Monday, 22 December 2014

تاریخی راویوں کا نشانہ بننے والے ایک مظلوم صحابی رسول

حضرت امیر معاویہ رض کی شخصیت وہ ہے کہ جن پر تاریخ میں سب سے زیادہ گند اچھالا گیا ہے مختار بن عبید ثقفی جیسے مدعی نبوت جسکو حضرت عبدللہ ابن زبیر رض نے جہنم واصل کیا تھا 'کی یاد تو بطور ہیرو اور رہنما منائی جاتی ہے لیکن حضرت امیر معاویہ رض پر دل کھول کر کیچڑ اچھالی جاتی ہے انکے اسلام کو مشکوک قرار دیا جاتا ہے اور ہر وہ برائی انکی شخصیت میں تلاش کی جاتی ہے جو انکے کردار کو اسلام کے منافی ثابت کر سکے لیکن ان مذموم کوششوں سے نہ تو ماضی میں انکی شخصیت و کردار کو گہنایا جا سکا ہے اور نہ ہی دور جدید میں یہ کوششیں رنگ لائینگی ۔ انکی شخصیت پر کئی اعتراضات کیے گئے ہیں اور پھر انکے جواب میں باقاعدہ کتابیں بھی لکھیں گئی ہیں، بہت سی کتابیں نیٹ پر بھی موجود ہیں ۔ ہم فضائل یا اعتراضات کی کسی بحث میں پڑے بغیر انکے بارے میں کچھ مستند سطور پیش کرتے ہیں ۔ان کو کھلے ذہن سے پڑھیے۔

حضرت علی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں:
اے لوگو! تم معاويہ رضی اﷲ عنہ کی گورنری اور امارت کو نا پسند مت کرو، کیونکہ اگر تم نے انہیں (معاويہ رضی اﷲعنہ) گم کر دیا تو ديکھو گے کہ سر اپنے شانوں سے اس طرح کٹ کٹ کر گریں گے، جس طرح ہنظل کا پھل اپنے درخت سے ٹو ٹ کر گر تا ہے۔(البدايہ والنہايہ حافظ ابن کثیر ص130)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے متعلق ہے کہ ’’میرا یہ بیٹا سردار ہے، اور شائد اللہ اس کے ذریعہ مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کرائے‘‘۔
صحیح بخاری۔ جلد:۲/ انتیسواں پارہ/ حدیث نمبر:۶۶۴۳/ حدیث مرفوع

جس شخصیت کی تعریف خود حضرت علی رض نے فرمائی ہو ،جس گروہ کو خود الله کے رسول صل الله علیہ وسلم نے مسلمانوں کے گروہ میں شامل کیا ہو اور جن لوگوں سے خود حضرت امام حسن رض نے صلح کی ہو آج انکے نام لیوا کس منہ سے حضرت امیر پر کیچڑ اچھالتے ہیں۔

خالص شیعہ مراجع سے حضرت امیر معاویہ رض کی شخصیت پر کچھ روشنی ڈالتے ہیں .:

قیس ابن ابی خازم کہتے ہیں کہ ایک شخص معاویہ کے پاس آیا اور اُس سے کوئی مسئلہ پوچھا۔ معاویہ نے جواب دیا کہ جاؤ علی علیہ السلام سے پوچھ لو، وہ سب سے بڑا عالم ہے۔ اُس شخص نے کہا کہ میں نے مسئلہ آپ سے پوچھا ہے اور آپ ہی سے جواب چاہتا ہوں۔
معاویہ نے فوراً جواب دیا: افسوس ہے تم پر! کیا تم اس پر خوش نہیں کہ تمہارے سوال کا جواب تمہیں وہ دے جس کو پیغمبر خدا نے خود اپنی زبان سے علم کی غذا دی ہو اور جس کے بارے میں پیغمبر نے یہ بھی کہا ہو کہ اے علی ! تیری نسبت میرے نزدیک وہی ہے جو ہارون کی موسیٰ کے ساتھ نسبت تھی۔جس سے خلیفہ دوم حضرتِ عمر ابن خطاب متعدد بار سوال پوچھتے رہے ہوں اور جب بھی مشکل آتی تو حضرتِ عمر یہ پوچھتے کہ کیا علی علیہ السلام یہاں ہیں؟
اس کے بعد معاویہ نے غصے سے اُس شخص کو کہا کہ چلا جا۔ خدا تجھے اس زمین پر پاؤں نہ پھیلانے دے۔ اس کے بعد اُس کا نام بیت المال کی فہرست سے خارج کردیا۔
حوالہ1۔ کتاب”بوستانِ معرفت“،صفحہ305،نقل از حموئی کی کتاب فرائد السمطین،جلد1،
باب68صفحہ371،حدیث302۔
2۔ ابن عساکر، کتاب تاریخ امیر الموٴمنین ،ج1،ص369،370،حدیث410،411
3۔ ابن مغازلی، کتاب مناقب، صفحہ34،حدیث54۔

