Saturday, 24 January 2015

یزید پر لعنت اور نہ یزید سے محبت


یزید کے معاملے میں لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہیں: دو انتہائیں، اور تیسری راہ وسط ہے۔
دو انتہاؤں میں سے ایک کا کہنا ہے کہ یزید کافر تھا۔ منافق تھا۔ اسی نے نواسۂ رسول کے قتل کی تمام تر سعی کی، جس سے اس کا مقصد بھی رسول اللہ ﷺ سے اپنا بدلہ نکالنا تھا اور اپنے آباءو اجداد کا انتقام لینا اور اپنے نانا عتبہ اور نانا کے بھائی شیبہ اور ماموں ولید بن عتبہ وغیرہ کے خون کا حساب بے باک کرنا کہ جن کو نبیﷺ نے بدر کے روز علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور حمزہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کی تلواروں سے قتل کرایا تھا۔ اِس فریق کا کہنا ہے کہ یزید نے در اصل بدر کے بدلے چکائے تھے اور جاہلیت کے حسابات بے باک کئے تھے۔ اس فریق نے یزید کی زبان سے یہ شعر بھی کہلوائے ہیں:
لما بدت تلک الحمول وأشرفت-----تلک الرؤوس علی ربیٰ جیرون
نعق الغراب، فقلت نح أو لا تنح-------فلقد قضیت من النبی دیونی
جس وقت وہ رخت ہائے سفر سامنے آئے اور وہ (نیزوں پر گاڑے ہوئے) سر جیرون کی چوٹیوں پر سے نظر آنے لگے، تب کوا نوحہ کرنے لگا۔ میں نے کہا نوحہ کر یا نہ کر، میں نے تو نبی (ﷺ) کے ساتھ اپنے قرض چکا لئے!
اس فریق کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس موقعہ پر یزید مستی میں آ کر ابن الزبعری کے یہ اشعار بھی گانے لگا جو زبعری نے اُحد میں مسلمانوں کو پچھاڑنے کے موقعہ پر گائے تھے:
لیت أشیاخی ببدر شہدوا۔۔۔۔۔۔جزع الخزرج من وقع ال أسل
قد قتلنا الکثیر من أشیاخہم۔۔۔۔۔۔۔وعدلناہ ببدر فاعتدل
کاش میرے بڑے جو بدر میں مارے گئے آج دیکھ لیتے کہ کس طرح ہمارے نیزوں کی ضربوں سے خزرج کے لوگ تڑپتے پھر رہے ہیں۔ ہاں تو آج ہم نے اُن کے بڑوں کی ایک کثیر تعداد موت کے گھاٹ اتار ڈالی، اور ادلے کا بدلہ کر ڈالا۔ تو آج جاکر معاملہ برابر برابر ہوا۔
یہ فریق اسی طرح کی اور بہت سی باتیں بیان کرتا ہے۔ ایسی باتیں زبان پر لانا رافضہ کیلئے تو ویسے ہی بہت آسان ہے، جو کہ اس سے پہلے ابو بکر , عمر اور عثمان رضوان اللہ کی تکفیر کر چکے ہوتے ہیں۔ اور ایسوں کیلئے ظاہر ہے یزید کی تکفیر کرنا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔!

