Saturday, 24 January 2015

یزید کی ولی عہدی اور حضرت معاویہ


حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر جو سب سے بڑا اعتراض کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ انہوں یزید جیسے فاسق فاجر اور نالائق بیٹے کو ولی عہد نامزد کیا اور یزید کے دور میں جو کچھ ہوا وہ بھی اس کے ذمہ دار ہیں۔
اس اعتراض کی حقیقت کے لیے اگر ان دو سوالوں کے جوابات دیکھ لیے جائیں تو یہ فیصلہ کرنا آسان ہو گا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ فعل جائز تھا یا ناجائز وہ قصوروار تھے یا نہیں۔ وہ سوال یہ ہیں۔
ولی عہدی کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ 
کیا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا یزید کو ولی عہد بنانا شرعی طور پر جائز تھا ؟؟

اگر اس متعلق شرعی دلائل کاجائزہ لیں تو دو باتیں واضح ہوجاتی ہیں۔
1. علماء کے نزدیک یہ متفقہ علیہ ہے کہ اگر خلیفہ وقت نیک نیتی کے ساتھ اپنے بیٹے کو خلافت کا اہل سمجھتا ہے تو وہ اسے اپنا ولی عہد مقرر کرسکتا ہے ۔ 
2. علماء کی ایک جماعت کے نزدیک ولی عہد بنانے کے لیے ارباب حل و عقد سے مشورہ کرنا ضروری ہے اسکے بغیر خلافت منعقد نہیں ہوتی۔ (تفصیل ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء ص 5 جلد اول) 
اور ایک جماعت (علامہ ماہ روی، ابن خلدون، شاہ ولی اللہ ) اسکی بھی قائل رہی ہے کہ جس میں وہ خلافت کی اہلیت سمجھتا ہو وہ تنہا اپنی مرضی سے اسے 'ولی عہد' بناسکتا ہے۔ جیسا کہ اسلامی سیاست کے مشہور عالم اور مصنف قاضی ابویعلی الفراء الحنبلی تحریر فرماتے ہیں:
" خلیفہ کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے بعد کے لیے کسی شخص کو ولی عہد بنائے اور اس معاملہ میں اہل حل و عقد کی موجودگی کوئی ضروری نہیں اس لیے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ولی عہد بنایا اور حضرت عمر رضی اللہ نے چھ صحابہ کرام کو یہ فریضہ سپرد کیا اور سپرد کرتے وقت کسی نے بھی اہل حل و عقد کی موجودگی کو ضروری نہیں سمجھا۔ 
اسکی عقلی وجہ یہ ہے کہ کسی کو ولی عہد بنانا اس کو خلیفہ بنانا نہیں ہے۔ ورنہ ایک ہی زمانے میں خلفاء کا اجتماع لازم آئے گا جو جائز نہیں ہے اور جب یہ خلافت کا عقد نہیں ہے تو اہل حل و عقد کی موجودگی بھی ضروری نہیں، ہاں ولی عہد بنانے والے کی وفات کے بعد انکی موجودگی ضروری ہے "
چند سطروں کے بعد لکھتے ہیں:
"خلیفہ کے لئے جائز ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کو ولی عہد بنائے جو اسکے ساتھ باپ یا بیٹے کا رشتہ رکھتا ہو، بشرطیکہ وہ خلافت کی شرائط کا حامل ہو، اس لئے کہ خلافت محض ولی عہد بنانے سے منعقد نہیں ہوجاتی بلکہ مسلمانوں کے قبول کرنےسے منعقد ہوتی ۔ اور اس وقت ہر تہمت دور ہوجاتی ہے"۔ (ابویعلی الفراء، الاحکام السلطانیہ ص 9)

اب یزید کی ولی عہدی کے مسئلے پر غور فرمائیے، مندرجہ بالا احکام کی روشنی میں یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ اگر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ دیانت داری سے اپنے بیٹے یزید کو خلافت کا اہل سمجھتے تھے تو اسے ولی عہد بنا دینا شرعی اعتبار سے بالکل جائز تھا۔ اگر وہ یہ کام پوری امت کے مشورے سے کرتے تب تو باتفاق انکا یہ فیصلہ ہر فرد کے لیے واجب الاتباع ہوتا ، اور اگر تنہا اپنی رائے سے کیا تو انکے فعل کی حد تک کم از کم یہ فیصلہ باتفاق جائز تھا۔

