Tuesday, 26 July 2016

اسلام کی طاقت کا سبب

ابوبکرؓ کی حکومت جزیرہ نمائے عرب تک محدود نہ تھی بلکہ عرب سے بھی باہر نکل کر دور دور تک پھیل گئی تھی اور وہ اسلامی سلطنت کا قیام عرب کے علاوہ عراق اور شام میں بھی عمل پذیر ہو چکا تھا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ غیر عربی علاقوں میں اسلامی سلطنت کا قیام محض چند حملوں کا نتیجہ تھا جن میں اتفاق سے مسلمانوں کو کامیابی نصیب ہو گئی یا اس انقلاب نے، جس کی نشان دہی ہم پہلے کر آئے ہیں، ان فتوحات کے لیے راستہ صاف کیا اور اس طرح مسلمانوں کو دنیا کے ایک وسیع خطے میں اسلامی سلطنت کو مضبوط بنیادوں پر قائم کرنے کا موقع مل گیا؟
اسلام کی ابتدائی تاریخ سے واقفیت رکھنے والے کسی شخص سے یہ امر پوشیدہ نہیں کہ اسلامی افواج کی کامیابی کو وقتی اور اتفاقی قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ فتوحات و حوادث کے ایک لمبے سلسلے کی کڑی ہیں۔ اسلام نے دنیا میں آ کر جو انقلاب پیدا کیا اس کا برپا ہونا لابدی تھا۔ کیونکہ اسلامی تعلیمات ایک انقلاب پذیر قوت اپنے اندر رکھتی تھیں اور نا ممکن تھا کہ یہ قوت اپنا اثر دکھائے بغیر رہتی۔
اسلام کو طاقت و قوت بخشنے والے عوامل میں عقیدے کی حریت کا بھی بہت بڑا دخل ہے۔ اسلام آزادی ضمیر کا سب سے بڑا علم بردار ہے اور دین کے معاملے میں کسی شخص پر جبر کاروادار نہیں۔ گو اس کی دعوت ساری دنیا کے لیے عام ہے لیکن وہ کسی شخص کو اپنا عقیدہ بدلنے پر مجبور نہیں کرتا۔ ہاں، یہ امید ضرور رکھتا ہے کہ اس کی پیش کردہ تعلیمات پر لوگ غور کریں۔ اسے اطمینان ہے کہ جو لوگ سچے دل سے ان تعلیمات کا مطالعہ کریں گے ان کے لیے انہیں قبول کیے بغیر چارہ نہ ہو گا۔ کیونکہ وہ فطرت انسانی کے عین مطابق ہیں اور عقل سلیم انہیں قبول کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کر سکتی۔
جہاں اسلام آزادی ضمیر کا سب سے بڑا علم بردار ہے وہاں اسلام کے مخالف آزادی ضمیر کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر لوگوں کو عقائد و اعمال میں آزادی دے دی گئی اور انہیں اختیار دے دیا گیا کہ وہ جو مذہب اور طریقہ چاہیں اختیار کر لیں تو اسلام کی پاک تعلیم انہیں اپنی طرف کھینچ لے گی اور ان کے حق میں سوا نامرادی اور ناکامی کے اور کچھ نہ آئے گا۔
اسلام نے آزادی ضمیر کا جو اصول دنیا کے سامنے پیش کیا تھا اس پر مسلمانوں نے پوری طرح عمل کر کے دکھا دیا۔ انہوں نے لاتعداد ممالک فتح کیے لیکن کسی شخص کو زبردستی اسلام قبول کرنے پر مجبور نہ کیا۔ اس کے برعکس انہوں نے جو شہر کو فتح کیا وہاں کے باشندوں کو کامل مذہبی آزادی دے دی۔ جو شخص بہ رضا و رغبت اسلام قبول کر لیتا اسے وہی حقوق مل جاتے جو دوسرے مسلمانوں کو ملے ہوئے تھے لیکن جو شخص اپنے آبائی مذہب پرقائم رہنا چاہتا اسے جزیہ اد اکرنا پڑتا تھا۔ جزیہ کوئی تاوان نہ تھا جو غیر مسلموں سے نفرت و حقارت کے باعث ان پر عائد کیا گیا ہو بلکہ اس کی حیثیت زکوٰۃ کی طرح ایک ٹیکس کی تھی جو سلطنت کی طرف سے ان کی حفاظت کے بدلے ان پر عائد کیا جاتا تھا۔ چنانچہ اہل عراق اور اہل شام سے صلح کے جو معاہدات کیے گئے ان میں یہ صراحت کر دی گئی تھی کہ غیر مسلموں سے جزیہ صرف ان کے مال و جان کی حفاظت کے بدلے وصول کیا جائے گا۔ اور اسلامی حکومت ذمہ دار ہو گی کہ غیر مسلم اپنے اپنے مذہب پر آزادی سے عمل کر سکیں اور دینی عبادات بے خوفی سے بجا لا سکیں۔ آج بھی کتب تاریخ میں جو معاہدات محفوظ ہیں ان میں اسلامی حکومت کی طرف سے غیر مسلموں کے گرجوں، کلیساؤں، معبدوں، مذہبی پیشواؤں اور راہبوں کی حفاظت کی شقیں موجود ہیں۔ اگر کبھی ایسی صورت حال پیش آ جاتی کہ مسلمان اپنے مواعید کی بجا آوری سے قاصر ہو جاتے تو نہ صرف آئندہ کے لیے جزیہ لینا بند کر دیا جاتا بلکہ پچھلی وصول کی ہوئی رقم بھی انہیں واپس کر دی جاتی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فدائیوں کے ہاتھوں قائم شدہ حکومت، جس کی بنیاد حریت و مساوات اور اخوت و محبت کے اصولوں پر قائم کی گئی تھی، رومی شہنشاہیت سے یکسر مختلف تھی اور آج کل کی جمہوریتیں بھی افادیت کے لحاظ سے اس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ اسلامی سلطنت کا مقصد قطعاً نہ تھا کہ لوگوں کو عربوں کا مطیع و منقاد بنایا جائے اور انہیں رومیوں اور ایرانیوں کی غلامی سے نکال کر عربوں کی غلامی میں دے دیا جائے۔ اس کے برعکس اس کا اولیں مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو آزادی کی فضا میں سانس لینے کا موقع دیا جائے اور ان کے درمیان اخوت و مروت اور رحمت و شفقت کے ناقابل شکست رشتے پیدا کر دئیے جائیں۔ اسلامی سلطنت میں مفتوح اقوام کا درجہ فاتحین سے کسی طرح کم نہ تھا۔ مفتوح اقوام عربوں کی طرح تمام بنیادی حقوق سے بہرہ ور تھیں۔ جو شخص اسلام لے آتا تھا اس سے مسلمانوں کا سا برتاؤ کیا جاتا تھا اور جو شخص اپنے آبائی مذہب پر قائم رہنا چاہتا تھا اسے وہ تمام حقوق حاصل ہوتے تھے جو عرب کے دوسرے غیر مسلموں کو حاصل تھے۔ عرب فاتحین نے اپنے کسی بھی فعل سے یہ ظاہر نہ ہونے دیا کہ وہ عربوں اور غیر عربوں میں تفریق کے حامی ہیں۔ اہل عراق اور اہل شام میں جو لوگ اپنے آبائی مذہب پر قائم رہے ان سے وہی سلوک کیا گیاجو نجران اور عرب کے دوسرے علاقوں کے عیسائیوں سے کیا جاتا تھا۔ بے شک مسلمان ان لوگوں میں اسلام کی تبلیغ اور ان پر اتمام حجت کرنے میں کوئی دقیقہ سعی فرو گزاشت نہ کرتے تھے لیکن اس کے باوجو داگر کوئی شخص ان کی دعوت پر کان نہ دھرتا اور اسلام قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوتا تھا تو یہ خدائی فرمان ذہن میں رکھ کر اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتے تھے:
من اھتدی فانما یھتدی لنفسہ ومن ضل فانما یضل علیھا وما انا علیکم بوکیل۔
(جو شخص ہدایت قبول کرتا ہے اس کا فائدہ خود اسی کو پہنچے گا اور جو شخص گمراہی کے راستے پر گامزن رہنا چاہتا ہے اس کے نقصان کا ذمہ دار بھی وہ خود ہے۔ اے رسول ! ان لوگوں سے کہہ دو میرا کام صرف یہ ہے کہ تم لوگوں تک آواز پہنچا دوں، ماننا یا نہ ماننا تمہارا کام ہے۔ تمہاری ہدایت اور گمراہی کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔)
مکمل تحریر >>

عہدِ صدیقی میں تیار کردہ نسخے کی خصوصیات

دوسرے صحابہٴ کرام کے پاس بھی قرآن مجید لکھا ہوا تھا؛ لیکن جن خصوصیات کا حامل حضرت ابوبکر صدیق والا اجماعی نسخہ تھا، ان سے دوسرے سارے نسخے خالی تھے، اسی وجہ سے صحابہٴ کرام کے درمیان اُسے ”اُم“ کہا جاتا تھا،اس کی خصوصیات درج ذیل ہیں:
(۱)اس نسخہ میں آیاتِ قرآنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی ترتیب کے مطابق مرتب تھیں؛ لیکن سورتیں مرتب نہ تھیں ہرسورت الگ الگ پاروں کی شکل میں لکھی ہوئی تھی۔(فتح الباری ۹/۲۲)
(۲)اس نسخہ میں ایسی کوئی آیت آنے نہیں دی گئی جس کی تلاوت منسوخ ہوچکی ہو۔
(۳)اس نسخہ کے تیار کرنے میں پوری باریک بینی سے تلاش وتفحص کیا گیا اور پوری احتیاط کے ساتھ اسے قلمبند کیا گیا۔
(۴)یہ نسخہ ساتوں حروف کی رعایت پر مشتمل تھا۔(مناہل العرفان ۱/۲۴۶، ۲۴۷)
( ۵)اس کو لکھوانے کا مقصد یہ تھا کہ ایک مرتب نسخہ تمام امت کی ”اجماعی تصدیق“ سے تیار ہو جائے؛ تاکہ ضرورت پڑنے پر اس کی طرف رجوع کیا جا سکے (علوم القرآن از مفتی محمد تقی عثمانی ص۱۸۶)
( ۶)اس نسخہ میں قرآن مجید کی تمام سورتوں کو ایک ہی تقطیع اور سائز پر لکھوا کر، ایک ہی جلد میں مجلد کرایا گیا تھا، اور یہ کام حکومت کی طر ف سے انجام دیا گیا، یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نہ ہو پایا تھا، (تدوین قرآن ص۴۰)

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہٗ کی اس کوشش سے پہلے بعض صحابہ مثلاً حضرت علی رضی اللہ عنہٗ وغیرہ نے قرآن کریم کے جمع کرنے کی کوشش کی تھی جیسا کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے (فتح الباری:۹/۱۵، الاتقان:۱/۱۲۸) اور کسی حد تک اس میں کامیاب رہے؛ لیکن وہ ان کی اپنی انفرادی کوشش تھی، ان کا نسخہ ان خصوصیات سے خالی تھا جو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہٗ کے تیار کردہ نسخہ میں پائے جاتے تھے، اس کے علاوہ امت کی اجماعی تصدیق بھی اسے حاصل نہ تھی؛ اس کے برعکس حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ وہ پہلے صحابی ہیں جنھوں نے پورے امت کی اجماعی تصدیق سے ایک معیاری نسخہ"قرآن عظیم" کا تیار کروایا اس لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے قرآن کریم کے تعلق سے سب سے زیادہ اجر پانے والے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، اللہ ابوبکر رضی اللہ عنہٗ پر رحم فرمائے؛ انھوں نے سب سے پہلے قرآن کو جمع فرمایا۔
(فتح الباری:۹/۱۵)
قرآن مجید کا یہ متفق علیہ نسخہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس رہا، جب ان وفات ہو گئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس محفوظ رہا، جب ان کی بھی وفات ہو گئی تو (وصیت کے مطابق) آپ کی بیٹی ام الموٴمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس محفوظ رکھا رہا (صحیح بخاری۲/۷۴۶) حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس سے ہی منگوا کر نقول تیار کرائے تھے۔
(صحیح بخاری، فضائل القرآن، باب جمع القرآن:۲/۷۴۶، رقم:۴۹۸۷)
مکمل تحریر >>

جمعِ قرآن

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مکمل قرآن مجید مختلف چیزوں پر لکھا ہوا تھا، سارے اجزا الگ الگ تھے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان قرآن مجید کی تمام سورتوں کو ایک ہی جلد میں مجلد کروانے کا کام حکومتی اور اجماعی طور پر انجام دیا؛ چنانچہ ایسا نسخہ مرتب ہو گیا جس کو سارے صحابہٴ کرام کی اجماعی تصدیق حاصل ہوئی۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دورِ حکومت میں تدوین قرآن کی صورت یہ تھی کہ اسے مختلف پارچوں سے نقل کرکے ایک جگہ (کاغذ) پریکجا کیا گیا۔یہ نسخہ بہت سے صحیفوں پر مشتمل تھا اورہر سورت الگ الگ صحیفے میں لکھی گئی تھی۔اور صرف وہی کچھ لکھا گیا جس کا قرآن ہونا تواتر سے ثابت ہوا تھا۔ ( وہ آیات اور حروف نکال دیے گئے جن کی تلاوت منسوخ ہو چکی تھی۔)
دورِ صدیقی میں قرآنِ کریم کے منتشر حصوں کو یکجا کرنے کا مقصد قرآن مجید کی حفاظت کو یقینی بنانا تھا، کیونکہ خدشہ تھا کہ کہیں حاملین قرآن اور حفاظ صحابہؓ کی وفات سے قرآنِ مجید کا کوئی حصہ ضائع نہ ہوجائے۔

پس منظر حدیث کی روشنی میں
حضورِپاک صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات کے ساتھ ہی فتنے ابھرنے شروع ہوگئے اور آپ کی وفات کے بعد ان فتنوں نے شدت اختیار کرلی، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہٗ نے ان فتنوں کی سرکوبی کے لیے پوری طاقت وقوت صرف کردی اور بہت سے معرکےاس دوران پیش آئے جن میں سے ایک اہم معرکہ جنگ یمامہ کا ہے، جس میں بہت سے قراء شہید ہوئے جن کا انداز ۷۰/ اور ایک قول کے مطابق ۷۰۰/تک لگایا گیا ہے (تفسیرقرطبی:۱/۳۷، عمدۃ القاری:۱۳/۵۳۳) دربارِ رسالت کے مشہور قاری سالم مولی ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ بھی اسی معرکہ میں شہید ہوئے (مناہل العرفان:۱۷۹)
اس عظیم سانحہ کی وجہ سے بعض اجلۂ صحابہ رضی اللہ عنہم بالخصوص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تشویش لاحق ہوئی جس کی تفصیل صحیح بخاری میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اس طرح بیان فرماتے ہیں: "
جنگِ یمامہ کے بعد مجھے امیرالمؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بلایا میں پہنچا تو وہاں پہلے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تشریف فرما تھے، حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہٗ نے فرمایا کہ یہ عمررضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور مجھ سے کہا کہ یمامہ کے شدید معرکہ میں بہت سے حفاظ کام آگئے ہیں، مجھے اندیشہ ہے کہ اگر ایسے ہی دیگر معرکوں میں حفاظ شہید ہوتے رہے تو قرآن مجید کا بہت سا حصہ ان کے سینوں ہی میں چلاجائے گا؛ اس لیے عمررضی اللہ عنہٗ کہتے ہیں کہ میں (ابوبکررضی اللہ عنہٗ) قرآن مجید کے جمع وتدوین کا اہتمام کروں (حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں کہ) میں ان سے کہہ چکا ہوں کہ جس کام کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا وہ ہم کیسے کریں (لیکن) عمررضی اللہ عنہٗ کہتے ہیں خدا کی قسم اس میں سراپا خیر ہی ہے یہ مجھ سے بار بار تقاضا کرتے رہے؛ آخر اللہ تعالیٰ نے میرا سینہ بھی اس کام کے لیے کھول دیا اور اب میری بھی وہی رائے ہے جو عمررضی اللہ عنہٗ کی ہے، زید کہتے ہیں: حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہٗ نے مجھ سے فرمایا: تم نوجوان ہو سمجھدار ہو کسی طرح کی تہمت بھی ہم تمہارے (اور تمہارے دین ودیانت کے)بارے میں نہیں پاتے اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتبِ وحی بھی ہو تم قرآن کریم (کے مختلف اجزاء) کو تلاش کرو اور اس کو جمع کرو! حضرت زید رضی اللہ عنہٗ کہتے ہیں: کہ خدا کی قسم اگر وہ لوگ مجھے کسی پہاڑ کے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا حکم فرماتے تو یہ میرے لیے زیادہ آسان تھا، بنسبت اس کام کے جس کا انھوں نے مجھے حکم دیا ہے، یعنی جمع قرآن کا حضرت زید رضی اللہ عنہٗ کہتے ہیں: کہ میں نے ان سے کہا کہ آپ حضرات ایسا کام کیسے کررہے ہیں جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہٗ نے فرمایا: بخدا یہ تو اچھا ہی کام ہے، حضرت زید رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہٗ اس بارے میں بار بار مجھ سے اصرار کرتے رہے؛ یہاں تک کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہٗ وعمر رضی اللہ عنہٗ کی طرح اللہ تعالیٰ نے میرا سینہ بھی اس کام کے لیے کھول دیا (پھر میں صرف حکم کی تعمیل میں نہیں بلکہ واقعی ایک اہم ضرورت سمجھ کر اس کام کے لیے تیار ہوگیا) پھر میں نے قرآن کریم کے اجزاء کو تلاش کرنا شروع کیا او راسے کھجور کی شاخوں، پتھر کی سلوں اور لوگوں کے سینوں سے جمع کرنے لگا؛ یہاں تک کہ سورۃ توبہ کی آخری آیتیں "لَقَدْ جَائَ کُمْ رَسُوْلٌ مِنْ أَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَاعَنِتُّمْ حَرِیصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُ وفٌ رَحِیْمٌ" (التوبۃ:۱۲۸) "ابوخزیمہ انصاری رضی اللہ عنہٗ کے پاس ملی جو کسی اور کے پاس نہیں تھیں"۔
(صحیح بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب جمع القرآن:۲۰/۴۹۸۶)
یہ حدیث حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ وہی ان صحیفوں کے کاتب بھی ہیں جن میں مختلف چیزوں سے قرآنی آیات اور سورتیں جمع کر کے لکھی گئیں تھیں۔
ممکن ہے کہ مذکورہ حدیث میں سورت توبہ کی آخری آیت والا حصہ پڑھ کر کسی کے ذہن میں یہ اشکال پیدا ہو کہ حضرت زید کو یہ آیت دیگر صحابہ کے پاس کیوں نہ ملی؟ ہم اسکی یہاں مختصر وضاحت کردیتے ہیں کہ حضرت زید کا مقصد یہ بتانا نہیں تھا کہ یہ آیت کسی کو یاد بھی نہیں تھی بلکہ یہ کہ یہ آیت حضرت خزیمہ کے علاوہ کسی اور صحابی کے پاس لکھی ہوئ نہ تھی۔(الاتقان ،ج۱،ص۱۰۱)
دوسرے سینکڑوں حفاظ کے علاوہ خود حضرت زید بھی حافظ تھے اور ان کو یہ معلوم تھا کہ یہ آیات کہا ں اور کس سورت سے متعلق ہیں اسی لیے انہوں نے اسکو صحابہ کے پاس تلاش بھی کیا ۔!! اس ضمن میں صحابہ کی تلاش تائید وتقویت کے لئے تھی کہ حفظ وحافظے کے علاوہ لکھے ہوئے سے بھی اسکی تائید ہوجائے اور وہ ابوخزیمہ انصاری سے مل گئی ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت زید نے تنہاء حافظے پر اعتماد نہیں کیا ،سورئہ براءة کی آخری آیات باوجودیکہ حضرت زید کو حفظ تھیں اور ان کے علاوہ متعدد صحابہ کو بھی حفظ تھیں ، لیکن اس وقت تک اُنہیں درج نہیں کیا جب تک کہ کسی صحابی (حضرت خزیمہؓ ) کے پاس بھی لکھی شہادت نہیں مل گئی ۔یہ اس بات کی گواہی ہے کہ تدوین کے سلسلے میں کس قدر احتیاط کا اہتمام کیا گیا۔

کام کی نوعیت :
پورا قرآن عہد رسالت میں لکھا جاچکا تھا مگر اس کی آیتیں اور سورتیں یکجا نہ تھی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ترتیب کے مطابق اس کو ایک جگہ جمع کیا ۔ علامہ سیوطی ابو عبداللہ محاسبی کی کتاب ''فہم السنن''کے حوالے سے لکھتے ہیں :
''قرآن کی کتابت کوئ نئی چیز نہ تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود اس کے لکھنے کا حکم دیا کرتے تھے البتہ وہ کاغذ کے ٹکڑوں،شانہ کی ہڈیوں اور کھجور کی ٹہنیوں پر بکھرا پڑا تھا ۔حضرت ابو بکررضی اللہ تعالٰی عنہ نے متفرق جگہوں سے اس کو یکجا کرنے کا حکم دیا یہ سب اشیاء یوں تھیں جیسے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں اوراق منتشر پڑے ہوں اور ان میں قرآن لکھا ہو اہو، ایک جمع کرنے والے (حضرت ابوبکررضی اللہ تعالٰی عنہ )نے ان اوراق کو جمع کرکے ایک دھاگے سے باندھ دیا تاکہ ان میں سے کوئی چیز ضائع نہ ہوپائے۔(البرہان ،ج۱،ص۲۳۸،الاتقان،ج۱،ص۱۰۱)
وکان القرآنُ فیہا مُنْتَشِراً فَجَمَعَہا جامعٌ و رَبَطَہَا بخیطٍ۔ (الاتقان ۱/۸۳)
(ترجمہ:) اور (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں قرآن مجید کی مکمل یاد داشتوں کا جو ذخیرہ تھا) اس میں (قرآنی سورتیں) الگ الگ لکھی ہوئی تھیں؛ پس اس کو (حضرت ابوبکر کے حکم سے) جمع کرنے والے (زید بن ثابت) نے ایک جگہ (ساری سورتوں کو) جمع کر دیا، اور ایک دھاگا سے سب کی شیرازہ بندی کر دی۔