دوسری انتہا پر چلے جانے والوں کا گمان ہے کہ یزید ایک صالح شخص تھا۔ امامِ عادل تھا۔ بلکہ ان ننھے صحابہ میں سے تھا جو رسول اللہ ﷺ کے دور میں پیدا ہوئے تھے اور یہ کہ پیدائش کے بعد اس کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا، آنحضور نے اس کو گود میں اٹھایا اور برکت کی دعا دی! بلکہ ان میں سے بعض تو اس قدر آگے گئے کہ یزید کو ابو بکرؓ اور عمرؓ پر فضیلت دی۔ کچھ تو اس کو نبی کہنے سے نہیں چوکے۔ یہ شیخ عدی یا حسن مقتول سے بھی ایک جھوٹا قول منسوب کرتے ہیں کہ: ستر ولی ایسے ہوئے جن کے چہرے موت کے وقت قبلہ سے پھیر کر دوسری طرف کر دیے گئے، اس لئے کہ (افضلیت) یزید کی بابت توقف کیا کرتے تھے!۔عدویہ اور اکراد کے غالی طبقوں اور ان جیسے کچھ دیگر طوائف کا یہی مذہب ہے۔ یہ حسین رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں یزید کی تعریف کو فوقیت دیتے ہیں۔
اوپر جو دونوں انتہائیں بیان ہوئیں، ظاہر ہے وہ کسی بھی انسان کے نزدیک جو ذرہ بھر عقل کا مالک ہے اور دورِ سلف سے اور اس وقت کے امور سے ذرہ بھر واقف ہے اس پر ان دونوں انتہاؤں کا باطل ہونا آپ سے آپ واضح ہے۔ یہی وجہ ہے سنت پر پائے جانے والے معروف اہل علم میں سے کسی ایک کی بھی ان ہر دو انتہاؤں میں سے کسی ایک سے کوئی نسبت نہیں رہی۔ نیز سب عقلاءجو رائے رکھنے میں معتبر ہیں اور تاریخی روایات کھنگالنے میں تجربہ رکھتے ہیں ایسی کسی انتہا کی طرف نہیں گئے۔

تیسرا قول (جو کہ صحیح ہے اور وسط کی راہ ہے) یہ ہے کہ: یزید مسلمانوں کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھا۔ اس کی نیکیاں بھی ہیں، بدیاں بھی۔ یہ (دورِ نبوت میں نہیں) بلکہ خلافت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں پیدا ہوا۔ کافر نہیں تھا۔ مگر اس کے سبب سے قتل حسین رضی اللہ عنہ جیسا واقعہ رونما ہوا، اہل حرہ کے ساتھ بھی اس نے جو کیا وہ معروف ہے، یزید نہ صحابی ہے اور نہ اللہ کے نیک اولیاء میں سے ہے۔ یہی قول اہل سنت و جماعت میں سے عام اہل عقل و اہل علم کا اختیار کردہ ہے۔

جہاں تک یزید پر دشنام اور لعنت بھیجنے سے اجتناب کا معاملہ ہے
یزید یا اس جیسے کسی متنازع شخص سے قطع نظر شریعت اسلامیہ کا عام اصول ہے جو یزید سے پہلے بھی معمول بہ تھا اور اس کے بعد بھی فقہاء امت نے اسے پوری صراحت کے ساتھ جابجا ذکر فرمایا ہے کہ کسی معین شخص کو نام لے کر لعنت کرنا درست نہیں ہے ،کیونکہ ”لعنت"کی حقیقت یہ ہے کہ رحمت خداوندی سے کسی کو دور کرنا، جبکہ رحمت خداوندی کے فیصلے خدا تعالیٰ ہی کو زیب دیتے ہیں، البتہ جن لوگوں کے بارے میں قرآن وسنت میں 'تصریح' کے ساتھ لعنت اور بددعاء کا ذکر ہے ان کے بارے میں 'بطور حکایت' لعنت کرنا مباح ہے، اہل سنت والجماعت کا یہی عقیدہ وعمل ہے.
حدیث صحیح ہے کہ جب کوئی شخص کسی پر لعنت کرتا ہے ، اگر وہ شخص قابل لعن ہے تو لعن اس پر پڑتی ہے ورنہ لعنت کرنے والے پر رجوع کرتی ہے۔جب تک کسی کا کفر پر مرنا متحقق نہ ہوجائے، اس پر لعنت نہیں کرنا چاہیے کہ اپنے اوپر عود لعنت کا اندیشہ ہے۔
لہٰذا یزید کے وہ افعال ناشائستہ ہرچند موجب لعن کے ہیں ، مگر جس کو محقق اخبار اور قرائن سے معلوم ہوگیا ہو کہ وہ ان مفاسد سے راضی وخوش تھا اور ان کو مستحسن اور جائز جانتا تھا اور بدون توبہ کے مرگیا تو وہ لعنت کرے ، اسی لیے جمہور علماء اس میں تردد رکھتے ہیں۔ انکے نزدیک اوّل میں وہ مسلمان تھا۔ اس کے بعد ان افعال کا وہ صریح مرتکب تھا یا نہ تھا اور ثابت ہوا یا نہ ہوا، کافر مرا یا مسلمان مستند تحقیق نہیں ۔ پس بدون تحقیق اس امر کے لعن جائز نہیں۔ لہٰذا یہ علماء بوجہ حدیث 'منع لعن مسلم' کے لعن سے منع کرتے ہیں اور یہ مسئلہ حق ہے ۔
جواز لعن اور عدم جواز کا مدار تاریخ پر ہے، اس لیے احتیاط سکوت میں ہے ۔ کیونکہ اگر لعن جائز ہے تو لعن نہ کرنے میں کوئی حر ج نہیں۔ لعن نہ فرض ہے ، نہ واجب ، نہ سنت محض مباح ہے اور جو محل نہیں اس پر خود مبتلا ہونا اچھا نہیں۔ پھر کسی حدیث میں مستحقِ لعنت پر لعنت کرنے کا کوئی ثواب واردنہیں ہوا۔ اس لیے لعنت کے الفاظ زبان پرلانے سے کوئی فائدہ نہیں۔