اب مسئلہ یہ رہ جاتا ہے کہ کیا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کو خلافت کا اہل سمجھ کر ولی عہد بنایا تھا یا محض اپنا بیٹا ہونے کی وجہ سے؟
واقعہ یہ ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پوری دیانت داری اور نیک نیتی کے ساتھ یہ سمجھتے تھے کہ یزید خلافت کا اہل ہے۔ متعدد تواریخ میں منقول ہے کہ انہوں نے ایک خطبہ میں یہ دعا فرمائی :
" اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ میں نے اسے (یزید کو) اس لیے ولی عہد بنالیا ہے کہ وہ میری رائے میں اسکا اہل ہے تو اس ولایت کو اسکے لیے پورا فرما دے اور اگر میں نے اس لئے اسکو ولی عہد بنایا ہے کہ مجھے اس سے محبت ہے تو اس ولایت کو پورا نہ فرما"۔
(البدایہ والنہایہ ص 80 جلد 8)
غور کرنے کی بات ہے کہ جس باپ کے دل میں چور ہو یا وہ زبردستی اک کام کو مسلط کرنا چاہ رہا ہو وہ جمعہ کے دن مسجد کے منبر پر کھڑے ہو کر قبولیت کی گھڑی میں اپنے بیٹے کے لیے ایسی دعا کرسکتا ہے ؟ 
اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ انہوں نے یزید کو نااہل سمجھنے کے باوجود محض اپنا بیٹا ہونے کی وجہ سے خلافت کے لئے نامزد کیا تھا تو یہ اتنا بڑا تحکم ہے جس کے لئے بڑے دل گردے کی ضرورت ہے۔ کسی شخص کی نیت پر حملہ کرنا زندگی میں بھی شریعت نہیں جائز قرار نہیں دیا، چہ جائیکہ اسکی وفات کے چودہ سو برس بعد اس ظلم کا ارتکاب کیا جائے۔

یزید کے دور حکومت میں جو کچھ ہوا وہ اپنی جگہ لیکن جس وقت یزید کو ولی عہد بنایا جارہا تھا اس وقت کوئی شخص یہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ یزید کی حکومت میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایسا ظالمانہ سلوک کیا جائے گا، اس وقت وہ ایک صحابی اور ایک خلیفہ وقت کا صاحبزادہ تھا ، اسکے ظاہری حالات، صوم و صلواۃ کی پابندی، اسکی دینوی نجابت، اسکی انتظامی صلاحیت کی بناء پر یہ رائے قائم کرنے کی پوری گنجائش تھی کہ وہ خلافت کا اہل ہے اور صرف یہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی رائے نہیں تھی بلکہ بہت سے دوسرے جلیل القدر صحابہ (عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ)و تابعین (حضرت علی کے صاحبزادے محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ )بھی یہ رائے رکھتے تھے کہ وہ ایک صالح آدمی ہے۔
(تفصیل البلاذری : انساب الاشراف ص 3 قسم 2) ( البدایہ و النہایہ ص 233، ج 8) 
صحابہ کی ایک جماعت دیانت داری کے ساتھ حضرت امیر معاویہ کے موقف کی ہمنوا تھی اور وہ پانچ صحابہ جنہوں نے اسکی مخالفت کی تھی، وہ بھی کسی ذاتی خصومت یا حرص اقتدار کی بناء پر مخالفت نہیں کررہے تھے ، بلکہ وہ دیانت داری سے یہ سمجھتے تھے کہ یزید خلافت کا اہل نہیں ہے۔ ان کے علاوہ صحابہ کرام رضوان اللہ کا ایک تیسرا گروہ بھی تھا جو حضرت حسین اور ان عباس وغیرہ جیسے صحابہ کے مقابلے میں یزید کو خلافت کے لیے بہتر تو نہیں سمجھتا تھا لیکن اس خیال سے اسکی خلافت کو گوارا کررہا تھا کہ امت میں افتراق و انتشار برپا نہ ہو ۔ اگر ان تین گروہوں کے خیالات کو دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے یزید کے بارے میں صحابہ کرام کا یہ اختلاف درحقیقت رائے اور اجتہاد کا اختلاف تھا اور اس معاملے میں کسی کو بھی مطعون نہیں کیا جاسکتا۔ 
یہ بات یاد رہے کہ یہ ولی عہد بنانے کے لیے شرائط اور جائز یا ناجائز کی بحث ہے، باقی جہاں تک افضیلت کی بات ہے تو بلاشبہ حضرت حسین رضی اللہ ، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن عمر ، حضرت عبد اللہ بن زبیر وغیرہ جیسوں کی موجودگی میں یزید کو خلافت کے لیے غیر موزوں سمجھنا کچھ بعید نہیں۔ اس لیے بعض صحابہ نے اس نامزدگی کی کھل کر مخالفت بھی کی۔
اور یہ بھی کہ مذکورہ بالا بحث سے ہمارا مقصد یہ نہیں ہے کہ حضرت معاویہ اور مغیرہ بن شعبہ رضوان اللہ کی رائے واقعہ کے لحاظ سے سو فیصد درست تھی اور انہوں نے جو کچھ کیا وہ نفس الامر میں ٹھیک کیا بلکہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ امانت کے ساتھ اور شرعی جواز کی حدود میں رہ کر کیا۔(الذھبی تاریخ الاسلام ص 267۔ 468 جلد 2) جہاں تک رائے کا تعلق ہے تو جمہور امت کی یہی رائے ہے کہ اس معاملے میں رائے انہی صحابہ کی صحیح تھی جو یزید کو ولی عہد بنانے کے مخالف تھے اور اس کی وجوہات کئی بیان کی گئی ہیں۔ 
یزید اور اسکی ولی عہدی کے سلسلہ میں ہم نے اوپر جو کچھ لکھا' جمہور امت کے معتدل اور محقق علماء کا یہی مسلک ہے ، قاضی ابو بکر بن عربی مالکی حضرت معاویہ کے اس فعل کو جائز قرار دینے کے ساتھ یہ بھی تحریر فرماتے ہیں:
" بلاشبہ افضل یہ تھا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ خلافت کے معاملے کو شوری کے سپرد کردیتے اور اپنے کسی رشتہ دار اور خاص طور سے اپنے بیٹے کے لئے اسکو مخصوص نہ کرتے اور حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے انکو جو مشورہ دیا تھا' ولی عہد بنانے یا نہ بنانے میں اسی پر عمل کرتے' لیکن انہوں نے اس افضل کام کو چھوڑ دیا۔
(العواصم من القواصم ص222)
مستفاد: کتاب حضرت معاویہ اور تاریخی حقائق

