Sunday, 25 January 2015

قریش کا وفد ابو طالب کے سامنے


رسول اللہﷺ کو شروع سے ابو طالب کی حمایت وحفاظت حاصل تھی اور ابوطالب مکہ کے ان گنے چنے لوگوں میں سے تھے جو اپنی ذاتی اور اجتماعی دونوں حیثیتوں سے اتنے باعظمت تھے کہ کوئی شخص بڑی مشکل سے ان کے عہد توڑ نے اور ان کے خانوادے پر ہاتھ ڈالنے کی جسارت کرسکتا تھا۔
اس صورت حال نے قریش کو سخت پریشانی اور کشمکش سے دوچار کر رکھا تھا جو تقاضا کر رہی تھی کہ کسی ناپسند یدہ دائرے میں پڑے بغیر اس مشکل سے نکلنے کے لیے سنجیدگی سے غور کریں۔ بالآخر انہیں یہ راستہ سمجھ میں آیا کہ سب سے بڑے ذمہ دار ابوطالب سے بات چیت کریں لیکن خاصی حکمت اور واقعیت پسندی کے ساتھ اور ایک گونہ چیلنج اور پوشیدہ دھمکی لیے ہوئے ، تاکہ جو بات کہی جائے اسے وہ تسلیم کر لیں۔
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ اشراف قریش سے چند آدمی ابو طالب کے پاس گئے اور بولے : ابو طالب ! آپ کے بھتیجے نے ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہا ہے۔ ہمارے دین کی عیب چینی کی ہے۔ ہماری عقلوں کو حماقت زدہ کہا ہے اور ہمارے باپ دادا کو گمراہ قرار دیا ہے۔ لہٰذا یا تو آپ انہیں اس سے روک دیں ، یا ہمارے اور ان کے درمیان سے ہٹ جائیں۔ کیونکہ آپ بھی ہماری طرح ان سے مختلف دین پر ہیں۔ ہم ان کے معاملے میں آپ کے لیے بھی کافی رہیں گے۔
اس کے جواب میں ابوطالب نے نرم بات کہی اور روادارانہ لب ولہجہ اختیار کیا۔ چنانچہ وہ واپس چلے گئے اور رسول اللہﷺ اپنے سابقہ طریقہ پر رواں دواں رہتے ہوئے اللہ کا دین پھیلانے اور اس کی تبلیغ کرنے میں مصروف رہے۔( ابن ہشام ۱/۲۵۶)
لیکن جب قریش نے دیکھا کہ آپ دعوت الیٰ اللہ کے کام میں حسب سابق مصروف عمل ہیں تو زیادہ دیر تک صبر نہ کر سکے۔ بلکہ آپس میں خاصی چہ میگوئی کی اور ناگواری کا اظہار کیا۔ حتیٰ کہ ابوطالب سے دوبارہ زیادہ سخت اور سنگین لہجے میں گفتگو کرنے کا فیصلہ کیا۔
سرداران قریش ابوطالب کے پاس پھر حاضر ہوئے اور بولے: ابو طالب ! آپ ہمارے اندر سن وشرف اور اعزاز کے مالک ہیں ، ہم نے آپ سے گزارش کی تھی کہ آپ اپنے بھتیجے کو روکیے لیکن آپ نے انہیں نہیں روکا۔ آپ یاد رکھیں ہم اسے برداشت نہیں کر سکتے کہ ہمارے اباء واجداد کو گالیاں دی جائیں۔ ہماری عقل وفہم کو حماقت زدہ قرار دیا جائے اور ہمارے معبودوں کی عیب چینی کی جائے۔ آپ روک دیجیے ورنہ ہم آپ سے اور ان سے ایسی جنگ چھیڑ دیں گے کہ ایک فریق کا صفایا ہو کر رہے گا۔
ابو طالب پر اس زور دار دھمکی کا بہت زیادہ اثر ہوا اور انہوں نے رسول اللہﷺ کو بلا کر کہا : بھتیجے ! تمہاری قوم کے لوگ میرے پاس آئے تھے اور ایسی ایسی باتیں کہہ گئے ہیں۔ اب مجھ پر اور خود اپنے آپ پر رحم کرو۔ اوراس معاملے میں مجھ پر اتنا بوجھ نہ ڈالو جو میرے بس سے باہر ہے۔
یہ سن کر رسول اللہﷺ نے سمجھا کہ اب آپ کے چچا بھی آپ کا ساتھ چھوڑدیں گے اور وہ بھی آپ کی مدد سے کمزور پڑ گئے ہیں۔ اس لیے فرمایا : چچا جا ن ! اللہ کی قسم ! اگر یہ لوگ میرے داہنے ہاتھ میں سورج اور بائیں ہاتھ میں چاند رکھ دیں کہ میں اس کام کو اس حد تک پہنچائے بغیر چھوڑ دوں کہ یا تواللہ اسے غالب کردے یا مَیں اسی راہ میں فنا ہو جاؤں تو نہیں چھوڑ سکتا۔
اس کے بعد آپ کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں ، آپ روپڑے۔ اور اٹھ گئے۔ جب واپس ہونے لگے تو ابوطالب نے پکارا اور سامنے تشریف لائے تو کہا : بھتیجے ! جاؤ جو چاہو کہو۔ اللہ کی قسم! میں تمہیں کبھی بھی کسی بھی وجہ سے نہیں چھوڑ سکتا۔ (ابن ہشام۱/۲۶۵، ۲۶۶) اور یہ اشعار کہے :