رہ گئی یہ بات کہ یزید کے ساتھ محبت نہیں رکھی جائے گی، تو وہ اس بنا پر کہ محبتِ خاصہ تو رکھی جاتی ہے نبیوں کے ساتھ، صدیقین کے ساتھ، شہداءکے ساتھ اور صالحین کے ساتھ۔ جبکہ یزید ان چاروں اصناف میں نہیں آتا۔ نیز رسول اللہﷺ نے فرما رکھا ہے: المرءمع من أحب "آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس کے ساتھ اس کی محبت ہو"
اب جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے کبھی یہ اختیار نہیں کرے گا کہ وہ یزید کے ساتھ ہو یا اس جیسے دیگر بادشاہوں کے ساتھ ہو جو عادل نہیں ہیں۔
مستفاد از :
فتاویٰ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ترجمہ حامد کمال الدین،
نقیب ختم نبوت
مکمل تحریر >>

شہیدِ کربلا - مفتی محمد شفیع


واقعہ کربلا کے بیان میں سینکڑوں بلکہ شاید ہزاروں کی تعداد میں مفصل و مختصر کتابیں ہر زبان میں لکھی گئی ہیں لیکن ان میں بکثرت ایسے رسائل ہیں جن میں صحیح روایات اور مستند کتب سے مضامین لینے کا اہتمام نہیں کیا گیا، اس موضوع پر ایک مختصر مگر جامع مفتی شفیع رحمہ اللہ کی کتاب "شہید کربلا" ہے، اس کا اصل متن تاریخ کامل ابن اثیر ہے اس کے علاوہ دوسری کتب تاریخ طبری، تاریخ الخلفاء ، اسعاف الراغبین اور عام کتب حدیث سے بھی اقتباسات لیے گئے اور انکا ساتھ حوالہ دیا گیا ہے۔
ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ شہادت حسین رضی اللہ عنہ کے تاریخی حالات مخدوش ہیں، اس سلسلے میں مستند سمجھے جانے والے مورخین سے بھی روایت میں ملاوٹ ہوسکتی ہے، اس میں انکے ذاتی جذبات کا اظہار بھی ہوسکتا ہے کیونکہ اس میں متن کی کوئی سند نہیں ہوتی، ذیادہ تر روایات سمعی ہیں۔
پھر تاریخ کی مستند روایات بھی تاریخ ہی کی حیثیت رکھتی ہیں ، مستند تاریخ کا بھی وہ درجہ نہیں ہوتا جو مستند و معتبر احادیث کا کہ ان پر احکام عقائد اور حلال و حرام کی بنیاد ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ امام بخاری جیسے محدث کی تاریخ کبیر و صغیر کا وہ درجہ نہیں جو صحیح بخاری کا ہے۔ ان کو ایک تاریخی واقعہ کے متعلق ضروری علم کے لیے پیش کیا جاتا ہے، اصل ان سے ملنے والا سبق ہوتا ہے ۔ اس کتاب میں بھی توجہ اسوہ حسینی کی طرف ہی دلائی گئی ہے۔
ڈاؤنلوڈ لنک :
http://islamicbookslibrary.wordpress.com/2011/06/24/shaheed-e-karbala-by-shaykh-mufti-muhammad-shafi-r-a/
مکمل تحریر >>

