Sunday, 18 October 2015

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح اور ملحدین کا اعتراز


اعتراض : ایک خاتون جس كے باپ، بھائی اور شوہر كوجنگ میں محمد [صلی اللہ علیہ وسلم] كے لشكر كے ہاتھوں قتل كردیا گیا ہو، اسی دن كے آخری حصے میں وہ اپنے آپ كو ان سب كے قاتل كے ساتھ پائے تو اس كے دل پر كیا گزرتی ہوگی؟ اس سے میرا اشارہ صفیہ بنت حیی [رضی اللہ عنہا] كی طرف ہے! كوئی ہستی جو ربوبیت كی مالك ہو، كبھی اس كا حكم نہیں دے سكتی، میرا تو یہی خیال ہے كہ یہ قصہ پوری طرح من گھڑت ہے، میری طرح آپ بھی كچھ غور كریں!

جواب:

تمام تعریف اللہ كے لئے ہے۔
چند حقائق جو ام المومنین صفیہ رضی اللہ عنہا كے قصے سے متعلق ہیں، پیش خدمت ہیں:

صفیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے قید کیے جانے سے بے انتہا فائدہ حاصل کیا، یہی کیا کم ہے کہ آپ دولت ایمان سے بہریاب ہوئیں اور اس غلامی کے ذریعے اللہ نے آپ کو کفر سے نجات عطا فرمائی.
اسلام کے بعد آپ کے شرف وفضیلت کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہوگی کہ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زوجیت سے مشرف ہوکر پوری امت مسلمہ کی ماں قرار پائیں.
مزید برآں اللہ نے آپ کے حق میں ایسے فضائل جمع فرما دئیے جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی دیگر ازواج مطہرات کو بھی حاصل نہیں تھے! اور وہ یہ کہ آپ ایک نبی کی نسل سے تھیں، ایک نبی آپ کے چچا لگتے تھے، اور ایک نبی آپ کے شوہر!

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صفیہ رضی اللہ عنہا تک یہ بات پہنچی کہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپ کے بارے ‘یہودی کی بیٹی’ کی بھپتی کسی!! اس پر آپ رو پڑیں، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور انہیں روتے ہوئے پایا تو استفسار فرمایا کہ کیوں رو رہی ہو؟ تو عرض گزار ہوئیں کہ حفصہ[رضی اللہ عنہا] نے مجھے یہودی کی بیٹی کہا.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمانے لگے کہ تم تو ایک نبی کی بیٹی ہو [یعنی نبی کی نسل سے ہو]، ایک نبی تمہارے چچا لگتے ہیں، اور ایک نبی کی زوجیت میں ہو؛ تو وہ کس بات پر تم پر فخر جتاتی ہے؟

پھر فرمایا : حفصہ! اللہ سے ڈرو!

{ ترمذی ( 3894) نے اسے روایت کیا ہے اور اس کو صحیح قرار دیا ہے. }

لہذا صفیہ رضی اللہ عنہا ہارون بن عمران علیہ السلام کی نسل سے تھیں، اس لحاظ سے موسی بن عمران علیہ السلام آپ کے چچا ہوئے، اور آپ ایسے نبی کی زوجیت میں آئیں جو سب سے افضل انسان ہیں، محمد بن عبداللہ علیہ الصلاة والسلام.

[ یہ کہنا کہ جس دن صفیہ رضی اللہ عنہا کے باپ وغیرہ کو قتل کیا گیا اسی رات کو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آپ كے بستر پر تھیں سراسر بہتان ہے] نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا سے اس وقت تک ہمبستری نہیں کی جب تک ان کی عدت پوری نہیں ہوگئی.
انس ابن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر تشریف لائے. پھر جب اللہ نے آپ کو قلعے پر فتح عطا فرمائی تو آپ کے سامنے صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہا کی خوبصورتی کا ذکر کیا گیا، جن کا شوہر قتل کر دیا گیا تھا جبکہ وہ ابھی نئی نئی دلہن تھیں. چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے لئے منتخب فرما لیا. پھر آپ انہیں لے کر روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب آپ سد الروحاء کے مقام پر پہنچے تو صفیہ حلال ہوگئیں لہذا تب آپ نے ان كے ساتھ خلوت اختیار فرمائی ….

{ بخاری نے اسے روایت کیا ہے (2120)}

ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں: “حلال ہوئیں” یعنی حیض سے پاک ہوئیں.

{ “فتح الباری” ( 7 / 480 ) }

[واضح رہے کہ عدت کی تحدید شریعت نے حیض کے ذریعے کی ہے]

مسلم( 1365 ) کے یہاں انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (جس میں ہے کہ) پھر آپ نے انہیں (یعنی صفیہ رضی اللہ عنہا کو) ام سلیم کے حوالے کردیا تاکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے انہیں تیار کریں، ان کا بناؤ سنگھار کریں اور اس لیے کہ وہ(صفیہ) ان(ام سُلَیم) کے گھر اپنی عدت گزاریں.

نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں : جہاں تک بات ہے عدت گزارنے کی تو اس سے مراد استبراء رحم ہے [یعنی ایک حیض آنے تک انتظار کر کے اس بات کا تحقیق کرنا کہ حاملہ تو نہیں] اس لئے کہ وہ جنگ میں قید کی گئی تھیں جن کا استبراء واجب تھا، اس استبراء کی مدت میں آپ نے ان کو ام سلیم کے گھر رکھا. پھر جب استبراء مکمل ہوگیا تو ام سلیم نے انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا یعنی بناؤ سنگھار کر کے انہیں دلہن بنایا، گودنے اور نقلی بال جوڑنے جیسے جو ممنوع امور کے علاوہ جو زینت کے جائز طریقے ہیں ان سے.

{ “شرح مسلم” ( 9 / 222 ).}

اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک صفیہ رضی اللہ عنہا سے صحبت نہیں کی جب تک کہ انہوں نے اپنے اسلام کا اعلان نہیں کردیا، اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کرنے كے بعد [ان سے نکاح كیا، تب جاكر] ہی ان کے ساتھ شب باشی فرمائی. [اور یہ اسلام اور یہ نكاح سب ظاہر ہے كہ شریعت كے عین مطابق یعنی برضا ورغبت ہوا]۔
لہذا جس وقت آپ نے ان سے جماع كیا اس وقت وہ نہ تو یہودی تھیں نہ ہی کوئی باندی! بلكہ وہ آپ كی بیوی تھیں، جنہیں آپ نے مہر دیا تھا، اور ان كی آزادی ہی ان كا مہر تھی [كیونكہ آزادی مال كے عوض ہوتی ہے، لہذا یہ ایك باقاعدہ مالی انتفاع ہے۔] اور یہی نہیں بلكہ ان كی شادی كے ولیمے کا بھی اہتمام کیا تھا۔۔۔

ابراهيم بن جعفر اپنے والد سے روایت كرتے ہیں، وہ كہتے ہیں: جب صفیہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آئیں تو آپ نے ان سے كہا: “تمہارے والد برابر میرے سخت ترین یہودی دشمنوں میں سے رہے، یہاں تك كہ اللہ نے انہیں ہلاک كردیا۔”