واللّٰہ لن یصلوا الیک بجمعہم
حتی أوسد فی التراب دفیناً
فاصدع بآمرک ما علیک غضاضۃ
وابشر وقر بذاک منک عیونًا
''واللہ! وہ لوگ تمہارے پاس اپنی جمعیت سمیت بھی ہرگز نہیں پہنچ سکتے۔ یہاں تک کہ میں مٹی میں دفن کردیا جاؤں۔ تم اپنی بات کھلم کھلا کہو۔ تم پر کوئی قدغن نہیں ، تم خوش ہوجاؤ اور تمہاری آنکھیں اس سے ٹھنڈی ہو جائیں۔'' (مختصر السیرۃشیخ محمد بن عبد الوھاب ص ۶۸)
قریش کی ابو طالب کو ایک آفر:
پچھلی دھمکی کے باوجود جب قریش نے دیکھا کہ رسول اللہﷺ اپنا کام کیے جارہے ہیں تو ان کی سمجھ میں آگیا کہ ابو طالب رسول اللہﷺ کو چھوڑ نہیں سکتے۔ بلکہ اس بارے میں قریش سے جدا ہونے اور ان کی عداوت مول لینے کو تیار ہیں۔ چنانچہ وہ لوگ ولید بن مغیرہ کے لڑکے عُمَارَہ کو ہمراہ لے کر ابوطالب کے پاس پہنچے اور ان سے یوں عرض کیا :
اے ابو طالب ! یہ قریش کا سب سے بانکا اور خوبصورت نوجوان ہے ، آپ اسے لے لیں۔ اس کی دیت اور نصرت کے آپ حق دار ہوں گے، آپ اسے اپنا لڑکا بنالیں ، یہ آپ کا ہوگا اور آپ اپنے اس بھتیجے کو ہمارے حوالے کردیں جس نے آپ کے آباء و اجداد کے دین کی مخالفت کی ہے۔ آپ کی قوم کا شیرازہ منتشر کر رکھا ہے اور ان کی عقلوں کوحماقت سے دوچار بتلایاہے ، ہم اسے قتل کریں گے۔ بس یہ ایک آدمی کے بدلے ایک آدمی کا حساب ہے۔
ابو طالب نے کہا : اللہ کی قسم ! کتنا بُرا سودا ہے جو تم لوگ مجھ سے کر رہے ہو۔ تم اپنا بیٹا مجھے دیتے ہو کہ میں اسے کھلاؤں پلاؤں۔ پالوں پوسوں اور میرا بیٹا مجھ سے طلب کرتے ہو کہ اسے قتل کردو۔ اللہ کی قسم ! یہ نہیں ہوسکتا۔
اس پر نوفَل بن عبد مناف کا پوتا مُطْعِم بن عَدِی بولا : اللہ کی قسم ! اے ابوطالب ! تم سے تمہاری قوم نے انصاف کی بات کہی ہے اور جو صورت تمہیں ناگوار ہے اس سے بچنے کی کوشش کی ہے ، لیکن دیکھتا ہوں کہ تم ان کی کسی بات کو قبول نہیں کرنا چاہتے۔
جواب میں ابوطالب نے کہا : واللہ !تم لوگوں نے مجھ سے انصاف کی بات نہیں کی ہے بلکہ تم بھی میرا ساتھ چھوڑ کر میرے مخالف لوگوں کی مدد پر تُلے بیٹھے ہو تو ٹھیک ہے جو چاہو کرو۔ (ابن ہشام ۱/۲۶۶، ۲۶۷)

مکمل تحریر >>

ًمحاز آرائی کی تیسری صورت: پہلوں کے واقعات اور افسانوں کا قرآن سے مقابلہ کرنا


مشرکین اپنے مذکورہ شبہات کو پھیلانے کے علاوہ ہر ممکن طریقے سے لوگوں کو قرآن کی سماعت سے دور رکھنے کی کوشش بھی کرتے تھے۔ چنانچہ وہ لوگوں کو ایسی جگہوں سے بھگا تے اور جب دیکھتے کہ نبیﷺ دعوت وتبلیغ کے لیے اٹھنا چاہتے ہیں یا نماز میں قرآن کی تلاوت فرما رہے ہیں تو شور کرتے اور تالیاں اور سیٹیاں بجاتے۔ جیسا کہ قرآن بتاتا ہے۔
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا لَا تَسْمَعُوا لِهَـٰذَا الْقُرْ‌آنِ وَالْغَوْا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ (۴۱: ۲۶) 
کفار نے کہا: یہ قرآن نہ سنو ، اور اس میں شور مچاؤ تاکہ تم غالب رہو۔
اس صورتِ حال کا نتیجہ یہ تھا کہ نبیﷺ کو ان کے مجمعوں اور محفلوں کے اندر پہلی بار قرآن تلاوت کرنے کا موقع پانچویں سن نبوت کے اخیر میں مل سکا۔ وہ بھی اس طرح کہ آپ نے اچانک کھڑے ہوکر قرآن کی تلاوت شروع کردی اور پہلے سے کسی کو اس کا اندازہ نہ ہو سکا۔
نضر بن حارث قریش کے شیطانوں میں سے ایک شیطان تھا۔ وہ حیرہ گیا۔ وہاں بادشاہوں کے واقعات اور رستم واِسْفَنْدیار کے قصے سیکھے۔ پھر واپس آیا تو جب رسول اللہﷺ کسی جگہ بیٹھ کر اللہ کی باتیں کرتے اور اس کی گرفت سے لوگوں کو ڈراتے تو آپ کے بعد یہ شخص وہاں پہنچ جاتا اور کہتاکہ واللہ ! محمدکی باتیں مجھ سے بہتر نہیں، اس کے بعد وہ فارس کے بادشاہوں اور رُستم واسفندیار کے قصے سناتا پھر کہتا۔ آخر کس بنا پر محمد کی بات مجھ سے بہتر ہے۔( ملخص از ابن ہشام ۱/۲۹۹ ، ۳۰۰، ۳۵۸ )