واقعہِ کربلا اور تاریخی روایات


سانحہ کربلا کے موضوع پر بے شمار کتب لکھی جا چکی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ میں اس واقعے سے متعلق جیسا جھوٹ گھڑا گیا ہے، شاید ہی کسی اور واقعے سے متعلق گھڑا گیا ہو۔ ایک فرقہ نے اپنے مذہب کی بنیاد اس سانحہ پر رکھی اور ماتم کرنا، رونا اور رلانا انکے ہاں مذہبی شعار قرار پایا ، پھر اس کے لیے ہزاروں مرثیے لکھے گئے اور اس انتہاء درجے کی مبالغہ آرائی کے ساتھ اس سانحہ کو ایک افسانے کا رنگ دے دیا گیا۔ 
چنانچہ محرم الحرام میں انکے واعظ اور ذاکرین عجیب و غریب من گھڑت قصوں ، کہانیوں اور اشعار میں سانحہ کربلا کی داستانیں سناتے ہیں اور ایک ایک بات کی ایسی منظر نگاری کی جاتی ہے جیسے انہوں نے واقعہ کربلا کی ویڈیو فلم کہیں سے دیکھ لی ہو۔ ۔ یہاں کسی فرقے کی توہین مقصود نہیں بلکہ حقیقت کچھ ایسی ہی ہے، جو لوگ ماتم کی مجلس میں کبھی گئے ہیں وہ بخوبی جانتے ہونگے۔

تاریخی کتابوں کو دیکھیں تو اولین کتب تاریخ میں اس واقعے کو صرف ایک شخص نے پوری تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے اور اس کا نام ہے ابو مخنف لوط بن یحیی۔ ان سے بالعموم جو صاحب روایت کرتے ہیں، ان کا نام ہشام کلبی ہے۔ 
ان دونوں راویوں کے متعلق ہم تاریخی روایات پر تحقیقی سلسلے کے دوران دو تین تحاریر پیش کرچکے ۔ جنگ صفین کی روایات پر تحقیق کے دوران ان کی روایات پر بھی تفصیلی تبصرہ آچکاکہ یہ سبائی راوی انتہاء کے جھوٹے ، دروغ گو اور نہایت ہی متعصب مورخ ہیں اور مخصوص صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں انکا بغض مشہور ہے۔ تاریخ طبری میں سوائے چند ایک کے، سانحہ کربلا کی تقریباً سبھی روایات انہی دونوں سے مروی ہیں۔ 
ابو مخنف کا نام لوط بن یحیی تھا اس نے کئی کتب لکھیں جن میں سب سے مشہور "مقتل الحسین" ہے، امام طبری نے ابو مخنف پر بہت اعتماد کیا ہے اور اس کی تاریخی کتابچوں کی روایتوں اور مقتل ابیِ مخنف کا کل مواد قآلِ ابو مخنف کی تکرار سے اپنی تاریخ میں درج کیا۔
تاریخ طبری سے کچھ روایات جمع کرکے اسکی مقتل حسین کے نام سے جو کتاب قم سے چھاپی گئی اس میں اسکی ایسی عجیب و غریب روایات ہیں جن کو عقل بھی تسلیم نہیں کرتی۔
مثلاً لکھتا ہے :
حضرت حسین رضی اللہ عنہ جس روز شہید ہوئے آسمان سے خون کی بارش ہوئی۔ (مقتل الحسین رضی اللہ عنہ ص : 119 )