عرض گزار ہوئیں كہ اے اللہ كے رسول! اللہ اپنی كتاب میں فرماتا ہے ( ولا تزر وازرة وزر أخرى ) [الأنعام/ 164] “كوئی بوجھ اٹھانے والا كسی دوسرے كا بوجھ نہیں اٹھائے گا”۔ [یعنی جس نے کیا ہے وہی بھرے گا بھی، نہ کہ کوئی اور]پھر اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا: ” فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے، اگر تم اسلام قبول كرلو تو میں تمہیں اپنے پاس ہی روک لوں گا، اور اگر تم یہودیت پر برقرار رہنا چاہو، تو ایسا ہے كہ میں تمہیں آزاد كیے دیتا ہوں، تم اپنی قوم كے پاس چلی جاؤ۔”عرض كی کہ اے اللہ کے رسول! میں تو آپ کے دعوت دینے کے پہلے ہی سے اسلام کی مشتاق تھی اور دل سے آپ کی تصدیق کرچکی تھی. جب میں آپ کے گھر آئی ہوں تب بھی مجھے یہودیت میں کوئی رغبت نہیں تھی. اور اب تو نہ ان میں کوئی میرا باپ ہے نہ بھائی. آپ نے مجھے کفر واسلام کے درمیان اختیار دیا ہے تو (میرا فیصلہ یہ ہے کہ ) اللہ اور اس کے رسول مجھے آزادی اور اپنی قوم میں لوٹنے سے زیادہ عزیز ہیں! راوی کہتے ہیں : چنانچہ اللہ کے رسول نے انہیں اپنے لئے ہی روک لیا.

(” الطبقات الكبرى ” ( 8 / 123 ) )

[یہ روایت اور اس میں مذكور یہ فراخ دلانہ پیشكش اور صفیہ رضی اللہ عنہا كا جواب مخالفین كے اعتراضات كے محل كو زمیں بوس كردینے كے لئے كافی ہے، اس سے صاف ظاہر ہے كہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے اپنی خوشی سے اسلام قبول كیا تھا اور برضا ورغبت آپ كے پاس رہنے كے لئے آمادگی ظاہر كی تھی، حالانكہ اس وقت تك آپ نے ان پر یہ ظاہر نہیں فرمایا تھا كہ آپ انہیں آزاد فرماكر باقاعدہ ام المؤمنین بنا دیں گے۔ پھر بھی صفیہ رضی اللہ عنہا نے آزادی اور اپنی قوم پر رسول اللہ كی غلامی كو ترجیح دی!]

اسی طرح انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر تشریف لائے….[درمیان كا حصہ اوپر مذكور ہے]… پھر آپ انہیں رخصت کرا کر لائے اور ان کے ساتھ شب زفاف منائی . اس کے بعد آپ نے ایک چھوٹے ‘نطع’ [دسترخوان] میں ‘حیس’ تیار کیا پھر فرمایا کہ اپنے آس پاس والوں کو اطلاع دے دو. تو یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا. پھر ہم اس کے بعد مدینہ کے لیے روانہ ہوئے. انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صفیہ رضی اللہ عنہا کے لیے اپنے آگے ایک عبا کو اونٹ کے کوہان کے گرد لپیٹ کر نشست گاہ بنا رہے ہیں. پھر (كیا دیكھتا ہوں كہ) آپ اونٹ كے پاس بیٹھ رہے ہیں، اور اپنا گھٹنا پیش كردیتے ہیں، اور صفیہ رضی اللہ عنہا زانوئے مبارك پر پیر ركھ كر سوار ہوجاتی ہیں!!!

{ بخاری نے اسے روایت کیا ہے (2120)}

“فبنی بھا” [يہ الفاظ اصل حدیث میں آئے ہیں]: یعنی ان كے پاس گئے، ‘بناء’ كا مطلب بیوی كے ساتھ خلوت میں ہونا، یا بیوی سے پہلی ملاقات کرنا ہوتا ہے [اسی كا ترجمہ شب زفاف منانے یا خلوت میں ہونے سے كیا گیا ہے]، “حیس”: كھجور، پنیر اور گھی کا مركب ہوتا ہے، یا یہ بھی كہا گیا ہے كہ كھجور اور ستو، یا كھجور اور گھی ملا كر بنتا ہے!

“نطع”: دباغت دی گئی کھالوں کو ایک ساتھ جوڑ کر بچھا دیا جاتا ہے اسے نطع کہتے ہیں. “اپنے آس پاس والوں کو اطلاع دے دو”: یعنی انہیں بتادو کہ وہ شادی کے ولیمے میں آجائیں. “یحوی”: [يہ لفظ اصل حدیث میں آیا ہے ] اونٹ کے کوہان کے گرد کپڑا لپیٹتے ہیں پھر اس پر سوار ہوتے ہیں.

نبی صلی اللہ علیہ وسلم كو اور اسلام كو صفیہ رضی اللہ عنہا كے باپ كی جانب سے جو كچھ (تكلیف یا نقصان) پہنچا تھا، آپ نے صفیہ رضی اللہ عنہا كو اس سے باخبر كردیا تھا، پھر آپ لگاتار انہیں اس كی خبر دیتے رہے، اور معذرت بھی كرتے رہے، یہاں تك كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے خلاف جو كچھ (غم وغصہ) ان كے دل میں تھا وه جاتا رہا۔۔۔ لہذا ایسا ہرگز نہیں تھا جیسا كہ كچھ بد طینت اور مفاد پرست جھوٹے لوگ اس واقعے كو بنا كر پیش كرتے ہیں كہ آپ نے ان كے ساتھ اس حال میں زندگی گزاری كہ وہ آپ سے ناراض تھیں، یا بغض ركھتی تھیں!! بلكہ ان كے اسلام لانے، ان سے شادی كرنے اور جو (غم وغصہ) ان كے دل میں تھا اس كے زائل ہونے كے بعد ہی آپ نے ان كو رفیقۂ حیات بنایا، حتی كہ آپ مسلمانوں کی ماں كے درجے اور مقام كی مستحق ہوئیں!!
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ … صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے نزدیک مبغوض ترین انسانوں میں سے تھے، اس لیے کہ انہوں نے میرے شوہر، باپ اور بھائی کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا. لیکن آپ لگاتار مجھ سے اس سلسلے میں معذرت کرتے رہے اور کہتے رہے : “تمہارا باپ عربوں کو میرے خلاف ورغلا کر مجھ پر چڑھا لایا [اشارہ ہے غزوہ احزاب کی طرف]، اور یہ کیا اور یہ کیا” یہاں تک کہ وہ (بغض) میرے دل سے دور ہو گیا.