ماہِ رمضان میں ایک دن احنف بن قیس معاویہ کے دسترخوان پر افطاری کے وقت بیٹھا تھا۔ قسم قسم کی غذا دستر خوان پر چن دی گئی۔ احنف بن قیس یہ دیکھ کر سخت حیران ہوا اور بے اختیار اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ معاویہ نے رونے کا سبب پوچھا۔ اُس نے کہا کہ مجھے علی کے دسترخوان کی افطاری یاد آگئی۔ کس قدر سادہ تھی۔
معاویہ نے جواب دیا:”علی علیہ السلام کی بات نہ کرو کیونکہ اُن جیسا کوئی نہیں“۔
حوالہ کتاب”علی علیہ السلام معیارِ کمال“، تالیف:ڈاکٹر مظلومی۔

وہ سوالات جن کا معاویہ کو جواب معلوم نہ ہوتا تھا ،وہ لکھ کر اپنے کسی آدمی کو دیتا تھا اور کہتا تھا کہ جاؤ ان سوالات کا جواب علی علیہ السلام سے پوچھ کر آؤ۔ شہادتِ علی علیہ السلام کی خبر جب معاویہ کو ملی تو کہنے لگا کہ علی علیہ السلام کے مرنے کے ساتھ فقہ و علم کا در بھی بند ہوگیا۔ اس پر اُس کے بھائی عتبہ نے کہا کہ اے معاویہ! تمہاری اس بات کو اہلِ شام نہ سنیں۔ معاویہ نے جواب دیا:”مجھے( میرے حال پر )چھوڑ دو“۔
حوالہ کتاب”بوستانِ معرفت“، صفحہ659،نقل از ابوعمر کی کتاب استیعاب، جلد3،صفحہ45

شرح حالِ علی علیہ السلام سے۔
معاویہ نے ابوہریرہ سے کہا کہ میں گمان نہیں کرتا کہ زمام داریٴ حکومت کیلئے میں حضرت علی علیہ السلام سے زیادہ مستحق ہوں۔
حوالہ :کتاب”بررسی مسائل کلی امامت“، تالیف: آیۃ اللہ ابراہیم امینی،صفحہ74،نقل از کتاب”الامامۃ والسیاسۃ“، جلد1،صفحہ28۔

معاویہ کا خط علی علیہ السلام کے نام
”معاویہ نے اپنے خط بنام علی علیہ السلام میں لکھا کہ میں اپنی جان کی قسم کھا کرکہتا ہوں کہ آپ کے فضائلِ اسلامی اور رسولِ خدا کے ساتھ قرابت داری کا منکر نہیں ہوں“۔

علی علیہ السلام کی تعریف معاویہ کی زبان سے
جب محصن ضبی معاویہ کے پاس پہنچا تو معاویہ نے اُس سے پوچھا کہ تم کہاں سے آرہے ہو؟اُس نے جواب دیا کہ میں(معاذاللہ) کنجوس ترین شخص علی ابن ابی طالب کے پاس سے آرہا ہوں۔ یہ سن کر معاویہ اُس پر چلّایا اور کہا :کیا تم اُس کو بخیل ترین شخص کہہ رہے ہو جس کے پاس اگر ایک گھر سونے(طلاء) سے بھرا ہوا ہو اور دوسرا گھر چاندی سے بھرا ہوا ہو تو وہ بیکسوں کو زیادہ سونا بانٹ دے گا اور پھر طلاء اور چاندی کو مخاطب کرکے کہے گا کہ:
یٰاصَفْرٰاءُ وَیٰا بَیْضٰاءُ غُرِّی غَیْرِی أَبِی تَعَرَّضْتِ اَمْ اِلیَّ
تَشَوَّقْتِ؟ھَیھٰاتَ ھَیھٰاتَ قَدْ طَلَّقْتُکِ ثَلٰثاً لاٰ رَجْعَةَ فِیْکَ۔
”اے طلاءِ زرد اور سفید چاندی! میرے کسی غیر کو دھوکہ دو، کیا اس طرح تم میری مخالفت کررہی ہو یا مجھے حوصلہ دے رہی ہو۔ افسوس ہے، افسوس ہے، میں نے تجھے تین مرتبہ طلاق دے دی ہے جس کے بعد رجوع ممکن نہیں“۔
حوالہ کتاب”چراشیعہ شدم“،صفحہ227۔