ابن عباسؓ کی ایک روایت ہے کہ نضر نے ایک لونڈی خرید رکھی تھی جب وہ کسی آدمی کے متعلق سنتا کہ وہ نبیﷺ کی طرف مائل ہے تو اس کو اس لونڈی کے پاس لیجاکر کہتا کہ اسے کھلاؤ پلاؤ اور گانے سناؤ۔ یہ تمہارے لیے اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم کو محمد بلاتے ہیں۔( الدر المنثور تفسیر سورۂ لقمان آیت ۶ (۵؍۳۷)) اسی کے بارے میں یہ ارشاد ِ الٰہی نازل ہوا:
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِ‌ي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ (۳۱: ۶)
''کچھ لوگ ایسے ہیں جو کھیل کی بات خریدتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں۔''
جب قریش اپنی اس گفت وشنید میں ناکا م ہوگئے اور ابو طالب کو اس بات پر مطمئن نہ کرسکے کہ وہ رسول اللہﷺ کو روکیں ، اور انہیں دعوت الیٰ اللہ سے باز رکھیں توا نہوں نے ایک ایسا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا جس پر چلنے سے وہ اب تک کتراتے رہے تھے اور جس کے انجام ونتائج کے خوف سے انہوں اب تک دو ر رہنا ہی مناسب سمجھا تھا اور وہ راستہ تھا رسول اللہﷺ کی ذات پر ظلم وجور کا راستہ۔

مکمل تحریر >>

محاز آرائی کی دوسری صورت: شکوک و شبہات پیدا کرنا اور جھوٹا پروپیگینڈا کرنا


یہ کام انہوں نے اس کثرت سے کیا اور ایسے ایسے انداز سے کیا کہ عوام کو آپ کی دعوت وتبلیغ پر غور وفکر کا موقع ہی نہ مل سکا، چنانچہ وہ قرآن کے بارے میں کہتے کہ:
یہ پریشان خواب ہیں جنہیں محمد رات میں دیکھتے اور دن میں تلاوت کردیتے ہیں۔ کبھی کہتے بلکہ اسے انہوں نے خود ہی گھڑ لیا ہے۔ کبھی کہتے انہیں کوئی انسان سکھاتا ہے۔ کبھی کہتےیہ قرآن تو محض جھوٹ ہے۔ اسے محمد نے گھڑ لیا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں نے اس پر ان کی مدد کی ہے۔ یعنی آپ اور آپ کے ساتھیوں نے مل کر اسے گھڑ لیا ہے۔ اور یہ بھی کہا کہ یہ پہلوں کے افسانے ہیں جنہیں اس نے لکھوا لیا ہے۔ اور اب یہ اس پر صبح وشام پڑھے جاتے ہیں۔کبھی یہ کہتے کہ کاہنوں کی طرح آپ پر بھی کوئی جن یا شیطان اترتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا: 
هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَىٰ مَن تَنَزَّلُ الشَّيَاطِينُ ﴿٢٢١﴾ تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ ﴿٢٢٢﴾ (۲۶:۲۲۱، ۲۲۲
آپ کہہ دیں میں بتلاؤں کس پر شیطان اترتے ہیں ؟ ہر جھوٹ گھڑنے والے گنہگار پر اترتے ہیں۔
یعنی شیطان کا نزول جھوٹے اور گناہوں میں لت پت لوگوں پر ہوتا ہے اور تم لوگوں نے مجھ سے نہ کبھی کوئی جھوٹ سنا ، اور نہ مجھ میں کبھی کوئی فسق پایا؟ پھر قرآن کو شیطان کا نازل کیا ہوا کیسے قرار دے سکتے ہو ؟
کبھی انہوں نے نبیﷺ کے بارے میں یہ کہا کہ آپ ایک قسم کے جنون میں مبتلا ہیں۔ جس کی وجہ سے آپ معانی کا تخیل کرتے ہیں، اور انہیں عمدہ اورنادر قسم کے کلمات میں ڈھال لیتے ہیں۔ جس طرح شعراء اپنے خیالات کو حسین الفاظ کا جامہ پہنایا کرتے ہیں۔ لہٰذا وہ بھی شاعر ہیں ، اور ان کا کلام شعر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا 
: وَالشُّعَرَ‌اءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ ﴿٢٢٤﴾ أَلَمْ تَرَ‌ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ ﴿٢٢٥﴾ وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ ﴿٢٢٦﴾ (۲۶: ۲۲۴ تا ۲۲۶)