6 comments:

shah faez ul ebraar siddiqui نے لکھا ہے کہ

السلام علیکم
اس امر کی تحقیق کی ضرورت ہے کہ سید نا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید رحمہ اللہ کی تعیناتی کے لیے اپنا صوابدیدی اختیار استعمال کیا تھا یا مشاورت کے عمل کا بھی اس میں حصہ تھا اس لیے روایات تو ہمیں وسیع ترین مشاورت اور وفود کا مختلف شہروں کی طرف ارسال کیا جانا اور خود مکہ و مدینہ کا سفر کرنا وغیرہ وغیرہ

shah faez ul ebraar siddiqui نے لکھا ہے کہ

اور یہ بھی کہ تمام تر مشاورت کب ہوئی تھی تعیناتی سے قلبل یا بعد میں

shah faez ul ebraar siddiqui نے لکھا ہے کہ

اور یہ بھی کہ تمام تر مشاورت کب ہوئی تھی تعیناتی سے قلبل یا بعد میں

shah faez ul ebraar siddiqui نے لکھا ہے کہ

السلام علیکم
اس امر کی تحقیق کی ضرورت ہے کہ سید نا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید رحمہ اللہ کی تعیناتی کے لیے اپنا صوابدیدی اختیار استعمال کیا تھا یا مشاورت کے عمل کا بھی اس میں حصہ تھا اس لیے روایات تو ہمیں وسیع ترین مشاورت اور وفود کا مختلف شہروں کی طرف ارسال کیا جانا اور خود مکہ و مدینہ کا سفر کرنا وغیرہ وغیرہ

Hafiz AllahMehr نے لکھا ہے کہ

آلسلام علیکم
جزاک اللہ خیر
جہاں تک صوابدیدی فیصلے کا تعلق ہے تو یہ بھی حقیقت ہے کہ یذید کو ولی عہد بنانے کا خیال حضرت ٘معاویہ کے ذہن کی پیدا وار نہیں۔ بلکہ یہ مشورہ انھیں چند صحابہ کام نے ہی دیا تھا۔

Rehan khan blouch mughri نے لکھا ہے کہ

الحمداللہ
‏.
اور اصحاب الرسول آخر تک اپنی اس بعیت پر قائم رہے واقعہ حرہ کے وقت عبداللہ بن مطیع اور عبداللہ بن حنظلہ نے جب حضرت یزید کی بعیت تھوڑی اور لوگوں کو حضرت یزید کے خلاف ابھارہ تو جلیل القدر صحابہ " حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت نعمان بن بشیر اور حضرت ابو حنیفہ جیسے جلیل القدر صحابہ نے لوگوں کو سمجھایا اور آخر دم تک یزید کی بعیت تک قائم رہے -

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