تدوین کا طریقِ کار
جمعِ قرآن کے سلسلہ میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہٗ کے طریقہ کار کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ زید خود حافظ قرآن تھے؛ لہٰذا وہ اپنی یادداشت سے پورا قرآن لکھ سکتے تھے ان کے علاوہ بھی سینکڑوں حفاظ اس وقت موجود تھے ان کی ایک جماعت بناکربھی قرآن کریم لکھا جاسکتا تھا؛ نیز قرآن کریم کے جو مکمل نسخہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لکھ لئے گئے تھے حضرت زید رضی اللہ عنہٗ ان سے بھی قرآن کریم نقل فرماسکتے تھے؛ لیکن انھوں نے احتیاط کے پیشِ نظر ان میں سے صرف کسی ایک طریقہ پر اکتفا نہیں فرمایا؛ بلکہ ان تمام ذرائع سے بیک وقت کام لیکر اس وقت تک کوئی آیت اپنے صحیفوں میں درج نہیں کی جب تک اس کے متواتر ہونے کی تحریری اور زبانی شہادتیں نہیں مل گئیں اس کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی جو آیات اپنی نگرانی میں لکھوائی تھیں وہ مختلف صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس محفوظ تھیں حضرت زید رضی اللہ عنہٗ نے انھیں یکجافرمایا تاکہ نیا نسخہ ان سے ہی نقل کیا جائے؛ چنانچہ یہ اعلان عام کردیا گیا کہ جس شخص کے پاس قرآن کریم کی کچھ بھی آیات لکھی ہوئی ہو ں وہ حضرت زید کے پاس لے آئے (فتح الباری:۹/۱۷، علوم القرآن:۱۸۳۔ الاتقان:۱۲۸)
اس کام کی حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہٗ خود نگرانی فرماتے رہے اور انھیں اپنے مفید مشوروں سے نوازتے رہے؛ چنانچہ روایات سے ثابت ہے کہ انھوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہٗ کو بھی بطورِ معاون کے حضرت زید کے ساتھ اس کام میں لگادیا تھا (الاتقان:۱/۱۲۹۔ فتح الباری:۹/۱۹) اور ساتھ ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہٗ اور زید رضی اللہ عنہٗ کو یہ حکم بھی فرمادیا تھا: "کہ مسجد کے دروازے کے پاس بیٹھ جاؤ؛ پھرجوشخص بھی تمہارے پاس قرآن کریم کے کسی جزء پر دوگواہ لے آئے اس کو صحیفوں میں لکھ لو" (الاتقان:۱/۱۲۸۔ فتح الباری:۹/۱۷)
الغرض جو جو شخص بھی حضرت زید کے پاس قرآن مجید کی آیتیں لے کر آتا حضرت زیدرضی اللہ عنہٗ چارطریقوں سے اس کی تصدیق کرتے تھے:
(۱)سب سے پہلے اپنے حافظہ سے اس کی تصدیق کرتے تھے۔
(۲)پھر جیسا کہ اوپر تحریر کیا جاچکا، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہٗ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہٗ کو بھی اس کام میں ان کا معاون بنادیا تھا اس لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی اپنے حافظہ سے اس کی جانچ کرتے تھے۔
(۳)کوئی لکھی ہوئی آیت اس وقت تک قبول نہ کی جاتی تھی جب تک کہ دوقابل اعتبارگواہوں نے اس بات کی گواہی نہ دیدی ہو کہ یہ تحریر رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لکھی گئی ہے، حافظ سیوطی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بظاہر اس بات کی بھی گواہی لی جاتی تھی کہ یہ لکھی ہوئی آیتیں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے سال آپ پر پیش کردی گئی تھی اور آپ نے اس بات کی تصدیق فرمادی تھی کہ یہ ان حروفِ سبعہ کے مطاق ہے جن پر قرآن کریم نازل ہوا ہے (الاتقان:۱/۱۲۸،۱۲۹) علامہ سیوطی رحمہ اللہ کی اس بات کی تائید متعدد روایات سے بھی ہوتی ہے
(الاتقان:۱/۱۱۰)
(۴)اس کے بعد ان لکھی ہوئی آیتوں کا ان مجموعوں کے ساتھ مقابلہ کیا جاتا تھا، جو مختلف صحابہ رضی اللہ عنہم نے تیار کررکھے تھے، امام ابوشامہ فرماتے ہیں: "کہ اس طریقِ کار کا مقصد یہ تھا کہ قرآن کریم کی کتابت میں زیادہ سے زیادہ احتیاط سے کام لیا جائے اور صرف حافظہ پر اکتفا کرنے کے بجائے بعینہ ان تحریرات سے نقل کیا جائے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لکھی گئی تھی
(الاتقان:۱/۱۲۸)
جب اجتماعی تصدیق کے ساتھ ”قرآن مجید“ کی جمع و تدوین کا کام مکمل ہو گیا، تو صحابہٴ کرام نے آپس میں مشورہ کیا کہ: اس کو کیا نام دیا جائے؟ چناں چہ بعض صحابہٴ کرام نے اس کا نام ”سِفْر“ رکھا؛لیکن یہ نام یہودیوں کی مشابہت کی وجہ سے پاس نہیں ہوا، اخیر میں ” مصحف“ نام پر سارے صحابہٴ کرام کا اتفاق ہو گیا۔ (الاتقان ۱/۷۷)
مکمل تحریر >>

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا سب سے بڑا کارنامہ

یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ابوبکرؓ کا کون سا کارنامہ سب سے زیادہ عظیم الشان ہے۔ مرتدین کی سرکوبی اور سر زمین عرب سے ارتداد کا مکمل خاتمہ؟عراق اور شام کی فتوحات جو اس عظیم الشان سلطنت کی بنیاد ثابت ہوئیں جس کی بدولت انسان کو تہذیب و تمدن سے آگاہی نصیب ہوئی؟ یا کلام اللہ کو جمع کرنے کا کام جو ایک امی نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اور جس نے اپنی روشنی سے دنیا بھر کو منور کر دیا۔یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ بلاشبہ جمع قرآن کریم ابوبکرؓ کا سب سے بڑا اور مہتم بالشان کارنامہ ہے او راسی سے اسلام اور مسلمانوں کو سب سے زیادہ برکت نصیب ہوئی۔
اس بیان کا مطلب یہ نہ سمجھا جائے کہ ہمیں جنگ ہائے مرتدین اور اسلامی سلطنت کے قیام کی اہمیت سے انکار ہے۔ بلاشبہ یہ دونوں کام انتہائی اہمیت رکھتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک ابوبکرؓ کا نام زندہ رکھنے کے لیے کافی ہے۔ اگر ابوبکرؓ مرتدین کی سرکوبی کے سوا اور کوئی کام نہ کرتے تو بھی یہ ایک کارنامہ ان کی عظمت کو برقرار رکھنے کے لیے کافی ہوتا۔ اسی طرح اگر وہ اسلامی سلطنت کے قواعد و ضوابط مرتب کرنے کے سوا اور کوئی کام ہاتھ میں نہ لیتے تو بھی یہ کارنامہ ان کا نام تاریخ کے صفحات پر تا ابد زندہ رکھنے کے لیے کافی ہوتا۔ لیکن جب ان عظیم الشان کارناموں کے ساتھ جمع قرآن کا مہتمم بالشان کارنامہ بھی ملا لیا جائے جو اپنی شان اور افادیت میں ان دونوں کارناموں سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے تو ہمیں اقرار کرنا پڑتا ہے کہ مادر گیتی ابوبکرؓ جیسا فرزند پیدا کرنے سے قاصر ہے۔
اللہ ابوبکرؓ پر ہزاروں رحمتیں نازل فرمائے جن کی مخلصانہ مساعی اور پیہم جدوجہد کے نتیجے میں آج بھی ہمیں قرآن کی نعمت اعلیٰ اسی طرح میسر ہے جس طرح چودہ سو برس پیشتر صحابہ کرام کو میسر تھی۔
ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اس کارنامے کے تذکرے سے پہلے ان وجوہات کا تذکرہ ضروری ہے جن کی وجہ سے عہد نبوت میں قرآن ایک مصحف میں جمع نہیں ہوسکا تھا۔
۱۔ قرآن کریم یکبارگی نہیں بلکہ تیئیس سال کے عرصہ میں تھوڑا تھوڑا کرکے نازل ہوا۔۔یہ سلسلہ پورے عہد نبوی کو محیط رہا؛ بلکہ رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے آخری لمحات تک جاری رہا۔ اس لیے آپ ﷺ کے سامنے آج کی طرح کتابی شکل میں منصہ شہود پر آنا مشکل بلکہ ناممکن تھا۔ صحابہ کرام کے مابین جب کسی آیت میں اختلاف ہوتا تو وہ مکتوب قرآن کی بجائے رسول اکرم ﷺ سے ہی رجوع کرلیتے۔

۲۔آپ ﷺ نے اسے اس لئے بھی ایک ہی مصحف میں جمع نہیں فرمایا کیونکہ قرآن میں نسخ واقع ہورہا تھا اگر آپ ﷺ اسے جمع کردیتے پھر کچھ حصے کی تلاوت منسوخ ہوجاتی تو یہ اختلاف اور دین میں اختلاط کا سبب بنتا۔آپ ﷺ بھی قرآن کریم کے بعض احکام یا تلاوت کے بارے میں منتظر رہتے کہ شاید کچھ منسوخ ہوجائے اس لئے بھی آپ ﷺ نے جمع نہیں کروایا۔ جب اس کا نزول مکمل ہوگیا اور زمانہ نسخ کے اختتام تک یہ قرآن سینوں میں محفوظ بھی رہا اورآپ ﷺ کی وفات ہوگئی تو اللہ تعالی نے خلفاء راشدین کو اس کے جمع کرنے کا الہام کردیا۔(البرہان از زرکشی ۱؍۲۳۵)

۳۔۔قرآن مجید کا نزول ضرورت و حاجت کے مطابق تھوڑا تھوڑا ہوتا رہا، کبھی ایک آیت کبھی چند آیتیں نازل ہوتی رہیں، نزول کی ترتیب موجودہ ترتیب سے بالکل الگ تھی، اگراس وقت قرآن ایک مصحف میں جمع کردیا جاتا تو یہ ترتیب ہر نزول کے وقت ہی تبدیلی کا سامنا کرتی۔۔
علامہ الخطابی کے الفاظ میں :
إنما لم يجمع القرآن في المصحف لما كان يترقبه من ورود ناسخ لبعض أحكامه أو تلاوته فلما انقضى نزوله بوفاته ألهم الله الخلفاء الراشدين ذلك وفاء بوعده الصادق بضمان حفظه على هذه الأمة فكان ابتداء ذلك على يد الصديق بمشورة عمر
رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم نے قرآن کو ایک مصحف کی صورت میں نہیں اکھٹا کیا کیونکہ انہیں کسی آیت یا حکم کی منسوخی کا انتظار کرنا تھا. مگر جب انکی وفات ہوئی اور نزول وحی منقطع ہو گئی "اور آخر کار نسخ بھی"۔ اللہ نے اس قرآن کی حفاظت کے متعلق اپنا سچا وعدہ پورا کرنے کے لیے یہ خیال خلفائے راشدین کے دل میں ڈالا. تب یہ عظیم فریضہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مشورے پر سرانجام دیا. (الخطابی، بحوالہ فتح الباری)
مکمل تحریر >>

وفاتِ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ

ابوبکرؓ نے اپنی تجہیز وتکفین کے متعلق بھی ورثاء کو وصیت کر دی تھی۔ ان کی ہدایت تھی کہ انہیں دو کپڑوں میں کفن دیا جائے جو وہ بالعموم پہنا کرتے تھے کیونکہ نئے کپڑے پہننے کا زیادہ حق دار زندہ شخص ہے۔ غسل اسماء بنت عمیس دیں اور اگر وہ اکیلی یہ کام نہ کر سکیں تو اپنے بیٹے عبدالرحمن کو بھی ساتھ ملا لیں۔
ابوبکرؓ اپنی تجہیز و تکفین کے متعلق ہدایات دینے میں مشغول تھے کہ مثنیٰ عراق سے مدینہ پہنچے اور باریابی کی اجازت چاہی۔ انہوں نے باوجود حد درجہ نقاہت کے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔ مثنیٰ نے درخواست کی کہ عراق کی صورت حال کے پیش نظر ان لوگوں کو اسلامی فوج میں داخل ہونے کی اجازت دے دیجئے جو مرتد ہو گئے تھے اور اب اپنے کیے پر پشیمان ہیں۔ انہوں نے عمرؓ کو بلا کر کہا کہ شام ہونے سے پہلے پہلے مثنیٰ کی مدد کے لیے فوج روانہ کر دو، میری وفات تمہیں ایسا کرنے سے مطلق نہ روکے۔
جس روز ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمرؓ کی خلافت کے لئے تحریر لکھوائی اورمسلمانوں کو اس کی اطلاع دی،وہ صدیق اکبرؓ کی زندگی کا آخری دن تھا،اُسی روز حضرت مثنیٰ بن حارثہ جو حیرہ(عراق) سے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے تھے مدینہ منورہ پہنچے،وحضرت مثنیٰ جب مدینہ میں پہنچے تو صدیق اکبرؓ کی زندگی کے صرف چند گھنٹے باقی تھے،انہوں نے مثنیٰ سے تمام حالات سُنے اورحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم مثنیٰ کے ساتھ فوج جمع کرکے ضرور اورجلد روانہ کرنا۔جب حضرت عمرؓ آپ کے پاس سے باہر نکلے تو آپ نے فرمایا،اے اللہ میں نے عمرؓ کو مسلمانوں کی بہتری اور فتنہ وفساد کے خطرہ کو دور کرنے کے لئے اپنے بعد خلیفہ منتخب کیا ہے میں نے جو کچھ کیا ہے مسلمانوں کی بھلائی کے لئے کیا ہے تو دلوں کے حال سے خوب واقف ہے،میں نے مسلمانوں سے مشورہ بھی لے لیا ہے اوراُن میں سے اُس شخص کو جو سب سے بہتر قوی اورمسلمانوں کی بھلائی چاہنے والا اورامین ہے اُن کا والی بنایا ہے،پس تو میرا خلیفہ اُن میں قائم رکھ وہ تیرے بندے ہیں اور اُن کی پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے اُن کے والیوں کو نیک بنا اورعمرؓ کو بہتر خلیفہ بنا اوراُس کی رعیت کو اُس کے لئے اچھی رعیت بنادے۔
ابوبکرؓ کی وفات21جمادی الاخریٰ13ھ (مطابق22اگست634ئ) پیر کو سورج غروب ہونے کے بعد ہوئی اور اسی رات انہیں دفن کر دیا گیا۔ وفات کے وقت ان کی عمر تریسٹھ برس کی تھی۔ وصیت کے مطابق ان کی بیوی اسماء بنت عمیس نے انہیں غسل دیا اور ان کے بیٹے عبدالرحیم نے جسم پر پانی ڈالا۔ اس کے بعد ان کی نعش اسی چارپائی پر رکھ کر مسجد نبوی میں لے گئے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسد اطہر اٹھا کر قبر میں اتارا گیا تھا۔
مسجد نبوی میں ان کا جنازہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار اور منبر کے درمیان رکھا گیا۔ نماز عمرؓ نے پڑھائی۔ اس کے بعد جنازہ عائشہؓ کے حجرے میں لے گئے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں ان کے لیے قبر تیار کی گئی تھی۔
ابوبکرؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں اس طرح دفن کیا گیا کہ ان کا سر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھواں کے متوازی تھا۔ قبر پر مٹی ڈالنے کے بعد سب لوگ با چشم گریاں حجرے سے باہر نکل آئے اور خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں چھوڑ آئے۔ زندگی بھر دونوں ساتھ رہے۔ یہ رفاقت مرنے کے بعد بھی ختم نہ ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے محبوب خادم اپنے آقا کے برابر ہی آرام کر رہا ہے۔
حضرت علیؓ کے تا ثرات
جس وقت حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خبر وفات مدینہ میں پھیلی تمام شہر میں کہرام وتلاطم برپا ہوگیا اور وفات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے دن کا نقشہ دوبارہ لوگوں کی نگاہوں میں پھرنے لگا،حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس خبر کو سُنا توروپڑے اورروتے ہوئے آپ کے مکان پر آئے،دروازہ پر کھڑے ہوکر فرمانے لگے:
"اے ابوبکرؓ خدا تم پر رحم کرے بخدا تم تمام امت میں سب سے پہلے ایمان لائے اورایمان کو اپنا خُلق بنایا،تم سب سے زیادہ صاحب ایقان،سب سے غنی اورسب سے زیادہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت ونگہداشت کرتے،سب سے زیادہ اسلام کے حامی اور خیر خواہ مخلوق تھے،تم خلق،فضل،ہدایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب تر تھے،اللہ تعالیٰ تم کو اسلام اورمسلمانوں کی طرف سے بہترین جزادے،تم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی،جب دوسروں نے تکذیب کی اوراس وقت رسولِ خدا کی غم خواری کی جب دوسروں نے بخل کیا جب لوگ نصرت وحمایت سے رُکے ہوئے تھے تم نے کھڑے ہوکر رسول خدا کی مدد کی خدا نے تم کو اپنی کتاب میں صدیق کہا "وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهِ"تم اسلام کی پشت وپناہ اورکافروں کو بھگانے والے تھے نہ تمہاری حجت بے راہ ہوئی اورنہ تمہاری بصیرت ناتواں ہوئی،تمہارے نفس نے کبھی بزدلی نہیں دکھائی،تم پہاڑ کی مانند مستقل مزاج تھے تند ہوائیں نہ تم کو اکھاڑ سکیں،نہ ہلاسکیں،تمہاری نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ضعیف البدن قوی الایمان،منکسر المزاج،اللہ کے نزدیک بلند مرتبہ،زمین پر بزرگ،مومنوں میں بڑے ہیں نہ تمہارے سامنے کسی کو طمع ہوسکتی ہے نہ خواہش کمزور تمہارے نزدیک قوی اورقوی کمزور تھا،یہاں تک کہ کمزور کا حق دلادو اورزور آور سے حق لے لو"۔

صحابہ کی بے چینی اور بے قراری یقینا حق بجانب تھی۔ ابوبکرؓ نے اسلام کی سربلندی کی خاطر جو مشکلات اور تکالیف برداشت کیں اور جس طرح اپنے آپ کو اس کی خدمت کے لیے وقف کیا اس کی نظیر اور کوئی نہیں ملتی۔ انہوں نے اپنے پاک نمونے سے دوسرے مسلمانوں کے دلوں میں بھی دین کی تڑپ پیدا کر دی تھی۔ انہوں نے ہر قسم کی سختیاں جھیل کر اور ایمان و استقامت اور عزم و استقلال سے کام لے کر اسلام کو ہر امکانی خطرے سے بچایا اور اس راہ میں اپنی جان کی بھی پروا نہ کی۔ اللہ نے خلیفہ اول کے عہد میں مومنوں کا امتحان لیا تھا۔ وہ اس امتحان میں پورے اترے اور خلیفہ کے ایمان و ایقان اور مسلمانوں کی جرأت و ہمت کی بدولت اسلام عرب کی حدود سے نکل کر رومی اور ایرانی مقبوضات میں دور دور تک پھیل گیا۔ ابوبکرؓ کے ذریعے سے اللہ جو کام کرانا چاہتا تھا جب وہ پورا ہو چکا تو اس نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔
اگر ابوبکرؓ، عمرؓ کو جانشین مقرر نہ کرتے تو نہ معلوم اس کا کیا نتیجہ نکلتا ۔ یہ آخری کارنامہ جو ابوبکرؓ نے انجام دیا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کی بدولت اسلام عروج کی آخری منزل تک پہنچ گیا۔ عمرؓ کے عہد میں اسلام کو جو ترقی نصیب ہوئی اسے دیکھ کر یقین کرنا پڑتا ہے کہ عمرؓ کا انتخاب خدائی انتخاب تھا جو اسی کی دی ہوئی توفیق سے ابوبکرؓ نے کیا۔ اس انتخاب میں زبان ابوبکرؓ کی لیکن مشیت خدا کی کام کر رہی تھی۔
لاریب ابوبکرؓ اور عمرؓ وہ مقدس وجود تھے جنہوں نے اپنے آپ کو دنیوی آلائشوں سے کلیتہً پاک کر کے خالصتہ اللہ کے لیے وقف کر دیا تھا۔ دونوں کی طبیعتیں مختلف تھیں ۔ لیکن مقاصد ایک ہی تھے یعنی عدل و انصاف کا قیام اور اعلاء کلمتہ الحق۔۔۔۔ دونوں بزرگوں نے ان مقاصد کے حصول کے لیے اپنی زندگیاں یکسر وقف کر دی تھیں اور دونوں نہایت درجہ کامیاب و کامران ہو کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوئے۔
اللہ ابوبکرؓ پر فضل فرمائے اور انہیں اس دنیا کی طرح بہشت میں بھی اپنی نوازش ہائے بے پایاں سے نواز کر اپنے محبوب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب میں جگہ دے آمین!
مکمل تحریر >>

صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کا آخری خطبہ

جب تحریر لکھی جاچکی تو آپ نے حکم دیا کہ لوگوں کو پڑھ کر سُنادو،پھر خود اُسی شدت مرض کی حالت میں باہر تشریف لائے اورمسلمانوں کے مجمع کو مخاطب کرکے فرمایا::
میں جس شخص کو تم پر خلیفہ مقرر کروں تم اس پر راضی ہو؟ کیونکہ واللہ! میں نے تمہاری بھلائی کے لیے کوئی دقیقہ سعی فروگزاشت نہیں کیا اور نہ اپنے کسی قریبی رشتہ دار ہی کو خلیفہ بنایا ہے۔ میں نے اپنے بعد عمرؓ بن خطاب کو خلیفہ نامزد کیا ہے ۔ تم اس کے احکام کی کامل اطاعت کرو۔
لوگوں نے یہ سن کر کہا:
ہم آپ کے انتخاب پر راضی ہیں اور آپ سے عہد کرتے ہیں کہ ہر حال میں عمرؓ کی اطاعت اور فرماں برداری کریں گے۔
ابن سعد کی بعض روایات میں یہ ذکر بھی ہے کہ ابوبکرؓ کی وصیت تحریر کرنے اور اس پر مہر لگانے کے بعد عثمانؓ باہر آئے۔ مہر شدہ وصیت ان کے ہاتھ میں تھی۔ انہوں نے لوگوں سے کہا:
جس شخص کی خلافت کا اس وصیت میں ذکر ہے تم اس کی بیعت کر لو گے؟
لوگوں نے جواب دیاـ:
یقینا
چنانچہ انہوں نے عثمانؓ کے کہنے کے مطابق عمرؓ بن خطاب کی بیعت کر لی۔ بیعت کے بعد ابوبکرؓ نے عمرؓ کو اپنے پاس بلا کر انہیں امور سلطنت کے متعلق بعض اہم ہدایات دیں۔
روایات میں ان ہدایات کی تفصیل اس طرح آئی ہے:
کہ میں نے اپنے کسی عزیز رشتہ دار کو خلیفہ نہیں بنایا اورمیں نے صر ف اپنی ہی رائے سے عمر فاروقؓ کو خلیفہ نہیں بنایا؛بلکہ صاحب الرائے لوگوں سے مشورہ کرلینے کے بعد خلیفہ بنایا ہے،پس کیا تم اس شخص کے خلیفہ ہونے پر رضا مند ہو،جس کو میں نے تمہارے لئے انتخاب کیا ہے؟ یہ سُن کر لوگوں نے کہا کہ ہم آپ کے انتخاب اورآپ کی رائے کو پسند کرتے ہیں،پھر صدیق اکبرؓ نے فرمایا کہ تم کو چاہئے کہ عمر فاروقؓ کا کہنا سُنو اوراس کی اطاعت کرو سب نے اقرار کیا اُس کے بعد عمر فاروقؓ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ:
‘‘اے عمرؓ! میں نے تم کو اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا نائب بنایا ہے،اللہ تعالیٰ سے ظاہر وباطن ڈرتے رہنا اے عمرؓ اللہ تعالیٰ کے بعض حقوق ہیں، جو رات سے متعلق ہیں،اُن کو وہ دن میں قبول نہیں کرے گا، اسی طرح بعض حقوق دن سے متعلق ہیں،جن کو وہ رات میں قبول نہیں کرے گا،اللہ تعالیٰ نوافل کو قبول نہیں فرماتا جب تک کہ فرائض ادا نہ کئے جائیں، اے عمرؓ! جن کے اعمال صالحہ قیامت میں وزنی ہوں گے ،وہی فلاح پائیں گے اورجن کے اعمال نیک کم ہوں گے وہ مبتلا ئے مصیبت ہوں گے،اے عمرؓ! فلاح ونجات کی راہیں قرآن مجید پر عمل کرنے اورحق کی پیروی سے میسر ہوتی ہیں، اے عمرؓ!کیا تم کو معلوم نہیں کہ ترغیب و ترہیب اور انذار وبشارت کی آیات قرآن مجید میں ساتھ ساتھ نازل ہوئی ہیں،تاکہ مومن اللہ تعالیٰ سے ڈرتا اور اُس سے اپنی مغفرت طلب کرتا رہے،اے عمرؓ ! جب قرآن مجید میں ذکر اہل نار کا آئے تو دعا کرو کہ الہی ! تو مجھے ان میں شامل نہ کرنا اورجب اہل جنت کا ذکر آئے تو دعا کرو کہ الہی تو مجھے ان میں شامل کر،اے عمرؓ تم جب میری ان وصیتوں پر عمل کروگے تو مجھے گویا اپنے پاس بیٹھا ہوا پاؤ گے۔
یہ تحریر اوروصیت وغیرہ کی کاروائی ۲۲ جمادی الثانی ۱۳ھ بروز دوشنبہ عمل میں آئی ۲۲ اور ۲۳ جمادی الثانی کی درمیان شب میں جو شب سہ شنبہ تھی،بعد مغرب بعمر ۶۳ سال آپ کا انتقال ہوا
مکمل تحریر >>

جانشینی کا مسئلہ

ابوبکرؓ زندگی ہی میں اپنا جانشین مقرر کرنا تو ضرور چاہتے تھے لیکن ساتھ ہی ان کی خواہش یہ تھی کہ اہل الرائے اصحاب سے اس کے متعلق مشورہ لے لیا جائے اور ان کی رضا مندی سے ہونے والے خلیفہ کا تقرر عمل میں آئے۔
ان کے خیال میں صرف عمرؓ بن خطاب کی ذات ایسی تھی جو صحیح معنی میں ان کی جانشینی کے فرائض انجام دے سکتی تھی۔ لیکن انہیں خطرہ تھا کہ مشورہ لیے بغیر عمرؓ کی نامزدگی لوگوں پر گراں گزرے گی اور مسلمان اس انتخاب کو اچھی نظروں سے نہ دیکھیں گے۔ چنانچہ انہوں نے عبدالرحمن بن عوف کو بلایا اور ان سے پوچھا:
عمرؓ بن خطاب کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟
عبدالرحمن نے جواب دیا:
جس امر کے متعلق آپ مجھ سے دریافت کر رہے ہیں خود اسے بہتر جانتے ہیں۔
ابوبکرؓ نے کہا:
پھر بھی؟
عبدالرحمن نے جواب دیا:
اے خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، واللہ عمرؓ بہترین شخص ہیں لیکن ان کے مزاج میں سختی ہے۔
ابوبکرؓ نے کہا:
عمرؓ میں سختی صرف اس لیے ہے کہ میں نرمی سے پیش آتا ہوں۔ اگر خلافت کا کام ان کے سپرد کر دیا جائے تو ان کی سختی بڑی حد تک دور ہو جائے گی۔ میں خود بھی دیکھتا ہوں کہ اگر میں کسی شخص پر ناراض ہوتا ہوں او رسختی سے پیش آتا ہوں تو عمرؓ اس سے نرمی کا سلوک کرنے پر مائل ہوتے ہیں اور اگر میں کسی سے نرمی کا سلوک کرتا ہوں تو وہ میرے سامنے اس شخص کے بارے میں درشتی کا اظہار کرتے ہیں۔
یہ کہہ کر ابوبکر ؓ خاموش رہے پھر فرمایا:
اے ابو محمد! جو کچھ میں نے تم سے کہا اس کا ذکر کسی سے نہ کرنا۔
عبدالرحمن بن عوف کے بعد ابوبکرؓ نے عثمانؓ بن عفان کو بلایا اور فرمایا:
اے ابو عبداللہ! عمرؓ کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟
عثمانؓ نے جواب دیا:
ان کے متعلق آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔
ابوبکرؓ نے کہا:
اس کے باوجود میں تم سے ان کے متعلق رائے دریافت کرتا ہوں۔
عثمان نے جواب دیا:
عمرؓ کے بارے میں میرا تاثر یہ ہے کہ ان کا باطن ان کے ظاہر سے اچھا ہے اور وہ علم و فضل کے لحاظ سے ہم میں یکتاو ہیں۔
ابوبکرؓ نے کہا:
اے ابو عبداللہ! اللہ تم پر رحم فرمائے۔ واللہ! اگر میں عمرؓ کو تمہارا امیر مقرر کر جاؤں تو وہ تم پر کسی قسم کی زیادتی نہ کریں گے۔
عبدالرحمن کی طرح ابوبکرؓ نے عثمان کو بھی یہ ہدایت کر دی کہ وہ کسی سے ان باتوں کا ذکر نہ کریں۔
ابوبکرؓ نے صرف عبدالرحمنؓ بن عوف اور عثمانؓ سے مشورہ لینے پر اکتفا نہ کیا بلکہ سعید بن زید، اسید بن حضیر اور دیگر مہاجرین و انصار سے بھی اس کے متعلق گفتگو کی۔ جب ابوبکرؓعمرؓ کی خلافت کے بارے میں کلیتہً مطمئن ہو گئے تو انہوں نے اپنے کاتب عثمانؓ بن عفان کو بلایا اور کہا:
جو کچھ میں تمہیں بتاؤں اسے لکھ لو۔
اس کے بعد یہ عبارت لکھوائی:
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ یہ وہ وصیت ہے جو ابوبکرؓ بن ابو قحافہ نے اس دنیا سے رخصت اور آخرت کی زندگی میں داخل ہوتے وقت لکھوائی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب بڑے سے بڑا کافر بھی ایمان لے آتا ہے اور جھوٹے سے جھوٹا شخص بھی سچ بولنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ میں اپنے بعد عمرؓ بن خطاب کو تمہارا خلیفہ نامزد کرتا ہوں۔ تم اس کے احکام کی کامل اطاعت کرو۔ میں نے حتیٰ الامکان تم سے بھلائی کرنے میں کوئی دقیقہ سعی فروگزاشت نہیں کیا۔ اگر عمرؓ نے عدل و انصاف سے کام لیا تو مجھے اس سے بھی یہی امید ہے۔ لیکن اگر خدانخواستہ ایسا نہ ہوا تو ہر شخص قیامت کے دن اللہ کے سامنے اپنے برے اعمال کا جواب دہ ہو گا۔ بہرحال میں نے اپنی دانست میں تمہاری بھلائی ہی کی تدبیر کی ہے۔ ورنہ غریب کا علم تو اللہ ہی کو ہے۔۔۔ وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون۔
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
بعض روایات میں آتا ہے کہ ابوبکرؓ نے عثمانؓ کو وصیت لکھوانی شروع کی۔ جب ان الفاظ پر پہنچے کہ میں تم پر خلیفہ بناتا ہوں تو ان پر غشی طاری ہو گئی۔ عثمانؓ کو ابوبکرؓ کا منشاء معلوم ہی تھا۔ انہوں نے حالت غشی ہی میں یہ الفاظ لکھ دئیے:
میں عمرؓ بن خطاب کو تم پر خلیفہ مقرر کرتا ہوں اور میں نے تمہاری بھلائی میں کوئی دقیقہ سعی فروگزاشت نہیں کیا۔
جب ابوبکرؓ کی غشی دور ہوئی تو انہوں نے فرمایا: جو میں نے لکھوایا تھا اسے دوبارہ پڑھو۔
جب عثمانؓ نے پوری عبارت پڑھی تو ابوبکرؓ نے اللہ اکبر کہا اور فرمایا:
معلوم ہوتا ہے تمہیں ڈر تھا کہ اگر غشی کی حالت میں میری جان نکل گئی اور میں پوری وصیت نہ لکھوا سکا تو لوگوں میں خلیفہ کے بارے میں اختلاف پیدا ہو جائے گا۔
عثمانؓ نے کہا:
آپ درست فرماتے ہیں۔ واقعی میرا یہی خیال تھا۔
ابوبکرؓ نے عثمان کی لکھی ہوئی عبارت برقرار رکھی اور فرمایا:
اللہ تمہیں اس کی بہترین جزا دے۔
مکمل تحریر >>

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا مرضِ وفات

حضرت ابوبکرؓ نے ارتداد کا وہ فتنہ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عرب کے گوشے گوشے میں اٹھ کھڑا ہوا تھا، کمال مستعدی سے فرو کر دیا تھا۔ عراق میں اسلامی فوجیں دور دور تک گھس گئی تھیں اور ایرانی دار الحکومت مدائن کی فتح چند دن کی بات رہ گئی تھی۔ شام میں رومی افواج قاہرہ کو ذلت آمیز شکستوں سے دو چار ہونا پڑ رہا تھا اور فتوحات اسلامی کے اثرات پایہ تخت شام، دمشق تک محسوس کیے جا رہے تھے۔ ایک طرف ان حیرت انگیز فتوحات کا سلسلہ جاری تھا، دوسری طرف ابوبکرؓ مدینہ میں ایک ایسی متحدہ عربی حکومت کی تشکیل میں مصروف تھے جس کی اساس باہمی مشورے پر تھی ۔ قرآن کریم کی تدوین ہو چکی تھی۔ اسلامی سلطنت کی تشکیل کے لیے راستہ صاف ہو چکا تھا اور حقیقی عدل و انصاف پر مبنی حکومت کا قیام عمل میں آ چکا تھا۔ حیرت بالائے حیرت یہ ہے کہ یہ تمام عظیم الشان اور اہم امور دو سال تین مہینے کے قلیل ترین مدت میں پایہ تکمیل کو پہنچے تھے۔
کیا یہ تاریخ کا ایک معجزہ نہیں؟ ستائیس مہینے کی قلیل مدت میں ایک طویل و عریض علاقے کی خطرناک بغاوت بالکل فرو ہو جاتی ہے اور آن واحد میں سارا عرب وحدت کی سلک میں اس طرح منسلک ہو جاتا ہے کہ معلوم ہوتا ہے یہاں کبھی بغاوت اور شورش کا نام و نشان تک نہ تھا۔ پھر یہی اہل عرب، جو پہلے فتنہ و فساد اور شورش و اضطراب کے شکار تھے، ان دو عظیم الشان سلطنتوں پر ہلہ بول دیتے ہیں جنہیں اپنی عسکری قوت اور تہذیب و تمدن کی بنا پر دنیا کی تمام اقوام پر برتری حاصل تھی اور یہ سلطنتیں اپنے عساکر جرار اور وافر اسلحہ کے باوجود حقیر و ذلیل عربوں کے سامنے عاجز رہ جاتی ہیں اور ایرانی و رومی تہذیب کی جگہ اسلامی تمدن کا دور دورہ ہو جاتا ہے۔
عربوں کا اپنی ہمسایہ سلطنتوں پر اس قدر جلد غلبہ ایک ایسا عجیب و غریب واقعہ ہے جس کی نظیر تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔ کسی شخص کی مجال نہیں کہ وہ بغیر تائید ایزدی اور توفیق خداوندی کے ایسے کارنامے انجام دے سکے جن پر ایک عالم حیران و ششدر رہ جائے۔ ابوبکرؓ اللہ کی قدرتوں پر مکمل ایمان رکھتے تھے۔ چنانچہ ان کی انگوٹھی کا نقش بھی نعم القادر اللہ تھا۔ اسی ایمان کے نتیجے میں اللہ نے ان کے لیے اپنی قدرتوں کا نزول کیا اور جو کام بڑے بڑے سیاست دان اور سپہ سالار برسوں میں انجام نہ دے سکتے تھے وہ ایک نحیف و نزار شخص نے مہینوں میں انجام دے دئیے۔
شروع ماہ جمادی الثانی ۱۳ھ میں حضرت ابوبکر صدیقؓ بعارضہ تپ مبتلا ہوئے ،پندرہ روز برابر شدت کا بخار رہا ،مرض الموت میں ابوبکرؓ کو سب سے بڑا فکر مسلمانوں کے مستقبل کے متعلق تھا۔ ان کی نظروں کے سامنے سے پچھلے واقعات ایک ایک کر کے گزر رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے معاً بعد سقیفہ بنی ساعد میں مہاجرین اور انصار کے درمیان خلافت پر جھگڑا برپا ہو گیا تھا اور اگر اللہ مسلمانوں کو ان کے ہاتھ پر متحد نہ کرتا تو زبردست فتنہ برپا ہونے کا خدشہ تھا۔ یہ فتنہ صرف مہاجرین و انصار تک محدود نہ رہتا بلکہ سارے عرب کو لپیٹ میں لے لیتا۔ پہلے اس کے شعلے مکہ اور طائف میں بھڑکتے پھر یمن کی باری آتی۔
اس اختلاف کی نوعیت دینی نہ ہوتی بلکہ خالص دنیوی ہوتی او رمحض شخصی اقتدار کے قیام کے لیے قبائلی عصبیت کا یہ فتنہ اٹھ کھڑا ہوتا۔ اول تو کسی بھی طبقے کی طرف سے اقتدار کی ہوس قومی اتحاد میں رخنہ ڈال دیتی ہے دوسرے ایسے وقت میں جب ایرانی اور رومی سلطنتیں شیر کی طرح منہ پھاڑے عرب کی طرف دیکھ رہی تھیں، مسلمانوں کا باہم دست و گریباں ہو جانا ان سلطنتوں کے لیے نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوتا اور وہ بہ آسانی مسلمانوں کے اختلاف سے فائدہ اٹھا کر عرب پر تسلط بٹھا لیتیں۔ ابوبکرؓ کی خلافت کے باعث ان کی زندگی میں تو اس فتنے کو سر اٹھانے کا موقع نہ مل سکا لیکن کون کہہ سکتا تھا کہ آئندہ کے لیے بھی اس کا سد باب ہو چکا ہے۔
مرض الموت میں ابوبکرؓ کا دل برابر انہیں افکار کی جولان گاہ رہا۔ انہوں نے تمام حالات کا بہ غور جائزہ لیا اور آخر اس نتیجے پر پہنچے کہ مسلمانوں کو آئندہ اختلاف سے بچانے کی صرف یہ صورت ہے کہ وہ زندگی ہی میں آئندہ آنے والے خلیفہ کا تعین کر جائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہ کیا تھا۔ آپ کسی شخص کو خلیفہ مقرر کیے بغیر وفات پا گئے تھے لیکن اس میں بھی اللہ کی ایک حکمت تھی یعنی لوگ یہ خیال نہ کرنے لگیں کہ اس شخص کو چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنا خلیفہ مقرر فرمایا ہے اس لیے یہ براہ راست اللہ سے احکام حاصل کرتا ہے اور اس طرح اس کی حیثیت اصل میں خلیفتہ اللہ کی ہے۔
مکمل تحریر >>

فتحِ یرموک

جب خالدؓ نے رومی لشکر کو پیچھے ہٹتے دیکھا تو انہوں نے اپنے لشکر کو آگے بڑھنے اور رومیوں پر زبردست حملہ کرنے کا حکم دیا۔ عکرمہ کے دستے کا زور کیا کم تھا جو اب خالدؓ کے لشکر نے قیامت ڈھانی شروع کی۔ رومیوں کے لیے اب کوئی جائے فرار نہ تھی۔ پیچھے واقوصہ کی ہول ناک گھاٹی اور گہرے کھڈے ان کا راستہ روکے ہوئے تھے اور سامنے سے مسلمانوں کا لشکر انہیں بے دریغ قتل کرتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ خالدؓ تلوار ہاتھ میں لیے سب سے آگے آگے تھے۔ اس موقع پر مسلمان عورتیں بھی اپنے مردوں سے کم نہ رہیں اور انہوں نے بھی بہادری کے جوہر دکھائے۔ چنانچہ ابوسفیان کی بیٹی جویریہ نے جو نمونہ اس موقع پر دکھایا اس نے اس واقعے کی یاد تازہ کر ی جو غزوہ احد کے موقع پر اس کی والدہ ہند کے ذریعے سے ظہور پذیر ہوا تھا۔
رومی بھی اپنی مدافعت میں جان توڑ کر لڑے۔ جو مسلمان ان کے قابو میں آ گیا زندہ نہ بچ سکا۔ رومیوں کی شجاعت اور جواں مردی کی وجہ سے خاصی دیر تک لڑائی کا کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔ شام ہو گئی مگر لڑائی جاری رہی۔ عکرمہ اور ان کے ہاتھ پر موت کی بیعت کرنے والے لوگوں میں سے کوئی بھی اپنی جگہ سے ایک قدم پیچھے نہ ہٹا۔ یہ لوگ معرکے کے آغاز سے انجام تک انتہائی جواں مردی سے دشمن کے سامنے ڈٹے رہے اور بڑھ چڑھ کر حملے کرتے رہے۔ سورج غروب ہونے پر رومیوں میں ضعف کے آثار پیدا ہونے لگے۔ ان کے سواروں کے چہروں سے شدید تھکاوٹ کے آثار ہویدا تھے اور وہ بھاگنے کے لیے کسی راستے کی تلاش میں تھے لیکن اس وقت ان کے لیے کوئی راہ فرار نہ تھی۔ واقوصہ کی گھاٹی ان کے پیچھے تھی اور مسلمان ان کے آگے۔ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔
خالدؓ نے اندازہ کر لیا کہ رومی سواروں کا فرار ان کے ساتھیوں کے لیے مزید کمزوری کا باعث ہو گا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے آدمیوں کو ایک طرف ہٹ جانے کا حکم دیا۔ جب ان سواروں نے راستہ کھلا دیکھا تو بے تحاشا گھوڑے دوڑاتے ہوئے اس راستے سے نکلتے چلے گئے اور سر زمین شام میں منتشر ہو گئے۔ جب میدان رومی سواروں سے خالی ہو گیا تو خالدؓ اپنے سوار اور پیدل دستے لے کر رومیوں کے پیدل دستوں پر ٹوٹ پڑے اور ان کا صفایا کرنا شروع کیا
بالآخر رومی دن بھر کی صعوبت کشی سے افسردہ ومضمحل ہوکر مسلمانوں کے مقابلہ پر جم نہ سکے ،پیچھے ہٹے اور ہٹتے ہٹتے دامن کوہ میں پہنچے ؛لیکن مسلمان ان کے ساتھ ساتھ بڑھتے بڑھتے اور دھکیلتے ہوئے گئے،جب پیچھے ہٹنے اور بھاگنے کی جگہ نہ ملی تو ادھر ادھر کو پھوٹ پھوٹ کر ان کا سیلاب نکلا،مسلمانوں نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا ،بہت سے پانی میں ڈوب کر بہت سے خندق میں گرکر ہلاک ہوئے ،ایک لاکھ تیس ہزار رومی لقمہ اجل ہوئے باقی اپنی جان بچاکر بھاگ نکلے ،ان مفرورین میں سوار زیادہ تھے پیدل قریباً سب مارےگئے ۔
رومیوں کی کامل شکست ہو چکی تھی۔ مسلمان ان کی لشکر گاہ میں داخل ہوئے۔ خالدؓ نے ہرقل کے بھائی تذارق کے خیمے میں رات گزاری۔ صبح کو جب انہوں نے میدان میں نگاہ دوڑائی تو حد نظر تک کسی رومی کا نشان دکھائی نہ دیتا تھا۔ جو میدان ایک روز قبل رومی افواج قاہرہ سے بھرپور تھا، جہاں بڑے قیمتی جنگی گھوڑے جولانیاں دکھاتے تھے، جہاں ہر طرف عالی شان اور بلند و بالا خیموں کی قطاریں نظر آتی تھیں۔ وہاں اب ہو کا عالم طاری تھا، نہ کسی رومی کا نام و نشان نظر آتا تھا نہ کسی گھوڑے کا ۔ عالی شان اور بلند و بالا خیمے موجود تھے لیکن مالکوں سے خالی تھے اور ان کی جگہ مسلمان ان میں آرام کر رہے تھے۔ یہ نظارہ دیکھ کر خالدؓ کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے اور انہوں نے اللہ کے اس عظیم الشان احسان کا شکر ادا کرنے کے لیے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا لیے۔
جنگ یرموک میں مسلمان شہداء کی تعداد بھی کم نہ تھی۔ اس لڑائی میں تین ہزار مسلمان شہید ہوئے تھے جن میں جلیل القدر صحابہ اور بڑے بڑے بہادروں اور شہسواروں کی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔
اس جنگ کا انجام رومیوں کے لیے بہت حسرت ناک تھا۔ ان کی تمام امیدیں خاک میں مل گئی تھیں۔ تمام منصوبے ملیا میٹ ہو گئے تھے۔ ہرقل ان دنوں حمص میں مقیم تھا جونہی اس نے اپنے لشکر کی عبرت ناک شکست کی خبر سنی وہ ایک شخص کو اپنا قائم مقام بنا کر خود وہاں سے بھاگ گیا۔ ادھر مسلمانوں نے جنگ یرموک سے فراغت حاصل کرتے ہی اردن کی طرف پیش قدمی شروع کر دی اور تھوڑے ہی عرصے میں اسے رومیوں سے پاک کرا لیا۔ اس کے بعد انہوں نے دمشق کا رخ کیا اور اس کا محاصرہ کر لیا۔
مکمل تحریر >>