یعنی شعراء کے پیچھے گمراہ لوگ چلتے ہیں تم دیکھتے نہیں کہ وہ ہر وادی کا چکر کاٹتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جنہیں کرتے نہیں،
یعنی یہ شعراء کی تین خصوصیات ہیں اور ان میں سے کوئی بھی خصوصیت نبیﷺ میں موجود نہیں۔ چنانچہ جو لوگ آپ کے پیروکار ہیں وہ ہدایت یاب وہدایت کار ہیں۔ اپنے دین ، اخلاق ، اعمال اور تصرفات ہر چیز میں صالح اور پرہیز گار ہیں۔ ان پر ان کی زندگی کے کسی بھی معاملے میں گمراہی کا نام ونشان نہیں۔ پھر نبیﷺ شعراء کی طرح ہر وادی کا چکر نہیں کاٹتے، بلکہ ایک رب، ایک دین ، اور ایک راستے کی دعوت دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں آپ وہی کہتے ہیں جو کرتے ہیں ، اور وہی کرتے ہیں جو کہتے ہیں۔ لہٰذا آپ کو شعراء اور ان کی شاعری سے کیا واسطہ ؟ اور شعراء اور ان کی شاعری کو آپ سے کیا واسطہ ؟ 
یوں وہ لوگ نبیﷺ کے خلاف اور قرآن واسلام کے خلاف جو شبہ بھی اٹھاتے تھے ، اللہ تعالیٰ اس کا کافی وشافی جواب دیتا تھا۔
ان کے زیادہ تر شبہات توحید ، محمدﷺ کی رسالت اور مرنے کے بعد قیامت کے روز دوبارہ اٹھائے جانے سے متعلق ہوا کرتے تھے۔ قرآن نے توحید کے متعلق ان کے ہر شبہے کا ردّ کیا ہے۔ بلکہ مزید اتنی باتیں بیان کی ہیں جن سے اس قضیے کا ہر پہلو واضح ہوگیا ہے اور اس کا کوئی پہلو تشنہ نہیں چھوٹا ہے۔ اس ضمن میں ان کے معبودوں کی عاجزی ومجبوری اس طرح کھول کر بیان کی ہے کہ اس پر اضافے کی گنجائش نہیں اور شاید اسی بات پر ان کا غصہ بھڑک اٹھا اور پھر جو کچھ پیش آیا وہ معلوم ہے۔
جہاں تک نبیﷺ کی پیغمبری کے بارے میں ان کی شبہات کا تعلق ہے تو وہ تو یہ تسلیم کرتے تھے کہ آپﷺ سچے، امانتدار اور انتہائی صلاح وتقویٰ پر قائم ہیں ، لیکن وہ سمجھتے تھے کہ منصب نبوت ورسالت اس سے کہیں زیادہ عظیم وجلیل ہے کہ وہ کسی انسان کو دیا جائے۔ یعنی ان کا عقیدہ تھا کہ جو بشر ہے وہ رسول نہیں ہوسکتا اور جو رسول ہو وہ بشر نہیں ہوسکتا۔ اس لیے جب رسول اللہﷺ نے اپنی نبوت کاا علان کیا اور اپنے اوپر ایمان لانے کی دعوت دی تو انہیں حیرت ہوئی اور انہوں نے کہا
: وَقَالُوا مَالِ هَـٰذَا الرَّ‌سُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ ۙ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرً‌ا ﴿٧﴾ (۲۵:۷) 
یہ کیسا رسول ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا
: قَالُوا مَا أَنزَلَ اللَّـهُ عَلَىٰ بَشَرٍ‌ مِّن شَيْءٍ (۶: 91) اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز نہیں اتاری ہے۔
اللہ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا
: قُلْ مَنْ أَنزَلَ الْكِتَابَ الَّذِي جَاءَ بِهِ مُوسَىٰ نُورً‌ا وَهُدًى لِّلنَّاسِ (۶: ۹۱) آپ کہہ دیں وہ کتاب کس نے اتاری ہے جسے موسیٰ علیہ السلام لے کر آئے تھے اور جو لوگوں کے لیے نور اور ہدایت ہے۔
وہ چونکہ جانتے تھے اور مانتے تھے کہ موسیٰ علیہ السلام بشر ہیں۔ اس لیے جواب نہ دے سکے۔ اللہ نے ان کے رد میں یہ بھی فرمایا کہ ہرقوم نے اپنے پیغمبروں کی پیغمبری کا انکار کرتے ہوئے یہی کہا تھا کہ
: أَنتُمْ إِلَّا بَشَرٌ‌ مِّثْلُنَا (۱۴: ۱۰) تم لوگ ہمارے ہی جیسے بشر ہو
نَّحْنُ إِلَّا بَشَرٌ‌ مِّثْلُكُمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَمُنُّ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ (۱۴: ۱۱) اور اس کے جواب میں پیغمبر وں نے ان سے کہا تھا کہ ہم لوگ یقینا ً تمہارے ہی جیسے بشرہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے۔
