشت نہیں کر سکتے تھے۔
اسی قسم کی ایک اور مثال ہمیں ابوبکرؓ کی زندگی میں نظر آتی ہے۔ یہ واقعہ ہجرت سے دس سال قبل رونما ہوا تھا جب ایرانیوں اور رومیوں کی جنگ کے دوران میں ایرانی رومیوں پر غالب آ گئے تھے۔ چونکہ ایرانی مجوسی تھے اور رومی اہل کتاب اس لیے مسلمانوں کو اہل کتاب کے مقابلے میں مشرکوں کے غالب آ جانے سے فطرتاً رنج پہنچا تھا۔ ان کی عین خواہش تھی کہ رومی فتح یاب ہوں کیونکہ وہ ان کی طرح اہل کتاب تھے۔ ایک مشرک نے ابوبکرؓ سے اس کا اظہار کیا اوراپنے ہم مذہب وگوں کے فتحیاب ہونے پر خوشی اور مسرت کا اظہار کیا۔ یہ سن کر ابوبکرؓ کو سخت طیش آیا۔ اسی زمانے میں یہ آیات نازل ہوئیں۔
الم غلبت الروم فی ادنی الارض وھم من بعد غلبھم سیغلبون فی بضع سنین
(اگرچہ رومی ایرانیوں کے ہاتھو مغلوب ہوگئے ہیں لیکن چند ہی سال میں وہ پھر غالب آجائیں گے)
ابوبکرؓ نے اس پیشنگوئی کی بنا پر ا س مشرک سے شرط لگائی کہ ایک سال کے اندر اندر رومی ایرانیوں پر غالب آ جائیں گے ۔ (بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادپرانہوں نے یہ مدت نو سال متعین کر دی) اور اگر ایسا نہ ہوا تو وہ ااسے دس اونٹ دیں گے۔
ان واقعات سے ظاہر ہوتاہے کہ ابوبکرؓ جیسے حلیم الطبع اورنرم مزاج انسان کا غصہ صرف اس وقت بھڑکتا تھا جب کہ عقیدے اور ایمان کا سوال درپیش ہوتا تھا۔
جب سے ابوبکرؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کرکے آپ کے دین میں داخل ہوئے اسی وقت سے ان کی رگ رگ میں ایمان صادق رچ گیاتھا۔ ان کے تما م اعمال و افعال میں اسی ایمان صادق کارنگ نمایاں تھا۔ خا ندان خواہشات غرض دنیا کی کوئی بھی چیز جو لوگوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتی تھی ان کی نظر میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابلے میں بالکل ہیچ تھی۔ ان کاجس دل و دماغ اوران کی روح خالص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے تھی۔ یہی جذبہ ایمانی تھا جس نے انہیں روحانیت کے اعلیٰ ترین مقام تک پہنچا کر صدیقین کے زمر ے میں شامل کر دیا تھا۔
مکمل تحریر >>

ہجرتِ مدینہ


اسلام کے اولین دور میں مسلمانوں کی مدد کرنے ور ہمہ تن اسلام کی تبلیغ کرنے میں مشغول رہنے کے باعث ان کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان ایسا تعلق قائم ہو گیا تھا جسک نظیر ملنی ناممکن ہے۔ بیعت عقبہ کے بعد یثرب میں اسلام پھیل گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مبتین کو اجازت دے دی کہ یثرب ہجرت کر جائیں۔ قریش قطعاً لا عم تھے کہ آیا اس مرتبہ بھی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہجرت کر جایں گے یا ہجرت حبشہ کی طرح مسلمانوں کو یثرب بھیج کر خود مکہ ہی میں مقیم رہیں گے۔ اس موقع پر ابوبکرؓ نے بھی ہجرت کرنے کی اجازت مانگی لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرما کہ انہیں یثرب جانے سے روک دیا
’’ابھی ایسا نہ کرو‘ شاید اللہ تمہارا کوئی ساتھی پیدا کر دے جو ہجرت کے موقع پر تمہارے ہمراہ ہو‘‘۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہمرکابی کا شرف حاصل کرنا وہ نعمت تھی کہ دنیا کی ساری نعمتیں مل کربھی ان کا مقابلہ نہ کر سکتی تھی َ چنانچہ وہ آپ کے حسب ارشاد ٹھہر گئے اور سمجھ لیا کہ اس موقع پر شہادت بھی نصیب ہو گئی تویہ ایسی شہادت ہو گی کہ جو اپنی جلو میں جنت اور اس کی تمام نعمتوں کو لیے ہو گی اور جس پر ہزاروں برس کی زندگی بہ خوشی قربان کی جا سکتی ہے۔
اسی روز ابوبکرؓ نے دو اونٹنیوں کا انتظام کیااورانتظار کرنے لگے کہ کب ہجرت کا حکم نازل ہوکر انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہمرکابی ک شرف حاصل ہوتاہے۔ ایک روز حسب معمول شام کے وقت آپ ا ن کے گھر تشریف لائے اور فرمایا کہ اللہ نے انہیں یثرب کی جانب ہجرت کی اجازت دے دی ہے۔
اسی دن قریش کے نوجوانوں نے آپ کے مکان کا محاصرہ کر لیا اور انتظار کرنے لگے کہ کب آپ باہر نکلتے ہیں اورانہیں کب آپ کو قتل کرنے کے لیے اپنی تلواروں کے جوہر دکھانے کا موقع ملتا ہے۔ آپؐ نے حضرت علیؓ بن ابی طالب کو حکم دیا کہ وہ آپ کی سبز حضرمی چادر اوڑھ لیں اور بے خوف و خطر آپ کے بستر پرسو جائیں۔ انہوں نے ایساہی کیا۔ جب رات کا تہائی حصہ گزر گیا تو آپؐ اپنے گھر سے نکلے اورابوبکرؓ کے پاس پہنچے۔ وہ جاگ رے تھے فوراً دونوگھر کی پشت کی ایک کھڑکی سے باہر نکلے اور جانب جنوب تین چار میل کی مسافت طے کرکے غار ثور جاپہنچے۔
صبح ہونے پر جب قریش کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مکہ سے نکل جانے کا پتا چلا تو انہوں نے چاروں طرف سے آپ کی تلاش میں آدمی دوڑائے۔ مکہ کے قریب کوئی وادی کوئی میدان ورکوئی پہاڑ نہ تھا جو انہوں نے نہ چھان مارا ہو۔ وہ لوگ آپ کو تلاش کرتے کرتے غار ثور تک بھی پہنچ گئے اورایک آدی نے غار میں اترنے کا ارادہ بھی کیا۔ جب ابوبکرؓ نے ان لوگوں کی آوازیں سنیں تو ان کی پیشانی سے پسینہ چھوٹ نکلا اور انہوں نے اپنا سانس تک روک لیا کہ مبادا کسی قسم کی آواز نکل کر دشمنوں کو ان کے یہاں ہونے کا احساس دلا دے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بڑے اطمینان سے اللہ کے ذکر اور دعائوں میں مشغول رہے۔ جب آپ نے ابوبکرؓ کی گھبراہت دیکھی تو جھک کر ان کے کان میں کہا
لا تحزن ان اللہ معنا(ڈرو مت اللہ ہمارے ساتھ ہے)
ادھر قریشی نوجوان نے اپنی نظر غارکے اردگرد دوڑائی تو دیکھا کہ غار کے منہ پر ایک مکڑی نے جالا تن دیا ہے۔ یہ دیکھ کر وہ واپس ہو گیا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غار میں جاتے تو یقینا جالا ٹوٹ جاتا اس لیے میں واپس آ گیا یہ سن کر وہ لوگ حالت مایوسی میں وہاں سے چلے گئے۔ جب وہ دور نکل گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پکار کرفرمایا اللہ اکبر اللہ اکبر ابوبکرؓ نے بھی قدرت کا یہ عجیب تماشا دیکھ کر وجد میں آ گئے۔
غار ثور میں گھبراہٹ کی وجہ
اس موقع پر سوال پید ہوتا ہے کہ ابوبکرؓ کی گھبراہٹ… جس کے باعث ان کی پیشانی سے پسینے چھوٹنے لگے تھے اور ان کا سانس بھی رک گیا تھا… اپنی جان بچانے کے خوف سے تھی یا اس وجہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کابال بیکا نہ ہو جائے؟ آیا کہ اس وقت انہیں اپنی جان کا خیال تھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان کا؟ اس کا تسلی بخش جواب ہمیں مندرجہ ذیل روایات میں ملتاہے۔
ابن ہشام حسن بن ابوالحسن بصری سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکرؓ آدھی رات کو غار میں پہنچے تو آپؐ سے پہلے ابوبکرؓ غار میں داخل ہوئے۔ اور اسے اچھی طرح دیکھا بھالا مباداکہ اس میں کوئی سانپ یا بچھو یا درندہ چھپا بیٹھاہوا ور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خدانخواستہ کو ئی ضرر پہنچ جائے۔ بالکل یہی جذبہ ان کا ان نازک لمحات میں تھا۔ جب انہوں نے غار کے سرے پر قریش کے نوجوانوں کو دیکھااس وقت انہوں نے جھک کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کان میں کہ ا کہ اگر ان میں سے کوئی اپنے قدموں کے نیچے نظر کر لے تو یقینا ہمیں دیکھ لے گا۔ اس وقت ابوبکرؓ اپنی جان کی مطلق پروا نہ تھی اگر خیال تھا تو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اور اس دین کا جس کی خاطر انہوں نے اپنی جان کی کوئی حقیقت نہ سمجھی تھی۔ انہیں نظر آ رہا تھا کہ اگر اس وقت خدانخواستہ کفار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قابو پا لیا تو دین اسلام کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اپنی ذات کا خیال انہیں آ ہی کس طرح سکتاتھا جب انہوں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اور دین اسلام کے عشق میں بالکل جذب کر لیا تھا۔
وہ تو اپنے نفس کو پہلے ہی عشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں فنا کر چکے تھے۔ اس لیے اللہ کے رستے میں دوبارہ فنا ہونے سے انہیں کیا ڈر ہو سکتا تھا؟
تاریخ کے مطالعے سے متعدد ایسے اشخاص کے حالات معلوم ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی جانیں اپنے سرداروں اور بادشاہوں پر قربان کر دیں۔ آج کل بھی ایسے اکثر زعماء ہیں جنہیں ان کے معتقدین انتہائی تقدیس کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور انہیں اپنی جانوں سے زیادہ عزیز سمجھتے ہیں۔ لیکن ابوبکرؓ نے غار میں جو نمونہ دکھایا وہ ان سب سے الگ اور بالا حیثیت رکھتا ہے۔ کیا بادشاہوں اور لیڈروں کی تاریخوں میں ایسی کوئی مثال پائی جاتی ہے کہ ان کی رعایا معتقدین میں سے کسی فرد نے ان کے لیے ایسی قربانیاں پیش کی ہوں؟ ایثار و قربانی میں اس کی مثال کی نظیر پش کرنے سے تاریخ عاجز ہے۔
جب کفار کا جوش و خروش کچھ ٹھنڈا پڑا اور انہیں ان دونوں کے ملنے سے مایوسی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم او ر ابوبکرؓ غار سے نکلے اوریثرب کا رخ کیا۔ راستے میں بھی بعض ایسے واقعات پیش آئے جو خطرے کے لحاظ سے واقعے سے کم نہ تھے جو غار میں پیش آ چکا تھا۔ ابوبکرؓ نے مدینہ سے نکلتے ہوئے پانچ ہزار درہم بھی ساتھ لے لیے تھے جو تجارت کے منافع میں سے ان ے پاس باقی بچ گئے تھے۔
مکمل تحریر >>

اسرا اور معراج کے موقع پر


اسراء کے موقع پر ابوبکرؓ نے جس قوت ایمانی کا ثبوت دیا وہ نہ صر ف حیر ت انگیز ہے بلکہ اس نے بہت سے مسلمانوں کو ٹھوکر کھانے سے بچا لیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مکہ سے بیان فرمایا کہ رات کو آپ خانہ کعبہ سے بیت المقدس لے جایا گیا اور وہاں آپؐ نے مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھی تو مشرکین نے آپ کا مذاق اڑانا شروع کیا اور کہنے لگے کہ مکہ سے شام تک کا فاصلہ ایک مہینے کا ہے یہ کس طرح ممکن ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت المقدس جائیں اورایک ہی رات میں دو مہینوں کی مسافت طے کر کے واپس آ جائیں۔ بعض مسلمانوں کے دلوں میں بھی تردد پیدا ہو گیا کہ انہوں نے جا کر ابوبکرؓ سے سارا واقعہ بیان کیا۔ یہ سن کر کہ ابوبکرؓ پر دہشت سی طاری ہو گئی ہے ور وہ کہنے لگے کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بہتان باندھتے ہو لوگوں نے کہا’‘ہم جھوت نہیں کہہ رہے آپ نے ابھی مسجد میں یہ بات بیان فرمای ہے‘‘یہ سن کر ابوبکرؓ نے کہا ’’اگر آپ نے واقعی یہ کہا ہے تو بالکل سچ کہا ہے جب اللہ آسمان سے چند لمحوں میں وحی نازل فرما دیتاہے تو اس کے لیے رات بھر میں مکہ سے بیت المقدس لے جانا اور واپس لے آنا کیا مشکل ہے‘‘۔ یہ کہہ کر وہ مسجد میں آئے۔ جب آپ مسجد اقصیٰ کا حال بیان کر کے فارغ ہوئے توا بوبکرؓ نے کہا ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ بالکل سچ فرماتے ہیں‘‘۔
اس وقت آپ ؐ نے ابوبکرؓ کو صدیق کا لقب عطا فرمایا۔
اگر ابوبکرؓبھی اسراء کے واقعے میں شک کا اظہار کرتے تو یقینا بہت سے مسلمان مرتد ہوجاتے اور جو لوگ اسلام پر قائم بھی رہتے ان کے دلوں میں بہرحال شکوک و شہبات گھر کر جائ۔ لیکن ابوبکرؓ کی قوت ایمانی نے نہ صرف لوگوں کو مرتد ہونے سے بچایا بلکہ ان کے دلوں کو بھی شکوک و شبہاب سے پاک کر دیا۔ یہ واقعات دیکھ کر بہر صور ت ماننا پڑے گا کہ ابوبکرؓ کے زریعے دین اسلام کو جو تقویت پہنچی وہ حضڑت حمزہؓ اور حضرت عمرؓ کے ذریعے سے بھی حاصل نہ ہو سکی۔ او ر یہی وجہ تھی کہ ان کی خدمت کا اعتراف کرتے ہوئے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ
لوکنت متخذا من العبداد خلیلا لا تخذت ابابکر خلیلا
’’یعنی اگر میں بندوںمیں سے کسی کو گہرا اور دلی دوست بناتا تو یقینا ابوبکرؓکو بناتا(گہرااوردلی دوست سوا خدا کے اور کوئی نہیں ہو سکتا)۔