جاحظ کتاب المحاسن والاضداد میں لکھتا ہے کہ ایک دن حضرتِ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام معاویہ کی محفل میں گئے۔ اس محفل میں عمروعاص، مروان بن حکم اور مغیرہ بن شعبہ اور دوسرے افراد پہلے سے موجود تھے۔جس وقت امام حسن علیہ السلام وہاں پہنچے تو معاویہ نے اُن کا استقبال کیا اور اُن کو منبر پر جگہ دی۔ مروان بن حکم نے جب یہ منظر دیکھا تو حسد سے جل گیا۔ اُس نے اپنی تقریر کے دوران امام حسن علیہ السلام کی توہین کی ۔ امام حسن علیہ السلام نے فوراً اُس خبیث انسان کو منہ توڑ جواب دیا۔ ان حالات کو دیکھ کر معاویہ اپنی جگہ سے بلند ہوا اور مروان بن حکم کو مخاطب کرکے کہنے لگا:
”قَدْ نَھَیْتُکَ عَنْ ھٰذا الرَّجُل۔۔۔۔۔فَلَیْسَ اَ بُوْہُ کَاَبِیْکَ وَلَا ھُوَ مِثْلُکَ۔اَنْتَ اِبْنُ الطَّرِیْد الشَرِیْد،وَھُوَ اِبْنُ رَسُوْلِ اللّٰہِ الکریم۔
”میں نے تجھے اس مرد(کی توہین) کے بارے میں منع کیا تھا کیونکہ نہ اُس کا باپ تمہارے باپ جیسا ہے اور نہ وہ خود تمہارے جیسا ہے۔ تم ایک مردود و مفرور باپ کے بیٹے ہو جبکہ وہ رسولِ خدا کا بیٹا ہے“۔
حوالہ کتاب”المحاسن والاضداد“،تالیف:جاحظ(از علمای اہلِ سنت)،صفحہ181۔

گزارش ہے کہ اہل بیت کی محبت کا دم بھرنے والے اصحاب رسول سے مخاصمت چھوڑ دیں کہ پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جاۓ گا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ انکی عاقبت کی سیاہی میں مزید اضافہ ضرور ہوگا اس تبرائی فکر نے اب تک تو اسلام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا بجز انتشار کے۔۔۔
یہ دور سینوں کی غلاظت کو اگلنے کا نہیں بلکہ افہام و تفہیم کا تقاضہ کرتا ہے. ......

اگریہ مشاجرات برپا نہ ہوتے
مورخ اسلام مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی رحمہ اللہ کا اس دور پر تبصرہ انکی کتاب تاریخ اسلام سے قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش ہے۔

"اگریہ مشاجرات برپا نہ ہوتے اگرحضرت امیرمعاویہ اور حضرت علی کی معرکہ آرائیاں نہ ہوتیں توہم آج شریعتِ اسلام کے ایک بڑے اور ضروری حصے سے محروم وتہی دست ہوتے؛ خدائے تعالیٰ خود اس دین کا محافظ ونگہبان ہے، وہ خود اس کی حفاظت کے سامان پیدا کرتا ہے؛ چنانچہ اس نے وہ سامان یعنی حضرت علی اور امیرمعاویہ میں اختلاف پیدا کیا،
اب اسی مذکورہ مدعا کے ایک دوسرے پہلو پرنظر کرو؛ ہرایک حکومت، ہرایک سلطنت اور ہرایک نظامِ تمدن کے لیئے جس جس قسم کی رکاوٹیں دقتیں اور پیچیدگیاں پیدا ہونی ممکن ہیں اور آج تک دنیا میں دیکھی گئی ہیں، ان سب کے نمونے حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے مشاجرات میں موجود ہیں،
ان مشکلات کے پیدا ہونے پرعام طور پرحکمرانوں، حکمراں خاندانوں اور بادشاہوں نے آج تک جن اخلاق اور جن کوششوں کا اظہار کیا ہے ان سب سے بہتر اور قابل تحسین طرزِ عمل وہ ہے جوصحابہ کرام نے ایسی حالتوں میں ظاہر کیا،
سلطنتوں کے بننے اور بگڑنے، قوموں کے گرنے اور ابھرنے، خاندانوں کے ناکام رہنے اور بامراد ہونے کے واقعات سے اس دنیا کی تمام تاریخ لبریز ہے، چالاکیوں، ریشہ دوانیوں اور فریب کاریوں کے واقعات سے کوئی زمانہ اور کوئی عہد حکومت خالی نظر نہیں آتا، ان سب چیزوں کے متعلق ہم جب تلاش کرتے ہیں توحضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کی مخالفتوں کی روئداد ہمارے سامنے یک جاسب کے نمونے پیش کردیتی ہے اور ہم اپنے لیئے بہترین طرز کار اور اعلیٰ ترین راہ عمل تجویز کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں،
یہ ہماری نابینائی اور بدنصیبی ہے کہ ہم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی اجتہادی مخالفتوں اور حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ وحضرت علی رضی اللہ عنہ کے مشاجرات کو بجائے اس کے کہ اپنے لیے موجب عبرت وبصیرت اور باعثِ خیرونافع بناتے، اپنی نااتفاقی ودرندگی اور اپنی فلاکت ونکبت کا سامان بنالیا "۔
مکمل تحریر >>