مطلب یہ کہ انبیاء ورسل ہمیشہ بشر ہی ہوا کیے ہیں۔ بشریت اور رسالت میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ 
چونکہ انہیں اقرار تھا کہ ابراہیم اور اسماعیل اور موسیٰ پیغمبر تھے اور بشر بھی تھے، اس لیے وہ اپنے اس شبہ پر زیادہ اصرار نہ کر سکے۔ اس لیے انہوں نے پینترا بدلا اور کہنے لگے : اچھا اگر ایسا ہے بھی کہ بشر پیغمبر ہوسکتا ہے تو کیا اللہ تعالیٰ کو اپنی پیغمبری کے لیے یہی یتیم ومسکین انسان ملا تھا ؟ یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مکہ اور طائف کے بڑے بڑے لوگوں کو چھوڑ کر اس مسکین کو پیغمبر بنالے۔
لَوْلَا نُزِّلَ هَـٰذَا الْقُرْ‌آنُ عَلَىٰ رَ‌جُلٍ مِّنَ الْقَرْ‌يَتَيْنِ عَظِيمٍ (۴۳: ۳۱) یہ قرآن ان دونوں آبادیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ اتارا گیا۔ اللہ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا؟
کیا یہ لوگ تیرے رب کی رحمت تقسیم کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وحی ورسالت تو اللہ کی رحمت ہے اور
اللَّـهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِ‌سَالَتَهُ (۶: ۱۲۴) اللہ ہی زیادہ جانتا ہے کہ اسے اپنی پیغمبری کہاں رکھنی چاہیے۔


ان جوابات کے بعد مشرکین نے ایک اور پہلو بدلا اور کہنے لگے کہ دنیا کے بادشاہوں کے ایلچی تو خدم وحشم کے جلو میں چلتے ہیں، ان کا بڑا جاہ وجلال ہوا کرتا ہے اور ان کے لیے ہر طرح کے سامان زندگی مہیا رہا کرتے ہیں۔ پھر محمد کا کیا معاملہ ہے کہ وہ اللہ کے رسول ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور انہیں لقمۂ زندگی کے لیے بازاروں کے چکر بھی کاٹنا پڑتے ہیں۔
لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرً‌ا ﴿٧﴾ أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا ۚ (۲۵:۷،۸) ان پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا جو ان کے ساتھ ڈرانے والا ہوتا۔ یا ان کی طرف خزانہ کیوں نہیں ڈال دیاگیا۔ یا ان کا کوئی باغ ہی ہوتا جس سے وہ کھاتے اور ظالموں نے کہا کہ تم لوگ تو ایک جادو کیے ہوئے آدمی کی پیروی کر رہے ہو۔
اللہ نے اس ساری کٹ حجتی کا ایک مختصر سا جواب دیا کہ محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ یعنی آپ کی مہم یہ ہے کہ آپ ہر چھوٹے بڑے ، کمزور اور طاقتور ، شریف اور پست ، آزاد اور غلام تک اللہ کا پیغام پہنچا دیں۔ لہٰذا اگر ایسا ہوتاکہ آپ بھی بادشاہوں کے ایلچیوں کی طرح جاہ وجلال ،خدم وحشم ، اردلی اور جلو میں چلنے والوں کے ساتھ بھیجے جاتے تو کمزور اور چھوٹے لوگ تو آپ تک پہنچ ہی نہیں سکتے تھے کہ آپ سے کسی طرح کا استفادہ کر سکیں۔ حالانکہ یہی جمہور ہیں۔ لہٰذا ایسی صورت میں پیغمبر بنانے کا مقصد ہی فوت ہوجاتا اور اس کا کوئی قابل ذکر فائدہ نہ ہوتا۔
جہاں تک مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کے معاملے کا تعلق ہے تو اس کے انکار کے لیے مشرکین کے پاس ،حیرت واستعجاب اورعقلی استبعاد کے علاوہ کوئی دلیل نہ تھی۔ وہ تعجب سے کہتے تھے:
وَكَانُوا يَقُولُونَ أَئِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَ‌ابًا وَعِظَامًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ ﴿٤٧﴾ أَوَآبَاؤُنَا الْأَوَّلُونَ ﴿٤٨﴾ (۵۶: ۴۷، ۴۸
کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈی ہوجائیں گے تو پھر اٹھادئے جائیں گے کیا ہمارے پہلے باپ دادا بھی؟ (الصافات :۱۶، ۱۷) پھر خود ہی کہتے تھے:یہ دور کی واپسی ہے۔ تعجب سے کہتے
: وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلَىٰ رَ‌جُلٍ يُنَبِّئُكُمْ إِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّكُمْ لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ ﴿٧﴾ أَفْتَرَ‌ىٰ عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا أَم بِهِ جِنَّةٌ (۳۴: ۷،۸)
کیاہم تمہیں ایک ایسا آدمی نہ بتلائیں جو خبر دیتا ہے کہ جب تم لوگ بالکل ریزہ ریزہ ہوجائوگے تو پھر تمہاری ایک نئی پیدائش ہوگی۔ معلوم نہیں اس نے اللہ پر جھوٹ گھڑا ہے یا اس کو پاگل پن ہے۔ کہنے والے نے یہ بھی کہا:
أموت ثم بعث ثم حشر
حدیث خرافۃ یا أم عمرو
''کیا موت ، اس کے بعد زندگی ، اس کے بعد حشر ؟ ام عمرو ! یہ تو خرافات کی بات ہے۔ ''
اللہ نے اس کی تردید کے لیے دنیا میں پیش آنے والے حالات پر ان کی نظر ڈلوائی کہ دیکھو ! ظالم اپنے ظلم کی جزا پائے بغیر دنیا سے گزر جاتا ہے اور مظلوم بھی ظالم سے اپناحق وصول کیے بغیر موت سے دوچار ہو جاتاہے۔ محسن اور صالح اپنے احسان اور صلاح کا بدلہ پائے بغیر فوت ہوجاتا ہے اور فاجر اور بدکار اپنی بدعملی کی سزا پائے بغیر مر جاتا ہے۔ اب اگر انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ نہ اٹھایا جائے اور اس کے عمل کا بدلہ نہ دیا جائے تو دونوں فریق برابر ہو جائیں گے۔ بلکہ ظالم اور فاجر مظلوم اور نیکوکار سے زیادہ ہی خوش قسمت ہوں گے اور یہ بات قطعاً غیر معقول ہے اور اللہ کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ وہ اپنی مخلوق کے نظام کی بنیاد ایسے فساد پر رکھے گا۔ اللہ فرماتا ہے:
أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِ‌مِينَ ﴿٣٥﴾ مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ ﴿٣٦﴾ (۶۸: ۳۵،۳۶) کیا ہم تابعداروں کو مجرموں جیسا ٹھہرائیں گے۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ تم کیسے فیصلے کررہے ہو؟
نیز فرمایا: أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْ‌ضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ‌ (۳۸: ۲۸)
کیا ہم ایمان لانے والوں اور عمل صالح کرنے والوں کو زمین کے اندر فساد برپا کرنے والوں جیسا بنائیں گے ؟ یا کیا ہم پرہیز گاروں کو فاجروں جیسا ٹھہرائیں گے؟
اور فرمایا
: أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَن يَسْبِقُونَا ۚ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ (۲۹: ۴)
کیا برائیاں کرنے والے سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں ایمان لانے والوں اور عمل صالح کرنے والوں جیسا بنائیں گے کہ ان (دونوں گروہوں) کی زندگی اور موت یکساں ہو۔ بر افیصلہ ہے جو یہ کرتے ہیں۔
جہاں تک ان کے عقل استبعاد کا تعلق ہے تو اللہ نے اس کا رد کرتے ہوئے فرمایا
: أَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاءُ ۚ بَنَاهَا (۷۹: ۲۷) کیا تم پیدائش میں زیادہ سخت ہو یا آسمان ؟
اور فرمایا
: أَوَلَمْ يَرَ‌وْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ‌ عَلَىٰ أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ ۚ بَلَىٰ إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ‌ (۴۶: ۳۳)
کیا انہیں یہ نظر نہیں آتا کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کو پیدا کرنے سے نہیں تھکا ، وہ اس پر بھی قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کردے ؟ کیوں نہیں ،یقینا وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
نیز فرمایا
: وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولَىٰ فَلَوْلَا تَذَكَّرُ‌ونَ (۵۶: ۶۲) تم پہلی پیدائش تو جانتے ہی ہو، پھر حقیقت کیوں نہیں مانتے۔
اللہ تعالیٰ نے وہ بات بھی بتلائی جو عقلاً اور عرفاً دونوں طرح معروف ہے کہ کسی چیز کو دوبارہ کرنا پہلی بار سے زیادہ آسان ہوتا ہے۔ فرمایا
: كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيدُهُ ۚ وَعْدًا عَلَيْنَا ۚ إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ (۲۱: ۱۰۴) جیسے ہم نے پہلی بار پیدائش کی ابتدا کی تھی اسی طرح پلٹا بھی لیں گے۔
اور فرمایا :کیا پہلی بار پیدا کرنے سے ہم تھک گئے ہیں۔ یوں اللہ تعالیٰ نے ان کے ایک ایک شبہے کا نہایت اطمینان بخش جواب دیا۔ جس سے ہر سوجھ بوجھ والا آدمی مطمئن ہو سکتا ہے لیکن کفار مکہ ہنگامہ پسند تھے۔ ان میں استکبار تھا۔ وہ زمین پر بڑے بن کر رہنا چاہتے تھے اور مخلوق پر اپنی رائے لاگو کرنا چاہتے تھے، اس لیے اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہے۔

مکمل تحریر >>

قریش کی محاز آرائی کی پہلی صورت


یہ قرار داد طے پاچکی تو اسے جامۂ عمل پہنانے کی کارروائی شروع ہوئی کچھ کفارِ مکہ عازمین حج کے مختلف راستوں پر بیٹھ گئے اور وہاں سے ہر گزرنے والے کو آپ کے ''خطرے'' سے آگاہ کرتے ہوئے آپ کے متعلق تفصیلات بتانے لگے۔ (ابن ہشام ۱/۲۷۱)
جہاں تک رسول اللہﷺ کا تعلق ہے تو آپ حج کے ایام میں لوگوں کے ڈیروں اور عُکاظ، مجنہ اور ذو المجازکے بازاروں میں تشریف لے جاتے اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتے۔ ادھر ابولہب آپ کے پیچھے پیچھے لگا رہتا اور کہتا کہ اس کی بات نہ ماننا یہ جھوٹا بددین ہے۔ (مسند احمد ۳/۴۹۲، ۴/۳۴۱ میں اس کی یہ حرکت مروی ہے۔ نیز دیکھئے: البدایۃ والنہایۃ ۵/۷۵ ، کنزل العمال ۱۲/۴۴۹، ۴۵۰)
اس دوڑ دھوپ کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ اس حج سے اپنے گھروں کو واپس ہوئے تو ان کے علم میں یہ بات آچکی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوی ٔنبوت کیا ہے اور یوں ان کے ذریعے پورے دیارِ عرب میں آپ کا چرچا پھیل گیا۔
جب قریش نے دیکھا کہ محمدﷺ کو تبلیغ دین سے روکنے کی حکمت کار گر نہیں ہورہی ہے تو ایک بار پھر انہوں نے غور وخوض کیا اور آپ کی دعوت کا قلع قمع کرنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے جن کا خلاصہ یہ ہے۔
ہنسی ، ٹھٹھا ، تحقیر ، استہزا ، اور تکذیب:... اس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو بددل کر کے ان کے حوصلے توڑ دیئے جائیں۔ اس کے لیے مشرکین نے نبیﷺ کو نارواتہمتوں اور بیہودہ گالیوں کا نشانہ بنا یا۔
چنانچہ وہ کبھی آپ کو پاگل کہتے، جیسا کہ ارشاد ہے :
وَقَالُوا يَا أَيُّهَا الَّذِي نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ‌ إِنَّكَ لَمَجْنُونٌ (۱۵: ۶)
''ان کفار نے کہا کہ اے وہ شخص جس پر قرآن نازل ہوا تو یقینا پاگل ہے۔''
اور کبھی آپ پر جادو گر اور جھُوٹے ہونے کا الزام لگاتے۔چنانچہ ارشاد ہے :
وَعَجِبُوا أَن جَاءَهُم مُّنذِرٌ‌ مِّنْهُمْ ۖ وَقَالَ الْكَافِرُ‌ونَ هَـٰذَا سَاحِرٌ‌ كَذَّابٌ (۳۸: ۴)
''انہیں حیرت ہے کہ خود انہیں میں سے ایک ڈرانے والا آیا اور کافرین کہتے ہیں کہ یہ جادوگر ہے جھوٹا ہے۔''
یہ کفار آپ کے آگے پیچھے پُر غضب ،منتقمانہ نگاہوں اور بھڑکتے ہوئے جذبات کے ساتھ چلتے تھے۔
وَإِن يَكَادُ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَارِ‌هِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ‌ وَيَقُولُونَ إِنَّهُ لَمَجْنُونٌ (۶۸: ۵۱)