اسراء کے بعد
اسراء کے واقعے کے بعد ابوبکرؓ ساراو قت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کمزور اور مظلوم مسلمانوں کی اعانت اور اسلام کی تبلیغ میں گزارنے لگے۔ تجارت صرف اسی حد تک کرتے جس سے اپنا اوراپنے اہل و اعیال کا گزارہ چلا سکیں۔ اس دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوبکرؓ اور دوسرے مسلمانوں پر قریش کے مظالم میں زیادتی ہی ہوتی چلی گئی …قریش نے ایذا رسانی میں کوئی دقیقہ نہ چھوڑا۔ یہ حالت دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو اجازت دے دی کہ اگر وہ چاہیں تو حبشہ کی طرف ہجرت کر جائیں ۔ چنانچہ متعدد مسلمان ان مظالم سے تنگ آ کر مکہ سے حبشہ کی طر ہجرت کر گئے لیکن ابوبکرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ چھوڑنا گوارانہ کیا۱؎۔ اور بدستور مکہ میں رہ کر تبلیغ کرنے مظلوموں کی مدد کرنے اورانہیں بے دینوں سے چھڑانے کے کام میں سرگرمی سے مصروف رہے اور مکہ میں اسلام پھیلانے کا فرض پوری خوبی اورتن دہی سے انجام دیتے رہے ۔
ایک روایت یہ ہے کہ ابوبکر ؓ بھی حبشہ کی جانب ہجرت کر نے کے ارادے سے روانہ ہوئے تھے۔ راستے میں مکہ کا ایک سردار ابن دعنہ انہیں ملا۔ جب اسے ان کے ارادے کا علم ہوا تو بولا آپ ہجرت نہ کریں آپ صلہ رحمی کرتے ہیں نہایت صادق القول ہیں محتاجوں کی مدد کرتے ہیں اوربیکسوں اور مظلوموں کا دکھ دورکرتے ہیںَ ۔ میں آپ کو پناہ دینا چاہتاہوں آپ واپس مکہ چلیے۔ چنانچہ وہ مکہ آ گئے۔ ابن دعنہ نے اپنے وعدے کے مطابق کعبہ میں اعلان کر دیا کہ میں نے ابوبکرؓکو پناہ دے دی ہے۔ قریش نے بھی اس پناہ کو قبو ل کر لیا۔ ابوبکرؓ نے اپنے گھر کے صحن میں ایک مسجد بنا رکھی تھی جہاں وہ نماز پڑھتے اور پر سوز لہجے میں قرآن مجید کی تلاوت کرتے تھے مشرکین کی عورتیں اور بچے تلاوت کی آواز سن کر ان کے گرد جمع ہو جاتے اوربڑے انہماک سے قرآن مجید سنتے رہتے تھے جب قریش نے یہ دیکھا توانہیں خدشہ پیدا ہو گیا کہ کہیں ان کی عورتیں اور بچے ابوبکرؓ کی تلاوت سن کر اسلام کااثر قبول نہ کر لیں ۔ انہوںنے ابن دعنہ سے شکایت کی جس پر اس نے اپنی پناہ واپس لے لی او ر ابوبکرؓ پھر کفار کے مظالم کا نشانہ بن گئے۔
ابوبکرؓ نے حسب معمول حضرت حمزہؓ حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ جیسے سربرآوردہ مسلمانوںسے مل کر کمزور مسلمانوں کو قریش کے مظالم سے محفوظ رکھا۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے اپنے وسیع اثر و رسوخ کے ذریعے سے کفار میں ایسے اشخاص سے بھی تعلق قائم کیا جو بتوں کو پوجنے اوراسلام کی مخالفت کرنے کے باوجو د قریش کی ان ایذ ا رسانیوں کو جو وہ غریب و بے کس مسلمانوں پر روا رکھتے تھے نفرت کی نگاہوں سے دیکھتے تھے۔ انہوں نے انہیں اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ اپنے بھائی بندوں کی ان انسانیت سوز حرکات پر برملا نفرت کا اظہار کریں گے اور انہیں ایسا کرنے سے روکیں۔
مکمل تحریر >>

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید و حمایت


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مرتبہ قریش میں بہت بلند تھا۔ آپ کا شمار قبیلے کے معز ز ترین افراد میں ہوتاتھا۔ علاوہ ازیں بنو ہاشم بھی آپ کی حمایت پر تھے لیکن ان باتوں کے باوجود آپ قریش کی ایذ ا رسانیوں سے بچ نہ سکے۔ یہی حال ابوبکرؓ کا بھی تھا۔ انہیں بھی شہر کا سربرآوردہ فرد ہونے کے باوجوود محض اسلام لانے کے جرم میں قریش کے مظالم کانشانہ بننا پڑتاتھا۔ لیکن اساس پر جب کبھی آپ نے دیکھا کہ قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تکلیفیں پہنچا رہے ہیں تو انہوں نے جان تک کی پرواہ نہ کرتی ہوئے اپنے آپ کو حضورؐ کے بچانے کے لیے پیش کر دیا۔
ابن ہشام اپنی سیرت میں لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قریش کے ہاتھوں سب سے زیادہ ترکلیف ا س وقت پہنچی جب بت پرستی کی مذمت میں آیات نازل ہوئیں۔ وہ لوگ خانہ کعبہ میں اکٹھے ہوئے اور ایک شخص دوسرے سے کہنے لگا کہ تم نے سن لیا محمد ہمارے بتوں کے متعلق کیا الفاظ کہتا ہے۔ یہ محض تمہاری کمزوری کی وجہ سے ہوا ہے۔ وہ تمہارے دین اور تمہارے بتوں کے متعلق جس قسم کے الفاظ چاہتا ہے کہتا ہے لیکن تم خاموش رہتے ہو۔ ابھی وہ یہ باتیں کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ادھرسے گزرے۔ جب انہوں نے آپ کو دیکھاتو ایک دم آپ پر چھپٹ پڑے اور کہنے لگے’’ تم ہمارے بتوں کے متعلق یہ الفاظ استعمال کرتے ہو ؟ ‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’بے شک میں نے یہی الفاظ کہے ہیں‘‘َ اس پر ایک آدمی نے آپ کی چادر چھین لی اور اسی سے آپ کا گلا گھونٹنے لگا ۔ اتنے میں ابوبکرؓ بھی ادھر سے گزرے انہو ں نے یہ دیکھ کر کفار کے نرغے سے آپؐ کو چھڑایا اور ان سے کہا’’کیا تم ایک شخص کو محض اس لیے قتل کر ڈالنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا ر ب اللہ ہے؟‘‘ راوی ذکر کرتاہے کہ یہ وہ دن تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کفارکے ہاتھوں سے سخت ترین تکلیف پہنچی۔
صرف اسی موقع پر نہیں بلکہ بعد میں بھی اکثر مواقع پر ابوبکرؓ نے خدا کی وحدانیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت پر ایمان کامل کا ثبوت دیا۔ ان کے اسی جذبہ ایمان کو دیکھ کر بعض مستشرقین کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت کا اعتراف کرنا پڑتاہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ابوبکرؓ کو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی قسم کے دنیاوی فائدے کی توقع نہ تھی۔ اس کے برعکس وہ شب و روز یہ دیکھتے تھے کہ مکہ والے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوہر قسم کی تکلیفیں دیتے آپ کا مذاق اڑاتے اور آپ کے ماننے والوں کو تنگ کرتے ہیں۔ اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دعوے میں جھوٹے ہوتے تو ابوبکرؓ جیسے عقل مند اور مدبر شخص کو آپ ؐ پر ایمان لانے آپؐ کے دعوے کی تصدیق کرنے آپؐ کی ہر طرح کی مد د کرنے اور قریش میں خود اپنی پوزیشن خراب کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ وہ محض اپنی عقل و فراست کے بل بوتے پر اپنے اندر وہ ایمان پیدا نہ کر سکتے تھے کہ جو انسان کوتمام خطرات سے بے پروا کر کے اس میں شدید تڑپ اور دھن پیدا کرتا ہے جس ایمان کا مظاہرہ ابوبکرؓ نے کیا اور جس طرح انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہر قول و فعل کی تصدیق کی وہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ اسلام یقینا خدا ک یطرف سے ہے کیونکہ ایک باطل مذہب اور ایک جھوٹا شخص کبھی اپنے ماننے والوں کے دلو ں میں ایسا ایمان پیدا نہیں کر سکتا۔

خادم اولین
بے شک حضرت حمزہ بن عبدالمطلبؓ اور حضرت عمر بن خطابؓ نے بھی اسلام کی سربلندی اور اس کی اشاعت کے لیے زبردست کوشش کی اوران کے ذریعے سے دین کو بے حد تقویت پہنچی۔ لیکن اس کے باوجود ہمیں یہ کہنے میں ذرا تامل نہیں کہ ابوبکرؓہی وہ شخص تھے جنہیں اللہ نے سب سے پہلے اپنے دین کی خدمت کے لیے چنا۔ دین اسلام اور اللہ کے رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس نیک نفس اور انتہائی رقیق القلب شخص کے دل میں وہ قوت ایمانی پید اکر دی تھی کہ جس کا پید اکرنا دنیا میں کسی بھی طاقت کے بس میں نہ تھا۔ اور ایک ابوبکرؓ کی مثال سے معلوم ہو جاتا ہے کہ قوت ایمانی اپنے اندر کتنا زبردست اثر رکھتی ہے۔

غربا ء اور مساکین اور مظلوموں کی امداد
ابوبکرؓ نے اپنے دوستوں اور ملنے جلنے والوں کو تبلیغ کرنے اور ان بیکس و مظلوم مسلمانوں سے ہمدردی کرنے پر ہی اکتفانہ کیا جو قریش مکہ کے ہاتھوں محض اسلام لانے کی وجہ سے سخت مظالم برداشت کر رہے تھے بلکہ انہوں نے اپنا مال بھی ان غریب لوگوں پر دل کھول کر خرچ کیا جنہیں اللہ نے اسلام کی جانب رہنمائی کی تھی اور دشمنان حق نے انہیں تکالیف پہنچانے اور ان پر نت نئے مظالم توڑنے میں کوی کسر اٹھا نہ رکی تھی۔ جس روز وہ اسلام لائے ا ن کے پاس چالیس ہزار درہم موجود تھے۔ تجارت کاسلسلہ انہوں نے اسلام لانے کے بعد بھی جاری رکھا اور اس سے وافر نفع حاصل کیا لیکن اس کے باوجود جب دس سال بعد ہجرت کا وقع پیش ایا تو ان کے پاس صرف پانچ ہزار درہم باقی تھے۔ اس دوران میں انہوں نے جو کچھ کمایا اور جو کچھ پہیل پس انداز کر رکھا تھا وہ سب کا سب اللہ کی راہ میں اسلام کی تبلیغ اور ان کے غلاموں کو آزاد کرانے میں خرچ کر دیا جو محض اسلام لانے کے جرم میں اپنے بے دین آقائوں کے ہاتھوں ہولناک سختیاں برداشت کر رہے تھے۔
ایک روز انہوں نے بلال کو دیکھاکہ ان کے آقا نے انہیں دوپہر کے وقت شدید دھوپ میں تپتی ریت پر لٹا یا اورا ن کے سینے پر پتھر رھ کر کہا کہ اسلام چھوڑ دینے کا اعلان کرو ورنہ اسی طرح مار ڈالوں گا۔ یہ دردناک منظردیکھ کر ابوبکرؓ نے انہیں ان کے آقا سے خرید کر آزاد کر دیا۔ا ااسی طرح ایک اور غلام عامر بن فہیرہ کو مسلمان ہونے کی وجہ سے سخت تکلیفیں پہنچائی گئیں۔ ابوبکرؓنے انہیں بھی خریدکر اپنی بکریوں کی نگہداشت اور چرانے کا کام سپر د کر دیا اسی طرح انہوں نے اور بھی بیسیوں غلام خرید کر انہیں اللہ کی راہ میں آزاد کیا۔
مکمل تحریر >>

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق اور قبولِ اسلام


ابوبکر ؓ کاقیام مکہ کے اس محلے میں تھا جہاں حضرت خدیجہؓ بنت خویلد اور دوسرے بڑے بڑے تاجر سکونت پذیر تھے۔ اور جن کی تجارت یمن و شام تک پھیلی ہوئی تھی۔ اسی محؒے میں رہنے کے باعث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کا رابطہ پیدا ہو گیا اوردونوں ایک دوسرے کے گہرے دوست بن گئے۔ یہ اس زمانے کی با ہے کہ جب آپ حضرت خدیجہؓ سے شادی کرنے کے بعد انہیں کے گھر منتقل ہو گئے تھے۔
ابوبکرؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دو سال چند ماہ چھوٹے تھے۔ گمان غالب ہے کہ یہ ہم عمری میں پیشے میں اشتراک‘ طبیعتوں میں یک جہتی قریش کے عقائد فاسدہ سے نفرت اور بری عادتوں سے اجتناب ان تمام باتوں نے دونوں کی دوستی کو پروان چڑھانے میں بہت مدد دی۔ مورخین اور راویوں میں دونوں کی دوستی کے متعلق بھی اختلاف ہے۔ بعض تو یہ لکھتے ہیں کہ بعثت سے پہلے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ابوبکرؓ کی گہری دوستی ہو چکی تھی اور یہی دوستی یک جہتی ان کے سب سے پہلے اسلا م لانے کا محرک ہوئی۔ لیکن بعض مورخین کا خیال یہ کہ دونوں کے تعلقات میں استواری اسلام کے بعد ہوئی‘ اسلام سے پہلے دونوں کے تعلقات صرف ہمسائیگی اور ذہنی میلانات و رجحانات میں یکسانی تک محدود تھے۔ اس کی دلیل وہ یہ دیتے ہیں کہ بعثت سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عزلت اور گوشہ نشینی پسند کرتے تھے اور انہوں نے کئی سال سے لوگوں سے ملنا جلنا ترک کر رکھا تھا۔
جب اللہ نے آپ کو رسالت کے شرف سے مشرف کیا تو خیال آیا کہ ابوبکرؓ کو اللہ نے عقل و خرد سے حصہ وافر دے رکھا ہے اس لیے سب سے پہلے انہیں اسلام کی تبلیغ کرنی چاہیے۔ چنانچہ آپ ان کے پاس گئے اور انہیں اللہ کی طرف بلایا جس پر ابوبکرؓ نے کسی تردد کا اظہار نہ کیا اور ایک لمحے کے توقف کے بغیر ایمان لے آئے۔ اس وقت سے دونوں کے درمیان تعلقات کا آغاز ہوا اور ان تعلقات میں روز بروز استواری پیدا ہو تی چلی گئی۔ ابوبکرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و الفت میں اپنے آپ کو سرتاپا غرق کردیا اورایمان کا وہ نمونہ پیش کیاجس کی نظیر رہتی دنیا تک نہ پیش کی جا سکے گی۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ جب میں نے ہوش سنبھالا تو اپنے والدین کودین اسلام کی محبت میں ترقی کرتے ہوئے دیکھا۔ کوئی دن ایسا نہ تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے گھر صبح و شام تشریف نہ لاتے ہوں۔
آغاز اسلام سے ہی ابوبکرؓ اپنے اندردین حق کی اشاعت و ترویج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امداد و اعانت کا غیر معمولی جذبہ رکھتے تھے۔ اور ہر وقت نہایت اخلاص سے اس میں مشغول رہتے تھے۔ چونکہ ابوبکرؓ عوام و خواص میںبہت ہر دل عزیز تھے اور لوگوں کے دلوں میں ان کی بے حد عزت و عقیدت تھی اس لیے بہت جلد متعدد اشخاص ان کی تبلیغ سے اسلام لے آئے۔ عثمان بن عفانؓ‘ عبدالرحمن بن عوفؓ‘ طلحہؓ بن عبیداللہ‘ سعیدؓ بن ابی وقاص اور زبیرؓ بن عوام جواولین صحابہؓ میں سے ہیں ابوبکرؓ ہی کی کوششوںسے اسلام لائے تھے۔ بعد میں بھی ابوعبیدہ بن جراحؓ ۱؎ اور اکثر دوسرے لوگ ان کی تبلیغ کے نتیجے میں مسلمان ہوئے۔

بلا تردد قبول اسلام کا سبب
ابوبکرؓ کے اسلام لانے کا واقعہ پڑھتے ہی طبعاً دل میں خیال آتاہے کہ یہ بڑی ہی حیرت انگیز بات ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کرتے وقت کسی ہچکچاہٹ اور تردد کا اظہار نہ کیا اورجونہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ا ن کے سامنے اسلام پیش کیا تو انہوں نے فوراً بے پش و پیش اسے قبول کر لیا اور چنانچہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
’’میں نے جس کسی کو اسلام کی طرف بلایا اس نے کچھ نہ کچھ تردد اور ہچکچاہٹ کا اظہار کیا سوا ابوبکرؓبن ابی قحافہ کے۔ جب میں نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے بغیر کسی تامل کے فوراً میری آواز پر لبیک کہا‘‘۔
صرف یہی امر تعجب انگیز نہیں کہ ابوبکرؓ نے توحید کی دعوت سنتے ہی اس امر پر لبیک کہا بلکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غار حرا میں فرشتے کے نزول اوروحی اترنے کا واقعہ انہیں سنایا تو بھی انہوںنے خفیف ترین شک کا بھی اظہار نہ کیا اوربے پس و پیش آپ کی تمام باتوں کا یقین کر لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ابوبکرؓ مکہ کے ان عقل مند انسانوں میں سے تھے جو ایک طرف بتوں کی عبادت کو حماقت سے تعبیر کرتے تھے ۔ اور دوسری طرف دل و جان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت‘ امانت ‘ نیکی اور پاک بازی کے قائل تھے۔ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتیں سنیں تو کوئی شک دل میں لائے بغیر وہ فوراً آپ پر ایمان لے آئے کیونکہ انہیں نہ صرف آپ کی صداقت پر کامل یقین تھا بلکہ آپ کی پیش کردہ تمام باتیں بھی سراسر حکمت پر مبنی نظر آتی تھیں اور وہ انہیںعقل و فکر کے تقاضوں پر پورا اترتے دیکھتے تھے۔
یہ سب کے سب بلند پایہ صحابیؓ اور عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ ابوبکرؓ نے جن لوگوں کو مسلمان کیا وہ تمام اپنے ایمان و اخلاص میں بے نظیر ثابت ہوئے ۔

