Sunday, 1 February 2015

پہلی حجرتِ حبشہ اور ایک غلط فہمی


جور وستم کا مذکورہ سلسلہ نبوت کے چوتھے سال کے درمیان یا آخر میں شروع ہوا تھا اور ابتدا معمولی تھا مگر دن بدن اور ماہ بماہ بڑھتا گیا۔ یہاں تک کہ نبوت کے پانچویں سال کا وسط آتے آتے اپنے شباب کو پہنچ گیا۔ حتیٰ کہ مسلمانوں کے لیے مکہ میں رہنا دوبھر ہوگیا اور انہیں ان پیہم ستم رانیوں سے نجات کی تدبیر سوچنے کے لیے مجبورہوجانا پڑا۔ ان ہی سنگین اور تاریک حالات میں سورۂ زُمَر کا نزول ہوا۔ اوراس میں ہجرت کی طرف اشارہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ اللہ کی زمین تنگ نہیں ہے۔
لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَـٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ ۗ وَأَرْ‌ضُ اللَّـهِ وَاسِعَةٌ ۗ إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُ‌ونَ أَجْرَ‌هُم بِغَيْرِ‌ حِسَابٍ (۳۹: ۱۰ )
''جن لوگوں نے اس دنیامیں اچھائی کی ان کے لیے اچھا ئی ہے اور اللہ کی زمین کشادہ ہے۔صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بلا حساب دیا جائے گا۔''