یرموک - رومی فوجیوں کی چڑھائی

خالدؓ نے اس ایک مہینے کے دوران میں رومیوں کی ترتیب اور صف بندی کا بہ غور مطالعہ کر لیا تھا۔ انہوں نے ان کے مقابلے کے لیے ایک ایسا طریقہ استعمال کرنا چاہا جو نہ صرف رومیوں پر رعب ڈالنے والا ہو بلکہ اس کے ذریعے سے فتح بھی حاصل ہو سکے۔ انہوں نے اسلامی لشکر کو اڑتیس دستوں میں تقسیم کیا (ہر ایک دستہ کم و بیش ایک ہزار سپاہیوں پر مشتمل تھا) اور فرمایا:
’’ تمہارے دشمن کی تعداد بہت زیادہ ہے اور وہ کثرت تعداد پر نازاں ہے۔ اس کے مقابلے میں یہی تدبیر مناسب ہے کہ ہم اپنی فوج کے بہت سے دستے بنا لیں تاکہ دشمن کو ہماری تعداد اصل سے بہت زیادہ نظر آئے۔‘‘
قلب میں انہوں نے اٹھارہ دستے رکھے اور ابو عبیدہ کو ان کا سردار بنایا۔ ان دستوں میں عکرمہ بن ابوجہل اور قعقاع بن عمرو بھی شامل تھے۔ میمنہ پر دس دستے متعین کیے اور ان کا سردار عمرو بن عاص کو بنایا۔
ان دستوں میں شرحبیل بن حسنہ بھی تھے۔ میسرہ پر دس دستے متعین کیے اور ان کا سردار یزید بن ابی سفیان کو مقرر کیا۔ ہر دستے کا علیحدہ سردار بھی تھا جو میمنہ، میسرہ اور قلب کے سرداروں سے احکام حاصل کرتا تھا۔ ان دستوں کے سردار وہ لوگ تھے جو بہادری، جواں مردی اور شجاعت میں اپنی نظیر آپ تھے، مثلاً قعقاع بن عمرو، عکرمہ بن ابوجہل، صفوان بن ا میہ وغیرہ۔
خالدؓ نے اس ترتیب کے علاوہ لشکر کا ایک ہر اول دستہ بھی بنایا تھا۔ جس پر غیاث بن اشیم مقرر تھے۔ قاضی کی خدمت ابوالدراء کے سپرد ہوئی۔ لشکر کے قاری مقداد تھے جو لشکر کو سورۂ انفال پڑھ کر سنایا کرتے تھے۔ سامان کے افسر عبداللہ بن مسعود تھے۔ واعظ ابو سفیان تھے۔ وہ لشکر میں گشت کرتے رہتے اور ہر دستے کے سامنے ٹھہر کر کہتے:
’’ اللہ اللہ! تم حامیان عرب ہو اور دین اسلام کے مددگار۔ تمہارے مد مقابل حامیان روم اور شرک کے مددگار ہیں۔ اے اللہ آج کی جنگ صرف تیرے نام کے لیے ہے۔ اے اللہ! اپنے بندوں پر اپنی مدد نازل فرما۔‘‘
ہر شخص کے سامنے پچھلی جنگوں کے منظر آ گئے جن میں کفار بے پناہ طاقت سے مسلمانوں کے مقابلے میں آئے لیکن ایمانی قوت کے سامنے ان کی ایک نہ چل سکی اور ہر ایک بار انہیں انتہائی ذلت و رسوائی سے پسپا ہونا پڑا۔
مسلمانوں میں اس وقت اتنا جوش و خروش پیدا ہو چکا تھا کہ شام آنے کے بعد سے اب تک پیدا نہ ہوا تھا۔ انہیں یقین ہو گیا کہ خالدؓ نے آج فتح حاصل کرنے کا تہیہ کر لیا ہے۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ جب خالدؓ کسی کام کا ارادہ رک لیں تو کوئی طاقت انہیں باز نہیں رکھ سکتی۔ ادھر انہوں نے رومیوں کو پوری طاقت و قوت سے میدان جنگ میں صفیں باندھتے ہوئے دیکھا۔ وہ مسلمانوں کی طاقت کو کلیۃً ختم کر دینے کے ارادے سے میدان میں آئے تھے
جس طرح مسلمانوں کو رومیوں کی تیاری کی اطلاع مل گئی تھی اسی طرح رومیوں کو بھی مسلمانوں کی نقل و حرکت کا حال معلوم ہو گیا۔ غالباً اس علاقے کے رہنے والے کچھ بدو دونوں لشکروں کے درمیان جاسوسی کے فرائض انجام دیتے تھے۔ خالدؓ کو منجملہ دیگر اطلاعات کے یہ اطلاع بھی ملی کہ ان کے آنے کی وجہ سے رومیوں کے بعض سرداروں کے دلوں میں سخت گھبراہٹ اور بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔ ان گھبرائے ہوئے بے چین سرداروں میں ’’ چرچہ‘‘ بھی شامل تھا۔ یہ شخص یا تو عربی النسل تھا یا تھا تو رومی لیکن سالہا سال سے شام میں رہنے کے باعث عربی بہت اچھی طرح جانتا تھا اور اسے مسلمانوں کی بہت سی باتوں کا بخوبی علم تھا۔ جب اس کے جاسوسوں نے اسے خالدؓ کی بے نظیر اور عظیم الشان فتوحات کی اطلاع دی تو بے اختیار اس کے دل میں خالدؓ سے ملنے اور ان سے گفتگو کی خواہش پیدا ہوئی۔ خالدؓ کو بھی اس کی اس خواہش کا علم ہو گیا۔ جب باہان نے رومی دستوں کو مسلمانوں کے مقابلے کے لیے نکلنے کا حکم دیا تو چرچہ ہر اول دستے پر متعین تھا۔ اس نے موقع غنیمت جان کر خالدؓ کو پکارا۔ خالدؓ فوج سے نکل کر آئے اور دونوں لشکروں کے درمیان اسے ملے دونوں میں باتیں ہونے لگیں۔ رومیوں نے یہ سمجھا کہ چرچہ کو مدد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مسلمانوں پر زور شور سے حملہ کیا اور انہیں اپنی جگہ سے پیچھے ہٹا دیا۔
عکرمہ خالدؓ کے خیمے کے سامنے اپنا دستہ لیے کھڑے تھے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمانوں رومیوں کے حملے کی تاب نہ لا کر پیچھے ہٹنے لگے تو غیرت و حمیت ان کی رگ رگ میں سرایت کر گئی اورانہوں نے چلا کر رومیوں سے کہا:
’’ میں رسول اللہ جیسے مقدس انسان ے ہر میدان میں لڑتا رہا ہوں، کیا آج کی لڑائی تم سے ڈر کر بھاگ جاؤں گا؟ واللہ! ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔‘‘
یہ کہہ کر وہ ساتھیوں کی طرف مڑے اور کہا:
’’ آؤ، موت کے لیے کون بیعت کرتا ہے؟‘‘
یہ سن کر ضرار بن ازور، حارث بن ہشام، ان کے لڑکے عمرو بن عکرمہ اورچار سو دو سرے بہادر معزز مسلمانوں اور شہسواروں نے عکرمہ کے ہاتھ پر موت کی بیعت کی اور عکرمہ انہیں لے کر رومیوں پر ٹوٹ پڑے۔ رومیوں کے پاؤں اس ناگہانی حملے کی وجہ سے لڑ کھڑا گئے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ عین اسی وقت چرچہ نے خالدؓ سے گفتگو کے نتیجے میں اسلام قبول کر لیا اور اپنا دستہ لے کر مسلمانوں سے مل گیا۔ یہ امر رومیوں میں مزید بدحواسی اور ابتری پیدا کرنے کا موجب ہوا۔
مکمل تحریر >>

فریقین کی جنگی تیاریاں

جب یہ چاروں لشکر حدودِ شام میں پہنچے اورہر قل کو اس کی اطلاع ملی کہ عربوں نے چار حصوں میں منقسم ہوکر چار مقامات پر حملہ آوری کا قصد کیا ہے تو اس نے بھی اپنے چار سپہ سالاروں کو چار عظیم الشان لشکر دے کر الگ الگ روانہ کیا ،عمرو بن العاصؓ کے مقابلہ کے واسطے اُس نے اپنے حقیقی بھائی تذارق کو نوئے ہزار فوج دے کر فلسطین کی طرف روانہ کیا،جرجہ بن نوذر کوچالیس ہزار فوج دے کر یزید بنؓ ابی سفیان کے مقابل دمشق کی سمت بھیجا،راقص نامی سردار کو پچاس ہزار فوج کے ساتھ شرجیل ؓ بن حسنہ کے مقابلہ پر اُردن کی جانب اور رفیقاء بن نسطورس کو ساٹھ ہزار کی جمعیت کے ساتھ ابو عبیدہؓ بن الجراح کے مقابلہ کو حمص کی طرف روانہ کیا، ہر قل نے اپنے چاروں سرداروں کے ماتحت کل دو لاکھ چالیس ہزار فوج مسلمانوں کے مقابلہ کی غرض سے روانہ کی ؛حالانکہ مسلمانوں کے چاروں لشکروں کا مجموعہ تیس ہزار کے قریب تھا، اس سے بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے کہ ہر قل نے کیسی زبردست تیاریاں مسلمانوں کے استیصال کی پہلے سے کر رکھی تھیں؛ لیکن اس میں شک نہیں کہ خود ہر قل اپنی ذات سے اس بات کا خواہش مند نہ تھا کہ ضرور مسلمانوں سے لڑے وہ تو لڑائی کو ٹالنا اورجہاں تک ممکن ہو مسلمانوں سے بے تعلق رہنا چاہتا تھا؛ لیکن اُس کے تمام درباری تمام امراء، تمام سرداران فوج اورتمام صوبیدار ہم تن آمادہ و مستعد تھے کہ ملک عرب پر حملہ کیا جائے، اس مطلب کو ان الفاظ میں بھی ادا کیا جاسکتا ہے کہ ہر قل تو لڑائی پر آمادہ نہ تھا مگر رومی گورنمنٹ پورے طور پر آمادہ ومستعد تھی،لہذا ہرقل کو رومی گورنمنٹ کا شہنشاہ ہونے کی حیثیت سے ہر ایک اہتمام ایک ہوشیار وتجربہ کار مہتمم کی طرح کرنا پڑتا تھا۔
مسلمان سردار اگرچہ ایک دوسرے سے جدا سفر کررہے تھے لیکن حکم صدیقی کے موافق ایک دوسرے کے حالات سے باخبر اورآپس میں سلسلہ پیام رسانی کو قائم رکھے ہوئے تھے،جب حدود شام میں داخل ہونے کے بعد اُن کو معلوم ہوا کہ ہر ایک لشکر کے مقابلہ پر اس سے آٹھ گنی رومی فوج جو ہرطرح کیل کانٹے سے درست ہے آرہی ہے تو ایک طرف صدیق اکبرؓ کو اطلاع دی،دوسری طرف انہوں نے مناسب سمجھا کہ ہم کو ایک جگہ متحد ہوکر مقابلہ کرنا چاہئے، اتفاق کی بات کہ ادھر چاروں سردار اپنی اپنی فوجوں کو لئے ہوئے ایک جگہ یرموک میں جمع ہوئے،اُدھر صدیق اکبرؓ نے رومی لشکر کی کثرت اورتیاریوں کا حال سُن کر ایک طرف توچاروں سرداروں کے نام ایک جگہ جمع ہوکر مقابلہ کرنے کا حکم بھیجا،دوسری طرف حضرت خالد بن ولیدؓ کو لکھا کہ تم صوبہ حیرہ میں اپنی جگہ مثنی بن حارثہؓ کو وہاں کا ذمہ دار افسر بناکر نصف فوج مثنیٰ کے پاس چھوڑ کر اورنصف فوج خود لے کر شام کی طرف چلے جاؤ اوروہاں کی تمام افواج اسلام کا اہتمام بہ حیثیت سپہ سالار اعظم اپنے ہاتھ میں لے لو،صدیق اکبرؓ دیکھ چکے تھے کہ خالد بن ولیدؓ نے ایرانی فوج کو کس طرح پیہم شکستیں دے کر ایک بڑا علاقہ سلطنت ایران سے چھین لیا تھا،اُن کی نظر میں خالدؓ سے بہتر کوئی شخص نہ تھا جو اس خطرناک حالت میں رومیوں کا مقابلہ کامیابی سے کرسکے،یہ وہ بھی جانتے تھے کہ خالدؓ کا سب سے بڑا اورسب سے پہلا کارنامہ جنگِ موتہ تھا کہ انہوں نے اسلامی لشکر کی بگڑی ہوئی حالت کو سدھار لیا تھا جس کے صلہ میں بارگاہ ایزدی سے اُن کو سیف اللہ کا خطاب ملا تھا لہذا انہوں نے مناسب سمجھا کہ چاروں نہایت زبردست اورقبائل سپہ سالاروں کے پاس سیف اللہ کو بھیجنا اوراُن چاروں پر اُن کو سردار بنادینا ضرور مفید ہوگا ؛چنانچہ خالد بن ولیدؓ نے دس ہزار فوج مثنیٰ بن حارثہؓ کے پاس چھوڑی اوردس ہزار فوج لے کر شام روانہ ہوئے۔
اُدھر ہر قل نے جب یہ دیکھا کہ چاروں اسلامی لشکر ایک جگہ جمع ہوگئے ہیں تو اُس نے بھی اپنے چاروں سرداروں کو حکم دیا کہ ایک جگہ جمع ہوکر مقابلہ کرو، چاروں رومی لشکر جمع ہوکر چشمہ یرموک کے دوسری جانب ایک ایسے بیضوی میدان میں خیمہ زن ہوئے جو پشت پر جانب پہاڑ اورسامنے کی جانب پانی سے محصور تھا، اس دو لاکھ چالیس ہزار رومی لشکر کا سپہ سالارِ اعظم ہرقل کا بھائی تذارق تھا،ہرقل نے اس کو لکھا کہ میں ایک زبردست لشکر تمہاری کمک کے لئے روانہ کررہا ہوں؛چنانچہ ہامان نامی سردار کو یرموک کی طرف روانہ کیا، اسلامی لشکر جو چشمہ یرموک کے اُس طرف میدان میں پڑا ہوا تھا خود رومیوں پر اپنی قلت کے سبب حملہ نہ کرسکتا تھا،اُدھر رومی جو ایک قدرتی حصار کے اندر محفوظ تھے باہر نکل کر مسلمانوں پر حملہ آور ہونے میں پس و پیش کررہے تھے۔
یرموک میں جب دونوں طرف کے لشکر جمع ہوئے ہیں تو صفر کا مہینہ تھا،انہیں ایام میں یادو چار روز بعد حضرت خالد بن ولیدؓ عراق سے اپنا دس ہزار لشکر لے کر یرموک کی جانب روانہ ہوئے راستہ میں حضرت خالد بن ولیدؓ کو کئی جگہ دشمن قبائل اور دشمن رئیسوں کی فوجوں نے روکا ٹوکا، ہر جگہ خالدؓ لڑتے دشمنوں کو ماربھگاتے اورسامنے سے ہٹاتے ہوئے ماہِ ربیع الاول ۱۳ھ میں یرموک پہنچ گئے،یرموک میں ہر قل کی طرف سے کئی سردار اوربطریق فوجی امداد کے ساتھ رومی لشکر میں آ آ کر شریک ہوچکے تھے،حضرت خالدؓ کے آنے سے پہلے اگرچہ معمولی چھیڑ چھاڑ دونوں لشکروں میں ہوجاتی تھی مگر کوئی اہم قابل تذکرہ معرکہ ابھی تک نہیں ہوا تھا۔
مکمل تحریر >>

خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ملکِ شام میں

ایرانیوں کی جانب سے کسی قدر اطمینان ہوچکا تھا اوراُمید نہ تھی کہ اب جلد وہ مدینہ منورہ پر فوج کشی کے خواب دیکھیں گے،جس وقت عرب کے ہر ایک حصہ میں فتنہ ارتداد فرو ہوگیا اورایرانی خطرہ کی اہمیت بھی کسی عجلت کی متقاضی نہ رہی تو اب سب سے مقدم اورسب سے زیادہ اہم ملک شام کا انتظام اوراُس طرف سے رومی وغسا فی خطرہ کی روک تھام تھی،شرجیل بن عمرو غسانی بادشاہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایلچی کو شہید کردیا تھا، جس کے بعد جنگ موتہ ہوئی،پھر رومیوں اورغسانیوں نے مل کر مدینہ منورہ پر فوج کشی کی تیاریاں کیں،جس کا حال سُن کر خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوج لے کر تبوک تک تشریف لے گئے،مگر اُس وقت تک عیسائی پورے طور پر اتنے بڑے عربی واسلامی لشکر کے مقابلہ کی جرأت نہ کرسکے اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سرحد شام پر رعب ڈال کر واپس تشریف لے آئے،اس کے بعد پھر خبر پہنچی کہ سرحدِ شام پر فوجی تیاریاں ہورہی ہیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اُسامہ بن زیدؓ کو روانہ کیا،جو بعد وفات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سرحد شام کی طرف گئے اور جو مقابل ہوا اس کو شکست دے کر جلدی سے واپس چلے آئے،کیونکہ فتنہ ارتداد کا اندرون ملک میں خوب زور شور تھا، فتنہ ارتداد کی روک تھام کے لئے حضرت ابوبکرؓ نے جب گیارہ لشکر تیار کرکے روانہ کئے تو اُن میں سے ایک لشکر حضرت خالد بن ولیدؓ کو دے کر حکم دیا کہ تم سرحدِ شام کی طرف جاؤ،حضرت ابوبکرصدیقؓ بھی شامی خطرہ کو محسوس کئے ہوئے تھے اور انہوں نے فتنۂ ارتداد کے فرو کرنے میں شامی خطرہ کو بخوبی پیش نظر رکھا تھا، جب ارتداد سے اطمینان ہوگیا تو انہوں نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو تو عراق کی طرف متوجہ کردیا کہ ایرانی خطرہ کی طرف سے اطمینان حاصل ہوا اورملک عرب کے ہر حصہ میں ایلچی بھیج کر لڑائی کے لئے جنگی سپاہیوں کو ہر قبیلہ سے طلب کیا،مدعا اس سے یہ تھا کہ عرب کی متحدہ طاقت سے رومی ایرانی شہنشاہیوں کا مقابلہ کیا جائے تاکہ ہمیشہ کے لئے عیسائیوں اورمجوسیوں کے خطرہ سے عرب کو نجات مل جائے، دوسرے عرب کے جنگ جو قبائل جو خاموش بیٹھنے کے عادی نہ تھے اُن کو ہر حصہ ملک سے طلب کرکے غیر مسلم دشمنوں کے مقابلہ میں شام و عراق کی طرف بھیج دیا جائے تاکہ عرب کے اتحاد وقوت اوراسلام کی مرکزی قوت کے لئے کسی اندرونی فتنہ کا اندیشہ باقی نہ رہے،اندریں صورت کہا جاسکتا ہے کہ فتنہ ارتداد بھی اسلامی فتوحات کا ایک بہت بڑا سبب تھا اور حضرت ابوبکرصدیقؓ کی تدبیررائے نے اسلامی عظمت وشوکت کی نشو ونما کے لئے وہ کام کیا جو ایک تجربہ کار اورہوشیار مالی اپنے باغیچہ کی سرسبزی کے لئے کرسکتا ہے۔
حضرت خالد بن ولیدؓ کے ساتھ بہت تھوڑے سے آدمی تھے لیکن وہ راستے سے صدیقی ہدایت کے موافق جس قدر مسلمان ہوسکے اپنے ہمراہ لیتے گئے،خالد بن ولیدؓ کو حکم دیا گیا تھا کہ جہاں تک ہوسکے مرتدین کو درست کرنا اور عیسائی لشکر مقابلہ پر آئے تو حتی الامکان جنگ چپاول سے کام لینا ،میدان داری اورجم کر مقابلہ کرنے سے پرہیز کرناا ایسا حکم دینے کی وجہ یہ تھی کہ صدیقِ اکبرؓ سب سے اول عرب کو قابو میں لانا چاہتے تھے اورجب تک فتنہ ارتداد کلی طور پر فرونہ ہوجائے اس وقت تک ہر قل و کسریٰ کی فوجوں سے لڑائی چھیڑنا مناسب نہ سمجھتے تھے،جس طرح دوسرے سرداران لشکر کے ساتھ دربار خلافت سے خط وکتابت جاری تھا، اسی طرح خالد بن ولیدؓ کی نقل وحرکت سے بھی صدیق اکبر ؓ باخبر تھے اوربرابر خالد بن ولید ؓ کے پاس مدینہ منورہ سے احکام پہنچتے رہتے تھے ۔
ہر قل نے اسلامی لشکر کے حدود شام میں موجود ہونے کی خبر سُن کر اول سرحدی قبائل اور سرحد ی رؤسا کو مقابلے کے لئے ابھارا،لیکن جب یہ چھوٹے چھوٹے رئیس اور عرب مستنصرہ کے قبائل اسلامی لشکر کے مقابلہ میں مغلوب ہوتے گئے،تو قیصر روم ہر قل نے ہامان نامی رومی لشکر عظیم کےساتھ آگے بڑھایا جب عیسائی اوراسلامی فوجوں کا مقابلہ ہوا توہامان کے لشکر کو شکست ہوئی اورمسلمانوں کے ہاتھ بہت سامالِ غنیمت آیا،اس شکست کا حال سن کر ہر قل خود سلطنت قسطنطنیہ سے روانہ ہوکر ملک شام میں آیا اورتمام فوجوں کو جمع کرکے لڑائی کا اہتمام اُس نے براہ راست اپنے ہاتھ میں لیا،خالد بن ولیدؓ کے خط سے یہ تمام کیفیت صدیق اکبرؓ کو معلوم ہوئی،جس کا ان کو پہلے سے اندازہ تھا، اتفاقا جس روز یہ خط مدینہ میں پہنچا ہے اسی روز عکرمہؓ بن ابی جہل اپنی مہم سے فارغ ہوکر مدینے میں پہنچے تھے ،ساتھ ہی ملک کے ہر حصہ سے لڑائی کے لئے آمادہ اورجہاد فی سبیل اللہ کے لئے تیار ہو ہو کر قبائل آنے شروع ہوگئے تھے، صدیق اکبرؓ رضی اللہ عنہ نے عکرمہؓ بن ابی جہل کو فوراً خالد بن ولیدؓ کی طرف روانہ کردیا اُن کے بعد عمرو بن العاصؓ کو ایک لشکر دے کر روانہ کیا کہ خالد بن ولیدؓ اوراُن کے ہمراہیوں کو ساتھ لئے ہوئے فلسطین کے راستے حملہ آور ہوں، اُن کے بعد آئے ہوئے قبائل کی ایک فوج مرتب کرکے یزید بن ابی سفیان کو سردار بنا کر روانہ کیا اورحکم دیا کہ تم دمشق کی طرف حملہ آور ہو،پھر ایک اور فوج ترتیب دے کر اُس کا سردار حضرت ابو عبیدہؓ بن الجراح کو بنایا اورحکم دیا کہ تم حمص کی جانب جاکر حملہ کرو، اسی عرصہ میں شرجیل ؓ بن حسنہ عراق کی طرف سے مدینہ منورہ میں تشریف لائے تھے،صدیق اکبرؓ نے ایک اور لشکر مرتب فرما کر اُس کا سردار شرجیلؓ بن حسنہ کو مقرر فرمادیا اورحکم دیا کہ تم اُردن کی جانب سے حملہ کرو،اس طرح صدیق اکبرؓ نے چار لشکر مرتب فرما کر چار مختلف راستوں سے ماہِ محرم ۱۳ ھ میں روانہ کئے کہ ملک شام پر حملہ آور ہوں۔
مکمل تحریر >>

خالد رضی اللہ عنہ کا خفیہ حج

خالد ؓ یمامہ میں مرتدین کی سرکوبی کر چکے تھے عراق ان کے ذریعے سے فتح ہو چکا تھا۔ ان کے ہاتھوں کسریٰ کے اقتدارکا دیوالیہ نکل چکاتھاا۔ فراض کی فتح سے سلطنت رومی میں پیش قدمی کرنے کا راستہ صاف ہو چکا تھا۔ یہ سب کچھ اللہ کی عنایت تھی ورنہ خالدؓ کی کیا حیثٰت تھی کہ وہ یہ عظیم الشان کارنامہ سرانجام دیتے اورایرانی سلطنت ان کے آگے سرنگوں ہونے پرمجبور ہو جاتی۔ جب وہ اللہ کے ان افضال و انعامات پر غور کرتے تو ان کا دل تشکر و امتنان کے جزبات سے معمور ہو جاتا۔ تشکر و امتنان کے یہی جزبات تھے کہ جنہوںنے جنگ فراض سے فارغ ہونے کے بعد انہیں بیت اللہ کا فریضہ ادا کرنے پر آمادہ کیا۔ جنگ کے بعد فراض کے دس روزہ قیام نے جذبات کی اس آگ کو اس حد تک بھڑکادیا کہ اب کوئی طاقت انہیں حج پر جانے سے باز رکھنے میں کامیاب نہ ہو سکی ۔ وہ جانتے تھے کہ ان کی غیر حاضری میں مسلمانوں کے لیے سخت خطرات پیدا کرنے کا موجب ہو سکتی ہے ان کی غیر حاضری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایرانی اس علاقے میں دوبارہ فتنہ و فساد کے شعلے بھڑکا سکتے ہیںَ پھر بھی حج بیت اللہ کے مقابلے میں انہوںنے ان تمام خطرات کو نظر انداز کر دیا۔
اگر دشمن کو خالدؓ کی غیر حاضری کا علم ہو جاتا تو وہ مسلمانوں پر غلبہ حاصل کرنے کا یہ زریں موقع کسی طرح ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ اس خطرے سے بچنے کے لیے صرف یہی طریقہ تھا کہ وہ اس طور پر حج کرتے کہ سوا خاص سرداروں کے اسلامی فوج کے کسی بھی فرد کو یہ معلوم نہ ہو سکتا کہ ان کا سپہ سالار لشکر سے غیر حاضر ہے۔ خالد ؓ کے لیے یہ ضروری بھی تھا کہ وہ حج کے لیے پہلے خلیفہ کی اجازت طلب کرتے لیکن اس صورت میں یہ خدشہ تھا کہ اگر خلیفہ کی طرف سے اجازت ل جاتی توسارے لشکر میں چرچا ہوجاتا کہ خالد ؓ حج کو جا رہے ہیں اور جونہی وہ روانہ ہوتے پیچھے سے ایرانی فوجیں مسلمانوں پر حملہ کر دیتیںَ اس صورت میں اس حج کا کیا فائدہ ہوتا جو مسلمان کی تباہی کا موجب بنتا اور اگر خلیفہ کی طرف سے اجازت نہ ملتی تو ان کے پا س اس آتش شوق کو سرد کرنے کا کوئی ذریعہ نہ ہوتا۔ جو حج بیت اللہ کے لیے ا ن کے دل میں بھڑ ک رہی تھی۔ اس لیے آپ نے یہی ناسب سمجھا کہ انتہائی خفیہ طور پر حج کیا جائے کہ نہ حضرت ابوبکر ؓ کو اس کا پتہ چلے اورنہ ہی اس کے لشکر کے کسی فرد کو۔ انہیں یقین تھاا کہ اگر حضرت ابوبکرؓ نے ان کے اس فعل کی باز پرس کی تو وہ عذر معذرت کر کے انہیں راضی کر لیں گے۔ دوسری طرف اللہ بھی انہیں اس حج کے ثواب سے محروم نہ کرے گا۔
انہوںنے لشکر کو تو حیرہ کی جانب کوچ کرنے کا حکم دیا اور اپنے متعلق یہ ظاہر کر کے کہ وہ ساقہ کے ساتھ ساتھ آ رہے ہیں خفیہ طورپر حج کے لیے مکہ معظمہ روانہ ہو گئے۔ ان کے ساتھ چند اور لوگ بھی تھے ۔ وہ شہروں اوربستیوں سے دور سیدھے مکہ کی سمت روانہ ہوئے۔ یہ راستہ بہت عجیب و غریب اور سخت دشوار گزار تھا۔ کوئی رہبر نہ تھا لیکن جوانی کے ایام میں چونکہ تجارت کے لیے ملک درلک پھرنا پڑتا تھا اور سپہ سالار کی حیثیت سے پورا صحرا چھان مارا تھا اس لیے وہ اس علاقے کی تمام وادیوں ٹیلوں راستوں میدانوں غرض چپے چپے سے واقف تھے اور انہیں راستے میں کوئی دقت پیش نہ آئی۔ حج سے پہلے ہی وہ مکہ معظمہ پہنچ گئے۔ اور حج کے فرائض پوری طرح ادا کرکے واپس آگئے۔ لیکن تعجب کی بات ہے کہ قیام مکہ کے دوران میں کسی شخص کو ان کی وہاں پر موجودگی کا پتا نہ چلاا۔ حتیٰ کہ حضرت اابوبکرؓ کو بھی پتا نہ چلا جو بعض روایات کے مطابق اس سال حج پر موجود تھے۔
واپسی پر بھی انہوںنے وہی دہشت ناک راستہ اور دشوار گزار راستہ اختیار کیا۔ جو حج کے لیے جاتے ہوئے اختیار کیا تھا۔ ابھی لشکر کا آخری حصہ حیرہ پہنچا بھی نہ تھا کہ وہ ساقہ سے آملے اور اس کے ہمراہ شہر میں داخل ہوئے۔ اس طرح ان کے لشکر کے کسی بھی فرد اور عراق کے کسی بھی شخص کو یہ علم نہ ہو سکا کہ وہ اس نازک وقت میں لشکر سے غیر حاضر تھے اور حج ے لیے مکہ چلے گئے تھے۔
حیرہ میں قیام کے بقیہ دن انہوںنے بڑے اطمینان سے گزارے۔ ایک طرف یہ خوشی تھیکہ اللہ نے اپنے فضل و کرم سے انہیں حج بیت اللہ کی توفیق مرحمت فرما دی تھی اور دوسری طرف یہ اطمینان تھا کہ عراق میں ان کی فتوحات پایہ تکمیل کو پہنچ رہی تھی۔ اب ان کا خیال سلطنت ایران کے دارالحکومت مدائن کی طرف کوچ کرنے کا تھا۔ لیکن اللہ کو یہ منظوتھا کہ جنگ کے فراض میں کامیابی حاصل کر کے خالدؓ نے جس سلسلے کا آغا ز کیا تھا اسے پایہ تکمیل تک پہنچائیں اور رومی سلطنت میں بھیاسی طرح فتوحات کریں جس طرح ایرانی سلطنت میں کر چکے تھے۔ ۱؎
بعض تاریخوں میں مذکورہے کہ جس سال خالدؓ حج پر روانہ ہوئے اس سال امیر الحجاج حضرت عمرؓ تھے اور حضرت ابوبکرب نے اپنے ایام خلافت میں کبھی حج نہیں کیا۔ لیکن مورخین ا س روایت کو ترجیح دیتے ہیں کہ جس میں کہا گیا ہے کہ اس سال حج کے موقع پر حضرت ابوبکرؓ خود مکہ میں موجود تھے ۔ بہرحال دونوں روایتوںمیں سے خواہ کوئی روایت بھی صحیح ہواس میں شبہ نہی کہ حضرت ابوبکرؓ کو اپنے سپہ سالار کے حج پر جانے کا اس وقت تک علم نہ ہوا جب تک وہ حیرہ واپس نہ آ گئے۔
مکمل تحریر >>

جنگِ فراض

خالدؓ کے ان اچانک حملوں ااور قبائل کے ان کے مقابلے سے عاجز رہنے کی خبریں عراق بھر میں پھیل چکی تھیں اور صحرا میں رہنے والے تمام قبائل سخت خوف زدہ ہو چکے تھے۔ انہوںنے مسلمانوں کے آگے ہتھیار ڈالنے اور ان کی اطاعت قبول کرنے ہی میں اپنی عافیت سمجھی۔ خالدؓ نے اپنی فوجوں کے ہمراہ دریائے فرات کے ساتھ ساتھ شمالی علاقوں کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔ وہ جہاں بھی پہنچتے وہاں کے باشندے ان سے مصالحت کر لیتے اور ان کی اطاعت کرنے کا اقرار کرتے۔ آخر وہ فراض پہنچ گئے جہاں شام عراق اورالجزیرہ کی سرحدیں ملتی تھیں۔
فراض عراق اور شام کے انتہائی شمال میں واقع ہے۔ اگر عیاض بن غنم کی قسمت یاوری کرتی تو وہ ابتدا ہی سے دومتہ الجندل فتح کر لیتے تو غالباًخالدؓ یہاں تک نہ پہنچتے کیونکہ حضرت ابوبکرؓ کا منشاء سارے عراق اور شام کو فتح کرنے کا نہ تھاا۔ وہ صرف یہ چاہتے تھے کہ ان دونوں ملکوں کی سرحدوں پر جو عرب سے ملتی ہیں امن و امان قائم ہو جائے اور ان اطراف سے ایرانی اور رومی عرب پر حملہ آور نہ ہو سکیں۔ لیکن اللہ کو یہی منطور تھا کہ یہ دووں مملکتیں کاملاً مسلمانوں کے قبضے میں آجائیں۔ اس لیے اس نے ایسے اسباب پید ا کر دیے کہ خالدؓ عراقی قباء کو مطیع کرنے کی غرض سے انتہائی شمال میں چلے گئے اور اس طرح مسلمانوں کے لیے بالائی جانب سے شام پر حملہ کرنے کا راستہ کھل گیا۔ ایرانی سرحدات سے رومیوں پر حملہ کرنے کا راستہ کھل گیا۔ ایرانی سرحدات سے رومیوں پر حملہ کا راستہ کھل جانا ای ایسا معجزہ تھا جس کا خیال حضرت ابوبکرؓ کو بھی نہ آ سکا اور یہ کارنامہ ایک ایسے شخص کے ہاتھو ں رونما ہوا تھا جس کی نظیر پیدا کرنے سے عرب اور عجم کی عورتیں واقعی عاجز تھیں۔
فراض میں خالدؓ کو کام ایک مہینے تک قیا م کرنا پڑا۔ یہاں بھی انہوں نے ایسی جرات اور عزم و استقلا ل کا مظاہرہ کیا کہ وہ اپنی نظیر آپ ہے۔ وہ چاروں طرف سے دشمنوں میں گھرے ہوئے تھے۔ مشرقی جانب ایرانی تھے اور جو ان کے خون کے پیاسے ہو رہے تھے مغربی جانب رومی تھے جن کا یہ خیال تھا یکہ اگر اس وقت خالدؓ اور اس کی معمات کو تباہ و برباد نہ کیا گیا تو پھر یہ سلات روکے نہ رکے گا۔ رومیوں اور مسلمانوں کے درمیان صرف دریئاے فرات حائل تھا ۔ ان کے علاوہ چاروں طرف بدوی قبائل آباد تھے۔ جن کے بڑے بڑے سرداروں کو قتل کر کے خالدؓ نے ان کے دلوں میں انتقام کی ایک نہ ختم ہونے والی آگ بھڑکا دی تھی۔ اس نازک صورت حال سے خالد لاعلم نہ تھے۔ اگر وہ چاہتے تو حیرہ واپس آ کراپنی قوت و طاقت میں اضافہ کرتے ہوئے پھر رومیوں کے مقابلے کے لیے روانہ ہو سکتے تھے۔ انہوں نے ایساا نہ کیا کیونکہ دشمن کو سامنے دیکھ کر خالدؓ کے لیے صبر کرنا ناممکن ہو جاتا تھا۔ ان کی نظروں میں کیا ایرانی اور کیا اہ بادیہ سب حقیرتھے۔ ان کی عظیم الشان فوجوں کو نہ وہ پہلے کبھی خاطر میں لائے تھے اور نہ آئندہ خاطر میں لانے کو تیار تھے۔ اس لیے وہ بڑ ے اطمینان سے لڑائی کی تیاریوں میں مشغول تھے۔
ادھر رومیوں کو بھی خالدؓ سے واسطہ نہ پڑا تھا۔ اور وہ ان کے حملے کی شدت سے ناواقف تھے۔ جب اسلامی فوجیں فراض میں اکٹھی ہوئیں تو اور برابر ایک مہینے تک ان کے سامنے ڈیرے ڈلے رہیں تو انہیں بہت جوش آیا اور انہوںنے اپنے قریب کی ایرانی چوکیوں سے مدد مانگی۔ ایرانیوںنے بڑی خوشی سے رومیوں کی مدد کی کیونکہ مسلمانوں نے انہیں ذلیل و رسوا کر دیا تھا اوران کی شان و شوکت کو تباہ کر دیا تھال۔ اوران کا غرور خاک میں ملا دیا تھا ۔ ایرانیوں کے علاوہ تغلب ایاد اورنمر یک عربی النسل قبائل بھ رویوں کی پوری پوری مدد کی کیونکہ وہ اپنے رئوسا اور سر برآوردہ اشخاص کے قتل کو نہ بھولے تھے ۔ چنانچہ رومیوں‘ ایرانیوں اور عربی النسل قبائل کا ایک لشکر جرارمسلمانوں سے لڑنے کے لیے روانہ ہوا۔ دریائے فرات پر پہنچ کر انہوں نے مسلمانوں کو کہلا بھیجا کہ:
’’تم دریا کو عبور کر کے ہمارے پاس آئو گے یا ہم دریا کو عبور کر کے تمہاری طرف آئیں؟‘‘
خالد نے جواب دیا:
’’تم ہماری طرف آ جائو‘‘۔
چنانچہ دشمن کا لشکر دریا عبو ر کر کے دوسری جانب اترنا شروع ہوا۔ اس دوران میں خالدؓنے اپنے لشکر کی تنظیم اچھی طرح کر لی اور باقاعدہ صفیں قائم کر کے انہیں دشمن سے لڑنے کے لیے پوری طرح تیار کر دیا۔ جب لڑائی شرو ع ہونے کا وقت آیا تو رومی لشکر کے سپہ سالار نے فوج کو حکم دیا کہ تمام قبائل علیحدہ علیحدہ ہو جائیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ کس گروہ نے زیادہ شان دار کارنامہ انجام دیا ہے۔ چنانچہ ساری فوج علیحدہ علیحدہ ہو گئی لڑائی شروع ہوئی تو خالدؓ نے اپنے دستوں کو حکم دیا کہ وہ چاروں طرف سے دشمن کے لشکر کوگھیر لیں اور انہیں ایک جگہ جمع کر کے اس طرح پے در پے حملے کریں کہ سنبھلنے کا موقع ہی نہ مل سکے۔ چنانچہ ایساہی ہوا۔ اسلامی دستوں نے رومی لشکر کو گھیر کر ایک جگہ جمع کر لیا اور ان پر زو ر سے حملے شروع کر دیے۔ رومیوں اور ان کے حلیفوں کا خیال تھا کہ وہ قبائل کو علیحدہ علیحدہ سلمانوں کے مقابلے میں بھیج کر لڑائی کو زیادہ طول دے سکیں گے۔ اور جب مسلمان تھک کر چور ہو جائیں گے تو ان پر بھرپور حملہ کر کے انہیں مکمل طورپر شکست دے دیں گے لیکن ان کا خیال خام ثابت ہوا اوران کی تدبیر خود ان پر الٹ پڑی۔ جب مسلمانوں نے انہی ایک جگہ جمع کر کے ان پر حملے شروع کیے تو وہ ان کی تاب نہ لا سکے اوربہت جلد شکست کھا کر میداان جنگ سے فرار ہونے لگے۔ لیکن مسلمان انہیں کہاں چھوڑنے والے تھے۔ انہوںنے ان کا پیچھا کیا اور دور تک انہیں قتل کرتے چلے گئے۔
تمام مورخین اس امر پر متفق ہیں کہ اس معرکے میں عین میدان جنگ میں بعد ازاں تعاقب میں دشمن کے ایک لاکھ آدمی کام آئے۔
فتح کے بعد خالدؓ نے دس روز قیام فرمایا اور ۵ ۲ ذی قعد ۱۲ھ کو انہوںنے اپنی فوج کو واپس حیرہ کی جانب کوچ کرنے کا حکم دے دیا۔
مکمل تحریر >>