Saturday, 11 October 2014

تاریخ اسلام میں صحابہ کے کردار کو مجروح کرنے والی روایات پر ایک تحقیق - حصہ اول

گزشتہ  تحاریر میں ہم نے  محققین  کی تحقیق اور اسم و رجال کے حوالہ سے اہم تاریخی کتاب طبری میں موجود دروغ گو اور کذاب راویوں کے بارے میں تحقیق پیش کی . ان کے  ثبوت  میں ہم مشہور اور متنازعہ تاریخی واقعہ جنگ جمل اور  جنگ صفین کے واقعات بیان کرنے والی راوی  ابو مخنف لوط کی  تین مشہور روایات پر تجزیہ   پیش کررہے ہیں، جس سے ناصرف ان واقعات کی حقیقت  سمجھنے میں مدد ملے گی بلکہ  ان راویوں کی مکاری اور طریقہ واردات بھی کھل کر سامنے آجائے گا۔ تحریر نا چاہتے ہوئے بھی  طویل ہوگئی، قارئین کے مزاج کا لحاظ رکھتے ہوئے چار قسطوں میں پیش کی جائے گی
تحریر کے اہم موضوعات:-
جنگ جمل اور صفین کاپس منظر
جنگ صفین کے بعد  تحکیم کا واقعہ
تحکیم کے لیے مقرر کیے گئے ثالثوں کا فیصلہ
فیصلے کے  وضا حت طلب امور
فیصلہ پر ایک نظر
ثالثوں  کی شخصیت پر کیے گئے اعتراضات کا جائزہ
جنگ جمل اور صفین کاپس منظر :۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے قصاص لینے کے مسئلے پر امت دو حصوں میں بٹ گئی تھی ۔ معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ صحابہ کی جماعت کا یہ موقف تھا کہ ہم علی رضی اللہ عنہ کی بیعت اس وقت کر یں گے جب تک عثمان رضی اللہ عنہ کے خون ناحق کا قصاص لیا جائے گا ، جب کہ علی رضی اللہ عنہ کا مطالبہ تھا کہ یہ لوگ بیعت کرلیں پھر بعد میں جب حالات سازگار ہوجائیں گے تو قصاص لے لیا جائے گا۔معاویہ رضی اللہ عنہ اور انکے ساتھیوں کا موقف یہ تھا کہ چونکہ قاتلین عثمان ہی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلافت قبول کرنے پر مجبور کرکے سب سے پہلے ان کے ہاتھ پر بیعت کی ہے اور ملک کے انتظام و تدبیر اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے تمام فیصلوں میں وہ پوری طرح دخیل ہیں اسی لئے حضرت علی رضی اللہ نہ خون عثمان کا قصاص لے پارہے ہیں اور نہ ہی اس صورتحال کے برقرار رہتے ہوئے وہ قصاص لے سکیں گے ، لہذا فتنہ کے سدباب کی بس یہی صورت ہے کہ یا تو وہ خود قصاص لیکر ان قاتل سبائیوں سے اپنی گلو خلاصی کریں یا پھر ان قاتلوں کو ہمارے حوالہ کردیں تاکہ ہم انکو کیفرکردار تک پہنچا کر پوری ملت اسلامیہ کے زخمی دلوں کو سکون پہنچا سکیں، یہ مطالبات ان بلوائیوں/ سبائیوں/قاتلان عثمان کے لیے انتہائی تباہ کن تھے اس لیے ان کی ریشہ دوانیوں اور کوششوں سے ان دونوں گروہوں میں اختلاف بڑھتے گئے اور نہ چاہتے ہوئے بھی ان میں دو جنگیں جنگ جمل اور جنگ صفین ہوگئیں ۔ صفین میں جب جنگ زوروں پر تھی تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نےدونوں طرف ہونے والے مسلمانوں کے اس جانی نقصان سے بچنے کے لیے حضرت علی کو قرآن پر مصالحت کی دعوت دی جس کو انہوں نے فورا منظور کرلیا اور دونوں طرف جنگ بندی کا اعلان ہوگیا۔