{ اس کو ابن حبان نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے . (11/607) اور البانی نے اس کو حسن قرار دیا ہے . }

صفیہ (رضی اللہ عنہا ) نے پہلے سے ہی ایک خواب بھی دیکھ رکھا تھا، جس کی تعبیر ان کے یہودی شوہر نے یہ بیان کی تھی ان کی شادی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونے والی ہے .
چنانچہ عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: ……. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ کی آنکهوں پر ایک ہرا [چوٹ كا] نشان دیکھا . آپ نے ان سے پوچھا : صفیہ ! یہ ہرا نیل کیسا ہے ؟

انہوں نے کہا : میں ابن ابی حقیق کی گود میں سر رکھ کر سو رہی تھی . اسی دوران میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے ایک چاند میری گود میں آ کر گر گیا ہے . جب یہ خواب میں نے اس کو بتایا تو اس نے مجھے تهپڑ مار دیا اور بولا : تو یثرب (مدینے) کے بادشاہ کے خواب دیکھ رہی ہے! !!

{ اس کو ابن حبان نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے . (11/607) اور البانی نے اس کو حسن قرار دیا ہے . }

یہ ہے صفیہ رضی اللہ عنہا کے واقعے کی توضیح اور تفصیل! اللہ کرے کہ یہ موافقین کے لیے نفع بخش اور مخالفین کے لیے باعث ہدایت ہو!
واللہ اعلم.
اصل مضمون کا لنک:
http://islamqa.info/ar/165777

ترجمانی:مرزا احمد وسيم بیگ
عطاء الرحمن سنابلی
بشکریہ www.ilhaad.com

مکمل تحریر >>

Sunday, 25 January 2015

ًمحاز آرائی کی تیسری صورت: پہلوں کے واقعات اور افسانوں کا قرآن سے مقابلہ کرنا


مشرکین اپنے مذکورہ شبہات کو پھیلانے کے علاوہ ہر ممکن طریقے سے لوگوں کو قرآن کی سماعت سے دور رکھنے کی کوشش بھی کرتے تھے۔ چنانچہ وہ لوگوں کو ایسی جگہوں سے بھگا تے اور جب دیکھتے کہ نبیﷺ دعوت وتبلیغ کے لیے اٹھنا چاہتے ہیں یا نماز میں قرآن کی تلاوت فرما رہے ہیں تو شور کرتے اور تالیاں اور سیٹیاں بجاتے۔ جیسا کہ قرآن بتاتا ہے۔
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا لَا تَسْمَعُوا لِهَـٰذَا الْقُرْ‌آنِ وَالْغَوْا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ (۴۱: ۲۶) 
کفار نے کہا: یہ قرآن نہ سنو ، اور اس میں شور مچاؤ تاکہ تم غالب رہو۔
اس صورتِ حال کا نتیجہ یہ تھا کہ نبیﷺ کو ان کے مجمعوں اور محفلوں کے اندر پہلی بار قرآن تلاوت کرنے کا موقع پانچویں سن نبوت کے اخیر میں مل سکا۔ وہ بھی اس طرح کہ آپ نے اچانک کھڑے ہوکر قرآن کی تلاوت شروع کردی اور پہلے سے کسی کو اس کا اندازہ نہ ہو سکا۔
نضر بن حارث قریش کے شیطانوں میں سے ایک شیطان تھا۔ وہ حیرہ گیا۔ وہاں بادشاہوں کے واقعات اور رستم واِسْفَنْدیار کے قصے سیکھے۔ پھر واپس آیا تو جب رسول اللہﷺ کسی جگہ بیٹھ کر اللہ کی باتیں کرتے اور اس کی گرفت سے لوگوں کو ڈراتے تو آپ کے بعد یہ شخص وہاں پہنچ جاتا اور کہتاکہ واللہ ! محمدکی باتیں مجھ سے بہتر نہیں، اس کے بعد وہ فارس کے بادشاہوں اور رُستم واسفندیار کے قصے سناتا پھر کہتا۔ آخر کس بنا پر محمد کی بات مجھ سے بہتر ہے۔( ملخص از ابن ہشام ۱/۲۹۹ ، ۳۰۰، ۳۵۸ )
ابن عباسؓ کی ایک روایت ہے کہ نضر نے ایک لونڈی خرید رکھی تھی جب وہ کسی آدمی کے متعلق سنتا کہ وہ نبیﷺ کی طرف مائل ہے تو اس کو اس لونڈی کے پاس لیجاکر کہتا کہ اسے کھلاؤ پلاؤ اور گانے سناؤ۔ یہ تمہارے لیے اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم کو محمد بلاتے ہیں۔( الدر المنثور تفسیر سورۂ لقمان آیت ۶ (۵؍۳۷)) اسی کے بارے میں یہ ارشاد ِ الٰہی نازل ہوا:
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِ‌ي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ (۳۱: ۶)
''کچھ لوگ ایسے ہیں جو کھیل کی بات خریدتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں۔''
جب قریش اپنی اس گفت وشنید میں ناکا م ہوگئے اور ابو طالب کو اس بات پر مطمئن نہ کرسکے کہ وہ رسول اللہﷺ کو روکیں ، اور انہیں دعوت الیٰ اللہ سے باز رکھیں توا نہوں نے ایک ایسا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا جس پر چلنے سے وہ اب تک کتراتے رہے تھے اور جس کے انجام ونتائج کے خوف سے انہوں اب تک دو ر رہنا ہی مناسب سمجھا تھا اور وہ راستہ تھا رسول اللہﷺ کی ذات پر ظلم وجور کا راستہ۔