جرات ایمانی
ہمارے نزدک ان کے بلا توقف اور بلا تردد اسلام قبول کرنے سے بھی زیادہ تعجب انگیز امر ان کی وہ بے نظیر جرات ہے جو اسلام قبو ل کرتے ہی انہوں نے اس کی اشاعت کے سلسلے میںدکھائی۔ وہ نہ صرف دل و جان سے توحید و رسالت پر ایمان لائے بلکہ علانیہ ان باتوں کی تبلیغ بھی شرو ع کر دی۔ اور اس بات کا مطلق خیال نہ رہا کہ ا س طرح آئندہ چل کر ان کے لیے کتنے خطرات پیدا ہوں گے۔ ان کا شمار مکہ کے معززتاجروں میں ہوتاتھا اورایک تاجر کے لیے ضروری ہے کہ وہ لوگوں سے گہرے دوستانہ و روادارانہ تعلقات رکھے اور ان باتوں کے اظہار سے احتراز کرے کہ جو عوا م کے مروجہ عقائد واعمال کے خلاف ہوں مبادا ا س کی تجارت پر برااثر پڑے ۔ دنیامیں اس قسم کے مظاہر عام طورپر نظر آتے ہیں کہ اکثر لوگ عامتہ الناس کے عقائد و خیالات پر اعتقاد نہ رکھنے کے باوجود نہ صرف اپنے فائدے‘ مصلحت یا عافیت کی خاطر منہ میں گھگیاں ڈانے خامو ش بیٹھے رہتے ہیں بلکہ بسا اوقات اپنے ذاتی خیالات کے برعکس عوام کی انہی باتوں کی تائید کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جنہیں وہ اپنے دل میں غلط فضول اور لا یعنی سمجھے ہیں۔
عام لوگوں ہی کا یہ حال نہیں بلکہ وہ لوگ بھی جنہیں قوم کی قیادت کا دعویٰ ہوتاہے۔ اور جو اس کے لیے راہ عمل متعین کرنے کے مدعی ہوتے ہیں بالعموم رائے عامہ کی کھل کھلا مخالفت کرنے کی جرات نہیں کر سکتے۔ لیکن ابوبکرؓ نے اسلام قبول کرنے کے بعد پہلے ہ دن سے جو عظیم الشان نمونہ دکھایا ہے وہ نظیر نہیں رکھتا اگر وہ خفیہ طورپرصرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق پر اکتفا کرتے تو اورتجارت میں نقصان کے ڈ رسے اسلام کو مخفی رکھتے تو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شاید کوئی اعتراض نہ ہوتا۔ اورآپ ان کی طرف سے محض اسلام کے اظہار ہی کو کافی سمجھتے لیکن ابوبکر ؓ نے ایسا نہ کیا۔ وہ علانیہ اسلام لائے اور معاً بعد اپنی ساری زندگی اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر دی ۔ انہوں نے نہ اپنی تجارت کا خیال کیا اورنہ کفار مکہ کی مخالفت او ایذا رسانی کا بلکہ بڑے انہماک سے تبلیغ دین میں مشغول ہو گئے۔ ایسا جرات مندانہ اقدام صرف وہی شخص کرسکتا ہے کہ جسے دین کے راستے میںنہ جان کی پروا ہو نہ مال کی اور جو مال و منال اور دنیوی وجاہت و عزت کو دین کی خدمت میں اس کی تبلیغ و اشاعت کے مقابلے میں بالکل ہیچ سمجھتا ہو۔
مکمل تحریر >>

حضرت ابو بکر صدیق - ابتدائی حالات


حضرت ابوبکرؓ قبیلہ تیم بن مرہ بن کعب سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا نسب آٹھویں پشت پرمرہ پر جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مل جاتاہے تفصیل یہ ہے:
کلاب…قصعی…عبدمناف…ہاشم…عبدالمطلب…عبداللہ…محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
مرہ
تیم…سعد…کعب…عمرو…عامر…عثمان ابوقافہ…ابوبکرصدیقؓ
مکہ میں بسنے والے تمام قبائل کو کعبہ کے مناصب میں سے کوئی نہ کوئی منصب ضرور سپرد ہوتاتھا۔ بنو عبد مناف کے سپر حاجیوں کے لیے پانی بہم رسای اورانہیں آسائش پہنچانے کے انتظامات موجودتھے۔ بنع عبدالدار کے ذمے جنگ کے وقت علم برداری کعبہ کی دربانی اور دارالندوہ کا انتظام تھا۔ لشکروں کی سپہ سالاری خالد بن ولید کیاجداد بنو مخزوم کے حصے میں آء تھی۔ خوں بہا اور دیتیں اکٹھا کرنا بنو تیم بن مرہ کا کام تھا جب ابوبکرؓجوان ہوئے تو یہ خدمت ان کے سپرد کی گئی۔ خوں بہا اور دیتوں کے تمام مقدمات ان کے سامنے پیش ہوتے تھے اورجو فیصلہ وہ کرتے تھے اسے قریش کو منظور کرنا ہوتا تھا۔ خون بہا کے متعلق تمام اموال بھی ان کے پاس جع ہوتے تھے۔ اگر ان کے سوا کسی اور شخص کے پاس جمع ہوتے تھے تو قریش اسے تسلیم نہ کر تے تھے۔
بنو تیم کے جو اوصاف کتابوں میں بیان ہوئے ہیں وہ دوسرے قبائل سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ ان میں کوئی ایسا وصف مخصوص نہ پایاجاتا تھا جو انہیں ان کے ہم عصر دوسرے قبائل سے متاز کر سکے ۔ شجاعت سخاوت مروت‘ بہادری اورہمسایوں کی حمایت و حفاظت کی جو صفات دوسرے قبائل عرب میں موجود تھیں وہی بنوتیم میں بھی موجود تھیں۔

نام ‘ لقب اور کنیت
حضر ت صدیقؓ کا نام عبداللہ تھا اور کنیت ابوبکرؓ والد کی کنیت ابوقحافہ تھی اورنام عثمان بن عامر۔ والدہ کی کنیت ام الخیر تھی اور نام سلمیٰ بنت صخر بن عامر۔ بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ اسلام لانے سے قبل ابوبکرؓ کا نام عبدالکعبہ تھا لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ مشر کانہ نام تبدیل کر کے عبداللہ رکھ دیا۔ بعض روایات کے مطابق انہیں عتیق بھی کہتے تھے وجہ یہ تھی کہ آپ کے والدہ کے لڑکے زندہ نہ رہتے تھے۔ انہوںنے نذر مانی کہ اگر ان کے لڑکا پیدا ہوا اور زندہ رہا تو وہ اس کا نام عبدالکعبہ رکھیں گی اوراسے کعبہ کی خدمت کے لیے وقف کر دیں گی۔ چنانچہ جب ابوبکرؓ پیدا ہوئے تو انہوںنے نذر کے مطابق ان کا نام عبدالکعبہ رکھا۔ جوان ہونے پروہ عتیق(آزاد کردہ غلام) کے نام سے موسوم کیے جانے لگے کیونکہ انہوںںے موت سے رہائی پائی تھی۔ بعض راویوں کا کہنا ہے کہ عتیق کے لقب انہیں نہایت سرخ و سفید ہونے کے باعث دیا گیا۔ اوررویات میںآتا ہے کہ ان کی بیٹی حضرت عائشہ صدیقہؓ سے بعض لوگوں نے پوچھا کہ ان کے والد کو عتیق کیوں کہا جاتا ہے تو انہوںنے فرمایا:
’’ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا ھذا عتیق اللہ من النار (اللہ کا یہ بندہ آگ سے آزادہ شدہ ہے)۔‘‘
یہ روایت بھی اس طرح بھی آئی ہے کہ ایک مرتبہ ابوبکرؓ چند لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہیں دیھک کر آپ نے فرمایا:
’’جو چاہتا ہو کہ آگ سے آزاد شدہ بندہ دیکھے وہ ابوبکر کو دیکھ لے۔ ابوبکرؓ ان کی کنیت تھی اور عمر بھر اپنی کنیت ہی سے موسوم کیے جاتے رہے۔ لیکن اس کنیت کا حقیقی سبب معلوم نہ ہو سکا۔ بعد میں آنے واے مورخین کہتے ہیں یہ کنیت اس لیے پڑی کہ آپ سب سے پہلے اسلام لائے
انہ بکر الی الاسلام قبل غیرہ

بچپن او ر جوانی
بچپن کا زمانہ انہوںنے ااپنے دوسرے ہم سن بچوں کے ساتھ مکہ کی گلیوں میں کھیلتے گزارا۔ جو ان ہونے پر ان کی شادی قتیلہ بنت عبدالعزیٰ سے ہوئی۔ ان سے عبداللہ اور اسماء پیدا ہوئے۔ اسماء کا لقب بعد میں ذات النطاقین قرار پایا۔ قتیلہ کے بعد انہوںنے ام رومان بنت عامر بن عویمر سے شادی ی ان سے عبدالرحمن اور عائشہؓ پیدا ہوئے۔ اس کے بعد مدینہ آ کر پہلے انہوںنے حبیبہ بنت خارجہ سیشادی کی پھر اسماء بنت عمیس سے اسماء کے بطن سے محمد پیدا ہوئے۔
مورخین نے اس کنیت سے مشہور ہونے کی ایک اور وجہ بھی لکھی ہے کہ عربی میں بکر جوان اونت کو کہتے ہیں ۔ چونکہ انہیں اونٹوں کی غور و پرداخت سے بہت دلچسپی تھی اوران کے علاج و معالجے میں بہت واقفیت رھتے تھے اس لیے لوگوں نے انہیں ابوبکرؓ کہنا شروع کر دیا جس کے معنی ہیں اونٹوں کا باپ .

پیشہ ‘ حلیہ اور اخلاق و عادات
قریش کی ساری قوم تجارت پیشہ تھی او راس کا ہر فرد اسی شغل میں مشغول تھا چنانچہ ابوبکرؓ بھی بڑے ہو کر کپڑے کی تجارت شروع کر دی جس میں انہیں غیر معمولی فروغ حاصل ہوا اور آپ کا شمار بہت جلد ملکے کے نہایت کامیاب تاجروں میں ہونے لگا۔ تجارت کی کامیابی میں ان کی جاذب نظر شخصیت اور بے نظیر اخلاق کو بھی بڑا خاصا دخل تھا۔
ان کارنگ سفید بدن دبلا داڑھی خشخاشی‘ چہرہ شگفتہ‘ آنکھیں روشن اور پیشانی فراخ تھی وہ بہترین اخلاق کے مالک‘ رحم دل اور نرم خو تھے ہوش و خرد عاقبت اندیشی اور بلندی فکر و نظر کے لحاظ سے مکہ کے بہت کم لوگ ان کے ہم پلہ تھے۔ عقل و خرد جہاں انسان کے قلب و نظر کو جلا بخشتی ہے وہاں بسا اوقات بے راہ روی کا موجب بھی ہو جاتی ہے۔ لیکن اللہ کی طرف سے ابوبکرؓ کو قلب سلیم ودیعت ہوا تھا۔ اسی لیے وہ اپنی قوم کے اکثر گمراہ کن اعتقادات اور اسلام دونو ں زمانوں میں شراب کا قطرہ تک نہ چکھا اور حالانکہ اہل مکہ راب کے عادی ہیں نہیں بلکہ عاشق تھے۔ ابن ہشام اپنی سیرت میں ان کے اخلاق کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ابوبکر! اپنی قوم میں بہت ہر دل عزیز تھے علم الانساب کے بہت بڑے ماہر تھے۔ قریش مکہ کے تمام خاندان کے نسب انہیں ازبر یاد تھے اورہر قبیلے کے عیوب ونقائص اور محامد و فضائل سے بخوبی واقف تھے۔ اس وصف میں قریش کا کوئی فرد ان کا مقابلہ نہ کر سکتاتھا۔ وہ خلیق‘ ایمان دار اور ملنسار تاجر تھے۔ قوم کے تمام لوگ ان کے اعلیٰ اخلاق اور عمدہ برتائو کے معترف تھے اور انہیں فضائل کے باعث ان سے بے حد محبت کرتے تھے‘‘۔
مکمل تحریر >>