خالد رضی اللہ عنہ کی عراق واپسی

انسانی سرشت میں یہ بات داخل ہے کہ جب تک ایک قوی اور زبردست وجود ان کے درمیان رہتا ہے وہ بھیگی بلی بنے رہتے ہیں لیکن جونہی وہ شخص انہیں چھوڑ کر کہیں اور چلا جاتا ہے تو وہ میدان خالی پاکر من مانی کرنے پر تل جاتے ہیں۔ یہی حال خالدؓ کی غیر حاضری میں اہل حیرہ اور اہل عراق کا ہوا۔ ایرانیوں اور ان کے عرب مددگاروں نے سوچا کہ مسلمانوں کی اطاعت کا جوا سر سے اتار پھینکنے کا موقع اس سے بہتر اور کوئی ہاتھ نہ آئے گا …بنو تغلب نے یہ خیال کیا کہ عقہ کے قتل کا بدلہ لینے کا موقع اس سے اچھا اورکوئی نہیں۔ قعقاع اس موقع پرصرف یہ کر سکتے تھے کہ جن جن علاقوں پر مسلمان قابض ہو چکے ہیں انہیں ہاتھ سے نہ جانے دیں ار دشمن کو آگے بڑھنے سے روکیں۔ لیکن خالدؓ کی پالیسی کو لباس عمل پہنانے کی طاقت ان میں نہ تھی ہ دشمن کے حملوںسے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آگے بڑھ کر اس کے مقبوضات پر پے در پے حملے کیے جائیں اوراسے اپنے ہی علاقوں میں الجھائے رکھ کر اسلامی مقبوضات کی طرف پیش قدمی کرنے سے روکا جائے۔
ادھر جب خالدؓ کو ایرانیوں اور عربی النسل عیسائی قبائل کے ارادوں سے آگاہی ہوئی تو وہ ایک لمحے کے لیے بھی دومتہ الجندل میں نہ رہ سکے اور انہوںنے فوراً کوچ کی تیاری کر لی۔ مقدمے پر اقرع بن حابس کو متعین کیا اور عیاض بن غنم کو ساتھ لے کر حیرہ کی جانب روانہ ہو گئے حیرہ پہنچ کر اے عیاض کی سپردگی میں دیا اور قعقاع کو حصید کی طرف بھیجا ۔ جہاں عربوں اور ایرانیوں کا اجتماع ہو رہا تھا۔ خود قسم کھا ئی کہ بنو تغلب پر اس طرح اچانک حملہ کریںگے کہ انہیں کسی طرح بھی سنبھلنے کا موقع نہ مل سکے گا۔
جب اہل عراق کو معلو م ہوا کہ خالدؓان کی سرکوبی کے لیے ایک بار پھر عراق پہنچ چکے ہیںتو ان کی پریشانی کی کوئی حد نہ رہی اوراپنے علاقے کو مسلمانوں سے آزاد کرانے کے جو حسین خواب وہ دیکھ رہے تھے وہ سب آن کی آن میں ختم ہوگئے ۔ ان کا خیال تھا کہ دوسری اقوام کی طرح مسلمان بھی سرزمین عراق کو تاخت و تاراج کر کے چلے جائیں گے اور وہ بعد میں اپنے علاقوں پر قابض ہو سکیں گے۔ لیکن ان کے یہ خیالات پادر ہوا ثابت ہوئے

جنگ حصید‘ خنافس اور مضیح
خالدؓ اس حکم کے مطابق قعقاع حصید کی جانب روانہ ہو گئے۔ ایرانی لشکر ان کے مقابلے می نہ ٹھہر سکا ا س کا سپہ سالار مارا گیا اور لشکر کنے میدان جنگ سے فرار ہونے میںہی اپنی عافیت سمجھ۔ ہزیمت خوردہ لشکر کا خیال تھا کہ وہ شہر خنافس میں پناہ ے سکے گا جہاں پہلے ہی سے ایک ایرانی لشکر موجو د تھا لیکن اسے اس می بھی ناکامی ہوئی کیونکہ خنافس میں مقیم ایرانی لشکرکا سپہ سالار مسلمانوں کی آمد کی خبر سن کر پہلے ہی وہاں سے فرار ہو کر مضیح پہنچ چکا تھا۔ جہاں کا حاکم ہذیل بن عمراان تھا۔
اس طرح مسلمان لڑے بغیر خنافس پر قابض ہو گئے اور اب کوئی ایسا فرد ہ تھا جو ایرانی لشکر کو مسلمانوں کے مقابلے کے لیے تیار کر کے میدان جنگ میں لاتا۔
اب خالدؓ نے اپنے سرداروں کو مضیح کی جانب کوچ کرنے کا حکم دیا اور خود بھی ادھر کا رخ کیا۔ یہ پہلے ہی طے کر لیا گیا تھا کہ تمام قائدین کو کس رات اور کس وقت مضیح پہنچنا ہے ل چنانچہ مقررہ وقت پر تمام قائدین منزل مقصود پر پہنچ گئے اور آتے ہی تین اطراف سے ہذیل اور اس کی فوج پر جو بے خبر پڑی سو رہی تھی بھرپور حملہ کیا۔دشمن کو شکست ہوئی لیکن ہذیل مع اپنے چند ساتھیوں کے بھاگ جانے میں کامیاب ہو گیا۔
اس جنگ کے دوران میں دو ایسے مسلمان اسلامی فوج کے ہاتھوں مارے گئے جو مضیح میں موجو د تھے اور جن کے پاس ابوبکرؓ کا عطا کیا ہو ا ایک صداقت نامہ بھی موجود تھا ۔ جب حضرت ابوبکرؓ کو ان کے مارے جانے کی اطلاع ملی تو آپ نے دونوں کا خوں بہا ادا کر دیا۔
جنگ مضیح سے فارغ ہونے کے بعد خالدؓ نے اپنی قسم پوری کرنے کا ارادہ فرمایا۔ انہوں نے اپنے دو سرداروں قعقاع اور ابو لیلیٰ کو بنی تغلب کی بستیوں کی جانب روانہ فرمایا اور خود بھی ان کے پیچھے پیچھے روانہ ہو گئے اس حملے کا پروگرام بھی ویسا ہی بنایا گیا تھا جیسا جنگ ضیح کے وقت پر ترتیب دیا گیا تھا۔ خالدؓ نے اپنے ساتھیوں سے مل کر رات کے وقت تین اطراف سے دشمنوں پر زور و شور سے حملہ کر دی۔ا اس حملے میں بنی تغلب کو بری شکست ہوئی ۔ فتح کے بعد خالدؓ نے نعمان بن عوف شیبانی کے ہاتھ میں حضرت ابوبکرؓ کی خدمت میں خمس روانہ کیا ۔
مکمل تحریر >>

فتح دومتہ الجندل

دومتہ الجندل کی فوج دو بڑے حصوں میں منقسم تھی۔ ایک حصے کا سردار اکید بن عبدالملک کندی تھا اور دوسرے کا جودی بن ربیعہ۔ اکید ردومتہ الجندل کا حاکم تھا اور اس نے مدینہ کی حکومت کے خلاف بغاوت کر دی تھی۔ اس کی سرکوبی کے لیے حضرت ابوبکرؓ نے عیاض کو روانہ کیا تھا۔ ان تمام قبائل میں جو اس جگہ جمع تھے اکیدر سے زیادہ خالدؓ سے اور کوئی واقف نہ تھا۔ وہ غزوہ تبوک کو نہ بھولا تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے وفاداری کا عہد لے کر مدینہ واپس تشریف لے آئے تھے اور سے وہ وقت بھی خو ب یاد تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام کے مطابق خالدؓ پانچ سو سواروں کے ہمراہ دومتہ الجندل پہنچے تھے اور اسے قید کر کے دھمکی دی تھی کہ اگر دومتہ الجندل کے دروازے مسلمانوں کے لیے نہ کھولے گئے تو اسے جان سے ہاتھ دھونے پریں گے۔ اسے یہ بھی معلو م تھا کہ مجبور ہو کر اس نے دومتہ الجندل کے دروازے کھولنے ہی پڑے تھے اور خالدؓ کو دو ہزار اونٹ آٹھ سو بکریاں چار سو وسق گیہوں اور چار سو درہم دے کر صلح کرنی پڑی تھی۔ صرف اسی پر بس نہیں بلکہ اسے خالدؓ کے ہمراہ مدینہ آنا وہاں اسلام قبول کرنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دوستی کا معاہدہ کرنا پڑا۔ یہ تمام باتیں اکیدر کے دل میں میخ کی طرح گڑی ہوئی تھیں۔ اسی لیے جب اس نے خالدؓ کے دومتہ الجندل پہنچنے کی خبر سنی تو وہ جودی بن ربیعہ سے ملا جو دومتہ الجندل کے لیے عراق سے آنے والے بدوی قبائل کا سردار تھا اور کہنے لگا:
’’میں تمہاری نسبت خالدؓ سے بہت زیادہ واقف ہوں۔ آج دنیا میں کوئی شخص خالد سے بڑھ کر اقبال مند اور فنون جنگ کا ماہر نہیں۔ جو قوم خالدؓ سے مقابلہ کرتی ہے خواہ تعداد میں کم ہو یا زیادہ ہر حال میں شکست کھاجاتی ہے۔ اس لیے تم میری بات مانو اور مسلمانوں سے صلح کر لو‘‘۔
لیکن ان قبائل ے جن کے دلوں میں انتقام کی آگ بھرک رہی تھی۔ اکید ر کا مشورہ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس پر اکیدر یہ کہ کر ان سے علیحد ہ ہو گیا کہ تم جانو تمہارا کام میں تو تمہارے ساتھ مل کر خالد سے جنگ کرنے کے لیی تیار نہیں ہوں۔
وہ اپنے حلیفوں سے جد اہو کر خالدؓ کو ملنے کے ارادے سے ان کے کیمپ میں داخل ہوا ۔ یہاں پہنچ کر روایات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے قید کر کے مدینہ بھیج دیا گیا حضرت عمرؓ کے عہد میں اسے رہائی ملی اور وہ مدینہ سے عراق چلا گیا۔ وہاں عین التمر کے قریب افک مقام دو متہ ہی میں اقامت پذیر ہو گیا اورآخر وقت تک وہیں رہا۔
خالدؓ نے آگے بڑھ کر دومتہ الجندل پہنچے۔ وہاں کی فوج مختلف قبائل میں بٹی ہوء تھی ہر قبیلہ اپنے سردار کے ماتحت تھا اوریہ تمام سردار جودی بن ربیعہ کے زیر سرکردگی تھے خالدؓ نے دومتہ الجندل کو اپنی اور عیاض بن غنم کی فوج کے گھیرے میں لے لیا۔ جو عربی النسل عیسائی دومتہ الجندل والوں کی امداد کے لیے پہنچے تھے وہ قلعے کے چاروں طرف جمع تھے کیونکہ قلعے میں ان کے لیے گنجائش نہ تھی۔
لڑائی شروع ہوئی تو جودی بن ربیعہ و ودیعہ خالدؓ کے بالمقابل اور ابن حد رجان او ر ابن الایم عیاض بن غنم کے مقابل صف آرا ہوئے خالدؓ نے جودی کو اور اقرع بن حابس نے ودیعہ کو گرفتار کر لا۔ باقی لوگ قلعے کی طر ف بھاگے اوردروازہ بند کرلیا حضرت خالدؓ نے قلعہ کا محاصرہ کرکے اہل قلعہ کے روبرو جودی کو قتل کرڈالا اورقلعہ پر دھاوا کرکے بزور شمشیر قلعہ پر قبضہ کرلیا جو مقابل ہوا اس کو قتل کردیا جس نے امان طلب کی اُس کو امان دے دی گئی۔
مکمل تحریر >>

دومتہ الجندل

اوپر ذکر ہوچکا ہے کہ حکم صدیقی کے مطابق عیاض بن غنمؓ نے بالائی عراق پر حملہ کیا تھا،حضرت خالد بن ولیدؓ کو تو بہت جلد قبائل ورؤسا سے گزر کر ایرانی سرداروں اورایرانی فوجوں سے مقابلہ پیش آگیا تھا،اگر چہ عرب سردار اور عیسائی قبائل بھی برسر مقابلہ تھے ؛لیکن وہ ایرانیوں سے جدا نہ تھے،حضرت عیاض بن غنمؓ جو بالائی عراق پر حملہ آور ہوئے تھے، اُن کو ابھی تک عیسائی خود مختار رؤسا سے فرصت نہیں ملی تھی وہ جس علاقے میں مصروف پیکار تھے وہ علاقہ عراق جزیرہ،ایران،شام کا مقام اتصال تھا،اوراسی لئے ان کی معرکہ آرائیوں کا اثر جس قدر دربارِ ایران پر پڑ سکتا تھا،اُسی قدر دربارِ ہر قل پر بھی پڑرہاتھا جس زمانے میں حضرت خالد بن ولید نے عین التمر کو فتح کیا اُس وقت حضرت عیاض بن غنمؓ عرب کے مشرک ونصرانی قبائل کو زیرکرتے ہوئے دومۃ الجندل کے حکمرانوں سے برسر مقابلہ تھے،علاقہ دومۃ الجندل میں دو رئیس تھے،ایک اکیدر بن عبدالملک (جس کا ذکر اوپر حیات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات میں آچکا ہے) دوسرا جودی بن ربیعہ،یہ دونوں رئیس متفق ومتحد ہوکر عیاض بن غنمؓ کے مقابلہ میں صف آرا تھے اور انہوں نے ارد گرد کے تمام نصرانی قبائل کو اپنے ساتھ مسلمانوں کے مقابلہ میں شریک و متحد کرلیا تھا،
جب ابوبکرؓ ولید سے عراق کے متعلق تما م رپورٹیں حاصل کر چکے تو انہیں عیاض کی مدد کے لیے دومتہ الجندل جانے کا حکم دیا ۔ جب ولید وہاں پہہنچے تو دیکھا کہ عیاض بن غنم دومتہ الجندل کا محاصرہ کیے ہوئے ہیں۔ اورجواباً دومتہ الجندل والوں نے عیاض کا محاصرہ کر کے ان کا راستہ مسدود کر رکھا ہے۔ عیاض سے بات چیت کرنے اورتمام حالات کا جائزہ لینے کے بعد ولیدنے محسوس کیا کہ عیاض اپنی فوج کی مدد سے نہ دومتہ الجندل والوں کو شکست دے سکتے ہیں اورنہ ا ن کے چنگل سے نکل سکتے ہیں۔ ولید نے ان سے کہا کہ حالات میں عقل کی ایک بات زبردست لشکر سے مفید ثابت ہوتی ہے۔ اگر تم میری مانوتو خالدؓ کے پاس قاصد بھیج کر ان سے اعانت چاہو۔
عیاض کے لیے ولید کی بات ماننے کے سواکوئی چارہ نہ تھا کیونکہ انہیں دومتہ الجندل پہنچے ہوئے سال بھر ہو چکا تھا اور ابھی تک فتح کی کوئی شکل نظر نہ آتی تھی۔ انہوں نے اپنے قاصد کو خالدؓ کے پاس روانہ کیا اور قاصد ان کے پاس اس وقت پہنچا جب وہ عین التمر کی فتح سے فارغ ہو چکے تھے۔ خالدؓ نے خط پڑھا۔ اس کے لفظ لفظ سے گھبراہٹ اور پریشانی عیاں تھی۔ انہوں نے عیاض کے نام ایک مختصر خط د ے کر قاصد کوفوراً واپس کر دیا تاکہ عیاض کی پریشانی کچھ کم ہو جائے خط میں لکھا تھا:
’’خالد بن ولیدؓ کی طرف سے عیاض کے نام۔ میں بہت جلدتمہارے پاس آتا ہوں۔ تمہارے پاس اونٹیناں آنے والی ہیں جن پرکالے زہریلے ناگ سوار ہیںَ فوج کے دستے ہیں جن کے پیچھے اور دستے ہیں‘‘َ
عیاض کے نام خالدؓ کے اس خط سے معلوم ہوتا ہے کہ حیرہ میں بے کار پڑے رہنے کی وجہ سے حضرت خالدؓ کو کس قدر گھبراہٹ لاحق تھی اور انبار و عین التمر کی جنگیں اور فتوحات بھی ان کی آتش شوق کو سرد نہ کر سکی تھیں۔ اسی وجہ سے عیاض کا بلاوا پہنچتے ہی وہ دومتہ الجندل جانے کے لیے فوراً تیار ہو گئے۔
خالدؓ نے عویم بن کاہل اسلمی کو عین التمر میں اپنا نائب مقرر کیا اور خود فوج لے کر دومتہ الجندل روانہ ہوئے۔ دومتہ الجدل اورعین التمر کے درمیان تین سو میل کا فاصلہ ے۔ یہ مسافت خالدؓ نے دس روز سے بھی کم عرصے میں طے کر لی۔ شمال سے جنوب کی طرف جاتے ہوئے درمیان میں شامل اورنفوذ کے خوف ناک اور لق و دق صحرا پڑتے تھے جن میں سے گزرتے ہوئے سینکڑوں خطرات کا سامنا تھا۔ لیکن خالدؓ تمام خطرات کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے ہی بڑھتے چلے گئے۔ جب وہ دومتہ الجندل کے قریب پہنچے تو اہل شہر کو ان کی آمد کی اطلاع ہوئی تو وہ حیران و ششدر رہ گئے اور ان کے سردار سر جوڑ کر بیٹھ گئے اورآئندہ اقدامات کے متعلق غورکرنا شروع کردیا۔
دومتہ الجندل میں اس وقت جو قبائل ڈیرے ڈالے پڑے تھے ان کی تعداد اس وقت سے کئی گنا زیادہ تھی جب ایک سال قبل عیاض بن غنم ان کی سرکوبی کے لیے پہنچے تھے وجہ یہ تھی کہ بنوکلب بہرا ء اور غسان کے قبائل اپنے ساتھ کئی اور قبائل کو ملا کر عراق سے دومتہ الجندل چلے آئے تھے اور خالدؓ کے ہاتھوں اپنی عبرتناک شکستوں کا بدلہ عیاض سے لینا چاہتے تھے۔ ان قبائل کی روزافزوں آمد کے باعث عیاض کے لیے انتہائی صبر آزما حالات پیدا ہو گئے تھے اور ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ ان کے مقابلے کے لیے کیا تدابیر اختیار کریں۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیا بات تھی کہ مسلمانوں نے دومتہ الجندل پر تو اتنی مبذول کی اور اسے ہر قیمت پر فتح کرلینا چاہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہدمیں دوبار اس پر چڑھائی ہوئی اور آخر اکیدر سے دوستی کا معاہدہ کر کے اسے اسلامی عمل داری میں شامل کر لیا گیا حضرت ابوبکرؓ کے عہد میں مسلمان سال بھر تک اس کا محاصرہ کیے پڑے رہے اور اس وقت تک دم نہ لیا جب تک اسے کاملاً مطیع کرکے اپنی حکومت میں دوبارہ اسے شامل نہ کر لیا۔
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ دومتہ الجندل کی جغرافیائی حالت ایسی تھی کہ اس پر قبضہ کرنا ہر حالت میں ناگریر تھا ۔ دومتہ الجندل اس راستے کے سرے پر واقع ہے جہاں اسے ایک طرف حیرہ اورعراق کو راستہ جاتا ہے اور دوسری طرف شام کو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی کوشش یہ تھی کہ شام اور جزیرہ عرب کی سرحدوں پر امن رہے اور رومی فوجیں مسلمانوں کی غفلت سے فائدہ اٹھا کر سرزمین عرب میں نہ گھس آئیں اسی لیے آ پ نے دومتہ الجندل کو اپنے زیر نگیں لانے کے لیے ہر ممکن کوشش فرمائی۔ یہی حال حضرت ابوبکرؓ کا تھا۔ ان کے زمانے میں اسلامی فوجیں ایک طرف عراق میں ایرانی فوجوں سے نبرد آزما تھیں تو دوسری طرف شام کی سرحدپر رومیوں سے مصروف پیکار تھیں۔ اور ضروری تھا کہ یہ اہم مقام مسلمانوں کے قبضے میں رہے۔ یہی وجہ تھی کہ عیاض بن غنم ایک سال تک اس کا محاصرہ کیے پڑے رہے اور سخت مشکلات کے باوجود وہاں سے ہٹنے کا نام نہ لیا۔ جب خالدؓ کو دومتہ الجندل پہنچنے کے لیے کہا گیا تو وہ بھی بلا توقف اس کی جانب روانہ ہو گئے اگر خدانخواستہ دومتہ الجندل مسلمانوں کے قبضے میں نہ آتا تو نہ صرف عراق میں ان کی فتوحات کا کوئی بھروسا نہ ہوتا بلکہ شام کی فتح بھی ناممکن ہو جاتی۔
مکمل تحریر >>