مکمل تحریر >>

محاز آرائی کی دوسری صورت: شکوک و شبہات پیدا کرنا اور جھوٹا پروپیگینڈا کرنا


یہ کام انہوں نے اس کثرت سے کیا اور ایسے ایسے انداز سے کیا کہ عوام کو آپ کی دعوت وتبلیغ پر غور وفکر کا موقع ہی نہ مل سکا، چنانچہ وہ قرآن کے بارے میں کہتے کہ:
یہ پریشان خواب ہیں جنہیں محمد رات میں دیکھتے اور دن میں تلاوت کردیتے ہیں۔ کبھی کہتے بلکہ اسے انہوں نے خود ہی گھڑ لیا ہے۔ کبھی کہتے انہیں کوئی انسان سکھاتا ہے۔ کبھی کہتےیہ قرآن تو محض جھوٹ ہے۔ اسے محمد نے گھڑ لیا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں نے اس پر ان کی مدد کی ہے۔ یعنی آپ اور آپ کے ساتھیوں نے مل کر اسے گھڑ لیا ہے۔ اور یہ بھی کہا کہ یہ پہلوں کے افسانے ہیں جنہیں اس نے لکھوا لیا ہے۔ اور اب یہ اس پر صبح وشام پڑھے جاتے ہیں۔کبھی یہ کہتے کہ کاہنوں کی طرح آپ پر بھی کوئی جن یا شیطان اترتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا: 
هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَىٰ مَن تَنَزَّلُ الشَّيَاطِينُ ﴿٢٢١﴾ تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ ﴿٢٢٢﴾ (۲۶:۲۲۱، ۲۲۲
آپ کہہ دیں میں بتلاؤں کس پر شیطان اترتے ہیں ؟ ہر جھوٹ گھڑنے والے گنہگار پر اترتے ہیں۔
یعنی شیطان کا نزول جھوٹے اور گناہوں میں لت پت لوگوں پر ہوتا ہے اور تم لوگوں نے مجھ سے نہ کبھی کوئی جھوٹ سنا ، اور نہ مجھ میں کبھی کوئی فسق پایا؟ پھر قرآن کو شیطان کا نازل کیا ہوا کیسے قرار دے سکتے ہو ؟
کبھی انہوں نے نبیﷺ کے بارے میں یہ کہا کہ آپ ایک قسم کے جنون میں مبتلا ہیں۔ جس کی وجہ سے آپ معانی کا تخیل کرتے ہیں، اور انہیں عمدہ اورنادر قسم کے کلمات میں ڈھال لیتے ہیں۔ جس طرح شعراء اپنے خیالات کو حسین الفاظ کا جامہ پہنایا کرتے ہیں۔ لہٰذا وہ بھی شاعر ہیں ، اور ان کا کلام شعر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا 
: وَالشُّعَرَ‌اءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ ﴿٢٢٤﴾ أَلَمْ تَرَ‌ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ ﴿٢٢٥﴾ وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ ﴿٢٢٦﴾ (۲۶: ۲۲۴ تا ۲۲۶)
یعنی شعراء کے پیچھے گمراہ لوگ چلتے ہیں تم دیکھتے نہیں کہ وہ ہر وادی کا چکر کاٹتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جنہیں کرتے نہیں،
یعنی یہ شعراء کی تین خصوصیات ہیں اور ان میں سے کوئی بھی خصوصیت نبیﷺ میں موجود نہیں۔ چنانچہ جو لوگ آپ کے پیروکار ہیں وہ ہدایت یاب وہدایت کار ہیں۔ اپنے دین ، اخلاق ، اعمال اور تصرفات ہر چیز میں صالح اور پرہیز گار ہیں۔ ان پر ان کی زندگی کے کسی بھی معاملے میں گمراہی کا نام ونشان نہیں۔ پھر نبیﷺ شعراء کی طرح ہر وادی کا چکر نہیں کاٹتے، بلکہ ایک رب، ایک دین ، اور ایک راستے کی دعوت دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں آپ وہی کہتے ہیں جو کرتے ہیں ، اور وہی کرتے ہیں جو کہتے ہیں۔ لہٰذا آپ کو شعراء اور ان کی شاعری سے کیا واسطہ ؟ اور شعراء اور ان کی شاعری کو آپ سے کیا واسطہ ؟ 
یوں وہ لوگ نبیﷺ کے خلاف اور قرآن واسلام کے خلاف جو شبہ بھی اٹھاتے تھے ، اللہ تعالیٰ اس کا کافی وشافی جواب دیتا تھا۔
ان کے زیادہ تر شبہات توحید ، محمدﷺ کی رسالت اور مرنے کے بعد قیامت کے روز دوبارہ اٹھائے جانے سے متعلق ہوا کرتے تھے۔ قرآن نے توحید کے متعلق ان کے ہر شبہے کا ردّ کیا ہے۔ بلکہ مزید اتنی باتیں بیان کی ہیں جن سے اس قضیے کا ہر پہلو واضح ہوگیا ہے اور اس کا کوئی پہلو تشنہ نہیں چھوٹا ہے۔ اس ضمن میں ان کے معبودوں کی عاجزی ومجبوری اس طرح کھول کر بیان کی ہے کہ اس پر اضافے کی گنجائش نہیں اور شاید اسی بات پر ان کا غصہ بھڑک اٹھا اور پھر جو کچھ پیش آیا وہ معلوم ہے۔
جہاں تک نبیﷺ کی پیغمبری کے بارے میں ان کی شبہات کا تعلق ہے تو وہ تو یہ تسلیم کرتے تھے کہ آپﷺ سچے، امانتدار اور انتہائی صلاح وتقویٰ پر قائم ہیں ، لیکن وہ سمجھتے تھے کہ منصب نبوت ورسالت اس سے کہیں زیادہ عظیم وجلیل ہے کہ وہ کسی انسان کو دیا جائے۔ یعنی ان کا عقیدہ تھا کہ جو بشر ہے وہ رسول نہیں ہوسکتا اور جو رسول ہو وہ بشر نہیں ہوسکتا۔ اس لیے جب رسول اللہﷺ نے اپنی نبوت کاا علان کیا اور اپنے اوپر ایمان لانے کی دعوت دی تو انہیں حیرت ہوئی اور انہوں نے کہا
: وَقَالُوا مَالِ هَـٰذَا الرَّ‌سُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ ۙ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرً‌ا ﴿٧﴾ (۲۵:۷) 
یہ کیسا رسول ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا
: قَالُوا مَا أَنزَلَ اللَّـهُ عَلَىٰ بَشَرٍ‌ مِّن شَيْءٍ (۶: 91) اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز نہیں اتاری ہے۔
اللہ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا
: قُلْ مَنْ أَنزَلَ الْكِتَابَ الَّذِي جَاءَ بِهِ مُوسَىٰ نُورً‌ا وَهُدًى لِّلنَّاسِ (۶: ۹۱) آپ کہہ دیں وہ کتاب کس نے اتاری ہے جسے موسیٰ علیہ السلام لے کر آئے تھے اور جو لوگوں کے لیے نور اور ہدایت ہے۔
وہ چونکہ جانتے تھے اور مانتے تھے کہ موسیٰ علیہ السلام بشر ہیں۔ اس لیے جواب نہ دے سکے۔ اللہ نے ان کے رد میں یہ بھی فرمایا کہ ہرقوم نے اپنے پیغمبروں کی پیغمبری کا انکار کرتے ہوئے یہی کہا تھا کہ
: أَنتُمْ إِلَّا بَشَرٌ‌ مِّثْلُنَا (۱۴: ۱۰) تم لوگ ہمارے ہی جیسے بشر ہو
نَّحْنُ إِلَّا بَشَرٌ‌ مِّثْلُكُمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَمُنُّ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ (۱۴: ۱۱) اور اس کے جواب میں پیغمبر وں نے ان سے کہا تھا کہ ہم لوگ یقینا ً تمہارے ہی جیسے بشرہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے۔
مطلب یہ کہ انبیاء ورسل ہمیشہ بشر ہی ہوا کیے ہیں۔ بشریت اور رسالت میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ 
چونکہ انہیں اقرار تھا کہ ابراہیم اور اسماعیل اور موسیٰ پیغمبر تھے اور بشر بھی تھے، اس لیے وہ اپنے اس شبہ پر زیادہ اصرار نہ کر سکے۔ اس لیے انہوں نے پینترا بدلا اور کہنے لگے : اچھا اگر ایسا ہے بھی کہ بشر پیغمبر ہوسکتا ہے تو کیا اللہ تعالیٰ کو اپنی پیغمبری کے لیے یہی یتیم ومسکین انسان ملا تھا ؟ یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مکہ اور طائف کے بڑے بڑے لوگوں کو چھوڑ کر اس مسکین کو پیغمبر بنالے۔
لَوْلَا نُزِّلَ هَـٰذَا الْقُرْ‌آنُ عَلَىٰ رَ‌جُلٍ مِّنَ الْقَرْ‌يَتَيْنِ عَظِيمٍ (۴۳: ۳۱) یہ قرآن ان دونوں آبادیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ اتارا گیا۔ اللہ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا؟
کیا یہ لوگ تیرے رب کی رحمت تقسیم کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وحی ورسالت تو اللہ کی رحمت ہے اور
اللَّـهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِ‌سَالَتَهُ (۶: ۱۲۴) اللہ ہی زیادہ جانتا ہے کہ اسے اپنی پیغمبری کہاں رکھنی چاہیے۔