''اور جب کفار اس قرآن کو سنتے ہیں تو آپ کو ایسی نگاہوں سے دیکھتے ہیں کہ گویا آپ کے قدم اکھاڑدیں گے اور کہتے ہیں کہ یہ یقینا ً پاگل ہے۔''
اور جب آپ کسی جگہ تشریف فرما ہوتے اور آپ کے ارد گرد کمزور اور مظلوم صحابہ کرام ؓ موجود ہوتے تو انہیں دیکھ کر مشرکین استہزاء کرتے ہو ئے کہتے :
أَهَـٰؤُلَاءِ مَنَّ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَا (۶: ۵۳)
''اچھا ! یہی حضرات ہیں جن پر اللہ نے ہمارے درمیان سے احسان فرمایا ہے ؟''
جواباً اللہ کا ارشاد ہے :
أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِ‌ينَ (۶: ۵۳)
''کیا اللہ شکر گزاروں کو سب سے زیادہ نہیں جانتا۔''
عام طور پر مشرکین کی کیفیت وہی تھی جس کا نقشہ ذیل کی آیات میں کھینچا گیا ہے۔
إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَ‌مُوا كَانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ ﴿٢٩﴾ وَإِذَا مَرُّ‌وا بِهِمْ يَتَغَامَزُونَ ﴿٣٠﴾ وَإِذَا انقَلَبُوا إِلَىٰ أَهْلِهِمُ انقَلَبُوا فَكِهِينَ ﴿٣١﴾ وَإِذَا رَ‌أَوْهُمْ قَالُوا إِنَّ هَـٰؤُلَاءِ لَضَالُّونَ ﴿٣٢﴾ وَمَا أُرْ‌سِلُوا عَلَيْهِمْ حَافِظِينَ ﴿٣٣﴾ (۸۳: ۲۹تا۳۳)
''جو مجرم تھے وہ ایمان لانے والوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ اورجب ان کے پاس سے گزرتے تو آنکھیں مارتے تھے اور جب اپنے گھروں کو پلٹتے تو لُطف اندوز ہوتے ہوئے پلٹتے تھے اور جب انہیں دیکھتے تو کہتے کہ یہی گمراہ ہیں۔ حالانکہ وہ ان پر نگراں بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے۔''
انہوں نے سخریہ اور استہزاء کی بڑی کثرت کی اور طعن وتضحیک میں رفتہ رفتہ آگے بڑھتے گئے۔ یہاں تک کہ رسول اللہﷺ کی طبیعت پر اس کا اثر پڑا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُ‌كَ بِمَا يَقُولُونَ (۱۵: ۹۷)
''ہم جانتے ہیں کہ یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں اس سے آپ کا سینہ تنگ ہوتا ہے۔''
لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ثبات قدمی عطا فرمائی اور بتلایا کہ سینے کی یہ تنگی کس طرح جاسکتی ہے چنانچہ فرمایا:
فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَ‌بِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ ﴿٩٨﴾ وَاعْبُدْ رَ‌بَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ ﴿٩٩﴾ (۱۵:۹۸،۹۹)
یعنی''اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو اور سجدہ گزاروں میں سے ہو جاؤ اور اپنے پروردگار کی عبادت کرتے جاؤ یہاں تک کہ موت آجائے۔''
اور اس سے پہلے یہ بھی بتلادیا کہ ان استہزاء کرنے والوں سے نمٹنے کے لیے اللہ ہی کافی ہے۔ چنانچہ فرمایا :
إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ ﴿٩٥﴾ الَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ‌ ۚ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ (الحجر: ۹۵، ۹۶)
''ہم آپ کے لیے استہزاء کرنے والوں سے (نمٹنے کو) کافی ہیں جوا للہ کے ساتھ دوسرے کو معبود ٹھہراتے ہیں ، انہیں جلد ہی معلوم ہوجائے گا۔''
اللہ نے یہ بھی بتلایا کہ ان کا یہ فعل جلد ہی وبال بن کر ان پر پلٹے گا۔ چنانچہ ارشاد ہوا:
وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُ‌سُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُ‌وا مِنْهُم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ (الانعام :۱۰ ۔ الانبیاء :۴۱ )
''آپ سے پہلے پیغمبروں سے بھی استہزاء کیا گیا۔ توا ن کی ہنسی اڑانے والے جو استہزاء کر رہے تھے اس نے انہیں کو گھیر لیا۔''
مکمل تحریر >>