فتح عین التمر

جب خالدؓکو انبار اور اس کے نواحی علاقے کی طرف سے اطمینان ہو گیاتو زبرقان بن بدر کو اپنانائب بنا کر انبار میں چھوڑا اور خود عین التمر کا قصد کیا جو عراق اور صحرائے شام کے دریان صحرا کے کنارے واقع ہے۔ انبار سے عین التمر تک پہنچنے میں تین دن لگے۔ ایرانیوں کی طرف سے وہاں کا حاکم مہران بن بہرام چوبین تھا۔ اس نے شہر کی حفاظت کے لیے ایرانیوں کی ایک بھاری فوج جمع کر رکھی تھی۔ ایرانی فوجوں کے علاوہ بنی تغلب اور نمر اورایاد کے بدوی قبائل بھی عقبہ بن ابی عقبہ اور ہذیل کے زیر سرکردگی بھاری تعداد میں مہران کے پاس جمع تھے ۔
عقبہ بن عقبہ نے خالد بن ولیدؓ کے قریب پہنچنے کی خبر سُن کر مہران بن بہرام ایرانی سپہ سالار سے کہا کہ عربوں کی لڑائی کو عرب ہی خوب جانتے ہیں،لہذا آپ اول ہم کو اسلامی لشکر کا مقابلہ کرنے دیجئے،مہران نے اس بات کو بخوشی منظور کرلیا ،عقبہ فوج لے کر آگے بڑھا اور خالدؓ کے راستے میں حائل ہو گیا۔ لڑائی شروع ہوئی تو بڑی پھرتی سے کمند پھینک کر عقبہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ اپنے سردار کا یہ حشر دیکھ کر بدوئوں کے چھکے چھوٹ گئے اور انہوں نے بے تحاشا بھاگنا شروع کر دی۔مسلمانو ں نے ان کا پیچھا کیا اور سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کر لیا۔ االبتہ ہذیل اور بعض دوسرے سرداران لشکر بچ کر نکل گئے۔
مہران بڑے اطمینان سے قلعے میں فروکش تھا اور اسے یقین تھا کہ بدو ضرور مسلمانوں کا حملہ روک لیں گے لیکن جب اس نے یہ ماجرا دیکھاتوبہت سٹپٹایا اور فوج لے کر قلعہ سے بھاگ گیا۔ قلعے میں جو فوج رہ گئی تھی وہ پہلے اس کی حفاظت کے لیے متعین تھی یا وہ بدوجو عقبہ کے لشکر میں شامل تھے اور شکست کھا کے قلعے میں پناہ گزیں ہو گئے تھے۔
خالدؓ نے آگے بڑھ کر قلعے کا محاصرہ کر لیا۔ کچھ رو ز تو قلعے والے دروازے بند کیے محاصرے کامقابلہ کرتے رہے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ ان میں خالدؓ کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے تو انہوں نے اس شرط پر دروازے کھولنے کی پیش کش کی کہ ان کی جان بخشی کر دی جائے لیکن خالدؓ نے غیر مشروط طورپر ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر دیا۔ آخر انہیں یہ مطالبہ ماننا ہی پڑا اور قلعے کے دروازے کھول دیے گئے۔ خالدؓ نے سب لوگوںکو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔
حضرت خالدبن ولید نے انبار اور عین التمر کی فتح کے بعد ولید بن عقبہ کو خمس دے کر فتح کی خوش خبری کے ساتھ حضرت ابوبکرؓ کی خدمت میں بھیجا ۔ انہوں نے مدینہ پہنچ کر تمام حالات سے آگاہ کیا اور بتایاکہ خالدؓ نے ان کے احکام نظر انداز کرتے ہوئے حیرہ اس لیے چھوڑا اورانبار و عین التمر پر اس لیے چڑھائی کی کہ انہیں حیرہ میں قیام کیے ہوئے پورا ایک سال ہو گیا تھا اور عیاض کا کچھ پتا نہ تھا اور وہ کب دومتہ الجندل سے فارغ ہو کر خالدؓ کی مدد کے لیے حیرہ پہنچتے ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ بھی عیاض کی سست روی سے تنگ آ چکے تھے اور ان کا خیا ل تھا کہ وہ مسلمانوں کے حوصلے پست کر رہے ہیں۔ اگر دشمن کو خالدؓ کے ان کارنامو ں کی اطلاعات ن ملتیں رہتیں جو انہوں نے عراق میں انجام دیے تو یقیناوہ عیاض کی کمزوری سے فائد ہ اٹھا کر مسلمانوں کو سخت زک پہنچاتے۔
مکمل تحریر >>

فتح انبار

اس زمانے میں جب مسلمان دجلہ کے اس پار فتوحات پر فتوحات حاصل کرنے میں مصروف رہے تھے اہل فارس کا اپنے اندرونی جھگڑوں میں پھنسے ہوئے تھے۔ اردشیر کی وفات سے ایرانی شہنشاہی کا شیرازہ منتشر ہو چکاتھا۔ تمام شہزادے جنہیں سلطنت کا وارث بننا تھا اپنے حریفوں کے ہاتھوں قتل کیے جا چکے تھے۔ اور ایرانیوں کی سمجھ میں نہ آ رہا تھا کہ کس شخص کے سر پربادشاہی کا تاج رکھیں یکے بعد دیگرے کئی لوگ تخت بادشاہی پر متمکن ہوئے۔
لیکن کسی کو بھی چند دن سے زیادہ بادشاہی کرنا نصیب نہ ہوئی اور اس طرح سلطنت کی کمزوری میں اضافہ ہوتا چلاگیا۔ ان حالات کی موجودگی میں ایرانیوں نے مناسب سمجھا کہ خالدؓ کے مفتوحہ علاقوں پر حملہ کر کے انہیں دوبارہ فتح کر نے کی نسبت بہتر یہ ہے کہ جو علاقہ اس وقت ا نکے پاس ہے اسے ایرانی فوج کے بل بوتے پر مسلمانوں کے قبضے میں آنے سے محفوظ رکھا جائے۔ چنانچہ انہوں نے دریائے دجلہ کی دوسری طرف حفاظتی انتظامات شروع کر دیے۔
خالدؓ ان فوجی انتظامات اور ایرانی فوج کو مطلق خاطر میں لانے والے نہ تھے اورنہ ایرانی اپنی پوری قوت و طاقت کے باوجود اسلامی افواج کے مقابلے میں ٹھہر ہی سکتے تھے لیکن جس چیز نے خالد کو آگے بڑھنے سے روک رکھاتھا وہ حضرت ابوبکرؓ کا یہ حکم تھاا کہ جب تک عیاض بن غنم دومتہ الجندل کی فتح سے فارغ ہو کر ان کے پاس نہ پہنچ جائیں اس وت تک خالدؓ حیرہ کو نہ چھوڑیں اورنہ مزید فتوحات کے لیے آگے بڑھیںَ۔ ادھر عیاض دومتہ الجندل میں پھنسے ہوئے تھے اور جب سے حضرت ابوبکرؓ نے انہیں وہاں بھیجا تھا انہیں کوئی کامیابی حاصل نہ ہوئی تھی ۔
ایرانی فوج حیرہ کے بالکل قریب انبار اوررین التمر میں خیمہ زن ہو چکی تھی اور مسلمانوں کے اس فوجی مستقر کو سخت خطرہ پیدا ہو چکا تھا۔ دریں حالات اگر خالدؓ خاموشی سے حیرہ میں بیٹھے رہتے اور باہر نکل کر ایرانی فوجوں کے خلاف کارروائی نہ کرتے تو اندیشہ تھا کہ مسلمان اس علاقے سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے جو انتہائی مشقت کے بعد ان کے ہاتھ آیا تھا چنانچہ انہوںنے فوج کو تیارہونے کا حکم دیا۔ قعقاع بن عمرو کو حیرہ کی حفاظت کے لیے پیچھے چھوڑا اور اقرعبن ھابس کو مقدمہ الجیش پر مقرر کیا وار انبار روانہ ہو گئے۔
انبار پہنچ کر انہوں نے شہر کا محاصر ہ کر لیا اور لشکر کو حکم دیا کہ قلعے کی حفاظت پر تعینات فوج تیر برسائیں لیکن مضبوط شہر پناہ اور گہری خندق کے باعث جو شہر کے اردگرد کھدی ہوئی تھی ایرانیوں کو اس تیر اندازی سے کوئی گزند نہ پہنچا اور مسلمانوں کا ابتدائی حملہ ناکام رہا۔
خالدؓ زیادہ دیر تک صبرنہ کر سکے۔ انہوں نے شہر پر حملہ کرنے کی کوئی راہ معلوم کرنے کے لیے خندق کے ساتھ ساتھ شہر کے گرد چکر لگایا اورایک جگہ دیکھا کہ وہاں خندق نسبتاً کم چوڑی تھی۔ انہوں نے حکم دیا کہ لشکر کے جو اونٹ بہت بیمار اور ناکارہ ہوں وہ ذبح کر کے اس جگہ پھینک دیے جائیں ۔ مسلمانوں نے اس حکم کی تعمیل کی اور اونٹ ذبح کر کے خندق کے تنگ حصے میں پھینکنے شروع کیے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی لاشوں سے وہ حصہ پٹ کر ایک پل سا بن گیا جس کے بعد خالد فوج کا ایک دستہ لے کر خندق کے پار ہو گئے اس دستے نے فصیل پھاند کر شہر کا دروازہ کھول دیاا ور اسلامی فوج شہر میں داخل ہوگئی ۔
یہ دیکھ کر ایرانی فوج کے سپہ سالار شیرزاد نے صلح کے لیے سلسلہ جنبانی شروع کی اور یہ پیش کش کی کہ اگرمیری جان بخش دی جائے تومیں سواروں کے ایک دستے کے ساتھ جس کے پاس کچھ سامان وغیرہ کچھ نہ ہو گا شہر سے نکل جائوں گا۔ خالدؓ نے یہ پیش کش قبول کر لی اور شیر زاد شہر سے نکل گیا۔ شہر میں مسلمان قابض ہو گئے اورانبار کے نواحی علاقے کے لوگوں نے خالدؓ سے مصالحت کر لی۔
مکمل تحریر >>

خالد رضی اللہ عنہ کا اہلِ حیرہ کے ساتھ معاھدہ

خالدؓ کوامید تھی کہ ہم قوم ہونے کی وجہ سے یہ عراقی عرب ضرور اسلام قبول کر لیں گے ۔ لیکن انہیں بے حد تعجب ہوا کہ جب انہوں نے بدستو ر عیسائی رہنے پر اصرار کیا۔ خالدؓ نے فرمایا:
’’مجھے تم سے اس جواب کی امید نہ تھی۔ کفرکا رستہ یقینا ہلاکت کی طرف جاتاہے۔ احمق ترین عرب وہ ہے جو عربی شاہراہ ترک کر کے عجمی راہ اختیار کرتاہے‘‘۔
لیکن خالدؓ کی باتوں کا ان سرداروں پر کوئی اثر نہ ہوا اورانہوں نے بدستور عیسائی رہنےپر اصرار کیا۔ اس ی وجہ غالباً یہ ہو گی کہ وہ مذہبی آزادی کے حق سے پوری طرح فائدہ اتھانا چاہتے ہوں گے اور اسلامی سپہ سالار کی طرف سے اسلام قبول کرنے کی دعوت کو اپنے حقوق میں ناجائز مدافعت تصورکرتے ہوں گے۔ دوسرا سبب یہ ہو سکتاہے کہ انہیں خیال ہو گا کہ نہ معلوم مسلمانوں کو عراق میں ثبات و استقلال میسر آتا ہے یا نہیں اور ان کی حکومت برقرار رہتی ہے یا نہیں ۔ اس لیے ان غیریقینی حالات میں مذہب کیوں تبدیل کریں۔
خالدؓ نے سرداران حیرہ سے اسی لاکھ نوے ہزار درہ سالانہ جزیے پر صلح کی تھی اس سلسلے میں باقائدہ صلح نامہ لکھا گیا:
’’بسم اللہ الرحمن الرحیم
یہ وہ عہد نامہ ہے جو خالدؓ بن ولید نے سرداران حیرہ عدہ بن عدی‘ عمرو بن عدی‘ عمرو بن المسیح‘ ایاس بن قبیصتہ الطائی اور حیری بن اکال سے کیا ہے۔ اہل حیرہ نے یہ عہد نامہ تسلیم کر لیا ہے اور اسے اپنے سرداروں کو اس کی تکمیل کے لیے مجاز گرداناہے۔ عہد نامے کے مطابق اہل حیرہ کو ایک لاکھ نوے ہزار درہم سالانہ جزیہ ادا کرنا ہو گا۔ یہ جزیہ ان کے پادریوں اور راہبوں سے بھی لیا جائے گا البتہ محتاجوں اپاہجوں اور تارک الدنیا راہبوں کو معاف ہو گا۔
اگریہ جزیہ باقاعدہ ادا کیا جاتا رہا تو اہل حیرہ کی حفاظت کی ساری ذمہ داری مسلمانو ں پر ہو گی اگر وہ حفاظت میں ناکام رہے تو جزیہ نہ لیاجائے گا اگرقول یا فعل کے ذریعے سے بدعہدی کی گئی تو یہ ذمہ داری ختم سمجھی جائے گی یہ معاہدہ ربیع الاول ۱۲ھ میں لکھا گیا‘‘۔

اہل حیرہ نے جزیے کے علاوہ خالدؓ کو کچھ تحفے بھی دیے جو انہوں نے حضرت ابوبکرؓ کی خدمت میں بھیج دیے۔ انہوں نے خالدؓ کوکہلا بھیجا کہ اگر یہ تحفے جزیے میں شامل ہیں تو خیر ورنہ انہیں جزیے کی رقم میں شامل کر کے باقی رقم اہل حیرہ کو واپس کر دو۔
جب حیرہ کی فتح کی تکمیل ہو چکی تو خالدؓ نے آٹھ نفل بہ طور شکرانہ پڑھے۔ اس کے بعد اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:
’’جنگ موتہ کے دن میرے ہاتھ میں نوتلواریں ٹوٹیں تھیں لیکن جس قدر سخت مقابلہ مجھے اہل فارس سے پیش آیا ہے اس سے پہلے کبھی نہیں آیا اور اہل فارس میں سے الیس والوں نے جس جواںمردی سے میرا مقابلہ کیا اس کی نظیر میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی‘‘۔
فتح کے بعد خالدؓ نے حیرہ کو مسلمانوں کافوجی مستقر اور مفتوحہ علاقے کا دارالحکومت بنایا۔ یہ پہلا اسلامی دارالحکومت تھا جو جزیرہ عرب کے باہر قائم کیا گیا تھا۔ پھر بھی یہاں کا نظم و نسق آپ نے مقامی سرداروں ہی کے ہاتھوں میں رہنے دیا۔ و ہ اپنی اس قدر حوصلہ افزائی سے بہت خوش ہوئے اور دل و جان سے ان کی اطاعت و فرماں برداری کا دم بھرنے اورحیرہ اور اس کے گرد و نواح میں سکون و اطمینان کی فضا پیدا کرنے میں ممد و معاون ثابت ہونے لگے۔ جب حیرہ ے قریبی باشندوں نے دیکھا کہ اہل حیرہ اسلامی عدل انصاف سے کاملاً بہرہ ورہو رہے ہیں ، انہیں اپنے مذہب پر قائم رہنے مذہبی رسوم ادا کرنے اور عبادات بجا لانے کی پوری آزادی حاصل ہے اور وہ اطمینان سے اپنے کاروبار میں مصروف ہیں اوردوسری طرف ایرانی حکومت ان کی طرف سے بالکل غافل ہے تو انہوں نے بھی خالدؓ سے مصالحت کرنے اور ان کی اطاعت قبول کرنے کا ارادہ کر لیا۔ انہوں نے دیکھا کہ مسلمانوں کی حکومت میں غریب کاشت کار بڑے اطمینان سے کھیتی باڑی میں مشغول ہیںَ مسلمان نہ صرف ان سے مطلق تعرض نہیں کرتے بلکہ ایرانی زمینداروں کے ہاتھوں انہیں جن مظالم اور سختیوں سے گزرناا پڑتا تھا ان کا وجود بھی باقی نہیں مسلمان ان کے حقوق کی پوری نگہداشت کرتے ہیں تو ان کے دل بے اختیار مسلمانوں کی طرف مائل ہو گئے۔
سب سے پہلے جس شخص نے خالدؓ کی جانب صلح کا ہاتھ بڑھایا وہ دیر ناطف کا پادری صلوبابن نسطونا تھا اس نے بانقیا اور بسما کے ان قصبات کی ساری اراضی کے لگان کی ذمہ داری قبول کرلی جو دریائے فرات کے کنارے واقع تھی۔ کسریٰ کے موتیوں کے علاوہ اس نے اپنی ذات ور خاندان کی طرفف سے دس ہزار دینار دینے کا وعدہ کیا۔ چنانچہ باقاعدہ یہ معاہدہ لکھا گیا۔
’’بسم اللہ الرحمن الرحیم
یہ معاہدہ خالد بن ولیدؓ کی جانب سے صلوبا نسطونا اور اس کی قم کے لیے لکھا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے مطابق تم سے دس ہزار ددرہم سالانہ جزیہ وصول کیا جائے گا۔ کسریٰ کے موتی اس کے علاوہ ہوں گے۔ یہ رقم مستطیع اور کمانے والے افراد کے ان کی آمدنی اور حیثیت کے مطابق سالانہ وصول کی جائے گی اس جزیے کے بدلے مسلمانوں کی طرف بانقیا اوربسما کی بستیوں کی حفاظت کی جائے گی۔ تمہیں اپنی قوم کانقیب مقرر کیا جاتاہے جسے تمہاری قوم قبول کرتی ہے۔ اس معاہدے پر میں اور میرے ساتھ کے سب مسلمان رضاامند ہیں اور اسے قبول کرتے ہیں اور اسی طرح تمہاری قوم بھی اس پر رضامند ہے اوراسے قبول کرتی ہے‘‘۔
صلوبا کے بعد عراق کے دوسرے زمینداروں نے بھی خالدؓ کی اطاعت قبول کر لی فلالیج سے ہرمزو جرد تک کے علاقے بیس لاکھ درہ پر مصالحت ہوئی۔ اس طرح وہ سارا علاقہ جوجنوب میں خلیج فارس سے شمال میں حیرہ تک اور مغرب میں جزیرہ عرب سے مشرق میں دریائے دجلہ تک پھیلاہواتھا خالدؓ کے زیر نگیں آ گیا۔ انہوں نے ان علاقوں میں امراء مقرر کے بھیجے جن کے سپرد امن و امان اور شہری نظام بحال کرنے کے علاوہ خراج کی وصولی کاکا بھی تھا۔ علاوہ بریں انہوں نے مختلف شہروں میں فوجی دستے بھی متعین کیے تاکہ اگر کوئی بغاوت پھوٹ پڑے یا کسی جانب سے حملے کا خطرہ ہو تو اس کا تدارک کیاجا سکے۔ ان دستوں کے تقرر سے شوریدہ لوگوں کے حوصلے بالکل پست ہو گئے ہیں او ر وہ اسلامی حکومت سے بغاوت کا خیال بھی دل میں نہ لا سکے۔
مکمل تحریر >>