اس جگہ ہم نے تاریخ کی ان مکذوبہ سبائی تفصیلات کو بیان کرنے سے قصدا گریز کیا ہے جن میں بیان کیا گیا ہے اپنی شکست کو قریب دیکھ کر معاویہ اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے قرآن کی بے حرمتی کرتے ہوئے اسے نیزوں پر بلند کردیا تاکہ علی کی فوج منتشر ہوجائے اورہم شکست سے بچ جائیں اور یہ کہ علی رضی اللہ عنہ اس جنگ بندی پر راضی نہیں تھے ، باربار اپنی تقریروں (جن میں معاویہ اور مخالف صحابہ کو منافق اور دھوکے باز کہنے اور گالیاں دینے کا ذکر ہے ) کے ذریعے اپنے ساتھیوں کو جنگ جاری رکھنے پر اصرار کرتے اور ابھارتےرہے ، لیکن آپ رضی اللہ عنہ کی اپنی جماعت کے سامنے ایک نہ چلی اور آخر بادل نخواستہ تحکیم پر رضا مند ہوئے۔ ان روایات میں راویوں کا جھوٹ اور بہتان کئی باتوں سے ظاہر ہے، 
یہ روایات اور آگے جن روایات کا ذکر آئے گا یہ تاریخ طبری اردو ایڈیشن دارالاشاعت کراچی جلد تین صفحہ 620تا650 پر دیکهی جا سکتی ہیں. . تفصیل ان روایات پر تبصرہ میں بهی آگے آئے گی۔

جنگ صفین کے بعد تحکیم کا واقعہ:-
جنگ بندی کے بعد تحکیم ہوئی یعنی کتاب اللہ کے حکم کےمطابق حضرت علی رضی اللہ کی طرف سے حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ثالث مقرر ہوئے کہ یہ دونوں کتاب وسنت کے مطابق نزاعی معاملہ کا جو فیصلہ کریں گے وہ فریقین کے لئے قابل قبول ہوگا۔اس فیصلہ کی شرائط کے متعلق جو ابتدائی دستاویز تیار ہوئیں وہ تاریخ کی سب بڑی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں ہم طوالت سے بچنے کے لیے اس کے بنیادی نکات کو بیان کرتے ہیں۔
1. حضرت علی رضی اللہ اور انکے تمام ساتھیوں اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور انکے تمام ساتھیوں کو مساویہ طور پر اہل ایمان تسلیم کیا گیا۔
2. دونوں ثالثوں کی عدالت اور انصاف پر فریقین نے اپنے کامل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کو اس بات کا پابند کیا کہ وہ ایسا فیصلہ کریں جس سے یہ عارضی جنگ بندی مستقل اور پائیدار امن کی صورت اختیار کرے اور دوبارہ اختلاف و جنگ کی صورت پیدا نہ ہونے پائے۔
3. ثالثوں پر ذمہ داری ڈالی گئی کہ وہ اپنا فیصلہ تحریری طور پر پیش کریں۔
4. شہادت و مشاورت اور دوسرے تمام ضروری مراحل سے گذرنے کے بعد ثالثوں کے فیصلہ سنانے کے لیے رمضان کا مہینہ مقرر کیا گیا۔

