Sunday, 25 January 2015

کوہِ صفا پر۔۔


جب نبیﷺ نے اچھی طرح اطمینان کر لیا کہ اللہ کے دین کی تبلیغ کے دوران ابو طالب ان کی حمایت کریں گے۔ تو ایک روز آپ کوہِ صفا پر تشریف لے گئے اور سب سب سے اونچے پتھر پر چڑھ کر یہ آواز لگائی:
یاصَبَاحَاہ۔ ہائے صبح! (اہل عرب کا دستور تھا کہ دشمن کے حملے یا کسی سنگین خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے کسی بلند مقام پر چڑھ کر انہی الفاظ سے پکارتے تھے )
اس کے بعد آپ نے قریش کی ایک ایک شاخ اور ایک ایک خاندان کو آواز لگائی۔ اے بنی فہر ! اے بنی عدی ! اے بنی فلاں اوراے بنی فلاں ! اے بنی عبد مناف ! اے بنی عبد المطلب !
جب لوگوں نے یہ آواز سنی تو کہا: کون پکار رہا ہے ؟ جواب ملا :محمد ہیں ،اس پر لوگ تیزی سے آئے۔ اگر کوئی خود نہ آسکا تو اپنا آدمی بھیج دیا کہ دیکھے کیا بات ہے۔ یوں قریش کے لوگ آگئے اور ان میں ابو لہب بھی تھا۔
جب سب جمع ہوگئے تو آپ نے فرمایا : یہ بتاؤ اگر میں خبر دوں کہ ادھر اس پہاڑ کے دامن میں وادی کے اندر شہسواروں کی ایک جماعت ہے جو تم پر چھاپہ مارنا چاہتی ہے تو کیا تم لوگ مجھے سچا مانو گے ؟
لوگوں نے کہا : ہاں ! ہاں! ہم نے آپ پر کبھی جھوٹ کا تجربہ نہیں کیا ، ہم نے آپ پر سچ ہی کا تجربہ کیا ہے۔
آپ نے فرمایا : اچھا تو میں ایک سخت عذاب سے پہلے تمہیں خبردار کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں۔ میری اور تمہاری مثال ایسے ہی ہے جیسے کسی آدمی نے دشمن کو دیکھا پھر اس نے کسی اونچی جگہ چڑھ کر اپنے خاندان والوں پر نظر ڈالی تو اسے اندیشہ ہوا کہ دشمن اس سے پہلے پہنچ جائے گا، لہٰذا اس نے وہیں سے پکار لگانی شروع کردی یا صباحاہ ! ہائے صبح !
اس کے بعد آپ نے لوگوں کو حق کی دعوت دی اور اللہ کے عذاب سے ڈرایا اور خاص کو بھی خطاب کیا اور عام کو بھی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
قریش کے لوگو! اپنے آپ کو اللہ سے خرید لو، جہنم سے بچالو۔ میں تمہارے نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتا۔ نہ تمہیں اللہ سے بچانے کے لیے کچھ کام آسکتا ہوں۔
بنو کعب بن لؤی ! بنو مرہ بن کعب ! بنو قصی ،بنو عبد مناف ! بنو عبد شمس ! بنو ہاشم ! بنو عبد المطلب ، اپنے آپ کو جہنم سے بچالو کیونکہ میں تمہارے نفع ونقصان مالک نہیں۔ اورنہ تمہیں اللہ سے بچانے کے لیے کچھ کام آسکتا ہوں، میرے مال میں سے جو چاہو مانگ لو۔ مگر میں تمہیں اللہ سے بچانے کا کچھ اختیار نہیں رکھتا۔
جب تم لوگوں سے پوچھا جائے تو یہ کنایات ہیں۔ جسے میں اس کی تری کے مطابق تر کروں گا۔
جب یہ انذار ختم ہوا تو لوگ بکھر گئے۔ ان کے کسی قوی رد عمل کا کوئی ذکر نہیں ملتا ، البتہ ابولہب نے بدتمیزی کی ، کہنے لگا : تو سارے دن غارت ہو۔ تو نے ہمیں اسی لیے جمع کیا تھا۔ اس پر سورۂ تبت یداأبی لہب نازل ہوئی کہ ابو لہب کے دونوں ہاتھ غارت ہوں اور وہ خود غارت ہو۔ 
(صحیح بخاری ۱/۲۷۵۳ ، ۳۵۲۵، ۳۵۲۶، ۳۵۲۷، ۴۷۷۱، صحیح مسلم ۱/۱۱۴ ،فتح الباری ۵/ ۴۴۹، ۶/۶۳۷ ، ۸/۳۶۰، جامع ترمذی تفسیر سور ۂ شعراء وغیرہ ، میں نے تمام روایات کے الفاظ کو مرتب کردیا ہے۔)
یہ بانگ درا غایت تبلیغ تھی۔ رسول اللہﷺ نے اپنے قریب ترین لوگوں پر واضح کر دیا تھا کہ اب اس رسالت کی تصدیق ہی پر تعلقات موقوف ہیں اور جس نسلی اور قبائلی عصبیت پر عرب قائم ہیں وہ اس الٰہی انذار کی حرارت میں پگھل کر ختم ہو چکی ہے۔

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