فتح حیرہ

مذار اور حفیر میں ایرنیوں کو جو عبرتناک شکست اٹھانی پڑی تھی اس کا انتقام لینے کے لیے انہوں نے عراق میں مقیم عربی النسل عیسائیوں کومسلمانوں کے خلاف نبرد آزما کر دیا اور ا س طرح الیس کا معرکہ پیش آیا۔ فتح یاب ہونے کے بعد خالدؓ نے چاہا کہ ایرانیوں اور ان کے مددگاروں کی جنگی روح کو بالکل کچل دیا جائے کہ وہ آئندہ مسلمانوں کے خلاف سر اٹھانے کی جرات نہ کر سکیں ۔ اس غرض سے انہوں نے جو طریقے اختیار کیے اان کے باعث واقعی ایرانیوں کے حوصلے بالکل پست ہو گئے۔ کسریٰ اردشیر کو جو اس وقت بیمار تھا ا س قدر صدمہ پہنچا کہ اس کے اثر سے وہ جانبر نہ ہو سکا اورنہایت حسرت کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔
حیرہ
اردشیر کی موت سے ایرانی دوگونہ مشکلات میں مبتلا ہو گئے۔ ایک طر ف شہنشاہ کی موت کا صدمہ دوسری طرف صحرائے شام اور دریائے دجلہ و فرات کے درمیان علاقے میں مسلمانوں کی روز افزوں پیش قدمی ۔ ان پر یاس و ناامیدی کا غلبہ تھا وہ اپنے آپ میں مسلمانوں کے مقابلے کی طاقت نہ پاتے تھے اپنے علاقوں سے مسلمانوں کو نکالنا انہیں ناممکن نظر آتاتھا۔ پھر بھی خالدؓ ایرانیوں کی اس پژمردگی سے کسی قسم کے دھوکے میں مبتلاہوئے اور نا ایرانیوں پر عظیم فتوحات حاصل کرنے کے باوجود اپنی قوت و طاقت پر کبھی نازاں ہوئے ۔ وہ جانتے تھے کہ عیسائی قبائل جنہیں ایرانیوں نے مسلمانوں کے خلاف نبرد آزما کر دیا تھا ۔ اگرچہ اس وقت خاموش ہیں لیکن غیض و غضب اور انتقام کی آگ ان کے دلوں میں بدستور بھڑک رہی ہیں اور مناسب موقع آنے پر ظاہر ہوئے بغیر نہ رہ سکے ۔ اس لیے اگر اسی وقت بغاوت اور سرکشی کے ان جراثیم کا پوری طرح قلع قمع نہ کیا گیا ور جزیرہ عرب کو جانے والے تمام راستوں کی حفاظت نہ کی گئی تو آئندہ مسلمانوں کو عظیم خطرات سے دوچار ہونا پڑے گا۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے مناسب سمجھا کہ حیرہ پر جلد ا ز جلد تسلط حاصل کرنا چاہیے تاکہ دریائے فرات کے مغرب سے جزیرہ نمائے عرب کی حدود تک سارا علاقہ مسلمانوں کے زیر نگیں آ جائے اورانہیں پشت کی جانب سے کسی حملے کا اندیشہ نہ رہے۔
اس زمانے میں حیرہ کا حاکم ایک ایرانی مرزبان آزاذبہ تھا۔ پچیس سال بیشتر عراقی عربوں کا یہ دارالحکومت اپنی اس شان و شوکت سے محروم ہو چکا تھا جو اسے ان عربوں کی حکومت کے زمانے میں نصیب ہوئی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ لخمیوں کا (جنہوں نے دوسری صدی عیسوی میں بہ مقام حیرہ اپنی سلطنت قائم کی تھی اور جو صدیوں تک یہاں حکمران رہے) طائیوں نے زبردست اختلاف پیدا ہو گیا اور دونوں میں جنگ چھڑ گئی۔ کسریٰ نے جنگ و جدل کے اس سلسلے میں فائدہ اٹھانا چاہا اور لخمی بادشاہ نعمان بن منذر کے خلاف طائیوں کی مدد کر کے نعمان کو قتل کراڈالا اور ایاص بن قبیضۃ الطائی کو حیرہ اور اس کے گرد و نواح کا حاکم بنا دیا۔ ابھی ایاس کو حاکم بنے چند سال ہی ہوئے تھے کہ ذوقار کے مقام پر بنو بکر بن وائل نے ایرانیوں کے لشکر کو جسے ایاس کی پشت پناہی حاصل تھی شکست دے دی اور جس کے نتیجے میں ایاس کی حکومت سے ہاتھ دھونے پڑے اور کسریٰ نے اپنی طرف سے ایک شخض کو حیرہ کا حاکم بنا دیا۔ اس طرح حیرہ اپنی شان و شوکت سے محروم ہو گیا۔ پھر بھی عربوں کو اس سے دلی تعلق تھا اور وہ اس کی شان و شوکت سے دوبارہ دیکھنا چاہتے تھے۔ جب خالدؓ نے مسلمانوں کے خلاف ان عیسائیوں کا غیض و غضب دیکھا تو انہیں اندیشہ پیدا ہو گیا کہ مبادا بنو بکر بن وائل طائیوں اور حیرہ میں مقیم دوسرے عربوں کو قومی عصبیت کی بنا پر ساتھ ملا کر ان کے مقابلے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں اور پیچھے سے ا نکا راستہ کاٹنے کی کوشش کریںَ اسی لیے انہوں نے حیرہ پر حملہ کر کے اس پر قابض ہو گئے اوراسے اپنا ہیڈ کوارٹر بنانے کا مصمم ارادہ کر لیا۔
ادھر اہل حیرہ بھی خوش فہمی میں مبتلا نہ تھے۔ انہیں الیس اور امغیشیا کے معرکوں کا مفصل حال معلوم ہو چکا تھا اور یقین تھا کہ وہ دن دور نہیں جب کہ خالدؓ کی فوجوں کا رخ ان کی جانب پھرے گا۔ حاکم حیرہ نے پہلے ہی اندازہ کر لیا تھا کہ خالدؓ حیرہ پہنچنے کے لیے دریائی راستہ اختیار کریں گے اورامغیشیا سے کشیتوں میں سوار ہو کر حیرہ پہنچیں گے۔ وہ اپنی فوج لے کر حیرہ سے باہر نکلا اوراپنے بیٹے کو دریائے فرات کا پانی روکنے کا حکم دیا تاکہ خالد ؓ کی کشتیاں دریا میں پھنس جائیں اور آگے نہ بڑھ سکیں۔
آزازبہ کا اندازہ بالکل صحیح ثابت ہوا۔ خالدؓ امغیسیا سے کشتیوںمیں سوار ہو کر اور بہ جانب شمال حیرہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ انہوں نے ابھی تھوڑی سی مسافت طے کی تھی کہ دریا خشک ہوگیا اور تمام کشتیاں کیچڑ میں پھنس گئیںَ خالدؓ کو بے حد تعجب ہوا اور انہوں نے ملاحوں سے اس کا سبب پوچھا انہوں نے بتایا کہ اہل فارس نے دریا پر بند باندھ کر اس کا پانی روک لیا ہے اور ساراپانی دریا سے نکلنے والی نہروںمیں چھوڑ دیا ہے۔ یہ معلوم کر کے خالدؓ نے کشتیوں کو تو وہیں چھوڑا او ر خود فوج کا ایک دستہ لے کر دریا کے دھانے کی طرف بڑھے۔ وہاں پہنچ کرد یکھا کہ آزاذبہ کا لڑکادھانے پر کھڑ دریا کا رخ پھیرنے کے کام کی نگرانی کر رہا ہے۔ انہوں نے اچانک اس پرحملہ کر کے اس کی فوج کو قتل کرڈالا ور بند توڑ کر دریا میں دوبارہ پانی جاری کر دیا۔ وہ خود اپنے سواروں کے ہمراہ کھڑے ہوکر اس کام کی نگرانی کرتے رہے کشتیوں نے دوبارہ سفر شروع کر دیا اور اسلامی لشکر لے کر خورنق پہنچ گئیں جہاں خالد نے لشکرکو اترنے کا حکم دیا اور خورنق کے مشہور محل کے سامنے خیمہ زن ہو گئے ۔
آزاذبہ حاکم حیرہ کو اپنے بیٹے کے قتل اور اردشیر کی وفات کی خبر ایک ساتھ ملی۔ اس نے اپنی خیریت اسی میں سمجھی کہ وہ خالدؓ کے آنے سے پیشتر بھاگ کر جان بچا لے۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔ ادھر خالدؓ مکمل تیار یکے بعد فوج لے کرحیرہ کی جانب بڑھے ۔پہلے خورنق اور نجف پر قبضہ کیا جہاں گرمیوں کے موسم میں حیرہ کے امراء آ کر ٹھہرتے تھے۔ اس کے بعدحیرہ کے سامنے پہنچ کر ڈیرے ڈال دیے۔
اگرچہ آزاذبہ جان بچاکر حیرہ سے بھاگ گیا تھا لیکن اہل حیرہ نے ہمت نہ ہاری۔ وہ شہر کے چار قلعوں میں محصو رہو کر بیٹھ گئے اور لڑائی کی تیاریاں شروع کر دیںَ
خالدؓ نے ان قلعوں کا سختی سے محاصرہ کر لیا اور انہیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیاا جب یہ لوگ کسی طرح صلح پر آمادہ نہ ہوئے تو خالدؓ نے انہیں کہلا بھیجاکہ اگر انہوں نے ایک دن کے اندر اندر ہتھیار نہ ڈالے او ران کی بیش کردہ تین باتوں میں سے ایک یعنی ’’اسلام‘‘ ’’جزیہ‘‘ یا ’’جنگ‘‘ قبو ل نہ کی تو انہیں بالکل تہس نہس کر دیا جائے گا اوران کی تباہی کی ذمہ داری انہیں پر ہو گی۔
لیکن ان لوگوں نے صلح کی بات چیت کرنے کے بجائے اسلامی فوجوں پر سنگ باری شروع کردی۔ مسلمان بھی جواب میں ایرانیوں پر تیروں کا مینہ برسانے لگے جس سے ان کے بے شمار آدمی ہلاک ہوئے ۔ یہ صورت حال دیکھ کر اہل حیرہ بہت گھبرائے اور شہر میں پادریوں اور راہبوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ انہوں نے ایرانی سرداروں سے فریاد کی کہ اس خون ریزی کی ساری ذمہ داری تم پر ہے خدا کے لیے سنگ باری بندکر دو اور لوگوں کو اس مصیبت سے نجات دلائو۔
کوئی چارہ کار اور راہ فرار نہ دیکھ کر قلعوں کے سرداروں نے صلح پر آمادگی ظاہر کی۔ انہوں نے اسلامی فوج کے سرداروں کو کہلا بھیجا کہ ہم آپ کی پیش کردہ تین باتوں میں سے کوئی ایک بات قبول کرنے کے لیے تیار ہیں اس لیے براہ کرم تیر اندازی بند کر دیں اور اپنے سپہ سالار کو اس کی اطلاع دے دیں۔ چنانچہ مسلمانوں نے تیر اندازی بند ک ردی اور خالدؓ کو مطلع کیا کہ اہل حیرہ صلح کرنے کے لیے تیار ہیں اور اس سلسلے میں آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ خالدؓ نے انہیں اپنے پاس آنے کی اجازت دے دی۔
اپنے وعدے کے مطابق سرداران حیرہ اپنے اپنے قلعوں سے نکل کر معززین شہر کے ہمراہ اسلامی لشکر کے سرداروں کے پاس پہنچے جنہوں نے انہیں خالدؓ کے پاس رونہ کر دیا خالدؓ باری باری ہر قلعے کے لوگوں سے ملے اور انہیں ملامت کرتے ہوئے فرمایا:
’’تم پر افسوس تم نے اپنے آپ کو کیا سمجھ کر ہم سے مقابلہ کیا اگر تم عرب ہو تو کس وجہ سے تم اپنے ہی لوگوں کا مقابلہ کرے پر آمادہ ہو جائو گے اور اگر عجمی ہو تو کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ تم ایک ایسی قوم کے مقابلے میں جیت جائوگے جو عدل و انصاف میں نظیر نہیں رکھتی!‘‘۔سرداروں نے جزیہ دینے کا اقرار کر لیا۔
مکمل تحریر >>

جنگَ الیس


اس شکست نے جو قبیلہ بکر بن وائل کو اپنے ہم قوم اور ہم وطن لوگوں کے ہاتھوں کے اٹھانی پڑی تھی عراق کے عربی النسل عیسائیوں کو آتش زیر پا کر دیا۔ انہوں نے طیش میں آ کر مسلمانوں سے ایک بار پھر جنگ کرنے کی تیاریاں شروع کر دیں۔ اپنا سردار بنو عجلان کے ایک شخص عبد السود عجلی کو بنایا اورحیرہ و ابلہ کے درمیان مقام الیس پر فوجیں اکٹھی کرنے لگے۔ ساتھ ہی دربار ایران سے مدد کی درخواست بھی کی۔ وہاں سے بہن جازویہ کو حکم ملا کہ وہ بھاری جمعیت لے کر عیسائیوں کی مدد کو پہنچے۔ یہ احکا م ملنے پر بہمن جاذویہ نے مناسب خیال کیا کہ وہ مسلمانوں سے فیصلہ کن مقابلہ کرنے کے لیے شہنشاہ اردشیر سے بالمشافہ گفتگو کرے۔ اس نے فوج کی کمان ایک سردار جابان کے سپرد کر کے اسے ہدایت کی کہ وہ فوج لے کر الیس جائے لیکن جہاں تک ممکن ہو دربا ر ایران سے اس کی واپسی تک جنگ کا آغاز نہ کیا جائے۔ خود وہ شہنشاہ سے مشورہ کرنے کے لیے روانہ ہو گیا۔ وہاں پہنچ کر اسے معلوم ہوا کہ شہنشاہ اردشیر بیمار ہے۔ وہ وہیں ٹھہر گیا لیکن جابان کو کوئی ہدایت نہ بھیجی۔ ادھر جابان نے الیس پہنچ کر عیسائی فوجوں کے متصل پڑائو ڈال لیا اور انہیں مسلمانوں پر حملہ کرنے کے متعلق مشورے دینے لگا۔
خالدؓ کو معلو م تھا کہ عیسائیوں کی مدد کے لیے ایرانیو ں کا لشکر بھی جابان کے زیر سرکردگی میدان جنگ میں موجود ہے۔ انہیں صرف عربی النسل عیسائیوں سے مقام الیس میں اجتماع کی خبر ملی تھی۔ وہ اپنا لشکر لے کر پہلے حفیر پہنچے اور یہ اطمینان کر نے کے بعد کہ ان کے مقرر کر دہ اعمال وہاں کا نظم ونسق کامیابی سے چلارہے ہیں اور پشت کی جانب سے کسی حملے کااندیشہ نہیں دشمن کے مقابلے کے لیے روانہ ہوئے۔ الیس پہنچتے ہی انہوں نے عیسائیوں کو موقع تیاری کا دیے بغیر ان سے لڑائی چھیڑ دی۔ یہ حملہ اس قدر اچانک ہوا کہ عیسائی بالکل نہ سنبھل سکے اور پہلے ہی ہلے میں ان کا سالار قیس بن مالک مارا گیا۔ جب جابان نے محسوس کیا کہ عیسائیوں کی صفوں میں اضطراب پیدا ہونے لگا ہے تو وہ ایرانی فوج کاایک دستہ لے کر آگے بڑھا اور جوش انگیز جملوں سے عیسائیوں کی ہمت بندھانے لگا اورانہیں جم کر مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کی تلقین کرنے لگا۔ اس کے مقرر کیے ہوئے آدمی عیسائیوں کی صفوں میں اعلا ن کرتے پھرتے تھے کہ بہمن جازویہ ان کی مدد کے لیے عنقریب ایک لشکر جرار لے کر پہنچنے والا ہے۔ اس کے آنے تک پامردی سے مسلمانوں کامقابلہ جاری رکھیں اورتمام خطرات کو نظر انداز کر کے بہادروں کی طرح میدان جنگ میں ڈٹے رہیں۔ چنانچہ عیسائی سنبھل گئے اورانہوں نے بڑی جرات اور دلیری سے مسلمانوں کے پیہم حملوں کو روکنااور ان کا مقابلہ کرنا شروع کیا۔ یہ عزم و ثبات اور صبر و استقلال دیکھ کر خالدؓ حیران رہ گئے اور انہوں نے مسلمانوںکو جوش دلایا کہ وہ ایک بارپھر بھرپور طاقت سے دشمن پر حملہ شروع کر دیں۔
عیسائیوں کو لڑتے ہوئے بہت دیر ہو چکی تھی۔ ان کی امیدوں کا واحد سہارا بہمن جاذویہ تھا۔ کیونکہ اس کے آنے تک ایرانی فوج ان سے مل کر جنگ میں حصہ نہیں لے سکتی تھی۔ لیکن بہمن کا کہیں پتا نہ چتھا۔ جابان بھی حیران تھاکہ کیا کرے کیانہ کرے۔ ادھر مسلمانوں کا دباو برابر بڑھتا چلا جا رہا تھا اور ان کے مقابلے میں عیسائیوں کی کوئی پیش نہ جا رہی تھی۔ آخر دشمن کی طاقتوں مے جواب دے دیا۔ ایک ایک کر کے ان کی صفیں ٹوٹنے لگیںَ اور وہ میدان جنگ سے فرار ہونے لگے۔ خالدؓ نے یہ دیکھ کر فوج میں اعلان کر دیا کہ بھاگنے والوں کا تعاقب کیا جائے اور انہیں زندہ پکڑ کر ان کے سامنے حاضر کیاجائے۔ صرف اسی شخص کو قتل کیا جائے جو کسی طرح قابو میں نہ آیئ اور مزاحمت پر آمادہ ہو جائے۔ چنانچہ مسلمانو ں اور ان کے مددگار عراقی عربوں نے جو اسلامی فوج میں شامل تھے ایسا ہی کیا اور عیسائی گروہ در گروہ میدان جنگ میں لائے جانے لگے۔
جابان کی ایرانی فوجوں نے جنگ شروع ہونے سے پہلے کھانا تیار کیا تھا اور وہ اطمینان سے بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ مسلمان بلائے ناگہانی کی طرح ان پر آٓپڑے اور وہ کھانا اسی طرح چھوڑ کر فرار ہو گئے خالد ؓ نے اپنی فوج سے کہا:
’’یہ کھانا اللہ نے تمہارے لیے تیار کرایا تھا اب تم مزے سے اسے کھائو‘‘۔
مسلمان دستر ؒوانوں کے اردگرد بیٹھ کر اور کھانا شروع کر دیا۔ عجیب عجیب کھانے تھے جنہیں مسلمانوںنے کبھی دیکھ تھا نہ چکھا تھا۔ وہ کھاتے جاتے تھے اوراللہ کا شکر ادا کرتے جاتے تھے۔ جس نے انہیں بے مانگے ان نعمتوں سے نوازا تھا۔
الیس کے قریب دریائے فرات اور دریائے باوقلی کے سنگم پر ایک شہر امغیشیایا منیشیا آباد تھا جو آباد ی کی کثرت اور مال و دولت کی فراوانی میں حیرہ کا ہم پلہ تھا۔ اس کے باشندو ں نے بھی الیس کی جنگ میں عیسائیوں اور ایرانیوں کی مدد کی تھی۔ جنگ ختم ہونے کے بعد خالدؓ نے اس قصبے کا رخ کر کے اسے فتح کر لیا۔ یہاں سے بھی مسلمانوں کو کثیر مال غنیمت ہاتھ آیا اورجس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ مال غنیمت میں ہر سوار کے حصے میں علاوہ ا پنے حصے کے جو اسے ملا تھا پندرہ سو درہم آئے۔
اس کے بعد خالدؓ نے مال غنیمت کا پانچواں حصہ اور ان جنگوں میں گرفتار ہونے والے قیدی حضرت ابوبکرؓ کی خدمت میں روانہ کر دیے۔ انہیں کے ہمراہ ہی بنی عجل کے ایک شخص جندل کو بھی بھیجاگیا جس نے الیس کی فتح مال غنیمت اور قیدیوں کی کثرت اور خالدؓ کے کارناموں کا حال بالتفصیل حضرت ابوبکرؓ سے بیان کیا۔ یہ واقعات سن کر انہوں نے فرمایا :
عورتیں اب خالدؓ جیسا شخص پیدا کرنے سے عاجز ہیں۔
مکمل تحریر >>

جنگِ ولجہ

ایرانیو ں نے ان شکستوں کے بعد کوئی چارہ کار نہ دیکھ کر ان عربی قبائل کو ساتھ ملانا چاہا جو دریائے دجلہ و فرات کے درمیانی علاقے میں عراق کی سرحدوں کے قریب آباد تھے۔ ان میں سے اکثر قبائل عیسائی تھے جنہیں ایرانی سر توڑ کوشش کے باوجود مجوسی مذہب قبو ل کرنے پر آمادہ نہ کر سکے۔ جب مسلمان اس سرزمین میں و ارد ہوئے تو انہوں نے ان لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی ۔ بہ صورت دیگر جزیے کا مطالبہ کیا ان کا فائدہ سراسر جزیہ قبول کرنے میں تھا کیونکہ اس طرح وہ اپنی آزادی بدستور برقرار رکھ کر ان مراعات سے فائدہ اٹھا سکتے تھے جو دوسرے مسلمانوں کو حاصل تھیں۔ لیکن مدت درراز تک ایرانیوں کی عمل داری میں رہنے کے باعث وہ ان کے احکام کی سرتابی کی جرات نہ کر سکے۔ عراق میں عیسائیوں کا ایک بہت بڑا قبیلہ بکر ون وائل تھا۔ کسریٰ اردشیر نے انہیں طلب کیا اور انکی ایک فوج مرتب کر کے انہیں مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لیے دجلہ کی جانب روانہ کر دیا۔ لیکن اس خیال سے کہ مسلمانوں پر فتح یا بی کا فخر کلیۃ عیسائی عربوں کے حصے میں نہ آئے اپنے ایک بہت بڑے سپہ سالار بہمن جازویہ کو بھی ایک بھاری لشکر کے ہمراہ ان کے پیچھے پیچھے کر دیا عیسائی لشکر نے حیر ہ اورولجہ کے درمیان بسنے والے دوسرے عرب قبائل اور کاشت کاروں کو بھی ساتھ ملا لیا اوراس طرح عربوں کا ایک عظیم الشان لشکر اپنے ہی ہم وطنوں سے لڑنے کے لیے روانہ ہو گیا۔ جس کے پیچھے ایرانیوں کی ایک بھاری جمعیت چلی آ رہی تھی۔
خالدؓ کو مذار میں یہ خبرین پہنچیں۔ انہوں نے اپنے تمام فوجی افسروں کو جو حفیر کاظمہ اور عراق کے دوسرے حصوں میں موجود تھے کہلا بھیجا کہ وہ دشمن کی کاروائیوں سے خبردار رہیں اور اس دھوکے میں نہ آئیں کہ ماضی میں چونکہ بعض عظیم فتوحات حاصل ہو چکی ہیں اس لیے اب دشمن ان کے مقابلے میں سر اٹھا ہی نہیں سکتا۔ وہ خود لشکر لے کر کسریٰ کی بھیجی ہوئی فوجوں سے مقابلہ کرنے کے لیے ولجہ روانہ ہو گئے اور دشمن کی فوجوں کے سامنے پڑاو ڈال دیا۔ چونکہ دونوں فریق طاقت وقوت اور عزم و ارادہ میں ایک دوسرے سے کسی طرح کم نہ تھے۔ اس لیے خاصے وقت تک فرح و شکست کا کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔ خالدؓ زیادہ دیر تک صورت حال برداشت نہ کر سکے اور دو سرداروں کو حکم دیا کہ وہ اپنا دستہ لے کر فوج سے علیحدہ ہوجائیں اور دشمن کی صفوں کے پیچھے جا کر چھپ جائیں۔ جب لڑائی شروع ہو تو وہ دشمن پر اچانک پیچھے کی طرف سے حملہ کر کے اس کا تیا پانچا کر دیں۔ لیکن ان دستوں کو کمین گاہوں کے اندر چھپنے میں دیر لگ گئی جس کے باعث وہ مقررہ وقت پر میدان جنگ میں پہنچ کر دشمن پر حملہ آور نہ ہو سکے۔
جنگ میں کبھی مسلمانوں کا پلہ بھاری ہوتاتھا اور وہ دشمن کو پیچھے دھکیل دیتے تھے کبھی دشمن کا زور بڑھ جاتا تھا اور وہ مسلمانوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیتے۔ آخر عین اس وقت جب فریقین میں سے کسی کو بھی واضح فیصلے کا یقین نہ رہا تھا اور دنوں مایوس ہو کر اپنے اپنے کیمپوں میں واپس جانے اور اگلے روز کی لڑائی کی تیاری کرنے والے تھے اسلامی فوج کے دستے کمین گاہوں سے نکلے اور عقب سے کسریٰ کے لشکر پر حملہ آور ہوئے۔ ایرانی پہلے ہی مسلمانوں کی زبردست مقاومت سے گھبرائے ہوئے تھے۔ یہ نئی مصیبت دیکھ کر حواس باختہ ہوگئے اور حوصلہ ہار بیٹھے خالدؓ کی فوجوں نے سامنے اور کمین گاہوں سے نکل کر آنے والے دستوں نے پیچھے سے دشمن کو گھیر کر قتل کرنا شروع کر دیاا ور ایرانی شکست کھا کے بھاگ نکلے ۔
مکمل تحریر >>