سلسلہ تاریخِ اسلام - مصادر و ماخذ


تاریخ اسلام درحقیقت ایک مستقل علم یا فن ہے جو اپنے پہلو میں ہزار ہا ضخیم کتابیں بالغ نظر اور عالی مقام مصنفین کی لکھی ہوئی رکھتا ہے،عام طور پر مسلمان مؤرخین نے اپنے ہم عہد سلاطین یا کسی ایک ملک یا کسی ایک قوم یا کسی ایک سلطنت یا کسی ایک سلطان یا کسی ایک عظیم الشان واقعہ کی تاریخیں جُدا جُدا لکھی ہیں، بعض مؤرخین نے صرف علمائے اسلام،بعض نے صرف حکمائے اسلام بعض نے صرف فقرائے اسلام کی سوانح عمریاں ترتیب دی ہیں، غرض اس قسم کی مستند تاریخی کتابیں ہزارہا سے کم ہر گز نہیں ہیں، اس عظیم الشان ذخیرہ اور مجموعہ کا نام تاریخ اسلام یا فن تاریخ اسلام قرار دیا جاسکتا ہے اور جوں جوں زمانہ گذرتا جاتا ہے اس ذخیرہ کتب میں اضافہ ہوتا جاتا ہے،اسلامی سلطنتوں اوراسلامی ملکوں کی تعداد بھی اس قدر زیادہ ہے کہ اگر ایک ایک اسلامی ملک اورایک ایک اسلامی سلطنت کی ایک ہی ایک تاریخ انتخاب کی جائے تو یہ منتخب مجموعہ بھی دوچار الماریوں میں نہیں ؛بلکہ کتب خانہ کے کئی کمروں میں سما سکتا ہے ،اُردو زبان میں ایک متوسط درجہ کی تاریخ مرتب کرنا درحقیقت تاریخ اسلام کی کتابوں کا عطر نکالنا اورخلاصہ درخلاصہ کرنا ہے،کسی بہت بڑے منظر کا فوٹو ایک کار ڈ پر لے لینا یا کسی عظیم الشان عمارت کی عکسی تصویر کو دانۂ تسبیح کے سوراخ میں رکھ دینا بہت ہی آسان کام ہے لیکن تاریخ اسلام کو کسی ایک کتاب میں جس کی ضخامت صرف دو ہزار صفحات کے قریب ہو مختصر کردینا بے حد دشوار ارنہایت مشکل کام ہے.
سوشل میڈیا کی دنیا انتہائی فاسٹ دنیا ہے، عام سائٹس یوذر کی طرح یہاں لمبی تحاریر سے پڑھنے کا رجحان نہیں ہے ، یوذر کسی بھی پوسٹ کو ذیادہ سے ذیادہ پندرہ بیس سیکنڈ دیتے ہیں ، تحریر بہت اچھی ہو تو ایک دو منٹ دے دیتے ہیں، اسی ٹرینڈ کو دیکھتے ہوئے ہماری شروع سے روٹین یہی رہی کہ بلاوجہ کی تفصیلات سے بچا جائے اور اتنی بات کی جائے جس سے موضوع تشنہ نا رہے، ہمارے اس تاریخی سلسلہ کا بنیادی ماخذ اسی ترتیب کے مطابق تاریخ اسلام از مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی ہے، یہ اردو زبان میں تاریخ اسلام پر مستند و مشہور اور جامع ترین کتاب ہے، مصنف نے یہ کتاب کس طرح ترتیب دی کتاب سے اقتباس پیش ہیں ۔ لکھتے ہیں :
"جہاں تک واقعات کا تعلق ہے میں نے اس واقعہ اوراس زمانہ کی مستند سے مستند تاریخ کو تلاش کیا اور کئی کئی مؤرخین کی تاریخوں کو لے کر اُن کو پڑھ کر خود اُس واقعہ کی نسبت ایک صحیح اورپختہ رائے قائم کی اُس کے بعد پھر اپنے الفاظ میں اُس کو حتی الامکان مختصر طور پر لکھا ،جہاں کہیں مؤرخین کے اختلاف نے ایسی صورت اختیار کی کہ فیصلہ کرنا اورکسی ایک نتیجہ کو مرحج قراردینا دُشوار معلوم ہوا وہاں ہر مؤرخ کے الفاظ کو بجنسہ معہ حوالہ ترجمہ کردیا ہے ،جہاں کہیں استخراج نتائج اوراظہار رائے کی ضرورت محسوس ہوئی وہاں بلا تکلف میں نے اپنی رائے کا اظہار اوراہم نتائج کی طرف بھی اشارہ کردیا ہے۔۔صحابہ کرامؓ اور مابعد زمانہ کے اسی قسم کے مشاہیر کی نسبت جن کو کسی نہ کسی اسلامی فرقہ یا گرو سے کوئی خصوصی تعلق ہے حالات لکھنے میں میں نے کوشش کی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ایسی تفصیلات سے پرہیز کروں جو مسلمانوں کے اندر نا اتفاقی پیدا کرنے یا جمعیتِ اسلامی کو نقصان پہنچانے کا موجب ہوسکیں، لیکن اس احتیاط کو میں نے اس قدر زیادہ اہمیت ہر گز نہیں دی ہے کہ میری کتاب کی تاریخی حیثیت اورمیری مؤرخانہ شان کو کوئی صدمہ پہنچ سکے ۔"
آنحضرت صلی اللہ علیہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حالات میں میں نے سب سے زیادہ صحاح ستہ سے فائدہ اُٹھانا ضروری سمجھا ہے اور حدیث کی کتابوں کو تاریخ کی کتابوں پر ترجیح دی ہے ،تاریخ کی کتابوں میں تاریخ طبری، تاریخ الکامل ابن اثیر، تاریخ مسعودی،تاریخ ابو الضا،تاریخ ابن خلدون، تاریخ الخلفا سیوطی وغیرہ کا مابہ الاشتراک نکال کر درج کردیا ہے اوراسی ترکیب سے تاریخ کا بہترین خلاصہ درج کیا ہے،خلافت عباسیہ کے ضعف وانحطاط کا زمانہ شروع ہونے پر جس جس ملک میں اسلامی سلطنتیں قائم ہوئیں اُن سب کے حالات عموماً جُدا جُدا اورہم عہد مورخین کی کتابوں سے لئے ہیں، کہیں کہیں میں نے عیسائی مورخین کے حوالے بھی دئے ہیں اوران کی عبارتیں بھی نقل کردی ہیں لیکن وہ محض اثبات مدعا اور گواہ کے طور پر، عام طور پر میرا عقیدہ یہ ہے کہ عیسائیوں کی لکھی ہوئی تاریخیں مسلمان مورخین کی تاریخوں کے مقابل میں بہت ہی ادنیٰ درجہ کی ہیں اورہم کو اپنی تسکین قلب اور تحقیقِ حقیقت کے لئے اُن کی طرف ہرگز متوجہ نہیں ہونا چاہیے۔"(تاریخ اسلام)
اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ کسی واقعے ،شخصیت کے ہر پہلو کی تفصیل کے لیے اک کتاب یا رائٹر کافی نہیں ہوتا، پھر موضوع چونکہ تاریخ ہے اس لیے ایک رائٹر کے لیے تمام روایات کولکھنا، درج کرنا ممکن بھی نہیں ہوتا ، بعض اوقات ایک ہی واقعہ کے متعلق ذیادہ مضبوط روایات موجود ہوتی ہیں اور اس واقعہ کی تحقیق دوسرے مصنفین نے ذیادہ اچھی پیش کی ہوتی ہے' ہم اس کتاب کے ساتھ ساتھ مختلف واقعات کی صحیح تشریح تفصیل کے لیے مخصوص شخصیات کی سیرت کے حوالے سے لکھی گئی مشہور و مستند کتابوں سے بھی استفادہ کریں گے۔ خلفائے راشدین کے سلسلے میں ہمارے پیش نظر خلفائے راشدین از مولانا ادریس کاندھلوی، حیات ابوبکر از محمد حسین ہیکل، فاروق اعظم از مولانا شبلی نعمانی ، سیرت علی از مولانا ابوالحسن علی ندوی و مولانا نافع وغیرہ ہیں، ان کتابوں کے علاوہ بھی متنازعہ واقعات کے بیان میں ہماری کوشش یہ ہوگی کہ ہر اچھی تحقیق سے استفادہ کیا جائے۔

تاریخ اسلام سے آگاہی کے اس سلسلے میں اپنے دوست احباب کو بھی شامل کیجیے اور اس تحریر کو اپنے سوشل میڈیا حلقے میں شئیر کیجیے اور پیج کو بھی اپنی وال سے متعارف کروائیے۔
page : https://www.facebook.com/IslamicHistory2
مکمل تحریر >>

تاریخِ اسلام کا اجمالی خاکہ




خلافتِ راشدہ(ربیع الاول ۱۱ھ تا ربیع الاول ۴۱ ھ۳۰ سال):
دورِ صدیقی(ربیع الاول ۱۱ ھ تا ۲۲ جمادی الثانیہ ۱۳ھ)
دورِ فاروقی(۲۳ جمادی الثانیہ ۱۳ ھ تا یکم محرم ۲۴ ھ)
دورِ عثمانی(۲ محرم ۲۴ ھ تا ۱۸ ذی الحجہ ۳۵ ھ)
دورِ علوی(۱۹ ذو الحجہ ۳۵ ھ تا ۲۰ رمضان ۴۰ ھ)
دورِ حسن(رمضان ۴۰ھ تا ربیع الاول ۴۱ ھ)

دورِ صدیقی (ربیع الاول ۱۱ ھ تا ۲۲ جمادی الثانیہ ۱۳ھ):
خلافتِ - تعریف و تفصیل
اہم کارنامے:
لشکرِ اسامہ کی روانگی
ارتداد کی جنگیں
مانعین زکوۃ سے جہاد
جھوٹے مدعیان نبوت سے جنگیں
روم اور فارس سے معرکوں کا آغاز:
۱)جنگ ذات السلاسل
۲)فتح حیرہ
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا سفر شام
جنگ اجنادین
وفاتِ ابوبکر (۲۲ جمادی الثانیہ ۱۳ ھ)
شخصیت وکرداروفضائل
علمی کارنامے:
جمع قرآن

دورِ فاروقی(۲۳ جمادی الثانیہ ۱۳ ھ تا یکم محرم ۲۴ ھ)
اہم کارنامے:
جہادِشام:
جنگ یرموک
فتح دمشق (محرم۱۴ھ)
فتح القدس (رجب ۱۶ھ)
جہادِفارس:
جنگِ جسر(شعبان ۱۳ھ)
جنگ بویب (رمضان
جنگ قادسیہ (۱۴ھ)
فتح مدائن:
جنگ جلولاء( ۱۶ھ)
جنگ نہاونداورایران پرعام حملہ( ۲۱ھ)
فتح مصر:
قحط اورطاعون کاسامنا:
فتوحاتِ فاروقی پرعام نظر
اوّلیاتِ فاروقی
اصلاحات فاروقی
قاتلانہ حملہ۲۷ذوالحجہ ۲۳ھ
شخصیت وکردار

:دورِ عثمانی(۴محرم ۲۴ ھ تا ۱۸ ذی الحجہ ۳۵ ھ)
فتوحات دورعثمانی:
1۔آرمینیا
2۔ایشیائے کوچک
3۔ جنگ طرابلس اورقتل جریر ۲۷ھ
4۔پہلاغزوۂ اندلس ۲۷ھ
5۔ فتح قبرص
6۔ ایران ،فارس طبرستان اورخراسان
7۔ جنوبی افغانستان وبلوچستان(سیستان)
آغازِ فتن:
یہودکی سازش اورمنافقین کاکردار
عبداللہ بن ابی سے عبداللہ بن سباتک
اکابرصحابہ کرام کی کردارکشی کی مہم
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پرجھوٹے الزامات اوران کےجوابات
مدینہ منورہ پربلوائیوں کاقبضہ ۳۵ھ
شہادت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۱۸ذو الحجہ ۳۵ھ
شخصیت وکردار
کارنامے

۴)دورِ علوی (۱۹ذو الحجہ ۳۵تا۲۰رمضان ۴۰ھ):
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا اورامیرمعاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کامطالبہ
غلط فہمیاں کیسے پھیلیں؟
ام المومنین رضی اللہ عنہا کی بصرہ روانگی( صفر ۳۶ھ)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کوفہ روانگی(ربیع الاول ۳۶ھ)
جنگِ جمل اورعبداللہ بن سباکی سازش:
جنگ صفین ( ۳۷ھ):
جنگ کے محرکات واسباب
تحکیم کامسئلہ دومۃ الجندل
خارجیوں کاظہور
جنگ نہروان کوفہ بصرہ کے قریب
سبائیوں اورخارجیوں کی خفیہ مشاورت
اکابر(امیر معاویہ، عمرو بن العاص اور حضرت علی )پرقاتلانہ حملے:
شہادت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۲۰رمضان ۴۰ھ
خلافت علوی پرتبصرہ :
شخصیت وکردار :
مقام صحابہ:
صحابہ کرام کے مشاجرات کے بارے میں صحیح طرزفکر


ٔموی دور کی ابتداء:
۱)دور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ(ربیع الاول ۴۱ ھ تا رجب ۶۰ ھ)
خصائل وفضائل حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ
صحابہ کرام میں طویل ترین حکمرانی اور سیاسی تدبر کی انتہا:
فتوحات:
بغاوت کابل کا استیصال ۴۳ ھ
ھلمند، قندھار
سندھ، بلوچستان، قلات، مکران
درۂ خیبر سے پہلا حملہ: (۴۴ ھ مہلب بن ابی صفرہ کی قیادت میں)
فتح ترکستان ۵۴ ھ ,بخارا،سمرقند،ترمذ
شمالی افریقہ میں عقبہ بن نافع کی فتوحات ۴۲اور۴۶ھ
قسطنطینیہ پرحملہ ۴۹ھ
وفاتِ امیرمعاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ :
یزیدکی ولی عہدی اوراس میں حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاموقف
دورِمعاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پرایک نظر:

۲)یزیدبن معاویہ(رجب ۶۰ھ تاربیع الاول ۶۴ھ):
خلافتِ یزیدسے بعض صحابہ کرام کااختلاف اوراس کی بنیاد
کیاحضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ باغی تھے؟
تحقیق خلافت کی صورتیں اوراس وقت کی صورتحا ل
اہل کوفہ کے خطوط اورحضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کوفہ روانگی ذوالحجہ ۶۰ھ
سانحہ کربلامحرم سنہ ۶۱ھ
واقعہ حرہ ۶۳ھ
فتوحات یزید:
افریقہ
ترکستان

یزیدکاانتقال ۶۴ ھ اورمعاویہ بن یزیدکی دست برداری ۶۴ھ
۳)حضرت عبداللہ بن زبیر(۶۴ھ تا۷۳ھ)
فضائل حضرت عبداللہ بن زبیررضی اللہ تعالی عنہ
حرم میں محاصرہ محرم ۶۴ھ
خلافت کاآغاز۶۴ھ
مروان بن حکم
مروان کی جلاوطنی اوراس کانقصان۔
مروان کی دمشق میں متوازی حکومت

۴)عبدالملک بن مروان (رمضان ۶۵ھ تا۸۶ھ):
o عبدالملک کی خصوصیات:
o توابین کاظہور
o فتنوں کانیاسلسلہ :
o مختارثقفی کی جماعت۶۶ھ
o مصعب بن زبیرکے ہاتھوں مختارکاخاتمہ
o خوارج کی شورش:
o عبدالملک کی رومیوں سے صلح ۷۰ھ اورابن زبیرسے معرکوں کاآغاز
o حجاج بن یوسف
o شہادت ابن زبیرر ضی اللہ عنہ جمادی الاخری ۷۳ھ

:بنو امیہ کا دور عروج:
o عبدالملک بن مروان(۷۲ ھ تا ۸۶ھ)
o حجاج بن یوسف (بنی امیہ کا سب سے کڑا تیر)
o حسان بن نعمان(فاتح شمالی افریقہ)
o عبد الرحمن ابن اشعث فاتح افغانستان
o ابن اشعث کی بغاوت اور قتل۸۵ھ

ولید بن عبدالملک (۸۶ھ تا۹۶ ھ):
o فتوحات کا سیلاب
o قتیبہ بن مسلم اور ترکستانی معرکے
o محمد بن قاسم سندھ کے محاذ پر
o موسی بن نصیر اور طارق بن زیاد اندلس کے فاتح
o مسجد نبوی کی شاندار تعمیر

سلیمان بن عبدالملک(۹۶ھ تا ۹۹ھ)
o سابقہ عمال کی معزولی اور احتساب
o فاتحین اسلام کی داروگیر اور انکا دردناک انجام
o خوش خوراکی اور عیش وتنعم کے ساتھ خشیت خداوندی
o خلافت کے لیے حضرت عمر بن عبدالعزیزکی نامزدگی صفر ۹۹ ھ
o عمر بن عبدالعزیز(صفر ۹۹ تا رجب ۱۰۱)
o یزید بن عبدالملک (۱۰۱ تا ۱۰۵)

o ہشام بن عبدالملک (۱۰۵ تا ۱۲۵)
o فتوحات کا نیا دور
o فرانس پر حملے
o طورس کا معرکہ
o عبدالرحمن الغافقی کی شہادت
o زوال کا آغاز:
o ولید ثانی (۱۲۵ تا ۱۲۶ھ)

o یزید ثالث ۱۲۶
o ابراہیم ۱۲۶ھ
o مروان الحمار (ثانی ۱۲۷ تا ذی الحجہ ۱۳۲ھ)
o واقعہ زاب (جمادی الثانی ۱۳۲ھ)
o مروان کا قتل اور بنو امیہ کا خاتمہ(ذوالحجہ ۱۳۲ھ)

بنو امیہ کے زوال کے اسباب:
خوارج کافتنہ:
سانحہ کربلا:
شیعان علی کی سرگرمیاں
بنو عباس کی دعوت
سلطنت کی غیر معمولی وسعت
قابل افراد سے ناروا سلوک
نچلی سطح پر حکام کے مظالم
عرب قبائل کی باہمی خانہ جنگی
خلافت کا مدار اہلیت کی بجائے وراثت پر

تاریخ اندلس:
فتح اندلس (۹۲ھ،۹۳ھ)
امیران اندلس:
عبدالعزیز بن موسی
حرب بن عبدالرحمن
سمح بن مالک
عبدالرحمن الغافقی
ثعلبہ بن سلامہ
یوسف بن عبدالرحمن

عبدالرحمن بن معاویہ اول (صقر قریش) ۱۳۹ ھ تا ۱۷۲ھ ۳۳ سال
جنگ قرمونہ ۱۴۶ھ
ہشام بن عبدالرحمن ۱۷۲ تا ۱۸۰ھ
حکم بن ہشام
محمد بن عبدالرحمن
عبدالرحمن ثالث ۳۰۰ ھ تا ۳۵۰ھ
محمد بن عامر منصور ۳۶۶ھ تا ۳۹۴ھ
آخری اموی حکمران مستعین کا قتل اور خاتمہ امویانِ اندلس ۴۲۸

بنو حمود ۴۰۷ھ تا ۴۵۰ھ
اندلس میں طوائف الملوکی کا پہلا دور:
بنو عباد، بنو ہود، بنو ذو النون
یوسف بن تاشفین اور الفانسو چہارم معرکہ زلاقہ ۴۸۰ھ
مرابطین ۴۸۳ھ تا ۵۴۲ھ
مؤحدین ۵۴۲ھ تا ۶۲۵ھ
طوائف الملوکی کا دوسرا دور:
فرڈی ننڈ اور ملکہ ازابیلا
سلطان ابو الحسن ۸۷۰ھ
خانہ جنگی ۔۔۔۔۔۔۔الزغل اور ابو عبداللہ
سقوط غرناطہ ۱۲ ربیع الاول ۸۹۷ھ