ان جوابات کے بعد مشرکین نے ایک اور پہلو بدلا اور کہنے لگے کہ دنیا کے بادشاہوں کے ایلچی تو خدم وحشم کے جلو میں چلتے ہیں، ان کا بڑا جاہ وجلال ہوا کرتا ہے اور ان کے لیے ہر طرح کے سامان زندگی مہیا رہا کرتے ہیں۔ پھر محمد کا کیا معاملہ ہے کہ وہ اللہ کے رسول ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور انہیں لقمۂ زندگی کے لیے بازاروں کے چکر بھی کاٹنا پڑتے ہیں۔
لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرً‌ا ﴿٧﴾ أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا ۚ (۲۵:۷،۸) ان پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا جو ان کے ساتھ ڈرانے والا ہوتا۔ یا ان کی طرف خزانہ کیوں نہیں ڈال دیاگیا۔ یا ان کا کوئی باغ ہی ہوتا جس سے وہ کھاتے اور ظالموں نے کہا کہ تم لوگ تو ایک جادو کیے ہوئے آدمی کی پیروی کر رہے ہو۔
اللہ نے اس ساری کٹ حجتی کا ایک مختصر سا جواب دیا کہ محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ یعنی آپ کی مہم یہ ہے کہ آپ ہر چھوٹے بڑے ، کمزور اور طاقتور ، شریف اور پست ، آزاد اور غلام تک اللہ کا پیغام پہنچا دیں۔ لہٰذا اگر ایسا ہوتاکہ آپ بھی بادشاہوں کے ایلچیوں کی طرح جاہ وجلال ،خدم وحشم ، اردلی اور جلو میں چلنے والوں کے ساتھ بھیجے جاتے تو کمزور اور چھوٹے لوگ تو آپ تک پہنچ ہی نہیں سکتے تھے کہ آپ سے کسی طرح کا استفادہ کر سکیں۔ حالانکہ یہی جمہور ہیں۔ لہٰذا ایسی صورت میں پیغمبر بنانے کا مقصد ہی فوت ہوجاتا اور اس کا کوئی قابل ذکر فائدہ نہ ہوتا۔
جہاں تک مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کے معاملے کا تعلق ہے تو اس کے انکار کے لیے مشرکین کے پاس ،حیرت واستعجاب اورعقلی استبعاد کے علاوہ کوئی دلیل نہ تھی۔ وہ تعجب سے کہتے تھے:
وَكَانُوا يَقُولُونَ أَئِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَ‌ابًا وَعِظَامًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ ﴿٤٧﴾ أَوَآبَاؤُنَا الْأَوَّلُونَ ﴿٤٨﴾ (۵۶: ۴۷، ۴۸
کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈی ہوجائیں گے تو پھر اٹھادئے جائیں گے کیا ہمارے پہلے باپ دادا بھی؟ (الصافات :۱۶، ۱۷) پھر خود ہی کہتے تھے:یہ دور کی واپسی ہے۔ تعجب سے کہتے
: وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلَىٰ رَ‌جُلٍ يُنَبِّئُكُمْ إِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّكُمْ لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ ﴿٧﴾ أَفْتَرَ‌ىٰ عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا أَم بِهِ جِنَّةٌ (۳۴: ۷،۸)
کیاہم تمہیں ایک ایسا آدمی نہ بتلائیں جو خبر دیتا ہے کہ جب تم لوگ بالکل ریزہ ریزہ ہوجائوگے تو پھر تمہاری ایک نئی پیدائش ہوگی۔ معلوم نہیں اس نے اللہ پر جھوٹ گھڑا ہے یا اس کو پاگل پن ہے۔ کہنے والے نے یہ بھی کہا:
أموت ثم بعث ثم حشر
حدیث خرافۃ یا أم عمرو
''کیا موت ، اس کے بعد زندگی ، اس کے بعد حشر ؟ ام عمرو ! یہ تو خرافات کی بات ہے۔ ''
اللہ نے اس کی تردید کے لیے دنیا میں پیش آنے والے حالات پر ان کی نظر ڈلوائی کہ دیکھو ! ظالم اپنے ظلم کی جزا پائے بغیر دنیا سے گزر جاتا ہے اور مظلوم بھی ظالم سے اپناحق وصول کیے بغیر موت سے دوچار ہو جاتاہے۔ محسن اور صالح اپنے احسان اور صلاح کا بدلہ پائے بغیر فوت ہوجاتا ہے اور فاجر اور بدکار اپنی بدعملی کی سزا پائے بغیر مر جاتا ہے۔ اب اگر انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ نہ اٹھایا جائے اور اس کے عمل کا بدلہ نہ دیا جائے تو دونوں فریق برابر ہو جائیں گے۔ بلکہ ظالم اور فاجر مظلوم اور نیکوکار سے زیادہ ہی خوش قسمت ہوں گے اور یہ بات قطعاً غیر معقول ہے اور اللہ کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ وہ اپنی مخلوق کے نظام کی بنیاد ایسے فساد پر رکھے گا۔ اللہ فرماتا ہے:
أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِ‌مِينَ ﴿٣٥﴾ مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ ﴿٣٦﴾ (۶۸: ۳۵،۳۶) کیا ہم تابعداروں کو مجرموں جیسا ٹھہرائیں گے۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ تم کیسے فیصلے کررہے ہو؟
نیز فرمایا: أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْ‌ضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ‌ (۳۸: ۲۸)
کیا ہم ایمان لانے والوں اور عمل صالح کرنے والوں کو زمین کے اندر فساد برپا کرنے والوں جیسا بنائیں گے ؟ یا کیا ہم پرہیز گاروں کو فاجروں جیسا ٹھہرائیں گے؟
اور فرمایا
: أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَن يَسْبِقُونَا ۚ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ (۲۹: ۴)
کیا برائیاں کرنے والے سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں ایمان لانے والوں اور عمل صالح کرنے والوں جیسا بنائیں گے کہ ان (دونوں گروہوں) کی زندگی اور موت یکساں ہو۔ بر افیصلہ ہے جو یہ کرتے ہیں۔
جہاں تک ان کے عقل استبعاد کا تعلق ہے تو اللہ نے اس کا رد کرتے ہوئے فرمایا
: أَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاءُ ۚ بَنَاهَا (۷۹: ۲۷) کیا تم پیدائش میں زیادہ سخت ہو یا آسمان ؟
اور فرمایا
: أَوَلَمْ يَرَ‌وْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ‌ عَلَىٰ أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ ۚ بَلَىٰ إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ‌ (۴۶: ۳۳)
کیا انہیں یہ نظر نہیں آتا کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کو پیدا کرنے سے نہیں تھکا ، وہ اس پر بھی قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کردے ؟ کیوں نہیں ،یقینا وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
نیز فرمایا
: وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولَىٰ فَلَوْلَا تَذَكَّرُ‌ونَ (۵۶: ۶۲) تم پہلی پیدائش تو جانتے ہی ہو، پھر حقیقت کیوں نہیں مانتے۔
اللہ تعالیٰ نے وہ بات بھی بتلائی جو عقلاً اور عرفاً دونوں طرح معروف ہے کہ کسی چیز کو دوبارہ کرنا پہلی بار سے زیادہ آسان ہوتا ہے۔ فرمایا
: كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيدُهُ ۚ وَعْدًا عَلَيْنَا ۚ إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ (۲۱: ۱۰۴) جیسے ہم نے پہلی بار پیدائش کی ابتدا کی تھی اسی طرح پلٹا بھی لیں گے۔
اور فرمایا :کیا پہلی بار پیدا کرنے سے ہم تھک گئے ہیں۔ یوں اللہ تعالیٰ نے ان کے ایک ایک شبہے کا نہایت اطمینان بخش جواب دیا۔ جس سے ہر سوجھ بوجھ والا آدمی مطمئن ہو سکتا ہے لیکن کفار مکہ ہنگامہ پسند تھے۔ ان میں استکبار تھا۔ وہ زمین پر بڑے بن کر رہنا چاہتے تھے اور مخلوق پر اپنی رائے لاگو کرنا چاہتے تھے، اس لیے اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہے۔