ادھر رسول اللہﷺ کو معلوم تھا کہ اَصحَمَہ نجاشی شاہ حبش ایک عادل بادشاہ ہے۔ وہاں کسی پر ظلم نہیں ہوتا۔ اس لیے آپﷺ نے مسلمانو ں کو حکم دیا کہ وہ فتنوں سے اپنے دین کی حفاظت کے لیے حبشہ ہجرت کر جائیں۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی ۹/۹)
اس کے بعد ایک طے شدہ پروگرام کے مطابق رجب ۵ نبوی میں صحابہ کرامؓ کے پہلے گروہ نے حبشہ کی جانب ہجرت کی۔ اس گروہ میں بارہ مرد اور چار عورتیں تھیں۔ حضرت عثمان بن عفانؓ ان کے امیر تھے اور ان کے ہمراہ رسول اللہﷺ کی صاحبزادی حضرت رقیہ ؓ بھی تھیں۔رسول اللہﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ حضرت ابراہیم اور حضرت لوط علیہما السلام کے بعد یہ پہلا گھرانہ ہے جس نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی۔
یہ لوگ رات کی تاریکی میں چپکے سے نکل کر اپنی نئی منزل کی جانب روانہ ہوئے۔ رازداری کا مقصد یہ تھا کہ قریش کو اس کا علم نہ ہوسکے۔ رُخ بحر احمر کی بندرگاہ شُعَیْبَہ کی جانب تھا۔ خوش قسمتی سے وہاں دوتجارتی کشتیاں موجود تھیں، جو انہیں اپنے دامنِ عافیت میں لے کر سمندر پار حبشہ چلی گئیں۔ قریش کوکسی قدر بعد میں ان کی روانگی کا علم ہوسکا۔ تاہم انہوں نے پیچھا کیا اور ساحل تک پہنچے لیکن صحابہ کرام ؓ آگے جاچکے تھے ، اس لیے نامراد واپس آئے۔ ادھر مسلمانوں نے حبشہ پہنچ کر بڑے چین کا سانس لیا۔ (زاد المعاد ۱/۲۴)
مسلمانوں کے ساتھ مشرکین کا سجدہ اور مہاجرین کی واپسی:
لیکن اسی سال رمضان شریف میں یہ واقعہ پیش آیا کہ نبیﷺ ایک بار حرم تشریف لے گئے۔ وہاں قریش کا بہت بڑا مجمع تھا۔ ان کے سردار اور بڑے بڑے لوگ جمع تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دم اچانک کھڑے ہو کر سورۂ نجم کی تلاوت شروع کردی۔ ان کفار نے اس سے پہلے عموماً قرآن سنانہ تھا۔ کیونکہ ان کا دائمی وطیرہ قرآن کے الفاظ میں یہ تھا کہ :
لَا تَسْمَعُوا لِهَـٰذَا الْقُرْ‌آنِ وَالْغَوْا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ (۴۱: ۲۶)
''اس قرآن کو مت سنو اور اس میں خلل ڈالو۔ (اودھم مچاؤ) تاکہ تم غالب رہو۔''
لیکن جب نبیﷺ نے اچانک اس سورۂ کی تلاوت شروع کردی اور ان کے کانوں میں ایک ناقابل بیان رعنائی ودلکشی اور عظمت لیے ہوئے کلام الٰہی کی آواز پڑی تو انہیں کچھ ہوش نہ رہا۔ سب کے سب گوش بر آواز ہوگئے کسی کے دل میں کوئی خیال ہی نہ آیا۔ یہاں تک کہ جب آپ نے سورہ کے اواخر میں دل ہلا دینے والی آیات فرماکر اللہ کا یہ حکم سنایا کہ:
{فَاسْجُدُوْا لِلَّہِ وَاعْبُدُوْا} (۵۳: ۶۲ )
''اللہ کے لیے سجدہ کرو اور اس کی عبادت کرو۔''
اور اس کے ساتھ ہی سجدہ فرمایا تو کسی کو اپنے آپ پر قابو نہ رہا ، اور سب کے سب سجدے میں گر پڑے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس موقع پر حق کی رعنائی وجلال نے متکبرین ومستہزئین کی ہٹ دھرمی کا پردہ چاک کردیا تھا۔ اس لیے انہیں اپنے آپ پر قابو نہ رہ گیا تھا اور وہ بے اختیار سجدے میں گر پڑے تھے۔ (صحیح بخاری میں اس سجدے کا واقعہ ابن مسعود اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مختصراً مروی ہے ، دیکھئے: باب سجدۃ النجم اور باب سجود المسلمین والمشرکین ۱/۱۴۶ اور باب ما لقی النبی ﷺ واصحابہ بمکۃ ۱/۵۴۳)
لیکن بعد میں جب انہیں احساس ہوا کہ کلامِ الٰہی کے جلال نے ان کی لگا م موڑدی اور وہ ٹھیک وہی کام کر بیٹھے جسے مٹانے اور ختم کرنے کے لیے انہوں نے ایڑی سے چوٹی تک کا زور لگا رکھا تھا اور اس کے ساتھ ہی اس واقعے میں غیر موجود مشرکین نے ان پر ہر طرف سے عتاب اور ملامت کی بوچھاڑ شروع کی تو ان کے ہاتھ کے طوطے اُڑ گئے اور انہوںنے اپنی جان چھڑانے کے لیے رسول اللہﷺ پر یہ افتراء پردازی کی اور یہ جھوٹ گھڑا کہ آپ نے ان بتوں کا ذکر عزت واحترام سے کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ :
((تلک الغرانیق العلی ، وان شفاعتھن لترتجی۔))
''یہ بلند پایہ دیویاں ہیں اور ان کی شفاعت کی امید کی جاتی ہے۔''
حالانکہ یہ صریح جھوٹ تھا جو محض اس لیے گھڑلیاگیا تھا تاکہ نبیﷺ کے ساتھ سجدہ کرنے کی جو'' غلطی'' ہو گئی ہے اس کے لیے ایک ''معقول'' عذر پیش کیا جاسکے اور ظاہر ہے کہ جو لوگ نبیﷺ پر ہمیشہ جھوٹ گھڑتے اور آپ کے خلاف ہمیشہ دسیسہ کاری اور افتراء پردازی کرتے رہے تھے ، وہ اپنادامن بچانے کے لیے اس طرح کا جھوٹ کیوں نہ گھڑتے۔
بہرحال مشرکین کے سجدہ کرنے کے اس واقعے کی خبر حبشہ کے مہاجرین کو بھی معلوم ہوئی لیکن اپنی اصل صورت سے بالکل ہٹ کر۔ یعنی انہیں یہ معلوم ہوا کہ قریش مسلمان ہوگئے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے ماہ شوال میں مکہ واپسی کی راہ لی لیکن جب اتنے قریب آگئے کہ مکہ ایک دن سے بھی کم فاصلے پر رہ گیا تو حقیقت حال آشکارا ہوئی۔ اس کے بعدکچھ لوگ تو سیدھے حبشہ پلٹ گئے اور کچھ لوگ چھپ چھپا کر یا قریش کے کسی آدمی کی پناہ لے کر مکے میں داخل ہوئے۔ (زاد المعاد ۱/۲۴، ۲/۴۴، ابن ہشام ۱/۳۶۴)
 