خلافت عباسیہ:
بنو امیہ کے خلاف مختلف تحریکیں اور تحریک بنو عباس کی کامیابی
o ابومسلم خراسانی
بانی خلافت عباسیہ (ابوالعباس سفاح ۱۳۲ ھ تا ۱۳۶ھ بمطابق ۷۵۰ تا ۷۵۵ء)
o ابو جعفرالمنصور(۱۳۶ھ تا ۱۵۸ھ)
o ابومسلم خراسانی( قتل ۱۳۷ھ)
o مہدی(۱۵۸ھ تا ۱۶۹ھ)
o موسی الھادی(۱۶۹ھ تا۱۷۰ھ)

o ھارون الرشید(۱۷۰ ھ تا ۱۹۳ھ)
o امین( ۱۹۲ تا ۱۹۸ ھ)
o مامون الرشید(۱۹۸ھ تا ۲۱۸ھ)
o معتصم باللہ( ۲۱۸ تا ۲۲۷ھ)
o واثق باللہ(۲۲۷ ھ ۲۳۲ھ)
o متوکل علی اللہ(۲۳۲ھ تا ۲۴۷ھ)

بنو عباس کا انحطاط اور اسکے اسباب:
o علوی اور عباسی کشمکش
o عجم نوازی(ترک نوازی)
o شخصی حکومت
o یکے بعد دیگرےولی عہدوں کی نامزدگی
o خودمختار ریاستیں
o عقائد پر ضرب لگانے والے فتنوں کی فراوانی
o باطنیہ اور قرامطہ(278ھ) کی ریشہ دوانیاں
o فاطمی خلافت

بنو عباس کا انحطاط اور اسکے اسباب:
o خلفاء کی نااہلی اور کمزوری
o عیش وتنعم میں انہماک
o فریضہ جہاد سے غفلت
o دعوت دین کی سرگرمیوں میں غیر معمولی کمی

سلاجقہ:
الپ ارسلان(۴۵۵ھ تا ۴۶۵ھ)
ملک شاہ (۴۶۵ھ تا ۴۸۵ھ) 
سنجر سلجوق
غوری:
شھاب الدین غوری(۵۸۰تا ۶۰۲ھ)

ملک شاہ کی وفات اور القدس پر صلیبی قبضہ رجب ۴۹۲ ھ
اتابک : (القدس کی بازیابی کی کوششیں)
عمادالدین زنگی(۵۲۱ ھ تا ۵۴۱ھ)
نور الدین زنگی(۵۴۱ھ تا ۵۶۹ھ)

ایوبی:
صلاح الدین ایوبی(۵۶۷ تا ۵۸۹ھ) :
• نجم الدین ایوب بن شاذی
• شیر کوہ بن شاذی
• یوسف صلاح الدین ایوبی
• مصر کی مہم
• فاطمی خلافت کا خاتمہ محرم ۵۶۷ھ
• شام پر قبضہ ۵۷۸ھ
معرکہ حطین ۵۸۳ھ
فتح القدس رجب ۵۸۳ھ
صلیبی جنگیں ۵۸۴ ھ تا ۵۸۹ھ

غوری:
• شھاب الدین غوری(۵۸۰تا ۶۰۲ھ) 
خوارزم شاھی: ۴۹۱ ھ تا ۶۲۸ھ
• سلطان علاؤ الدین تکش ۵۶۶ھ تا ۵۸۹ھ
• علاء الدین محمد( ۵۹۸ھ تا ۶۱۷ھ)

فتنہ تاتار: (ساتویں صدی ہجری)
چنگیز خان
تاتاری یا مغل؟
چنگیز خان کا علاؤ الدین سے معاہدہ
جنگ کی وجوہ
سقوط سمرقند وبخارا

سلطان جلال الدین (۶۱۸ تا ۶۲۸ھ)
افغانستان کی جنگیں۶۱۸ھ
معرکہ سندھ شوال ۶۱۸ ھ 
سلطان جلال الدین ہندوستان میں ۶۱۸ھ تا ۶۲۲ھ
ایران کی جنگیں ۶۲۴ھ تا ۶۲۶ھ
ایوبی اور سلجوقی حکمرانوں سے معرکے رمضان ۶۲۷
روپوشی یا شہادت شوال ۶۲۸ھ

خلافت بنو عباس کا اختتامی دور: 
ناصر لدین اللہ ۵۷۵ھ تا ۶۲۲ھ
ظاہر باللہ ۶۲۲ھ تا ۶۲۳ھ
مستنصر باللہ ۶۲۳ھ تا ۶۴۰ھ
مستعصم باللہ۶۴۰ھ تا ۶۵۶ھ
ہلاکو خان( ۶۰۲ ھ تا ۶۲۴ھ)

سقوط بغداد ۶۵۶ھ


عثمانی سلطنت:
عثمان خان ۶۸۷ھ
عثمان خان کی بروصہ میں وفات ۷۲۷ھ
ارخان :
ارخان کا بڑا بھائی علاؤ الدین وزیر اعظم
ینگ چری فوج کا بانی علاؤالدین
مراد اول ۷۶۱ھ تا ۷۹۲ھ
مراد خان کی وفات ۲۷ اگست ۸۰۶ھ

بایزید یلدرم ۷۹۲ھ
معرکہ انگورہ ۸۰۴ ھ
بایزید کی گرفتاری اور ناروا سلوک
۸۱۶ ھ تک بیٹوں کی باہمی خانہ جنگی
سلطان محمد اول ۸۱۶ھ تا ۸۲۵ھ
مراد ثانی ۸۲۵ھ تا ۸۵۵ھ
محمد ثانی فاتح:
فتح قسطنطنیہ ۲۰ جمادی الاول ۸۵۷ھ ۲۹ مئ ۱۴۵۳ء

سلیم اول ۱۵۱۲ء خلافت کا اعلان
۱۵۲۰ ء شاہ اسماعیل صفوی سے معرکے
سلیمان اعظم قانونی ۱۵۲۰ ء تا ۱۵۶۶ء
جنگ عظیم اول ۱۹۱۶ء
سلطنت کا خاتمہ: یکم نومبر ۱۹۲۲ء

خلافت کا خاتمہ : ۳ مارچ ۱۹۲۶ء
مکمل تحریر >>

اس دل کو کس سے راہ ہے؟


دِل کو دِل سے راہ ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺاس بات کو یوں بیان کرتے ہیں:الاَرواح جنود مجندۃ (صحیح مسلم: 4773)
یہ بات بہت اُمید افزا ہے تو بے انتہا خوفناک بھی۔ اس دل کو کس سے راہ ہے؟ یہ قریب قریب اس بات کا جواب ہوگا کہ آخرت میں آدمی کا ٹھکانہ کہاں ہونے والا ہے۔ اس دل کے کیا کہنے جسے رسول اللہ ﷺکے ساتھ میلان ہو اور اس میں آپ کیلئے محبت موجزن ہو۔
محبت کی پچاس تفسیریں آپ کرنے کو کر سکتے ہیں مگر محبت ایک طبعی چیز ہے اور بیان میں اس کا آنا بے انتہا مشکل۔ کسی کو خدا سے اور اس کے نبیوں سے اور جنتی روحوں سے محبت ہوتی ہے تو کسی کو بدکاروں اور بدبختوں سے۔ یہ قسمت قسمت کی بات ہے اور جیسا کہ ہم نے کہا یہ بڑی حد تک اس بات کا جواب ہے کہ آخرت میں ایک آدمی کہاں پایا جانے والا ہے۔ اسیلئے آپ فرماتے ہیں: المرء مع من اَحب ”آدمی اُسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے“۔
رسول اللہ ﷺسے محبت ہونا انسان کے نیک بخت ہونے کی دلیل ہے۔ آپ کی جانب میلان کے حوالے سے ہر نفس اپنے ظرف اور اپنی حیثیت کا تعین کر سکتا ہے۔ رسول اللہ ﷺسے محبت کا دور محض صحابہ کا زمانہ نہ تھا۔ یہ خیر قیامت تک کیلئے باقی ہے:
ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”میری اُمت میں سے میرے ساتھ سب سے بڑھ کرمحبت کرنے والوں میں وہ لوگ بھی ہیں جو میرے بعد آئیں گے۔ ان میں کا ایک ایک شخص یہ تمنا کرے گا کہ وہ اپنی سب دولت ہاتھ سے دے کر اور اپنا گھر بار لٹا کر مجھے ایک نظر دیکھ سکے تو دیکھ لے“
(صحیح مسلم 5060)
حسن بصریؒ جب بھی مسجد نبوی کے اس چوبی ستون کا واقعہ بیان کرتے جس کو چھوڑ کر رسول اللہ ﷺنے منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ دینا شروع کیا تو اس ستون سے اس اونٹنی کے سے انداز میں بلبلانے کی آواز سنی گئی جس سے اس کا بچہ دور کردیا گیا ہو، یہاں تک کہ آپ نے جا کر اس پر اپنا دست مبارک دھرا تو اس سے وہ آواز آنا رکی ۔۔ حسن بصری جب بھی یہ واقعہ بیان کرتے تو آواز بھرا جاتی اور کہتے: خدا کے بندو یہ لکڑی کا ایک بے جان ستودہ ہے جو رسول اللہ ﷺکیلئے بے قرار ہوتا ہے۔ تم پر تو آپ کا حق اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔
اس دُنیا میں ہر قوم ہی اپنے بڑوں کیلئے جوش میں آتی ہے۔ ہر اُمت کیلئے کچھ چیزیں سمجھوتے سے ماورا ہوتی ہیں۔ بلاشبہ ہمارے لئے اللہ اور اس کا رسول اور اس کی کتاب اور اُس کا دِین وہ مقام رکھتے ہیں کہ اِن کی تعظیم کے معاملے میں ہم ہر حد تک جا سکتے ہیں اور بلاشبہ یہ اعزاز آج اِس بھری دُنیا میں ایک ہمیں کو حاصل ہے۔ مگر یہ ایک منفرد اعزاز ہے۔ اس کی انفرادیت ہم سے روپوش ہو جائے تو یہ اعزاز اپنی تمام تر عظمت کے باوجود ہمارے ہاتھ سے بڑی حد تک چلا جاتا ہے۔
مکمل تحریر >>

Friday, 20 May 2016

بحران بھی آئیں تو اس امت کے لئے خیر ہی لاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ملحدین جگہ جگہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرتے نظر آتے ہیں، بعض اوقات کچھ خبیث ایسی غلط باتیں کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے ساتھ گالیوں کے ایسے اشعار پوسٹ کرتے اور آئی ڈی بناتے ہیں کہ دیکھ کر خون کھولنے لگتا ہے۔۔ یہ نادان نہیں سمجھتے کہ اپنی ان حرکتوں سے اس نبی کا تو کچھ بگاڑ نہیں سکتے بلکہ خود کو ہی گندہ کرتے ہیں ، اسکی رفعت شان دن بدن بڑھتی ہی ہے ۔ ۔ چند سال پہلے جب مغربی میڈیا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے چھاپے اور فتنہ نام کی فلمیں بنائیں بقول ایک مشہور مصنف :
“اس مسئلہ کے اٹھ کھڑا ہونے کی دیر تھی، بیشتر غیر مسلم ملکوں میں سیرتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پرکتب دھڑا دھڑ فروخت ہوئیں اور وہاں کے اسلامی مراکز میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کا تعارف پانے کیلئے منعقد نشستوں میں شریک لوگوں کی قطاریں لگ گئیں۔ خود اہلِ اسلام کو سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علمی وعملی پہلوؤں کی جانب توجہ کی ضرورت پہلے سے کہیں بڑھ کر محسوس ہوئی!
عین یہ موقعہ تھا جب سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے اس دور کے مناسب حال تصنیفات کی شدید کمی محسوس کی گئی اور اس پر کام کرنے والوں کو عمل کی ایک نئی مہمیز ملی! عین یہ موقعہ تھا جب ’نبوت‘ اور ’آسمانی صحیفے‘ اور ’ادیان‘ ایسے عنوان دنیا کے پڑھے لکھوں کے مابین پھر سے موضوعِ بحث بننے لگے، جس سے بعید نہیں خود بہت سے مسلمانوں نے اپنے نبی سے تعارف کا ایک از سر نو موقعہ پایا ہو۔ اس جدل کا، جو اب بہت دلچسپ ہوتی جارہی ہے، ہم بھی کچھ تذکرہ کریں گے۔
کچھ شقی دلوں پر خدا کی حجت قائم ہوتی نظر آئی۔
کیا کافر کیا مسلم، دنیا کا کوئی شخص ایسا نہ رہا ہوگا جس نے ذرائع ابلاغ کے اندر لڑی جانے والی اس جنگ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی ہر روز کئی بار نہ سنا ہو۔ کچھ تو ہوں گے جو یہ پوچھیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخر ہیں کون؟ کچھ تو ہوں گے __جو آپ کے بارے میں دریافت کرنے کیلئے__ آپ کا ٹھٹھہ کرنے والے شرپسندوں کی بجائے آپ پر ایمان رکھنے والے مصادر سے رجوع کریں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عقیدت و وابستگی کی ایک تجدید نو اس موقعہ پر ہر صاحب ایمان کے حصہ میں آئی۔دشمن نے اس امت کی رگوں میں زندگی کی وہ رمق دیکھی جس کا وہ اپنی مریل قوموں میں تصور تک نہ کرسکے۔
امت کے ایک بڑے طبقے نے ”اللہ و رسول کیلئے دوستی اور اللہ و رسول کیلئے دشمنی“ کے عملی اسباق لئے۔ خود شناسی اور خودداری کی ایک نئی جہت برآمد ہوئی۔ خود کفیلی کی جانب اس امت کا طویل المیعاد سفر، جو ملٹی نیشنلز کے چاکلیٹوں اور سافٹ ڈرنکس کیلئے پائے جانے والے ’نخرے‘ اور ’منہ کے مزے‘ کے باعث ذہنوں کی دنیا تک میں معطل پڑا تھا، ایک نئی کروٹ لے کر شروع ہو۔۔ اور خدا کرے کہ اب یہ سفر آگے سے آگے بڑھے، جب تک کہ یہ امت اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو جاتی!
۔۔۔۔ بحران بھی آئیں تو اس امت کیلئے خیر ہی لاتے ہیں !
رسول اللہ ﷺ کے حق میں بولنا آدمی کے لئے ایک غیرمعمولی شرف ہے۔خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے اندر آپ کی شان سے فروتر بات کرنے والے کو جواب آپ کی طرف سے نہیں بلکہ کسی امتی کی طرف سے ملتا تھا اور نہایت خوب مناسب جواب ملتا تھا۔ پھر آج تو یہ حق ہے ہی امت پر کہ وہ اپنے نبی کے اس مقام اور ناموس کا تحفظ کرے کہ کوئی بدزبان اس کو پہنچنے کی جسارت نہ کرے۔
’امتی‘ آخر ہیں کس لئے؟؟؟
یہ حسانؓ بن ثابت ہیں جو ابو سفیان کو جواب دینے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں۔یہ ایک امتی ہے جو اپنے نبی کے حق میں بولنے کے لئے اٹھا ہے اور اس کا صلہ صرف اور صرف خدا کے ہاں پانے کا امیدوار ہے:
وَعِندَ اللّٰہِ فِی ذَاکَ الجَزَاء ھَجَوتَ مُحَمَّداً فَاجَبتُ عَنہُ
”تم نے محمد ﷺ کی تنقیص کی۔سنو اس کا جواب میں دیتا ہوں۔ اس پر میرا صلہ کسی کے دینے کا ہے تو وہ خدائے رب العالمین کی ذات ہے“
شاعر صلے اور داد کی طلب سے بے پرواہ نہیں ہوسکتا۔یہ شاعر بھی ’صلے‘ سے بے فکر نہیں۔مگر ممدوح کی عظمت کا تقاضا ہے کہ داد پانے کے لئے خدائے رب العالمین سے کم کہیں نگاہ نہ ٹکے!
فَشَرّکُمَا لِخَیرِکُمَا الفِدَاء اتَھجُوہُ وَلَستَ لَہ بِکُفءٍ
”تم محمد ﷺ کے منہ آتے ہو۔ کیا تم ان کے برابر کوئی چیز ہو سہی؟ تم اور وہ، جو کمتر ہے وہی بہتر پر وارا جائے گا“
چاند پر تھوکنے والے کو ہمیشہ آئینہ دیکھنے کی ضرورت رہتی ہے۔ اپنی یہ تصویر دیکھنا اس کا حق ہے:
اتھجوہ ولست لہ بکفءٍ!!!
تم میں اور ان میں کوئی نسبت بھی تو ہو۔۔۔۔!
اُس شخص کے بارے میں جو ڈیڑھ ہزار سال سے ایک آدھی دنیا کو خدائے وحدہ لاشریک کے آگے پوری بصیرت کے ساتھ سجدہ ریز کرانے کا ذریعہ بنا آیا ہے اور تہذیب انسانی پر جس کے نشاناتِ انگشت سب سے نمایاں ہیں اور مشرق تا مغرب ہر محقق کو اُس کی عظمت کے نئے سے نئے پہلو تلاش کرنے کی بابت تجسس دلاتے ہیں اس برگزیدہ ہستی کی بابت تم جو ہرزہ سرائی کرنے جارہے ہو تمہاری ان کے سامنے کوئی اوقات بھی تو ہو!
ایک ایسے ماحول سے اٹھ کر جہاں خاندانی قدریں تباہ ہوچکی ہیں اور آدھی قوم اپنے والد سے شرفِ تعارف کا ذریعہ نہیں پاتی اور جہاں شجرۂ نسب ’ہسپتال‘ سے آگے نہیں بڑھتے اور جہاں خون کے رشتے ’ڈی این اے‘ میں تلاش کرنا پڑتے ہیں اور جہاں اکثر پائے جانے والے انسان ’غلطی‘ یا ’چوک‘ کا نتیجہ باور ہوتے ہیں اور یا پھر کسی ’حادثے‘ کا۔۔ اور جہاں سے دنیا کو انارکی و برہنگی کے علاوہ عالمی جنگوں اور تباہ کن بارودوں کے تحفے مل چکے ہیں۔۔۔۔ ایک ایسے ماحول سے اٹھ کر تم خدا کے نبیوں کو تہذیب اور امن کا طعنہ دینے چلے ہو!؟
بخدا، آج ہمیں ان شاعروں اور ادیبوں کی ضرورت ہے جو صرف ’نعت‘ کہنا نہیں بلکہ وقت کے زندیقوں کو اپنے نبی کی جانب سے ’جواب‘ بھی دینا جانتے ہوں اور جواپنے ادب کے اس رجزومعرکہ پرصلہ محض خدا سے پانے کے متمنی ہوں۔
خدایا! ہمارے شاعروں اور ادیبوں کو ”ایمان“ کا لحن دے!”
یہ گرد نہیں بیٹھے گی از حامد کمال الدین