مکمل تحریر >>

ملحدین اور مستشرقین کے ایک سوال کا جواب


چند دن پہلے ایک ممبر نے میسج کرکے ایک تحریر کی جانب توجہ دلائی جو کہ ایک ملحد نے دہریوں کے ایک پیج سے کاپی کرکے ایک گروپ میں پیش کی ہوئی تھی ۔ اس تحریر میں مکہ، کعبہ اور زم زم کے تاریخی وجود پر تاریخی حوالہ جات پیش کرکے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ہم ان کا جواب بمعہ اہم اعتراضات کے جملوں کے پیش کررہے ہیں ۔ تحریر کی طوالت کی وجہ سے اسے تین قسطوں میں پیش کیا جارہا ہے۔

اعتراض :توحید کے گھر میں بت پرستی کیسے آگئی ؟؟
ایک بات جو سمجھ نہیں آتی وہ یہ ہے کہ جب ابراہیم نے یہ کعبہ بنایا تو مطلب اس نے توحید کا گھر بنایا ۔ اب توحید کے گھر میں وقت کے ساتھ بت کیسے آگئے ؟ تاریخ میں موجود تمام تر عبادت گاہوں کو اٹھا کے دیکھ لیجئے کہ وہ جس مقصد کے لیئے بنی تھی اسی مقصد کی آج تک زبان بول رہی ہیں۔ اگر کسی نے کعبہ پہ چڑھائی کرکے اسے بتوں کا گھر بنایا تھا تو اسلامی اور باقی تاریخ کسی ایسے واقعے سے خالی کیوں ہے ؟

جواب: تاریخ کسی ایسے واقعے سے اس لیے خالی ہے کہ کسی نے کعبہ پر چڑھائی کرکے ایسا نہیں کیا تھا بلکہ یہ بت پرستی بتدریج ملک عرب میں رائج ہوئی، اسکی تفصیل تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے۔ ہم مختصرا پیش کرتے ہیں۔
عام باشندگانِ عرب شروع سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی دعوت وتبلیغ کے نتیجے میں دینِ ابراہیمی کے پَیرو تھے تاآنکہ بنو خزاعہ کا سردار عَمر و بن لُحَی منظر عام پر آیا۔ اس کی نشوونما بڑی نیکوکاری ، صدقہ وخیرات اور دینی امور سے گہری دلچسپی پر ہوئی تھی۔ اس لیے لوگوں نے اسے محبت کی نظر سے دیکھا اور اسے اکابر علماء اور افاضل اوّلیاء میں سے سمجھ کر اس کی پیروی کی۔ اس شخص نے ملک شام کے سفر میں بتوں کی پوجا دیکھی تو اس نے سمجھا کہ یہی بہتر اور بر حق ہے کیونکہ ملک شام پیغمبروں کی سر زمین اور آسمانی کتابوں کی نزول گاہ تھی۔ چنانچہ وہ اپنے ساتھ ہبل بت بھی لے آیا اور اسے خانہ کعبہ کے اندر نصب کر دیا اور اہل مکہ کو اللہ کے ساتھ شرک کی دعوت دی۔ اہل مکہ نے اس پر لبیک کہا۔ اس کے بعد بہت جلد باشندگان حجاز بھی اہل مکہ کے نقش قدم پر چل پڑے۔ کیونکہ وہ بیت اللہ کے والی اور حرم کے باشندے تھے۔ اس طرح عرب میں بت پرستی کا آغاز ہوا اور اس کے بعد حجاز کے ہر خطے میں شرک کی کثرت او ر بتوں کی بھر مار ہو گئی۔ ہبل سرخ عقیق سے تراشا گیا تھا۔ صورت انسان کی تھی۔ یہ مشرکین کا پہلا بت تھا اور ان کے نزدیک سب سے عظیم اور مقدس تھا۔ (کتاب الاصنام لابن الکلبی ص ۲۸)
دوسری بات یہ چیز اہل عرب کے ساتھ خاص نہیں تھی پہلے عیسائی بھی ایسی بے راہروی کا شکار ہوئے، پولس جو کہ ایک یہودی تھا' اسی طرح عیسائی مذہب میں داخل ہوا اور اپنی ولایت اور پاکبازی دکھا کر مشہور راہب اور پھر عیسی علیہ السلام کے بعد سب سے معتبر شخص کہلایا گیا ،اسی نے بعد میں عیسائیت میں تثلیث کا عقیدہ رائج کیا اور عیسائیت کو ایک مشرک مذہب میں تبدیل کردیا ۔

زم زم کے کنویں پر اعتراض :۔
اب ابن اسحاق ہی لکھتا ہے کہ جرہم کا قبیلہ باہر سے آنے والوں کے لیئے ایذا کا باعث بن گیا۔ ان کے رشتوں داروں کے علاوہ جو بھی وہاں آتا ان سے ناروا سلوک کیا جاتا۔اس بات پہ بنو خزاع اور بنو جرہم کی لڑائی ہوتی ہے اور جرہم کے قبیلے کو شکست ہوتی ہے اور وہ علاقہ چھوڑ کے چلے جاتے ہیں۔ جاتے جاتے وہ لوگ دو عدد سونے کے بنے ہوئے مجسمے اور حجر اسود زمزم میں چھپا دیتے ہیں۔ لیکن یہ واقعہ پرانا نہیں بلکہ دوسری صدی بعد از مسیح کا ہے ۔
سیرت النبی انب اسحاق، اشاعت محمدیہ یونیورسٹی صفحہ نمبر 67
ابن اسحاق لکھتا ہے کہ ایک دن نبی کریم کے دادا عبدالمطلب کو ان کے خواب کے زریعے ایک جگہ کی نشاندہی کی جاتی ہے کہ اس جگہ پہ کھود دو
سیرت النبی انب اسحاق، اشاعت محمدیہ یونیورسٹی صفحہ نمبر 64
ایک کنواں جس کے ساتھ اتنی مقدس روایات وابستہ ہیں کہ ایک بچے کے رونے پہ اس کنویں کو فرشتے نے کھودا، ان لوگوں نے اس کنویں کو دوبارہ کیونکر نہ کھودا ہوگا۔