مکمل تحریر >>

حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی نجاشی کے دربار میں تقریر


مسلمان یہ تہیہ کر کے اس کے دربار میں آئے کہ ہم سچ ہی بولیں گے ، خواہ نتیجہ کچھ بھی ہو۔ جب مسلمان آگئے تو نجاشی نے پوچھا : یہ کونسا دین ہے جس کی بنیاد پر تم نے اپنی قوم سے علٰیحدگی اختیار کرلی ہے ؟ لیکن میرے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے ہو اور نہ ان ملتوں ہی میں سے کسی کے دین میں داخل ہوئے ہو ؟ مسلمانو ں کے ترجمان حضرت جعفر بن ابی طالبؓ نے کہا :
" اے بادشاہ ! ہم ایسی قوم تھے جو جاہلیت میں مبتلاتھی۔ ہم بُت پوجتے تھے ، مردار کھاتے تھے ، بدکاریاں کرتے تھے۔ قرابتداروں سے تعلق توڑتے تھے۔ ہمسایوں سے بد سلوکی کرتے تھے اور ہم میں سے طاقتور کمزور کو کھا رہا تھا، ہم اسی حالت میں تھے کہ اللہ نے ہم ہی میں سے ایک رسول بھیجا اس کی عالی نسبی ، سچائی ، امانت اور پاکدامنی ہمیں پہلے سے معلوم تھی۔ اس نے ہمیں اللہ کی طرف بلایا اور سمجھایا کہ ہم صرف ایک اللہ کو مانیں اور اسی کی عبادت کریں اور اس کے سوا جن پتھروں اور بتوں کو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے انہیں چھوڑدیں۔ اس نے ہمیں سچ بولنے، امانت ادا کرنے ، قرابت جوڑنے ، پڑوسی سے اچھا سلوک کرنے اور حرام کاری وخونریزی سے باز رہنے کا حکم دیا اور فواحش میں ملوث ہونے ، جھوٹ بولنے ، یتیم کا مال کھانے اور پاکدامن عورت پر جھوٹی تہمت لگا نے سے منع کیا۔ اس نے ہمیں یہ بھی حکم دیا کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ اس نے ہمیں نماز، روزہ، اور زکوٰۃ کا حکم دیا...
اسی طرح حضرت جعفرؓ نے اسلام کے کام گنائے ، پھر کہا : ہم نے اس پیغمبر کو سچا مانا ، اس پر ایمان لائے اور اس کے لائے ہوئے دینِ الٰہی میں اس کی پیروی کی۔ چنانچہ ہم نے صرف اللہ کی عبادت کی۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا اور جن باتوں کو اس پیغمبر نے حرام بتایا انہیں حرام مانا اور جن کو حلال بتایا انہیں حلال جانا۔ اس پر ہماری قوم ہم سے بگڑ گئی۔ اس نے ہم پر ظلم وستم کیا اور ہمیں ہمارے دین سے پھیرنے کے لیے فتنے اور سزاؤں سے دوچار کیا۔ تاکہ ہم اللہ کی عبادت چھوڑ کر بُت پرستی کی طرف پلٹ جائیں اور جن گندی چیزوں کو حلال سمجھتے تھے انہیں پھر حلال سمجھنے لگیں۔ جب انہوں نے ہم پر بہت قہر وظلم کیا ، زمین تنگ کردی اور ہمارے درمیان اور ہمارے دین کے درمیان روک بن کر کھڑے ہوگئے تو ہم نے آپ کے ملک کی راہ لی اور دوسروں پر آپ کو ترجیح دیتے ہوئے آپ کی پناہ میں رہنا پسند کیا اور یہ امید کی کہ اے بادشاہ ! آپ کے پاس ہم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
نجاشی نے کہا : وہ پیغمبر جو کچھ لائے ہیں اس میں سے کچھ تمہارے پاس ہے ؟
حضرت جعفر ؓ نے کہا : ہاں !
نجاشی نے کہا : ذرا مجھے بھی پڑھ کر سنا ؤ۔
