Thursday 10 December 2015

مسجد ضرار


اپنے ان ناپاک مقاصد کی تکمیل کے لئے اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے کے لئے ایک جگہ کا تعین کرکے منافقین نے مسجد کی شکل کا ایک ڈھانچہ تیار کیا اور حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا… یا رسول اﷲ ! ہم لوگوں نے بیماروں اور محتاجوں کے لئے نیز بارش اور سردی کی راتوں میں نماز کے لئے ایک مسجد بنائی ہے ، ہماری خواہش ہے کہ آپﷺ اس مسجد میں تشریف لائیں اور ہمیں نما ز پڑھائیں، اس درخواست کے پسِ پشت منافقین کا یہ مقصد تھا کہ حضور ﷺ کے وہاں نماز پڑھنے کے بعد مسلمان اس میں آتے جاتے رہیں گے اور ان کے سایہ تلے منافقین اپنے ہمنواوں کو اس جگہ محفوظ رکھ سکیں گے، چونکہ حضور اکرم ﷺ اس وقت غسّانیوں کے خلاف جنگی تیاریوں میں مصروف تھے ،اس لئے آپﷺ نے ان سے فرمایا کہ جنگ سے واپسی کے بعد وہاں نماز ادا فرمائیں گے، حضور ﷺ کے اس جواب نے منافقین کی اُمیدوں پر پانی پھیر دیا، ابن ہشام کے مطابق جن لوگوں نے یہ مسجد بنائی تھی وہ بارہ اشخاص تھے جن کے نام یہ ہیں:
۱) خذام بن خالد یہ بنو عبید بن زید کی شاخ بنو عمر و بن عوف کا ایک فرد تھا ، اس کے گھر کے ایک حصہ میں یہ مسجد بنائی گئی تھی،
۲) ثعلبہ بن حاطب بنو اُمیہ بن زید کا آدمی تھا،
۳) معتب بن قشیر بنوضبیعہ بن زید سے تھا ،
۴) ابوحبیبہ بن ازعر بنوضبیعہ بن زید سے تھا ،
۵) عباد بن حنیف اخو سہل بن حنیف بن عمرو بن عوف سے تھا،
۶) جاریہ بن عامراور اس کے دو بیٹے،
۷) مجمع بن جاریہ
۸) زید بن جاریہ
۹) نبتل بن حارث بنوضبیعہ بن زید سے تھا ،
۱۰) یخرج بنوضبیعہ بن زید سے تھا ،
۱۱) بجاد بن عثمان بنوضبیعہ بن زید سے تھا ،
۱۲) ودیعہ بن ثابت بنو اُمیہ بن زید سے تھا،
(ابن ہشام)
(ترجمہ) " اور انہوں نے کہا گرمی میں جنگ کے لئے نہ نکلو، آپﷺ کہہ دیجیے جہنم کی آگ زیادہ گرم ہے اگر وہ سمجھیں تو کم ہنسیں اور زیادہ روئیں، ان کرتوت کے بدلے میں جو وہ کرتے ہیں"
(سورہ توبہ : ۸۲)
رسول اﷲ ﷺ کو خبر ملی کہ کچھ منافقین سویلم یہودی کے گھر میں جمع ہوکر غزوۂ تبوک میں شرکت کرنے سے لوگوں کو منع کررہے ہیں، آپﷺ نے طلحہؓ بن عبیدا ﷲ کو چند صحابہ کے ساتھ ان کی طرف بھیجا اور حکم دیا کہ سویلم کا گھر معہ ان لوگوں کے جلادیں، طلحہؓ نے ایسا ہی کیا،

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