لایا جو خون رنگِ دگر کربلا کے بعد
اونچا ہوا حسین کا سرکربلا کے بعد
پاسِ حرم، لحاظِ نبوت، بقائے دیں
کیا کچھ تھا اس کے پیش نظر کربلا کے بعد
اے رہ نوردِ شوقِ شہادت ترے نثار
طے ہوگیا ہے تیرا سفر کربلا کے بعد
آباد ہوگیا حرم ربِ رسول کا
ویراں ہوا بتول کا گھر کربلا کے بعد
ٹوٹا یزیدیت کی شب تار کا فسوں
آئی حسینیت کی سحر کربلا کے بعد
اک وہ بھی تھے کہ جان سے ہنس کر گزر گئے
اک ہم بھی ہیں کہ چشم ہے تر کربلا کے بعد
سید نفیس الحسینی رحمہ اللہ