مکمل تحریر >>

جانتے ہو۔۔

سات نسلوں کا تعارف ہے یہ لہجہ
جب کوئ بولے تو نام ونسب کُھلتاہے

° جانتے ہو لہجہ کسے کہتے ہیں ___________؟
ابولہب و عقبہ بن ابی معیط ہم دیوار تھے رسول اللہ صلى الله عليه و آله وسلم کے ____ ابو لہب کی تو جیسے روزی ہی اسی سے وابستہ تھی ____ صبح ہوتے ہی گھر کا سارا گند دیوار پہ چڑ ھ رسول اللہ کے صحن میں ڈال آتا __
اور روز صبح رسول المبین صلى الله عليه و آله وسلم مُسکرا کے،
دروازے کی اوڑ سے نکل کر صرف اتنا کہتے _____
“”چچا____!! اے بنو عبد المناف تم ہی کہو یہ کیسی ہمسائیگی ہے____؟

° جانتے ہو برداشت کسے کہتے ہیں________؟؟؟
محمد صلى الله عليه و آله وسلم سجدے میں ہیں عقبہ بن ابی محیط آتا ہے چادر اُتار کے گردن کے گرد ڈال کے اس زور سے کستا ہے کہ سجدے میں بلبلا اُٹھے __ ابو بکر دوڑ کے آتے ہیں _ دھکا دے کے الگ کرتے ہیں ___
عقبہ پلٹا __ حضرت صدیق اکبر کی داڑھی اور سرکو اس زور سے گھسیٹا کہ داڑھی کے اکثر بال نچ گئے اور اس نے ان کا سر پھوڑ دیا،
جواباً منہ سے اتنا کہا ___
”اتقتلون رجلا ان یقول ربی اللّٰہ ___
کیاتم اک ایسے شخص کو مار ڈالنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے____؟؟

° جانتے ہو ظرف کسے کہتے ہیں_________؟؟؟
خطبہ حجتہ الوداع اونٹی پہ کھڑے ہو کے کہنے لگے _____
“”دور جاھلیت کے تمام جھگڑے آج ملیا میٹ کرتاہوں __ پہلا خون جو آج باطل کیا جاتا ہے وہ ربیعہ بن حارث ، عبدالمطلب کے بیٹے کا ہے””__
( ربعیہ بن حارثہ چیچرا بھائ تھا جسکے بیٹے عمر کو بنو ہذیل نے قتل کر دیا تھا )_________!!!

° جانتے ہو بے بسی کسے کہتے ہیں _______؟؟؟
طائف کی گلی ہے ___
محمد صلى الله عليه و آله وسلم , بدن دُریدہ کہ جنکے لہو میں تر بتر نم آلود سراسیمہ دیدے ہیں ___ ٹکٹکی باندھ آسماں کو تکے جاتے ہیں ___ داڑھی باراں می‍ں ڈوب کے ڈوبی چلی جاتی ہے ___
پہلو میں زید بن حارثہ کھڑے ہیں ___
جانتے ہو وہ کیا کہ رہے تھے ____؟؟؟
“”اپنی کمزوری بے سرو سامانی اور لوگوں کی نگاہوں میں اپنی بے قدری کی فریاد تجھی سے کرتا ہوں اے رحم کرنے والے !تو ہی در ماندہ عاجزوں کا مالک ہے اور میرا مالک بھی تو ہی ہے یہ تو نے مجھے کن لوگوں میں آکر ڈال دیا ؟؟ بےگانہ تُرش رُو یا اس دشمن کے جسے میرے معاملے پر قابو ہے ؟ اگر تو مجھ سے ناراض نہیں تو مجھے کسی مصیبت کی پرواہ نہیں کیونکہ تیری حفاظت و عافیت میرے لئے بہت وسیع ہے، تیری ذات کے نور کی پناہ میں آتا ہوں جن سے تمام اندھیرے اجالے بن جا تے ہیں، دنیا وآخرت کے تمام کام سنور جاتے ہیں،تیری ناراضی یا غصہ مجھ پر نہ ہو مجھے تیری ہی رضا مندی اور خوشنودی درکار ہے نیکی کرنے اور بدی سے محفوظ رہنے کی طاقت تیری ہی طرف سے ملتی ہے“_____!!!!
تحریر مہران درگ

LikeComment
مکمل تحریر >>

روحِ محمدی اس کے بدن سے نکال دو۔۔

چچ نامے میں لکھا ہے کہ محمد بن قاسم کے آنے سے پہلے ہندوستان کا جو حکمران تھا، اس کو کسی نجومی نے مشورہ دیا کہ تم فلاں لغواور غیر اخلاقی حرکت کرو تو بادشاہت پر قائم رہو گے پرانی کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ جو شخص فلاں غیر اخلاقی حرکت کرے گا وہ بادشاہت حاصل کرے گا۔
بادشاہ نے کہا کہ یہ تو بڑا مشکل کام ہے۔ میں اگر ایسی حرکت کروں گا تو لوگ کیا کہیں گے۔ نجومی یا وزیر نے کہا کہ لوگ کچھ نہیں کہیں گے۔ لیکن بادشاہ کو تامل تھا . مشورہ دینے والے وزیر نے ایک بھیڑ منگوائی جس کے بال بہت بڑے بڑے تھے۔ اس کے بالوں میں ایک خاص مصالحہ لگایا جس سے بال بہت لمبے ہو گئے اور اس کی کمر ہاتھی کے سائز کی ہو گئی۔ بادشاہ سے کہا کہ اس بھیڑ کو شہر میں لوگوں کو دکھانے کے لیے نکالیں۔ چنانچہ اس عجیب و غریب بھیڑ کو دیکھنے کے لیے پورا شہر امڈ آیا۔ سارے شہر میں ایک ہنگامہ بپا ہو گیا۔ پورے شہر میں چرچا ہو گیا کہ ایک عجیب طرح کی بھیڑ آئی ہے جو ہاتھی کے سائز کی ہے۔ تمام دن سب لوگ اسی موضوع پر بات کرتے رہے۔ شہر میں اور کوئی کام نہیں ہوا۔ بازار بند ہو گئے۔
دوسرے دن پھر بھیڑکو شہر کی گلیوں میں پھرانے کے لیے نکالا تو آدھے لوگ آئے۔ تیسرے دن کوئی نہیں آیا۔ جس وزیر نے یہ مشورہ دیا تھا اس کا نام بدھیمن تھا۔ بدھیمن نے کہا کہ آپ کے ساتھ بھی یہی ہو گا۔ پہلے دن لوگ بہت تذکرہ کریں گے۔ دوسرے دن تھوڑا سا ذکر کریں گے۔ تیسرے دن کچھ نہیں کہیں گے۔
شاید اہلِ مغرب نے بدھیمن نجومی کا مشورہ پڑھا ہوا ہے۔ وہ وقتاً فوقتاً اس طرح کی بھیڑیں نکالتے رہتے ہیں۔ توہینِ رسالت کے جو واقعات وقتاً فوقتاً ہوتے رہتے ہیں یہ کوئی اتفاقی واقعات نہیں۔ یہ واقعات بڑے غور و خوض اور سوچ سمجھ کر کیے جاتے ہیں۔ جو قومیں دنیا پر حکومت کر رہی ہیں۔ جو دنیا کی رگ رگ سے واقف ہیں۔ جو مسلمانوں کے اندونی احساسات کا پتہ چلانے کے لیے ادارے بناتے ہیں۔ اس کام پر کروڑوں روپیہ خرچ کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے آئندہ عزائم کے بارے میں تحقیق کرتے ہیں۔ ان کو یہ ضرور معلوم ہو گاکہ ذاتِ رسالتِ مآب کے بارے میں مسلمانوں کا رویہ کیا ہے۔ اس طرح کے واقعات جب ایک ایک کرکے پیش آتے جائیں گے تو جو مسلمانوں کے اندر کے جذبات ہیں وہ نکلتے جائیں گے۔ایک مرحلہ خدانخواستہ ایسا آسکتا ہے اور ان کا اندازہ یہی ہے کہ ایسا مرحلہ آنے والا ہے کہ توہینِ رسالت کا ارتکاب ہو اور مسلمان کسی ردعمل کا اظہار نہ کریں۔ جب وہ مرحلہ خدانخواستہ آجائے تو پھر وہ اگلے مرحلے کا آغاز کریں گے جس میں اس وابستگی کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے جو اقدامات انہوں نے سوچ رکھے ہیں وہ کریں گے۔
اس سب کے ساتھ ساتھ گزشتہ دو سو برس سے یہ کام بھی ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کی توجہات کو ایسے غیر عملی مسائل میں اُلجھا دیا جائے جو مسلمانوں کو تقسیم در تقسیم بھی کرتے رہیں اور اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی قوتِ عمل کو بھی ختم کرتے رہیں۔
میں نے عرض کیا تھا کہ سیرت کے بارے میں بعض ایسے سوالات جو مسلمانوں میں کبھی نہیں اُٹھے تھے۔ انیسویں صدی میں اٹھے۔ آخر انیسویں صدی میں کیا نئی بات ہوئی تھی۔ انیسویں صدی ہی میں وہ مسائل کیوں اٹھائے گئے۔ ؟؟
وجہ صرف ایک ہی سمجھ میں آتی ہے۔ یہ مسائل مسلمانوں میں اس لیے اٹھ سکے کہ ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی حاکم ہو گئی تھی۔ اس لیے اُٹھے کہ ہندوؤں میں سے بہت سے طبقات کو انگریزیوں نے کھڑا کرکے اس کام پر مامور کر دیا تھا کہ مسلمانوں کے عقائد پر حملے کریں۔ یہ آریہ سماجی اور برہمو سماجی از خود تو کھڑے نہیں ہوئے تھے۔ یہ کسی خاص ہدف کی خاطر کھڑے کردیے گئے تھے۔ یہ مسلمانوں پر حملے کرنے پر انیسویں ہی میں کیوں آمادہ ہوئے۔ اس لیے کہ کسی نے ان کو آمادہ کیا تھا ورنہ یہ حملے بہت پہلے بھی ہوسکتے تھے ۔ مسلمانوں پر دورِ زوال کئی بار آیا۔ برصغیر میں کئی بار مسلمان سیاسی طور پر کمزور ہوئے اور کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ مسلمانوں کی حکومت یہاں ختم ہوتے ہوتے رہ گئی ۔ لیکن کبھی اس طرح کی تحریکات اور اعتراضات نہیں اُٹھائے گئے جو انگریزوں کے آنے کے بعد اٹھائے گئے ۔ اس لیے قوی امکان یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب واقعات اور مظاہر ایک منصوبے کا حصّہ تھے جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی وابستگی کمزور کرنے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
(از محاضراتِ سیرت۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی، ص 723-725 )
بشکریہ ایقاظ
مکمل تحریر >>

اے بادشاہ! ہم کہ بت پوجتے اور مردار کھاتے تھے!

”اے بادشاہ! ہم لوگ ایک ایسی قوم تھے کہ سر تا سر جاہلیت میں گرفتار تھے۔
بت پوجتے تھے۔
مردار کھاتے تھے۔
بدکاریاں کرتے تھے۔
ہمسایوں کو ستاتے تھے۔
بھائی بھائی پر ظلم کرتا۔
طاقتور کمزور کو کھا جاتا۔دریں اثنا، ہم میں ایک شخص پیدا ہو، جس کی شرافت اور صدق ودیانت سے ہم لوگ پہلے سے واقف تھے۔
اُس نے ہم کو اسلام کی دعوت دی۔
اُس نے ہمیں سکھلایا کہ ہم پتھروں کو پوجنا چھوڑ دیں۔ سچ بولیں۔
خون ریزی ترک کر دیں۔
یتیموں کا مال نہ کھائیں۔
ہمسایوں کو آرام دیں۔
پاک دامن عورتوں پر بدنامی کا داغ لگانا چھوڑ دیں۔
نماز پڑھیں۔ روزہ رکھیں۔ زکوٰۃ دیں۔
ہم اس پر ایمان لائے۔ شرک اور بت پرستی چھوڑ دی اور تمام اعمال بد سے دامن کش ہو گئے۔
اِس جرم پر ہماری قوم ہماری جان کی دشمن ہوگئی اور ہم کو مجبور کرتی ہے کہ اسی گمراہی میں پھر واپس جائیں“
(مہاجرین حبشہ کا بیان، بہ لسانِ جعفر بن ابی طالبؓ، روبروئے نجاشی(مسند احمد رقم: 21460))
مکمل تحریر >>