خود ایک شِیعہ مصنف نے بھی اپنی کتاب “مجاہدِ اعظم “میں داستانِ کربلاء کی وضعی روایتوں کے ذکر میں مقتل ابو مخنف کے نسخوں کا مختلف البیان ہونے کا بھی اظہار کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
اس میں صد ہا باتیں طبع زاد و تراشی گئیں۔ واقعات کی تدوین عرصہ دراز کے ہوئی رفتہ رفتہ اختلافات کی کثرت اس قدر ہو گئی کہ سچ کو جھوٹ سے، جھوٹ سے سچ کو علیحدہ کرنا مشکل ہو گیا۔ ابو مخنف لوط بِن یحیی ازدمی کربلاء میں خود موجود نہ تھے اس لئے یہ سب واقعات انہوں نے بھی سمعی لکھے ہیں لہذا مقتل ابو مخنف پر بھی پورا وثوق نہیں پھر لطف یہ کہ مقتل ابو مخنف کہ چار نسخے پائے جاتے ہیں جو ایک دوسرے سے مختلف البیان ہیں اور ان سے صاف پایا جاتا ہے کہ خود ابو مخنف واقعات کے جامع نہیں بلکہ کسی اور شخص نے ان کے بیان کردہ سماعی واقعات کو قلمبند کر دیا ہے۔
مختصر یہ کہ شہادتِ اِمام حسین ؓسے متعلق تمام واقعات ابتدا سے انتہا تک اس قدر اختلافات سے پر ہیں کہ اگر ان کو فرداً فرداً بیان کیا جائے تو کئی ضخیم دفتر فراہم ہو جائیں۔ یہی مصنف ایک جگہ لکھتے ہیں۔
"اکثر واقعات مثلاً اہلِ بیت پر تین شبانہ روز پانی کا بند رہنا، مخالف فوج کا لاکھوں کی تعداد میں ہونا۔ شمر کا سینہ مطہر پر بیٹھ کر سر جدا کرنا، آپ کی لاش مقدسہ سے کپڑوں تک کا اتار لینا، نعش مطہر کا لکد کوب سم اسپان کیا جانا، سر اوقات اہلِ بیت کی غارت گری، نبی زادیوں کی چادر تک چھین لینا وغیرہ وغیرہ نہایت مشہور اور زبان زد خاص و عام ہیں حالانکہ ان میں سے بعض سرے سے غلط، بعض مشکوک، بعض ضعیف، بعض مبالغہ آمیز اور بعض من گھڑت ہیں"(صفحہ 178)

حادثۂِ کربلا کی مشہور روایتوں کو جو زبان زد خاص و عام ہیں کس وضاحت سے سرے سے غلط، مشکوک و مبالغہ آمیز و من گھڑت کہتے ہیں اور اسی کے ساتھ مقتل ابیِ مخنف کے قلمی و مطبوعہ نسخوں کو مختلف البیان بتاتے ہیں چنانچہ مطبوعہ نسخہ کے سرسری مطالعے ہی سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ بہت کچھ تصرف اس میں کیا گیا ہے بعض ایسی روایتوں کو جن کی ساختگی کتب بلدان و جغرافیہ کے ٹھوس حقائق سے عیاں ہو جاتی ہے ترک و حذف کر کے مزید واہی روایتوں کا الحاق کر دیا ہے۔ 

تاریخ کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ کسی شخص یا واقعے کے بارے میں متعصب راوی کی روایت کو قبول نہ کیا جائے۔ اس وجہ سے اہلسنت کے بڑے علماء نے ابو مخنف اور ہشام کلبی کی روایات سے اجتناب کیا۔ ان دونوں کے علاوہ ایک اور مورخ محمد بن عمر الواقدی کی بعض روایتیں سانحہ کربلا سے متعلق ہیں، اس کے علاوہ ایک راوی عمار الدھنی ہیں ، یہ قابل اعتبار مانے جاتے ہیں ہیں ۔ واقعہ کربلا کے متعلق اہل سنت کے ہاں منقو ل اکثر روایات انہی کی ہیں ۔ ان کے بارے میں حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں۔ ” صدوق یتشیع “ عمار الدھنی بہت سچا راوی ہے اور شیعہ عقیدہ رکھتا ہے۔ (تقریب التہذیب ص : 152 )
صاحب تنقیح المقال بھی لکھتے ہیں۔” کان شیعا ثقۃ “ عمار الدھنی شیعہ عقیدہ رکھتا ہے لیکن قابل اعتبار تھا۔ (تنقیح المقال ص : 317 ج : 2 ) عمار الدھنی راوی شیعہ و سنی دونوں کے نزدیک قابل اعتبار ہے۔ عمار الدھنی کی روایت تاریخ طبری ، تہذیب التہذیب ، الاصابہ میں موجود ہیں۔
مکمل تحریر >>