ثالثوں کا فیصلہ :۔
یہ معاہدہ چونکہ خیر القرون میں نبی کامل کے تربیت یافتہ جید اصحاب کی ان دو جماعتوں کے درمیان ہوا تھا جن سے پاکیزہ اور لائق تقلید انسانی گروہ کا روئے زمین پر تصور نہیں کیا جاسکتا ، اس لیے اس تحکیم کے لیے جس طرح کی بہترین شرائط رکھی گئی تھیں فیصلہ بھی انہی کے مطابق آنا یقینی تھا ۔ جبکہ تاریخی روایتوں میں یہاں بات کو بڑے طریقے سے ایک الگ رخ پر موڑ کر فتنہ کا دروازہ کھول دیا گیا،۔تاریخ اس فیصلہ کی تفصیلات میں ان سبائی راویوں کی روایتوں کی بنیاد پر کچھ اور ہی کہانیاں سناتی ہے ۔ معاہدہ کی شرائط پرغور کیجیے ان میں کن باتون کو اہمیت دی گئی اور تاریخ فیصلہ کیا بتاتی ہے ۔ جنگیں اور پھرمعاہدہ قاتلان عثمان سے قصاص کےمتعلق ہوا اور تاریخ میں یہ سبائی روای انتہائی مکاری سے فیصلہ میں بالکل الٹ خلافت کا تنازعہ بتاتے ہیں اور پھراپنے غیظ القلب کی تسکین کے لیے اصحاب کا ایک دوسرے کو گالیاں دینا، برا بھلا کہنا بتلاتے ہیں ۔ تاریخ طبری، ان اثیر اور ابن خلدون وغیرہ نے فیصلہ کی جو تفصیلات دیں انکا خلاصہ یہ ہے۔
"دونوں ثالث مجمع میں آئےجہاں دونوں طرف چار چار سو اصحاب کرام رضوان اللہ اور ان کے علاوہ کچھ غیر جانبدار جید صحابہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ وغیرہ موجود تھے۔حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ تقریر کرنے کھڑے ہوئے اور کہا کہ ہم دونوں اس بات پر متفق ہوگئے ہیں کہ ہم علی رضی اللہ عنہ اور معاویہ رضی اللہ عنہ دونوں کو خلافت سے معزول کرلیں، پھر لوگ باہمی مشورہ سے جس کو پسند کریں خلیفہ کی حیثیت سے منتخب کرلیں، لہذا میں علی اور معاویہ دونوں کو معزول کرکے معاملہ آپ لوگوں کے ہاتھ میں دیتا ہوں کہ اب آپ جسے چاہیں اپنا نیا امیر بنالیں، اس کے بعد حضرت عمروبن العاص رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ جو کچھ میرے ساتھی نے ابھی کہا اسے آپ لوگوں نے سن لیا کہ انہوں نے اپنے آدمی علی رضی اللہ کو معزول کردیا میں بھی انکی طرح علی رضی اللہ عنہ کو معزول کرتا ہوں اور اپنے آدمی معاویہ رضی اللہ کو خلاف پر قائم رکھتا ہوں۔ یہ سنکر حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرو سے کہا تم نے یہ کیا کیا ؟ خدا تمہیں توفیق نہ دے ، تم نے تو ہمیں دھوکہ دیا ہے اور گنہگار بنے ، تمہاری مثال تو اس کتے کی ہے جس پر بوجھ لادو تو بھی ہانپے ، اس کے جواب میں حضرت عمرو نے کہا کہ تمہاری مثال اس گدھے کی ہے جو بوجھ ڈھوئے پھرتا ہے۔ دوسرے صحابہ نے حضرت ابوموسی کو طعنے دینے شروع کیے ۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ نے کہا کہ ابو موسی تمہارے حال پر افسوس ہے کہ تم عمرو کی چالوں کے مقابلے میں بہت کمزور نکلے، حضرت عبد الرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابو موسی اگر اس سے پہلے مر گئے ہوتے تو ان کے حق میں ذیادہ اچھا ہوتا "۔ پھر حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ مجمع سے اٹھ کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور انکو خلافت کی مبارکباد پیش کی ، دوسری طرف حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ اتنے شرمندہ تھے کہ وہ پھر حضرت علی رضی کو منہ بھی نہ دکھا سکے اور سیدھے مکہ چلے گئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ پہنچ کر اپنی تقریروں میں مخالف صحابہ کو برا بھلا کہا اور دوبارہ جنگ کی تیاریاں شروع کردیں۔ لیکن ان کے لوگوں نے انکا ساتھ نہ دیااور خوارج کے فتنے نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے مزید ایک درد سر پیدا کردیا تھا۔
مکمل تحریر >>