Thursday 19 May 2016

دلیل کے مقابلے پر دلیل اور تلوار کے مقابلے پر تلوار

ظالموں کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی تو تکلیف ہے کہ خدا کا یہ آخری نبی آیا تو دلیل کے مقابلے پر دلیل لے آیا اور تلوار کے مقابلے پر تلوار۔۔ اور پھر، اِس کھوئے ہوئے توازن کو بحال کر دینے کے بعد، فیصلہ خدا کی مخلوق پر چھوڑ دیا کہ جس عقیدہ کو چاہیں پورے اختیار اور آزادی سے قبول کریں!!!َ لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ۔۔
پھر کیوں نہ ہوتا کہ قومیں اور ملک اِس دعوتِ حق کو ہاتھوں ہاتھ لیتیں؟!
اِس عمل کے نتیجہ میں اِن لوگوں کا قائم کیا ہوا نظامِ جبر دنیا پر اپنی آہنی گرفت کھو بیٹھا، لوگوں کو ”دلیل“ کی روشنی میں اپنا دین چننے کی آزادی ملی، اور اِن ’بیچاروں‘ کو ایشیا اور افریقہ کی ’کالونیوں‘ سے بے دخل ہو کر اپنے وطن لوٹ جانا پڑا۔ جہان میں بلکہ تاریخ کے اندر ’توازن‘ کا اِتنا بڑا شفٹ؟!!!!
تب سے آج تک ’محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار‘ اِن کے دلوں پر کچوکے لگا رہی ہے!!!وَإِذَا خَلَوْاْ عَضُّواْ عَلَيْكُمُ الأَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ قُلْ مُوتُواْ بِغَيْظِكُمْ إِنَّ اللّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
’محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار‘ پر بے تحاشا اِن کے دانت پستے ہیں، بس میں نہیں ہے کہ کیا کردیں!!! کیونکہ ’یہ‘ ساتھ نہ ہوتی تو ’خالی دلیلیں‘ تو اِن کی بہت آزمائی ہوئی تھیں!!! دینِ مسیح علیہ السلام میں بھلا کیا ”دلیل“ نہیں تھی؟؟؟ کہ جس کے موحد پیروکاروں کو بے دردی کے ساتھ پیس کر رکھ دیا گیا تھا اور اُس کی جگہ پال کی تثلیث کو ’منصبِ دین الٰہی‘ پر تخت نشین کرانے میں دھونس کی آخری حد کر دی گئی اور یوں قوت اور زور کے بل بوتے پر بالآخر پوری ایک آسمانی شریعت کا گھونٹ بھر لیا گیا تھا؟!! پس کیوں نہ ہوتا کہ وہ ”دلیل“ جس کے خلاف اِن کی دھونس نہ چل سکے، اِن کو زہر سے بری لگتی؟!!
محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے دراصل اِن کو یہی تو ’شکایت‘ ہے، جوکہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کے الفاظ میں ”کتاب یہدِی وسیفینصُر“ کو لے کر اِس پیچیدہ جہان میں تشریف لائے تھے، یعنی کتاب: قلوب اور عقول کی ہدایت کیلئے اور تلوار: جباروں اور کج کلاہوں کو سیدھا کرنے کیلئے!!! یہ ’کومبی نیشن‘ بھلا اِن کو کیوں بھاتا!
آخر(انکا) یہ وہی تخت تو ہے جس پر بیٹھ کر ظلم اور طنطنہ اور جبر کا ایک نظام صدیوں چلایا گیا اور جس کے پایوں تلے، پوپ ڈھونڈیں، تو اب بھی بے شمار اقوام کا خون پڑا ہوگا! کیا یہ وہی تخت نہیں جس پر جلوہ افروز تاج پوشوں نے کبھی ’دلیل‘ اور ’منطق‘ اور ’حق‘ کے پرخچے اڑائے تھے!! سائنس اور انسانیت کے خلاف چرچ کی تاریخی لٹھ برداری ہی تو تھی جس نے انکے پیروکاروں کو مذہب کو ہی چھوڑ دینے پر آمادہ کردیاتھا۔
ہر وہ شخص جو اَدیان و شرائع کے بنیادی عناصر سے ذرا واقفیت رکھتا ہے اور انبیاءکے اخبار وآثار بھی اُس کی سماعت کیلئے بہت اجنبی نہیں، جب وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے گا تو اُس کا سامنا عین انہی چیزوں سے ہوگا جو انبیاء ہی کے پاس ہوتی ہیں۔ انبیاء نے تلوار بھی اٹھائی ہے اور جنگیں بھی کی ہیں۔ انبیاءنے معرکے بھی لڑے ہیں، اور انبیاءنے دنیا میں امن اور عدل بھی قائم کر کے دکھایا ہے۔ کچہریاں بھی سجائی ہیں اور تعزیریں بھی لگائی ہیں۔ شادیاں بھی کی ہیں، اولادیں بھی چھوڑی ہیں اور کاروبارِ زندگی سے سروکار بھی رکھا ہے۔
آخر کونسی بات یہاں نرالی ہوئی ہے جس پر طوفان کھڑا کیا جائے؟؟؟