Thursday, 19 May 2016

قبیلہ طے کے غنڈے اس دن کہاں چلے جائیں گے؟


یہ عدیؓ بن حاتم طائی ہیں، جو تاج دارِ مدینہ کی کٹیا میں آپ کو دم بخود ہو کر سن رہے ہیں۔۔ کیا واقعتا دنیا سر تا پیر بدل جانے والی ہے اور یہ جن چور اچکوں سے بھری ہوئی ہے وہ کیسے ولی بن جائیں گے؟!مگر حیران کیوں ہوں، اِس ہستی کے ساتھ عالمِ بالا کا اتصال ہونے پر آسمانوں میں پہرے بٹھا دیے جاتے ہیں تو زمین پر اِس کی راہ میں تبدیلیاں رونما ہوجانا کیا بڑی بات ہے!
قبیلہ ٔ طئے کے رہزن، عرب میں ضرب المثال مانے جاتے ہیں۔ حِیرہ سے حضرموت تک انہی کی مار ہے۔ اِسی ’طئے‘ کے یہ ایک سردار ہیں جو اپنی بہن کے ترغیب دلانے پر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں۔ عدیؓ کہتے ہیں:
رسول اللہ ﷺ مسجد نبوی سے مجھے (بطور اعزازِ خاص) اپنے ساتھ گھر لے گئے۔ راستے میں ایک بے حال بڑھیا آپ کو روک کر کھڑی ہو گئی۔ بڑی دیر تک آپ اُسکی بات سنتے اور اُسکا مسئلہ حل کرتے رہے۔ میں نے دل میں کہا: یہ بادشاہ تو ہرگز نہیں ہوسکتا! گھر میں ایک ہی تکیہ، جس میں کھجور کی چھال بھری ہے، آپ مجھے دے دیتے ہیں کہ اُس پر بیٹھوں اور میرے انکار کے باوجود مجھے ہی اس پر بٹھا دیتے ہیں اور خود میرے سامنے زمین پر بیٹھ جاتے ہیں۔ میں نے پھر دل میں کہا: یہ شخص بادشاہ تو ہرگز نہیں ہو سکتا!تب آپ مجھ سے مخاطب ہوتے ہیں:
عدی! تجھے کیا چیز روک کر بیٹھی ہے کہ تو کہہ دے ’اللہ کے سوا کوئی پوجا کے لائق نہیں‘؟۔۔۔۔ تو کیا تجھے کوئی نظر آتا ہے جو پوجا کے لائق ہو؟
عدی! تجھے کیا چیز روک کر بیٹھی ہے کہ تو کہہ دے ’اللہ سب سے بڑا ہے‘؟۔۔۔۔ تو کیا کوئی ہے جو اللہ سے بڑا ہو؟
عدی! کیا تجھے یہ چیز روک کر بیٹھی ہے کہ تو دیکھ رہا ہے آج ہمارے ہاں تنگ دستی نے ڈیرہ ڈال رکھا ہے اور دنیا ہماری مخالفت میں تلی بیٹھی ہے؟ عدی! کیا تو نے حِیرہ دیکھ رکھا ہے؟ میں نے عرض کی، حِیرہ میرا دیکھا ہوا تو نہیں مگر جانتا ہوں کہاں واقع ہے۔ فرمایا: تو پھر اگر تیری زندگی رہی تو تو دیکھ لے گا، حیرہ سے ایک عورت ذات کجاوے میں بیٹھی تن تنہا بیت اللہ کا طواف کر کے جاتی ہے پورا راستہ سوائے اللہ کے اُسے کسی کا ڈر نہیں، نہ کسی کی پناہ میں آتی ہے اور نہ کسی کی ضمانت میں۔ (اور میں جی ہی جی میں سوچ رہا تھا: تو ’طئے‘ کے غنڈے اُس دن بھلا کہاں چلے جائیں گے!)
پھر فرمایا: عدی! اگر تیری زندگی رہی تو دیکھ لے گا کہ کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح ہو کر آتے ہیں۔ میں نے پوچھا: کیا فرمایا: کسریٰ بن ہرمز؟؟؟! فرمانے لگے: ہاں کسریٰ بن ہرمز!!!
عدی! اگر تیری زندگی رہی تو دیکھ لے گا کہ ایک آدمی سونے یا چاندی سے مٹھی بھر کر نکلتا ہے اور آواز لگاتا ہے کہ کوئی یہ صدقہ وصول کر لے، مگر اُسے کوئی صدقہ لینے والا نہیں ملتا!
بخاری کے الفاظ ہیں
عدیؓ نے (راوی کے ساتھ گفتگو میں) کہا: (اکیلی)عورت کجاوے میں حیرہ سے طوافِ بیت اللہ کیلئے روانہ ہوتی میں خود دیکھ چکا ہوں جسے (راستے میں) خدا کے سوا کسی کا ڈر نہ تھا۔ کسریٰ بن ہرمز کے خزائن جس لشکر نے لئے میں خود اُس میں شامل تھا۔ اور اگر تم لوگوں کی زندگی رہی تو (تیسری چیز بھی) تم دیکھ لوگے۔
(یہ واقعہ ہم نے، اختصار کے ساتھ، متعدد مصادر سے اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے، جوکہ مندرجہ ذیل ہیں:
صحیح البخاری، کتاب: المناقب، باب: علامات النبوۃ فی ال اِسلام
سنن الترمذی، کتاب: التفسیر، باب: ومن سورۃ فاتحۃ الکتاب
مسند اَحمد، اَول مسند الکوفیین، حدیث عدی بن حاتم الطائی رضی اللہ عنہ
مکمل تحریر >>

معجزے ہر تو کیے ہیر

ہَل تَطلُبُونَ مِن المُختَارِ معجزۃ
یَکفِیہِ شَعب ٌ مِنَ الَجدَاثِ اَحیَاہُ!
اِس برگزیدہ ہستی سے معجزہ مانگتے ہو! یہ کم تو نہیں کہ پوری کی پوری ایک قوم اُس نے قبروں سے اٹھا نکالی اور اُس کی رگوں میں زندگی دوڑا دی!
مَن وَحَّدَ العَرَبَ حَتّیٰ کَانَ وَاتِرُہُم
اِذَا رَ اَیٰ وَلَدَ المَوتُورِ آخَاہُ
کیا یقین کرنے کی بات ہے کہ کسی نے ’عرب‘ کو شیروشکر کر ڈالا؟! یہاں تک کہ قاتل اور مقتول کی اولاد اپنا انتقام بھول کر بھائی بھائی بن گئے!

وَکَیفَ سَاسَ رُعَۃ ال اِبِلِ مَملَکَۃ
مَا سَاسَہَا قَیصِر ٌ مِن قَبلُ اَو شَاہُ
صحرا کے شتربان کیونکر جہاں بانی کرنے لگے، اور جہانبانی ایسی جو کسی ’سیزر‘ کے بس میں رہی ہو اور نہ کسی ’شاہ‘ کے!

سَنّوا المُسَاوَۃ لا عَرَبَ وَلا عَجَمَ
مَا لِامرِیئٍ شَرَف ٌ اِلّا بِتَقوَاہُ
شتر بانوں نے وہ مساوات قائم کر دکھائی کہ عرب عرب رہے اور نہ عجم عجم! آدمی کے پاس دکھانے کو کوئی رتبہ ہی باقی نہ رہا، سوائے یہ کہ وہ خدا سے کتنا ڈر کر رہتا ہے!

وَقرَرتُ مبدَ اَ الشوّریٰ حکومتہم
فَلَیسَ لِلمَرءِ ما تمناہُ
اور بقیہ زمانے کیلئے اصول ٹھہرا دیا کہ ان کی حکومت کی اساس شوریٰ ہے، یہ نہیں کہ ہر شخص کی جو مرضی آئے وہ کرتا پھرے!

وَرَحَّبَ الَّناسُ بِال اِسلامِ حِینَ رَ اَوا
اَنَّ السَّلامَ وَ اَنَّ العَدلَ مَغزَاہُ
اِس اسلام کو لوگ خوش آمدید نہ کہتے تو اور کیا کہتے!!!؟ کیا دیکھ نہیں رہے تھے کہ سلامتی اور عدل ہی تو اِس دین کا لب لباب ہے؟!

یَا مَن رَ اَیٰ عُمَراً تَکسُوہُ بُردَتَہُ
وَالزَّیتُ اَدُم ٌ لَہُ وَالکُوخُ مَ اَوَاہُ
ارے اے مورخ جس نے پیوند پوش عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھ رکھا ہے، وہ عمر جس کا سالن روغن کے سوا کچھ نہیں اور جس کی آرام گاہ کٹیا سے زیادہ نہیں!

یَہتَزُّ کِسریٰ عَلیٰ کُرسِیّہ فَرقاً
مِن بَ اَسِہ مُلُوکُ الرُّومِ تَخشَاہُ
مگر یہی عمر ہے جس کے ڈر سے کسریٰ اپنے تخت پہ بیٹھا تھر تھر کانپتا ہے اور جس کی شدتِ گرفت سے رومن شہنشاہوں پر لرزہ طاری ہے!

(مصر کے شاعر محمود غنیم کے مشہور قصیدہ ”رُعاۃُ الاِبل“ سے چند اشعار)
مکمل تحریر >>

خلقت مبرا من کل عیب

اس کا مشاہدہ آپ اکثر کریں گے۔ کسی ایک میدان میں کوئی انسان اگر ’بڑا‘ اور ’قابل ذکر‘ ہو جائے تو یہ اس کے بہت سے میدانوں میں ’چھوٹا‘ اور ’ناقابل ذکر‘ ہونے کی قیمت پر ہوتا ہے۔ بہت سے انسان دیکھے گئے جو اگر کسی ایک بات میں ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندی پر ہوں گے تو کسی دوسرے پہلو سے بحرۂ مردار سے بھی نیچے گرے ہوئے ہوں گے“۔
یہ بات بے انتہا سچ ہے ۔۔۔۔
اکثر مشہور فاتح نجی زندگی میں نہایت بدخصلت دیکھے گئے۔
اکثر فلسفی اور مفکر عمل کے میدان میں صفر بھی نہیں ہوتے۔
جن شاعروں کی غزلیں اور ’محبت‘ کے گیت قریہ قریہ گائے جاتے ہیں اور جن ادیبوں کے تخلیقی شہ پاروں سے لوگ زبان کا ذوق پاتے ہیں ان کی ذاتی زندگی میں اکثر اُلو بولتے سنے گئے اور وہ اپنے قریب کے لوگوں پر بے انتہا بھاری دیکھے گئے۔۔ لوگ ان سے صرف مشاعروں اور کتابوں کے اندر رہ کر ہی محظوظ ہوتے ہیں۔
اکثر سیاستدان میدانِ جنگ کے شہسوار نہیں ہوتے۔
میدانِ کارزار کے جری بہادر، فکر وفلسفہ اور علم ودانش کے مردِ میدان نہیں ہوتے۔
اکثر سماجی کارکن گھریلو زندگی میں ایک کامیاب مثال نہیں دیکھے گئے۔
اکثر لیڈروں کے اہل خانہ، دوست احباب اور عزیزوں کیلئے، ان لیڈروں کے پاس ’وقت‘ نہ ہونے کے گلے کرتے سنے گئے ہیں۔
اکثراخلاق کے داعی جو باعمل بھی ہوں حکمرانی میں ناکام ثابت ہوتے ہیں۔ اخلاق کا اصل امتحان ہوتا ہی تب ہے جب اختیارات کا تاج سر پر رکھا ہو۔
اکثر عبادت گزار معاشرے کے گھمسان سے گزرتے ہوئے بھی گھبراتے ہیں، کجا یہ کہ وہ سرکش معاشروں کی ’ننگی پیٹھ‘ پر چڑھ بیٹھیں اور ان کو سدھا لینے کا برتہ رکھیں۔
تجارت کے دھنی، دلیری میں نام پیدا کرتے کبھی کم ہی سنے گئے ہوں گے۔
سفارت اور ڈپلومیسی کے محاذ پر سرگرم لوگ یتیموں، بیواؤں اور بے سہاراؤں کیلئے پریشان پھرتے اور دولتمندوں کو ان کی خدمت کیلئے مسخر کرتے کبھی کم ہی دیکھے گئے ہوں گے۔
امور قانون کے ماہرین تزکیہ وتربیت اور امور شخصیت سازی میں مستند مرجع کم ہی کبھی مانے گئے ہوں گے۔
حکمائے نفس کیا کبھی اقتصادیات میں بھی منفرد ترین اسکول آف تھاٹ ہوئے ہیں؟
عمرانیات کے استاد ’علم قلوب‘ میں نام پیدا کرتے کہاں سنے گئے ہیں؟
فوجوں اور خزانوں کے مالک زہد اور درویشی میں بھی مثال ہوں حتی کہ دُنیا کے بڑے بڑے زاہد اُنہی کے زہد کی مثال دیں اور اُنہی سے زہد کے اسباق لیں، ایسا کبھی ہوا ہے؟
پس اصل عظمت تو یہ ہے کہ آدمی ہر پہلو سے بڑا ہو۔ پر یہ کہاں سب کیلئے میسر ہے۔
یہاں دیکھئے، کسی ایک میدان میں عظمت دیکھنی ہو تو اس کی انتہا نہیں۔ پھر یہ سب انتہائیں ایک ہی جگہ اکٹھی ہوں اور عظمت کے اتنے لاتعداد پہلو کسی ایک ہی انسان میں اس بے ساختگی کے ساتھ مجتمع ہوں!
تاریخ انسانی کے اتنے بڑے بڑے اعزاز ایک ہی شخصیت میں سما جائیں اور وہ تب بھی ہلکا پھلکا لاپرواہی سے یہاں صرف ”الرفیق الاَعلیٰ“ کا سوال کرے ۔۔۔۔ دِن کے اتنے کارنامے راتیں سجدہ وقیام میں خدا کے ساتھ بسر ہونے میں مانع نہ ہو پائیں اور وہ خدا سے مانگے تو صرف آخرت ۔۔۔۔ گھر میں دو دو تین تین ماہ چولہا جلنے کی نوبت نہ آئے اور کھجور کی سخت چٹائی سوتے ہوئے نرم جلد میں پیوست ہو جایا کرے اور اسے اس بات کی پرواہ تک نہ ہو ۔۔۔۔ یہ ہیں محمد ﷺاللہ کے بندے اور اس کے رسول!!!
جیسے جیسے کسی انسان کا ستارۂ قسمت بلند ہو ویسے ویسے ہی خدا کی کبریائی کے آگے اس کا سر نگوں ہو اور ویسے ویسے ہی اس کی زبان پر خدا کی تعریف وتسبیح اور اپنے قصور پر استغفار کا ورد سنا جانے لگے ۔۔۔۔ بندگی کی ایسی خوبصورت تصویر محمد ﷺسے بڑھ کر آپ کو کہاں ملے گی!!!
اور آج یہ ہستی میدانِ عرفات میں کھڑی ہے۔ حدِ نگاہ تک اِس کا تربیت یافتہ ’جزیرۃ العرب‘ اِس کا ایک ایک لفظ سننے کیلئے مجسم شوق ہوا بیٹھا ہے۔ تاریخ یہاں تھم گئی ہے۔ ابھی چند ہی سال پہلے اِسی مکہ سے جان بچا کر حبشہ میں پناہ گزیں اِس کے پیروکاروں کی ایک چھوٹی سی جماعت اپنی قوم کی حالت یوں بیان کر کے ہٹی ہے:
اَیہا الملک! کنا قوماً اَہلَ جاہلیۃ (12)
”اے بادشاہ! ہم لوگ ایک جاہلیت میں گرفتار قوم تھے۔۔
اور آج یہیں سے ’ورلڈ ڈیکلیریشن‘ جاری ہوتا ہے:
اَلا و اِن کل شیئٍ من اَمر الجاہلیۃ موضوع تحت قدمَیَّ ہاتین(13)
سن لو! جاہلیت کا پورا دستور میرے اِن دونوں پیروں کے نیچے ہے!
حکومتیں تو بہت لوگ کر گئے، محمدﷺ کے سوا مگر کون ہے جس کی راہ میں تاریخ یوں بچھ گئی ہو؟
محمدﷺ کے علاوہ کون ہے جس نے سرکش زمانے کو یوں سدھا لیا ہو؟
کون ہے جس نے صالح مقاصد کیلئے کرہ ٔ ارض کے اندر اِس کامیابی کے ساتھ تصرف کیا ہو؟
کون ہے جس نے اِس قدر ہمہ جہت انقلاب اِس دھرتی پر اِس سے پہلے یا اِس کے بعد برپا کیا ہو اور خیر کا ایک ایسا ریلا یہاں بہا دینے میں کامیاب ہوا جو پوری زمین کو اپنے زیرِ آب لے آنے کی صلاحیت رکھے؟
مکمل تحریر >>