حضرت جعفرؓ نے سورہ ٔ مریم کی ابتدائی آیات تلاوت فرمائیں۔ نجاشی اس قدر رویا کہ اس کی ڈاڑھی تر ہوگئی۔ نجاشی کے تمام اسقف بھی حضرت جعفر ؓ کی تلاوت سن کر اس قدر روئے کہ ان کے صحیفے تر ہوگئے۔ پھر نجاشی نے کہا کہ یہ کلام اور وہ کلا م جو عیسیٰ علیہ السلام لے کر آئے تھے دونوں ایک ہی شمع دان سے نکلے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد نجاشی نے عَمرو بن عاص اور عبد اللہ بن ربیعہ کو مخاطب کر کے کہا کہ تم دونوں چلے جاؤ۔ میں ان لوگوں کو تمہارے حوالے نہیں کر سکتا اور نہ یہاں ان کے خلاف کوئی چال چلی جاسکتی ہے۔
اس کے حکم پر وہ دونوں وہاں سے نکل گئے ، لیکن پھر عمرو بن عاص نے عبد اللہ بن ربیعہ سے کہا : اللہ کی قسم ! کل ان کے متعلق ایسی بات لاؤں گا کہ ان کی ہریالی کی جڑ کاٹ کر رکھ دوں گا۔ عبد اللہ بن ربیعہ نے کہا : نہیں۔ ایسا نہ کرنا۔ ان لوگوں نے اگر چہ ہمارے خلاف کیا ہے لیکن ہیں بہر حال ہمارے اپنے ہی کنبے قبیلے کے لوگ۔ مگر عَمر و بن عاص اپنی رائے پر اَڑ ے رہے۔
اگلا دن آیا تو عَمرو بن عاص نے نجاشی سے کہا : اے بادشاہ ! یہ لوگ عیسیٰ ؑ بن مریم کے بارے میں ایک بڑی بات کہتے ہیں؟ اس پر نجاشی نے مسلمانوں کو پھر بلا بھیجا۔ وہ پوچھنا چاہتا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مسلمان کیا کہتے ہیں۔ اس دفعہ مسلمانوں کو گھبراہٹ ہوئی لیکن انہوں نے طے کیا کہ سچ ہی بولیں گے۔ نتیجہ خواہ کچھ بھی ہو۔ چنانچہ جب مسلمان نجاشی کے دربار میں حاضر ہوئے اور اس نے سوال کیا تو حضرت جعفرؓ نے فرمایا :
ہم عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں وہی بات کہتے ہیں جو ہمارے نبیﷺ لے کر آئے ہیں۔ یعنی حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کے بندے ، اس کے رسول ، اس کی روح اور اس کا کلمہ ہیں جسے اللہ نے کنواری پاکدامن حضرت مریم علیہا السلام کی طرف القا کیا تھا۔
اس پر نجاشی نے زمین سے ایک تنکہ اٹھا یا اور بولا : اللہ کی قسم ! جو کچھ تم نے کہا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس سے اس تنکے کے برابر بھی بڑھ کر نہ تھے۔ اس پر بطریقوں نے ''ہونہہ'' کی آواز لگائی۔ نجاشی نے کہا : اگر چہ تم لوگ ''ہونہہ'' کہو۔
اس کے بعد نجاشی نے مسلمانوں سے کہا: جاؤ ! تم لوگ میرے قلمرو میں امن وامان سے ہو۔ جو تمہیں گالی دے گا اس پر تاوان لگا یا جائے گا۔ مجھے گوارا نہیں کہ تم میں سے مَیں کسی آدمی کو ستاؤں اور اس کے بدلے مجھے سونے کا پہاڑ مل جائے۔
اس کے بعد اس نے اپنے حاشیہ تشینوں سے مخاطب ہوکر کہا: ان دونوں کو ان کے ہدیے واپس کردو۔ مجھے ان کی کوئی ضرورت نہیں۔ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے جب مجھے میرا ملک واپس کیا تھا تو مجھ سے کوئی رشوت نہیں لی تھی کہ مَیں اس کی راہ میں رشوت لوں۔ نیز اللہ نے میرے بارے میں لوگوں کی بات قبول نہ کی تھی کہ مَیں اللہ کے بارے میں لوگوں کی بات مانوں۔
حضرت ام سلمہ ؓ جنہوں نے اس واقعے کو بیان کیا ہے ، کہتی ہیں اس کے بعد وہ دونوںاپنے ہدیے تحفے لیے بے آبرو ہو کر واپس چلے گئے اور ہم نجاشی کے پاس ایک اچھے ملک میں ایک اچھے پڑوسی کے زیر سایہ مقیم رہے۔( ابن ہشام ملخصاً ۱/۳۳۴تا ۳۳۸)