حامد کمال الدین




عیسائی مشنریوں کے سب حملے دور دراز کے جاہل و پسماندہ علاقوں میں ہی ہوتے جہاں یہ ’روٹی‘ کے بدلے میں اور مغربی ممالک کے ’ویزوں‘ کے جھانسے دے کر لوگوں کا مذہب تبدیل کرواتے ہیں۔۔
انکی بائبل بردار این جی اوز ’انسانی ہمدری‘ میں ان اقوام کیلئے روٹی اور دوائی لاتی ہیں اور under the table اس ’روٹی‘ کے بدلے ’ایمان‘ کے سودے کرتی ہیں۔
مگر یہ سب کچھ کر لینے کے بعد بھی، کس قسم کے طبقے اور وہ بھی کیسی کیسی مجبوریوں اور لاچاریوں کے مارے ہوئے ہمارے یہاں سے ’عیسائیوں‘ کے قابو آتے ہیں ۔۔!!
کیا یہ لوگ عالم اسلام کی کتنی جانی پہچانی شخصیات کا نام لے سکتے ہیں جنہوں نے کسی ’تحقیق‘ کے نتیجے میں، اور آمنے سامنے کے مناظرہ میں، اور دلیل کے زور پر، عیسائیت قبول کی ہو؟!
جن کو اسلام کے اندر کوئی ’خرابی‘ نظر آئی ہو اور پھر وہ ’خرابی‘ ان کیلئے کلیسا نے دور کر دی ہو؟!
کیا انکے نہایت با خبر ادارے، عالم اسلام میں ایسے تعلیم یافتہ اور باشعور قسم کے ’حق کے متلاشیوں‘ کی کوئی لسٹ جاری کر سکتے ہیں جن کو ’حق‘ بالآخر محمدﷺکے دین کی بجائے کلیسا کے دین میں جاکر ملا ہو؟
ہاں ہم انکو مغرب کے اُن پڑھے لکھوں کی، جتنی طویل یہ چاہیں اتنی طویل فہرست دے سکتے ہیں، جن کو حق محمدﷺکے سوا کہیں کسی کے پاس نظر نہیں آیا اور جنکا اسلام میں آنا نہ تو ’بھوک‘ کی وجہ سے تھا، نہ ’بیماری‘ کی وجہ سے، نہ ’دوائی کیلئے پیسے پاس نہ ہونے‘ کے باعث، نہ کسی ’سفارت خانے کے ہاں ویزہ سہولت پانے‘ کی غرض سے، اور نہ کسی اور دنیوی ضرورت، نہ کسی غرض اور نہ کسی لالچ کے باعث۔
نو مسلم دانشور آئے روز کتابیں لکھتے ہیں کہ انہیں ہدایت کیونکر نصیب ہوئی۔ نئے نئے مراکز کھول رہے ہیں۔ ذرائع ابلاغ پر آتے ہیں۔ اپنے معاشروں کے مختلف فورموں پر اسلام کی نمائندگی کا حق ادا کر رہے ہیں، ان میں سے کئی ایک، آج ہمارے عالم اسلام کے مسلم نوجوانوں کی آنکھ کا تارا ہیں۔ اربوں کھربوں کے بجٹ رکھنے والے مشنری بھی کیا مسلم دانشوروں کے ’عیسائی‘ بن جانے کی ایسی مثالیں دکھا سکتے ہیں؟ چند رپورٹس دیکھیں۔

http://www.cnn.com/WORLD/9704/14/egypt.islam/
http://www.islamweb.net/ver2/archive/readArt.php?lang=A&id=136055
http://muslim-canada.org/muslimstats.html

اسلام کی اس اصل فاتحانہ قوت کو آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بھی ظالم اپنا وہی استشراقی مقولہ دہراتے ہیں کہ ’اسلام تو دراصل تلوار کے زور پر پھیلا لیا گیا تھا‘! آج مسلمانوں کی اس حالتِ زار کے باوجود اسلام کس تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے اور وہ بھی ’مغربی فاتحین‘ کے اپنے ملکوں میں؟
یہ بتائیں کہ اسلام کے پاس آج کونسی تلوار ہے؟؟؟
آنکھیں تو دیکھتی ہیں مگر دل اندھے ہوجاتے ہیں!
حامد کمال الدین

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