عالمی نبوت اور آخری نبوت


آنحضورﷺ کی اپنی قوم نہ یہودی تھی اور نہ عیسائی۔ مگر آپ نے یہود ہی نہیں نصاریٰ کے ساتھ بھی پورا اتر کر دکھایا! یہ کوئی محدود سطح کی نبوت ہوتی، جیسا کہ اِس سے پہلے کی نبوتیں ہوتی رہی ہیں، تو ضرورت ہی نہ تھی کہ آنحضور اِن ہر دو گروہ کے ساتھ طویل جدال کریں، آپ کی اپنی قوم کے عقلاءکی ایک بڑی تعداد تو مکہ میں اور پھر یہود کے ساتھ پالا پڑنے سے بہت پہلے مدینہ میں ہی آپ پر ایمان لے آئی تھی اور اُن کے لئے تو وہ معجزات کافی تھے جو وہ اپنی آنکھوں دیکھ چکے تھے!
وہ طویل مناظرے جو آنحضورﷺ نے یہود اور نصاریٰ ہر دو کے ساتھ کئے اسی لئے تو تھے کہ سب سے پہلے آپ کی اپنی قوم اور پھر پوری دنیا دیکھ لے نبوتوں کا تسلسل کیونکر محمد رسول اللہﷺ پر اختتام پزیر ہوا ہے۔
یہ سب تو تھا ہی اِسی لئے کہ دراَصل یہ عالمی نبوت ہے اور آخری نبوت ہے! لہٰذا اِس کے ماسوا اگر کسی کو حق رکھنے کا زعم ہے (یقینا ہمارا ایمان ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کو ملنے والی اصل تعلیمات حق ہی تھیں، ہم اُس وقت کی بات کر رہے ہیں جب آخری نبوت میدان میں آئی خصوصاً یہود اور نصاریٰ کا محمدﷺ کو قبول نہ کرنا) تو وہ اِس نبی کے جیتے جی سامنے آلے کہ اِس دعوت کو پھر پوری دنیا کے عقلاءتک پہنچنا ہے۔
بائبل کا عہدِ جدید پڑھیں تو سچائی کا وہ اعتماد مسیح علیہ السلام کی شخصیت میں بولتا ہوا محسوس ہوتا ہے جو یہودی فریسیوں کے روبرو مسیح ؑ کے خطبوں سے مترشح ہے۔ سچائی کی ایک اپنی زبان ہوتی ہے اور وہ خود بخود بولتی ہے۔ عام حالات میں یہ ایک حقیقت ہے پھر نبوت ایسی سچائی سامنے آئے تو تب کیا یہ حقیقت بول بول کر اپنا آپ نہ بتائے گی؟! وہ لوگ جنہوں نے بائبل کے عہدِ جدید میں یہودی فریسیوں کے روبرو مسیح ؑ کا اعتماد دیکھا ہے وہ ذرا قرآن کی سورۃ البقرۃ اور سورۃ آلِ عمران پڑھ لیں، سورۃ البقرۃ احبارِ یہود کے روبرو اور سورۃ آلِ عمران علمائے نصاریٰ کے روبرو!!! علاوہ ازیں حدیث اور سیرت کی کتابوں سے وہ مناقشے پڑھ لیں جو نبی آخر الزمانﷺ اور یہودونصاریٰ کے چوٹی کے علماءکے مابین پیش آئے، اور پھر فیصلہ کر لیں کہ سچائی جب آدمی کے پاس ہو تو وہ کیونکر بولتی ہے!
حق کی قوت ہی تو اِس نبی کی دعوت میں بولتی ہے! اِس حقانیت کی گواہی عقلائے عالم نے جتنی اِس نبی اور اِس رسالت کے حق میں دی اور کس کے حق میں دی؟؟؟!
دلائل، بینات، آیات، معجزات، عقلی شواہد، آسمانی مؤیدات، تاریخی حقائق، قلوب پر وارد ہونے والی کیفیات، شریعت کے محیر العقول خصائص، شخصی اوصاف، عظیم اخلاق، فتوحات،تحصیلِ اہداف، جو کچھ کہا وہ پورا ہوا، بدترین دشمنوں کا بالآخر آپ پر ایمان لا کر عقیدت اور فدائیت کی آخری حد تک چلے جانا اور ایک دو نہیں ایسے بے حساب اَن گنت واقعات کا رونما ہوتے چلے جانا۔۔ یہ سب کچھ اِس نبی کی زندگی میں یوں وافر پایا جاتا ہے کہ انسان کے متاثر ہو ہو جانے کے یہاں ہزار ہا پہلو سامنے آجاتے ہیں۔
مکمل تحریر >>

شریعتِ محمدی کا وصف


کیا اعتراض اُس چیز پر ہو جو پہلے بھی انبیاءکے ہاں پائی گئی، جبکہ اُن انبیاء پر اِن لوگوں کا ایمان بھی ہو بلکہ ان انبیاء اور ان انبیاءکے صحیفوں پر ایمان لانے کی دعوت بھی یہی لوگ دیتے پھر رہے ہوں؟!! اعتراض اس پر تو کریں کہ کوئی چیز انبیاء کے ہاں تھی اور اِس نبی کے ہاں پائی جانے سے رہ گئی!!!
وہ سب خیر جو پہلے انبیاء کے ہاں متفرق پائی گئی، اِس نبی کے ہاں مجتمع پائی گئی اور بے حد وافر!!!
صاف بات ہے، یہ ایک عالمی رسالت ہے اور قیامت تک کیلئے زمین پر خدا کی مہر۔ اِس کے بعد کچھ آنا اب باقی ہی نہیں۔ لہٰذا اِس رسالت کو زمین میں کوئی خصوصی کردار ملتا ہے اور اُسی کی مناسبت سے اِس کو نصرت دی جاتی ہے تو یہ خدا کے فیصلے ہیں۔ سوال تو یہ ہے کہ وہ کونسی چیز ہے جس پر گزشتہ نبوتوں کو سامنے رکھتے ہوئے واقعی کوئی علمی اعتراض بنتا ہو؟
پس یہ ایک کامل شریعت ہے یعنی پوری انسانی زندگی کو محیط، جس میں امن بھی آتا ہے اور جنگ بھی، جس میں فرد کے مسائل بھی شامل ہیں اور امورِ معاشرہ بھی، جس میں مصلیٰ بھی ہے اور تخت بھی۔ محراب بھی اور ایوان بھی۔ خدا کیلئے سجدہ ریز نمازی بھی اِسی کے محکوم ہیں اور حق کیلئے برسر پیکار افواج بھی اِسی کے ایک ایک حرف کی پابند۔ خانگی مسائل اِس کے دائرہ سے باہر ہیں اور نہ دیوانی و فوجداری قضایا۔ ذکر و تسبیح کے آداب اِس کی قلمرو سے خارج ہیں اور نہ ایوان ہائے صنعت و تجارت سے متعلقہ احکام۔
یہ سب مسائل ’دائرہء شریعت‘ میں آتے ہیں، جس کے انسانوں تک پہنچائے جانے کا واحد ذریعہ وقت کا نبی ہوتا ہے۔ کیا دنیا میں کوئی شخص ایسا ہے جس نے ’نبیوں‘ اور ’پیغمبروں‘ کا لفظ تو سنا ہو مگر ’شریعت‘ کا لفظ نہ سنا ہو؟؟؟ پیغمبر ’شریعت‘ دے کر نہیں جاتےتو وہ دنیا میں کرنے کیا آتے ہیں؟؟؟؟؟!!
یہ لوگ انصاف پسند ہوں تو خود شہادت دیں گے کہ کوئی ایک چیز بھی ایسی نرالی نہیں جو اِس آخری آسمانی شریعت میں نبوتوں اور شریعتوں کے سب معیار توڑ کر آگئی ہو۔ ہاں کچھ خصوصیات ہیں کہ شرائع کا جو اصل جوہر ہے وہ یہاں بامِ عروج پر نظر آتا ہے!
اِس رسالت کی بابت خاص بات یہی ہے کہ خدا نے اپنے اِس آخری نبی کی زندگی اِس قدر بھرپور اور اِس قدر گوناگوں جہت رکھی، کہ زندگی اور سماج کے ہر ہر عقدہ سے اِس کی آنکھیں چار ہوئیں اور حیاتِ انسانی کے سب لاینحل مسئلے اِس کی حق آگاہ پیش قدمی کے آگے خدا کے فضل سے بچھتے چلے گئے۔ یوں اِن سب پہلوؤں سے اس نے شریعت پر پورا اتر کر دکھایا اور عمل سے حیات انسانی کے اِن سب پہلوؤں کو متحقق کیا۔ اِس ہستی کی تشریعی جہتوں سے واقف ہونے کیلئے زیادہ نہیں آپ حدیث کی معروف کتب میں سے کوئی ایک کتاب اٹھاکر پڑھنا شروع کردیجئے، آپ دنگ رہ جائیں گے کہ زیستِ انسانی کے ہزاروں پہلو ہیں اور ہر ہر پہلو پر اِس نبی سے رشد و ہدایت کی جھڑیاں برس رہی ہیں!!! ہر ہر موضوع پر مفصل تعلیم اور عمیق بنیادیں!!!
خدایا! کسی ضابطہء حیات کو صدیوں میں ارتقاء نصیب ہوتا ہے؛ بہت چھوٹی سی ’ابتدا‘ ہوتی ہے اور ’بانی‘ شخصیت نے تو کم ہی کوئی تفصیلی مواد چھوڑ رکھا ہوتا ہے؛ بہت سی بنیادیں ’بعد میں‘ ہی جا کر رکھی جاتی ہیں اور پھر رفتہ رفتہ بہت سی شخصیات کا حصہ ڈَل ڈَل کر نسلوں بعد کوئی ’چیز‘ بنتی ہے، مگر یہاں ایک ہی شخص ہزارہا پہلوؤں سے انسانی زندگی کی فکری، عملی، شعوری، اخلاقی، سماجی، خانگی، معاشی، سیاسی، جنگی، ڈپلومیسی غرض سب بنیادیں واضح واضح الفاظ میں اور ٹھوس اعمال کی صورت رکھ کر جاتا ہے اور پھر امت کے ہزاروں عباقرہ geniuses، نسل در نسل، اِن بنیادوں کی صرف شرح اور توضیح کا فریضہ انجام دیتے ہیں!!! اور ”شرح و تفسیر و تطبیق“ کے اِس عمل میں اُس کے بولے ہوئے ایک ایک لفظ اور اُس سے صادر ہونے والے ایک ایک فعل کو سامنے رکھنے کے باقاعدہ پابند ہوتے ہیں بلکہ وہ اِس ہستی کے الفاظ اور افعال کی روشنی میں ایک دوسرے سے اختلاف، یہاں تک کہ ایک دوسرے کا محاکمہ کرتے ہیں!!! کسی ایک آدھ شعبے میں نہیں، ”انسان“ کے تعلق سے زیربحث آنے والے ہر ہر شعبے میں!!! پھر چودہ صدیاں گزر جانے کے بعد اور انسانی زندگی کی اِس حیرت انگیز توسیع ہو جانے کے باوجود، انسانی ضرورت کے ہر ہر مسئلے کا حل اِس ہستی کے اقوال اور افعال میں سے ہی کمال ربط کے ساتھ مل جاتا ہے اور حیرت انگیز طور پر معاشرے کی صلاح وفلاح کو یقینی بنا کر دکھاتا ہے، یوں کروڑوں انسانوں کی زندگی میں اور جدید سے جدید حالات میں اُس سے ’ہدایت‘ پانے کا یہ عمل مسلسل و بلا انقطاع جاری رہتا ہے!!!

حامد کمال الدین
مکمل تحریر >>

اِس دین پر کھر کوئی کیوں فدا نہ ہو۔

دلیل کی قوت، حقانیت کا رعب ، سادگی، گہرائی، گیرائی، بے ساختگی، قوتِ منطق، وحدتِ مضمون (consistency) اور وسعتِ بیان ۔۔ پھر ایک صاف شفاف روحانیت، وحدانیتِ خداوندی، خالق کی تعظیم اور کبریائی، خالق کی تسبیح و پاکیزگی کے نہایت گہرے مگر سادہ ترین پیرائے اور پھر اِن پیرایوں کی حیرت انگیز کثرت اور تنوع اور تکرار، مخلوق کا فقر وعاجزی اور مخلوق کی اوقات کا اُس کے آگے صحیح صحیح تعین، نفس کے تزکیہ و تطہیر کے فطری و پر تاثیر اسلوب۔۔
پھر شریعت ایسی سادہ، مفصل، جامع، آسان، عملی، دقیق، نرم اور پر لطف کہ انسان کا انگ انگ خدا کی اطاعت میں جکڑا جائے اور وہ زندگی میں قدم قدم پر اور نہایت متنوع انداز میں ”بندگی“ کی اِس روح پروَر کیفیت سے گزرے اور ’خدا کا پابند‘ ہونے کے احساس سے لبریز ہو ہو جائے،
نہ روح اپنے حصے سے محروم رہے اور نہ جسم اور نہ عقل، نہ احساس اور نہ وجدان، نہ فرد اور نہ معاشرہ۔۔!!!
کسی نبی کی تنقیص اور نہ کسی کتاب کی تکذیب! سمعنا و اَطعنا، غفرانک ربنا!!!
کوئی اگر مگر نہ کوئی حیل و حجت، تاویل نہ انکار! تحریف اور نہ پیچیدگی!
کوئی ’پہیلی‘ اور نہ کوئی ’معمہ‘!!!
زندگی، وجود، کائنات، انسان، تاریخ، عقل، سماج، علم، فکر، اخلاق، ثقافت، ہر ہر موضوع پر سادہ لفظ، پَر معانی کے سمندر۔۔
کسی ’اعتراض‘ سے بھاگنا اور نہ کسی ’سوال‘ سے آنکھیں چرانا! نہ دھونس اور نہ زبردستی!
ہر سوال کا تشفی بخش جواب اور پھر قبول کرنے یا نہ کرنے کی پوری آزادی
کافر و مسلم ہر کسی کے ”حقوق“ سے متعلق مفصل ہدایات!
”راواداری“ کا ایک ایسا صحیح و صریح منہج جس میں کوئی تصنع اور نہ منافقت اور نہ ’کیمرے کے رنگ‘!
خیر کے ہر ہر منصوبے میں ہر مذہب اور ہر پس منظر کے لوگوں کے ساتھ اشتراکِ عمل!
اعلیٰ ظرفی و کشادہ دلی!!!
ہر کسی کی بھلائی کا جواب اس سے بڑھ کر بھلائی سے دینے کی ترغیب!!!
بلکہ برائی کا جواب بھلائی سے دینے کی تاکید!!!
عفو و درگزر کی ترغیب میں اِس کا ایک ہی جملہ ہر مذہبی کتاب اور ہر اخلاقی فلسفے کو پیچھے چھوڑ گیا ہو: وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ !!!
برائی پر ہاتھ ڈالنے کا حکم وہیں جہاں پُر امن اسلوب فائدے سے بڑھ کر نقصان دہ ثابت ہو اور اُس برائی کا سدباب نہ ہونا فساد فی الارض کی راہ ہموار کرتا اور مخلوق کے ساتھ زیادتی شمار ہوتا ہو!!!
مکارمِ اخلاق اور عالی اَقدار کی ایسی عملی تفصیل کہ کسی مذہب کی کتاب اِس کے مقابلے میں پیش ہی نہ کی جا سکے!!!
پھر۔۔۔۔ ہر ہر چیز کی سند اور ہر ہر بات کے لئے وثائق!!!
مختصر یہ کہ۔۔ ”خدا کا دین“!!! جسے اُس نے اِس دور کے انسان کیلئے کامل ترین حالت میں، کرہء ارض کے معلوم و موثوق ترین شخص کے ذریعے، دنیا کی زرخیز ترین زبان میں، تاریخ انسانی کے مستند ترین مصادر سے، زمین کے سب براعظموں کیلئے، آسان ترین صورت میں، دستیاب کر رکھا ہے اور جس کو مخلوق کیلئے قیامت تک اپنے یہاں ”پسندیدہ“ و ”قابلِ قبول“ ٹھہرا دیا ہے، اور اِس پر ہزاروں دلائل کرہء ارض پر پھیلا رکھے ہیں:
”آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا، تم پر اپنی نعمت تمام کر دی، اور تمہارے لئے اِس طرزِ فرماں برداری (اسلام) کو ہی پسندیدہ ٹھہرا لیا ہے“۔(المائدۃ: 3)
اِس دین پر پھر کون فدا نہ ہو!!! جسے اِس کی ہم سری کا دعویٰ ہو وہ دکھائے بھی تو کہ اُس کے پاس کیا ہے!!!
حامد کمال الدین
مکمل تحریر >>