جواب : یہ بالکل ایک بچگانہ اعتراض ہے جسکا جواب اسلامی تاریخ کا بیسک علم رکھنے والا بھی دے سکتا ہے، معترض کی اگر نیت ٹھیک ہوتی تو اسے ریفرینس کے سیاق و سباق اور خود ان حوالوں پر غور کرنے سے ہی سے ہی جواب مل جاتا ہے۔ بحرحال ہم صرف اتنا لکھ دیتے ہیں کہ جب آپ کنویں کی نسبت اسماعیل علیہ السلام سے مانتے ہوئے (فرض کرکے ہی سہی ) اگلے سوال اٹھاتے ہیں تو پھر انہی لوگوں کا جواب قبول کرنے میں کیا حرج ہے جن کے حوالے آپ بھی سوال میں دے رہے کہ قبیلہ جرہم نے جاتے ہوئے اس کنویں میں زیورات وغیرہ ڈال کے اسکا منہ ریت ، مٹی سے بھر کر برابر کردیا تھا اور اہل قریش کو نشانی یاد نہ رہی یا بھلا دی گئی تھی اور بعد میں حضور کے دادا کو یہ اعزاز ا دکھلائی گئی اور کنویں کو انکے ذریعے صاف کروایا گیا۔؟؟!!



مکہ اور کعبہ پر اعتراض :
بقیہ تاریخ کچھ یوں گویا ہوئی ہے کہ اول تو مکہ شہر کا چوتھی صدی عیسوی تک کوئی زکر ہی نہیں اور اس کے بعد کا جو زکر ہے اس میں مکہ کو کسی بڑے شہر کے طور پہ نہیں دکھایا گیا۔ کئی رومن اور یونانی جغرافیہ دانوں اور تاریخ دانوں نے عرب کا سفر کیا اور اس کے بارے میں لکھا لیکن کسی نے بھی مکہ کا زکر نہیں کیا۔
مسلمان اسے بائبل کے اندر موجود ایک نام بکا (bacca) سے ملاتے ہیں ۔ اگر بکا والی سابقے لاحقے میں تمام آیات کو غور سے پڑھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وہاں یروشلم کا زکر کرتے ہوئے ایک وادی کے جس میں ایک مخصوص پھول " بکا " لگتےہیں کے بارے میں بتایا گیا ہے ۔

جواب :مکہ کا قدیم اور اصلی نام بکہ ہے۔ 
اِنَّ اَوَّلَ بَیۡتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبَارَکًا(ال عمران-3:96) ترجمہ- پہلا مبارک گھر جو آدمیوں کے لیے بنایا گیا تھا وہ بکہ ہی تھا۔ 
معترض نے بائبل کے حوالے کے متعلق یہ کہا کہ اس کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جاتا ہے۔ ہم اسکو سیاق و سباق کے ساتھ پیش کرتے ہیں، بات واضح ہوجائے گی۔زبور 84 کی آیت 6 میں ہے 
” بکہ کی وادی میں گزرتے ہوئے اسے ایک کنواں بناتے، برکتوں سے مورو کو ڈھانک لیتے، قوت سقوت تک ترقی کرتے چلے جاتے ہیں“
اس عبارت میں بکہ کا جو لفظ ہے وہ ہی مکہ معظمہ ہے لیکن اگر اس لفظ کو اسم علم کے بجائے مشتق قرار دیں تو اس کے معنی ”رونے“ کے ہوں گے اور یہ وہی عربی لفظ بکاء ہے۔ مستشریقین نے مکہ کی وقعت مٹانے کی کوشش میں عبارت مذکورہ میں بکہ کا ترجمہ رونا پیش کیا ۔ لیکن ہر شخص خود سمجھ سکتا ہے کہ اس حالت میں وادی بکا کے کیا معنی ہوں گے؟ پھر زبور کی عبارت مذکورہ کی اوپر کی آیتوں سے بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس نشید میں حضرت داؤدؑ نے مکہ معظمہ اور مروہ اور قربان گاہ اسماعیلی کی نسبت اپنا شوق اور حسرت ظاہر کی ہے۔ اوپر کی عبارت یہ ہے 
(حضرت داؤد ؑ خدا سے کہتے ہیں) ”اے فوجوں کے خدا! تیرے مسکن کس قدر شیریں ہیں، میرا نفس خدا کے گھر کا مشتاق بلکہ عاشق ہے…اے خدا! 'تیرے قربان گاہ 'میرے مالک اور میرے خدا ہیں، مبارکی ہو ان لوگوں کو جو تیرے گھر میں ہمیشہ رہتے ہیں اور تیری تسبیح پڑھتے ہیں“
اس کے بعد بکہ والی آیتیں ہیں اب غور کریں حضرت داؤد ؑ جس مقام کے پہنچنے کا شوق ظاہر کرتے ہیں وہ اس مقام پر صادق آ سکتا ہے جس میں حسب ذیل باتیں پائی جاتی ہوں۔
1. قربانی گاہ ہو ۔
2. حضرت داؤد ؑ کے وطن سے دور ہو کہ وہاں تک سفر کر کے جائیں۔ 
3. وہ وادی بکہ کہلاتا ہو۔ 
4. وہاں مقام مورو بھی ہو۔ 
ان باتوں کو پیش نظر رکھیں تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ بکہ وہی مکہ معظمہ اور مورو وہی مروہ ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی اندازہ ہو گا کہ یہود کس طرح تعصب سے الفاظ کو ادل بدل کر دیتے ہیں۔یُحَرِّفُوۡنَ الْکَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِہٖ ۔ 
ڈاکٹر ہسٹنگس نے ”ڈکشنری آف دی بائیبل“ میں وادی بکا پر جو آرٹیکل لکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس لفظ سے اگر کوئی وادی مراد ہے تو حسب ذیل ہے۔
1. ایک وادی ہے جس میں ہو کر زائرین بیت المقدس جاتے ہیں۔ 
2. وادی اخور ہے جو یشوعا باب 7 آیات 24- 26 میں مذکور ہے۔ 
3. وادی رفایون ہے جو سامویل دوم باب 5 آیات 18-22 وغیرہ میں مذکور ہے۔ 
4. کوہ سینا کی ایک وادی ہے۔ 
5. بیت المقدس تک جو کاروانی راستہ شمال سے آتا ہے اس راستے کی آخری منزل ہے۔ 
(رینان کی کتاب ”حیات عیسی“ باب 4) 
کیا عجب بات ہے ڈاکٹر ہسٹنگس کو اتنے احتمالات کِثیرہ میں کہیں مکہ معظمہ کا پتہ نہیں لگتا۔ 
؏ ہمیں ورق کہ سیہ گشتہ مدعا اینجاست 
حیرت پر حیرت یہ کہ جن وادیوں کا نام لیا ہے ان میں ایک کو بھی بکا کے لفظ سے کسی قسم کی مناسبت نہیں۔ یہاں تک کہ ایک حرف بھی مشترک نہیں۔ بخلاف اس کے کہ بکا اور بکہ بالکل ایک لفظ ہیں۔ قرق صرف اس قدر ہے کہ ایک ہی لفظ کے تلفظ میں فرق ہے۔ 