مکمل تحریر >>

دوسری حجرتِ حبشہ


اس کے بعدان مہاجرین پر خصوصاً اور مسلمانوں پر عموماً قریش کا ظلم وتشدد ،جور وستم اور بڑھ گیا اور ان کے خاندان والوںنے انہیں خوب ستایا۔ کیونکہ قریش کو ان کے ساتھ نجاشی کے حسن وسلوک کی جو خبر ملی تھی اس پر وہ نہایت چیں بہ جبیں تھے۔ ناچار رسول اللہﷺ نے صحابہ کرام ؓ کو پھر ہجرت حبشہ کا مشورہ دیا لیکن دوسری ہجرت پہلی ہجرت کے بالمقابل اپنے دامن میں زیادہ مشکلات لیے ہوئے تھی۔کیونکہ اب کی بار قریش پہلے سے ہی چوکنا تھے اورایسی کسی کوشش کو ناکام بنانے کا تہیہ کیے ہوئے تھے لیکن مسلمان ان سے کہیں زیادہ مستعد ثابت ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے سفر آسان بنادیا۔ چنانچہ وہ قریش کی گرفت میں آنے سے پہلے ہی شاہ حبش کے پاس پہنچ گئے۔
اس دفعہ کل ۸۲ یا۸۳ مردوں نے ہجرت کی (حضرت عمار کی ہجرت مختلف فیہ ہے) اور اٹھارہ یا انیس عورتوں نے۔ (زاد المعاد ۱/۲۴)علامہ منصور پوری ؒنے جزم کے ساتھ عورتوں کی تعداد اٹھارہ لکھی ہے۔ (رحمۃ للعالمین)
مہاجرینِ حبشہ کے خلاف قریش کی سازش:
مشرکین کو سخت قلق تھا کہ مسلمان اپنی جان اور اپنا دین بچا کر ایک پُر امن جگہ بھاگ گئے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے عَمرو بن عاص اور عبداللہ بن ربیعہ کو جو گہری سوجھ بوجھ کے مالک تھے اور ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ ایک اہم سفارتی مہم کے لیے منتخب کیا اور ان دونوں کو نجاشی اور بطریقوں کی خدمت میں پیش کرنے کے لیے بہترین تحفے اور ہدیے دے کر حبش روانہ کیا۔
ان دونوں نے پہلے حبش پہنچ کر بطریقوں کو تحائف پیش کیے۔ پھر انہیں اپنے ان دلائل سے آگاہ کیا ، جن کی بنیاد پر وہ مسلمانوں کوحبش سے نکلوانا چاہتے تھے۔ جب بطریقوں نے اس بات سے اتفاق کرلیا کہ وہ نجاشی کو مسلمانوں کے نکال دینے کا مشورہ دیں گے تو یہ دونوں نجاشی کے حضور حاضر ہوئے اور تحفے پیش کرکے اپنا مُدّعا عرض کیا۔ کہا:
'' اے بادشاہ ! آپ کے ملک میں ہمارے کچھ ناسمجھ نوجوان بھاگ آئے ہیں۔ انہوں نے اپنی قوم کا دین چھوڑدیا ہے لیکن آپ کے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے ہیں۔ بلکہ یہ ایک نیا دین ایجاد کیا ہے جسے نہ ہم جانتے ہیں نہ آپ۔ ہمیں آپ کی خدمت میں انہی کی بابت ان کے والدین چچائوں اور کنبے قبیلے کے عمائدین نے بھیجا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ آپ انہیں ان کے پاس واپس بھیج دیں۔ کیونکہ وہ لوگ ان پر سب سے اونچی نگاہ رکھتے ہیں اور ان کی خامی اور عتاب کے اسباب کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔'' 
جب یہ دونوں اپنا مدعا عرض کر چکے تو بطریقوں نے کہا : بادشاہ سلامت ! یہ دونوں ٹھیک ہی کہہ رہے ہیں۔ آپ ان جوانوں کو ان دونوں کے حوالے کردیں۔ یہ دونوں انہیں ان کی قوم اور ان کے ملک میں واپس پہنچادیں گے۔
لیکن نجاشی نے سوچا کہ اس قضیے کو گہرائی سے کھنگالنا اور اس کے تمام پہلوئوں کو سننا ضروری ہے۔ چنانچہ ا س نے مسلمانوں کو بلا بھیجا۔
مکمل تحریر >>