اسی طرح مارگیو لیس اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ 
”اگرچہ مذہبی خیال کی وجہ سے مسلمانوں نے اپنے مذہبی مرکز کو نہایت قدیم قرار دیا ہے دیا ہے لیکن صحیح روایات سے پتا چلتا ہے کہ مکہ کی سب سے قدیم عمارت محمد کے صرف چند پشت قبل تعمیر ہوئی تھی“ 
جدیدانسائیکلوپیڈیا جلد 7 صفحہ 399 پر محمد ﷺ کے عنوان سے جو مضمون ہے وہ مارگیو لیوس کا ہی ہے ۔مارگیو لیوس نے اوپر اپنی بات کے ثبوت میں جس روایت کی طرف اشارہ کیا ہے ہم کو بھی اس کی صحت سے انکار نہیں لیکن اس کل بیان میں مغالطہ ہے ۔
مارگیو لیوس نے جس بنا پر مکہ معظمہ کی قدامت کا انکار کیا ہے وہ یہ ہے کہ اصابہ میں تصریح ہے کہ ”مکہ میں سب سے پہلی عمارت جو تعمیر ہوئی وہ سعید یا سعد بن عمرو نے تعمیر کی“ لیکن مارگیو لیوس کو یہ معلوم نہیں کہ مؤرخین نے جابجا یہ بھی تصریح کی ہے کہ چونکہ اہل عرب کعبہ کے مقابل یا آس پاس عمارات بنانے کو کعبہ کی بے ادبی سمجھتے تھے اس لئے عمارتیں نہیں بنوائیں، بلکہ خیموں اور شامیانوں میں رہتے تھے اور اس طرح مکہ ہمیشہ سے خیموں کا ایک وسیع شہر تھا۔ 

پرانے مورخین کو مکہ کے متعلق اختلاف نہ تھا لیکن اب بیسویں صدی کے بعد کے ان محققین کو انکی باتیں قبول نہیں۔ پروفیسر ڈوزی جو فرانس کا مشہور محقق اور عربی دان عالم ہے وہ لکھتا ہے 
”بکہ وہی مقام ہے جس کو یونانی جعرافیہ دان ماکروبہ لکھتے ہیں“(جدید انسائیکلوپیڈیا جلد 7 صفحہ 392) 
اسی طرح کارلائل نے اپنی کتاب ”ہیروز اینڈ ہیروورشپ“ میں لکھا ہے کہ 
”رومن مؤرخ سیسلس نے کعبہ کا ذکر کیا اور لکھا ہے '' وہ دنیا کے تمام معبدوں سے قدیم اور اشرد ہے اور یہ ولادت مسیح ؑ سے پچاس برس پہلے کا ذکر ہے''۔“ 
اگر کعبہ حضرت عیسیؑ سے بہت پہلے موجود تھا تو مکہ بھی تقریباً اسی زمانے کا شہر ہوگا کیونکہ جہاں کہیں کوئی معبد ہوتا ہے اس کے آس پاس ضرور کوئی نہ کوئی شہر یا گاؤں آباد ہو جاتا ہے۔ 
یاقوت حمومی نے معجم البلدان میں لکھا ہے کہ مکہ معظمہ کا عرض اور طول بلد بطلیموس کے جغرافیہ میں حسب ذیل ہے۔ 
”طول78 درجہ عرض13 درجہ“
یہ بطلیموس نہایت قدیم زمانہ کا مصنف ہے اس نے اپنے جغرافیہ میں مکہ کا ذکر کیا ہے تو اس سے زیادہ قدامت کی کیا سند درکار ہے؟ 

مستشرقین و جدید ملحدین کی منافقت :
یہ لوگ حضرات امام بخاری کی لائف لونگ ریسرچ اور مشقت میں تو کیڑے نکلتے ہیں بساط بھر، جو کے نسبتاً نزدیک کے زمانے کے ہیں مگر وہ تاریخ دان جو بخاری سے ہزاروں سال پہلے کے ہیں اور جن کی کوئی بھی اصلی تحریر موجود نہیں، انہیں امّنا صدقنا کے مترادف آنکھیں بند کر کے قبول کرتے ہیں، ہم پوچھتے ہیں اگر آپ ١٤٠٠ سال پرانی تاریخ کی صحت پے انگشت نمائی کرتے ہیں تو وہ اصول بھی بتا دیں جس کے تحت ٣٠٠٠ سال پرانی تاریخ آپ کے لیے قابل قبول ہوگئی ہے؟ 
اتنے پرانے تاریخی حوالوں پر بحث یہاں سے ہی شروع ہونی چاہیے کہ جن کی باتوں کو پیش کیا جارہا وہ خود کس قدر مستند ہیں؟ انکی باتیں کس قدر سچی ہیں ؟ انکے بیان میں کس قدر انکی پسند نا پسند شامل ہوتی ہے۔ جب واقدی، ابن اسحاق اور دوسرے مورخین اور محدیثین وغیرہ پر جانبداری کی تہمت لگائی جاسکتی ہے حالانکہ وہ سند سے بات لکھتے ہیں اور انکے ہر ہر راوی کے حالات تک محفوظ ہیں تو ان بغیر سند سے لکھنے والوں کی حقیقت زیر بحث کیوں نہیں آسکتی؟ ۔ ۔ جنہوں نے تاریخ کو پہلی دفعہ ایک فن کی شکل دی اور یورپ کے بڑے بڑے مورخین اس فیلڈ میں انکے شاگرد ہیں انکی بات جھٹلائی جاسکتی ہے ان پر اسطرح جرح کی جاسکتی ہے تو ان مجہول لوگوں پر کیوں نہیں ؟

اصل میں یہی وہ سوچ اور پلان ہے جس کے متعلق پیج پر ہم کئی دفعہ لکھ چکے کہ مسلمانوں کی نوجوان نسل کو اپنی تاریخ اور مذہب سے دور کرکے ان کے ساتھ کیا کیا جانا ہے ۔۔؟ ؟ جب انکو اپنی تاریخ کا علم ہی نہیں ہوگا تو وہ پھر ان دشمنان اسلام کی تیار کردہ ایسی کچھڑیوں سے ہی متاثر ہونگے اور انہی کو ہی اصل تاریخ سمجھیں گے ۔

مکمل تحریر >>